কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৭৬৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18767 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منبر کے پاس رکھ دیا گیا تھا ۔ لوگ فوج در فوج آپ پر نماز (یعنی درود وسلام) پڑھ رہے تھے ۔ (ابن راھویہ)
18767- عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع عند المنبر، فجعل الناس يصلون عليه أفواجا. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکہ (میراث) کا بیان :
18768 ۔۔۔ مالک بن اوس بن الحدثان سے مروی ہے کہ مجھے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے بلایا میں دن میں آپ کے پاس حاضر ہوا ۔ میں نے آپ کو اپنے گھر میں چارپائی پر لیٹے دیکھا ، وہ چارپائی کھجور کی چھال سے بنی ہوئی تھی اور ایک چمڑے کے تکیے پر آپ نے ٹیک لگا رکھی تھی ۔ آپ (رض) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : اے مال (مالک کا مخفف) تیری قوم والے میرے پاس دیر کردیتے ہیں آنے میں ، میں نے ان کے لیے اس تھوڑے سے مال کا حکم دیا تھا تم یہ مال مجھ سے وصول کرلو اور اپنی قوم والوں کے درمیان تقسیم کردینا ۔ میں نے عرض کیا : اگر آپ مجھے کوئی اور حکم دیتے ۔ لیکن آپ (رض) نے فرمایا : تم لے لو ۔ مالک (رض) (پھر اصل واقعہ جو مقصود بیان ہے) بیان فرماتے ہیں پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا غلام یرفا آیا اور عرض کیا یا امیر المؤمنین عثمان (رض) ، عبدالرحمن بن عوف (رض) ، زبیر (رض) اور سعد (رض) آنا چاہتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : ہاں ان کو (اجازت دو ) غلام نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی ، یہ سب حضرات اندر تشریف لائے ، غلام دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا : حضرت علی (رض) ، اور عباس (رض) اندر آنا چاہتے ہیں۔ فرمایا ہاں ۔ چنانچہ غلام نے ان کو بھی بلایا ۔ حضرت عباس (رض) نے عرض کیا : یا امیر المؤمنین ! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دیں ۔ پہلے آنے والے لوگوں میں سے کسی نے کہا ہاں امیر المؤمنین ان کے درمیان فیصلہ کرکے ان کو راحت دے دیں ، راوی مالک (رض) فرماتے ہیں میرا خیال ہوا کہ انھوں نے ان حضرات کو پہلے اس کام کے لیے اندر بھیجا تھا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : صبر ! صبر ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جس کی اجازت اور مشیت کے ساتھ آسمان و زمین اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں ! کیا تم جانتے ہو کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا ۔ ہم (انبیاء) جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے کہا : ہاں (ایسا ہی فرمایا تھا) پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) حضرت عباس (رض) اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو بھی یونہی واسطہ دیا کہ میں تم کو واسطہ دیتا ہوں اللہ کا جس کی مشیت کے ساتھ آسمان و زمین اپنی اپنی جگہ قائم ہیں کیا تم دونوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ دونوں نے کہا : ہاں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اللہ پاک نے اپنے رسول کو ایسی خصوصیات کے ساتھ خاص فرمایا تھا جو کسی اور کو مرحمت نہیں ہوئی تھیں ۔ فرمان خداوندی ہے : (آیت)” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی “۔ للہ پاک اپنے رسول پر جو بستی والوں کی غنیمتیں اتارے وہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں کے لیے ہیں۔ مالک (رض) فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں آپ (رض) نے اس سے پہلی والی آیت بھی تلاوت فرمائی تھی یا نہیں ۔ خیر تو پھر ارشاد فرمایا : پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی نضیر کے اموال تمہارے درمیان تقسیم فرمائے ۔ اللہ کی قسم ! تم پر کسی کو ترجیح نہیں دی اور نہ تم سے چھپا کر کچھ لیا ، حتی کہ یہ مال باقی بچ گیا ۔ (یہ مال ایک باغ تھا) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے سال بہ سال خرچہ لیتے تھے اور بقیہ بچ جانے والا مال اصل مال میں شامل کردیتے تھے ۔ (جس سے اس کی باغبانی ونگہداشت انجام پذیر ہوتی) پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم اس بات کو جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی (رض) کو عباس (رض) کو بھی اسی طرح اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا انھوں نے بھی اثبات بھی جواب دیا ۔ پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام کا والی بنتا ہوں ۔ (یعنی جس مال سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سال سال کا نفقہ لے ک گھر کا خرچ چلاتے تھے اب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اس مال سے آپ کی بیویوں کا خرچ چلاتے تھے) ۔ پھر تم دونوں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے ، تم (اے عباس) اپنے بھتیجے کی میراث لینے آئے تھے اور تم (اے علی) اپنی بیوی کے باپ کی میراث لینے آئے تھے ۔ لیکن سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، جو ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ لیکن تم نے ان کو جھوٹا ، گناہ گار ، عذر کرنے والا ، اور خائن سمجھا ، حالانکہ اللہ جانتا ہے میں سچا ، نیکو کار ، سیدھی راہ پر قائم اور حق کی اتباع کرنے والا ہوں ۔ پھر میں اس مال کا والی بنا پھر تم دونوں میرے پاس بھی آئے اور اس وقت تم دونوں میں اتفاق تھا تم دونوں کی ایک بات تھی ، تم نے کہا وہ مال ہمیں دے دو ، میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں تم کو دے دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم اللہ کو عہد ومثیاق دود کہ تم اس مال میں وہی تصرف اور کام کرو گے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کرتے رہے ۔ پھر تم نے اس مال کو لے لیا ، کیا ایسا ہی ہوا تھا ؟ دونوں نے کہا ہاں ۔ پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اب تم دوبارہ میرے پاس آئے ہو کہ اب میں دونوں کے درمیان یہ مال تقسیم کر دوں ۔ نہیں ، اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں قیامت قائم ہونے تک میں اس کو تقسیم نہیں کروں گا ۔ اگر تم اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے تو مجھے واپس کر دو ۔ (عبدالرزاق ، مسند احمد ، ابو عبید فی الاموال ، عبد بن حمید ، بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابو عوانۃ ، ابن حبان ، ابن مردویۃ ، السنن للبیہقی)
18768- عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: أرسل إلي عمر بن الخطاب فجئته حين تعالى النهار، قال: فوجدته في بيته جالسا على سرير مفضيا إلى رماله متكئا على وسادة من أدم، فقال لي: يا مال إنه قد دف3 أهل أبيات من قومك وقد أمرت فيهم برضخ فخذه فاقسمه بينهم، قال فقلت: لو أمرت بهذا غيري، قال: فخذه يا مال قال: فجاء يرفأ1، فقال: هل لك يا أمير المؤمنين في عثمان وعبد الرحمن بن عوف والزبير وسعد، فقال عمر: نعم فأذن لهم، فدخلوا، ثم جاء فقال: هل لك في عباس وعلي؟ قال: نعم، فأذن لهما، قال عباس: يا أمير المؤمنين اقض بيني وبين هذا، فقال بعض القوم: أجل يا أمير المؤمنين فاقض بينهم وأرحهم، قال مالك: فخيل إلي أنهم كانوا قدموهم لذلك، قال عمر: اتئد أنشدكم بالله الذي بإذنه تقوم السماء والأرض أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا نورث ما تركنا صدقة؟ قالوا: نعم.فأقبل على عباس وعلي فقال: أنشدكما بالله الذي بإذنه تقوم السماء والأرض أتعلمان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث ما تركنا صدقة؟ قالا: نعم، قال عمر: فإن الله خص رسوله صلى الله عليه وسلم بخاصة لم يخص بها أحدا غيره قال: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} ما أدري هل قرأ الآية التي قبلها أم لا؟ قال: فقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم بينكم أموال بني النضير، فوالله ما استأثر بها عليكم ولا أخذها دونكم حتى بقي هذا المال، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ منه نفقة سنة، ثم يجعل ما بقي أسوة المال، ثم قال: أنشدكم بالله الذي بإذنه تقوم السماء والأرض أتعلمون ذلك؟ قالوا: نعم، ثم نشد عليا وعباسا بمثل ما نشد به القوم أتعلمان ذلك؟ قالا: نعم، قال: فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر: أنا ولي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجئتما تطلب ميراثك من ابن أخيك ويطلب هذا ميراث امرأته من أبيها، فقال أبو بكر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا نورث ما تركنا صدقة، فرأيتماه [كاذبا آثما غادرا خائنا] والله يعلم إنه لصادق بار راشد تابع للحق، ثم توفي أبو بكر، فقلت: أنا ولي رسول الله وولي أبي بكر، فرأيتماني كاذبا آثما غادرا خائنا والله يعلم إني لصادق بار راشد تابع للحق فوليتها ثم جئتني أنت وهذا وأنتما جميع وأمركما واحد، فقلتما: ادفعها إلينا، فقلت إن شئتما دفعتها إليكما على أن عليكما عهد الله وميثاقه أن تعملا فيها بالذي كان يعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر، فأخذتماها بذلك، فقال: أكذلك كان؟ قالا: نعم قال: ثم جئتماني لأقضي بينكما لا والله، لا أقضي بينكما بغير ذلك حتى تقوم الساعة، فإن عجزتما عنها فرداها إلي. "عب حم وأبو عبيد في الأموال، وعبد بن حميد خ م د ت ن وأبو عوانة حب وابن مردويه هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکہ (میراث) کا بیان :
18769 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو غنیمت کے مال میں سے ترکہ چھوڑا ہے وہ ہمارے درمیان تقسیم فرما دیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ان کو فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اس بات پر فاطمہ (رض) غصہ ہوگئیں اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے بات چیت چھوڑ دی ، اور اسی ترک تعلقات کی حالت میں وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں ۔ حضرت فاطمہ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد چھ ماہ زندہ رہی تھیں ۔ فاطمہ (رض) ابوبکر (رض) سے اپنے حصہ کا سوال کر رہی تھیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر ، فدک ، اور مدینہ کے صدقا میں سے پیچھے چھوڑا تھا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس سے انکار فرما دیا تھا اور فرمایا تھا : میں کوئی کام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے نہیں چھوڑوں گا بلکہ میں اس پر عمل کروں گا ، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ کا کوئی کام چھوڑ دیا تو میں راستے سے بھٹک جاؤں گا ۔ پھر مدینہ والا صدقہ تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے علی وعباس (رض) کو دے دیا تھا ۔ لیکن علی (رض) عباس (رض) پر غالب آگئے ،۔ جبکہ خیبر اور فدک کو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اپنے پاس روک لیا اور فرمایا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ صدقہ ہے جو اسلام میں پیش آمدہ مصائب اور درپیش مسائل پر خرچ ہوتا تھا اور ان دونوں صدقات کا محافظ وہ ہوگا جو مسلمانوں کا امیر ہوگا ، پس وہ دونوں مال اسی حالت پر ہیں۔ (مسند احمد ، بخاری ، مسلم ، السنن للبیہقی)
18769- عن عائشة أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم سألت أبا بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقسم لها ميراثها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله، فقال لها أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث ما تركنا صدقة، فغضبت فاطمة فهجرت أبا بكر، فلم تزل مهاجرة له حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر، فكانت فاطمة تسأل أبا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة، فأبى أبو بكر ذلك، وقال: لست تاركا شيئا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به إلا عملت به، فإني أخشى إن تركت شيئا من أمره أن أزيغ، فأما صدقته بالمدينة فدفعها عمر إلى علي والعباس فغلب علي عليها، وأما خيبر وفدك فأمسكهما عمر وقال: هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوائبه وأمرهما إلى من ولي الأمر، قال: فهما على ذلك إلى اليوم. "حم خ م هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18770 ۔۔۔ جعفر بن محمد (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بغیر امام کے نماز پڑھی گئی ۔ مسلمان آپ پر جماعت جماعت داخل ہوتے تھے اور نماز پڑھتے تھے ۔ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اب جنازہ کو اس کے اہل کے پاس تنہا چھوڑ دو ۔ (رواہ ابن سعد)
18770- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: صلي على رسول الله صلى الله عليه وسلم بغير إمام، يدخل المسلمون عليه زمرا زمرا يصلون عليه، فلما فرغوا نادى عمر خلوا الجنازة وأهلها. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18771 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھے ۔ ہمارے اور عورتوں کے درمیان حجاب حائل تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے (موت کے بعد) سات مشکیزوں سے غسل کرانا ، اور میرے پاس صحیفہ (کاغذ) اور دوات لے کر آؤ۔ میں تمہارے لیے ایک کتاب (وثیقہ) لکھ دیتا ہوں ، تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ عورتوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حاجت پوری کر دو ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں میں نے کہا (اے عورتو ! ) تم خاموش رہو کیونکہ تم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ساتھی (بیوی) ہو ، جب آپ مریض ہوں گے تو تم آنکھیں نچوڑوگی اور جب تندرست ہوں گے تو تم آپ کی گردن پکڑ لوگی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ عورتیں تم (مردوں) سے زیادہ بہتر ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
18771- عن عمر بن الخطاب قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم وبيننا وبين النساء حجاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اغسلوني بسبع قرب، وأتوني بصحيفة ودواة أكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده أبدا، فقالت النسوة: ائتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بحاجته، قال عمر فقلت: اسكتن فإنكن صواحبه إذا مرض عصرتن أعينكن، وإذا صح أخذتن بعنقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هن خير منكم. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18772 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو لوگ رونے لگے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوگئے فرمایا : میں کسی کو یہ بات نہ کہتا ہوا سنوں کہ محمد وفات پا گئے ہیں۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات نہیں ہوئی بلکہ ان کے رب نے ان کو پیغام بھیج کر بلوایا ہے جس طرح موسیٰ بن عمران چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے ۔ اللہ کی قسم ! میرا خیال ہے میں ایسے لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی وفات ہوگئی ہے۔ (ابن سعد ، ابن عساکر)
18772- عن أنس بن مالك قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى الناس فقام عمر في المسجد خطيبا فقال: لأسمعن أحدا يقول: إن محمدا قد مات، وإن محمدا لم يمت ولكنه أرسل إليه ربه كما أرسل إلى موسى بن عمران فلبث عن قومه أربعين ليلة، والله إني لأرجو أن يقطع أيدي رجال قوم وأرجلهم يزعمون أنه مات. "ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18773 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو لوگ کہنے لگے : پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح اوپر (آسمانوں پر) چلی گئی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی روح گئی تھی ۔ پھر حضرت عمر (رض) خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور منافقوں کو ڈرانے لگے اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپ کی روح اوپر چلی گئی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی روح گئی تھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک نہیں مرسکتے جب (منافق قوم کے) لوگوں کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹ ڈالیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اسی طرح بات چیت فرماتے رہے حتی کہ شدت کی وجہ سے ان کی باچھیں چھینٹے مارنے لگیں ۔ حضرت عباس (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعش مبارک کی حالت بھی متغیر ہوسکتی ہے عام انسانوں کی طرح ۔ چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے۔ لہٰذا تم اپنے صاحب کی تدفین (کرنے میں تاخیر نہ) کرو۔ کیا تم میں سے ہر شخص ایک موت مرتا ہے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو موتیں مریں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے ہاں اس سے زیادہ مرتبہ والے ہیں۔ اگر ایسا ہے جیسا تم کہہ رہے ہو کہ (آپ کی موت نہیں ہوئی) تو اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے کہ آپ کے (زندہ ہونے کی صورت میں) آپ کی قبر کو اکھاڑ کر آپ کو نکال دے ۔ ان شاء اللہ رسول تب ہی مرے ہیں جب آپ نے ہمارے لیے بالکل واضح اور سچا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ حلال کو حلال قرار دیا ہے اور حرام کو حرام متعارف کرا دیا ہے۔ آپ نے نکاح کیے، طلاق دی ، جنگ اور مصالحت کی ، اور بکریوں کا چرواہا اپنے بکریوں کے پیچھے چلتا ہے اور ان کی نگہبانی کرتا ہے حتی کہ پہاڑ کی چوٹی تک ان کے پیچھے جاتا ہے ان کی راہ میں آنے والی جھاڑ جھنکار صاف کرتا ہے اور ان کے حوض کو اپنے ہاتھ سے گچ (لیپ) کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم میں سب سے زیادہ ادب سکھانے والے تھے ۔ (ابن سعد ، بخاری ، البیہقی فی الدلائل)
18773- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عكرمة قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنما عرج بروحه كما عرج بروح موسى، وقام عمر خطيبا يوعد المنافقين وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يمت، ولكن إنما عرج بروحه كما عرج بروح موسى، لا يموت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يقطع أيدي أقوام وألسنتهم فلم يزل عمر يتكلم، حتى أزبد شدقاه فقال العباس: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأسن كما يأسن البشر، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات فادفنوا صاحبكم، أيميت أحدكم إماتة ويميته إماتتين هو أكرم على الله من ذلك، فإن كان كما تقولون فليس على الله بعزيز أن يبحث عنه التراب فيخرجه إن شاء الله، ما مات حتى ترك السبيل نهجا واضحا، أحل الحلال وحرم الحرام، ونكح وطلق وحارب وسالم، وما كان راعي غنم يتبع بها صاحبها رؤوس الجبال يخبط عليها العضاه بمخبطه، ويمدر حوضها بيده بأنصب ولا أدأب من رسول الله صلى الله عليه وسلم كان فيكم. "ابن سعد خ ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18774 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو آئندہ روز تقریر کرتے سنا ، جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسجد میں بیعت کی گئی اور ابوبکر پر چڑھے ، اس سے پہلے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حمد وثناء اور خدا اور رسول کی شہادت دی ، پھر اما بعد کے بعد فرمایا : میں نے کل گزشتہ روز تم سے بات کی تھی جو حقیقت نہ تھی ۔ اللہ کی قسم ! میں نے اس کو کتاب اللہ میں پایا اور نہ اس عہد میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے کر گئے تھے ۔ لیکن مجھے امید تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جئیں گے ، پس آپ نے ایسی بات کہی اور ارشاد فرمائی جس سے (شاید) آپ کی مراد ہماری آکر تھی ۔ خیر اللہ نے اپنے رسول کے لیے وہ شئی پسند کرلی جو اس کے پاس ہے بہ نسبت اس کے جو ہمارے پاس ہے۔ اب یہ کتاب ہے جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے نبی کو ہدایت دی پس تم بھی اس کو تھام لو اور تم کو بھی وہی ہدایت ملے گی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تھی ۔ (بخاری ، البیھقی فی الدلائل)
18774- عن أنس بن مالك أنه سمع عمر بن الخطاب الغد حين بويع أبو بكر في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، واستوى أبو بكر على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم تشهد قبل أبي بكر ثم قال: أما بعد فإني قلت لكم أمس مقالة لم تكن كما قلت وإني والله ما وجدتها في كتاب أنزله الله ولا في عهد عهده إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن كنت أرجو أن يعيش رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كلمة يريد حتى يكون آخرنا فاختار الله لرسوله الذي عنده على الذي عندكم، وهذا الكتاب الذي هدى الله به رسولكم فخذوه تهتدوا لما هدي له رسول الله صلى الله عليه وسلم. "خ هق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18775 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو خطبہ دینے لگے اور ان لوگوں کو قتل اور ہاتھ پاؤں کے کاٹنے کے ڈراوے دھمکاوے دینے لگے جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کہیں گے کہ آپ مرگئے ہیں۔ نیز فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیہوشی میں ہیں۔ جب کھڑے ہوں گے تو ان لوگوں کو قتل کریں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو آپ کی موت کی بات کرتے تھے ۔ جبکہ حضرت عمرو بن ام مکتوم مسجد کے آخری سرے پر کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (سے) وسیجزی اللہ الشاکرین “۔ (تک) لیکن لوگ مسجد میں ٹھاٹھیں مار رہے تھے ، گریہ وزاری میں لگے ہوئے تھے ، عمرو بن ام مکتوم کی بات کوئی نہ سن رہا تھا ۔ آخر عباس بن عبدالمطلب (رض) لوگوں کے بیچ سے نکلے اور (بلند آواز میں) فرمایا : ے لوگو ! کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی عہد ہے (نہ مرنے کا) جو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں کیا ہو ، وہ آئے اور ہم کو بتائے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں ۔ پھر آپ (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے پوچھا : اے عمر ! کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے ؟ انھوں نے عرض کیا نہیں ۔ تب حضرت عباس (رض) نے فرمایا : ے لوگو ! میں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کسی عہد و پیمان کی شہادت دے سکے جو آپ نے اس سے اپنی زندگی موت کے متعلق کیا ہو۔ اور اللہ ہی سب کا ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سخ مقام سے اپنی سواری پر سوار ہو کر تشریف لائے اور مسجد کے دروازے پر اترے ۔ پھر بڑے رنج وغم کی حالت میں اندر آئے اور اپنی بیٹی ام المؤمنین حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے آپ (رض) کو اجازت مرحمت فرمائی آپ (رض) اندر داخل ہوئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بستر پر موت کی نیند سوئے ہوئے تھے ۔ عورتیں آپ کے گردوپیش بیٹھی ہوئی تھیں آپ (رض) کو دیکھ کر گھونگھٹ نکال بیٹھیں ۔ سوائے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور ان کو چومنے لگے اور فرماتے رہے : ابن خطاب جیسے کہہ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ قسم ! میری جان کے مالک کی ! آپ کی روح پرواز کرچکی ہے۔ اور آپ وفات پاچکے ہیں۔ یا رسول اللہ ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو ۔ آپ نے کس قدر اچھی زندگی بسر کی اور آپ کی موت بھی کیا عمدہ ہے ! پھر آپ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر کپڑا ڈھک دیا ۔ پھر سرعت کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھاندتے ہوئے مسجد کی طرف نکلے حتی کہ منبر پر آگئے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھا تو بیٹھ گئے ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) منبر کے برابر میں کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نداء دی ۔ لوگ بیٹھ گئے اور شور وغوغا بند ہوگیا ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شہادت دی (اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ پڑھا) اور فرمایا : اللہ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا ہے۔ اور اللہ زندہ ہے تمہارے بیچ موجود ہے اللہ نے تمہارے نفسوں کو بھی بلاوا دے دیا ہے لہٰذا کوئی زندہ نہ رہے گا سوائے اللہ کے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” وما محمد الا رسول (سے) وسیجزی اللہ الشاکرین “۔ (تک) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے پوچھا : یہ آیت قرآن میں ہے ؟ اللہ کی قسم ! مجھے تو نہیں معلوم کہ یہ آیت آج سے پہلے کبھی نازل ہوئی ہے ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : یہی نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی فرمایا ہے : (آیت)” انک میت وانھم میتون “۔ نیز اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت)” کل شیء ھالک الا وجہہ لہ الحکم والیہ ترجعون “۔ ہر شے ہلاک ہونے والی ہے سوائے اللہ کی ذات کے اور اسی کے لیے حکم ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ نیز اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت)” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام “۔ ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم قیامت کے دن پورا بدلہ دیئے جاؤ گے ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زندگی دی اور ان کو اس وقت تک باقی رکھا جب تک انھوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا اللہ کے دین کو غالب کردیا ۔ اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ اللہ نے پھر اسی پر ان کو موت دے دی ۔ اور تم کو ایک واضح سیدھے راستے پر چھوڑ دیا ہے۔ پس اب جو ہلاک ہوگا وہ واضح دلیل اور شفاء کی بات نہ ماننے کے بعد ہلاک ہوگیا ۔ جس شخص کا رب اللہ ہے تو وہ اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا ۔ اور جو محمد کی عبادت کرتا تھا اور انہی کو معبود سمجھتا تھا پس اس کا معبود ہلاک ہوگیا ہے۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو ! اپنے دین کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنے رب پر بھروسہ کرو۔ بیشک اللہ کا دین قائم ہے ، اللہ کا کلمہ تام ہوگیا ہے۔ اللہ پاک اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا اور اس کے دین کو عزت دے گا ۔ اللہ کی کتاب ہمارے درمیان ہے۔ وہ (کھلا) نور اور شفاء ہے۔ اس کے ساتھ اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت بخشی ، اس میں اللہ کی حلال کردہ اور حرام کردہ چیزوں کا بیان ہے۔ اللہ کی قسم ! ہم کو کوئی پروا نہیں جو ہم پر غالب آنے کی کوشش کرے ۔ اللہ کی تلوار لٹک رہی ہے ہم آئندہ اس کو کبھی نیچے نہیں رکھیں گے ۔ اور ہم ہر اس شخص سے جہاد کریں گے جو ہماری مخالفت کرے گا ۔ جس طرح ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کیا ، پس کوئی باقی نہ رہے ۔ مگر اپنی جان کی حفاظت کرلے ۔ (البیہقی فی الدلائل)
18775- عن عروة قال: لما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم قام عمر بن الخطاب يخطب الناس ويوعد من قال مات بالقتل والقطع ويقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غشيته لو قد قام قتل وقطع، وعمرو بن أم مكتوم قائم في مؤخر المسجد يقرأ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ} إلى قوله {وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} والناس في المسجد قد ملأوه يبكون ويموجون لا يسمعون فخرج العباس بن عبد المطلب على الناس فقال: يا أيها الناس هل عند أحد منكم عهد من رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفاته فليحدثنا؟ قالوا: لا قال: هل عندك يا عمر من علم؟ قال: لا، قال العباس: أشهد أيها الناس أن أحدا لا يشهد على النبي صلى الله عليه وسلم بعهد عهده إليه في وفاته، والله الذي لا إله إلا هو، لقد ذاق رسول الله صلى الله عليه وسلم الموت، فأقبل أبو بكر من السنح على دابته حتى نزل بباب المسجد، ثم أقبل مكروبا حزينا، فاستأذن في بيت ابنته عائشة، فأذنت له فدخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم قد توفي على الفراش، والنسوة حوله فخمرن وجوههن واستترن من أبي بكر إلا ما كان من عائشة، فكشف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فحنا عليه يقبله ويبكي ويقول: ليس ما يقول ابن الخطاب بشيء، توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده رحمة الله عليك يا رسول الله ما أطيبك حيا، وما أطيبك ميتا، ثم غشاه بالثوب ثم خرج سريعا إلى المسجد يتوطأ رقاب الناس حتى أتى المنبر، وجلس عمر حين رأى أبا بكر مقبلا إليه. فقام أبو بكر إلى جانب المنبر ثم نادى الناس، فجلسوا وأنصتوا، فتشهد أبو بكر وقال: إن الله نعى نبيكم إلى نفسه، وهو حي بين أظهركم ونعاكم إلى أنفسكم فهو الموت حتى لا يبقى أحد إلا الله قال الله تعالى: " {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ} إلى قوله {وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} فقال عمر: هذه الآية في القرآن؟ فوالله ما علمت أن هذه الآية أنزلت قبل اليوم، وقال: قال الله لمحمد: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} ثم قال: قال الله تعالى: {كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} وقال: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْأِكْرَامِ} وقال: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} ، ثم قال: إن الله عمر محمدا صلى الله عليه وسلم وأبقاه حتى أقام دين الله وأظهر أمره، وبلغ رسالة الله، وجاهد في سبيل الله، ثم توفاه الله على ذلك، وقد ترككم على الطريق، فلن يهلك هالك إلا من بعد البينة والشفاء، فمن كان الله ربه فإن الله حي لا يموت، ومن كان يعبد محمدا ويقول له إلها فقد هلك إلهه، فاتقوا الله أيها الناس واعتصموا بدينكم وتوكلوا على ربكم، فإن دين الله قائم، وإن كلمة الله تامة، وإن الله ناصر من نصره ومعز دينه، وإن كتاب الله بين أظهرنا وهو النور والشفاء وبه هدى الله محمدا صلى الله عليه وسلم وفيه حلال الله وحرامه، والله لا نبالي من يغلب علينا من خلق الله، إن سيوف الله لمسلولة ما وضعناها بعد، وإنا لمجاهدون من خالفنا كما جاهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا يبقين أحد إلا على نفسه. "هق في الدلائل
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18776 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے پوچھا گیا کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے موقع پر وہ بات کہنے پر کس چیز نے مجبور کیا تھا ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : میں آیت کی تفسیر کرتا تھا : (آیت)” وکذلک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس “۔ ور اسی طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ للہ کی قسم میں خیال کرتا تھا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت میں باقی رہیں گے تاکہ ان کے آخری اعمال پر گواہی دے سکیں اور اسی بات نے مجھے یہ بات کہنے پر مجبور کیا تھا ۔ (البیہقی فی الدلائل)
18776- عن ابن عباس أن عمر بن الخطاب ذكر له ما حمله على مقالته التي قال حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كنت أتأول هذه الآية: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} ، فوالله إن كنت لأظن أنه سيبقى في أمته حتى يشهد عليها بآخر أعمالها، وإنه الذي حملني على أن قلت ما قلت. "هق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18777 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا تو وہ کچھ تلاش کیا جو میت سے کیا جاتا ہے۔ مگر ایسی کوئی چیز نہ پائی تو تب سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، زندگی بھی پاکیزہ بسر ک اور موت بھی پاکیزہ پائی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، ابن منیع، ابو داؤد فی مراسیلہ ، ابن ماجۃ ، المروزی فی الجنائز، مستدرک الحاکم ، السنن السعید بن منصور ، المستدرک 3 ۔ 59 صحیح ووافقہ المذھبی)
18777- عن سعيد بن المسيب قال: التمس علي من النبي صلى الله عليه وسلم لما غسل ما يلتمس من الميت، فلم يجد شيئا فقال: بأبي أنت وأمي طبت حيا وطبت ميتا. "ش وابن منيع، د في مراسيله هـ والمروزي في الجنائز ك ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18778 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو حضرت فاطمہ (رض) کہہ رہی تھیں : ہائے باوا آپ پروردگار کے کس قدر قریب ہو چلے گئے : ہائے باوا ! جنت الخلد کیا آپ کا ٹھکانا ہے ! ہائے باوا پروردگار آپ کا کس قدر اکرام کرے گا جب آپ اس کے قریب جائیں گے پروردگار بھی اور رسول بھی آپ پر سلام کرتے رہے حتی کہ آپ اپنے رب سے جا ملے ۔ (مستدرک الحاکم)
18778- عن علي أن فاطمة لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت تقول واأبتاه من ربه ما أدناه، واأبتاه جنان الخلد مأواه، واأبتاه ربه يكرمه إذا أدناه، الرب والرسل تسلم عليه حتى تلقاه."ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18779 ۔۔۔ ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں ، ہمیں ابوسعید ابن الطیوری عن الحسن بن محمد بن اسماعیل ، اسحاق بن عیسیٰ بن علی بن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ علی (رض)۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے پاس دو وفد آتے ہیں ایک دن میں ، ایک سندھ سے اور دوسرا افریقہ سے اور وہ مکمل سمع وطاعت بجا لاتے ہیں۔ ور یہ ان کی وفات کی علامت ہے۔ ابوبکر صولی (رح) کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس روایت کے علاوہ بھی ابو العباس سفاح سے کوئی اور سند روایت منقول ہے۔ اور وفات سے مراد ابو العباس کی وفات ہے نہ کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ۔ بن عساکر (رح) فرماتے ہیں جلال نے یہ روایت سفاح سے دوسری سند کے ساتھ طویل قصے کے ذیل میں نقل فرمائی ہے۔
18779- قال ابن عساكر أنبأنا أبو سعيد ابن الطيوري عن الحسن بن محمد بن إسماعيل قال: سمعت إسحاق بن عيسى بن علي يحدث عن أبيه عن أبي العباس السفاح حدثني إبراهيم بن محمد يرويه عن أبي هاشم عبد الله بن محمد بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر أنه يفد عليه وافدان في يوم واحد، من السند وافريقة بسمعهم وطاعتهم، وتلك علامة وفاته، قال أبو بكر الصولي: ولا نعلم أن السفاح روى عنه حديثا مسندا غير هذا يعني أن ذلك وفاة السفاح، لا وفاة النبي صلى الله عليه وسلم قال "كر" وقد روى الجلال هذا الحديث في قصة طويلة بإسناد آخر عن السفاح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18780 ۔۔۔ عن علی بن الحسین عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو وصیت فرمائی کہ وہ ان کو غسل دیں گے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے ڈر ہے کہ میں اس کی طاقت نہ رکھ سکوں گا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہاری اس پر مدد کی جائے گی ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : للہ کی قسم ! غسل کے وقت میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی عضو کو حرکت دینا چاہتا تو وہ خود آرام سے بدل جاتا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18780- عن علي بن الحسين عن أبيه عن جده قال: أوصى النبي صلى الله عليه وسلم عليا أن يغسله، فقال علي: يا رسول الله أخشى أن لا أطيق ذلك قال: إنك ستعان، قال علي: فوالله ما أردت أن أقلب من رسول الله صلى الله عليه وسلم عضوا إلا قلب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18781 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے میرے کنوئیں بئر غرس کے سات مشکیزے پانی کے ساتھ غسل دینا ۔ (ابوالشیخ فی الوصایا ، ابن النجار)
18781- عن علي قال: أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إذا أنا مت فاغسلني بسبع قرب من بئري بئر غرس. "أبو الشيخ في الوصايا وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18782 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو میرے قرض کو ادا کرے گا اور میرے وعدے کو پورا کرے گا میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کو قیامت میں میرا ساتھ نصیب کرے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ یا اس کے مثل بات ارشاد فرمائی ۔ (ابن ابی شیبہ ۔ رجالہ ثقات) ۔
18782- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من يقضي ديني وينجز وعدي وأدعو الله أن يجعله معي يوم القيامة، أو كلمة تشبهها. "ش ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18783 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا میں دیکھنے لگا جو میت سے دیکھتے ہیں (صفائی کرتے ہیں) مگر مجھے کچھ نظر نہ آیا ۔ آپ زندگی اور موت دونوں اچھی بسر فرماگئے ۔ ٓپ کو دفنانے اور قبر میں اتارنے اور پردہ لٹکائے رکھنے کا کام چار اشخاص نے انجام دیا : علی ، عباس ، فضل بن عباس اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام صاح ، رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لحد میں لٹایا گیا اور لحد کو کچی اینٹوں سے بند کردیا گیا ۔ (مسدد۔ المروری فی الجنائز ، مستدرک الحاکم ، السنن للبیہقی )
18783- عن علي قال: غسلت النبي صلى الله عليه وسلم فذهبت أنظر ما يكون من الميت، فلم أر شيئا، وكان طيبا حيا وميتا، وولي دفنه وإجنانه دون الناس أربعة: علي، والعباس، والفضل بن العباس، وصالح مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وألحد لرسول الله لحدا، وأنصب عليه اللبن نصبا. "مسدد والمروزي في الجنائز ك ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18784 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور آپ کو غسل نہ دے ۔ کیونکہ جو شخص میرا ستر دیکھے گا اس کی آنکھیں مٹ جائیں گے ۔ (ابن سعد ، البزار ، العقیلی وابن الجوزی فی الواھیات) ۔ بن سعد (رح) نے یہ اضافہ نقل فرمایا ہے : سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : فضل اور اسامہ پردے کے پیچھے سے مجھے پانی لا لا کر دے رہے تھے اور ان کی آنکھیں بندھی ہوئی تھیں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : میں جس عضو کو بھی ہاتھ لگاتا محسوس ہوتا کہ اس عضو کو میرے ساتھ تیس (مخفی) دوسرے آدمی ہیں جو آپ کے اعضاء کو حرکت دے رہے ہیں حتی کہ میں بسہولت غسل سے فارغ ہوگیا ۔ کلام : ۔۔۔ علامہ ابن جوزی اور علامہ عقیلی نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔
18784- عن علي قال: أوصاني النبي صلى الله عليه وسلم أن لا يغسله أحد غيري، فإنه لا يرى عورتي أحد إلا طمست عيناه. "ابن سعد والبزار عق وابن الجوزي في الواهيات زاد ابن سعد: قال علي: فكان الفضل وأسامة يناولاني الماء من وراء الستر وهما معصوبا العين، قال علي: فما تناولت عضوا إلا كأنما يقلبه معي ثلاثون رجلا حتى فرغت من غسله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18785 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تین یوم قبل اللہ پاک نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آپ کے پاس بھیجا ۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے احمد ! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے آپ کے اکرام آپ کی فضیلت اور آپ کی خصوصیت کی وجہ سے کہ پروردگار آپ سے زیادہ آپ کو جانتا ہے پھر بھی پوچھتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! میں اپنے آپ کو تکلیف زدہ محسوس کررہا ہوں ۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) دوسرے روز تشریف لائے اور فرمایا : اے احمد اللہ نے مجھے آپ کے پاس آپ کے اکرام ، آپ کی فضیلت اور آپ کی خصوصیت کی وجہ سے بھیجا ہے پروردگار آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ اپنے کو کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ حالانکہ پروردگار آپ سے زیادہ جانتا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں تکلیف محسوس کررہا ہوں ، پھر جبرائیل (علیہ السلام) تیسرے روز تشریف لائے اور فرمایا : اے احمد ! اللہ نے مجھے آپ کے اکرام اور آپ کو فضیلت دینے کے لیے اور آپ کو خصوصیت بخشنے کے لیے بھیجا ہے پروردگار آپ سے زیادہ جانتا ہے پھر بھی پوچھتا ہے کہ اب آپ اپنے کو کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اپنے آپ کو تکلیف زدہ پاتا ہوں ۔ اور اے جبرائیل (علیہ السلام) ! میں اپنے آپ کو رنجیدہ وغمزدہ محسوس کررہا ہوں ۔ جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا میں اور ایک اور فرشتہ بھی اترا جس کو اسماعیل کہا جاتا تھا وہ ستر ہزار فرشتوں کا سردار تھا ، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے احمد ! یہ ملک الموت ہے جو آپ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ اس نے آپ سے پہلے کسی سے یہ اجازت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی سے مانگے گا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو اجازت دے دو ۔ چنانچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ بھی تشریف لے آئے ۔ انھوں نے کہا : اے احمد ! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے آپ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ مجھے اپنی جان قبض کرنے کا فرمائیں گے تو میں قبض کرلوں گا اور اگر آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا ۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے احمد ! اللہ پاک آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ملک الموت ! کر گزر جس کا تجھے حکم ملا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے احمد ! تجھ پر (اس زندگی کا آخری) سلام ہو ۔ یہ میرا اس زمین پر آخری چکر ہے۔ دنیا میں میں صرف آپ کی وجہ سے آتا تھا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی اور تعزیت ہر طرف سے رونے کی آواز شروع ہوئیں تو ایک آنے والا آیا جس کی آہٹ لوگ محسوس کر رہے تھے مگر اس کا وجود نہیں دیکھ پا رہے تھے ۔ اس نے کہا : اے اہل بیت ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔ اللہ سے ہر مصیبت و تکلیف پر ثواب کی امید رکھو ۔ ہر ہلاک ہونے والے کے اچھے جانشین کا آسرا کرو ۔ ہر فوت شدہ شی کو اللہ سے پاؤ ۔ اللہ پر بھروسہ کرو ۔ اسی سے امید رکھو ، محروم تو وہ ہے جو ثواب سے محروم ہے۔ مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم ہوگیا ۔ پس تم پر سلام ہو۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے پوچھا : جانتے ہو یہ کون تھے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : یہ خضر (علیہ السلام) تھے ۔ (العدنی، ابن سعد ، البیہقی فی الدلائل)
18785- عن علي قال: لما كان قبل وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام أهبط الله جبريل إليه، فقال: يا أحمد إن الله عز وجل أرسلني إليك إكراما لك، وتفضيلا لك، وخاصة لك، يسألك عما هو أعلم به منك، يقول: كيف تجدك؟ قال: أجدني يا جبريل مكروبا، ثم جاءه اليوم الثاني فقال: يا أحمد إن الله أرسلني إليك إكراما لك، وتفضيلا لك، وخاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك يقول: كيف تجدك؟ قال: أجدني يا جبريل مكروبا، ثم عاد اليوم الثالث فقال: يا أحمد إن الله أرسلني إليك إكراما لك، وتفضيلا لك، وخاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك يقول: كيف تجدك؟ قال: أجدني يا جبريل مكروبا، وأجدني يا جبريل مغموما، وهبط مع جبريل ملك في الهواء يقال له: إسماعيل على سبعين ألف ملك، فقال له جبريل: يا أحمد هذا ملك الموت يستأذن عليك، ولم يستأذن على آدمي قبلك، ولا يستأذن على آدمي بعدك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ايذن له، فأذن له جبريل فدخل، فقال له ملك الموت: يا أحمد إن الله أرسلني إليك وأمرني أن أطيعك، إن أمرتني بقبض نفسك قبضتها، وإن كرهت تركتها، فقال جبريل: يا أحمد إن الله قد اشتاق إلى لقائك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ملك الموت امض لما أمرت به، فقال جبريل: يا أحمد عليك السلام هذا آخر وطئي الأرض، إنما كنت أنت حاجتي من الدنيا، فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاءت التعزية جاء آت يسمعون حسه ولا يرون شخصه، فقال: السلام عليكم أهل البيت ورحمة الله، في الله عزاء من كل مصيبة، وخلف من كل هالك، ودرك من كل ما فات، فبالله ثقوا، وإياه فارجوا فإن المحروم محروم الثواب، وإن المصاب من حرم الثواب، والسلام عليكم، قال علي: هل تدرون من هذا؟ قالوا: لا، قال: هذا الخضر. "العدني وابن سعد هق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق احادیث :

جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ، غسل ، تکفین ، تدفین ، کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کے اوقات سے متعلق ہیں۔
18786 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت عباس (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آپ کے مرض کی حالت میں نکلے ۔ آپ حضرات کو کچھ ملے ۔ انھوں نے پوچھا : اے ابو الحسن ! (حضرت علی (رض) کی کنیت) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی تعریف کے ساتھ آپ بہتر ہیں۔ (العدنی ، بخاری ، البیہقی فی الدلائل)
18786- عن ابن عباس قال: خرج العباس وعلي من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي فيه فلقيهما رجال، فقالوا: كيف أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يا أبا الحسن؟ قال: أصبح بحمد الله بارئا.
tahqiq

তাহকীক: