কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৬৫৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25658 ۔۔۔ حارث روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کے چہرے پر داغ لگایا تو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے غلام آزاد کردیا ۔ (رواہ الخرائطی فی اعتلال القلوب)
25658- عن الحارث "أن رجلا وسم غلاما له في وجهه فأعتقه علي". "الخرائطي في اعتلال القلوب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৫৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25659 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ فرمایا : کہ معاف کرو، اگر سزا دو بھی تو گناہ کے بقدر سزا دو اور چہرے پر مارنے سے اجتناب کرو ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم عن جزء) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الجامع 88 ۔
25659- "من مسند بريدة بن حصيب الأسلمي" "اغفر فإن عاقبت فعاقب بقدر الذنب واتق الوجه". "طب وأبو نعيم عن جزء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25660 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
25660- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: "نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الضرب في الوجه". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25661 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص بھی ظلما اپنے غلام کو مارتا ہے قیامت کے دن اس سے بدلہ لیا جائے گا (رواہ عبدالرزاق)
25661- عن عمار بن ياسر: "لا يضرب رجل عبدا له ظالما إلا أقيد منه يوم القيامة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25662 ۔۔۔ ابو عمران فلسطینی روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص (رض) کی بیوی ان کے سر سے جوئیں نکال رہی تھی اچانک بیوی کی باندی نے آواز دی ، بیوی نے جھڑک کر کہا : اے زانیہ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : کیا تو نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں ، حضرت عمرو (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت ک دن اس کے بدلہ میں تجھے (80) کوڑے لگائے جائیں گے بیوی نے اپنی باندی سے کہا : مجھے معاف کر دو ، باندی نے معاف کردیا حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : بھلا وہ تمہیں معاف کیوں نہیں کرے گی ، حالانکہ تمہاری ملکیت میں ہے۔ لہٰذا اسے آزاد کر دے ، بیوی بولی : کیا اسے آزاد کرنے سے میرا گناہ معاف ہوجائے گا ؟ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : امید ہے معاف ہوجائے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)
25662- عن أبي عمران الفلسطيني قال: "بينا امرأة عمرو بن العاص تفلي رأسه إذ نادت جارية لها فأبطأت عنها فقالت: يا زانية، فقال عمرو: رأيتها تزني؟ قالت: لا، قال: والله لتضربن لها يوم القيامة ثمانين سوطا فقالت لجاريتها: وسألتها تعفو عنها، فعفت عنها، فقال لها عمرو: ما لها لا تعفو عنك وهي تحت يدك فأعتقيها، فقالت: هل يجزى عن ذلك؟ قال: فلعل". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25663 ۔۔۔ کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات سے پانچ رات قبل وصیت فرمائی ہے جو میں نے سنی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے غلاموں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، ان کے پیٹ بھرو انھیں کپڑے پہناؤ اور ان سے نرم لہجے میں بات کرو۔ (رواہ ابن جریر)
25663- عن كعب بن مالك قال: "عهد نبيكم صلى الله عليه وسلم قبل وفاته بخمس ليال فسمعته يقول: "الله الله فيما ملكت أيمانكم أشبعوا بطونهم وأكسوا ظهورهم وألينوا القول لهم". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25664 ۔۔۔ ابراہیم تیمی (رح) کہتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری (رض) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے غلام کو مارہا تھا ، ابوذر (رض) نے اس شخص سے کہا : میں جانتا ہوں کہ تم رب تعالیٰ سے کہا کہو گے اور رب تعالیٰ تم سے کیا کہے گا تم کہو گے : یا اللہ میری مغفرت کر دے ، رب تعالیٰ تجھ سے کہے گا : کیا تیری مغفرت کی جاسکتی ہے ؟ تم کہو گے یا اللہ مجھ پر رحم فرما : رب تعالیٰ کہے گا : کیا تو رحمت کے قابل ہے ؟
25664-عن إبراهيم التيمي قال: "مر أبو ذر على رجل يضرب غلاما له فقال له أبو ذر: إني لأعلم ما أنت قائل لربك وما هو قائل لك تقول: اللهم اغفر لي، فيقول لك: أكنت تغفر؟ فتقول: اللهم ارحمني فيقول: أكنت ترحم"؟
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25665 ۔۔۔ معرور بن سوید کی روایت ہے کہ میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا میں نے ابو ذر (رض) کو دیکھا کہ ان ؤر ایک قسم کی چادر ہے اور اسی جیسی دوسری چادر ان کے غلام پر ہے۔ میں نے پوچھا : اے ابو ذر ! اگر آپ یہ دونوں چادریں جمع کرلیتے یوں پورا جوڑا ہوجاتا انھوں نے فرمایا : میں تمہیں اس کے متعلق بتائے دیتا ہوں میں نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو گالیاں دے دی تھیں اس کی ماں عجمیہ تھی میں نے اسے ماں کا عیب لگایا تھا چنانچہ وہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شکایت کرنے آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر تجھ میں جاہلیت ہے۔ میں نے عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری اس عمر میں تکبر کی وجہ سے مجھ میں جاہلیت ہے ؟ آپ نے فرمایا : تجھ میں جاہلیت ہے بلاشبہ غلام تمہارے بھائی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ماتحت بنا کر تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے لہٰذا جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے وہی کھانا کھلائے جو وہ خود کھاتا ہو اسے ایسا ہی کپڑا پہنائے جیسا خود پہنتا ہو اس سے وہ کام نہ لے جو اس سے نہ ہوسکتا ہو اگر اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لینا بھی ہوتا کم از کم اس کی مدد کرے ۔ (رواہ عبدلرزاق )
25665-عن المعرور بن سويد قال: "مررت بالربذة فرأيت أبا ذر عليه بردة وعلى غلامه أختها فقلت: يا أبا ذر لو جمعت هاتين فكانت حلة فقال: سأخبرك عن ذلك، إني ساببت رجلا من أصحابي وكانت أمه أعجمية، فنلت منها فأتي النبي صلى الله عليه وسلم ليعذره مني فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر إن فيك جاهلية" قلت: يا رسول الله أعلى سني هذه من الكبر؟ فقال: "إنك امرؤ فيك جاهلية إنهم إخوانكم جعلهم الله فتنة لكم تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يده، فليطعمه من طعامه، وليلبسه من لباسه، ولا يكلفه ما يغلبه، فإن فعل فليعنه عليه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25666 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت (رض) بو ذر (رض) نماز پڑھ رہے تھے ان پر قطن (روئی) کی ایک چادر ہے اور ایک شملہ (بدن پر لپیٹنے کی چادر ) ہے اور ان کے پاس تھوڑی سے بکریاں بھی ہیں جب کہ ان کے غلام پر بھی قطن کی ایک چادر اور شملہ ہے اور اس کے پاس بھی تھوڑی سی بکریاں ہیں ابو ذر (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی گئی انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو کھانا تم کھاتے ہو وہ اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ انھیں بھی ویسے ہی کپڑے پہناؤ جیسے تم پہنتے ہو ان سے وہ کام نہ لو جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہو ۔ اگر ان سے گراں کام لو بھی تو ان کی مدد کرو اگر تم انھیں ناپسند کرو تو انھیں بیچ ڈالو یا انھیں تبدیل کرلو اور جو مخلوق تمہاری جیسی ہے اسے عذاب مت دو ۔ (رواہ عبدالرزاق ) ن
25666-عن مجاهد "أن أبا ذر كان يصلي وعليه برد قطن وشملة وله غنيمة وعلى غلامه برد قطن وشملة وله غنيمة، فقيل له؛ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أطعموهم مما تأكلون، واكسوهم مما تلبسون ولا تكلفوهم ما لا يطيقون، فإن فعلتم فأعينوهم، وإن كرهتموهم فبيعوهم واستبدلوا بهم ولا تعذبوا خلقا أمثالكم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25667 ۔۔۔ ” مسند ابی ذر “ اے ابو ذر ! کیا تو نے اسے ماں کی عار دلائی ہے تجھ میں تو جاہلیت ہے تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں تمہارے ماتحت بنایا ہے سو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے ایسا ہی کھانا کھلائے جیسا خود کھاتا ہو اور اسے ایسا ہی لباس پہنائے جیسا خود پہنتا ہو ان پر ایسے کام کا بار مت ڈالو جو انھیں مغلوب کر دے اگر گراں بار ان پر ڈالو تو ان کی مدد کرو ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی وابن ماجہ وابن حبان عنا ابی ذر ) ابو ذر (رض) کہتے ہیں : میں نے ایک شخص کا گالی دی اور اسے ماں کا عیب لگایا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
25667- "مسند أبي ذر" "يا أبا ذر أعيرته بأمه إنك امرؤ فيك جاهلية إخوانكم خولكم جعلهم الله تحت أيديكم فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه مما يأكل وليلبسه مما يلبس، ولا تكلفوهم ما يغلبهم فإن كلفتموهم فأعينوهم". "حم، خ 1، م، د، ت، هـ، حب عن أبي ذر"؛ قال: ساببت رجلا فعيرته بأمه فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25668 ۔۔۔ ابو ذر ! تو ایسا شخص ہے کہ تجھ میں جاہلیت ہے یہ غلام تمہارے بھائی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں ان پر فضلیت عطا کہ ہے لہٰذا جسے اپنا غلام نہ بھائے وہ اسے بیچ دے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوق کو عذاب مت پہنچاؤ( رواہ ابو داؤد عن ابی ذر)
25668- "يا أبا ذر إنك امرؤ فيك جاهلية إنهم إخوانكم فضلكم الله عليهم فمن لم يلائمكم فبيعوه، ولا تعذبوا خلق الله". "د عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25669 ۔۔۔ ” مسند سوید بن مقرن “ سوید بن مقرن کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ہم بنی مقرن کی تعداد سات تھی ہمارے ہاں صرف ایک خادمہ تھی اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں تھا چنانچہ ہم میں سے ایک نے اسے پتھر مار دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ہم نے عرض کیا : اس کے علاوہ ہمادرے پاس کوئی خادم نہیں ہے اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تمہاری خدمت کرے اور جب تم اس سے مستغنی ہوجاؤ اس کا راستہ آزاد چھوڑ دو (رواہ عبدالرزاق )
25669- "مسند سويد بن مقرن" "كنا بني مقرن سبعة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولنا خادمة ليس لنا غيرها فلطمها أحدنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أعتقوها" فقلنا: ليس لنا خادم غيرها يا رسول الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "تخدمكم حتى تستغنوا عنها ثم خلوا سبيلها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25670:۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن آدمی پر گراں تر اس کا غلام ہوگا۔ (رواہ عبدالرزاق)
25670- عن أبي هريرة قال: "أشد الناس على الرجل يوم القيامة مملوكه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25671 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) اپنے غلاموں کو شادی کی پیشکش کرتے تھے اور فرماتے تھے تم میں سے جس کا شادی کرنے کا ارادہ ہو میں اس کی شادی کرا دوں گا چونکہ جو شخص زنا کرتا ہے اس کے دل سے ایمان چھین لیا جاتا ہے اگر بعد میں واپس کرنا چاہے واپس کردیتا ہے اگر روکنا چاہے روک دیتا ہے (رواہ عبدالرزاق )
25671- عن ابن عباس أنه "كان يعرض على مملوكيه الباءة ويقول: من أراد منكم الباءة زوجته فإنه لا يزني زان إلا نزع الله منه ربقة الإيمان فإن شاء أن يرد إليه بعد رده وإن شاء أن يمنعه منعه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25672 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کھانا تم کھاؤ وہ اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ اور جیسے کپڑے تم پہنو ویسے انھیں بھی پہناؤ اور جو غلام تمہارے لیے باعث فساد وہو اسے بیچ ڈالو اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوق کو عذاب میں مت ڈالو ۔ (رواہ ابن النجار)
25672-عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون، وما فسد عليكم فبيعوه، ولا تعذبوا خلق الله - يعني المملوكين". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25673 ۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو مار رہا تھا جب کہ غلام کہہ رہا تھا ” اعوذ باللہ “ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ لیا غلام بولا : اعوذ برسول اللہ “ میں اللہ کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں اس شخص نے ہاتھ سے وہ چیز جس سے غلام کو مار رہا تھا پھینک دی اور غلام کو چھوڑ دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوشیار رہو ! بخدا اللہ تبارک وتعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پناہ لی جائے بنسبت مجھ سے پناہ لینے کے مارنے والا شخص بولا ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ غلام اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتے بخدا ! دوزخ کا سامنا کرنا پڑتا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
25673- عن الحسن قال: "بينا رجل يضرب غلاما له وهو يقول: أعوذ بالله إذ بصر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أعوذ برسول الله فألقى ما كان بيده وخلى عن العبد فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أما والله لله أحق أن يعاذ من استعاذ به مني" فقال الرجل: يا رسول الله فهو حر لوجه الله قال: "والذي نفسي بيده لو لم تفعل لواقع وجهك سفع النار". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25674 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابو مسعود انصاری (رض) کے پاس سے گزرے جب کہ ابو مسعود (رض) اپنے خادم کو مار رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکار کر فرمایا : اے ابو مسعود ! تمہیں جان لینا چاہیے جب ابو مسعود (رض) نے آواز سنی ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں اس غلام پر جتنی قدرت ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو تمہارے اوپر قدرت ہے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے غلام کا مثلہ کرے جس سے وہ کانا ہوجائے یا اس کی ناک کٹ جائے ۔ آپ نے فرمایا کہ غلاموں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ انھیں بھوکے نہ رکھو انھیں کپڑے پہناؤ اور انھیں ننگے نہ رکھو انھیں زیادہ نہ مارو چونکہ ان کے متعلق تم سے سوال کیا جائیے گا انھیں کسی کام پر برا بھلا مت کہو جو شخص اپنے غلام کو ناپسند کرتا ہو وہ اسے بیچ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے رزق کو اس پر بند نہ کرے (رواہ عبدالرزاق)
25674-عن عكرمة قال: "مر النبي صلى الله عليه وسلم بأبي مسعود الأنصاري وهو يضرب خادمه فناداه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "اعلم أبا مسعود" فلما سمع ألقى السوط فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "والله لله أقدر عليك منك على هذا"، قال: ونهى رسول الله أن يمثل الرجل بعبده فيعور أو يجدع وقال: "أشبعوهم ولا تجوعوهم، واكسوهم ولا تعروهم ولا تكثروا ضربهم فإنكم مسؤلون عنهم، ولا تقدحوهم بالعمل فمن كره عبده فليبعه ولا يجعل رزق الله عليه عنا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25675 ۔۔۔ معمر کی روایت ہے کہ زہری سے خادموں کو مارنے کے متعلق دریافت کیا گیا زہری نے جواب دیا صحابہ کرام (رض) غلاموں کو مارتے تھے البتہ انھیں لعن طعن نہیں کرتے تھے ۔
25675-عن معمر قال: "سئل الزهري عن ضرب الخدم فقال: كانوا يضربونهم ولا يلعنونهم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25676 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) عورتوں اور خادموں کو (غلطی پر) مارا کرتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
25676-عن الزهري "أن عمر بن الخطاب كان يضرب النساء والخدم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25677 ۔۔۔ ” مسند انس “ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوقت وفات جس چیز کی عموماً وصیت کی وہ ایک نماز تھی اور دوسری غلاموں کے ساتھ حسن سلوک حتی کہ یہ وصیت غرغرہ کی حالت میں بھی سینے میں تھی جب کہ زبان سے اس کا اظہار نہیں ہو رہا تھا اور تکلیف کی وجہ سے کلام واضح نہیں ہو رہا تھا (رواہ ابو یعلی وابن عساکر )
25677-"مسند أنس" قال: "كانت عامة وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم حين حضره الموت الصلاة وما ملكت أيمانكم حتى جعل يغرغر بها في صدره وما يفيض بها لسانه لا يبين كلامه من الوجع". "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক: