কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৮৪৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18847 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو آپ کو چارپائی پر لٹایا گیا ۔ لوگ جماعت جماعت آپ کے پاس داخل ہو رہے تھے نماز پڑھتے اور نکل جاتے ، امامت کا منصب کوئی نہ اٹھا رہا تھا ۔ آپ پیر کے روز وفات فرما گئے اور منگل کے روز مدفون ہوئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18847- عن سعيد بن المسيب قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع على سريره، فكان الناس يدخلون عليه زمرا زمرا يصلون عليه ويخرجون ولم يؤمهم أحد، وتوفي يوم الإثنين، ودفن يوم الثلاثاء. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৪৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18848 ۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں داخل ہونے والے اور آپ کو غسل دینے والے حضرات علی ، فضل اور اسامہ تھے ۔ شعبی (رح) کہتے ہیں : مجھے مرحب نے یا ابن ابی مرحب نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18848- عن الشعبي قال: دخل قبر النبي صلى الله عليه وسلم وغسله علي والفضل وأسامة، قال: وحدثني مرحب أو ابن أبي مرحب أن عبد الرحمن بن عوف دخل معهم القبر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৪৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18849 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے خیبر کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں پر فتح فرما دیا اور ان میں بہت سوں کو قتل کردیا تو زینب بنت الحارث یہودیہ نے جو مرحب یہودی کی بھتیجی تھی ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کی ۔ اور اس میں زہر ملا دیا ۔ اور جب اس کو خبر ملی کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شانے اور ستیوں کا گوشت زیادہ پسند فرماتے ہیں تو اس نے ان اعضاء میں زہر خوب اچھی طرح ملا دیا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنی سلمہ کے بشر بن البراء بن معرور دونوں تشریف لائے تو اس عورت نے وہ بکری ہدی میں پیش کی ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شانے اور دستیوں کو نوچ کر کھایا ، جبکہ بشر نے دوسری ہڈی سے گوشت نوچ کر کھایا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ میں موجود گوشت نگل لیا تو بشر نے بھی نگل لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بکری سے ہاتھ اٹھالو ، بکری کا شانہ مجھے بتارہا ہے کہ مجھے اس میں دھوکا دیا گیا ہے۔ بشر نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ! میں نے وہ زہر اپنے لقمے میں محسوس کرلیا تھا لیکن مجھے تھوکنے سے یہ مانع ہوئی کہ آپ کے کھانے کو منغص (کرکرا) کر دوں ۔ جب آپ نے کھالی تو مجھے بھی آپ کی جان کے بعد اپنی جان کے ساتھ کوئی رغبت نہیں رہی ۔ میری خواہش تھی کہ آپ اس کو نہ نگلتے ۔ پھر بشر اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھے تھے کہ ان کا رنگ سبز چادر کی طرح ہوگیا اور تکلیف نے ان کو دہرا کردیا ۔ اور ان کو جس طرح کیا جاتا ہوجاتے تھے ۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بعد تین سال زندہ رہے اور پھر اس زہر کی تکلیف میں آپ کو مرض الموت لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۔ (الکبیر اللطبرانی ، ابن ابی شیبۃ)
18849- عن عروة قال: لما فتح الله خيبر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل من قتل منهم، أهدت زينب بنت الحارث اليهودية وهي بنت أخي مرحب شاة مصلية وسمته فيها، وأكثرت في الكتف والذراع حين أخبرت أنهما أحب أعضاء الشاة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه بشر بن البراء بن معرور أخو بني سلمة قدمت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتناول الكتف والذراع، فانتهش منهما، وتناول بشر عظما آخر وانتهش منه، فلما أدغم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في فيه أدغم بشر ما في فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارفعوا أيديكم فإن كتف الشاة تخبرني أني قد بغيت فيها، فقال بشر بن البراء: والذي أكرمك لقد وجدت ذلك في أكلتي التي أكلت وإن منعني أن ألفظها إلا إني كرهت أن أنغصك طعامك، فلما أكلت ما في فيك لم أرغب بنفسي عن نفسك ورجوت أن لا تكون أدغمتها وفيها بغي، فلم يقم بشر من مكانه حتى عاد لونه كالطيلسان وماطله وجعه حتى كان ما يتحول إلا حول وبقي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي مات فيه. "طب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18850 ۔۔۔ ابن جریج حضرت عطاء (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو خبر ملی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو لوگ داخل ہوتے اور نماز پڑھ کر نکل جاتے تھے پھر یونہی دوسرے لوگ داخل ہوتے ۔ ابن جریج فرماتے ہیں میں نے عطاء (رح) سے پوچھا : کیا لوگ نماز پڑھتے اور دعا کرتے تھے ؟ فرمایا : نماز پڑھتے اور استغفار کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18850- عن ابن جريج عن عطاء قال: بلغنا أن النبي صلى الله عليه وسلم حين مات، أقبل الناس يدخلون فيصلون عليه ويخرجون، ويدخل آخرون كذلك، قلت لعطاء: أيصلون ويدعون؟ قال: يصلون ويستغفرون. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18851 ۔۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں ایک سفید بعلبک کی بنی ہوئی چادر بچھائی گئی ۔ (رواہ ابن عساکر)
18851- عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم فرش في قبره قطيفة بيضاء بعلبكية. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18852 ۔۔۔ (مراسیل عبدالرحمن بن القاسم) عبدالرحمن بن القاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : جس روز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی اس روز صبح کی نماز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں ادا فرمائی تھی ۔ بعض لوگ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ابوبکر کے پاؤں کے پاس بیٹھ گئے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے تھے ۔ لیکن اکثر لوگوں کا خیال کہتا ہے کہ ابوبکر (رض) آگے تھے ۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی تو فرمایا : اے صفیہ بنت عبدالمطلب ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ! اور اے فاطمہ بنت محمد ! عمل کرتی رہنا ، میں اللہ سے تم کو کوئی چھٹکارا نہیں دلا سکتا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج میں آپ کو افاقہ مند (صحت مند) دیکھ رہا ہوں ، اور خارجہ کی بیٹی کا دن ہے۔ (سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اہلیہ) چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کے پاس جانے کے لیے اجازت مانگی آپ نے اجازت دے دی ، یہ سخ میں رہتی تھی جو مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلہ پر تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوجھل ہوگئے اور اس دن وفات پا گئے ۔ (رواہ ابن جریر)
18852- "مراسيل عبد الرحمن بن القاسم" عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: صلى صلى الله عليه وسلم في اليوم الذي مات فيه صلاة الصبح في المسجد، فمن الناس من يقول: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر يصلي، فقعد عند رجليه، ومن الناس من يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم المتقدم وعظم يرون أن أبا بكر كان المتقدم، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا صفية بنت عبد المطلب يا عمة رسول الله، ويا فاطمة بنت محمد، اعملا فإني لا أغني عنكما من الله شيئا، قال أبو بكر: يا رسول الله أراك اليوم بحمد الله مفيقا، واليوم يوم ابنة خارجة، فاستأذن إليها فأذن له وهي بالسنح فزعموا أنه ميل أو ميلان من المدينة، وثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوفي من يومه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18853 ۔۔۔ عن معمر عن قتادہ کی سند سے مروی ہے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے آپ کی وفات کے بعد چند چیزیں ادا فرمائی تھیں جو معمولی معمولی تھیں ایک اہم قرض پانچ سو درہم تھا ۔ صاحب کتاب عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو وصیت فرمائی تھی ؟ عبدالرزاق (رح) نے فرمایا : ہاں اور اگر یہ وصیت نہ بھی فرمائی ہوتی تو تب بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین فورا یہ قرض ادا فرما دیتے ۔ (عبدالرزاق فی الجامع)
18853- عن معمر عن قتادة أن عليا قضى عن النبي صلى الله عليه وسلم أشياء بعد وفاته كان عامتها عدة حسبت أنه قال: خمس مائة درهم، قيل لعبد الرزاق: وأوصى إليه النبي صلى الله عليه وسلم ذلك؟ قال: نعم لا أشك أن النبي صلى الله عليه وسلم أوصى إلى علي فلولا ذلك ما تركوه أن يقضي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18854 ۔۔۔ جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب غسل دینے والوں نے غسل دینے کا ارادہ فرمایا تو آپ کے جسم پر قمیص تھی ۔ انھوں نے نکالنے کا ارادہ کیا تو گھر سے ایک (غیبی) آواز آئی کہ قمیص نہ نکالو۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
18854- عن جعفر عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أرادوا أن يغسلوه كان عليه قميص، فأرادوا أن ينزعوه، فسمعوا نداء من البيت: لا تنزعوا القميص. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18855 ۔۔۔ جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کسی نے امامت نہیں کرائی ۔ لوگ جماعت جماعت اندر جاتے ، نماز پڑھ کر واپس لوٹ جاتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
18855- عن جعفر عن أبيه قال: لم يؤم على النبي صلى الله عليه وسلم إمام وكانوا يدخلون أفواجا يصلون ويخرجون. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18856 ۔۔۔ محمد بن علی سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قمیص میں غسل دیا گیا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نچلی جانب سے غسل دے رہے تھے ، فضل آپ کی کمر تھامے ہوئے تھے ۔ حضرت عباس (رض) پانی ڈال رہے تھے ، فضل (رض) کہہ رہے تھے مجھے بچاؤ میری شہ رگ ٹوٹی جا رہی ہے۔ مجھے اپنے اوپر کوئی شئی اترتی محسوس ہو رہی ہے۔ فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سعد بن خیثمہ کے کنوئیں جو قباء میں تھا کہ پانی سے غسل دیا گیا ۔ اسی کنوئیں کو بئراریس کہا جاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
18856- عن محمد بن علي قال: غسل النبي صلى الله عليه وسلم في قميص علي سفلته، والفضل محتضنه، والعباس يصب الماء، والفضل يقول: أرحني قطعت وتيني إني لأجد شيئا ينزل علي، قال: وغسل من بئر سعد بن خيثمة بقباء وهي البئر التي يقال لها: بئر أريس. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18857 ۔۔۔ جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوجھل ہوگئے تو پوچھنے لگے میں کل کو کہاں ہوں گا ؟ لوگوں نے جواب دیا فلاں بیوی پاس ۔ پھر پوچھا پرسوں کہاں ہوں گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : فلاں بیوی کے پاس ۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے جانا کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی باری کے انتطار میں ہیں لہٰذا سب بیویوں نے عرض کیا : ہم سب نے اپنے دن اپنی بہن عائشہ (رض) کو ہبہ کردیئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
18857- عن جعفر عن أبيه قال: لما ثقل النبي صلى الله عليه وسلم قال: أين أكون غدا؟ قالوا: عند فلانة، قال: أين أكون بعد غد؟ قالوا: عند فلانة، فعرفن أزوجه أنه إنما يريد عائشة، فقلن: يا رسول الله قد وهبنا أيامنا لأختنا عائشة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18858 ۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب (رض) سے مروی ہے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا تو آپ کے پاس آپ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے ساتھ اسماء (رض) بھی تھیں ۔ وہ ناک کی دوا کوٹ رہی تھیں ، (چھینک لانے والی دوا کے مثل) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھر میں کوئی نہ رہے جس نے بھی مجھے دیکھا ہے کہ مجھے یہ دوا دی جا رہی تھی ۔ (بےہوشی کی حالت میں اور اس نے منع نہیں کیا) یہ دوا دی جائے سوائے عباس (رض) کے ، میں نے قسم کھائی تھی کہ عباس (رض) کے سوا سب کو میری قسم پوری کرنی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
18858- عن العباس بن عبد المطلب قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نساء فيهن أسماء وهي تدق سعطة لها، فقال: لا يبقى أحد في البيت شهد اللد إلا لد، فإني قد أقسمت أن يميني لم تصب العباس. "كر".
tahqiq

তাহকীক: