কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৬৮৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18687 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ام سلیم نے مجھے صرف ان چند چیزوں کا وارث بنایا تھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر ، آپ کا پینے کا پیالہ ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیمے کی لکڑی ، سل (جس پر مسالے وغیرہ پیسے جاتے ہیں) اس سل پر ام سلیم (رض) رامک (خوشبو) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پسینے کے ساتھ ملا کر پیستی تھیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلیم (رض) کے گھر میں ان کے بستر پر ہوتے تھے پھر آپ پر وحی اترتی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے ، جس طرح بخار زدہ ہوجاتا ہے۔ پھر ام سلیم (رض) اس پسینے اور رامک خوشبو کو ساتھ ملا کر پیس لیتی تھیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
18687- عن أنس قال: ما ورثتني أم سليم إلا برد رسول الله صلى الله عليه وسلم وقدحه الذي كان يشرب فيه، وعمود فسطاطه، وصلاية كانت تعجن عليها أم سليم الرامك بعرق رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون في بيت أم سليم، فينزل عليه الوحي وهو على فراشها، فيجدل كما يجدل المحموم فيعرق، فكانت أم سليم تعجن الرامك بعرقه.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18688 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے اچھے اخلاق والے انسان تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18688- عن أنس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18689 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کر رہے تھے ، لگام آپ کی دو انگلیوں کے بیچ میں دبی ہوئی تھی ۔ لگام چھوٹ کر گرگئی ۔ آپ لگام اٹھانے کے لے آگے کو جھکے اور انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ساتھ اٹھالی ۔ (اور دعا کرتے ہی رہے ) ۔ (مصنف عبدالرزاق۔ اس میں ایک راوی ابان ہے)
18689- عن أنس كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو والزمام بين أصبعيه فسقط الزمام، فأهوى ليأخذه، وقال بأصبعه التي تلي الإبهام فرفعها. "عب وفيه إبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18690 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چاشت کے وقت میں اپنی نو بیویوں کے پاس چکر لگا لیتے تھے ۔ (رواہ ابو نعیم)
18690- عن أنس كان النبي صلى الله عليه وسلم يطوف على تسع نسوة في ضحوة. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18691 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا ۔ آپ طویل سکوت اور قلیل ہنسی والے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
18691- عن جابر بن سمرة قال: كنت أجالس النبي صلى الله عليه وسلم وكان طويل الصمت قليل الضحك. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18692 ۔۔۔ حبشی بن جنادہ (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ خوش اخلاق اور ہنس مکھ انسان تھے ،۔ (رواہ ابن عساکر) کلام :۔۔۔ اس روایت میں حصن بن مخارق راوی (واہ) لغو اور ناقابل اعتبار ہے۔
18692- عن حبشي بن جنادة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أفكه الناس خلقا. "كر وفيه حصن بن مخارق واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18693 ۔۔۔ ابو لیلیٰ کندی سے مروی ہے میں نے اس گھر کے مالک کو کہتے ہوئے سنا کہ میں منیٰ میں جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے آپ سے ملا ، میں نے آپ کی سواری کے کجاوے پر ہاتھ رکھا تو کجاوے کے گدے سے مشک کی خوشبو آرہی تھی ۔ (رواہ ابو نعیم)
18693- عن أبي ليلى الكندي قال: سمعت رب هذه الدار حريزا قال: انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب بمنى، فوضعت يدي على رحله فإذا ميثرته مسك ضائنة. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18694 ۔۔۔ حسین بن علی (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس قدر بھی مخلوق پیدا فرمائی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب میں سے اچھی خلقت (اور اچھے اخلاق) والے تھے ۔ (الکامل لابن عدی ، ابن عساکر)
18694- عن الحسين بن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن ما خلق الله خلقا. "عد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18695 ۔۔۔ حصین بن یزید کلبی سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسنے میں صرف مسکراہٹ کی حد تک دیکھا اور اکثر اوقات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھ لیتے تھے ۔ (ابن مندہ ، ابو نعیم ، ابن عساکر)
18695- عن الحصين بن يزيد الكلبي قال: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم ضاحكا ما كان إلا تبسما، وربما شد النبي صلى الله عليه وسلم الحجر على بطنه من الجوع. "ابن منده وأبو نعيم، كر". مر برقم [18636] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18696 ۔۔۔ قرۃ بن ایاس بن ہلال بن رباب مزنی سے مروی ہے کہ میں بچپن میں اپنے والد کے ہمراہ تھا کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ۔ میں نے آپ کو کھلی ہوئی ازار میں دیکھا ۔ (الکبیر للطبرانی)
18696- عن قرة بن إياس بن هلال بن رباب المزني قال: كنت مع أبي حيث أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام، فوجدته محلول الإزار. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18697 ۔۔۔ عبدالرحمن اپنے والد کعب سے وہ اپنے والد سعد قرظ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ جنگ کے موقع پر اپنی کمان کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18697- عن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه عن جده سعد القرظ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب في الحرب وهو متكيء على قوسه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18698 ۔۔۔ حضرت صہیب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھ لیتے تھے تو منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے تھے ۔ جس کی ہم کو خبر نہ دیتے تھے ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ جب بھی نماز پڑھ لیتے ہیں تو پست آواز میں کچھ پڑھتے ہیں جو ہم کو سمجھ میں نہیں آتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے سننے کی کوشش کی ؟ صہیب (رض) فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے انبیاء (علیہ السلام) میں سے کسی نبی کو یاد کیا ۔ اللہ نے اس کو اسی کی قوم میں سے ایک لشکر عطا کیا تھا ۔ اس نبی نے ایک مرتبہ ان کو دیکھ کر فرمایا تھا : کون ان کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ تب اللہ پاک نے (بطور عتاب) اس پیغمبر کو فرمایا : اب اپنی قوم کے لیے تین باتوں میں سے کوئی ایک پسند کرلو، یا تو ہم ان پر کسی اور قوم میں سے دشمن مسلط کردیں ، یا عام موت یا عام بھوک سب کو آجائے ، پیغمبر نے اپنی قوم سے اس کا تذکرہ کیا اور ان سے مشورہ لیا ، قوم نے کہا : آپ اللہ کے نبی ہیں ، آپ ہی کوئی چیز اختیار فرما لیں ، چنانچہ پیغمبر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ یہ لوگ جب بھی کسی مصیبت کا شکار ہوتے تھے تو نماز میں مشغول ہوجاتے تھے ۔ پیغمبر نے قوم کو نماز پڑھائی پھر دعا کی : اے اللہ ! اگر تو ان پر ان کے کسی مخالف دشمن کو مسلط کرے یہ تو ہم کو منظور نہیں ، بھوک بھی ہم کو قبول نہیں ، ہاں موت کو ان پر مسلط فرما دے ، لہٰذا اللہ پاک نے ان پر موت کی ہوا چلا دی، پس تین دنوں میں ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے ، پس تب سے میں اندر ہی اندر یہ دعا کرتا ہوں : ” اللہم بک احاول وبک اصاول ولا قوۃ الا بک “۔ ے اللہ میں تیری مدد کے ساتھ ہی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تیری مدد کے ساتھ کسی پر حملہ کرتا ہوں اور ہر طرح کی طاقت وقوت تیری مدد کے ساتھ ممکن ہے۔ ” السنن لسعید بن منصور “۔
18698- عن صهيب كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى همس شيئا لا يخبرنا به، فقلنا: يا رسول الله إنك مهما إذا صليت همست شيئا لا نفقهه؟ قال: فطنتم بي؟ فقلت: نعم، قال: ذكرت نبيا من الأنبياء أعطاه الله جنودا من قومه فنظر إليهم فقال: من يكافئ هؤلاء؟ وقال: اختر لقومك إحدى ثلاث: إما أن نسلط عليهم عدوا من غيرهم، أو الجوع أو الموت، فعرض ذلك على قومه، فقالوا: أنت نبي الله فاختر لنا فقام إلى الصلاة: وكانوا مهما إذا فزعوا، فزعوا إلى الصلاة، فصلى بهم ثم قال: اللهم أما أن تسلط عليهم عدوا من غيرهم فلا، أو الجوع فلا، ولكن الموت، فسلط عليهم الموت، فمات منهم سبعون ألفا في ثلاثة أيام قال: فهمسي الذي تسمعون أني أقول: اللهم بك أحاول وبك أصاول ولا قوة إلا بك. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18699 ۔۔۔ حضرت صہیب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ حنین میں فجر کی نماز کے بعد ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ۔ آپ کو کہا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ابھی ہونٹوں کو حرکت دینے لگے ہیں ، پہلے آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۔ آپ کیا پڑھتے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں یہ پڑھتا ہوں : ” اللہم بک احوال وبک اصول وبک اقاتل “۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اللہم بک احاول وبک اصاول وبک اقاتل “۔ (ابن جریر)
18699- عن صهيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أيام حنين يحرك شفتيه بعد صلاة الفجر، فقيل: يا رسول الله إنك تحرك شفتيك بشيء ما كنت تفعله فما الذي تقول؟ قال أقول: اللهم بك أحول وبك أصول وبك أقاتل - في لفظ: بك أحاول وبك أصاول. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18700 ۔۔۔ عداء بن خالد سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا ۔ (رواہ ابو نعیم)
18700- عن العداء بن خالد قال: خرجت مع أبي فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18701 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانگ میں مشک دیکھی اور ہم رات کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی میں لگی ہوئی خوشبو سے پہچانتے تھے ۔ (الخفاف فی معجمہ ، ابن النجار)
18701- عن ابن عمر قال: رأيت المسك في مفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم وما كنا نعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم في ظلمة الليل إلا بالغالية في لحيته. "الخفاف في معجمه، وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18702 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوتے میں دو پٹی تھیں ۔ (الکامل لابن عدی) 18431 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
18702- عن ابن عمر قال: كان لنعل النبي صلى الله عليه وسلم قبالان.
"عد كر" مر برقم [18431] .
"عد كر" مر برقم [18431] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18703 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : کیا بات ہے آپ ہم سے اچھی اور فصیح زبان کے مالک ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے تھے انھوں نے آکر مجھے اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان سکھا دی ۔ (الدیلمی)
18703- عن ابن عمر أن عمر قال: يا نبي الله ما لك أفصحنا؟ قال: جاءني جبريل فلقنني لغة أبي إسماعيل. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18704 ۔۔۔ عبدالرحمن بن کیسان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالائی کنوئیں کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (التاریخ للبخاری ، ابن عساکر)
18704- عن عبد الرحمن بن كيسان عن أبيه أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي عند البئر العليا. "خ في تاريخه كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18705 ۔۔۔ معاویہ بن حیدہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کے چند افراد کو قید کرلیا ۔ میری قوم میں سے ایک شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ اس نے کہا : اے محمد ! میری قوم کے لوگوں کو آپ نے کس وجہ سے قید کر رکھا ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ آدمی بولا : لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ شر و فساد کو روکتے ہیں ، ادھر تو آپ خود اکیلے اس میں مبتلا ہیں۔ معاویہ بن حیدہ (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ تو میں بیچ میں آکر دونوں کے درمیان نرم رویے اور افہام تفہیم کی کوشش کرنے لگا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی سخت بات سن کر کہیں میری قوم کو بددعا نہ دے دیں جس کے خمیازے میں ان کے لیے ہمیشہ کے واسطے فوز و فلاح کے دروازے بند ہوجائیں ، چنانچہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل بات سننے سمجھنے لگے حتی کہ آپ کو بات سمجھ آگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا : کیا ان لوگوں نے (اس کلمہ اسلام) کو کہہ لیا ہے ؟ یا ان میں سے کچھ ہی لوگوں نے کہہ لیا ہے ؟ واللہ اگر ایسا ہے اور میں نے ان کو قید کیا تب تو ان کا وبال مجھ پر ہوگا اور ان پر کوئی (قید وبند اور) سزا نہیں ہے۔ لہٰذا اس شخص کے ساتھیوں کو چھوڑ دو ۔ (مصنف عبدالرزاق)
18705- عن معاوية بن حيدة أخذ النبي صلى الله عليه وسلم ناسا من قومي فحبسهم، فجاء رجل من قومي النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال: يا محمد علام تحبس جيراني؟ فصمت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن ناسا يقولون: إنك تنهى عن الشر وتستخلي به؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما تقول؟ فجعلت أعرض بينهما بكلام مخافة أن يسمعها، فيدعو على قومي دعوة لا يفلحون بعدها، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى فهمها، فقال: أقد قالوها أو قال قائلها منهم؟ والله لو فعلت لكان علي وما كان عليهم، خلوا له عن جيرانه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18706 ۔۔۔ ابو الطفیل (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند لوگوں کے ہمراہ جن میں حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) بھی تھے گھر تشریف لائے ۔ (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کا آپ کے گھر آنا جانا تھا) ۔ (التاریخ للبخاری ، ابن عساکر)
18706- عن أبي الطفيل قال: انطلق النبي صلى الله عليه وسلم في نفر، منهم عبد الله بن مسعود فأتى دارا. "خ في تاريخه كر".
তাহকীক: