কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৬১৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25618 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں عورت دن کو روزہ رکھتی ہے رات کو قیام کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے آپ نے فرمایا : وہ دوزخ میں جائے گی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فلاں عورت فرض نماز پڑھتی ہے پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو اذیت نہیں پہنچاتی آپ نے فرمایا : وہ جنت میں جائے گی ۔ (رواہ ابن النجار)
25618- عن أبي هريرة قالوا: "يا رسول الله إن فلانة تصوم النهار وتقوم الليل وتؤذي جيرانها قال: "هي في النار" قالوا: يا رسول الله إن فلانة تصلي المكتوبة وتصدق بالأثوار من الأقط ولا تؤذي جيرانها قال: "هي في الجنة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25619 ۔۔۔ عبید بن ابی زیاد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) مکہ مکرمہ تشریف لائے اور مجھے خبر کی کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) کے آزاد کردہ غلام کے پاس کچھ غلاظت خوردہ اونٹ ہیں عمر (رض) نے پیغام بھجوا کر ان کو مکہ سے باہر نکال دیا اور فرمایا : ان اونٹوں پر لکڑیاں لادی جائیں اور ان پر پانی لایا جائے اور ان پر سوار ہو کر حج یا عمرہ نہ کیا جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق ومسدد وھو صحیح)
25619- عن عبيد بن أبي زياد عن أبيه قال: قدم عمر مكة فأخبرني "أن لمولى لعمرو بن العاص إبلا جلالة فأرسل إليها فأخرجها من مكة فقال: إبلا تحتطب عليها وننقل عليها الماء فقال عمر: لا يحج عليها ولا يعتمر". "عب ومسدد وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25620 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ (رض) چوپایوں کو خصی کرنے سے منع کرتے تھے اور فرمایا کرتے : نر اونٹ ہی تو افزائش نسل کا ذریعہ ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ و ابن ابی شیبۃ وابن المنذر والبیہقی فی السنن)
25620- عن ابن عمر "أن عمر كان ينهى عن إخصاء البهائم ويقول هل النماء إلا في الذكر". "عب ش وابن المنذر، هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25621 ۔۔۔ ابراہیم بن مہاجر کی روایت ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو خط لکھا جس میں گھوڑوں کو خصی نہ کرنے کا حکم دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق ، والبخاری ومسلم)
25621- عن إبراهيم بن المهاجر قال: "كتب عمر بن الخطاب إلى سعد بن أبي وقاص أن لا يخصى فرس". "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25622 ۔۔۔ ہشام بن جیش کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو میں نے اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت میں دیکھا آپ اپنی سواری سے نیچے اترے پھر عام آدمی کی طرح سواری سے کجاوہ اتارا پھر سواری کو باندھ دیا ، پھر لوگوں کی سواریوں کی طرف متوجہ ہوئے ان میں اپنی سواری کے قریب ایک سواری دیکھی آپ نے اس کا کجاوہ اتار دیا پھر سخت غصہ میں متوجہ ہوئے حتی کہ میں ان کے چہرے پر غصہ نمایاں دیکھ رہا تھا آپ نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ایک شخص نے کہا : اس کا مالک میں ہوں ، فرمایا : تو نے بہت برا کیا تو نے اس کے سینے پر رات گزاری اس کے سینے کو مارتا رہا حتی کہ جب اس کے رزق کا وقت قریب تر ہوگیا تو نے اس کی دو ہڈیوں کو علیحدہ ہڈیوں کے درمیان جمع کرکے رکھ دیا ۔ (رواہ الرویانی)
25622- عن هشام بن حبيش قال: "أرسل إلي عمر بن الخطاب فرأيته في جماعة من أصحابه نزل عن راحلته ثم حط رحله ثم قيد راحلته كرجل من أصحابه ثم حس ركاب القوم فوجد فيها راحلة مقاربا لها من قيدها فأرخى لها عمر بن الخطاب، ثم أقبل يتغيظ أرى الغيظ في وجهه فقال: أيكم صاحب الراحلة؟ فقال رجل: أنا قال: بئس ما صنعت تبيت على فؤاده وتضرب صدره حتى إذا حان رزقه جمعت بين عظمين من عظامه". "الروياني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25623 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : چوپایوں کے منہ پر پتھر مت مارو چونکہ ہر چیز اللہ تبارک وتعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (رواہ ابوالشیخ وابن عساکر)
25623- عن عمر قال: "لا تلطموا وجوه الدواب فإن كل شيء يسبح الله بحمده". "أبو الشيخ كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25624 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : چوپائے منہ پر تھپڑ نہ مارا جائے اور نہ ہی داغ لگایا جائے ، (رواہ النجار ومسلم)
25624- عن عمر قال: "لا يلطم وجوه الدابة ولا توسم". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25625 ۔۔۔ حکم روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اہل شام کو خط لکھا جس میں انھیں درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے منع فرمایا۔ (رواہ البخاری ومسلم)
25625- عن الحكم "أن عمر كتب إلى أهل الشام ينهاهم أن يركبوا جلود السباع". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25626 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ مجھے نئی سواری سے دور رکھو ۔ (رواہ البخاری ومسلم)
25626- عن عمر "إياي والمركب الجديد". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25627 ۔۔۔ علقمہ بن عبداللہ روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس برذون گھوڑا لایا گیا ، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ جواب دیا گیا : اے امیر المؤمنین ! یہ فرمان بردار سواری ہے اور یہ اچھی حالت میں ہے اور یہ خوبصورت بھی ہے اس پر عجمی لوگ سوار ہوتے ہیں آپ (رض) کھڑے ہوئے اور اس پر سوار ہوگئے جب آگے چلے اور آپ کے کاندھے ہلنے لگے آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سواری کا برا کرے آپ فورا نیچے اتر آئے ۔ (رواہ ابن المبارک)
25627- عن علقمة بن عبد الله قال: "أتي عمر بن الخطاب ببرذون فقال: ما هذا؟ فقيل له يا أمير المؤمنين هذه دابة لها وطاء ولها هيئة ولها جمال تركبه العجم فقام فركبه فلما سار هز منكبيه فقال: قبح الله هذا بئس الدابة هذه فنزل عنه"."ابن المبارك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25628 ۔۔۔ قبیلہ ثقیف کے ایک شخص سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : اے لوگو ! کجاوے پیچھے رکھو چونکہ ہاتھ اٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور پاؤں باندھے ہوئے ہوتے ہیں (رواہ البخاری ومسلم)
25628- عن رجل من ثقيف قال: "سمعت عمر بن الخطاب ينادي أيها الناس أخروا الأحمال فإن الأيدي معلقة والأرجل موثقة". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25629 ۔۔۔ مسیب بن دارم کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ آپ ایک شتربان کو مار رہے تھے اور فرما رہے تھے تم نے اونٹ پر اتنا بوجھ کیوں لادا جس کی اس میں طاقت نہیں ہے (رواہ ابن سعد )
25629- عن المسيب بن دارم قال: "رأيت عمر بن الخطاب ضرب جمالا فقال: لم يحمل بعيرك ما لا يطيق". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25630 ۔۔۔ سالم بن عبداللہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اونٹ کے پ چھوڑے پر ہاتھ رکھ کر فرماتے مجھے خوف ہے کہ تیرے بارے میں مجھ سے سوال نہ کیا جائے (راوہ ابن سعد وابن عساکر )
25630- عن سالم بن عبد الله أن عمر بن الخطاب "كان يدخل يده في دبر البعير ويقول: إني خائف أن أسأل عما بك". "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25631 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ سواری پر آگے بیٹھنے کا حق دار اس کا مالک ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحاکم فی الکنی وحسنہ )
25631- عن عمر قال: "قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن صاحب الدابة أحق بصدرها". "حم والحاكم في الكنى وحسنه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25632 ۔۔۔” مسند علی کرم اللہ وجہہ “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک خچر ہدیہ میں پیش کیا گیا آپ کو وہ بڑا دلکش لگا اور اس پر سوار ہوگئے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ۔ اگر ہم گدھوں سے گھوڑوں کی جفتی کرائیں تو اسی جیسے جانور پیدا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا فعل وہی کرتے ہیں جو علم نہیں رکھتے ۔ (رواہ ابو داؤد طبالسی وابن وھب واحمد بن حنبل وابو اداؤد اوالنسائی وابن جریر وصححہ والطحاوی وابن حبان والدور فی والبخاری ومسلم و سعید بن المنصور)
25632- "مسند علي كرم الله وجهه" عن علي قال: "أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة فأعجبته فركبها فقلنا: يا رسول الله لو أنزينا الحمر على خيلنا فجاءت بمثل هذه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون". "ط وابن وهب حم، د، ن، وابن جرير وصححه، والطحاوي حب والدورقي ق ص"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25633 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گدھوں سے گھوڑوں کی جفتی کرانے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو داؤد والدورفی ) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 5891 ۔
25633- عن علي قال: "نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننزي حمارا على فرس". "حم د والدورقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25634 ۔۔۔ ” مسند بشیر بن سعد انصاری والد نعمان بن بشر “ محمد بن علی بن حسین کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسین (رض) باہر تشریف لے گئے میں ان کے ساتھ تھا حسین (رض) مقام حرہ میں اپنی زمین میں جانا چاہتے تھے ہم پیدل چل رہے تھے اتنے میں ہم نعمان بن بشیر (رض) سے جاملے جب وہ خچر پر سوار تھے نعمان (رض) نے حضرت حسین (رض) سے کہا : اے ابو عبداللہ ! سوار ہوجائیں حسین (رض) نے فرمایا : بلکہ آپ سوار رہیں تم اپنی سواری پر آگے سوار ہونے کہ زیادہ حق دار ہو چونکہ فاطمہ (رض) نے مجھے حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمایا ہے نعمان (رض) : بولے فاطمہ (رض) نے سچ کہا لیکن میرے والد بشیر نے مجھے حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے البتہ اگر مالک آگے سوار ہونے کی اجازت دے دے چنانچہ حسین (رض) آگے سوار ہوئے اور نعمان (رض) کو اپنے پیچھے بیٹھا لیا ۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر وفیہ الحکم بن عبداللہ الایلی متروک )
25634- "مسند بشير بن سعد الأنصاري والد النعمان بن بشير" عن محمد بن علي بن حسين قال: "خرج حسين وأنا معه وهو يريد أرضه التي بظاهر الحرة ونحن نمشي فأدركنا النعمان بن بشير وهو على بغلة له، فقال للحسين: يا أبا عبد الله اركب فقال: بل اركب أنت، أنت أحق بصدر دابتك فإن فاطمة حدثتني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ذلك، فقال النعمان: صدقت فاطمة ولكن أخبرني أبي بشير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إلا من أذن له" فركب الحسين وأردفه النعمان". "أبو نعيم كر؛ وفيه الحكم بن عبد الله الأيلي متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25635 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے منہ پر داغ لگایا گیا تھا اور اس کے نتھنوں پ دھوئیں کے نشانات تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے ایسا کیا ہے تم میں سے کوئی شخص ہرگز منہ پر داغ نہ لگائے اور نہ منہ پر مارے (رواہ عبدالرزاق)
25635- "من مسند جابر بن عبد الله" "مر النبي صلى الله عليه وسلم بحمار قد وسم في وجهه تدخن منخراه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لعن الله من فعل هذا لا يسمن أحدكم الوجه ولا يضربن أحدكم الوجه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25636 ۔۔۔ قبیلہ بن غیلان کا ایک شخص جنادہ بن جرادہ کہتا ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اونٹ بھیجے جن کی ناک پر میں نے داغ لگا رکھا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے منہ کے علاوہ کوئی اور جگہ داغنے کے لیے نہیں پائی ؟ خبردار تمہیں آگے جا کر اس کا بدلہ دینا ہوگا اس شخص نے عرض کیا : ان اونٹوں کا معاملہ آپ کو سپرد ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : میرے پاس ایسا اونٹ لاؤ جس پر داغ نہ لگایا گیا ہو چنانچہ میں نے ایک بنت لبون (اونٹ کا بچہ جیسے دو سال پورے ہوچکے ہوں تیسرے سال میں چل رہا ہو) اور ایک حقہ (جس کے تین سال پورے ہوچکے ہوں اور چوتھے سال میں چل رہاق ہو ) لایا میں نے ان کی گردن پر داغ لگانا چاہا آپ برابر فرماتے رہے پیچھے داغ لگاؤ پیچھے داغ لگاؤ حتی کہ وہ شخص ران پر پہنچا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام لے کر یہیں داغ لگاؤ چنانچہ میں نے اونٹوں کی رانوں پر داغ لگائے ان اونٹوں کا صدقہ دو حصے تھے جب کہ اونٹوں کی تعداد نوے (90) تھی ۔ (رواہ الدار قطنی فی المؤتلق والب اور دی وابن شاھین وابن قانع وابن السکن وقال لا علم لہ غیرہ والطبرانی وابو نعیم والضیاء )
25636- عن جنادة بن جرادة أحد بني غيلان قال: "بعثت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بإبل قد وسمتها في أنفها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما وجدت فيها عضوا تسمه إلا في الوجه؟ أما إن أمامك القصاص"، فقال: أمرها إليك يا رسول الله فقال: "ائتني بشيء ليس عليه وسم" فأتيته بابن لبون وحقة فوضعت الميسم في العنق فلم يزل يقول: "أخر أخر" حتى بلغ الفخذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سم على بركة الله" فوسمتها في أفخاذها وكان صدقتها حقتان وكانت تسعين". "قط في المؤتلف والباوردي وابن شاهين وابن قانع وابن السكن وقال لا أعلم له غيره طب وأبو نعيم ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار اور سواری کے حقوق : سواری کے حقوق :
25637 ۔۔۔ مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ ان کے والد مخرمہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں لے آئے ۔ والد نے کہا ۔ اے بیٹا اندر جاؤ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے لیے باہر بلا لاؤ میں گھر میں داخل ہوا میں ابھی لڑکا تھا میں نے عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے پر میرا باپ کھڑا ہے وہ آپ کو بلا رہا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور دیباج کی ایک قبالی جس میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے میرے والد نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اپنے صحابہ کرام (رض) میں جو کپڑے تقسیم کیے ہیں ان میں میرا حصہ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے ابو صفوان میں نے تمہارے لیے یہ قبا چھپا رکھی ہے والد نے قبالے لی اور کہا : آپ نے رشتہ داری کا بھرپور لحاظ رکھا ہے ، اس مال میں سے کچھ حصہ آپ نے اہل مکہ کے لیے بھی بطور صلہ رحمی کے بھیجا میرے والد کے ساتھ ابن حضرمی کو یہ مال دے کر بھیجا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے والد سے فرمایا : اپنے لیے ایک رفیق سفر تلاش کرلو میرے والد آپ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا میں نے ایک شخص پالیا ہے آپ نے فرمایا : وہ کون ہے ؟ عرض کیا : فلاں ضمری ہے۔ فرمایا : اسے اپنے ساتھ رکھ کر نکل جاؤ بکری تمہارا دوست ہے لیکن اس پر بھروسہ نہیں کرنا ، مخرمہ (رض) کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے حتی کہ جب مقام حج پہنچے جو کہ بنو ضمرہ کا علاقہ ہے میرا رفیق سفر (ضمری) بولا ؟ یہاں میری قوم کے کچھ لوگ رہتے ہیں میں ذرا ان کے پاس سے ہو آؤں انھیں سلام کر آؤں اور ملاقات بھی کرلوں چنانچہ ضمری نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ مال بھیجا ہے تم بھی تو ان کی قوم ہو لہٰذا جا کر وہ مال لے لو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بخدا اس کے متعلق کچھ نہیں فرمایا : چنانچہ وہ لوگ جب مقام حج پہنچے وہاں آدمی (میرے باپ مخرمہ) کو گم پایا کہ وہ تو جا چکا ہے ، وہ لوگ بولے : بخدا ! وہ واپس لوٹ گیا ہے ضمری آگے بڑھ گیا جبکہ اس کے ساتھ واپس لوٹ گئے حتی کہ ضمری نے آگے چل کر اپنے ساتھی کو پالیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
25637- عن المسور بن مخرمة أن أباه مخرمة أخذ بيده حتى جاء به بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا بني ادخل فادع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام، فقلت: يا رسول الله هذا أبي على الباب يدعوك، فقام إليه وأخذ قباء من ديباج مزررا بالذهب فقال له يا رسول الله أين نصيبي من الثياب التي قسمت بين أصحابك قال: "هذا قباء خبأته لك يا أبا صفوان"، فأخذه وقال: وصلتك رحم وأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك المال طائفة إلى أهل مكة فوصلهم به، وكان الذي بعث به معه ابن الحضرمي وقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "التمس رجلا يصحبك" فأتاه فقال قد وجدت رجلا قال: "من وجدت؟ " قال: وجدت فلانا الضمري، قال: "فاخرج به معك والبكري أخوك ولا تأمنه"، قال: فخرجنا حتى إذا كنا بأمج وهو من حرة بني ضمرة قال لابن الحضرمي ها هنا أناس من قومي آتيهم فأسلم عليهم وأحدث بهم عهدا فأنظرني، فقال يا قومي إن هذا مال بعث به رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما أنتم قومه امشوا إليه فخذوه والله ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيه شيئا فلما جاؤوا أمج وجدوا الرجل قد ارتحل فسأل عنه فقالوا: والله ما هو أن وليت فذهب فرجع أصحابه وخرج حتى أدرك صاحبه". "كر".
tahqiq

তাহকীক: