কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৫ টি
হাদীস নং: ২৫৬৩৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25638 ۔۔۔ معاویہ بن قرہ کی روایت ہے کہ حضرت ابو درداء (رض) کے پاس ایک اونٹ تھا جسے دمون کے نام سے پکارا جاتا تھا چنانچہ لوگ جب ابو درداء (رض) سے اونٹ عاریۃ مانگتے تو آپ کہتے اس پر صرف فلاں چیز لاد سکتے ہو چونکہ یہ اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتا جب حضرت ابو درداء (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا بولے : اے دمون ! کل میرے ساتھ میرے رب کے ہاں جھگڑنا نہیں میں نے تجھ پر وہی بوجھ لادا ہے جس کی تو طاقت رکھتا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
25638- عن معاوية بن قرة قال: "كان لأبي الدرداء جمل يقال له دمون فكانوا إذا استعاروه منه قال: لا تحملوا عليه إلا كذا وكذا فإنه لا يطيق أكثر من ذلك فلما حضرته الوفاة قال: يا دمون لا تخاصمني غدا عند ربي فإني لم أكن أحمل عليك إلا ما تطيق". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৩৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25639 ۔۔۔ اوس بن عبداللہ بن حجر اسلمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے آپ کے ساتھ ابوبکر (رض) بھی تھے جبکہ آپ دونوں حجفہ اور ھرشی کے درمیان گفتگو کرتے جا رہے تھے جبکہ یہ دونوں حضرات ایک اونٹ پر سوار تھے اور مدینہ کی طرف جا رہے تھے اوس بن عبداللہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کو ایک نر اونٹ پر سوار کیا اور ان کے ساتھ اپنا ایک غلام بھی بھیجا جسے مسعود کہا جاتا تھا اوس (رض) نے غلام سے کہا : ان کے ساتھ چلو جہاں بھی مختلف راستوں میں جائیں ان سے جدا نہیں ہونا حتی کہ جب یہ تجھ سے اور تیرے اونٹ سے اپنی ضرورت پوری کریں چنانچہ غلام انھیں لے کر ” تنیہ ومجا “ لے گیا پھر ” ثنیہ کو ذبہ “ میں لے گیا پھر مقام احیاء کی طرف متوجہ ہوا پھر شعبہ ذات کشط مدلج ، غیشامہ اور پھر ثنتہ مرہ سے ہوتے ہوئے مدینہ لے آیا آپ نے اور ابوبکر (رض) نے اپنی ضرورت پوری کرلی تھی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسعود کو اس کے مالک اوس بن عبداللہ کو واپس کردیا اوس (رض) نے اپنے اونٹوں کے متعلق قدرے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلام سے کہا کہ اوس سے کہو اپنے اونٹوں کی گردن پر داغ لگائے ۔ (رواہ البغوی وابن السکن وابن مندہ والطبرانی وابو نعیم وقال ابن عبدالبر : حدیث حسن)
25639- عن أوس بن عبد الله بن حجر الأسلمي قال: مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه أبو بكر يتحدثان بين الجحفة وهرشى وهما على جمل واحد وهما متوجهان إلى المدينة فحملهما على فحل على إبله وبعث معهما غلاما له يقال له مسعود فقال له: اسلك بهما حيث تعلم من مخارم الطرق ولا تفارقهما حتى يقضيا حاجتهما منك ومن جملك، فسلك بهما ثنية الدمجا، ثم سلك بهما ثنية الكوذبة، ثم أقبل بهما أحياء، ثم سلك بهما ثنية المرة، ثم أتى بهما من شعبة ذات كشط، ثم سلك بهما المدلجة، ثم سلك بهما الغيثامة، ثم سلك بهما ثنية المرة، ثم أدخلهما المدينة، وقد قضيا حاجتهما منه ومن جمله، ثم رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم مسعودا إلى سيده أوس بن عبد الله وكان مغفلا لا يسم الإبل فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأمر أوسا أن يسمها في أعناقها قيد الفرس". "البغوي وابن السكن وابن منده، طب وأبو نعيم؛ قال ابن عبد البر: حديث حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار کے آداب :
25640 ۔۔۔ ” مسند علی “ علی بن ربیعہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک سواری لائی گئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکابوں میں پاؤں رکھا تو یہ دعا پڑھی ۔ بسم اللہ ، جب سواری پر سیدھے بیٹھ گئے ، یہ دعا پڑھی : ” الحمد للہ الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون “۔ پھر تین بار اللہ کی حمد کی اور تین بار تکبیر کہی پھر تین بار سبحان اللہ کہا : پھر یہ دعا پڑھی ۔ ” سبحانک لاالہ الا انت انی ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی انہ لا یغفرالذنوب الا انت “۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ہنسے ، میں نے پوچھا : اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ نے اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کہا ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : رب تعالیٰ اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب بندہ یہ دعا پڑھتا ہے : رب اغفرلی : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے کو معلوم ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں معاف کرسکتا ، ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے لیے ہنستا ہے جب بندہ یہ دعا پڑھتا ہے۔ ” سبحانک لاالہ الا انت انی ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی انہ لا یغفرالذنوب الا انت “۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے پہچان لیا کہ اس کا رب ہے جو اس کی مغفرت کرتا ہے اور اسے عذاب بھی دیتا ہے۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی واحمد بن حنبل ، وعبد ابن حمید والترمذی وقال حسن صحیح والنسائی وابو یعلی وابن خزیمۃ وابن شاھین فی السنۃ وابن مردوبہ والحاکم والبخاری ومسلم والضیاء)
25640- "مسند علي" عن علي بن ربيعة قال: "رأيت عليا أتي بدابة فلما وضع رجله في الركاب قال: بسم الله فلما استوى عليها قال: "الحمد لله الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون" ثم حمد الله ثلاثا وكبر ثلاثا وقال: سبحان الله ثلاثا ثم قال سبحانك لا إله إلا أنت إني ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ثم ضحك فقلت مم ضحكت يا أمير المؤمنين؟ قال: كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم ففعل مثل ما فعلت ثم ضحك فقلت مم ضحكت يا رسول الله؟ قال: "عجب الرب من عبده إذا قال: رب اغفر لي ويقول علم عبدي أنه لا يغفر الذنوب غيري، وفي لفظ: إن الله ليضحك إلى العبد إذا قال: لا إله إلا أنت سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، قال: عبدي عرف أن له ربا يغفر ويعاقب". "ط، حم وعبد بن حميد، ت وقال: حسن صحيح، ن، ع، وابن خزيمة وابن شاهين في السنة وابن مردويه ك، ق، ض"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار کے آداب :
25641 ۔۔۔ ” ایضا “ زاذان کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک خچر پر تین آدمیوں کو سوار دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ایک اتر جائے چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسرے سوار پر لعنت کی ہے۔ (رواہ ابو داؤد فی مراسیلہ)
25641- "أيضا" عن زاذان قال: "رأى علي ثلاثة على بغل فقال لينزل أحدكم فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الثالث". "د في مراسيله".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار کے آداب :
25642 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے سرخ رنگ کی زینوں پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابوداؤد)
25642- عن علي "نهى عن مياثر الأرجوان. "د".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار کے آداب :
25643 ۔۔۔ ” ایضاء “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قسی (کتان اور ریشم سے مخلوط بنے ہوئے کپڑے جو مصر سے لائے جاتے تھے) کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ میں اپنی سواری کے کمبل کو بچھونا بناؤں جو کہ سواری کی پیٹھ کے ساتھ ملا ہوا ہو ، اور منع فرمایا ہے کہ میں سواری کی پیٹھ پر کمبل (زین وغیرہ) ڈالوں اور اللہ کا ذکر نہ کروں ، چونکہ ہر سواری کی پیٹھ پر ایک شیطان بیٹھا ہوا ہے جب سوار ہونے والا اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتا ہے شیطان سکڑ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (رواہ الدورقی)
25643- "أيضا" نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس القسى المرجم، وأن أفترش حلس دابتي الذي يلى ظهرها، وأن أضع حلس دابتي على ظهرها حتى أذكر اسم الله فإن على كل ذروة شيطانا فإذا ذكر اسم الله خنس "الدورقي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار کے آداب :
25644 ۔۔۔ ہلال بن حباب روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس ایک سواری لائی گئی جب آپ نے رکابوں میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا اور جب سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے یہ دعا پڑھی : ” الحمد للہ الذی ھدانا للاسلام وعلمنا القرآن ومن علینا بمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وجعلنا فی خیر امۃ اخرجت للناس اللھم لا طیر الا طیرک ولا خیر الا خیرک ولا الہ الا انت “۔ ترجمہ : ۔۔۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اسلام کی دولت سے سرفراز کیا ہمیں قرآن سکھایا اور محمد کی ذات اقدس سے ہمارے اوپر احسان کیا اور ہمیں اس بہترین امت میں پیدا کیا جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے بھیجی گئی ہے ، یا اللہ تو ہی نیک مال عطا کرنے والا ہے اور تمام تر بھلائیاں تیرے قبضہ میں ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ (رواہ ارسئلہ)
25644- عن هلال بن خباب "أن عليا أتي بدابة فلما وضع رجله في الركاب قال: بسم الله، فلما استوى على ظهرها قال: الحمد لله الذي هدانا للإسلام وعلمنا القرآن ومن علينا بمحمد صلى الله عليه وسلم وجعلنا في خير أمة أخرجت للناس، اللهم لا طير إلا طيرك ولا خير إلا خيرك ولا إله إلا أنت". "رسته".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25645 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مملوک کے ساتھ برا برتاؤ کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا تھا کہ اس امت کے مملوکین اور ایتام (یتیم کی جمع) کثیر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ، مملوکین اور ایتام کا اپنی اولاد کی طرح اکرام کرو جو کھانا تم کھاؤ وہی انھیں کھلاؤ انھیں ویسے ہی کپڑے پہناؤ جیسے تم پہنتے ہو ، اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں ہمیں کیا چیز نفع پہنچا سکتی ہے ؟ فرمایا : وہ گھوڑا جسے تم جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پالو اور وہ غلام جو تمہاری کفایت کرتا ہو جب وہ نماز پڑھے وہ تمہارا بھائی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابن ماجہ وابو یعلی وابو نعیم فی الحلیۃ والخرائطی فی مکارم الاخلاق وھو ضعیف) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 806 ۔
25645- "مسند الصديق" عن أبي بكر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يدخل الجنة سيئ الملكة"، فقال رجل: يا رسول الله أليس أخبرتنا أن هذه الأمة أكثر الأمم مملوكين وأيتاما؟ قال: "بلى فأكرموهم كرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون وأكسوهم مما تلبسون" قال: فما ينفعنا من الدنيا يا رسول الله؟ قال: "فرس صالح ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله، ومملوك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك فإذا صلى فهو أخوك". "ش، حم، هـ، ع حل والخرائطي في مكارم الأخلاق وهو ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25646 ۔۔۔ ابو رافع روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) میرے پاس سے گزرے میں بیٹھا زیور بنا رہا تھا اور قرآن عظیم کی تلاوت بھی کررہا تھا ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابو رافع ! بخدا تم عمر سے بہتر ہو چونکہ تم اللہ تبارک وتعالیٰ کا حق بھی ادا کر رہے ہو اور اپنے غلاموں کا حق بھی ادا کر رہے ہو ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25646- عن أبي رافع قال: مر بي عمر بن الخطاب وأنا أصوغ وأقرأ القرآن فقال: يا أبا رافع لأنت خير من عمر تؤدي حق الله وحق مواليك. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25647 ۔۔۔ ” مسند عثمان (رض) “ مالک اپنے چچا ابو سہیل بن مالک اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو خطبہ میں فرماتے سنا کہ کمسن پر کمائی کا بوجھ نہ ڈالو چونکہ جب تم ایسا کرو گے وہ چوری کرے گا جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس سے بھی کمائی کا مطالبہ مت کرو چونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو وہ اپنی شرمگاہ کو کمائی کا ذریعہ بنا دے گی ، جب تمہیں اللہ تعالیٰ پاکدامن رکھے پاکدامن رہو اور جو کھانے پاک وطیب ہوں وہی کھاؤ۔ (رواہ الشافعی والبخاری ، ومسلم والبیہقی وقال رفعہ بعضھم عن عثمان عن حدیث الثوری و رفعہ ضعیف)
25647- "مسند عثمان رضي الله عنه" مالك عن عمه أبي سهيل ابن مالك عن أبيه أنه سمع عثمان بن عفان يقول في خطبته: "لا تكلفوا الصغير الكسب فإنه متى كلفتموه الكسب سرق، ولا تكلفوا الأمة غير ذات الصنعة الكسب، فإنكم إن كلفتموها الكسب كسبت بفرجها، وعفوا إذا عفكم الله، وعليكم من المطاعم بما طاب منها". "الشافعي، ق وقال رفعه بعضهم عن عثمان من حديث الثوري ورفعه ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25648 ۔۔۔ عبداللہ رومی کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) رات کے وضو کا پانی خود انڈیلتے تھے آپ (رض) سے کہا گیا : اگر آپ خادموں کو حکم دے دیتے وہ آپ کی کفایت کرتے ؟ فرمایا : نہیں چونکہ رات ان کے لیے ہے وہ رات کو آرام کرتے ہیں۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل فی الزھد وابن عساکر)
25648- عن عبد الله الرومي قال: "كان عثمان يلي وضوء الليل بنفسه فقيل: لو أمرت الخدم فكفوك؟ فقال: لا إن الليل لهم يستريحون فيه". "ابن سعد حم في الزهد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25649 ۔۔۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) روایت کی ہے کہ آپ (رض) فرمایا کرتے : اپنی صفیں سیدھی کرلو کاندھے سے کاندھا ملا لو ، اپنے امام کی مدد کرو ، اپنی زبانیں روکے رکھو ، چونکہ مومن اپنی زبان روک کر رکھتا ہے اور اپنے امام کی مدد کرتا ہے جبکہ منافق اپنے امام کی مدد نہیں کرتا اور اپنی زبان قابو میں بھی نہیں رکھتا ، چھوٹے غلام پر کمائی کا بوجھ نہ ڈالو جو ہنر مند بھی نہ ہو چونکہ جب وہ کمائی کا سامان نہیں پائے گا چوری کرے گا غیر ہنر مند لونڈی سے بھی کمائی کا مطالبہ نہ کیا جائے چونکہ جب اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا تو اپنی شرمگاہ کو کمائی کا ذریعہ بنا لے گی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
25649- عن عثمان بن عفان أنه كان يقول: "سووا صفوفكم، وحاذوا بالمناكب وأعينوا إمامكم وكفوا ألسنتكم فإن المؤمن يكف نفسه ويعين إمامه، وإن المنافق لا يعين إمامه ولا يكف نفسه ولا تكلفوا الغلام الصغير غير الصانع الخراج فإنه إذا لم يجد خراجه سرق، ولا تكلف الأمة غير الصانع خراجها فإنها إذا لم تجده التمسته بفرجها". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25650 ۔۔۔ حضرت ابو محذورہ (رض) روایت کی ہے کہ میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا یکایک صفوان بن امیہ ایک بڑا پیالہ لے کر آ (رح) ئے اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے رکھ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ مسکینوں اور غلاموں کو بلایا جو آپ کے آس پاس تھے آپ نے انھیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ اس قوم کا برا کرے جو اپنے غلاموں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور انھیں اپنے ساتھ کھانا نہیں کھلاتے صفوان (رض) بولے : بخدا ! آپ غلاموں اور مسکینوں سے منہ نہیں موڑتے لیکن ہمیں ترجیح دی جاتی ہے ہم عمدہ کھانا نہیں پاتے جو ہم کھائیں وہ انھیں بھی کھلائیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
25650- عن أبي محذورة قال: "كنت جالسا عند عمر بن الخطاب إذ جاء صفوان بن أمية بجفنة فوضعها بين يدي عمر فدعا عمر ناسا مساكين وأرقاء من أرقاء الناس حوله فأكلوا معه ثم قال عند ذلك فعل الله بقوم أو لحا الله قوما يرغبون عن أرقائهم أن يأكلوا معهم فقال صفوان: أما والله ما ترغب عنهم ولكنا نستأثر لا نجد من الطعام الطيب ما نأكل ونطعمهم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25651 ۔۔۔ ابن سراقہ روایت کی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھ کر ایک باندی کے متعلق مشاورت کی جبکہ ابو موسیٰ (رض) باندی خریدنا چاہتے تھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ (رض) کو جواب لکھا : باندیوں سے کمائی کا کام مت لو چونکہ یہ ایسی قوم ہے جو زنا کو برا نہیں سمجھتی ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے چہروں سے پردہ ہٹا دیا ہے جس طرح کتوں کے منہ سے حیا کا پردہ ہٹا دیا ہے البتہ تم عرب باندیوں سے کوئی باندی خریدلو وہ تم سے خیانت نہیں کرے گی اور تمہاری اولاد کی حفاظت کرے گی ۔ (رواہ ابن عساکر) فائدہ : ۔۔۔ بظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رومی باندیوں کے خریدنے سے ابو موسیٰ (رض) کو منع فرمایا ہے چونکہ زنا ان میں معمول کی بات تھی ، عصر حاضر میں اہل مغرب واہل یورپ کی عورتوں سے نکاح کرنا بایں وجوہ ناجائز ہوگا وبایں ہمہ اہل مغرب واہل یورپ مشرکین ہیں بدرجہ اولی نکاح جائز نہیں ہوگا ۔
25651- عن ابن سراقة "أن أبا موسى الأشعري كتب إلى عمر بن الخطاب يشاوره في جارية أراد أن يشتريها، فكتب إليه عمر: لا تتخذ منهن فإنهن قوم لا يتعايرون الزنا وإن الله نزع الحياء من وجوههن كما نزع من وجوه الكلاب، وعليك بجارية من سبايا العرب تحفظك في نفسها وتخلفك في ولدها". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25252 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں جس شخص نے کوئی خادم کی عادات میں موافقت نہ ہوسکی تو مالک کو چاہیے کہ وہ خادم بیچ دے اور ایسا خادم خریدے جس کی عادات میں موافقت ہو سکے چونکہ لوگوں کی عادات مختلف ہوتی ہیں، اللہ کے بندوں کو عذاب مت دو ۔ (رواہ ابن راھویہ)
25652- عن عمر بن الخطاب قال: "من ابتاع شيئا من الخدم فلم يوافق شيمته شيمته فليبع وليشتر حتى يوافق شيمتهم شيمته، فإن الناس شيم ولا تعذبوا عباد الله". "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25653 ۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن طالب کی روایت ہے ان کے والد عبدالرحمن بن حاطب (رض) کے (رح) غلاموں نے ایک اونٹ چوری کرلیا اور پھر اسے ذبح بھی کردیا (بعد از تحقیق) ان سے اونٹ کی کھال برآمد ہوئی ، معاملہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لایا گیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھوڑی دیر توقف کیا گیا ہم یہی سمجھے کہ آپ ہاتھ کٹوا کر چھوڑیں گے پھر آپ نے فرمایا : ان غلاموں کو میرے پاس لاؤ پھر آپ (رض) نے عبدالرحمن (رض) سے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ تم ان سے کام لیتے ہو اور پھر انھیں بھوکا رکھتے ہو تم ان سے برا سلوک کرتے ہو حتی کہ ان سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حرام کردہ امور سرزد ہوجاتے ہیں پھر اونٹ کے مالک سے پوچھا : تمہیں اونٹ کے بدلہ میں کتنی رقم دی جائے ! اس نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار سو درہم ہم سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عبدالرحمن بن حاطب سے فرمایا کھڑے ہوجاؤ اور اسے آٹھ سو درہم بطور تاوان ادا کرو۔ (رواہ عبدالرزاق والبیہقی فی شعب الایمان)
25653- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب "أن غلمة لأبيه عبد الرحمن بن حاطب سرقوا بعيرا فانتحروه، فوجد عندهم جلده فرفع أمره إلى عمر فأمر بقطعهم فمكثوا ساعة وما نرى إلا قد فرغ من قطعهم ثم قال عمر: علي بهم ثم قال لعبد الرحمن: والله إني لأراك تستعملهم ثم تجيعهم وتسيء إليهم حتى لو وجدوا ما حرم الله عليهم حل لهم، ثم قال لصاحب البعير: كم كنت تعطى ببعيرك؟ قال: أربع مائة، قال لعبد الرحمن بن حاطب: قم فاغرم له ثمان مائة درهم". "عب هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25654 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہر ہفتہ عوالی کی طرف جاتے تھے اور جب کسی غلام کو اس کی طاقت سے بڑھا ہوا کام کرتے دیکھتے اس سے وہ کام چھڑا دیتے تھے ۔ (رواہ مالک وعبدالرزاق وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25654- عن عمر "أنه كان يذهب إلى العوالي في كل سبت فإذا وجد عبدا في عمل لا يطيقه وضع عنه". "مالك عب هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25655 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) جب کسی غلام کے پاس سے گزرتے فرماتے : اے فلاں ! خوش ہوجاؤ تمہارے لیے دوہرا اجر وثواب ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، والبیہقی)
25655- عن أبي هريرة قال: "كان عمر بن الخطاب إذا مر على عبد قال: يا فلان بشر بالأجر مرتين". "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25656 ۔۔۔ ’ مسند عمر (رض) “۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک باندی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئی آپ (رض) اسے پہچانتے تھے وہ ایک مہاجر کی باندی تھی اس نے چادر سے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا آپ (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو آزاد ہوچکی ہے ؟ جواب دیا نہیں فرمایا : پھر تو نے چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے سر سے چادر اتار دو ، چادریں تو مومنین کی آزاد عورتوں کے لیے ہیں، باندی نے چادر اتارنے میں قدرے توقف کیا ، آپ (رض) کوڑا لے کر اس کی طرف بڑھے اور سر پر کوڑا دے مارا حتی کہ باندی نے سر سے چادر اتار دی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
25656- "مسند عمر رضي الله عنه"ْ عن أنس قال: "دخلت على عمر بن الخطاب أمة قد كان يعرفها لبعض المهاجرين وعليها جلباب مقنعة به فسألها عتقت؟ قالت: لا، قال: فما بال الجلباب ضعيه عن رأسك إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين فتلكأت 2، فقام إليها بالدرة فضرب بها رأسها حتى ألقته عن رأسها". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مملوک کے حقوق :
25657 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس ایک طشتری لاؤں تاکہ اس پر ان امور کی نشان دہی کردی جائے جو آپ کی امت کو گمراہ کرتے تھے آپ کی رحلت کا خوف ہوا میں نے عرض کیا : میں یاد کروں گا آپ نے فرمایا ! میں نماز وزکوۃ کی وصیت کرتا ہوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ (رواہ احمد بن حنبل و سعید بن المنصور)
25657- "مسند علي رضي الله عنه" عن علي قال: "أمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن آتيه بطبق يكتب عليه ما يضل أمته بعده خشيت أن يفوتني نفسه قلت: إني لأحفظ قال: "أوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم". "حم ص".
তাহকীক: