কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৮২৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18827 ۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے وقت آپ کے پاس موجود تھا ۔ سکرۃ الموت (موت کی کیفیت) آپ پر طویل ہوتی جا رہی تھی پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پست آواز میں پڑھتے ہوئے سنا : ” مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (اے اللہ ! مجھے وفات دے کر شامل کر دے) ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے : انبیاء صدیقین ، شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ بہت اچھے رفیق ہیں۔ پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوجاتی پھر افاقہ ہوتا تو یہی پڑھتے پھر (ایک مرتبہ) آپ نے فرمایا : میں تم کو نماز کی وصیت کرتا ہوں ، میں تم کو وصیت کرتا ہوں اپنے مملوکوں کے ساتھ خیر خواہی کی ۔ س کے بعد آپ کی روح قبض ہوگئی ۔ (رواہ ابن عساکر)
18827- عن العباس بن عبد المطلب قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم عند وفاته فجعل سكرة الموت تذهب به طويلا، ثم سمعته يهمس: مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن أولئك رفيقا، ثم يغلب عليه، ثم يعود فيقول مثلها، ثم قال: أوصيكم بالصلاة أوصيكم بما ملكت أيمانكم ثم قضى عندها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮২৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18828 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اترنے والے لوگ فضل ، قثم ، شقران غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اوس بن خولی (رض) تھے ۔ (رواہ ابونعیم)
18828- عن ابن عباس قال: الذين نزلوا قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم: الفضل وقثم وشقران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأوس بن خولي. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮২৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18829 ۔۔۔ ابو سعید (رض) سے مروی ہے ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے ۔ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی اسی مرض کی وجہ سے جس میں آپ کی وفات ہوئی ۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے۔ ہم آپ کے قریب اکٹھے ہوگئے ۔ ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قیامت کے دن میں حوض پر کھڑا ہوا ملوں گا ۔ پھر فرمایا : ایک بندے پر دنیا اور اس کی زیب وزینت پیش کی گئی تھی لیکن اس نے آخرت کو پسند کرلیا ہے۔ اس بات کو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے سوا کوئی نہ سمجھ سکا ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور وہ رو پڑے ، انھوں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کے بدلے ہمارے ماں باپ ، ہماری جانیں اور ہمارے اموال حاضر ہیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر کر تشریف لے گئے اس کے بعد اس منبر پر قیامت تک نہیں کھڑے ہوئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
18829- عن أبي سعيد قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن في المسجد، وهو عاصب رأسه بخرقة في المرض الذي مات فيه فأهوى قبل المنبر حتى استوى عليه، فأتبعناه فقال: والذي نفسي بيده إني لقائم على الحوض الساعة وقال: إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها، فاختار الآخرة فلم يفطن لها أحد إلا أبو بكر، فذرفت عيناه فبكى وقال: بأبي أنت وأمي بل نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأنفسنا وأموالنا قال: ثم هبط فما قام عليه حتى الساعة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18830 ۔۔۔ ابی ذیب ہذلی سے مروی ہے میں مدینہ آیا تو اہل مدینہ میں چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھیں جیسے تمام حاجی مل کر احرام باندھ کر تسبیح پڑھ رہے ہوں میں نے کہا : کیا ہوا ؟ لوگ کہنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی ہے۔ (ابن مندۃ ، ابن عساکر)
18830- عن أبي ذؤيب الهذلي قال: قدمت المدينة ولأهلها ضجيج بالبكاء كضجيج الحجيج أهلوا جميعا بالإحرام، فقلت: مه؟ فقالوا: قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن منده كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18831 ۔۔۔ ابو ذویب ہذلی سے مروی ہے کہ ہمیں یہ خبر مل گئی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہیں۔ (ابن عبدالبر فی الاستیعاب)
18831- عن أبي ذؤيب الهذلي قال: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عليل. "ابن عبد البر في الاستيعاب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18832 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے مجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الموت میں پیغام بھیج کر بلوایا ۔ میں پہنچا تو آپ سوئے ہوئے تھے ۔ میں آپ پر جھک گیا آپ نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا کر مجھے اپنے سے چمٹا لیا ۔ (مسند ابی یعلی)
18832- عن أبي ذر قال: أرسل إلي النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي توفي فيه، فأتيته فوجدته نائما فأكببت عليه فرفع يده فالتزمني. "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18833 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں مدینہ میں دو قبریں کھودنے والے تھے پس دونوں میں سے کسی ایک کا انتظار کیا گیا تو وہ شخص آگیا جو لحدی قبر کھودتا تھا ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحدی قبر کھودی گئی ۔ (رواہ ابن جریر)
18833- عن عائشة قالت: كان بالمدينة حفاران، فانتظر أحدهما فجاء الذي يلحد فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18834 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے جس رات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے ایسی کوئی رات مجھ پر کبھی نہیں گذری ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بار بار) پوچھ رہے تھے ۔ اے عائشہ ! کیا فجر طلوع ہوگئی ہے ، میں کہتی رہی نہیں یا رسول اللہ حتی کہ بلال نے صبح کی اذان دی اور پھر آئے اور عرض کیا : (السلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ) نماز کا وقت ہوگیا ہے اللہ آپ پر رحم کرے ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے کہا بلال ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے والد (ابوبکر (رض)) کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ (ابوالشیخ فی الاذان)
18834- عن عائشة قالت: ما مر علي ليلة مثل ليلة مات رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا عائشة هل طلع الفجر؟ فأقول: لا يا رسول الله حتى إذا أذن بلال بالصبح، ثم جاء بلال فقال: السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته، الصلاة يرحمك الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما هذا؟ فقلت: بلال، فقال: مري أباك يصلي بالناس. "أبو الشيخ في الأذان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18835 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ (بیماری وغیرہ سے) تعوذ فرمایا کرتے تھے : ” اذھب الباس رب الناس ، واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاء ک شفاء لا یغادر سقما “۔ ے لوگوں کے رب تکلیف کو ختم فرما ، تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کسی کی شفاء نہیں ، پس ایسی شفاء دے جو بیماری کو بالکل نہ چھوڑے ۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ کر یہ کلمات پڑھنے لگی تو آپ نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور فرمایا : ” اللم الحقنی بالرفیق الاعلی “۔ ے اللہ مجھے رفیق اعلی (اچھے دوست) کے ساتھ ملا دے (یعنی اپنا وصل عطا کر) پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ۔ (ابن ابی شیبۃ ، ابن جریر)
18835- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوذ بهذه الكلمات: أذهب البأس رب الناس، واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما، فلما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحها وأقولها، فنزع يده من يدي وقال: اللهم ألحقني بالرفيق الأعلى، فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه. "ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18836 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ جانکنی کے عالم میں تھے ۔ آپ کے پاس پیالہ رکھا تھا جس میں پانی تھا ، آپ اس میں (بار بار) ہاتھ ڈبو کر اپنے چہرے پر مل رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے ۔ ” اللہم اعنی علی سکرات الموت “۔ ے اللہ میری مدد فرما موت کی سختیوں پر ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18836- عن عائشة قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يموت وعنده قدح فيه ماء، فيدخل يده في القدح ويمسح وجهه بالماء، ثم يقول: اللهم أعني على سكرات الموت. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18837 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تو یہ دعا فرمانے لگے : ” اللہم اغفرلی والحقنی بالرفیق الاعلی “۔ ے اللہ ! میری مغفرت فرما اور مجھے اعلی دوست کے ساتھ ملا دے ۔ یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18837- عن عائشة قالت: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى، قالت: فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18838 ۔۔۔ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہے میں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے پاس آیا ۔ میں نے عرض کیا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض کے بارے میں بتایئے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : ہاں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض ہوئے، پھر بوجھل ہوگئے اور آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : لگن (ٹب) میں میرے لیے پانی بھر دو ، ہم نے آپ کے حکم کی تعمیل ارشاد کی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا پھر بڑی مشقت کے ساتھ اٹھنے لگے تو پھر بےہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آئے اور فرمایا : میرے لیے پانی بھر دو ۔ ہم نے بھر دیا پھر آپ کے غسل فرمایا ۔ پھر بڑی مشکل اور تکلیف کے ساتھ اٹھنے کی کوشش فرمائی اور پھر بےہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آکر فرمایا : میرے لیے پانی بھر دو ۔ ہم نے بھر دیا ۔ آپ نے غسل فرمایا اور پھر اٹھنے کی کوشش میں بےہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آئے تو پوچھا : کیا میرے پیچھے سے لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ ہی کا انتظار فرما رہے ہیں۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : لوگ سر ڈالے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انتظار میں تھے کہ آپ آکر ان کو عشاء کی نماز پڑھائیں ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قاصد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس بھیجا کہ وہ نماز پڑھا دیں ۔ قاصد نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرمایا : اے عمر تم نماز پڑھا دو ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : آپ زیادہ حقدار ہیں۔ کیونکہ پیغام آپ کو ملا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ۔ چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی ۔ پھر (اگلے روز) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس کی تو ظہر کی نماز پڑھانے کے لیے حضرت عباس (رض) اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان ان کے سہارے کے ساتھ نکلے ، ان دونوں کو آپ نے فرمایا : مجھے ابوبکر کی دائیں طرف بٹھا دو ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آپ کی آواز سنی تو (نماز ہی میں) پیچھے کو ہٹنے لگے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں ۔ چنانچہ دونوں حضرات نے آپ کو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دائیں طرف بٹھا دیا ۔ پس سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کر رہے تھے اور آپ بیٹھے ہوئے ان کو نماز پڑھا رہے تھے جبکہ پیچھے لوگ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اقتداء کر رہے تھے ۔ راوی عبید اللہ کہتے ہیں یہ سن کر میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا : مجھے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے بیان کیا ہے میں آپ کو سناؤں ؟ آپ نے سنانے کا حکم دیا تو میں نے ساری روایت ان کو سنائی آپ نے کسی بات پر انکار نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ یہ پوچھا : عائشہ نے تم کو دوسرے شخص کے بارے میں بتایا وہ کون تھا ؟ میں نے کہا نہیں ، فرمایا وہ علی (رض) تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18838- عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: أتيت عائشة، فقلت حدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: نعم مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فثقل فأغمي عليه، فأفاق فقال: ضعوا لي ماء في المخضب ففعلنا، فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: ضعوا لي ماء في المخضب ففعلنا فاغتسل فذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: ضعوا لي ماء في المخضب ففعلنا، فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: أصلى الناس بعد؟ فقلنا: لا يا رسول الله هم ينتظرونك، قالت: والناس عكوف ينتظرون رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي بهم العشاء الآخرة، فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال أصلى الناس بعد؟ قلت: لا، فأرسل إلى أبي بكر أن يصلي بالناس، فأتاه الرسول فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تصلي بالناس: فقال: يا عمر صل بالناس فقال: أنت أحق، إنما أرسل إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى بهم أبو بكر تلك الصلاة، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه خفة فخرج لصلاة الظهر بين العباس ورجل آخر، فقال لهما: أجلساني عن يمينه، فلما سمع أبو بكر ذهب يتأخر، فأمره أن يثبت مكانه، فأجلساه عن يمينه فكان أبو بكر يصلي بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس والناس يصلون بصلاة أبي بكر قال: فأتيت ابن عباس، فقلت ألا أعرض عليك ما حدثتني عائشة؟ قال هات فعرضت عليه هذا، فلم ينكر منه شيئا إلا أنه قال: أخبرتك من الرجل الآخر؟ قلت: لا، قال: هو علي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18839 ۔۔۔ ابراہیم بن علی رافعی اپنے والد سے وہ اپنی دادی زینب بنت ابی رافع سے روایت کرتے ہیں : زینب فرماتی ہیں میں نے فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ (رض) اپنے دونوں فرزندوں حسن و حسین (رض) کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے مرض الموت میں تشریف لائیں ۔ حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ کے دو بیٹے ہیں ، آپ ان کو اپنا وارث مقرر کر دیجئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حسن کے لیے تو میری ہیبت اور سرداری ہے اور حسین کے لیے میری جرات اور بہادری اور سخاوت ہے۔ (ابن مندۃ ، ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں ابراہیم میں کلام ہے۔
18839- عن إبراهيم بن علي الرافعي عن أبيه عن جدته زينب بنت أبي رافع قالت: رأيت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أتت بابنيها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في شكواه الذي توفي فيه، فقالت: يا رسول الله هذان ابناك فورثهما، فقال: أما الحسن فله هيبتي وسوددي، وأما الحسين فله جرأتي وجودي. "ابن منده كر. إبراهيم، قال "خ" فيه نظر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18840 ۔۔۔ اسماء بنت عمیس (رض) سے مروی ہے پہلی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میمونہ (رض) کے گھر میں بیمار ہوئے ، آپ کے مرض کی شدت ہوگئی اور آپ بےہوش ہوگئے ، آپ کی بیویوں نے آپ کے بارے میں مشورہ کیا اور آپ کو منہ میں دوا ٹپکا دی پھر آپ ہوش میں آگئے آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کیا ان عورتوں کا کام جو وہاں سے آئی ہیں (حبشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۔ ان میں اسماء بنت عمیس بھی تھیں) قریب موجود لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم سمجھے تھے کہ آپ کو ذات الجنب (غونیہ ) ہے۔ (اس لیے ہم نے دوا آپ کے منہ میں ٹپکا دی) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ منہ میں ٹپکانے والی دوا ، اللہ پاک مجھے اس کے ساتھ عذاب دینے والا نہیں ہے۔ لہٰذا (اس کی سزا میں) یہاں موجود سب لوگوں کو یہ دوا منہ میں ٹپکا کر پلائی جائے سوائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا عباس کے ۔ پس سب کو وہ دوا پلائی گئی حتی کہ میمونہ جو اس دن روزہ دار تھیں انھوں نے بھی پی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزیمت (و خوشی) میں ۔ (رواہ ابن عساکر)
18840- عن أسماء بنت عميس قالت: أول ما اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت ميمونة فاشتد مرضه حتى أغمي عليه، فتشاور نساؤه في لده فلدوه
فلما أفاق قال: ما هذا؟ أفعل نساء جئن من ها هنا، وأشار إلى أرض الحبشة، وكانت فيهن أسماء بنت عميس، فقالوا: كنا نتهم بك ذات الجنب يا رسول الله، قال: إن ذلك لداء ما كان الله ليعذبني به لا يبقين في البيت أحد إلا لد إلا عم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني عباسا، فلقد ألدت ميمونة يومئذ وإنها لصائمة لعزيمة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
فلما أفاق قال: ما هذا؟ أفعل نساء جئن من ها هنا، وأشار إلى أرض الحبشة، وكانت فيهن أسماء بنت عميس، فقالوا: كنا نتهم بك ذات الجنب يا رسول الله، قال: إن ذلك لداء ما كان الله ليعذبني به لا يبقين في البيت أحد إلا لد إلا عم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني عباسا، فلقد ألدت ميمونة يومئذ وإنها لصائمة لعزيمة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18841 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام ابو مویہبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ التمام (حجۃ الوداع) کے بعد مدینہ کی طرف واپس آئے ، راستے میں آپ حلال ہوگئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کا ایک لشکر ترتیب دیا جن پر حضرت اسامہ بن زید کو امیر بنایا ، اور ان کو حکم دیا کہ اردن شام کی چوٹیوں کی طرف آبل الزیت مقام پر پہنچیں ، منافقوں نے اسامہ کے متعلق اعتراضات شروع کیے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اعتراضات مسترد کردیئے اور فرمایا اسامہ اس منصب کے لیے بالکل موضوع ہے ، اگر تم ان کے بارے میں اعتراض کرتے ہو تو پہلے ان کے والد کے بارے میں بھی کرچکے ہو اور وہ بھی اس منصب کے اہل تھے ، پھر ہر طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واپسی سفر اور آپ کی بیماری کی خبریں پھیل گئیں ، پھر بنی اسد کے قبائل میں طلیحہ نے نبوت کا دعوی کردیا اس وقت تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیماری سے افاقہ ہوگیا تھا ۔ پھر اس کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محرم میں اس مرض میں مبتلا ہوگئے جس میں آخر کار آپ کی وفات ہوئی ۔ (سیف ، ابن عساکر)
18841- عن أبي مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة بعد ما قضى حجة التمام فتحلل به السير، فضرب على الناس بعثا وأمر عليهم أسامة بن زيد وأمره أن يوطئ آبل الزيت من مشارف الشام بالأردن، فقال المنافقون في ذلك، ورد عليهم النبي صلى الله عليه وسلم إنه لخليق لها أي: حقيق بالإمارة، ولئن قلتم فيه لقد قلتم في أبيه من قبله، وإن كان لها لخليقا وطارت الأخبار لتحلل السير بالنبي صلى الله عليه وسلم، وإن النبي صلى الله عليه وسلم قد اشتكى، ووثب الأسود باليمن، ومسيلمة باليمامة، وجاء النبي صلى الله عليه وسلم الخبر عنهما، ثم وثب طليحة في بلاد بني أسد بعد ما أفاق النبي صلى الله عليه وسلم، ثم اشتكى في المحرم وجعه الذي توفاه الله فيه. "سيف كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18842 ۔۔۔ ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا : مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی ڈالو، جن کے منہ نہ کھلے ہوں (یعنی سالم بھرے ہوئے ہوں) شاید مجھے کچھ سکون آجائے پھر میں لوگوں سے مل سکوں ، چنانچہ میں نے آپ کو حفصہ (رض) کے ایک پیتل کے لگن (ٹب) میں بٹھا دیا ۔ اور آپ پر ان مشکیزوں سے پانی ڈالا ۔ حتی کہ آپ اشارہ کرنے لگے کہ بس تم نے کام کردیا ، پھر آپ ٹب سے نکل آئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
18842- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه: صبوا علي من سبع قرب لم تحلل أوكيتهن لعلي استريح فأعهد إلى الناس، فأجلسناه في مخضب لحفصة من نحاس وسكبنا عليه الماء منهن حتى طفق يشير إلينا أن قد فعلتن، ثم خرج. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18843 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مرض الموت میں دیکھا کہ آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لیے چل رہے ہیں حتی کہ آپ صف میں داخل ہوگئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18843- عن عائشة قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه وإنه ليهادى بين رجلين حتى دخل الصف. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18844 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) ہی سے مروی ہے میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ میرے سنے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے فرمایا : ” اللہم اغفرلی وارحمنی والحقنی بالرفیق الاعلی “۔ ے اللہ ! میری مغفرت فرما ، مجھ پر رحم اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18844- وعنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو مستند إلى صدري: اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18845 ۔۔۔ طارق بن شہاب سے مروی ہے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوئی تو ایم ایمن رونے لگیں ان کو کہا گیا : اے ام ایمن ! تم کیوں روتی ہو ؟ فرمایا : روتی ہوں اس بات پر کہ آسمان کی خبر ہم سے منقطع ہوگئی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18845- عن طارق بن شهاب قال: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم جعلت أم أيمن تبكي، فقيل لها: لم تبكين يا أم أيمن؟ قالت: أبكي على خبر السماء انقطع عنا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18846 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفنانے اور پردہ کرنے میں تمام لوگوں میں صرف چار لوگوں نے کام انجام دیا : علی ، عباس ، فضل اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام صالح ، پس ان لوگوں نے آپ کے لیے لحد تیار کی اور آپ کے اوپر لحد کو کچی اینٹوں سے پاٹ دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
18846- عن سعيد بن المسيب أن الذي ولي دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم وإجنانه أربعة نفر دون الناس: علي والعباس والفضل وصالح مولى النبي صلى الله عليه وسلم فلحدوا له ونصبوا عليه اللبن نصبا."ش".
তাহকীক: