কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৭৪৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18747 ۔۔۔ قاسم بن عبدالرحمن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں میں نے خواب میں اپنے کمرے میں تین چاند دیکھے ۔ میں (اپنے والد) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئی اور ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ نے مجھی سے پوچھا تم نے اس کی کیا تعبیر لی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس سے مراد اولاد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) خاموش ہوگئے حتی کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاکر وہاں دفن ہوگئے تو حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئیں تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : یہ تیرے تین چاندوں میں سے سب سے اچھا چاند تھا جو رخصت ہوگیا ۔ پھر ابوبکر پھر عمر سب کے سب حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے کمرے میں ہی مدفون ہوئے ۔ (رواہ ابن سعد)
18747- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قالت عائشة: رأيت في حجرتي ثلاثة أقمار، فأتيت أبا بكر فقال: ما أولتيها؟ قلت: أولتها ولدا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسكت أبو بكر حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم، فأتاها فقال لها: هذا خير أقمارك ذهب به، ثم كان أبو بكر وعمر، دفنوا جميعا في بيتها. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18748 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید (رح) حضرت سعید بن المسیب (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے عرض کیا : میں نے نیند میں تین چاند دیکھے جو میرے کمرے میں آکر گرے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : خیر ہے۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں : میں نے لوگوں کو بات کرتے سنا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات کر گئے تو حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے کمرے میں دفن ہوئے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کو فرمایا : یہ تیرے چاندوں میں سے ایک تھا جو سب سے اچھا چاند تھا ۔ (ابن سعد ، مسدد)
18748- عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: قالت عائشة لأبي بكر: إني رأيت في المنام كأن ثلاثة أقمار سقطن في حجرتي، فقال أبو بكر: خير، قال يحيى: سمعت الناس يحدثون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قبض فدفن في بيتها، قال لها أبو بكر: هذا أحد أقمارك وهو خيرها. "ابن سعد ومسدد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18749 ۔۔۔ عبدالرحمن بن سعید بن یربوع سے مروی ہے کہ ایک دن سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) چادر اوڑھے ہوئے رنجیدہ وغمزدہ حالت میں تشریف لائے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو فرمایا : کیا بات ہے میں آپ کو رنجیدہ دیکھ رہا ہوں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مجھے وہ تکلیف پیش آئی ہے جو آپ کو نہیں آئی ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : دیکھو سنو ان کی بات ! میں تم لوگوں کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں بتاؤ کیا تم نے کسی کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر مجھ سے زیادہ رنجیدہ دیکھا ہے ؟ (رواہ ابن سعد)
18749- عن عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع قال: جاء علي بن أبي طالب يوما متقنعا متحازنا، فقال له أبو بكر: أراك متحازنا فقال له: إنه عناني ما لم يعنك، قال أبو بكر: اسمعوا ما يقول أنشدكم الله أترون أحدا كان أحزن على رسول الله صلى الله عليه وسلم مني؟ "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18750 ۔۔۔ البہی (رح) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ان کے پاس آئے اور بوسہ دے کر فرمایا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کی زندگی بھی کس قدر اچھی تھی اور آپ کی موت بھی کس قدر عمدہ ہے۔ (ابن سعد ، المروزی فی الجنائز)
18750- عن البهي أن النبي صلى الله عليه وسلم لما قبض أتاه أبو بكر فقبله فقال: بأبي وأمي ما أطيب حياتك وأطيب ميتتك. "ابن سعد والمروزي في الجنائز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18751 ۔۔۔ بہی (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) عین وفات کے وقت حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ تھے ۔ بلکہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے ۔ آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا آپ کی پیشانی کو چوما ۔ پھر فرمایا : آپ کی زندگی اور موت کس قدر اعلی تھی ۔ آپ اللہ کے ہاں اس سے زیادہ باعزت ہیں کہ اللہ پاک آپ کو دو مرتبہ موت کا مزہ دے ۔ (ابن سعد ، المروزی)
18751- عن البهي أن أبا بكر لم يشهد موت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء بعد موته، فكشف الثوب عن وجهه، ثم قبل جبهته، ثم قال: ما أطيب محياك ومماتك، لأنت أكرم على الله من أن يسقيك مرتين. "ابن سعد والمروزي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18752 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ کے پاس تشریف لائے میں نے (کمرے کا) پردہ اٹھا دیا آپ نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، ان للہ پڑھی اور فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے پھر سر کی طرف آئے اور بولے : ہائے نبیا ! پھر اپنا منہ نیچے کرکے آپ کی پیشانی کو چوما ۔ پھر سر اٹھا کر فرمایا : ہائے دوست ! پھر منہ نیچے لے جر کر دوبارہ آپ کی پیشانی چومی اور پھر سر اٹھا کر فرمایا : ہاے صفیا ! (مخلص دوست) پھر سہ بارہ منہ نیچے لے جا کر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا پھر کپڑے کے ساتھ چہرہ ڈھانپ کر باہر نکل گئے ۔ (رواہ ابن سعد)
18752- عن عائشة قالت: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء أبو بكر فدخل عليه، فرفعت الحجاب، فكشف الثوب عن وجهه فاسترجع فقال: مات والله رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم تحول من قبل رأسه فقال: وانبياه، ثم حدر فمه فقبل جبهته، ثم رفع رأسه فقال: واخليلاه، ثم حدر فمه فقبل جبهته، ثم رفع رأسه فقال: واصفياه، ثم حدر فمه فقبل جبهته ثم سجاه بالثوب ثم خرج. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18753 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، لوگوں نے کہا : آج ان کے پاس آنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں رہی ۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم سچ کہتے ہو پھر آپ اندر گئے اور چہرے سے کپڑا ہٹا کر چہرہ کو بوسہ دیا ۔ (رواہ بن سعد)
18753- عن ابن أبي مليكة أن أبا بكر استأذن على النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما مات، فقالوا: لا إذن عليه اليوم، قال: صدقتم، فدخل فكشف الثوب عن وجهه وقبله. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18754 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو آپ پر کپڑا ڈھکا ہوا تھا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری (بھی) جان ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکے اور آپ کو بوسلہ دیا اور فرمایا : آپ نے زندگی بھی اچھی گزاری اور موت بھی عمدہ پائی ۔ (رواہ ابن سعد)
18754- عن سعيد بن المسيب قال: لما انتهى أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده، صلوات الله عليك، ثم انكب عليه فقبله، وقال: طبت حيا وميتا. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18755 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے اندر آنے کی اجازت مانگی پھر دونوں اندر آئے اور آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : ہائے مدہوشی ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غشی (مدہوشی) کس قدر سخت تھی ! پھر دونوں اٹھ کر جانے لگے ، جب دروازے تک پہنچے تو حضرت مغیرہ (رض) نے فرمایا : اے عمر ! واللہ ! رسول اللہ وفات پاگئے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تو جھوٹ کہتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرے نہیں ہیں بلکہ تم کو فتنے (آزمائش) نے دبوچ لیا ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک منافقوں کو ختم نہ کردیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو اسی طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) تشریف لے آئے ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آپ کو حکم فرمایا : خاموش رہو۔ (خاموش رہو) چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) خاموش ہوگئے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) منبر پر چڑھے ۔ اللہ کی حمد وثناء کی ۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : (آیت)” انک میت وانھم میتون “۔ بیشک آپ مرنے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “۔ ” اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نرے رسول ہی تو ہیں ، آپ سے پہلے بھی رسول گذر چکے ہیں ، کیا پس اگر وہ مرجائیں یا شہید کردیئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے جاؤ گے ۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادتد کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئے ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے پوچھا کیا یہ کتاب اللہ میں ہے ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ہاں ۔ تب سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا : اے لوگو ! یہ ابوبکر ہیں مسلمانوں کے سردار ، ان کی بیعت کرلو ، پس لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی ۔ (رواہ ابن سعد)
18755- عن عائشة قالت: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن عمر والمغيرة بن شعبة فدخلا عليه فكشفا الثوب عن وجهه، فقال عمر: واغشيا ما أشد غشي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قاما فلما انتهيا إلى الباب قال المغيرة: يا عمر مات والله رسول الله، قال عمر: كذبت ما مات رسول الله ولكنك رجل تحوشك فتنة، ولن يموت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يفني المنافقين، ثم جاء أبو بكر وعمر يخطب الناس، فقال أبو بكر: اسكت فسكت، فصعد أبو بكر: فحمد الله وأثنى عليه، ثم قرأ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} ثم قرأ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} حتى فرغ من الآية، ثم قال: من كان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت، فقال عمر: هذا في كتاب الله؟ قال: نعم، فقال: أيها الناس هذا أبو بكر وذو شيبة المسلمين فبايعوه، فبايعه الناس. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18756 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے : سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) گذرتے چلے گئے حتی کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمرے میں داخل ہوگئے ۔ جہاں آپ کی وفات ہوئی تھی اور یہی حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کا کمرہ تھا ۔ آپ (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے یمنی چادر ہٹائی جس سے آپ کے جسم کو ڈھانپا گیا تھا ۔ آپ (رض) نے چہرے کی زیارت کی پھر اس پر جھک گئے۔ اور آپ کو بوسہ دیا پھر فرمایا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا ، وہ موت تو آپ پاچکے ہیں جس کے بعد کبھی موت نہیں آئے گی ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مسجد میں لوگوں کے پاس گئے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ان کو خطاب کر رہے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو بیٹھنے کا حکم دیا ۔ لیکن اولا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے بیٹھنے سے انکار کردیا پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دو تین مرتبہ آپ کو بیٹھنے کے لیے فرمایا مگر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نہ بیٹھے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کھڑے ہوگئے اور اللہ رسول کی شہادت دی سو لوگ آپ کی طرف آگئے اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو چھوڑ دیا۔ سو جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے تشہد مکمل کرلیا تو پھر فرمایا : ” اما بعد ! اے لوگو ! تم میں سے جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد مرگئے ہیں۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (سے) الی الشاکرین۔ (تک) جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کی تلاوت کرلی تو تب لوگوں کو یقین آگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے۔ اور لوگوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے منہ سے اس آیت کو یاد کرلیا حتی کہ کچھ لوگ کہنے لگے کہ لوگوں کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ آیت بھی نازل ہوئی جب تک کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کو تلاوت نہ فرما لیا ۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) کا گمان ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے یہ فرمایا : اللہ کی قسم مجھے اس آیت کو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے تلاوتے کرنے سے پتہ چلا پھر میں زمین پر گرگیا اور مجھے یقین ہو چلا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاچکے ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
18756- عن سعيد بن المسيب أنه سمع أبا هريرة يقول: دخل أبو بكر المسجد وعمر يكلم الناس، فمضى حتى دخل بيت النبي صلى الله عليه وسلم الذي توفي فيه وهو بيت عائشة، فكشف عن وجه النبي صلى الله عليه وسلم برد حبرة كان مسجى به، فنظر إلى وجهه ثم أكب عليه فقبله، فقال: بأبي أنت وأمي، فوالله لا يجمع الله عليك موتتين لقد مت الموتة التي لا تموت بعدها، ثم خرج أبو بكر إلى الناس في المسجد وعمر يكلمهم، فقال أبو بكر: اجلس يا عمر، فأبى أن يجلس، فكلمه أبو بكر مرتين أو ثلاثا فلما أبى عمر أن يجلس، قام أبو بكر فتشهد، فأقبل الناس إليه وتركوا عمر، فلما قضى أبو بكر تشهده قال: أما بعد فمن كان منكم يعبد محمدا فإن محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت، قال الله تبارك وتعالى: "وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل" إلى "الشاكرين"، فلما تلاها أبو بكر أيقن الناس بموت النبي صلى الله عليه وسلم وتلقاها الناس من أبي بكر حين تلاها أو كثير منهم حتى قال قائل من الناس: والله لكأن الناس لم يعلموا أن هذه الآية أنزلت حتى تلاها أبو بكر، فزعم سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب قال: والله ما هو إلا أن سمعت أبا بكر يتلوها، فعثرت وأنا قائم حتى خررت إلى الأرض، وأيقنت أن النبي صلى الله عليه وسلم قد مات. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18757 ۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان یہ بات طے پائی کہ کچھ انتطار کرو شاید آپ کو اوپر اٹھا لیا جائے ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا ۔ (رواہ ابن سعد)
18757- عن الحسن قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ائتمر أصحابه فقال: تربصوا نبيكم لعله عرج به، فقال أبو بكر: من كان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18758 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مسجد کے گوشے میں تھے ، آپ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ۔ آپ چادر میں لپٹے ہوئے تھے ۔ آپ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی پر منہ رکھا اور بوسہ دیتے ہوئے روتے رہے اور یہ فرماتے رہے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کی زندگی بھی اچھی رہی اور موت بھی ، پھر نکل کر جانے لگے تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس سے گزرے ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو فرما رہے تھے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرے ہیں اور نہ مریں گے جب تک منافقوں کو قتل نہ کردیں اور اللہ پاک منافقوں کو ذلیل ورسوا نہ کر دے ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں : منافقین حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر خوش ہوئے تھے لہٰذا انھوں نے اس موقع پر سر اٹھالیے ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ (رض) کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اے آدمی ! اپنے آپ پر قابو رکھ ! بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا : (آیت)” انک میت وانھم میتون “۔ بیشک آپ مرنے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ نیز فرمان الہی ہے : (آیت)” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افان مت فھم الخالدون “۔ ور آپ سے قبل ہم نے کسی بشر کے لیے دوام نہیں رکھا ۔ تو کیا اگر آپ مرجائیں گے تو وہ ہمیشہ رہ لیں گے ۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا : ے لوگو ! اگر محمد تمہارے معبود تھے جس کی تم پرستش کرتے تھے تو تب معبود محمد وفات پاچکے ہی ۔ اور اگر تمہارا معبود وہ ہے جو آسمانوں میں ہے تو تمہارا معبود نہیں مرا ۔ پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت کی : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت میں قبلہ الرسل أفان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “۔ الی اخر الایۃ ۔ مسلمان لوگ یہ سن کر خوش ہوگئے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا (کہ ہمارا دین لازوال اور ہمارا معبود لازوال ہے) لیکن منافقوں کو تکلیف نے دبوچ لیا ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے گویا کہ ہمارے چہروں پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا جو اس تقریر سے چھٹ گیا ۔ (ابن ابی شیبہ ، مسند البزار)
18758- عن ابن عمر قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أبو بكر في ناحية المدينة، فجاء فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مسجى فوضع فاه على جبين رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقبله ويبكي ويقول: بأبي أنت وأمي طبت حيا وطبت ميتا، فلما خرج مر بعمر بن الخطاب وهو يقول: ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يموت حتى يقتل المنافقين وحتى يخزي الله المنافقين، قال: وكانوا قد استبشروا بموت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفعوا رؤوسهم، فمر به أبو بكر فقال: أيها الرجل أربع على نفسك فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات، ألم تسمع الله يقول: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} ، وقال تعالى: {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ} ، قال: ثم أتى المنبر فصعد فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس إن كان محمد إلهكم الذي تعبدون فإن إلهكم محمدا قد مات، وإن كان إلهكم الذي في السماء فإن إلهكم لم يمت، ثم تلا {وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم} حتى ختم الآية ثم استبشر المسلمون بذلك واشتد فرحهم، وأخذ المنافقين الكآبة، قال عبد الله بن عمر: فو الذي نفسي بيده لكأنما كانت على وجوهنا أغطية فكشفت. "ش والبزار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18759 ۔۔۔ ابن جریج (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی جگہ کے بارے میں تردد ہوا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا بلکہ جہاں اس کی موت آتی ہے وہیں اس کو دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ کے بستر کو ہٹا کر وہاں قبر کھودی گئی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد) کلام : ۔۔۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ روایت اس طریق سے منقطع الاسناد ہے کیونکہ ابن جریج کے والد جریج میں ضعف ہے اور انھوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
18759- عن ابن جريج عن أبيه أنهم شكوا في قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أين يدفنونه، فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن النبي لا يحول عن مكانه يدفن حيث يموت، فنحوا فراشه فحفروا له موضع فراشه. "ش حم ولفظه: لن يقبر نبي إلا حيث يموت؛ قال ابن كثير: هذا منقطع من هذا الوجه فإن والد ابن جريج فيه ضعف ولم يدرك أيام الصديق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18760 ۔۔۔ محمد بن اسحاق اپنے والد کے توسط سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے وقت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا تھا : ٓج ہم سے وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا اور اللہ عزوجل سے کلام کا ذریعہ چھوٹ گیا ۔ (ابو اسماعیل الھروی فی دلائل التوحید)
18760- عن محمد بن إسحاق عن أبيه أن أبا بكر الصديق قال: عند وفاة النبي صلى الله عليه وسلم: اليوم فقدنا الوحي ومن عند الله عز وجل الكلام.
"أبو إسماعيل الهروي في دلائل التوحيد".
"أبو إسماعيل الهروي في دلائل التوحيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18761 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی تو مسلمانوں کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دفن کرنے میں اختلاف ہوا ، تب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے جس کو میں بھولا نہیں ہوں کہ اللہ نجے کسی نبی کی روح قبض نہیں فرمائی ، مگر اسی جگہ میں جہاں اس نبی کو مدفون ہونا پسند تھا ۔ (پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی آپ کے بستر کی جگہ دفنا دو ) ۔ (رواہ الترمذی) کلام : ۔۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت غریب (ضعیف) ہے۔ اس میں ایک راوی ملی کی ہے جس کو حدیث کے باب میں یادداشت کے حوالہ سے ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ اسی روایت کو دوسرے طریق سے ابی یعلی سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : کسی نبی کی روح اللہ اسی جگہ قبض فرماتے ہیں جو اس کو دوسری جگہوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ پس آپ کو وہاں دفن کر دو جہاں ان کی روح قبض ہوئی ہے۔
18761- عن عائشة قالت: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم اختلفوا في دفنه، فقال أبو بكر: سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم شيئا ما نسيته قال: ما قبض الله نبيا إلا في الموضع الذي يحب أن يدفن فيه، [ادفنوه في موضع فراشه] .
"ت وقال: غريب وفيه المليكي يضعف في الحديث من قبل حفظه، قال وقد روى هذا الحديث من غير هذا الوجه "ع" ولفظه: سمعته يقول: لا يقبض النبي إلا في أحب الأمكنة إليه: ادفنوه حيث قبض".
"ت وقال: غريب وفيه المليكي يضعف في الحديث من قبل حفظه، قال وقد روى هذا الحديث من غير هذا الوجه "ع" ولفظه: سمعته يقول: لا يقبض النبي إلا في أحب الأمكنة إليه: ادفنوه حيث قبض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18762 ۔۔۔ عمرہ بنت عبدالرحمن ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے روایت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے موقع پر کہنے لگے : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کیسے بنائیں ؟ کیا اس کو مسجد بنادیں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : للہ پاک یہود و نصاری پر لعنت کرے انھوں نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پوچھا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کیسی بنائیں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ایک شخص مدینہ کا لحدی (بغلی) قبر بناتا ہے اور ایک شخص مکہ کا شق (سیدھی) قبر بناتا ہے۔ پس اے اللہ تیرے نزدیک جو محبوب قبر ہو اس کے بنانے والے کو مطلع کر دے وہ تیرے نبی کی قبر بنا دے ، پس ابو طلحہ جو لحدی قبر بناتے تھے اس کو اطلاع ہوگئی ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر بنائیں ، چنانچہ پھر آپ کو (لحدی قبر میں) دفن کیا گیا اور اس پر (کچی) اینٹیں پاٹ دی گئیں ۔ (ابوبکر محمد بن حاتم بن زنجویہ البخاری فی کتاب فضائل الصدیق)
18762- عن عمرة بنت عبد الرحمن عن أمهات المؤمنين أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: كيف نبني قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أنجعله مسجدا؟ فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد، قالوا: فكيف نحفر له: فقال أبو بكر: إن من أهل المدينة رجلا يلحد، ومن أهل مكة رجل يشق، اللهم فأطلع علينا أحبهما إليك أن يعمل لنبيك، فاطلع أبو طلحة وكان يلحد، فأمره أن يلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثم دفن ونصب عليه اللبن. "أبو بكر محمد بن حاتم بن زنجويه البخاري في كتاب فضائل الصديق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18763 ۔۔۔ محمد بن اسحاق عن حسین عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ فرمایا ۔ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) اہل مکہ کے لیے (شق) قبریں کھودتے تھے اور حضرت ابو طلحہ زید بن سہل اہل مدینہ کے لیے (لحدی) قبریں کھودتے تھے ۔ حضرت عباس (رض) نے دو آدمیوں کو ملایا اور ایک کو فرمایا : تم ابو عبیدۃ کے پاس جاؤ اور دوسرے کو فرمایا : تم ابو طلحہ کے پاس جاؤ پھر حضرت عباس (رض) نے دعا کی : اے اللہ ! اپنے رسول کے لیے تو ہی جو چاہے پسند فرما لے ۔ چنانچہ ابو طلحہ (رض) کو بلانے والا پہلے ابوطلحہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کو ساتھ لے آیا ۔ پس لحدی قبر تجویز ہوگئی اور انھوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحدی قبر تیار کی ۔ منگل کے روز جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیار کرکے فارغ ہوگئے اور آپ کو چارپائی پر رکھ دیا گیا تو مسلمانوں میں دفن کرنے کے مقام پر اختلاف رائے پیدا ہوگیا ۔ کسی نے مسجد میں تدفین کی رائے دی ، کسی نے جنت البقیع میں دوسرے اصحاب کے پاس دفن کرنے کی تجویز دی ، تب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کسی نبی کی روح قبض نہیں ہوتی مگر وہ اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی روح قبض ہوئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر جس پر آپ کی وفات پائی تھی وہاں سے اٹھایا گیا اور اس کے نیچے آپ کو دفن کیا گیا ، پھر لوگوں کو بلایا گیا لوگ ہاتھ چھوڑ کر آپ پر نماز (درود وسلام) پڑھ رہے تھے ، پہلے آدمی آئے ، پھر عورتیں آئیں اور پھر داخل ہوئے ۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز پڑھانے میں کسی نے امامت نہیں کی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدھ کی نصف رات کو دفن ہوئے ۔ آپ کی قبر میں حضرت علی ، فضل قثم اور شقران داخل ہوئے تھے ۔ وس بن خولی نے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ہمارا بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حصہ ہے۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : اتر آؤ شقران نے چادر پکڑ رکھی تھی جو آپ پہنا کرتے تھے ۔ اس کو بھی قبر میں دفن کردیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس کو کوئی اور نہیں پہنے گا ۔ (ابن المدینی ، مسند احمد یعلی) کلام : ۔۔۔ ابن المدینی فرماتے ہیں اس کی سند میں کچھ ضعف ہے اور حسین بن عبداللہ بن عباس منکر الحدیث ہے۔
18763- عن محمد بن إسحاق عن حسين عن عكرمة عن ابن عباس قال: لما أرادوا أن يحفروا لرسول الله صلى الله عليه وسلم وكان أبو عبيدة بن الجراح يحفر لأهل مكة، وكان أبو طلحة زيد بن سهل هو الذي يحفر لأهل المدينة وكان يلحد، فدعا العباس رجلين، فقال لأحدهما: اذهب إلى أبي عبيدة، وقال للآخر: اذهب إلى أبي طلحة، اللهم خر لرسولك، فوجد صاحب أبي طلحة أبا طلحة فجاء به، فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما فرغ من جهازه يوم الثلاثاء وضع على سريره، وقد كان المسلمون اختلفوا في دفنه، فقال قائل: ندفنه في مسجده، وقال قائل: ندفنه مع أصحابه، فقال أبو بكر: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما قبض نبي إلا ودفن حيث قبض، فرفع فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي توفي فيه فدفن تحته، ثم دعي الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلون عليه أرسالا: الرجال حتى إذا فرغ منهم، أدخل النساء حتى إذا فرغ من النساء، أدخل الصبيان، ولم يؤم الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد، فدفن رسول الله صلى الله عليه وسلم من أوسط الليل ليلة الأربعاء، ونزل في حفرته علي والفضل وقثم وشقران، وقال أوس بن خولى: أنشدك بالله وحظنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له علي: أنزل وقد كان شقران أخذ قطيفة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها فدفنها في القبر، وقال: والله لا يلبسها أحد بعده أبدا. "ابن المديني ع. قال ابن المديني: في إسناده بعض الضعف وحسين بن عبد الله بن العباس منكر الحديث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18764 ۔۔۔ عفرۃ کے غلام عمر سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اختلاف ہوا تو کسی نے کہا : ہم آپ کو اس جگہ دفنا دیتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر آپ نماز پڑھاتے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : معاذ اللہ اللہ کی پناہ مانگو کہ ہم آپ کو معبود بنالیں ۔ دوسروں نے کہا : جہاں آپ کے مہاجرین بھائی مدفون ہیں وہاں البقیع میں دفن کردیتے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم کو یہ بات ناپسند ہے کہ قبرستان میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر ہو اور وہاں کوئی دعا مانگنے والا آپ سے دعا مانگنے لگ جائے حالانکہ یہ حق اللہ کا ہے اور اللہ کا حق رسول کے حق پر مقدم ہے۔ اگر ہم ایسا ہونے دیں گے تو اللہ کا حق ضائع ہوگا ، اور اگر پھر بعد میں وہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کو کھودیں گے تو یہ کھلی بےادبی ہوگی ۔ لوگوں نے کہا : پھر آپ کا کیا خیال ہے اے ابوبکر ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے جس نبی کی روح قبض فرمائی اس کو وہیں دفن کیا گیا جہاں اس کی روح قبض ہوئی تھی ، لوگوں نے کہا : پس اللہ کی قسم ! آپ کی بات بالکل درست ہے اس پر سب کی رضا مندی ہے۔ پھر لوگوں نے آپ کے بستر کے گرد خط کھینچا ۔ پھر آپ کو علی ، عباس ، فضل اور آپ کے گھر والوں نے اٹھایا اور دوسرے لوگ اس جگہ قبر کھودنے لگے جہاں بستر تھا ۔ (محمد بن حاتم فی فضائل الصدیق) کلام : ۔۔۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ روایت اس طریق کے ساتھ منقطع ہے۔ کیونکہ عفرۃ کے غلام عمر ضعیف ہونے کے ساتھ ایام خلافت صدیق میں نہیں تھے ۔
18764- عن عمر مولى عفرة قال: لما ائتمروا في دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال قائل: ندفنه حيث كان يصلي في مقامه، وقال أبو بكر: معاذ الله أن نجعله وثنا يعبد، وقال آخرون: ندفنه في البقيع حيث دفن إخوانه من المهاجرين، قال أبو بكر: إنا نكره إن خرج قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى البقيع فيعوذ به عائذ من الناس، لله عليه حق، وحق الله فوق حق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن أخذنا به ضيعنا حق الله، وإن أخفرناه أخفرنا قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: فما ترى أنت يا أبا بكر؟ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما قبض الله نبيا قط إلا دفن حيث قبض روحه، قالوا: فأنت والله رضي مقنع، ثم خطوا حول الفراش خطا ثم احتمله علي والعباس والفضل وأهله، ووقع القوم في الحفر يحفرون حيث كان الفراش. "محمد بن حاتم في فضائل الصديق. قال ابن كثير، وهو منقطع من هذا الوجه، فإن عمر مولى عفرة مع ضعفه لم يدرك أيام الصديق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18765 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی وفات کے بعد آپ کے جسم اطہر کے پاس آئے اور آپ کی آنکھوں کے درمیان اپنا منہ رکھ کر بوسہ دیا اور آپ کی کلائیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا : ہائے نبیا ! ہائے صفیا ! ہائے خلیلا ۔ (مسند ابی یعلی)
18765- عن عائشة أن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد وفاته، فوضع فمه بين عينيه، ووضع يده في صدغيه وقال: وانبياه واصفياه واخليلاه."ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18766 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ے لوگو ! اگر محمد تمہارے وہ معبود تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تب تو تمہارے معبود وفات پاگئے اور اگر تمہارا معبود وہ ہے جو آسمانوں میں ہے تو جان لو کہ تمہارا معبود (زندہ ہے) کبھی نہیں مرے گا ۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “۔ الی آخر الایۃ۔ (التاریخ للبخاری ، الرد علی الجھمیہ لعثمان بن سعید الدارقی ، الاصبھانی فی الحجۃ ، رجال ثقات)
18766- عن ابن عمر قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال أبو بكر: أيها الناس إن كان محمد إلهكم الذي تعبدون فإنه قد مات، وإن كان إلهكم الذي في السماء، فإن إلهكم لم يمت، ثم تلا {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} الآية. "خ في تاريخه، وعثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية، والأصبهاني في الحجة، قال ابن كثير: رجال إسناده ثقات".
তাহকীক: