কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৭০৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18707 ۔۔۔ ابو طلحہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن تک وہاں ٹھہرتے ۔ (ابن النجار)
18707- عن أبي طلحة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ظهر على قوم أقام بالعرصة ثلاثا. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭০৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18708 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدخلق تھے اور نہ بد زبان ، اور نہ بازاروں میں شور وشغب کرنے والے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18708- عن أبي هريرة قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا ولا سخابا في الأسواق. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭০৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18709 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ صبح کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں بیٹھے رہتے تھے ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے اور جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں داخل نہ ہوجاتے ہم کھڑے ہی رہتے ۔ یونہی ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے تو ابھی مسجد کے درمیان تک ہی پہنچے تھے کہ ایک اعرابی آپ کو آملا ۔ بولا : اے محمد ! مجھے دو اونٹ دیجئے ، کیونکہ یہ آپ اپنے مال سے دیتے ہو اور نہ اپنے باپ کے مال سے ۔ ساتھ میں وہ اعرابی آپ کو چادر سے پکڑ کر (بدتمیزی کے ساتھ) کھینچنے لگا ۔ حتی کہ (چادر آپ کے گلے میں بل کھا گئی اور) آپ کی گردن سرخ ہوگئی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمایا : نہیں ، میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور میں تمہاری یہ خواہش پوری نہیں کروں گا جب تک تم مجھے باندھ نہیں لوگے ۔ (یعنی تم جس قدر بدتمیزی زیادہ کرلو میں پھر بھی تم کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کروں گا بلکہ تمہاری بات پوری کروں گا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو بلایا اور اس کو فرمایا : اس آدمی کو دو اونٹ دے دو ۔ ایک جو سے لدا ہوا ہو اور ایک کھجور سے ۔ (ابن جریر) ۔
18709- وعنه قال: كنا نقعد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالغدوات في المسجد فإذا قام إلى بيته لم نزل قياما حتى يدخل بيته، فقام يوما فلما بلغ وسط المسجد أدركه أعرابي فقال: يا محمد احملني على بعيرين فإنك لا تحملني من مالك ولا مال أبيك وجذب بردائه حين أدركه فاحمرت رقبته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، وأستغفر الله لا أحملك حتى تقيدني قالها ثلاث مرات، ثم دعا رجلا فقال له: احمله على بعيرين، على بعير شعير وعلى بعير تمر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18710 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ مجالس میں اٹھتے بیٹھتے تھے اور ہم سے بات چیت کرتے تھے ۔ آپ جب کھڑے ہوتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تھے ۔ حتی کہ آپ کو اپنی کسی بیوی کے گھر میں داخل ہوتا ہوا دیکھ لیتے ۔ (رواہ ابن النجار)
18710- وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا في المجالس يحدثنا فإذا قام قمنا حتى نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18711 ۔۔۔ حضرت حفصہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دایاں ہاتھ کھانے ، پینے ، پاکیزگی حاصل کرنے ، کپڑے پہننے اور نماز کے (کاموں) کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ دوسرے کاموں کے لیے تھا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
18711- عن حفصة كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعامه وشرابه وطهوره وثيابه وصلاته وكانت شماله لما سوى ذلك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18712 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دایاں ہاتھ کھانے پینے اور نماز کے لیے تھا ۔ اور بایاں ہاتھ اور کاموں کے لیے تھا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
18712- عن عائشة قالت: كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعامه وصلاته، وكانت شماله لما سوى ذلك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18713 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا گیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ آسان کام کو پسند کیا جب کہ وہ گناہ نہ ہو ۔ اگر اس میں گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے دور بھاگنے والے تھے ۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ کی حرمت پامال کی جا رہی ہو تو تب آپ ضرور اس کے لیے انتقام لیتے تھے ۔ (مؤطا امام مالک ، بخاری ، مسلم ، ابو داؤد نسائی )
18713- وعنها قالت: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما ما لم يكن إثما، فإن كان إثما كان أبعد الناس منه، وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط إلا ان تنتهك حرمة الله فينتقم لله بها.

"مالك خ م د ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18714 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی خادم کا مارا اور نہ کبھی کسی بیوی کا یا کسی کو بھی نہیں مارا ۔ (رواہ ابو داؤد)
18714- وعنها قالت: ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم خادما ولا امرأة قط. "د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18715 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی خادم کا مارا اور نہ کبھی کسی بیوی کا یا کسی کو بھی نہیں مارا الایہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہوں (تو ضرور کافروں کا مارا ہے) نہ کبھی آپ نے اپنی ذات کے لیے کوئی انتقام لیا ۔ خواہ انتقام کے لیے سامنے پیش کردیا جائے ہاں مگر جب کبھی اللہ کی حرمتوں کا پامال کیا گیا تو آپ نے ضرور اللہ کے لیے انتقام لیا ہے (مثلا کسی اور فاطمہ نے چوری کی او آپ نے اس کا ہاتھ کٹوایا) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا آپ نے ہمیشہ آسان شی کو قبول کیا الایہ گناہ کی صورت ہو اگر گناہ کی صورت ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے کوسوں دور بھاگنے والے تھے (مصنف عبدالرزاق مسند احمد عبد بن حمید ابن عساکر)
18715- وعنها قالت: ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده خادما قط ولا امرأة ولا شيئا إلا أن يجاهد في سبيل الله، ولا انتقم لنفسه من شيء يؤتى به إليه حتى تنتهك محارم الله فيكون هو ينتقم لله عز وجل، ولا خير بين أمرين إلا اختار أيسرهما حتى يكون إثما فإذا كان إثما كان أبعد الناس من الإثم. "عب حم وعبد بن حميد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18716 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب بھی کوئی ظلم ڈھایا گیا آپ نے کبھی کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا لیکن جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی شی کا پامال کیا گیا تو آپ سب سے زیادہ اس کا بدلہ لینے والے تھے اور جب بھی آپ کو دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا آپ نے ہمیشہ آسان شی کو قبول کیا ۔ (مسند ابی یعلی ابن عساکر)
18716- وعنها قالت: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم منتصرا من ظلامة ظلمها قط إلا أن ينتهك من محارم الله شيء، فإذا انتهك من محارم الله شيء كان أشدهم في ذلك، وما خير بين أمرين قط إلا اختار أيسرهما. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18717 ۔۔۔ ابو عبداللہ جدلی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا اخلاق تھا ؟ انھوں نے فرمایا : آپ تمام انسانوں میں سب سے بہترین اخلاق کے حامل تھے ۔ آپ نہ بد خلق تھے اور نہ فحش گوطعن تشنیع کرنے والے نہ آپ بازاروں میں شوورشغب کرتے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے لیتے تھے بلکہ عفو و در گذر سے کام لیتے تھے ۔ (ابو داؤد الطیالسی مسند احمد ابن عساکر)
18717- عن أبي عبد الله الجدلي قال: قلت لعائشة: كيف كان خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم في أهله؟ قالت: كان أحسن الناس خلقا لم يكن فاحشا ولا متفحشا ولا سخابا في الأسواق ولا يجزي بالسيئة مثلها، ولكن يعفو ويصفح.

"ط حم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18718 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ان سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے یہ کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اخلاق قرآن تھا قرآن (کے حکم) کی وجہ سے خوش ہوتے تھے اور اسی کی وجہ سے ناراض ہوتے تھے ۔ (ابن عساکر)
18718- عن عائشة أنها سئلت عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: كان خلقه القرآن يرضى لرضاه ويسخط لسخطه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18719 ۔۔۔ حضرت عمرۃ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں کے ساتھ خلوت میں ہوتے تھے تو کیا (اخلاق) برتنے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں کی طرح رہتے تھے ہاں مگر وہ سب سے زیادہ کریم النفس اور سب سے زیادہ ہنسنے مسکرانے والے تھے (الخر ائطی ابن عساکر)
18719- عن عمرة قالت: سألت عائشة كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خلا مع نسائه قالت: كان كالرجل من رجالكم إلا أنه كان أكرم الناس وألين الناس ضحاكا بساما. "الخرائطي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18720 ۔۔۔ عن شقیق عن جابر عن ام محمد سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تاریک جگہ میں نہ بیٹھتے تھے جب تک وہاں چراغ نہ جلا دیا جاتا تھا (رواہ ابن النجار)
18720- عن شقيق عن جابر عن أم محمد عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يقعد في بيت مظلم حتى يضاء له بسراج. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18721 ۔۔۔ عمر بن عبد العزیز یوسف بن عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ بنی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیٹھ کر بات چیت فرماتے تو اکثر آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے رہتے تھے (مستدرک الحاکم)
18721- عن عمر بن عبد العزيز عن يوسف بن عبد الله بن سلام قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا جلس يتحدث يكثر أن يرفع بصره إلى السماء. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18722 ۔۔۔ (مسند عبادۃ بن صامت) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب چاند دیکھتے تو یہ فرماتے : للہ اکبر اللہ اکبر لا حول ولا قوۃ الا باللہ اللھم انی اسائک خیر ھذا الشھر واعوذبک من شر القدرو اعوذبک من شر یوم المحشر) اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ کی مدد کے بغیر برائی سے اجتناب ممکن نہیں اور اللہ کی مدد کے بغیر نیکی پر قوت نہیں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ماہ کی خیرو برکت کا اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تقدیر کے شر سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں حشر کے دن کے شر سے (مصنف ابن ابی شیبہ)
18722- "من مسند عبادة بن الصامت" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى الهلال قال: الله أكبر الله أكبر لا حول ولا قوة إلا بالله، اللهم إني أسألك خير هذا الشهر، وأعوذ بك من شر القدر، وأعوذ بك من شر يوم المحشر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18723 ۔۔۔ (مسند ابن مسعود (رض)) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خمس (مال غنیمت کے پانچویں حصے) سے قیدی لائے جاتے تو آپ ایک گھر والے قیدیوں کو الگ الگ نہیں کرتے تھے بلکہ آپ ناپسند کرتے تھے کہ ان کے درمیان جدائی ڈالیں ۔ (ابن ماجۃ ترمذی نسائی ابو داؤد)
18723- "مسند ابن مسعود" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤتى بالسبي من الخمس فيعطي أهل البيت جميعا ويكره أن يفرق بينهم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18724 ۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ دومۃ الجندل کے بڑے سردار اکیدر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک مٹکا ہدیہ بھیجا جس میں من تھا ۔ اور اس دن اللہ کے بنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اہل خانہ کو اس کی سخت حاجت بھی تھی۔ لیکن آپ نے نماز پڑھ کر لوگوں کا بلانے کا حکم دیا ۔ پھر وہ مٹکا سب کے سامنے ایک ایک کر کے پیش کیا گیا ۔ ہر آدمی اپنا ہاتھ ڈال کر اس سے نکالتا اور کھاتا ۔ جب حضرت خالد بن ولید کی باری آئی تو انھوں نے بھی ہاتھ ڈالا اور کھایا انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب نے ایک ایک بار کھایا اور میں نے دو متربہ نکالا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خود بھی کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاؤ ۔ رواہ ابن جریر)
18724- عن الحسن قال: أهدى أكيدر دومة الجندل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم جرة فيها المن الذي رأيتم وبالنبي صلى الله عليه وسلم وأهل بيته يومئذ والله بها حاجة، فلما قضى الصلاة أمر طائفا فطاف بها على أصحابه فجعل الرجل يدخل يده فيستخرج فيأكل، فأتى على خالد بن الوليد، فأدخل يده فقال: يا رسول الله أخذ القوم مرة وأخذت مرتين، فقال: كل وأطعم أهلك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18725 ۔۔۔ حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی عورت کو پیغام نکاح دیتے ، اس کے لیے مہر بتاتے اور اس کو حضرت سعد (رض) کے پیالے کی امید دیتے کہ میں جب بھی ان کی باری میں ان کے پاس آؤں گا میرے ساتھ سعد (رض) کا ثرید کا پیالہ بھی آئے گا ۔ حضرت سعد (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہر رات جہاں بھی ہوں ثرید کا بھرا پیالہ بھیجتے تھے ۔ (الرؤیانی ، ابن عساکر)
18725- عن سهل بن سعد أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب المرأة ويصدق لها صداقها ويشرط لها صحفة سعد تدور معي إذا درت إليك وكان سعد بن عبادة يرسل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بصحفة كل ليلة حيث كان جاءته. "الرؤياني، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شمائل ۔۔۔ عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک :
18726 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چالیس سال کی مدت میں نبوت عطا ہوئی ، پھر آپ دس سال مکہ میں رہے اور دس سال مدینے میں مقیم رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
18726- عن أنس قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم على رأس أربعين فأقام بمكة عشرا وبالمدينة عشرا، وتوفي على رأس ستين سنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক: