কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৬৪৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18647 ۔۔۔ سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمزور اور غریب مسلمانوں کے پاس تشریف لاتے تھے ، ان کی زیارت کرتے ، ان کے مریضوں کی عیادت کرتے اور ان کے جنازوں میں حاضری دیتے تھے ۔ شعب الایمان للبیہقی
18647- عن سهل بن حنيف قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتي ضعفاء المسلمين، ويزورهم، ويعود مرضاهم، ويشهد جنائزهم. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18648 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گذر رہے تھے میں بچوں کے ساتھ (کھیل کود میں) مصروف تھا ۔ آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے کوئی پیغام دے کر بھیجا ۔ مجھے میری ماں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کی کسی کو خبر نہ دینا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18648- عن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم وأنا مع غلمان، فسلم علينا وأخذ بيدي، فأرسلني برسالة فقالت لي أمي: لا تخبر بسر رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18649 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام سے بھیجا میں بچوں کے پاس سے گذرا تو ان کے پاس بیٹھ گیا (اس وقت آپ کی عمر کم تھی) جب مجھے دیر ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (میری تلاش میں) نکلے اور بچوں کے پاس سے گذرے تو ان کو سلام کیا ۔ (مستدرک الحاکم)
18649- عن أنس قال: بعثني النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة فمررت بصبيان فجلست إليهم، فلما استبطأني، خرج فمر بالصبيان فسلم عليهم. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18650 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ دنیا میں کوئی ذات زیارت کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ پسند نہیں تھی ۔ اس کے باوجود جب بھی آپ کو دیکھتے تو آپ کے استقبال میں کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ کیونکہ کھڑے میں وہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناگواری کو جانتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
18650- عن أنس قال: ما كان في الدنيا شخص أحب إليهم رؤية من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانوا إذا رأوه لم يقوموا إليه ما رأوا من كراهته لذلك.
"ابن جرير".
"ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18651 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن مسجد میں داخل ہوئے آپ کے جسم اقدس پر (ایک موٹی) نجرانی چادر پڑی تھی ۔ ایک دیہاتی آپ کے پیچھے سے آیا اس نے آپ کی چادر کا کونا پکڑ کر کھینچا جس کی وجہ سے چادر آپ کی گردن میں کھینچ گئی ۔ پھر دیہاتی بولا : اے محمد ! ہمیں وہ مال دیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ (اس کے باوجود) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس کو مال وغیرہ کا حکم کرو۔ (ابن جریر)
18651- عن أنس قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما المسجد وعليه برد نجراني غليظ الصنعة، فأتاه أعرابي من خلفه، فأخذ بجانب ردائه حتى أثرت الصنعة في صفح عنق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا محمد أعطنا من مال الله الذي عندك، فالتفت رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبسم فقال: مروا له. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18652 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گذرے تو آپ نے فرمایا : السلام علیکم اے بچو ! (الدیلمی)
18652- عن أنس قال: كنت مع الصبيان فمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: السلام عليكم يا صبيان. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18653 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دس سال تک خدمت کی لیکن اللہ کی قسم ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی مجھے گالی دی (اور نہ برا بھلا کہا بلکہ) کبھی اف تک نہ کہا ۔ نہ کبھی کسی ہوئے کام پر فرمایا : کہ کیوں کیا اور نہ کبھی چھوٹے ہوئے کام پر فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا ۔ (مصنف عبدالرزاق)
18653- عن أنس قال: خدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين لا والله ما سبني سبه قط، ولا قال لي: أف قط، ولا قال لشيء فعلته لم فعلته؟ ولا لشيء لم أفعله لم لا فعلته. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18654 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) ہی سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دس سال خدمت کی ۔ اللہ کی قسم آپ نے مجھے کبھی کسی کیے ہوئے کام پر نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور ایسے کسی کام پر جو میں نے نہ کیا ہو کہ کیوں نہیں کیا ؟ ۔ نہ کبھی آپ نے مجھے ملامت کی اور اگر کبھی آپ کے کسی گھر والے نے ملامت کی بھی تو پس آپ نے یہ کہا آپ اس کو چھوڑ دیں ۔ یا یہ کہا جو لکھا گیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور جس کا فیصلہ ہوگیا وہ بھی انجام کو پہنچے گا ۔
18654- وعنه: خدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين، فلا والله ما قال لي لشيء صنعته لم صنعته؟ ولا لشيء لم أصنعه ألا صنعته؟ ولا لامني، فإن لامني بعض أهله قال: دعه، وما قدر فهو كائن أو ما قضي فهو كائن. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18655 ۔۔۔ اسید بن حضیر سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت تھے ۔ اسید بن حضیر فرماتے ہیں میں لوگوں سے ہنسی مزاح کررہا تھا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کولہے پر کچوکا لگایا پھر فرمایا : لو مجھ سے بھی بدلہ لے لو ۔ اسید میں نے عرض کیا : بدلہ لوں ؟ حالانکہ مجھ پر قمیص نہیں تھی جبکہ آپ پر قمیص ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص اٹھا دی۔ میں آپ کو چمٹ گیا اور آپ کے پہلو کو بوسے دینے لگا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا یہی ارادہ تھا ۔ (الکبیر للطبرانی)
18655- عن أسيد بن حضير قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان فيه مزاح يحدث القوم ليضحكهم، فطعنه رسول الله صلى الله عليه وسلم في خاصرته، فقال: أصبرني، فقال: اصطبر، قال: إن عليك قميصا وليس علي قميص، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فأحتضنه وجعل يقبل كشحه ويقول: إنما أردت هذا يا رسول الله. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18656 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے ۔ میرا ایک بھائی تھا آپ اس کو فرماتے : اے ابو عمیر تمہاری فاختہ کا کیا ہوا اسی طرح آپ ہمارے لیے چادر بچھا دیا کرتے تھے اور اسی پر آپ نماز پڑھ لیتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) فائدہ : ۔۔۔ یہ ابو عمیر چھوٹے بچے تھے انھوں نے ایک مرتبہ فاختہ پکڑی تھی جو اڑ گئی تھی اس پر آپ ان کو چھیڑتے تھے ۔
18656- عن أنس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخالطنا فيقول لأخ لي: يا أبا عمير ما فعل النغير، ونضع بساطا لنا فيصلي عليه."ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18657 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے ، نہ لعنت کرنے والے تھے اور نہ فحش اور لغو بات فرماتے تھے ۔ (زیادہ سے زیادہ) کسی کو یہ کہتے تھے : کیا ہوگیا اس کی پیشانی مٹی میں ملے ۔ (بخاری ، مسند احمد ، العسکری فی الامثال)
18657- وعنه قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم سبابا ولا لعانا ولا فحاشا، كان يقول لأحدنا: ما له ترب جبينه. "خ حم ورواه العسكري في الأمثال بلفظ: ما له ترب يمينه". مر برقم [18407] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18658 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں دس سال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہا ۔ میں نے ہر طرح کی خوشبو سونگھی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انفاس معطر سے زیادہ اچھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی شخص ملاقات کرتا پھر اٹھنے لگتا تو آپ بھی اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ۔ اور جب تک وہ خود نہ چلا جاتا اس کا ساتھ نہ چھوڑتے تھے ۔ جب کوئی آپ کا ہاتھ تھامنا چاہتا تو آپ اس کو اپنا ہاتھ تھموا دیتے اور پھر اس وقت تک نہ چھڑاتے جب تک وہ خود نہ چھوڑ دیتا تھا ۔ (ابن سعد ابن عساکر)
18658- وعنه قال: صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين وشممت العطر كله فلم أشم نكهة أطيب من نكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لقيه رجل من أصحابه فقام قام معه، فلم ينصرف حتى يكون الرجل هو الذي ينصرف عنه، وإذا لقيه أحد من أصحابه فتناول يده ناولها إياه فلم ينزع يده منه حتى يكون الرجل هو الذي ينزع يده منه، وإذا لقيه أحد من أصحابه فتناول أذنه ناولها إياه فلم ينزع يده عنه حتى يكون الرجل هو الذي ينزع عنه. "ابن سعد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18659 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے کان آپ کی طرف کیا ہو (تاکہ کوئی راز کی بات کرے) پھر آپ نے خود سر پھیرلیا ہو ۔ بلکہ وہی شخص آخر آپ سے اپنا سر ہٹا لیتا تھا ۔ اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کا ہاتھ تھاما ہو پھر آپ نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ہو ۔ حتی کہ وہ شخص خود ہی اپنا ہاتھ چھڑا لیتا اور آپ چھوڑ دیتے تھے ۔ (ابودؤاد ، ابن عساکر)
18659- وعنه قال: ما رأيت رجلا التقم أذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فينحي رأسه حتى يكون هو الذي ينحي رأسه، وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد رجل فيترك يده حتى يكون هذا الذي ينزعها، فيدع يده. "د، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18660 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی سے مصافحہ کرتے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ چھڑاتے تھے جب تک وہ نہ چھوڑ دیتا تھا ۔ نہ اپنا چہرہ اس سے پھیرتے تھے ۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی اپنے سامنے بیٹھنے والے کے آگے گھٹنے نہیں کرتے تھے ۔ (الرؤیانی ۔ ابن عساکر ، وھو حسن)
18660- وعنه كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صافح الرجل لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزعها، ولم يعرض بوجهه عنه، ولم ير مقدما ركبتيه بين يدي جليسه. "الرؤياني كر وهو حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18661 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کے پاس سے گذرے میں بھی اس وقت بچہ تھا ۔ پھر آپ نے ہم کو سلام کیا ۔ (ابوبکر فی الغیلانیات ، ابن عساکر)
18661- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم مر بغلمان وأنا غلام فسلم علينا.
"أبو بكر في الغيلانيات كر".
"أبو بكر في الغيلانيات كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18662 ۔۔۔ عباد بن زاہر سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا فرمایا : واللہ ! ہم سفر میں اور حضر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہے ہیں۔ ٓپ ہمارے مریضوں کی عیادت فرماتے تھے ، ہمارے جنازوں کے پیچھے چلتے تھے ۔ ہمارے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیتے تھے ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ ، اس کے ساتھ ہمارے ساتھ ہمدردی وغم خواری برتتے تھے ۔ اور اب کچھ لوگ مجھے آپ کی باتیں بتاتے ہیں ممکن ہے کہ ان میں سے کسی نے کبھی حضور کو دیکھا ہی نہ ہو ۔ (مسند احمد ، البزار ، المروزی فی الجنائز الشاشی ، مسند ابی یعلی ، الضیاء للمقدسی)
18662- عن عباد بن زاهر قال: سمعت عثمان يخطب فقال: إنا والله قد صحبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر والحضر، وكان يعود مرضانا ويشيع جنائزنا ويغزو معنا ويواسينا بالقليل والكثير، وإن ناسا يعلموني به عسى أن لا يكون أحدهم رآه قط. "حم والبزار والمروزي في الجنائز والشاشي ع ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18663 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ آپ کی کسی زوجہ مطہرہ نے آپ کو ہدیہ میں ایک ثرید کا پیالہ بھیجا ۔ آپ اس وقت کسی اور زوجہ مطہرہ کے گھر میں مقیم تھے ۔ اس بیوی نے اسی پیالہ پر ہاتھ مار کر اس کو گرا دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثرید ہاتھ سے اٹھا اٹھا کر پیالے میں ڈالنے لگے اور ساتھ میں فرماتے رہے تمہاری ماں مرے کھاؤ ، پھر آپ نے کچھ توقف فرمایا حتی کہ وہی بیوی دوسرا سالم پیالہ لے آئی ۔ آپ نے وہ پیالہ لے کر اس بیوی کو بھیج دیا جس کا پیالہ ٹوٹا تھا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) فائدہ : ۔۔۔ یہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کی وجہ سے بیویوں کے آپس میں غیرت کا معاملہ تھا ، اس بیوی سے یہ برداشت نہ ہوا کہ حضور میرے پاس ہوتے ہوئے کسی اور بیوی کے کھانے کو بھی تناول فرمائیں ۔ (رض) ۔
18663- عن أنس أهدى بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم قصعة فيها ثريد وهو في بيت بعض أزواجه، فضربت القصعة فوقعت وانكسرت، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ الثريد فيرده إلى القصعة بيده ويقول: كلوا غارت أمكم، ثم انتظر حتى جاءت قصعة صحيحة، فأخذها فأعطاها صاحبة القصعة المكسورة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18664 ۔۔۔ خوات بن جبیر (رض) سے مروی ہے کہ ہم نے (سفر میں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وادی مرالظہران میں پڑاؤ ڈالا۔ میں وہاں اپنے خیمے سے باہر نکلا ۔ دیکھا کہ چند عورتیں آپس میں بات چیت میں مصروف ہیں۔ مجھے ان کا حسن و جمال اچھا لگا ۔ میں دوبارہ اپنے خیمے میں داخل ہوا۔ اپنا تھیلا نکالا ، پھر اس میں سے اپنا جوڑا نکالا اور زیب تن کر کے باہر نکلا اور ان عورتوں کے پاس جا بیٹھا ۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قبہ سے باہر نکلے ۔ آپ نے مجھ سے پوچھا : اے ابو عبداللہ ! کس وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھے ہو ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو مرعوب اور پریشان ہوگیا ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا اونٹ بدک گیا ہے۔ میں اس کے لیے رسی کی تلاش میں ان کے پاس آگیا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے راستے ہو لیے ۔ میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر اتاری اور پیلو کے جھنڈ میں داخل ہوگئے گویا میں اب بھی پیلو کے درختوں کے سبزے میں آپ کی پشت مبارک کی سفیدی کو چمکتا دیکھا رہا ہوں ، آپ نے اپنی حاجت پوری کی ۔ اور وضو کیا اور واپس ہو لیے ۔ پانی آپ کی ریش مبارک سے سینہ اقدس پر گر رہا تھا ۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا : تمہارے اونٹ بدکنے کا کیا ہوا ؟ پھر ہم اس جگہ سے کوچ کر گئے ۔ دوران سفر جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ملتے یہی بات ارشاد فرماتے : السلام علیک ، اے ابو عبداللہ ! تمہارے اونٹ بدکنے کا کیا ہوا ۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں جلد ہی مدینہ آگیا ۔ مسجد اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجالس سے دور رہنے لگا ۔ جب کافی عرصہ اس طرح بیت گیا تو میں ایک مرتبہ خالی مسجد میں تھوڑی دیر کے لیے گیا ۔ وہاں جا کر نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ۔ اسی دوران نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے حجرے سے نکل کر مسجد میں گئے ۔ آپ نے ہلکی سی دو رکعت نماز ادا فرمائی ۔ جبکہ میں نے اپنی نماز طویل کردی تاکہ آپ جائیں اور مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔ (یہ دیکھ کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابو عبداللہ ! جس قدر ہو سکے نماز لمبی کرلے ۔ میں بھی جانے والا نہیں ہوں جب تک تم نماز پوری نہیں کرلیتے ۔ تب میں نے اپنے جی میں کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے فعل پر معذرت کرتا ہوں اور آپ کے سینے کو صاف کرتا ہوں ۔ چنانچہ میں نے نماز پوری کی ، آپ نے فرمایا السلام علیک اے ابو عبداللہ تمہارے اونٹ بدکنے کا کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں جب سے اسلام لایا ہوں ۔ میرا اونٹ کبھی نہیں بدکا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمایا : یرحمک اللہ اللہ تم پر رحم کرے ، اس کے بعد کسی چیز پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نہیں ٹوکا ۔ (الکبیر للطبرانی)
18664- عن خوات بن جبير قال: نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مر الظهران فخرجت من خبائي، فإذا أنا بنسوة يتحدثن فأعجبنني، فرجعت فاستخرجت عييبتي، فاستخرجت منها حلة فلبستها وجئت فجلست معهن، وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبته فقال: أبا عبد الله ما يجلسك معهن؟ فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم هبته واختلطت قلت: يا رسول الله جمل لي شرد، وأنا أبتغي له قيدا، فمضى واتبعته فألقى رداءه ودخل الأراك، كأني أنظر إلى بياض متنه في خضرة الأراك، فقضى حاجته وتوضأ فأقبل والماء يسيل من لحيته على صدره فقال: أبا عبد الله ما فعل شراد جملك؟ ثم ارتحلنا فجعل لا يلحقني في المسير إلا قال: السلام عليك يا أبا عبد الله ما فعل شراد ذلك الجمل، فلما رأيت ذلك تعجلت إلى المدينة واجتنبت المسجد والمجالسة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فلما طال ذلك تحينت ساعة خلوة المسجد، فأتيت المسجد فقمت أصلي، وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من بعض حجره، فجاء فصلى ركعتين خفيفتين، وطولت رجاء أن يذهب ويدعني، فقال: طول أبا عبد الله ما شئت أن تطول فلست ذاهبا حتى تنصرف، فقلت في نفسي: والله لأعتذرن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولأبرئن صدره، فلما انصرفت، قال: السلام عليك أبا عبد الله ما فعل شراد ذلك الجمل؟ فقلت: والذي بعثك بالحق ما شرد ذلك الجمل منذ أسلمت، فقال: رحمك الله ثلاثا ثم لم يعد لشيء مما كان. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18665 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ننگی) زمین پر بیٹھ کر کھانا کھالیتے تھے ۔ بکری کا دودھ دوھ لیتے تھے ، اور جو کی روٹی پر بھی (ادنی) غلام کی دعوت قبول فرما لیتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
18665- عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل على الأرض، ويعقل الشاة، ويجيب دعوة المملوك على خبز الشعير. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18666 ۔۔۔ قیس بن وہب سے مروی ہے کہ وہ بنی سراۃ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے دریافت فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کیسے تھے ؟ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو : ” وانک لعلی خلق عظیم “۔ ور بیشک آپ عظیم اخلاق پر (قائم) تھے ۔ پھر فرمایا ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ تھے ۔ میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ۔ حفصہ (رض) نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا ۔ لیکن حفصہ (رض) نے مجھ سے پہلے تیار کرلیا ، میں نے باندی کو کہا تو جا اور حفصہ (رض) کے کھانے کا پیالہ گرا دے ۔ پس حفصہ (رض) آپ کے سامنے کھانا رکھ رہی تھی کہ باندی نے ہاتھ مار کر کھانا گرا دیا ۔ پیالہ بھی ٹوٹ گیا اور کھانا بکھر گیا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹوٹے پیالہ کو اٹھایا اور جو کچھ اس میں کھانا تھا وہ بھی زمین سے اٹھا اٹھا کر اس میں ڈلا۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ مل کر وہی کھانا تناول فرما لیا ۔ پھر میں نے اپنا پیالہ آپ کے پاس بھیج دیا ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ پیالہ کھانے سے بھرا ہوا حضرت حفصہ (رض) کو بھیج دیا اور کہلوایا پیالہ پیالے کے بدلے ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ تم کھالو ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں میں نے آپ کے چہرے پر اس فعل کی وجہ سے کوئی (ناگوار) اثرات نہیں دیکھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
18666- عن قيس بن وهب عن رجل من بني سراة قال: قلت لعائشة: أخبريني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: أما تقرأ القرآن "وإنك لعلى خلق عظيم" قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أصحابه فصنعت له طعاما، وصنعت له حفصة طعاما، فسبقتني حفصة، فقلت للجارية انطلقي فاكفئي قصعتها، فأهوت أن تضعها بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فكفأتها فانكسرت القصعة فانتثر الطعام فجمعها النبي صلى الله عليه وسلم وما فيها من الطعام على الأرض فأكلوا، ثم بعثت بقصعتي، فدفعها النبي صلى الله عليه وسلم إلى حفصة فقال: خذوا ظرفا مكان ظرفكم، وكلوا ما فيها، قالت: فما رأيته في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش".
তাহকীক: