কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৭৮৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18787 ۔۔۔ عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قمیص تھی ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ہاتھ پر کپڑا لپٹا ہوا تھا ۔ جس کو قمیص کے نیچے لے جا کر غسل دے رہے تھے ۔ (رواہ السنن للبیھقی)
18787- عن عبد الله بن الحارث بن نوفل أن عليا غسل النبي صلى الله عليه وسلم وعلى النبي قميص وبيد علي خرقة يتبع بها تحت القميص. "ق"."العدني خ هق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18788 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا آپ اس وقت مریض تھے ۔ آپ کا سر ایک ایسے آدمی کی گود میں رکھا ہوا تھا کہ اس سے زیادہ میں نے کوئی حسین نہیں دیکھا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے ۔ میں داخل ہوا تو میں نے پوچھا : کیا میں قریب آجاؤں ؟ اس آدمی نے کہا : قریب ہوجاؤ اپنے چچا کے بیٹے کے تم مجھ سے زیادہ حقدار ہو ۔ پس میں دونوں کے قریب ہوا ، وہ آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور میں اس کی جگہ بیٹھ گیا ۔ میں نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر اپنی گود میں رکھ لیا جس طرح پہلے آدمی کی گود میں تھا ۔ تھوڑی دیر گذری تھی کہ آپ بیدار ہوگئے ۔ آپ نے پوچھا وہ شخص کہاں ہے جس کی گود میں میرا سر رکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا کہ جب میں اندر داخل ہوا تو اس نے مجھے بلا لیا اور کہا کہ اپنے چچا زاد کے قریب آجاؤ تم اس کے مجھ سے زیادہ حقدار ہو ۔ لہٰذا وہ اٹھے اور میں بیٹھ گیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جانتے ہو وہ آدمی کون تھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ فرمایا : وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے ۔ وہ مجھ سے بات چیت کر رہے تھے جس کی وجہ سے درد میں تخفیف ہوگئی ۔ اور میں سو گیا اور میرا سر اس کی گود میں رکھا رہ گیا ۔ (ابو عمر الزاھد فی فوائدہ) کلام : ۔۔۔ اس روایت میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ضعیف راوی ہے۔
18788- عن علي قال: دخلت على نبي الله صلى الله عليه وسلم وهو مريض فإذا رأسه في حجر رجل أحسن ما رأيت من الخلق والنبي صلى الله عليه وسلم نائم، فلما دخلت عليه قلت: أدنو؟ فقال الرجل: ادن إلى ابن عمك فأنت أحق مني فدنوت منهما، فقام الرجل، وجلست مكانه ووضعت رأس النبي صلى الله عليه وسلم في حجري كما كان في حجر الرجل، فمكثت ساعة، ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ، فقال: أين الرجل الذي كان رأسي في حجره؟ فقلت: لما دخلت عليك دعاني، ثم قال: ادن إلى ابن عمك فأنت أحق به مني، ثم قام فجلست مكانه، قال: فهل تدري من الرجل؟ قلت: لا بأبي وأمي، قال: ذاك جبريل كان يحدثني حتى خف عني وجعي، ونمت ورأسي في حجره. "أبو عمر الزاهد في فوائده، وفيه محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18789 ۔۔۔ جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت کعب احبار (رح) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے زمانہ میں (مدینہ) تشریف لائے ۔ ہم لوگ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس ہی بیٹھے تھے ۔ کعب (رح) نے عرض کیا : یا امیر المؤمنین ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخری کلام کیا کیا تھا ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : علی سے سوال کرو ۔ پوچھا : علی کہاں ہیں ؟ فرمایا : وہ ادھر رہے ان سے سوال کرو۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک لگایا آپ نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اور فرمایا : ” الصلوۃ ! الصلوۃ !: (نماز کی پابندی کرو ، نماز کی پابندی کرو) حضرت کعب (رح) نے فرمایا : یہی انبیاء کا عہد رہا ہے ، اسی کا ان کا حکم دیا گیا ہے اور اسی پر ان کو اٹھایا جائے گا ۔ حضرت کعب احبار (رح) نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل کس نے دیا ہے ؟ یا امیر المؤمنین ! فرمایا علی سے سوال کرو ۔ انھوں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے پوچھا تو آپ (رض) نے فرمایا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دے رہا تھا ۔ عباس (رض) بیٹھے تھے ۔ اسامہ اور شقران میرے پاس پانی لے کر آ جا رہے تھے ۔ (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
18789- عن جابر بن عبد الله أن كعب الأحبار قدم زمن عمر ابن الخطاب فقال ونحن جلوس عنده: يا أمير المؤمنين ما كان آخر ما تكلم به النبي صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: سل عليا، فقال: أين هو؟ قال: هو ذا فسأله، فقال علي: أسندته إلى صدري فوضع رأسه على منكبي وقال: الصلاة الصلاة، فقال كعب: كذلك عهد الأنبياء وبه أمروا وعليه يبعثون، قال: فمن غسله يا أمير المؤمنين؟ قال: سل عليا فسأله، فقال: كنت أغسله وكان عباس جالسا وكان أسامة وشقران يختلفان إلي بالماء. "ابن سعد، وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18790 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض میں ارشاد فرمایا : میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ۔ (حضرت علی (رض)) کو بلایا گیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں قریب ہوگیا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگالی اور مجھ سے بات کرتے رہے حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب مبارک مجھ پر گر رہا تھا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزول شروع ہوگیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری گود میں انتہائی ثقیل بوجھل ہوگئے حتی کہ میں چیخ پڑا : یا عباس ! آؤ ، میں مر رہا ہوں ۔ پس عباس (رض) آئے ۔ دونوں نے انتہائی محنت کر کے آپ کو لٹا دیا ۔ (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
18790- عن علي قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه: ادعوا لي أخي فدعي له فقال: ادن مني فدنوت منه، فاستند إلي فلم يزل مستندا إلي وإنه يكلمني حتى أن بعض ريق النبي صلى الله عليه وسلم ليصيبني، ثم نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم وثقل في حجري، فصحت يا عباس أدركني، فإني هالك، فجاء العباس فكان جهدهما جميعا أن أضجعاه. "ابن سعد، وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18791 ۔۔۔ ابو غطفان سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وفات کے وقت دیکھا کہ کس کی گود میں آپ کا سر تھا ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ میں نے کہا کہ عروۃ (رح) حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے روایت کرتے ہیں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات میرے سینے اور حلق کے درمیان (ٹیک لگائے ہوئے) ہوئی تھی ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : کیا تم عقل رکھتے ہو ۔ اللہ کی قسم ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ نے حضرت علی (رض) کے سینے کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی ۔ آپ (رض) اور میرے بھائی فضل بن عباس نے آپ (رض) کو غسل دیا تھا ، میرے والد نے (غسل کی جگہ آنے سے) انکار کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم پردہ رکھیں ۔ لہٰذا وہ پردے کے اس طرف بیٹھے تھے ۔ (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
18791- عن أبي غطفان قال: سألت ابن عباس أرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي ورأسه في حجر أحد؟ قال: توفي وهو إلى صدر علي؟ قلت: فإن عروة حدثني عن عائشة أنها قالت: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري، فقال ابن عباس: أتعقل والله لتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مستند إلى صدر علي وهو الذي غسله وأخي الفضل بن عباس وأبى أبي أن يحضر وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمرنا أن نستتر فكان عند السترة."ابن سعد، وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18792 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدھ کے دن رات کے وقت سن گیارہ ہجری ماہ صفر کی آخری رات کو بیمار ہوئے اور بارہ ربیع الاول پیر کے روز وفات پائی اور منگل کے روز مدفون ہوئے ۔ (رواہ ابن سعد)
18792- عن علي قال: اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الأربعاء لليلة بقيت من شهر صفر سنة إحدى عشرة، وتوفي يوم الإثنين لاثنتي عشرة مضت من ربيع الأول ودفن يوم الثلاثاء. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18793 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین مسحولی کپڑے کی چادروں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص تھی اور نہ عمامہ ۔ (رواہ ابن سعد)
18793- عن علي قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة أثواب من كرسف سحولية ليس فيها قميص ولا عمامة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18794 ۔۔۔ عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چارپائی پر لٹایا گیا تو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے امام ہیں زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی (لہذا کوئی آپ کی نماز پڑھانے کی جرات نہیں کرے گا) پس پھر لوگ گروہ گروہ آتے تھے اور صف بہ صف کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے ۔ ان کا کوئی امام نہ تھا ۔ خود ہی تکبیریں کہتے تھے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے : لسلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اللہم انا نشھد ان قد بلغ ما نزل الیہ ، ونصح لامتہ وجاھد فی سبیل اللہ حتی اعز اللہ دین ، وتمت کلمتہ ، اللہم فاجعلنا ممن یتبع ما انزل الیہ وثبتنا بعدہ واجمع بیننا وبینہ “۔ ے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں ، اے اللہ ! ہم شہادت دیتے ہیں کہ بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حق تبلیغ ادا کردیا ، امت کے لیے پوری خیر خواہی برت لی ۔ اللہ کی راہ میں اس قدر جہاد کیا کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کردیا ، اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا ۔ اے اللہ ! ہمیں ان لوگوں میں سے کر دے جو آپ پر نازل شدہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور ہمیں آپ کے بعد ثابت قدمی نصیب فرما ۔ ہمیں آپ کے ساتھ جمع فرما ۔ س طرح سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) دعا فرما رہے تھے اور لوگ آمین آمین کہہ رہے تھے ۔ حتی کہ پہلے لوگوں نے نماز پڑھی ، پھر عورتوں نے اور پھر بچوں نے ۔ (رواہ ابن سعد)
18794- عن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده عن علي قال: لما وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم على السرير قال: لا يقوم عليه أحد هو إمامكم حيا وميتا، فكان يدخل الناس رسلا رسلا فيصلون عليه صفا صفا ليس لهم إمام ويكبرون، وعلي قائم بحيال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته اللهم إنا نشهد أن قد بلغ ما نزل إليه، ونصح لأمته وجاهد في سبيل الله حتى أعز الله دينه، وتمت كلمته، اللهم فاجعلنا ممن يتبع ما أنزل إليه وثبتنا بعده، واجمع بيننا وبينه، فيقول الناس آمين، حتى صلى عليه الرجال، ثم النساء، ثم الصبيان. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18795 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انھوں نے ، عباس ، عقیل بن ابی طالب ، اوس بن خولی اور اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ مل کر غسل دیا تھا ۔ (رواہ ابن سعد)
18795- عن علي أنه غسل النبي صلى الله عليه وسلم وعباس وعقيل بن أبي طالب وأوس بن خولي وأسامة بن زيد. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18796 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بوجھل ہوگئے تو فرمایا : اے علی ! میرے پاس کوئی تختہ لاؤ جس میں میں کچھ لکھ دوں تاکہ میری امت میرے بعد گمراہ نہ ہو ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : مجھے ڈر ہوا کہ کہیں مجھ سے پہلے آپ کی جان نہ نکل جائے ۔ اس لیے میں نے عرض کیا : میں بازو پر لکھتا جاتا ہوں ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر میرے بازو اور کہنی کے درمیان تھا ۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وصیت کرتے جاتے تھے آپ نے نماز ، زکوۃ اور غلاموں کے ساتھ خیر خواہی کی وصیت کی پھر آپ کی سانسیں اٹکنے لگیں اور آپ نے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ پڑھا پھر سانس اٹکی اور آپ نے فرمایا جس نے اس کلمے کی شہادت دی اس پر جہنم کی آگ حرام کردی گئی ۔ (رواہ ابن سعد)
18796- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ثقل قال: يا علي، ائتني بطبق أكتب فيه ما لا تضل أمتي بعدي، فخشيت أن تسبقني نفسه، فقلت: إني أحفظ ذراعا من الصحيفة، فكان رأسه بين ذراعي وعضدي فجعل يوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم، قال كذلك حتى فاضت نفسه وأمر شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله حتى فاضت نفسه من شهد بها حرم على النار. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18797 ۔۔۔ عبداللہ بن الحارث سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو (قریب بیٹھے) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور دروازہ پر تیز دستک ہوئی اور عباس بنو عبدالمطلب کے ساتھ تشریف لائے اور دروازے کے پاس کھڑے ہوگئے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرما رہے تھے : میرے (ماں) باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ نے کس قدر اچھی زندگی بسر کی اور کس قدر اچھی موت پائی ، راوی کہتے ہیں : اس وقت بہت اچھی ہوا چلی پہلے کسی نے ایسی ہوا نہ محسوس کی ہوگی ، حضرت عباس (رض) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرمایا : چھوڑو عورتوں کو رونے دو تم ہمارے بھی کچھ حصہ کا خیال کرو ۔ چنانچہ انھوں نے بھی اپنا ایک آدمی جس کو اوس بن خولی کہا جاتا تھا جو (بھرا ہوا) مٹکا ایک ہاتھ میں اٹھالیتا تھا ، کو اندر بھیج دیا ۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا ، قمیص کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر غسل دیتے رہے ۔ فضل آپ پر کپڑا تانے کھڑے رہے اور انصاری پانی ڈھوتا رہا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ہاتھ پر کپڑا بھی لپٹا ہوا تھا ۔ اس کپڑے کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قمیص کے نیچے ہاتھ ڈالتے تھے ۔ (اس طرح غسل دیا گیا ) ۔ (رواہ ابن سعد)
18797- عن عبد الله بن الحارث أن عليا لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم قام فأرتج الباب قال: فجاء العباس معه بنو عبد المطلب فقاموا على الباب وجعل علي يقول: بأبي أنت طبت حيا وميتا، قال: وسطعت ريح طيبة لم يجدوا مثلها قط، قال: فقال العباس لعلي: دع حنينا كحنين المرأة وأقبلوا على صاحبكم، فقال علي: أدخلوا علي الفضل، قال: وقالت الأنصار نناشدكم الله في نصيبنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فأدخلوا رجلا منهم يقال له أوس بن خولي يحمل جرة بإحدى يديه، قال: فغسله علي يدخل يده تحت القميص، والفضل يمسك الثوب عليه والأنصاري ينقل الماء، وعلى يد علي خرقة، يدخل يده وعليه القميص. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18798 ۔۔۔ عبدالواحد بن ابی عون سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جس مرض میں انتقال ہوا اسی مرض کی حالت میں آپ (رض) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا : اے علی ! جب میں مرجاؤں تو مجھے تم خود غسل دینا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے تو کبھی کسی میت کو غسل دیا ہی نہیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہاری مدد کی جائے گی ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں پھر میں نے آپ کو غسل دیا ۔ میں جس عضو کو بھی پکڑتا وہ گویا میرا حکم مانتا تھا ۔ جبکہ فضل نے آپ کی کمر پکڑی ہوئی تھی اور وہ کہہ رہے تھے ۔ اے علی ! جلدی جلدی ! جلدی ! میری کمر ٹوٹی جا رہی ہے۔ (رواہ ابن سعد)
18798- عن عبد الواحد بن أبي عون قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبي طالب في مرضه الذي توفي فيه: اغسلني يا علي إذا مت، فقال: يا رسول الله ما غسلت ميتا قط، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك ستهيأ أو تيسر، قال علي: فغسلته، فما آخذ عضوا إلا تبعني والفضل آخذ بحضنه يقول: اعجل يا علي انقطع ظهري. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18799 ۔۔۔ (مسند علی (رض)) عفان بن مسلم ، حماد بن سلمہ ، عبداللہ بن محمد بن عقیل ، محمد بن علی بن الحنفیۃ عن ابیہ کی سند کے ساتھ مروی ہے علی بن الحنفیۃ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا : (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ یہ سند صحیح ہے۔
18799- "مسند علي رضي الله عنه" أنبأنا عفان بن مسلم أنا حماد بن سلمة عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن محمد بن علي بن الحنفية عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم كفن في سبعة أثواب. "ابن سعد، وهذا إسناد صحيح"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18800 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ کو تین یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا ۔ دوسرے الفاظ یہ منقول ہیں : سفید سوت سے بنی ہوئی چادر میں کفن دیا گیا ۔ جس میں قمیص تھی اور نہ عمامہ ۔ حضرت عروہ (رح) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک جوڑا تھا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کفن کے لیے ہی خریدا گیا تھا ۔ لیکن پھر اس کو چھوڑ دیا گیا ، بلکہ دوسرے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : پھر عبداللہ بن ابی بکر نے وہ جوڑا لے لیا اور کہا کہ میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تاکہ مجھے اس میں کفن دیا جائے ۔ لیکن پھر خود ہی ان کو خیال آیا اور کہنے لگے کہ اگر اس کپڑے میں کوئی خیر ہوتی تو اللہ پاک اپنے نبی کو اس میں ضرور کفناتے ۔ لہٰذا انھوں نے وہ بیچ دیا اور اس کی قیمت راہ خدا میں صدقہ کردی ۔ (رواہ ابن سعد)
18800- عن عروة عن عائشة قالت: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة أثواب يمانية، وفي لفظ: سحولية بيض كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة، قال عروة: فأما الحلة فإنما شبه على الناس فيها إنما اشتريت للنبي صلى الله عليه وسلم ليكفن فيها، فتركت، وكفن في ثلاثة أثواب بيض سحولية، قالت عائشة: فأخذها عبد الله بن أبي بكر فقال: أحبسها حتى أكفن فيها، قالت: ثم قال: لو رضيها الله لنبيه صلى الله عليه وسلم لكفنه فيها فباعها وتصدق بثمنها. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18801 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین سفید یمنی کپڑوں (چادروں) میں کفن دیا گیا ۔ (رواہ ابن سعد)
18801- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة أثواب بيض يمانية. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18802 ۔۔۔ ابو اسحاق سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بنی عبدالمطلب کی مجلس میں گیا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس چیز میں کفن دیا گیا تھا ؟ انھوں نے کہا : تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں قباء تھی اور نہ قمیص اور نہ عمامہ ۔ (رواہ ابن سعد)
18802- عن أبي إسحاق قال: دفعت إلى مجلس بني عبد المطلب وهم متوافرون فقلت: في أي شيء كفن النبي صلى الله عليه وسلم؟ قالوا: في ثلاثة أثواب ليس فيها قباء ولا قميص ولا عمامة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18803 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سرخ چادر اور دو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔ (رواہ ابن سعد)
18803- عن ابن عباس قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثوبين أبيضين وبرد أحمر. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18804 ۔۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں ایک یمنی چادر بھی تھی ۔ (رواہ ابن سعد)
18804- عن أبي بن كعب قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة أثواب منها برد حبرة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18805 ۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین موٹے کپڑوں میں کفن دیا گیا ازار ، رداء اور لفافہ ۔ (رواہ ابن سعد)
18805- عن الشعبي قال: كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة أثواب برود يمانية غلاظ: إزار ورداء ولفافة."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفنانے کا بیان :
18806 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سرخ نجرانی حلے (جوڑے) اور قمیص میں کفن دیا گیا ۔ (رواہ ابن سعد)
18806- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في حلة حمراء نجرانية كان يلبسها وقميص. "ابن سعد".
তাহকীক: