কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৫৭৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25578 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں محض اللہ کے لیے فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا : کیا تم نے اسے خبر کردی ہے ؟ جواب دیا نہیں ، آپ نے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ اور سے خبر کرو ، چنانچہ وہ شخص اس آدمی سے ملا اور کہا : میں محض اللہ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں اس نے جواب میں کہا : جس ذات کے لیے تو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ تجھ سے محبت کرے ۔ (رواہ ابن عساکر)
25578- عن أنس "أن رجلا قال: يا رسول الله إني أحب فلانا في الله، قال: "فأخبرته؟ " قال: لا قال: "قم فأخبره فلقيه" فقال: إني أحبك في الله يا فلان فقال له: أحبك الذي أحببتني له". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৭৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25579 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں فلاں شخص سے محض اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا : کیا تو نے اسے خبر کردی ہے ؟ جواب دیا نہیں ، آپ نے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ اور اسے خبر کر دو ۔ چنانچہ وہ شخص اس آدمی کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے شخص ! میں تجھ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں اس نے کہا : جس اللہ کے لیے تو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ بھی تجھ سے محبت کرے ۔ (رواہ ابن النجار)
25579- عن أنس "أن رجلا قال: يا رسول الله إني أحب فلانا في الله عز وجل قال: "فأخبرته؟ " قال: لا، قال: "قم فأخبره"، قال: فأتيته فقلت: إني أحبك في الله يا فلان، فقال: أحبك الله الذي أحببتني له". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25580 ۔۔۔ عبداللہ بن علقمہ بن ابی فغواء خزاعی اپنے والد علقمہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ، مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ مال دے کر ابو سفیان بن حرب کے پاس بھیجا تاکہ وہ مال ابو سفیان فقرائے قریش میں تقسیم کر دے حالانکہ وہ لوگ مشرک تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کی تالیف قلب چاہتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے لیے کوئی رفیق سفر تلاش کرلو چنانچہ حضرت عمرو بن امیہ ضمری (رض) سے میری ملاقات ہوئی انھوں نے کہا : میں تمہارے ساتھ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ میری رفاقت اچھی رہے گی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنے لیے رفیق سفر تلاش کرلیا ہے فرمایا : وہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : وہ عمرو بن امیہ ضمری ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری رفاقت اچھی رہے گی فرمایا : وہ ایسا ہی ہے ، علقمہ (رض) کہتے ہیں : جب میں سفر سے ذرا بچ کے رہو ، چونکہ تم نے کسی کہنے والے کا قول سنا ہوگا ” اخوک الکبری لا تامنہ “ یعنی اپنے بکری دوست پر بھروسہ نہ کرو ۔ چنانچہ ہم سفر پر چل پڑے اور جب ہم مقام ابواء پہنچے جو کہ بنی ضمرہ کا علاقہ ہے عمرو بن امیہ نے کہا : میں اپنے قوم کے کے بعض لوگوں کے پاس جانا چاہتا ہوں مجھے ایک ضروری کام ہے میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی جب وہ جانے لگا مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحت یاد آگئی اور اپنے اونٹ کو چابک مار کر آگے بڑھانا شروع کردیا ، کیا دیکھتا ہوں کہ عمرو بن امیہ ضمری ایک طرف سے چند لوگوں کے ہمراہ تیر اور کمانیں اٹھائے ہوئے نمودار ہو جب میں نے انھیں دیکھا تو میں نے اونٹ کو اور زیادہ تیز کردیا جب میں ان لوگوں سے آگے نکل گیا کچھ دور جانے کے بعد عمرو نے مجھے پکڑ لیا اور بولا : میں ایک ضروری کام کے لیے اپنی قوم کے پاس گیا تھا میں نے کہا : جی ہاں ، جب میں مکہ پہنچا اور مال ابو سفیان کے حوالے کردیا ابو سفیان کہنے لگا محمد سے بڑھ کر زیادہ مہربان کون ہوسکتا ہے ہم اس سے جنگ کرتے ہیں اور اس کے خون کے پیاسے ہیں جبکہ وہ ہمیں ہدیے بھیجتا ہے اور ہمارے اوپر احسانات کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر) حدیث 42782 نمبر پر گزر چکی ہے۔
25580- عن عبد الله بن علقمة بن أبي الفغواء الخزاعي عن أبيه قال: "بعثني النبي صلى الله عليه وسلم بمال إلى أبي سفيان بن حرب يفرقه في فقراء قريش وهم مشركون يتألفهم، فقال لي: "التمس صاحبا"، فلقيت عمرو بن أمية الضمري قال: فأنا أخرج معك وألتمس صحبتك، فجئت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله إني قد وجدت صاحبا، قال: "من؟ " قلت: عمرو ابن أمية الضمري زعم أنه سيحسن صحبتي قال: " فهو إذن"، فلما أجمعت المسير خلا بي دونه فقال: "يا علقمة إذا بلغت بلاد بني ضمرة فكن من أخيك على حذر، فإنك قد سمعت قول القائل: أخوك البكري ولا تأمنه"، فخرجنا حتى إذا جئنا الأبواء، وهي بلاد بني ضمرة قال عمرو بن أمية: إني أريد أن آتي بعض قومي ها هنا لحاجة لي، قلت: لا عليك، فلما ولى ضربت بعيري وذكرت ما وصاني به النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا هو قد طلع بنفر منهم معهم القسي والنبل فلما رأيتهم ضربت بعيري فلما رآني قد قذفت القوم أدركني فقال: جئت قومي وكانت لي إليهم حاجة، فقلت: أجل، فلما قدمت مكة دفعت المال إلى أبي سفيان فجعل أبو سفيان يقول: من أبر من هذا ولا أوصل يعني النبي صلى الله عليه وسلم إنا نجاهده ونطلب دمه وهو يبعث إلينا بالصلات يبرنا بها". "كر". مر برقم [24782] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25581 ۔۔۔ ” مسند حارث غیر منسوب “ حماد بن سلمہ عن ثابت حبیب بن سبیعہ ضبعی کی سند سے حارث (رض) روایت کی ہے کہ کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ بولا : یا رسول اللہ ! میں محض اللہ تعالیٰ کے لیے اس شخص سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اسے بتایا ہے ؟ عرض کیا : نہیں ۔ فرمایا : چلے جاؤ آپ کے پاس بیٹھا ہوا شخص بولا : اللہ تبارک وتعالیٰ تجھ سے محبت کرے جس کی خاطر تو مجھ سے محبت کرتا ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
25581- {مسند الحارث غير منسوب} عن حماد بن سلمة عن ثابت عن حبيب بن سبيعة الضبعي عن الحارث "أن رجلا كان جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فمر رجل فقال: يا رسول الله إني أحبه في الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أعلمته ذلك؟ " قال: لا، قال: "فاذهب"، فقال: أحبك الله الذي أحببتني له". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25582 ۔۔۔ ” مسند رباح بن ربیع “ رباح بن ربیع (رض) کہتے ہیں ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا آپ نے ہم میں سے ہر تین آدمیوں کو ایک اونٹ دیا تھا صحرا میں دو آدمی اونٹ پر سوار ہوتے اور تیسرا اسے ہانکتا تھا ہم پہاڑ میں جا اترے اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے جبکہ میں پیدل چل رہا تھا آپ نے فرمایا : اے رباح ! میں تجھے پیدل چلتا دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کہا : میں ابھی ابھی اترا ہوں جبکہ میرے یہ دو ساتھی سوار ہوئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے دو رفقائے سفر کے پاس سے گزرے انھوں نے اونٹ بٹھا دیا اور دونوں نیچے اتر آئے جب میں ان کے پاس پہنچا وہ بولے : اس اونٹ کے سینے پر (یعنی آگے) تم سوار ہوجاؤ تم برابر ہو گے تاوقتیکہ واپس لوٹ آؤ پیدل چلنے کی باری میرے اور میرے دوسرے ساتھی کے درمیان ہوگی میں نے پوچھا : بھلا یہ کیوں ؟ وہ بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رفیق سفر نیک و صالح آدمی ہے لہٰذا اس کے ساتھ اچھی رفاقت رکھو ۔ (رواہ الطبرانی)
25582- "من مسند رباح بن الربيع" "غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم وكان قد أعطى كل ثلاثة منا بعيرا يركبه اثنان ويسوقه واحد في الصحارى وننزل في الجبال فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أمشي فقال لي: "أراك يا رباح ماشيا؟ " فقلت: إنما نزلت الساعة، وهذان صاحباي قد ركبا فمر بصاحبي فأناخا بعيرهما ونزلا عنه، فلما انتهيت قالا: اركب صدر هذا البعير فلا تزال عليه حتى ترجع ونعتقب أنا وصاحبي قلت: ولم؟ قالا: قال رسول الله: "إن لكما رفيقا صالحا فأحسنا صحبته". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25583 ۔۔۔ رباح بن ربیع بن مرقع بن صیفی ، ابو مالک نخعی سلمہ بن کہیل حضرت ابو جحیفہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : علماء کے ساتھ مل بیٹھا کرو ، بڑوں سے سوالات کیا کرو اور داناؤں کے ساتھ اختلاط رکھو، (رواہ العسکری) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اسنی المطالب 528 والجامع المصنف 165، 235 ۔
25583- عن رباح بن الربيع بن مرقع بن صيفي عن أبي مالك النخعي عن سلمة بن كهيل عن أبي جحيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "جالسوا العلماء وسائلوا الكبراء وخالطوا الحكماء". "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25584 ۔۔۔ مسعر ، سلمہ بن کہیل ، ابو جحفیہ (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں : کہا تھا کہ بڑوں کے ساتھ مل بیٹھو ، علماء کے ساتھ اختلاط رکھو اور داناؤں سے دوستی رکھو ۔ (رواہ العسکری)
25584- عن مسعر عن سلمة بن كهيل عن أبي جحيفة قال: كان يقال "جالس الكبراء وخالط العلماء وخالل الحكماء". "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25585 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے کون شخص بہتر ہے آپ نے فرمایا : جس کا دیدار تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلائے اور اس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمانوضعفہ) حدیث 24820 پر گذر چکی ہے۔
25585- عن ابن عباس قال: "قيل يا رسول الله أي رجل منا خير؟ قال: "من تذكركم الله رؤيته، وزاد في علمكم منطقه، وذكركم الآخرة عمله". "هب وضعفه". مر برقم [24820] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25586 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کن لوگوں کے ساتھ مل بیٹھیں ؟ آپ نے فرمایا : جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے جس کا عمل تمہیں آخرت کی طرف رغبت دلائے اور جس کا فعل تمہیں دنیا سے بےرغبتی دلائے ۔ (رواہ ابن النجار وفیہ مبارک بن حسان قال الازدی رمی بالکذب)
25586- عن ابن عباس قال: "قلنا يا رسول الله من نجالس؟ قال: "من يزيد في علمكم منطقه، ويرغبكم في الآخرة عمله، ويزهدكم في الدنيا فعله". "ابن النجار؛ وفيه مبارك بن حسان قال الأزدي رمى بالكذب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25587 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہم جلیسوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کا دیدار تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلائے جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔ (رواہ ابن النجار) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے : ذخیرۃ الحفاظ 3867 ۔
25587- عن ابن عباس قال: "قيل يا رسول الله أي جلسائنا خير قال: "من يذكركم الله رؤيته وزاد في علمكم منطقه وذكركم الآخرة عمله". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25588 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! ہم کن لوگوں کے ساتھ مل بیٹھیں ؟ یا عرض کیا گیا کہ ہمارے کون سے ہم جلیس بہتر ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جس کا دیدار تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلائے جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا علم تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔ (رواہ العسکری فی الامثال)
25588- عن ابن عباس قال: "قيل يا رسول الله من نجالس أو قال: أي جلسائنا خير قال: "من ذكركم الله رؤيته، وزاد في علمكم منطقه، وذكركم الآخرة عمله". "العسكري في الأمثال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25589 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ہم برابر سنتے رہتے تھے کہ وقفے کے بعد ملاقات کرو محبت میں اضافہ ہوگا حتی کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمان سن لیا ۔ (رواہ ابن النجار)
25589- عن عبد الله بن عمرو قال: "ما زلنا نسمع زرغبا تزدد حبا حتى سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25590 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر (رض) ! وقفہ کے بعد ملاقات کرو یوں محبت میں اضافہ ہوگا ۔ (رواہ ابن عساکر)
25590- عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر زر غبا تزدد حبا". "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25591 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص اپنے نفس سے لوگوں کو انصاف دلانا چاہے اسے چاہیے کہ لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ۔ (رواہ ابن عساکر)
25591- "مسند علي" عن علي قال: "من أراد أن ينصف الناس من نفسه فليحب لهم ما يحب لنفسه". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25592 ۔۔۔ شعبی کہتے ہیں : سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ایک شخص نے فرمایا وہ شخص ایسے آدمی کی صحبت میں بیٹھا تھا جو برائیوں کا مرتکب تھا ، یہ اشعار کہے ۔
25592- عن الشعبي قال: قال: علي بن أبي طالب لرجل ذكر له صحبة رجل به رهق

لا تصحب أخا الجهل ... وإياك وإياه

فكم من جاهل أردى ... حليما حين آخاه

يقاس المرء بالمرء ... إذا هو ما شاه

وللشيء من الشيء ... مقايس وأشباه

وللقلب على القلب ... دليل حين يلقاه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25593 ۔۔۔ مجاہد کہتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین فرمایا کرتے تھے کہ اس شخص کی صحبت میں تمہارے کوئی بھلائی نہیں جو تمہارے حق کو ایسا نہ دیکھتا ہوں جیسے تم دیکھتے ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے : کشف الخفاء 3063 ۔
25593- عن مجاهد قال: "كانوا يقولون: لا خير لك في صحبة من لا يرى لك من الحق مثل ما ترى". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25594 ۔۔۔ محمد بن حنفیہ (رح) فرماتے ہیں جو شخص کسی آدمی سے اس کے عدل و انصاف کی بناء پر محبت کرتا ہو حالانکہ وہ شخض اللہ کے علم میں اہل دوزخ میں سے ہے اللہ تعالیٰ محبت کرنے والے کو اجر وثواب عطا فرمائے گا جیسا کہ وہ (یعنی محبوب) اہل جنت میں سے ہو ۔ جو شخص نے کسی آدمی سے اس کے ظلم کی وجہ سے بغض کرتا ہو حالانکہ وہ (یعنی مبغوض) اللہ تعالیٰ کے علم میں اہل جنت میں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھنے والے کو اجر وثواب عطا فرمائے گا جیسا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہو۔ (رواہ عبدالرزاق)
25594- عن محمد بن الحنفية قال: "من أحب رجلا على عدل ظهر منه، وهو في علم الله من أهل النار آجره الله كما لو كان من أهل الجنة، ومن أبغض رجلا على جور وهو في علم الله من أهل الجنة آجره الله كما لو كان من أهل النار. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25595 ۔۔۔ محمد بن حنیفہ (رح) فرماتے ہیں : جس نے کسی شخص سے محبت کی اللہ تعالیٰ اسے اس شخص جیسا ثواب عطا فرمائے گا جو اہل جنت میں سے کسی آدمی سے محبت کرتا ہو، اگرچہ اس کا محبوب اہل دوزخ میں سے کیوں نہ ہو ۔ چونکہ وہ ایک اچھی خصلت کی وجہ سے اس سے محبت کرتا ہے جو اس میں موجود دیکھتا ہے جس نے کسی شخص سے بغض رکھا اللہ تعالیٰ اسے اس شخص جیسا ثواب عطا فرمائے گا جو اہل دوزخ میں سے کسی آدمی سے بغض رکھتا ہو اگرچہ اس کا مبغوض اہل جنت میں سے کیوں نہ ہو چونکہ وہ ایک بری خصلت کی وجہ سے اس سے بغض رکھتا ہے جو اس میں دیکھتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
25595- عن محمد بن الحنفية قال: "من أحب رجلا أثابه الله ثواب من أحب رجلا من أهل الجنة وإن كان الذي أحبه من أهل النار لأنه أحبه على خصلة حسنة رآها منه، ومن أبغض رجلا أثابه الله ثواب من أبغض رجلا من أهل النار وإن كان الذي أبغضه من أهل الجنة لأنه أبغضه على خصلة سيئة رآها منه". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25596 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ جس شخص نے لوگوں کو ان کے مراتب کے مطابق مقام دیا وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوگیا اور جس شخص نے اپنے دوست کو اس کے مقام سے زیادہ فوقیت دی گویا اس سے دشمنی کرنے میں زیادہ جرات سے کام لیا ۔ (رواہ النولسی فی العلم)
25596- عن علي قال: "من أنزل الناس منازلهم رفع المؤنة عن نفسه ومن رفع أخاه فوق قدره اجتر عداوته". "النولسي في العلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ آداب صحبت :
25597 ۔۔۔ نہار بحری کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : فاجر جھوٹے ، بیوقوف ، بخیل اور بزدل کی صحبت سے اجتناب کرو ، رہی بات فاجر کی سوا اس کا فعل نہایت کمتر ہوتا ہے وہ یہی چاہے گا کہ تم بھی اس جیسے ہوجاؤ اس کا تمہارے پاس آنا بھی عیب ہے اور اس کا تمہارے پاس سے باہر جانا بھی عیب ہے رہی بات جھوٹے (کذاب) کی سو وہ تمہاری باتیں لوگوں تک پہنچائے گا اور لوگوں کی باتیں تمہیں پہنچائے گا یوں عداوت بھڑک اٹھے گی اور لوگوں کے دلوں میں کینہ جنم لے گا ، رہی بات بیوقوف کی سوا چھائی کی طرف تمہاری رہنمائی کبھی نہیں کرسکتا وہ تو اپنی ذات سے برائی کو دور نہیں کرسکتا اس کی دوری اس کے قریب سے بدرجہا بہتر ہے اس کا خاموش رہنا اس کی گفتگو سے بہتر ہے اسی موت اس کی حیات سے بہتر ہے رہی بات بخیل کی سو جب تمہیں اس کی حاجت پیش آئے گی وہ باوجود تمہارے قریب ہونے کے تم سے دور رہے گا رہی بات بزدل کی سو جب تم مشکل میں گرفتار ہو گے اور تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی وہ تمہیں اکیلا چھوڑ کر بھاگ جائے گا ۔ (رواہ وکیع)
25597- عن نهار البحري قال: قال علي بن أبي طالب: "إياك وصحبة الفاجر، والكذاب، والأحمق، والبخيل، والجبان، فأما الفاجر فيزرى فعله ود أنك مثله فدخوله عليك شين وخروجه من عندك شين، وأما الكذاب فينقل حديثك إلى الناس وحديث الناس إليك فيشب العداوة وينبت السخائم في صدور الناس، وأما الأحمق فلا يهديك لرشد ولا يصرف السوء عن نفسه فبعده خير لك من قربه، وسكوته خير لك من نطقه، وموته خير لك من حياته، وأما البخيل فأقرب ما تكون أبعد ما يكون إذا احتجت، وأما الجبان فحين ينزل بك أمر تحتاج إلى عونه يفر ويدعك.

"وكيع".
tahqiq

তাহকীক: