কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৮০৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18807 ۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک یمنی جوڑے اور ایک قمیص میں کفن دیا گیا ۔ (رواہ ابن سعد)
18807- عن الحسن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في حلة حبرة وقميص. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮০৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18808 ۔۔۔ ابراہیم نخعی (رح) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک یمنی جوڑے اور ایک قمیص میں کفن دیا گیا تھا ۔ (رواہ ابن سعد)
18808- عن إبراهيم النخعي قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في حلة يمانية وقميص. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮০৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18809 ۔۔۔ ایوب (رح) سے مروی ہے کہ ابوقلابہ (رح) نے فرمایا : کیا تم کو اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کفن میں لوگوں کا کس قدر اختلاف ہے۔ (رواہ ابن سعد)
18809- عن أيوب قال: قال أبو قلابة: ألا تعجب من اختلافهم علينا في كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18810 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ وہ عباس، عقیل ابن ابی طالب ، اسامہ بن زید اور اوس بن خولی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اترے تھے اور انہی حضرات نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کفن کا کام سنبھالا تھا ۔ (رواہ ابن سعد)
18810- عن علي أنه نزل في حفرة النبي صلى الله عليه وسلم هو، وعباس، وعقيل بن أبي طالب، وأسامة بن زيد، وأوس بن خولي، وهم الذين ولوا كفنه.

"ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18811 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اپنی انگوٹھی گرا دی تھی ۔ جبکہ قبر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتارنے والے حضرات پہلے نکل چکے تھے ۔ حضرت مغیرہ (رض) نے یہ کام اس لیے کیا تھا تاکہ ان کو قبر میں اترنے کا موقعہ مل جائے ۔ لہٰذا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ان کو فرمایا : تم نے انگوٹھی قبر میں اس لیے گرائی ہے تاکہ تم بھی اترو اور کہا جائے کہ مغیرہ بھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اترا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ہرگز قبر میں نہیں اترو گے ۔ اور ان کو روک دیا ۔ (رواہ ابن سعد)
18811- عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم أن المغيرة بن شعبة ألقى في قبر النبي صلى الله عليه وسلم بعد أن خرجوا خاتمه لينزل فيه، فقال علي بن أبي طالب: إنما ألقيت خاتمك لكي تنزل فيه فيقال: نزل في قبر النبي صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده لا تنزل فيه أبدا ومنعه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18812 ۔۔۔ عبداللہ بن محمد بن علی (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے (مغیرہ (رض) کو) فرمایا نہ تو لوگ یہ بیان کریں گے کہ تم قبر میں اترے ہو اور نہ ہی یہ بیان کریں گے کہ تمہاری انگوٹھی نبی کی قبر میں ہے۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) خود اترے اور آپ انگوٹھی گرنے کی جگہ دیکھ چکے تھے لہٰذا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وہ انگوٹھی اٹھائی اور مغیرہ (رض) کو دے دی ۔ (رواہ ابن سعد)
18812- عن عبد الله بن محمد بن علي عن أبيه قال: قال علي بن أبي طالب: لا يتحدث الناس أنك نزلت فيه ولا يتحدث الناس أن خاتمك في قبر النبي صلى الله عليه وسلم، ونزل علي وقد رأى موقعه، فتناوله فدفعه إليه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18813 ۔۔۔ عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا ، عباس (رض) پانی ڈالتے جا رہے تھے ، اسامہ اور شقران (رض) دروازے کی حفاظت پر مامور تھے ۔ جب غسل دینے سے فارغ ہوئے تو حضرت عباس (رض) نے فرمایا : رنج کا مقام ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مٹی میں ڈالیں ۔ لہٰذا میں آپ کے لیے ایک صندوق تیار کراتا ہوں اور اس (میں آپ کو لٹا کر) صدوق کو اپنے گھر کے کونے میں رکھ لوں گا ۔ پس جب مجھے رنج وغم ہوگا تو میں آپ کو دیکھ لیا کروں گا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عباس (رض) کو فرمایا : اے چچا جان ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی اولاد کو دفن کرتے نہیں دیکھا ؟ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” منھا خلقنا کم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “۔ سی (زمین) سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا “۔ کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں (سب) کے لیے کفایت کرنے والی نہیں کردیا ۔ بھی لوگ اسی طرح کی باتوں میں مصروف تھے کہ گھر کے کونے سے ایک غیبی آواز آئی : لسلام علیکم اے گھر والو ! (آیت)” کل نفس ذائقۃ الموت وانما یوفون اجرھم بغیر حساب “۔ ہر جی کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور لوگوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا پورا دیا جائے گا ۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عباس (رض) کو فرمایا : اے رسول اللہ کے چچا ! آپ کیا خیال کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ ان کی زبان پر کیا کیا وعدے کیے ہیں ؟ پھر حضرت عباس (رض) نے فرمایا : اے علی ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : انبیاء کی قبریں انھیں کے (مرنے کے) بستروں کی جگہ ہوتی ہیں۔ پھر لوگوں نے آپ کو دو قمیصوں میں کفن دیا ایک قمیص دوسری سے کچھ باریک تھی ۔ اور آپ پر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت عباس (رض) نے ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور حضرت عباس (رض) نے آپ پر پانچ تکبیریں ادا فرمائیں ۔ اور آپ کو دفن کیا (ابن معروف وفی عبدالصمد)
18813- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده أن عليا غسل النبي صلى الله عليه وسلم والعباس يصب الماء وأسامة وشقران يحفظان الباب، فلما فرغوا، قال العباس: محزنة على رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أدفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في التراب، ولكن أعد له صندوقا واجعله في بيتي، فإذا كربني أمر نظرت إليه، فقال علي للعباس: يا عم ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدفن أولاده؟ ثم تلا هذه الآية: {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} ثم تلا: {أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتاً أَحْيَاءً وَأَمْوَاتاً} ، فبينما هم كذلك إذ هتف بهم هاتف من ناحية البيت، فقال: السلام عليكم أهل البيت، كل نفس ذائقة الموت وإنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب، فقال علي للعباس: اصبر يا عم رسول الله، فقد ترى ما وعد الله على لسان نبيه، فقال العباس: يا علي إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تكون قبور الأنبياء في موضع فرشهم، قال: فكفنوه في قميصين أحدهما أرق من الآخر وصلى عليه العباس وعلي صفا واحدا وكبر عليه العباس خمسا ودفنوه. "ابن معروف وفيه عبد الصمد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18814 ۔۔۔ عبداللہ بن حارث سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ رکھا تھا اور اس کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قمیص اور جسم کے درمیان پھیرتے تھے ۔ (المروزی فی الجنائز)
18814- عن عبد الله بن الحارث قال: جعل علي على يده خرقة وجعلها بين قميص النبي صلى الله عليه وسلم وجلده. "المروزي في الجنائز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18815 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ہجرت کے موقع مکہ سے مدینہ تک کے سفر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سواری پر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا ملک شام آنا جانا تھا اس لیے وہ پہچانے جاتے تھے جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعارف نہ تھا ۔ اس لیے لوگ راستے میں ملتے اور حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھتے تھ کہ تمہارے آگے بیٹھا ہوا یہ غلام کون ہے ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں یہ میرے رہنما ہیں جو مجھے سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔ جب یہ دونوں حضرات مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو حرہ مقام پر اتر گئے اور انصار کو پیغام بھیج دیا ۔ انصار مدینہ آگئے ۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں اس دن میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تھا ، اس دن سے اچھا اور روشن چمکدار دن میں نے کوئی نہیں دیکھا جس دن ہمارے پاس تشریف لائے تھے ۔ اور میں اس دن بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا جس دن آپ کا انتقال ہوا ، اس دن سے زیادہ برا اور تاریک دن میں نے کوئی نہیں دیکھا جس دن آپ کی وفات ہوئی تھی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
18815- عن أنس أن أبا بكر كان رديف النبي صلى الله عليه وسلم من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، فكان يعرف، وكان النبي صلى الله عليه وسلم لا يعرف، فكانوا يقولون: يا أبا بكر من هذا الغلام بين يديك؟ فيقول: هاد يهديني السبيل، فلما دنوا من المدينة نزلا بحرة، وبعث إلى الأنصار فجاؤا، قال: فشهدته يوم دخل المدينة، فما رأيت يوما كان أحسن ولا أضوء من يوم دخل علينا فيه، وشهدته يوم مات فما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18816 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ میں دو آدمی قبریں بنانے والے تھے ۔ ایک لحدی قبر بناتا تھا اور دوسرا سیدھی قبر بناتا تھا ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحدی (بغلی) قبر بنوائی گئی ۔ (ابن جریر)
18816- عن أنس قال: كان بالمدينة قباران: أحدهما يلحد، والآخر يضرح، فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18817 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ (ابن ابی شیبہ ، مسند احمد ابن سعد، ابن الجوزی فی الواھیات ، السنن لسعید بن منصور) کلام : ۔۔۔ ابن جوزی (رح) نے اس کو موضوع میں شمار فرمایا ہے۔
18817- عن علي قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في سبعة أثواب.

"ش حم وابن سعد وابن الجوزي في الواهيات ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18818 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب موت کی تکلیف پائی تو حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : ہائے باپ کا غم اور تکلیف ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی تکلیف نہ ہوگی ، تمہارے باپ کو جو تکلیف پیش آئی ہے اس سے اللہ پاک کسی کو چھٹکارا نہیں دیں گے ۔ دوسرے الفاظ یہ ہیں : س تکلیف سے کوئی نجات نہیں پاسکتا لیکن قیامت کے دن اس کا بدلہ دے دیا جائے گا ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن خزیمۃ ، ابن عساکر)
18818- عن أنس قال: لما وجد النبي صلى الله عليه وسلم من كرب الموت ما وجد، قالت فاطمة: واكرب أبتاه، قال: لا كرب على أبيك بعد اليوم قد حضر من أبيك ما الله تبارك وتعالى بتارك منه أحدا وفي لفظ: ما ليس بناج منه أحد، الموافاة يوم القيامة. "ع وابن خزيمة كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18819 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض ہوئے اور کافی بوجھل ہوگئے تو حضرت فاطمہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا : ہائے باپ کے غم کا غم ! ہائے بابا جان اپنے رب کے کس قدر قریب ہوئے ہیں ، ہائے بابا جان جبرائیل (علیہ السلام) سے ملنے والے ہیں ! ہائے بابا جان جنات الفردوس میں ٹھکانا بنانے والے ہیں ! ہائے بابا جان کو ان کے رب نے بلایا اور انھوں نے رب کی پکار پر لبیک کہا ۔ پھر حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت انس بن مالک (رض) کو فرمایا : اے انس ! تمہارے دل کیسے گوارا کریں گے کہ تم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مٹی ڈالو گے ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن عساکر)
18819- عن أنس قال: لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فثقل ضمته فاطمة إلى صدرها ثم قالت: واكرباه لكرب أبتاه، ثم قالت: يا أبتاه من ربه ما أدناه، يا أبتاه إلى جبريل ننعاه، يا أبتاه جنات الفردوس مأواه يا أبتاه أجاب ربا دعاه، ثم قالت: يا أنس كيف طابت أنفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم التراب؟. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18820 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافی بیمار ہوگئے تو تکلیف کی شدت سے کبھی ایک ٹانگ اکٹھی کرلیتے اور دوسری کھول دیتے اور کبھی ایک کھولتے اور دوسری اکٹھی کرلیتے (اس طرح آپ کی تکلیف کی شدت کا احساس ہوتا تھا) اس طرح کبھی ایک مٹھی کھولتے دوسری بند کرتے اور کبھی دوسری کھولتے اور پہلی بند کرلیتے ۔ تب فاطمہ (رض) نے فرمایا : ہائے بابا کی تکلیف ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بیٹی آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی تکلیف نہ ہوگی ، پھر جب آپ کی روح پرواز کرگئی تو حضرت فاطمہ (رض) بولیں ہائے بابا کو رب نے بلا لیا اور بابا نے لبیک کہا ۔ ہائے بابا جبرائیل کے پاس چلے گئے ۔ ہائے بابا اپنے رب کے کس قدر قریب پہنچ گئے۔ ہائے بابا ! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا بن گیا ۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : جب ہم نے آپ کو دفن کرلیا تو فاطمہ (رض) مجھے بولیں : اے انس ! تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کرلیا کہ تم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مٹی ڈالو۔ (مسند ابی یعلی ، ابن عساکر)
18820- عن أنس قال: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل يبسط رجلا ويقبض أخرى ويبسط يدا ويقبض أخرى، قالت فاطمة: يا كرباه لكربك يا أبتاه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي بنية لا كرب على أبيك بعد اليوم، فلما توفي قالت: يا أبتاه أجاب ربا دعاه، يا أبتاه إلى جبريل أنعاه، يا أبتاه من ربه ما أدناه، يا أبتاه جنة الفردوس مأواه، فلما دفناه قالت لي فاطمة: يا أنس كيف طابت أنفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم التراب؟. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18821 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے میں نے آخری نظر جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ڈالی وہ بروز پیر کو تھا جب لوگ ابوبکر کے پیچھے (نماز پڑھ رہے) تھے ۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ اٹھایا تھا ۔ تب میں نے آپ کو دیکھا تو گویا آپ کا چہرہ کتاب کا ورقہ ہے لوگوں نے حرکت میں آنے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ جمے رہو ۔ پھر آپ نے پردہ گرا دیا ۔ اسی دن کے آخر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پالی ۔ (مسند احمد ، مسلم)
18821- عن أنس قال: آخر نظرة نظرتها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الإثنين كشف الستارة والناس خلف أبي بكر، فنظرت إلى وجهه كأنه ورقة مصحف، فأراد الناس أن يتحركوا فأشار إليهم أن اثبتوا وألقى السجف وتوفي آخر ذلك اليوم صلى الله عليه وسلم. "حم م".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18822 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو حضرت بلال (رض) نے آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! تم نے پیغام دے دیا ۔ جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔ (یعنی تم مجھے چلنے پر مجبور نہ کرو) حضرت بلال (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نماز کے لیے آگے بڑھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے سے پردہ اٹھا ۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم نے آپ کے چہرے کی طرف دیکھا تو گویا وہ ایک سفید ورقہ تھا آپ پر سیاہ قمیص پڑی ہوئی تھی ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سمجھے شاید آپ نکلنا چاہتے ہیں لہٰذا وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ رہ کر نماز پڑھاؤ ۔ پس سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نماز پڑھائی ، پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوبارہ نہیں دیکھا حتی کہ آپ کا انتقال ہوگیا ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن عساکر)
18822- عن أنس قال: لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه أتاه بلال فآذنه بالصلاة، فقال: يا بلال قد بلغت فمن شاء فليصل ومن شاء فليدع، قال: يا رسول الله فمن يصلي بالناس؟ قال: مروا أبا بكر فليصل بالناس، فلما تقدم أبو بكر رفعت الستور عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظرنا إليه كأنه ورقة بيضاء عليه خميصة سوداء، فظن أبو بكر أنه يريد الخروج فتأخر فأشار إليه رسول الله أن صل مكانك فصلى أبو بكر فما رأينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات من يومه. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18823 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن تک ہماری طرف نکل کر تشریف نہ لائے ، نماز قائم ہوتی رہی ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ اٹھایا تو اس وقت ہم نے اس سے اچھا کوئی نظارہ نہیں دیکھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ ہم پر کھلا ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اشارہ فرمایا کہ کھڑے رہیں خود پردہ گرا دیا ۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت نصیب نہ ہوئی حتی کہ آپ وفات پاگئے ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن خزیمۃ)
18823- عن أنس قال: لم يخرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فأقيمت الصلاة وذهب أبو بكر يصلي بالناس فرفع النبي صلى الله عليه وسلم الحجاب فما رأينا منظرا أعجب إلينا منه حين وضح لنا وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأومى النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر أن يقوم وأرخى الحجاب، فلم ير حتى مات. "ع وابن خزيمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18824 ۔۔۔ حضرت جریر (رض) سے مروی ہے میں یمن میں دو آدمیوں سے ملا ایک ذی الاکلاع تھا دوسرا ذی عمرو تھا ۔ میں ان دونوں کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر دینے لگا ۔ دونوں نے کہا : اگر تم سچ بیانی سے کام لے رہے ہو تو پھر تمہارا یہ صاحب (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گذر چکا ہے۔ اور اس کو تین دن ہوگئے ہیں۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں میں اور یہ دونوں حضرات چل پڑے اور مدینے کے راستے پر ہو لیے ۔ پھر ہمیں مدینہ سے ایک قافلہ آتا دکھائی دیا ۔ ہم نے ان سے خبر چارلی ۔ انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلفیہ بنا دیئے گئے ہیں ، لوگ آپ پر رضا مند ہیں ، تب ان دونوں نے مجھے کہا : اپنے صاحب (یعنی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض)) کو خبر دینا کہ ہم آئے تھے اور شاید ہم دوبارہ بھی آئیں ان شاء اللہ ۔ پھر وہ دونوں یمن لوٹ گئے ۔ حضر جریر (رض) کہتے ہیں : میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ان دونوں (عجیب لوگوں) کے بارے میں خبر دی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : پھر تم دونوں کو لے کر کیوں نہیں آئے ؟ حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں : پھر بعد میں ذی عمر ملا اس نے مجھے کہا : اے جریر ! تمہارے میرے دل میں عزت ہے۔ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں وہ یہ کہ تم عرب کے لوگ ہمیشہ بھلائی اور عافیت میں رہو گے جب تک ایک امیر کے جانے کے بعد دوسرے امیر کو بناتے رہو گے ۔ لیکن جب تلوار کے ساتھ امارت لی جانے لگے گی تو یہ لوگ امیر کی بجائے بادشاہ بن بیٹھیں گے بادشاہوں کی طرف غضب ناک ہوں گے اور انہی کی طرح راضی ہوں گے (اور یہ برا زمانہ ہوگا) (ابن ابی شیبۃ)
18824- عن جرير قال: كنت باليمن فلقيت رجلين من أهل ذا كلاع وذا عمرو فجعلت أخبرهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالا: إن كان حقا ما تقول فقد مر صاحبك على أجله منذ ثلاث، فأقبلت وأقبلا معي حتى إذا كنا في بعض الطريق رفع لنا ركب من قبل المدينة، فسألناهم فقالوا: قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر والناس صالحون، قال: فقالا لي: أخبر صاحبك أنا قد جئنا ولعلنا سنعود إن شاء الله ورجعا إلى اليمن، قال: فأخبرت أبا بكر بحديثهم قال: أفلا جئت بهم؟ قال: فلما كان بعد قال لي ذو عمرو: يا جرير إن بك علي كرامة وإني مخبرك خبرا أنكم معشر العرب لن تزالوا بخير ما كنتم: إذا هلك أمير تأمرتم في آخر، فإذا كانوا بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضى الملوك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18825 ۔۔۔ المطلب بن عبداللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تین یوم قبل حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے ۔ اور فرمایا : اے محمد ! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ کی عزت ظاہر ہو ، آپ کی فضیلت پتہ چلے اور آپ کی خصوصیت معلوم ہو ، اللہ پاک آپ سے زیادہ جاننے کے باوجود آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل میں مغموم ہوں ۔ اے جبرائیل ! میں تکلیف میں ہوں ، جب تیسرا دن ہوا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، ملک الموت اور ایک تیسرا فرشتہ بھی ہوا میں اترا جس کا نام اسماعیل تھا وہ ستر ہزار فرشتوں پر نگران تھا اور ان ستر ہزار فرشتوں میں سے ہر فرشتہ دوسرے ستر ہزار فرشتوں پر سردار تھا ۔ یہ سب فرشتے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے تھے ۔ (اور سب ہوا میں موجود تھے ۔ اندر صرف حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) داخل ہوئے تھے) حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ان سب پر نگران تھے ۔ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! اللہ نے مجھے آپ کے پاس آپ کی عزت ، فضیلت اور خصوصیت کے لیے بھیجا ہے ، اللہ پاک آپ سے زیادہ جاننے کے باوجود آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس فرما رہے ہیں (آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! میں اپنے آپ کو مغموم پاتا ہوں ، اے جبرائیل ! میں اپنے آپ کو تکلیف میں پاتا ہوں ۔ پھر ملک الموت نے دروازے پر آکر اجازت مانگی ۔ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! یہ ملک الموت ہیں آپ سے اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ انھوں نے پہلے کسی آدمی سے اجازت مانگی اور نہ آئندہ مانگیں گے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کو اجازت دے دو ۔ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی ۔ حضرت ملک الموت اندر تشریف لائے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : اے محمد ! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اگر آپ مجھے اپنی روح قبض کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں قبض کرلوں گا اور اگر آپ اس کو ناپسند کریں تو میں چھوڑ دوں گا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ملک الموت کیا تم (میرے حکم پر) عمل کرو گے ؟ انھوں نے عرض کیا : ضرور اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے کہ آپ جو بھی مجھے حکم فرمائیں میں اس پر عمل کروں پھر حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا : اللہ پاک آپ کی ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ملک الموت کو فرمایا : تم کو جو حکم ملا ہے کر گزرو۔ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ میرا زمین پر آخری مرتبہ آنا ہے۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح پرواز کرگئی اور (چیخ و پکار کی شکل میں) تعزیت آنا شروع ہوئی تو ایک غیبی شخص آیا جس کی آہٹ محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کا وجود معلوم نہیں ہو رہا تھا ۔ اس نے کہا : ” السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ ہر جی کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اللہ پاک ہر مصیبت پر صبر دینے والا ہے ، وہ ہر ہلاک ہونے والے کا جانشین دینے والا ہے۔ ہر فوت شدہ کا تدارک کرنے والا ہے ، اللہ ہی پر بھروسہ رکھو ، اسی سے امید رکھو ۔ مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو ۔ پس تم پر سلام ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ (الکبیر للطبرانی عن علی بن الحسین) کلام : ۔۔۔ اس روایت کی سند میں عبداللہ بن میمون القداح ایک راوی ہے جس کو ابو حاتم وغیرہ نے متروک (ناقابل اعتبار) قرار دیا ہے۔ مجمع الزوائد 9 ۔ 35 ۔
18825- عن المطلب بن عبد الله بن حنطب قال: لما كان قبل وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام هبط عليه جبريل فقال: يا محمد إن الله عز وجل أرسلني إليك إكراما لك، وتفضيلا لك، وخاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك، يقول: كيف تجدك؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أجدني يا جبريل مغموما وأجدني يا جبريل مكروبا، فلما كان اليوم الثالث، هبط جبريل وهبط مع ملك الموت وهبط معهما ملك في الهواء يقال له: إسماعيل على سبعين ألف ملك، ليس فيهم ملك إلا على سبعين ألف ملك يشيعهم جبريل فقال: يا محمد إن الله أرسلني إليك إكراما لك، وتفضيلا لك، وخاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك، يقول: كيف تجدك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أجدني يا جبريل مغموما، وأجدني يا جبريل مكروبا، فاستأذن ملك الموت على الباب فقال له جبريل: يا محمد هذا ملك الموت يستأذن عليك، ولا استأذن على آدمي قبلك، ولا يستأذن على آدمي بعدك،فقال: ائذن له، فأذن له جبريل فأقبل حتى وقف بين يديه فقال: يا محمد إن الله أرسلني إليك وأمرني أن أطيعك، فيما أمرتني به، إن أمرتني أن أقبض نفسك قبضتها، وإن كرهت تركتها، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتفعل يا ملك الموت؟ قال: نعم وبذلك أمرت أن أطيعك فيما أمرتني به، فقال له جبريل: إن الله قد اشتاق إلى لقائك، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: امض لما أمرت به، فقال له جبريل: هذا آخر وطئي الأرض، إنما كنت حاجتي في الدنيا، فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاءت التعزية جاء آت يسمعون حسه ولا يرون شخصه، فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، كل نفس ذائقة الموت، إن في الله عزاء من كل مصيبة، وخلفا من كل هالك، ودركا من كل ما فات، فبالله ثقوا، وإياه فارجوا فإن المصاب من حرم الثواب، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته. "طب عن علي بن الحسين وفيه: عبد الله بن ميمون القداح، قال أبو حاتم وغيره متروك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18826 ۔۔۔ ابو اسحاق سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے جن میں ابن نوفل بھی تھے پوچھا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس چیز میں کفن دیا گیا تھا :؟ انھوں نے بتایا : ایک سرخ جوڑے میں ، جس میں قمیص نہیں تھی ۔ اور آپ کی قبر میں لوگوں نے ایک چادر کا ٹکڑا بچھا دیا تھا ۔ (الکبیر للطبرانی)
18826- عن أبي إسحاق قال: سألت كبراء أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وفيهم ابن نوفل في أي شيء كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالوا: في حلة حمراء ليس فيها قميص، وجعل في لحده شق قطيفة كانت لهم. "طب".
tahqiq

তাহকীক: