কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৬৬৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18667 ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جگہ اترے اور پڑاؤ ڈالا۔ وہاں کی ایک عورت نے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنی بکری دودھ دوہنے کے لیے بھیجی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ دوہا ۔ پھر لڑکے کو وہ دودھ دے کر فرمایا : اس کو اپنی ماں کے پاس لے جاؤ، چنانچہ اس کی ماں نے وہ دودھ پیا اور سیراب ہوگئی پھر وہ لڑکا دوسری بکری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا دودھ بھی نکالا اور پھر اس کو نوش فرمایا پھر ابوبکر کو پلایا ۔ لڑکا پھر ایک اور بکری لے آیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا دودھ نکالا اور نوش فرمایا (مسند ابی یعلی)
18667- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: نزل النبي صلى الله عليه وسلم منزلا فبعثت إليه امرأة مع ابن لها بشاة فحلب، ثم قال: انطلق به إلى أمك، فشربت حتى رويت، ثم جاءه بشاة أخرى فحلب، ثم سقى أبا بكر، ثم جاءه بشاة أخرى فحلب ثم شرب. "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18668 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا ۔ آپ کے پاس آپ کا ایک چھوٹا حبشی غلام بیٹھا تھا جو آپ کی کمر دبا رہا تھا ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ بیمار ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اونٹنی نے گزشتہ رات مجھے گرا دیا تھا ۔ (البزار ، الکبیر للطبرانی ، ابن السنی وابو نعیم معا فی الطب ، الضیاء للمقدسی)
18668- عن عمر قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وغليم له حبشي يغمز ظهره، فقلت: يا رسول الله أتشتكي شيئا؟ قال: إن الناقة تقحمت بي البارحة. "البزار، طب، وابن السني، وأبو نعيم معا في الطب، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18669 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین بار آواز دی آپ نے ہر بار فرمایا : یا لبیک ، یالبیک ، یالبیک ۔ (مسند ابی یعلی ، حلیۃ الاولیاء ، الخطیب فی تلخیص المتشابہ) کلام : ۔۔۔ اس روایت میں ایک راوی جبارہ بن المغلس ضعیف ہے۔
18669- عن عمر أن رجلا نادى النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا، كل ذلك يجيبه: يا لبيك يا لبيك يا لبيك. "ع حل وتمام خط في تلخيص المتشابه وفيه جبارة بن المغلس ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18670 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس بیٹھ کر رات کو باتیں کرتے تھے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے معاملات میں بات چیت کرتے تھے اور میں آپ کے ساتھ ہوتا تھا ۔ (رواہ مسدد) کلام : ۔۔۔ حدیث صحیح ہے۔
18670- عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسمر عند أبي بكر الليلة كذلك في أمر من أمور المسلمين وأنا معه. "مسدد وهو صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18671 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گدھے پر سوار ہوتے تھے جس کا نام عفیر تھا۔ (مسند احمد ، السنن لسعید بن منصور)
18671- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركب حمارا اسمه عفير. "حم ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18672 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک گھوڑا تھا جس کا نام مرتجز تھا ۔ ایک گدھا تھا جس کا نام عفیر تھا ۔ (ایک خچر تھا جس کا نام دلدل تھا ۔ ایک اونٹنی تھی جس کا نام قصوی تھا ۔ آپ کی تلوار ذوالفقار اور زرہ ذات الفضول تھی ۔ (الجرجانی فی الجرجانیات ، الدلائل للبیہقی)
18672- عن علي قال: كان للنبي صلى الله عليه وسلم فرس يقال له: المرتجز وحمار يقال له: عفير، وبغلة يقال لها: دلدل، وناقته: القصوى، وسيفه: ذو الفقار، ودرعه ذات الفضول. "الجرجاني في الجرجانيات ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18673 ۔۔۔ حضرت عسکری اپنی کتاب امثال میں فرماتے ہیں : یحییٰ بن عبدالعزیز جلودی ، محمد بن سہل ، البلوی ، عمارۃ بن زید ، زیاد بن خثیمہ ، سدی ، ابی عمارۃ کی سند سے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت ہے ک بنی نہد بن زید حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے ، کہنے لگے : ہم آپ کے پاس تہامہ کے نشیبی علاقے سے آئے ہیں۔ س کے بعد حضرت علی (رض) نے ان کے خطبے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان کو جواب کا ذکر فرمایا : پھر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ہم ایک باپ کی اولاد ہیں۔ ایک ہی شہر میں پلے بڑھے ہیں ، آپ عرب سے ایسی زبان میں بات چیت فرما رہے ہیں۔ جس کا اکثر حصہ ہم سمجھ نہی پاتے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : للہ عزوجل نے مجھے ادب دیا ہے اور بہت اچھا ادب دیا ہے اور میں بنی سعد بن بکر میں پلا بڑھا ہوں ۔ (ابن الجوزی فی الواھیات ، وقال لا یصح) کلام : ۔۔۔ بقول امام ابن جوزی (رح) یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ اور اس کو انھوں نے کتاب الواہیات میں ذکر فرمایا ہے۔
18673- قال العسكري في الأمثال: حدثني يحيى بن عبد العزيز الجلودي: ثنا محمد بن سهل: ثنا البلوى، ثنا عمارة بن زيد: ثنا زياد بن خيثمة عن السدي عن أبي عمارة عن علي قال: قدم بنو نهد بن زيد على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: أتيناك من غوراء تهامة، وذكر خطبتهم وما أجابهم به النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا: يا نبي الله نحن بنو أب واحد، ونشأنا في بلد واحد وإنك لتكلم العرب بلسان ما نفهم أكثره، فقال: إن الله عز وجل أدبني فأحسن تأديبي، ونشأت في بني سعد بن بكر. "ابن الجوزي في الواهيات وقال: لا يصح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18674 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرب کا کوئی کلمہ نہیں سنا جو میں پہلے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سن چکا ہوں ، اسی طرح یہ کلمہ مات حتف انفہ (وہ اپنی موت آپ مرا) میں نے آپ سے پہلے کسی سے نہیں سنا ۔ (رواہ العسکری)
18674- عن علي قال: ما سمعت كلمة عربية من العرب إلا وقد سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وسمعته يقول: مات حتف أنفه وما سمعتها من عربي قبله. "العسكري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18675 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو مکہ میں (بعثت کے بعد) تیرہ سال تک رکھا ۔ (مستدرک الحاکم)
18675- عن علي قال: إن الله عز وجل عمر نبيه صلى الله عليه وسلم بمكة ثلاث عشرة سنة. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18676 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب صدقے کے اونٹ گذرے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اونٹ کی کمر سے کچھ بال لے لیے پھر فرمایا : میں ان بالوں کا ایک عام مسلمان سے زیادہ حق دار نہیں ہوں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد ، ابن منیع ، الحارث ، مسند ابی یعلی ، السنن السعید بن منصور)
18676- عن علي قال: مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم إبل الصدقة فأخذ وبرة من ظهر بعير، فقال: ما أنا أحق بهذه الوبرة من رجل من المسلمين.
"ش حم وابن منيع والحارث ع ص".
"ش حم وابن منيع والحارث ع ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18677 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ جرات مند دل کے مالک تھے ۔ (ابن جریر)
18677- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم أجرأ الناس صدرا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18678 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھنڈے کا رنگ سیاہ تھا ۔ (الکبیر للطبرانی)
18678- عن جابر كانت راية النبي صلى الله عليه وسلم سوداء. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18679 ۔۔۔ عنسبہ بن الازہر ، ابو الاسود نہدی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حراء میں گئے تو آپ کی پاؤں والی کسی انگلی میں کوئی چوٹ آئی ، آپ نے انگلی کو مخاطب ہو کر فرمایا : ” ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ مالقیت : تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہوگئی اور اللہ کے راستے میں تجھے یہ تکلیف پیش آئی ہے۔ (البغوی ، ابن مندہ ، ابو نعیم) ابو نعیم (رح) فرماتے ہیں صحیح سند وہ ہے جو ثوری ، شعبہ ، ابن عیینہ وغیرہ نے عن الاسود بن قیس عن جندب الجبلی کے ساتھ روایت کی ۔
18679- عن عنبسة بن الأزهر عن أبي الأسود النهدي عن أبيه قال: ركب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار فأصيب إصبع رجله فقال:
هل أنت إلا أصبع دميت
...
وفي سبيل الله ما لقيت
"البغوي وابن منده وأبو نعيم وقال: الصحيح ما رواه الثوري وشعبة وابن عيينه وغيرهم عن الأسود بن قيس عن جندب البجلي
هل أنت إلا أصبع دميت
...
وفي سبيل الله ما لقيت
"البغوي وابن منده وأبو نعيم وقال: الصحيح ما رواه الثوري وشعبة وابن عيينه وغيرهم عن الأسود بن قيس عن جندب البجلي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18680 ۔۔۔ اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ما بعد ! ۔۔۔ (تمام)
18680- عن الأسود بن سريع خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أما بعد: "تمام".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18681 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے رک گئے ۔ آپ کی ازواج کے سامنے کوئی چیز تھی اور وہ ایک دوسرے سے الجھ رہی تھیں ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مونہوں میں مٹی ڈادلیے اور آپ نماز کے لیے آجائیے ۔ (رواہ ابن النجار)
18681- عن أنس قال: احتبس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة وكان بين يدي نسائه شيء، فجعل يرد بعضهن على بعض، فأتاه أبو بكر فقال: يا رسول الله احث في أفواههن التراب واخرج إلى الصلاة. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18682 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئندہ کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہیں فرماتے تھے ۔ (رواہ الترمذی)
18682- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخر شيئا لغد. "ت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18683 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ ہم میں سب سے اچھی اور صاف زبان والے اور عمدہ بیان کرنے والے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عربیت ناپید ہوگئی تھی ۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس کو تروتازہ صورت میں میرے پاس لے کر آئے ہیں جیسے کہ وہ اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان پر جاری تھی (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ اس کی سند (واہ) بےکار ہے۔
18683- عن أنس قال: قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله مالك أفصحنا لسانا وأبيننا بيانا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن العربية اندرست فجاءني بها جبريل غضة طرية كما شق على لسان إسماعيل. "كر وسنده واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18684 ۔۔۔ حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات کیسی تھی ؟ حضرت انس بن مالک (رض) نے ارشاد فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی آواز کو مد کے ساتھ (کھینچ کر) پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18684- عن قتادة قال سألت أنس بن مالك كيف كانت قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: كان يمد صوته مدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18685 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غسل کے ساتھ تمام عورتوں کے پاس ایک رات میں ہو آتے تھے ۔ (السنن لسعید بن منصور ، مسند احمد ، السنن للبیہقی ، ترمذی ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، نسائی)
18685- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على جميع نسائه في ليلة بغسل واحد. "ص حم ق
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق عادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :
18686 ۔۔۔ (عبدالرزاق (رح) فرماتے ہیں :) ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہ مجھے حضرت انس بن مالک (رض) کی طرف سے خبر ملی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کیفیت عطا کی گئی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا : کیفیت کیا ہے ؟ فرمایا : مباشرت میں تیس آدمیوں کی طاقت ۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : آپ کی نو بیویاں تھیں اور آپ ایک ہی رات میں سب بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے ۔ (مصنف عبدالرزاق)
18686- أنبأنا ابن جريج قال: أخبرت عن أنس بن مالك قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: أعطيت الكفيت، قيل: وما الكفيت؟ قال: قوة ثلاثين رجلا في البضاع، وكانت له تسع نسوة وكان يطوف عليهن جميعا في ليلة. "عب".
তাহকীক: