কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৭২৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18727 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔ (رواہ ابو نعیم)
18727- عن أنس توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثلاث وستين سنة. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18728 ۔۔۔ حضرت عکرمہ (تلمیذ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض)) حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چالیس سال کی عمر میں وحی کا نزول شروع ہوا۔ پھر آپ تیرہ سال مکہ میں مقیم رہے ۔ مدینہ میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی ۔ (ابن ابی شیبۃ)
18728- عن عكرمة عن ابن عباس قال: أنزل على النبي صلى الله عليه وسلم الوحي وهو ابن أربعين سنة، ثم مكث بمكة ثلاث عشرة سنة، وكان بالمدينة عشر سنين، فقبض وهو ابن ثلاث وستين سنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18729 ۔۔۔ بنی ہاشم کے غلام حضرت عمار (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے ۔ مکہ میں پندرہ سال اور مدینہ میں دس سال رہے ۔ اور پینسٹھ سال کی عمر میں انتقال فرمایا (ابن ابی شیبۃ)
18729- عن عمار مولى بني هاشم عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وآل وسلم بعث وهو ابن أربعين، وأقام بمكة خمس عشرة وبالمدينة عشر سنين، فقبض وهو ابن خمس وستين سنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18730 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، تیرہ سال مکہ میں رہے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا تو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں دس سال رہ کر وفات پائی ۔ (رواہ ابن النجار)
18730- عن ابن عباس قال: نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي وهو ابن أربعين سنة، فمكث ثلاث عشرة سنة، ثم أمر بالهجرة فهاجر إلى المدينة، فمكث بها عشر سنين ثم توفي. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18731 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی جب آپ تریسٹھ سال کی عمر میں تھے ۔ (ابونعیم فی المعرفۃ)
18731- عن ابن عباس قال: قبض النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثلاث وستين سنة. "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18732 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ تریسٹھ سال کی عمر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا ۔ (ابونعیم فی المعرفۃ)
18732- عن سعيد بن المسيب قال: مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثلاث وستين سنة. "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18733 ۔۔۔ قباث بن اشیم (رض) سے مروی ہے ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے بڑے ہیں اور میں آپ سے بیس سال پہلے پیدا ہوا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے ۔ ان ہاتھیوں کے گوبر پر میری مجھے لے کر کھڑی ہوئی تھی ، اور مجھے اس واقعے کی پوری سمجھ تھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقع کی اطلاع چالیسویں سال دی گئی تھی ۔ (رواہ ابن عساکر) فائدہ : ۔۔۔ سورة فیل میں اس واقعے کا ذکر ہے ، عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال ۔ اس سال ابرہہ کافر بادشاہ نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبۃ اللہ پر حملہ کیا تھا جس میں اس کو دردناک شکست کا سامنا ہوا ۔ اسی سال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے ۔ جبکہ قباث بن اشیم (رض) اس سال بیس سال کی عمر میں تھے ۔ ابرہہ کی شکست کے بعد عرب کعبہ کے گرد اکٹھا ہوئے تو ان میں یہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ وہاں کھڑے تھے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر :
18733- عن قباث بن أشيم أنه سئل أنت أكبر أو رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم أكبر مني، وأنا أقدم منه بعشرين سنة، ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل، ووقفت بي أمي على روث الفيل محيلا أعقله، ونبئ رسول الله صلى الله عليه وسلم على رأس أربعين من الفيل."كر".

"وفاته صلى الله عليه وسلم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18734 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرمایا : چلو ام ایمن کی زیارت کریں ، جیسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی زیارت کو جاتے تھے ۔ (انہوں نے نبی اکرم کی پرورش فرمائی تھی یہ باندی آپ کو اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملی تھی جسے آپ نے بڑے ہو کر آزاد فرما دیا تھا۔ ) یہ حضرات ام ایمن کے پاس پہنچے تو وہ رو پڑیں۔ دونوں حضرات نے ان سے عرض کیا ، ام ایمن ! اللہ کے ہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ خیر ہے۔ ام ایمن بولی : میں جانتی ہوں کہ اللہ کے ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ خیر ہے لیکن میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمان کی خبریں ہم پر آنا بند ہوگئی ہیں۔ اس بات نے دونوں حضرات کو بھی برانگیختہ کردیا (اور بھڑکا دیا) پھر دونوں حضرات بھی ام ایمن کے ساتھ خوب روئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسلم ، مسند ابی یعلی ، ابو عوانہ)
18734- عن أنس قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر لعمر: انطلق بنا نزور أم أيمن كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يزورها فانطلقنا، فجعلت تبكي، فقالا لها: يا أم أيمن إن ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: قد علمت ما عند الله خير لرسول الله، ولكن أبكي على خبر السماء انقطع عنا، فهيجتهما على البكاء، فجعلا يبكيان معها. "ش م ع وأبو عوانة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18735 ۔۔۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ میرے والد (رض) فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو یہ بات ذہن میں نہ آرہی تھی کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں دفن کریں ؟ حتی کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے نبی کی قبر وہیں بنتی ہے جہاں وہ مرتا ہے ، چنانچہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر (جس پر آپ وفات کے بعد آرام فرما تھے) وہاں سے ہٹایا گیا اور اسی بستر کی جگہ قبر کھودی گئی۔ (عبدالرزاق ، مسند احمد) کلام : ۔۔۔ امام ابن حجر (رح) اور امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : یہ رواریت منقطع ہے۔
18735- عن ابن جريج قال: أخبرني أبي أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لم يدروا أين يقبروا النبي صلى الله عليه وسلم حتى قال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لم يقبر نبي إلا حيث يموت، فأخروا فراشه وحفروا له تحت فراشه صلى الله عليه وسلم. "عب حم، قال ابن كثير وابن حجر: هذا منقطع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18736 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) باہر نکلے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو تقریر کر رہے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرمایا : اے عمر ! بیٹھ جاؤ ، چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حمد وثناء کے بعد فرمایا : ما بعد ! جان لو ! جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ پاک زندہ ہیں کبھی مریں گے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “۔۔۔ الخ اور محمد صرف رسول ہی تو ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا پس اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے مڑ جاؤ گے ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا پہلے لوگوں کو علم نہ تھا کہ اللہ پاک نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ حتی کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کی تلاوت فرمائی ، تب لوگوں کو اس کا پتہ چلا ، تب ہر طرف ہر کوئی دوسرے کو اسی کو تلاوت کرتا سننے لگا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! جب میں نے یہ آیت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے سنی تو بالکل میرے پاؤں کٹ گئے ۔ میری ٹانگوں نے میرا جھوٹ اٹھانے سے انکار کردیا ۔ اور میں زمین بوس ہوگیا ۔ کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعتا وفات پا گئے ہیں۔ (مصنف عبدالرزاق ، ابن سعد ، مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد ، العدنی ، بخاری ، ابن حبان ، حلیۃ الاولیاء ، السنن للبیھقی)
18736- عن ابن عباس أن أبا بكر الصديق خرج حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر يكلم الناس، فقال: اجلس يا عمر، فتشهد ثم قال: أما بعد فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فإن الله تعالى حي لا يموت، فإن الله تعالى قال: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} الآية، قال: والله لكأن الناس لم يعلموا أن الله أنزل هذه الآية حتى تلاها أبو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم فما يسمع بشر من الناس إلا يتلوها، وقال عمر بن الخطاب: والله ما هو إلا أن سمعت أبا بكر تلاها فعقرت حتى ما تقلني رجلاي وحتى أهويت إلى الأرض وعرفت حين سمعته تلاها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات.

"عب وابن سعد ش حم والعدني خ حب حل هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18737 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مقام سخ میں اپنی رہائش گاہ سے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر مسجد آئے ۔ اور کسی سے بات چیت کیے بغیر (حجرہ میں) حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے پاس پہنچے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یمنی چادر اوڑھے ہوئے (موت کی نیند سو رہے) تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، آپ پر جھکے ، آپ کو بوسہ دیا اور رونے لگے پھر فرمایا : میرا باپ آپ پر فدا ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ پاک آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا اور ایک موت جو اللہ نے آپ کے لیے لکھ دی تھی وہ آپ نے پالی ہے۔ (بخاری ، ابن سعد، السنن للبیہقی)
18737- عن عائشة أن أبا بكر أقبل على فرس من مسكنه بالسنح حتى نزل فدخل المسجد، فلم يكلم الناس حتى دخل على عائشة، فتيمم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة فكشف عن وجهه وأكب عليه فقبله وبكى، ثم قال: بأبي أنت والله لا يجمع الله عليك موتتين أبدا أما الموتة التي كتب الله عليك فقد متها. "خ وابن سعد هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18738 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) لوگوں کے تاثرات کا جائزہ لینے لگے ، آپ (رض) نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ جاؤ دیکھو لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں ، آکر خبر دو ۔ غلام نے واپس آکر کہا : ہر طرف یہی چرچہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو انتہائی صدمہ پہنچا اور آپ کی زبان پر یہ بات جاری ہوگئی اور میری کمر ٹوٹ گئی ۔ پھر آپ (رض) مسجد میں بھی پہنچے تھے مگر لوگ گمان کرنے لگے آپ (رض) نہیں پہنچے ۔ (ابن خسرو)
18738- عن أنس قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأصبح أبو بكر يرى الناس يترامسون، فأمر غلامه يستمع، ثم يخبره، فقال: سمعتهم يقولون: مات محمد، فاشتد أبو بكر وهو يقول: وانقطاع ظهري فما بلغ المسجد حتى ظنوا أنه لم يبلغ. "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18739 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکفین وغیرہ کی تیاری میں مصروف ہوئے تو ہم نے تمام لوگوں پر دروازہ بند کردیا۔ تب انصار نے آواز دی ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ننہیال والے ہیں اور ہمارا اسلام میں بھی اچھا مرتبہ ہے۔ (لہذا ہم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے) قریش کہنے لگے : ہم آپ کے قبیلے والے ہیں۔ (ہمیں اندر آنے دیا جائے) تب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بولے ہم تم سب کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں۔ اگر تم اندر آگئے تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکفین تدفین میں بہت تاخیر ہوجائے گی ۔ اس لیے اللہ کی قسم ! صرف وہی شخص داخل ہو جس کو بلایا جائے ۔ (ابن سعد)
18739- عن علي بن أبي طالب كرم الله وجهه قال: لما أخذنا في جهاز رسول الله صلى الله عليه وسلم أغلقنا الباب دون الناس جميعا، فنادت الأنصار نحن أخواله ومكاننا من الإسلام مكاننا، ونادت قريش نحن عصبته، فصاح أبو بكر: يا معشر المسلمين كل قوم أحق بجنائزهم من غيرهم فننشدكم الله فإنكم إن دخلتم أخرتموهم عنه، والله لا يدخل أحد إلا من دعي. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18740 ۔۔۔ علی بن الحسین سے مروی ہے کہ اس موقع پر انصار نے کہا : ہمارا حق ہے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری بہن کے بیٹے تھے (حضرت آمنہ انصار کے قبیلے بنی نجار سے تعلق رکھتی تھیں) اور اس کے علاوہ اسلام میں ہمارا ایک مقام ہے۔ چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو بلا کر ارشاد فرمایا : آپ کی قوم آپ کی زیادہ حق دار ہے تم علی (رض) اور عباس (رض) سے بات کرو ۔ آپ کے پاس وہی جاسکے گا جس کو یہ حضرات بلائیں گے ۔ (ابن سعد)
18740- عن علي بن الحسين قال: نادت الأنصار إن لنا حقا وإنما هو ابن أختنا ولمكاننا من الإسلام مكاننا، فطلبوا إلى أبي بكر، فقال: القوم أولى به، فاطلبوا إلى علي وعباس، فإنه لا يدخل عليهم إلا من أرادوا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18741 ۔۔۔ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد کا لکھا ہوا ایک مکتوب گرامی پایا جس میں لکھا تھا : جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا اور آپ کو چارپائی پر رکھ دیا گیا تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اندر داخل ہوئے اور بولے : ” السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ ان دونوں حضرات کے ساتھ اور بھی لوگ داخل ہوئے جس قدر اس کمرے میں سما سکتے تھے ۔ جو مہاجرین اور انصار دونوں گروہوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ انھوں نے بھی حضرات ابوبکر وعمر (رض) کی طرح سلام کیا ۔ پھر سب نے صفیں بنالیں ۔ حضرات ابوبکر وعمر (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پہلی صف میں تھے ۔ دونوں نے کہنا شروع کیا : للہم انا نشھد ان قد بلغ ما انزل الیہ ونصح لا متہ وجاھد فی سبیل اللہ حتی اعز اللہ دینہ وتمت کلماتہ فامن بہ وحدہ لا شریک لہ ، فاجعلنا یا الھنا ممن یتبع القول الذی معہ واجمع بیننا وبینہ حتی یعرفا ونعرفہ فانہ کان بالمؤمنین رؤفا رحیما، لا نبتغی بالایمان بدلا، ولا نشتری بہ ثمنا ابدا “۔ ” اے اللہ ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حق رسالت ادا کردیا ، امت کے لیے پوری خیر خواہی برتی ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ اللہ نے ان کے دین کو غالب کردیا ان کے دین کے احکام مکمل ہوئے۔ آپ اللہ پر ایمان لے آئے جو وحدہ لاشریک ہے۔ اے اللہ ! ہم کو ان لوگوں میں سے بنا جو اس کلام پر عمل کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نازل ہوا ۔ ہم کو اور ان کو آپس میں جمع کر دے تاکہ یہ ہم کو پہچانیں اور ہم ان کو پہچانیں بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤمنین پر مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔ ہم ایمان کا کوئی بدل نہیں چاہتے ، اور نہ اس کے عوض کوئی مال چاہتے کبھی بھی ۔

بقیہ حضرات سب آمین آمین کہتے رہے ۔ پھر یہ نکل جاتے اور دوسرے لوگ داخل ہوجاتے حتی کہ یوں پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے آپ پر درود وسلام بھیجا ۔ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو پھر آپ کی قبر کی جگہ کی بحث چھڑ گئی ۔ (ابن سعد)
18741- عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي قال: وجدت هذا في صحيفة بخط أبي فيها: لما كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع على سريره دخل أبو بكر وعمر فقالا: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ومعهما نفر من المهاجرين والأنصار قدر ما يسع البيت فسلموا كما سلم أبو بكر وعمر، وصفوا صفوفا لا يؤمهم عليه أحد، فقال أبو بكر وعمر وهما في الصف الأول حيال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إنا نشهد أن قد بلغ ما أنزل إليه ونصح لأمته وجاهد في سبيل الله حتى أعز الله دينه وتمت كلماته فآمن به وحده لا شريك له، فاجعلنا يا إلهنا ممن يتبع القول الذي أنزل معه واجمع بيننا وبينه حتى يعرفنا ونعرفه، فإنه كان بالمؤمنين رؤفا رحيما، لا نبتغي بالإيمان بدلا، ولا نشتري به ثمنا أبدا، فيقول الناس: آمين آمين، ثم يخرجون ويدخل عليه آخرون حتى صلوا عليه، الرجال، ثم النساء، ثم الصبيان، فلما فرغوا من الصلاة تكلموا في موضع قبره. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18742 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آپ کو کہاں دفن کریں ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : آپ کو اسی جگہ دفن کر دو ، جہاں اللہ نے ان کی روح قبض فرمائی ہے۔ پس آپ کو بستر سمیت اس جگہ سے ہٹایا گیا اور اس کے نیچے قبر کھود کر آپ کو دفن کیا گیا ۔ (ابن سعد)
18742- عن عروة قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل أصحابه يتشاورون أين يدفنونه؟ فقال أبو بكر: ادفنوه حيث قبضه الله فرفع الفراش فدفن تحته."ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18743 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب (رض) دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں دفن کیا جائے ؟ ایک کہنے والے نے کہا : منبر کے پاس دفن کیا جائے ، کسی نے کہا اس جگہ دفن کیا جائے جہاں کھڑے ہو کر آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔ تب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : جہاں اللہ پاک نے آپ کی روح قبض فرمائی ہے وہیں آپ کو دفن کیا جائے ، پس وہاں سے بستر ہٹایا گیا اور اس جگہ گڑھا کھودا گیا ۔ (ابن سعد)
18743- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قالا: قال أبو بكر: أين يدفن؟ فقال قائل منهم: عند المنبر يدفن وقال قائل منهم: حيث كان يصلي يؤم الناس، فقال أبو بكر: بل يدفن حيث توفى الله نفسه، فأخر الفراش، ثم حفر له تحته."ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
1044 2 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو لوگوں میں یہ سال اٹھا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اسی جگہ جہاں آپ نے وفات پائی ہے۔ (ابن سعد) کلام : ۔۔۔ سند صحیح ہے۔
18744- عن عائشة قالت: لما مات النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: أين يدفن؟ فقال أبو بكر: في المكان الذي مات فيه. "ابن سعد وسند صحيح"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18745 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب منگل کے روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکفین وغیرہ سے فارغ ہوئے اور آپ کو آپ کے کمرے میں آپ کی چارپائی پر لٹا دیا گیا تو پھر مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ۔ کسی نے کہا : آپ کو مسجد میں دفن کردیا جائے ۔ کسی نے کہا : آپ کو اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان (جنت البقیع) میں دفن کیا جائے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جب بھی کوئی نبی فوت ہوا ہے اس کو اسی جگہ دفن کیا گیا ہے جہاں اس کی روح قبض ہوئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر جس پر آپ نے وفات پائی تھی ۔ وہاں سے ہٹایا گیا ۔ پھر اس کے نیچے قبر کھودی گئی ۔ (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ اس کی سند متصل اور روات ثقہ ہیں مگر اس میں واقدی بھی ہے۔ لیکن شواہد اس کی روایت کے نقصان کو پورا کر رہے ہیں۔
18745- عن ابن عباس قال: لما فرغ من جهاز رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الثلاثاء وضع على سريره في بيته، وكان المسلمون قد اختلفوا في دفنه فقال قائل: ادفنوه في مسجده، وقال قائل: ادفنوه مع أصحابه بالبقيع، قال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما مات نبي إلا دفن حيث يقبض، فرفع فراش النبي صلى الله عليه وسلم الذي توفي عليه، ثم حفر له تحته.

"ابن سعد "وسنده متصل ورجاله ثقات، إلا أن فيه الواقدي والشواهد تجبره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر
18746 ۔۔۔ عمر بن ذر سے مروی ہے کہ میں نے ابوبکر بن عمرو بن حفص کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے اپنے دوست محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ کبھی کوئی نبی نہیں مرا مگر وہ اسی جگہ مدفون ہوا ہے جہاں اس کی وفات ہوئی ہے۔ (رواہ ابن سعد)
18746- عن عمر بن ذر قال: سمعت أبا بكر بن عمرو بن حفص قال: سمعت أبا بكر قال: سمعت خليلي صلى الله عليه وسلم يقول: ما مات نبي قط في مكان إلا دفن فيه. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক: