কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৫৯৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25598 ۔۔۔ ” مسند اکثم بن جون “ جی بن عبداللہ وصابی ‘ ابو عبداللہ دمشقی روایت کی ہے کہ میں اکثم بن جون خزاعی کلبی کے پاس حاضر ہوا انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اکثم بن جون ! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو اور عمدہ اخلاق کو ملحوظ رکھو یوں تم اپنے رفقاء پر فوقیت لے جاؤ گے ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم)
25598- "مسند أكثم بن الجون" عن حيي بن عبد الله الوصابي حدثني أبو عبد الله الدمشقي قال: "شهدت أكثم بن الجون الخزاعي الكلبي يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أكثم بن الجون اغز مع غير قومك بحسن خلقك وتكرم على رفقائك". "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25599 ۔۔۔ ” ایضا “ سعید بن سنان عبید اللہ وصابی (اہل شام میں سے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے اسے اکثم بن جون کہا جاتا تھا اس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اکثم ! تمہارے صحبت میں امانتدار شخص ہی ہونا چاہیے وہ سریہ سب سے اچھا ہے جو چار سو افراد پر مشتمل ہو ، سب سے بہترین لشکر وہ ہے جو ہزار افراد پر مشتمل ہو ، وہ قوم کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی جس کی تعداد بارہ ہزار ہو۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم والبخاری ومسلم)
25599- "أيضا" عن سعيد بن سنان قال: حدثني عبيد الله الوصابي رجل من أهل الشام قال: حدثني رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له أكثم بن الجون قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أكثم لا يصحبك إلا أمين، وخير السرايا أربع مائة، وخير الجيوش أربعة آلاف، ولن يغلب قوم يبلغوا اثني عشر ألفا". "ابن منده وأبو نعيم، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25600 ۔۔۔ ” مسند انس “ ابو سلمہ عاملی ، زھری کی سند سے حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکثم بن جون (رض) سے فرمایا : اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ حسن خلق کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاد کرو تمہارے رفقاء پر تمہیں فوقیت دی جائے گی اے اکثم ! چار اشخاص کی رفاقت سب سے اچھی ہے چالیس افراد پر مشتمل سب سے اچھا ہر اول دستہ ہوتا ہے چار افراد پر مشتمل سر یہ بہت اچھا ہوتا ہے چار ہزار نفوس پر مشتمل لشکر سب سے اچھا ہے اور بارہ ہزار نفوس کو قلیل نہیں شمار کیا جاتا ۔ (رواہ ابن ماجہ وابن ابی حاتم فی العلل والعسکری فی الامثال والبغوی والباروردی وابن مندہ وابو نعیم والعاملی متروک ورواہ ابن عساکر من طریق العاملی وابی بشر قالا : حدثنا الزھری بہ وقال ابو بشر ھذا ھو عبدالولید ابن محمد الموقدی) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے : ضعیف الجامع 6379 ۔
25600- "مسند أنس" عن أبي سلمة العاملي عن الزهري عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأكثم بن الجون الخزاعي: "اغز مع غير قومك بحسن خلقك وتكرم على رفقائك، يا أكثم خير الرفقاء أربعة وخير الطلائع أربعون وخير السرايا أربع مائة وخير الجيوش أربعة آلاف ولن يؤتى اثني عشر من قلة". "هـ وابن أبي حاتم في العلل والعسكري في الأمثال والبغوي والباوردي وابن منده وأبو نعيم؛ والعاملي متروك ورواه "كر" من طريق العاملي وأبي بشر قالا: ثنا الزهري به وقال أبو بشر هذا هو عبد الوليد ابن محمد الموقدي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری صحبت سے اجتناب کرنے کا بیان :
25601 ۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہتے ہیں : میں ایک سفر سے واپس لوٹا مجھ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : کس کی رفاقت میں سفر کیا ہے ؟ میں نے کہا : بن بکر بن وائل کا ایک شخص میرا رفیق سفر تھا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کیا تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے نہیں سنا : اپنے بکری دوست پر بھروسہ مت کرو۔ (رواہ العقیلی والطبرانی فی الاوسط قال العقیلی فیہ زید بن عبدالرحمن بن اسلم منکر الحدیث لایتابع ولا یعرف الابہ) حدیث 24782 ۔ نمبر پر گذرچ کی ہے۔
25601- عن أسلم قال: "خرجت في سفر فلما رجعت قال لي عمر من صحبت؟ قلت: صحبت رجلا من بني بكر بن وائل فقال عمر: أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أخوك البكري ولا تأمنه". "عق، طس؛ قال عق فيه زيد بن عبد الرحمن بن أسلم منكر الحديث لا يتابع ولا يعرف إلا به". مر برقم [24782] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری صحبت سے اجتناب کرنے کا بیان :
25602 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : تین چیزیں کمر توڑ دیتی ہیں ، مستقل قیام گاہ میں برا پڑوسی ، بری بیوی چنانچہ اگر تم اس کے پاس آؤ زبان درازی شروع کردیتی ہے اگر غائب ہوجاؤ اس پر بھروسہ نہیں کرتے تیسرا بادشاہ اگر تم اس کے ساتھ اچھائی کرو وہ تمہاری اچھائی قبول نہیں کرتا اگر تم برائی کر بیٹھو وہ تمہیں معاف نہیں کرے گا ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25602- عن عمر قال: "ثلاثة هن فواقر جار سوء في دار مقامة، وزوجة سوء إن دخلت عليها لسنتك وإن غبت لم تأمنها، وسلطان إن أحسنت لم يقبل وإن أسأت لم يقلك "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری صحبت سے اجتناب کرنے کا بیان :
25603 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : بادشاہ کے دروازوں سے بچتے رہو۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25603- عن علي قال: "اتقوا أبواب السلطان". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25604 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “۔ عبدالرحمن بن قاسم کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کے پاس سے گزرے عبدالرحمن (رض) اپنے پڑوسی سے سخت جھگڑا کر رہے تھے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عبدالرحمن سے فرمایا : اپنے پڑوسی سے مت جھگڑو چونکہ لوگ چلے جاتے ہیں اور پڑوسی باقی رہ جاتا ہے۔ (رواہ ابن المبارک وابو عبید فی الغریب والخرائطی فی مکارم الاخلاق وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25604- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه "أن أبا بكر مر بعبد الرحمن بن أبي بكر وهو يماظ جارا له فقال لا تماظ جارك فإن هذا يبقى ويذهب الناس". "ابن المبارك وأبو عبيد في الغريب والخرائطي في مكارم الأخلاق، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25605 ۔۔۔ ضمرہ کہتے ہیں : ایک شخص سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس آیا اور اپنے پڑوسی کی شکایت کرنے لگا بولا : رات کو مجھے پتھر مارے جاتے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جہاں سے پتھر آتے ہیں تم بھی ادھر واپس پھینک دیا کرو پھر فرمایا : شر کی اصلاح شر سے ہوتی ہے۔ (رواہ السمعانی)
25605- عن ضمرة قال: "جاء رجل إلى علي بن أبي طالب يشكو جاره فقال: الحجارة تجيئني من الليل يرمي بها، فقال: أعدها من حيث تجيئك ثم قال: إن الشر لا يصلحه إلا الشر". "ابن السمعاني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25606 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک دن جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا : تم سائے میں بیٹھے ہو حالانکہ تمہارے اصحاب دھوپ میں بیٹھے ہیں۔ (رواہ ابن مندہ وقال منکر)
25606- "مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "جاء جبريل يوما فقال: أنت في الظل وأصحابك في الشمس". "ابن منده؛ وقال: منكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25607 ۔۔۔ محمد بن عبداللہ بن سلام کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے، آپ نے فرمایا : صبر کرو محمد بن عبداللہ دوسری بار پھر حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : صبر کرو تیسری بار پھر حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے آپ نے فرمایا : اپنا سازو سامان اٹھا کر گلی میں پھینک دو جب کوئی تمہارے پاس آئے کہو : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے یوں اس طرح اس پر لعنت متحقق ہوجائے گی چونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے ۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
25607- عن محمد بن عبد الله بن سلام أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "آذاني جاري، فقال: "اصبر" ثم عاد إليه الثانية فقال: آذاني جاري، فقال: " اصبر"، ثم عاد الثالثة فقال: آذاني جاري، فقال: "اعمد إلى متاعك فاقذفه في السكة، فإذا أتى عليك آت فقل: آذاني جاري فتحقق عليه اللعنة من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو يسكت". "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25608 ۔۔۔ بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھ پر پڑوسی کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہارا پڑوسی بیمار پڑجائے تو تم اس کی عیادت کرو اگر مرجائے تم اس کے جنازے کے ساتھ ساتھ چلو اگر تم سے قرض مانگے تم اسے قرض دو اگر اسے کپڑوں کی ضرورت ہو تم اسے کپڑے پہنچاؤ اگر اسے کوئی اچھائی نصیب ہو تم اسے مبارک باد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت پیش آئے تم اسے تسلی دو اس کی عمارت سے اپنی عمارت اونچی نہ بناؤ کہ تازہ ہوا اس تک نہ پہنچے پائے اور تم اپنی ہنڈیا کی بو سے اسے اذیت نہ پہنچاؤ ، ہاں البتہ پکے ہوئے میں سے اس کا بھی کچھ حصہ کر دو ، (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان) حدیث 24897 نمبر پر گزر چکی ہے۔
25608- عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: "قلت يا رسول الله ما حق جاري علي؟ قال: "إن مرض عدته، وإن مات شيعته، وإن استقرضك أقرضته وإن عري سترته، وإن أصابه خير هنيته، وإن أصابته مصيبة عزيته، ولا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح، ولا تؤذيه بريح قدرك إلا أن تغرف له منها ". "هب". مر برقم [24897] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25609 ۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کر رہے تھے حتی کہ مجھے خیال ہوا کہ آپ پڑوسی کو وارث بنادیں گے ۔ (رواہ ابن النجار) 25878 نمبر پر حدیث گزر چکی ہے۔
25609- عن أبي أمامة "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوصي بالجار حتى ظننت أنه سيورثه". "ابن النجار". مر برقم [25878] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25610 ۔۔۔ ابو جحیفہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور اپنے پڑوسی کی شکایت کرنے لگا ، اس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سازوسامان راستے میں پھینک دو چنانچہ اس شخص نے اپنا سازو سامان راستے میں پھینک دیا لوگ ادھر سے گزرتے اور اس کے پڑوسی پر لعنت کرتے جاتے چنانچہ اس کا پڑوسی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں نے مجھے کن باتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بھلا تمہیں کن باتوں کا سامنا ہے ؟ عرض کیا : لوگ مجھ پر لعنت کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : لوگوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر لعنت کردی ہے عرض کیا دوبارہ مجھ سے یہ غلطی سرزد نہیں ہوگی ، اتنے میں شکایت کرنے والا شخص آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا : اپنا سامان اٹھالو اب تم امن میں ہو یا فرمایا : تمہاری کفایت کردی گئی ہے۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25610- عن أبي جحيفة قال: "جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو جاره، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "اطرح متاعك على الطريق أو في الطريق" فطرحه، فجعل الناس يمرون عليه يلعنونه، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما لقيت من الناس قال: "وما لقيت منهم؟ " قال: يلعنونني، قال: "لقد لعنك الله قبل الناس"، قال: فإني لا أعود يا رسول الله فجاء الذي شكا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "ارفع متاعك فقد أمنت أو كفيت". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25611 ۔۔۔ ابو قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا ایک پڑوسی ہے جو اپنی ہنڈیا چڑھاتا ہے اور مجھے نہیں کھلاتا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مجھ پر اس وقت تک کبھی ایمان نہیں لایا۔ (رواہ ابونعیم)
25611- عن أبي قتادة قال: "قال رجل يا رسول الله إن لي جارا ينصب قدره فلا يطعمني فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما آمن بي هذا ساعة قط". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25612 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کسے ہدیہ دوں ؟ آپ نے فرمایا : ان میں سے جس کا دروازہ تمہارے زیادہ قریب ہو اسے ہدیہ دو ۔ (رواہ عبدالرزاق ، واحمد بن حنبل والبخاری وابو داؤد)
25612- عن عائشة قالت: "قلت يا رسول الله إن لي جارين فإلى أيهما أهدي قال: "إلى أقربهما منك بابا". "عب حم خ د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25613 ۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص “۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنے مال واولاد سے خوف زدہ ہوتے ہوئے اپنے پڑوسی کے آگے دروازہ بند رکھا یہ شخص (کامل) مومن نہیں ہے ، اور وہ شخص بھی (کامل) مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بےخوف نہ ہو ۔ کیا تم جانتے ہو پڑوسی کے حقوق کیا ہیں ؟ چنانچہ تمہارا پڑوسی تم سے مدد طلب کرے تم اس کی مدد کرو ، جب تم سے قرض طلب کرے تم اسے قرض دو جب وہ محتاج ہوجائے تم اس کی طرف رجوع کرو جب بیمار پڑجائے تم اس کی بیمار پڑسی کرو جب اسے بھلائی نصیب ہو تم اسے مبارکبادی دو ، جب اسے کوئی مصیبت پہنچے تم اسے تسلی دو جب مرجائے تم اس کے جنازے کے ساتھ ساتھ چلو ، تم اس کی اجازت کے بغیر اپنی عمارت اس طرح نہ کھڑی کرو کہ اسے تازہ ہوا نہ آنے پائے ۔ اپنی ہنڈیا کی بو سے اسے اذیت مت پہنچاؤ البتہ اپنی ہنڈی میں سے اس کا بھی حصہ کرو ، اگر تم پھل خرید کر لاؤ اس میں سے اسے بھی ہدیہ دو اگر اسے پھل ہدیہ میں نہ دے سکو کم از کم اپنے گھر میں پھل چپکے سے لاؤ اور پھل لے کر تمہاری اولاد باہر نہ نکلنے پائے کہ اس کی اولاد پر رشک کرتے پھریں کیا تم جانتے ہو پڑوسی کے حقوق کیا ہیں ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بہت تھوڑے لوگ پڑوسی کے حقوق ادا کر پاتے ہیں اور یہ بھی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو برابر پڑوسی سے حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے حتی کہ گمان ہونے لگا کہ آپ پڑوسی کو وارث ہی نہ بنادیں ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑوسیوں کی تین قسمیں ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کے لیے تین طرح کے حقوق ہیں دوسرا وہ ہے جس کے لیے دو طرح کے حقوق ہیں تیسرا وہ ہے جس کے لیے ایک حق ہے چنانچہ وہ پڑوسی جس کے لیے تین طرح کے حقوق ہیں وہ مسلمان پڑوسی ہے ایک پڑوس کا حق اور دوسرا اسلام کا حق وہ پڑوسی جس کے لیے ایک حق ہے وہ کافر پڑوسی ہے اس کے لیے صرف پڑوس کا حق ہے ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم پڑوسیوں کو اپنی قربانیوں کا گشت کھلا سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مشرکین کو اپنی قربانیوں کے گوشت میں سے کچھ نہ کھلاؤ ۔ (رواہ ابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان، وقال فیہ سوید بن عبدالعزیز عن عثمان بن عطاء الخراسانی عن ابیہ والثلاثۃ ضعفاء غیر انھم متھمین بالوضع) حدیث 24891 نمبر پر گز چکی ہے۔
25613- "مسند عبد الله بن عمرو بن العاص" "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من أغلق بابه دون جاره مخافة على أهله وماله فليس ذلك بمؤمن وليس بمؤمن من لم يأمن جاره بوائقه، أتدري ما حق الجار؟ إذا استعانه أعنته، وإذا استقرضك أقرضته، وإذا افتقر عدت إليه، وإذا مرض عدته، وإذا أصابه خير هنيته، وإذا أصابته مصيبة عزيته، وإذا مات اتبعت جنازته، ولا تستطيل عليه بالبناء تحجب عنه الريح إلا بإذنه، ولا تؤذيه بقتار قدرك إلا أن تغرف له منها، وإن اشتريت فاكهة فأهد له فإن لم تفعل فأدخلها سرا ولا يخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده أتدرون ما حق الجار؟ والذي نفسي بيده ما يبلغ حق الجار إلا قليل ممن رحم الله فما زال يوصيهم بالجار حتى ظنوا أنه سيورثه. ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الجيران ثلاثة: فمنهم من له ثلاثة حقوق، ومنهم من له حقان، ومنهم له حق، فأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجوار وحق الإسلام وحق القرابة، وأما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الجوار وحق الإسلام، والذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار، قلنا: يا رسول الله فنطعمهم من نسكنا قال: لا تطعموا المشركين شيئا من النسك". "عد هب وقال: فيه سويد بن عبد العزيز عن عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه والثلاثة ضعفاء غير أنهم متهمين بالوضع". مر برقم [24891] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25614 ۔۔۔ اے ابوذر جب سالن پکاؤ اس میں پانی کی مقدار بڑھا دو تاکہ اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کرسکو ۔ (رواہ ابو داؤد ، والطیالسی واحمد بن حنبل والنجار فی الادب ومسلم والبخاری والنسائی والدارمی وابو عوانۃ عنہ) حدیث 24889 پر گزر چکی ہے۔
25614- "يا أبا ذر إذ طبخت فأكثر المرق وتعاهد جيرانك". "ط، حم، خ في الأدب، م، ق، ن والدارمي وأبو عوانة عنه". مر برقم [24899] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25615 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے خیرات کرتی ہے، صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں کوئی بھلائی نہیں وہ اہل دوزخ میں سے ہے عرض کیا گیا کہ فلاں عورت فرض نماز پڑھتی ہے اور پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کردیتی ہے البتہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتی اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اہل جنت میں سے ہے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، وابو داؤد الطیاسی)
25615- عن أبي هريرة قال: "قيل للنبي صلى الله عليه وسلم إن فلانة تقوم الليل وتصوم النهار وتفعل الخيرات وتصدق وتؤذي جيرانها بلسانها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا خير فيها هي من أهل النار"، وفلانة تصلي المكتوبة وتصدق بالأثوار من الأقط ولا تؤذي أحدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هي من أهل الجنة". "هب ط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25616 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پڑوسی کی شکایت کرنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبر کرو وہ شخص دوسری بار پھر آیا اور پڑوسی کی شکایت کی آپ نے فرمایا : جاؤ اور اپنا ساز و سامان نکال کر راستے میں رکھ دو چنانچہ راستے سے جو بھی گزرنے پاتا وہ کہتا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے پڑوسی کی شکایت کی آپ نے مجھے سازو سامان راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے جو شخص بھی راستے سے گزرتا وہ کہتا : یا اللہ اس پر (پڑوسی پر) لعنت کر ، یا اللہ اسے رسوا کر پڑوسی نے آکر کہا : اے فلان اپنے گھر میں واپس لوٹ جاؤ اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی اذیت نہیں پہنچاوں گا ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25616- عن أبي هريرة "أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو جاره فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "اصبر"، ثم أتاه الثانية يشكوه، فقال له: "اصبر"، ثم أتاه يشكوه فقال له: "اصبر"، ثم أتاه الرابعة يشكوه فقال: "اذهب فأخرج متاعك فضعه على ظهر الطريق" فجعل لا يمر به أحد إلا قال له: شكوت جاري إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرني أن أخرج متاعي على ظهر الطريق، فجعل لا يمر به أحد إلا قال: اللهم العنه اللهم اخزه فقال: يا فلان ارجع إلى منزلك فوالله لا أؤذيك أبدا". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ ان حقوق کے بیان میں جو پڑوسی کی صحبت سے متعلق ہیں :
25617 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : یا اللہ میں قیام گاہ میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں چونکہ دیہات کا پڑوسی رخصت ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
25617- عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم إني أعوذ بك من جار السوء في دار إقامة فإن جار البادية يتحول". "كر".
tahqiq

তাহকীক: