কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৬২৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18627 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر والوں کو کبھی تین دن مسلسل گندم کی روٹی کے ساتھ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھلایا حتی کہ دنیا سے جدا ہوگئے ۔ (ابن جریر)
18627- عن أبي هريرة قال: ما أشبع النبي صلى الله عليه وسلم أهله ثلاثا تباعا من خبز البر حتى فارق الدنيا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18628 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ بیٹھ کر نماز ادا فرما رہے تھے ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتا دیکھ رہا ہوں ، آپ کو کیا تکلیف پیش آئی ہے ؟ فرمایا : ابوہریرہ ! یہ بھوک ہے۔ میں رو پڑا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوہریرہ ! رو مت بیشک حساب کتاب کی سختی قیامت کے روز بھوکے کو نہیں ہوگی جب وہ دنیا میں اس کے عوض ثواب کی امید (میں صبر) کرے ۔ (حلیۃ الاولیاء الخطیب فی التاریخ ، ابن عساکر)
18628- عن أبي هريرة قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي جالسا، فقلت: يا رسول الله أراك تصلي جالسا، فما أصابك؟ قال: الجوع يا أبا هريرة، فبكيت، فقال: لا تبك يا أبا هريرة فإن شدة الحساب يوم القيامة، لا تصيب الجائع إذا احتسب في دار الدنيا. "حل خط، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18629 ۔۔۔ ابن مندہ فرماتے ہیں : ہمیں خیثمہ بن سلیمان ، محمد بن عوف بن سفیان طائی حمصی ، ابو عوف ، شفیر مولی عباس عن الہدار صحابی (رض) ۔ ہدار (رض) فرماتے ہیں : انھوں نے عباس کو سفید آنے وغیرہ نفیس چیزوں میں اسراف کرتے دیکھا تو فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی مگر کبھی آپ نے گندم کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ عباس بن الولید بن عبدالملک بن مروان (جن کا اوپر ذکر ہوا ان) کے غلام شقیر کہتے ہیں ہدار سے روایت کرنے والے کا گمان ہے کہ ان کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میسر ہوئی ہے۔ بن مندہ کہتے ہیں یہ روایت غریب ہے۔ (ضعیف ہے) کہا جاتا ہے کہ امام احمد بن حنبل (رح) نے اس روایت کو محمد بن عوف سے سنا ہے۔ عبدالغنی بن سعید کہتے ہیں شقیر نے ہدار عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ایک حدیث روایت کی ہے معلوم نہیں کہ اس کو محمد بن عوف طائی کے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں ۔
18629- ابن مندة أنا خيثمة بن سليمان، ثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي الحمصي: ثنا أبي عوف: ثنا شقير مولى العباس عن الهدار صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه رأى العباس وإسرافه في خبز السميذ وغيره قال: لقد توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما شبع من خبز بر حتى فارق الدنيا.
"كر وقال شقير مولى العباس بن الوليد بن عبد الملك بن مروان: روى عن الهدار رجل زعم أن له صحبة، قال ابن منده: هذا حديث غريب، ويقال أن أحمد بن حنبل سمعه من محمد بن عوف، وقال: عبد الغني بن سعيد شقير روى عن هدار عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا واحدا لا أعلم حدث به غير محمد بن عوف الطائي".
"كر وقال شقير مولى العباس بن الوليد بن عبد الملك بن مروان: روى عن الهدار رجل زعم أن له صحبة، قال ابن منده: هذا حديث غريب، ويقال أن أحمد بن حنبل سمعه من محمد بن عوف، وقال: عبد الغني بن سعيد شقير روى عن هدار عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا واحدا لا أعلم حدث به غير محمد بن عوف الطائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18630 ۔۔۔ سماک بن حرب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا اپنے رب کی حمد (اور اس کا شکر) کرو ، میں نے اکثر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے بل کھاتے تھے ، آپ کو ردی کھجوریں بھی میسر نہ ہوتی تھیں جن سے آپ شکم سیری فرما لیتے اور اب تم طرح طرح کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر خوش نہیں ہوتے ہو ۔ (رواہ الترمذی)
18630- عن سماك بن حرب قال: سمعت النعمان بن بشير يقول على المنبر: احمدوا ربكم، فربما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتلوى ما شبع من الدقل، وأنتم لا ترضون دون ألوان التمر والزبد
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18631 ۔۔۔ طلحہ بن عمرو نضری سے مروی ہے کہ ہم میں سے جب کوئی شخص مدینہ آتا تھا تو اگر مدینہ میں کوئی اس کا واقف کار ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہر جاتا ۔ ورنہ وہ صفہ میں آکر ٹھہرتا تھا ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صفہ کے) دو دو آدمیوں کو ساتھی بنا دیتے تھے ۔ اور ہر روز ان ہر دو آدمیوں کو ایک مد کھجور دیتے تھے ۔ طلحہ بن عمرو فرماتے ہیں : چنانچہ میں مدینہ آیا تو صفہ میں ایک شخص کے ساتھ ٹھہر گیا ۔ ہم دونوں کو ہر روز ایک مد (دورطل) کھجوریں ملتی تھیں ۔ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی نماز پڑھائی ۔ جب آپ لوٹنے لگے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا دیئے ہیں اور ہمارے جسموں پر ردی کپڑے بھی پھٹ کر جھول گئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے منبر پر چڑھ گئے ۔ اللہ کی حمد وثناء کی ۔ پھر اپنے اور قوم کے مصائب کا ذکر کیا ۔ حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اور میرا ساتھی اٹھارہ دن رات تک اس حال میں رہے کہ ہمارا کھانا پیلو درخت کے (بےمزہ) پھل کے سوا کچھ کھانا نہیں تھا ۔ حتی کہ ہم مدینہ آگئے ۔ ہمارے انصاری بھائیوں نے ہمارے ساتھ کھانے میں ہمدردی وغم خواری کا برتاؤ کیا ۔ ان کا زیادہ تر کھانا یہی کھجوریں ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر میں گوشت اور روٹی پاتا تو ضرور تم کو کھلاتا ۔ لیکن عنقریب تم ایسا زمانہ پاؤ گے جب تم کعبہ کے پردوں جیسا (ملائم) کپڑا پہنو گے ۔ بڑے بڑے پیالوں میں تمہارے پاس صبح وشام کھانے آئیں گے ۔ آج تم اس آنے والے دن سے بہتر ہو۔ کیونکہ آج تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردن اڑاؤ گے ۔ (رواہ ابن جریر)
18631- عن طلحة بن عمرو النضري قال: كان أحدنا إذا قدم المدينة فإن كان له عريف نزل على عريفه بغير المعرفة، وإن لم يكن له عريف نزل الصفة، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرن بين الرجلين ويرزقهما مدا كل يوم من تمر بينهما، فأتيت فنزلت في الصفة مع رجل، فكان بيني وبينه كل يوم مد من التمر، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم بعض الصلوات، فلما انصرف قال رجل من أهل الصفة: يا رسول الله أحرق بطوننا التمر، وتخرقت عنا الخنف فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فحمد الله وأثنى عليه، وذكر ما لقي من قومه من الشدة والأذى حتى قال: لقد مكثت أنا وصاحبي ثمانية عشر يوما وليلة وما طعامنا إلا البرير حتى قدمنا المدينة على إخواننا من الأنصار فواسونا في طعامهم وعظم طعامهم هذا التمر، والله لو وجدت اللحم والخبز لأطعمتكموه ولكن لعلكم أن تدركوا أو أدرك منكم زمانا تلبسون فيه مثل أستار الكعبة، ويغدى عليكم ويراح بالجفان، أنتم خير منكم يومئذ، أنتم اليوم إخوان، وأنتم يومئذ يضرب بعضكم رقاب بعض.
"ابن جرير".
"ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18632 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئے اور کبھی آپ اور آپ کے گھر والوں نے جو کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ۔ پس ہمارا خیال ہے کہ ہمارے لیے بہترین چیزوں کو مؤخر کردیا گیا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
18632- عن عبد الرحمن بن عوف قال: هلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يشبع هو وأهل بيته من خبز الشعير فلا أرانا أخرنا لما هو خير لنا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18633 ۔۔۔ عتبہ بن عزوان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ہم کو بصرہ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتواں یا آٹھواں اسلام قبول کرنے والا شخص تھا ۔ ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے ہوتے تھے ۔ حتی کہ ہماری باچھیں چھل گئی تھیں ۔ (ابوالفتح بن البطی فی فوائدہ)
18633- عن عتبة بن غزوان قال: خطبنا علي على منبر البصرة قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم سابع سبعة أو ثامن ثمانية ما كان لنا طعام إلا ورق الشجر حتى قرحت أشداقنا. "أبو الفتح بن البطي في فوائده وقال إنه وهم بل الحديث لعتبة والخطبة له".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18634 ۔۔۔ ابو قلابہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت کرت ہیں۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدینہ کے راستے میں دوپہر کے وقت ملا۔ میں نے غرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اس وقت (کڑی دوپہر میں) کس چیز نے آپ کو باہر نکالا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی : مجھے بھوک نے تنگ کیا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ انتظار کرسکتے ہیں جب تک کہ میں واپس آؤں ۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے ۔ میں مدینے میں ایک شخص کے پاس آیا جس نے کھجور کے چھوٹے چھوٹے پودے لگائے تھے ۔ میں نے اس سے بات کی کہ میں ان پودوں میں ایک ایک مٹکا پانی دیتا ہوں تم مجھے ہر مٹکے کے عوض ایک کھجور دو لیکن وہ کھجور نہ خشک سوکھی ہوئی ہو یا بغیر گٹھلی کے ہو اور نہ گندی اور ردی ہو ۔ جب بھی میں ایک مٹکا پانی ڈالتا وہ ایک کھجور نکال کر رکھ دیتا ۔ حتی کہ ایک مٹھی کھجوروں کی جمع ہوگئی ۔ پھر میں نے اس سے پوچھا : کیا تم مجھے گندنے (ترکاری) کی ایک مٹھی دو گئے ؟ اس نے مجھے دے دی ، پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ ٓپ (رض) (اسی جگہ) تشریف فرما تھے ۔ آپ نے اپنے کپڑے کا ایک حصہ بچھا دیا میں نے وہ کھجوریں اس پر رکھ دیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ کھجوریں تناول فرمائیں پھر فرمایا : تم نے میری بھوک مٹائی اللہ تمہاری بھوک مٹائے ۔ (الحافظ ابو الفتح ابن ابی الفوارس فی الافراد)
18634- عن أبي قلابة عن علي قال: لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض طرق المدينة بالهاجرة، فقلت: بأبي أنت وأمي ما أخرجك هذه الساعة؟ قال: وصل يا علي الجوع إلي، فقلت: بأبي أنت وأمي هل أنت منتظري حتى آتيك؟ قال: فجلس في ظل حائط فأتيت رجلا بالمدينة له ودي قد غرسه، فقلت: هل أنت معطي أستقي كل جرة بتمرة لا تعطني حشفه ولا مذره، قال: أعطيك من خير صنيع عندي فجعلت كلما استقيت جرة وضع تمرة حتى اجتمع قبضة من تمر، فقلت: هل أنت واهب لي صرة من كراث يعني قبضة، فأعطاني فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس فبسط طرف ثوبه، فألقيته عليه، فأكل ثم قال: أشبعت جوعي أشبع الله جوعك. "الحافظ أبو الفتح ابن أبي الفوارس في الأفراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18635 ۔۔۔ ام سلیم سے مروی ہے کہ ان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : صبر کرو ، اللہ کی قسم ! سات دنوں سے آل محمد کے گھروں میں کچھ نہیں ہے اور تین دن سے ان کے گھروں میں ہانڈی کے نیچے آگ نہیں جلائی گئی ، اللہ کی قسم ! اگر میں اللہ سے سوال کرتا کہ وہ تہامہ کے سب پہاڑوں کو سونا بنا دے تو اللہ پاک ایسا کردیتے ۔ (الکبیر للطبرانی)
18635- عن أم سليم قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: اصبري فوالله ما في آل محمد شيء منذ سبع ولا أوقد تحت برمة لهم منذ ثلاث، والله لو سألت الله يجعل جبال تهامة كلها ذهبا لفعل. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18636 ۔۔۔ حصین بن یزید کلبی سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسکرانے کے علاوہ کبھی ہنستے نہیں دیکھا ۔ اور اکثر اوقات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے ۔ (ابن مندہ ، ابو نعیم ، ابن عساکر)
18636- عن الحصين بن يزيد الكلبي قال: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم ضاحكا ما كان إلا تبسما، وربما شد النبي صلى الله عليه وسلم الحجر على بطنه من الجوع."ابن منده وأبو نعيم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18637 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا ۔ اور کچھ سوال کیا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے تم ایسا کرو کسی سے قرض لے لو جیسے ہی ہمارے پاس کچھ آئے گا ہم تم کو عطا کردیں گے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے جو کچھ آپ کے پاس ہے عطا کردیا ۔ جو ہمارے پاس نہیں ہے اللہ نے ہمیں اسے دینے کا مکلف نہیں کیا ۔ یہ بات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار لگی ۔ جس کا اثر آپ کے چہرے میں بھی محسوس ہوا ۔ ایک انصاری شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خرچ کیجئے اور عرش والے سے کمی کا ڈر نہ کیجئے ۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے حتی کہ اس انصاری کے قول کا خوش گوار اثر آپ کے چہرے میں بھی دیکھا گیا ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اسی کا حکم ملا ہے۔ (ترمذی ، فی الشمائل ، البزار ، ابن جریر ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق ، الضیاء للمقدسی)
18637- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله أن يعطيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما عندي شيء، ولكن استقرض حتى يأتينا شيء فنعطيك، فقال عمر: يا رسول الله هذا أعطيته ما عندك فما كلفك ما لا تقدر عليه، فكره النبي صلى الله عليه وسلم قول عمر حتى عرف في وجهه، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله أنفق ولا تخف من ذي العرش إقلالا، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى عرف البشر في وجهه بقول الأنصاري، ثم قال: بهذا أمرت. "ت في الشمائل والبزار وابن جرير والخرائطي في مكارم الأخلاق. ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18638 ۔۔۔ سہل بن سعد سے مروی ہے کہ ایک عورت ایک چادر لے کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ حضرت سہل (رض) نے فرمایا : اس چادر کے حاشیے بنے ہوئے ہیں (اور یہ عمدہ چادر ہے) عورت بولی : یا رسول اللہ ! میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ آپ کو یہ چادر پہننے کے لیے دوں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ چادر لے لی اور آپ اس کے محتاج بھی تھے ۔ لہٰذا آپ نے وہ چادر لے کر زیب تن فرما لی ۔ اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیسی عمدہ چادر ہے یہ آپ مجھے عنایت کردیں تو ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں بالکل۔ (اور آپ نے وہ چادر اس صحابی کو عنایت فرما دی) جب آپ کھڑے ہو کر چلے گئے تو دوسرے اصحاب نے اس صحابی کو ملامت کی کہ تم نے اچھا نہیں کیا تم نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چادر کے محتاج ہیں پھر تم نے وہ مانگ لی جب کہ تم کو معلوم ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کا سوال کیا جاتا ہے آپ اس سے منع نہیں فرماتے ۔ اس صحابی نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے اس کام پر اس برکت کی امید نے مجبور کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہناوے کو میں لے لوں پھر اس میں مجھے کفن دیا جائے ۔ (ابن جریر)
18638- عن سهل بن سعد قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ببردة، قال سهل: هي شملة منسوجة فيها حاشيتها، فقالت: يا رسول الله جئتك أكسوك هذه، فأخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان محتاجا إليها فلبسها، فرآها عليه رجل من أصحابه فقال: يا رسول الله ما أحسن هذه أكسنيها، فقال: نعم، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم لامه أصحابه وقالوا: ما أحسنت حين رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها محتاجا إليها، ثم سألته إياها وقد عرفت أنه لا يسأل شيئا فيمنعه، قال: والله ما حملني على ذلك إلا رجوت بركتها حين لبسها رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي أكفن فيها. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18639 ۔۔۔ سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک سیارونی حلہ (جوڑا) بنایا گیا ۔ جس کے کنارے سفید رکھے گئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ پہن کر اپنے اصحاب کی طرف نکلے ۔ آپ نے اپنی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا : دیکھتے نہیں کس قدر حسین حلہ ہے یہ ؟ ایک اعرابی (دیہاتی) بولا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یا رسول اللہ ! یہ حلہ مجھے ہدیہ فرما دیں ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا جاتا تھا کبھی لا (نہیں) نہیں کرتے تھے ۔ لہٰذا آپ نے فرمایا : ہاں ٹھیک ہے۔ پھر آپ نے اس کو وہ حلہ عنایت فرما دیا ۔ پھر (اپنے) دو پرانے کپڑے منگوائے اور پہن لیے پھر اس حلہ کے مثل دوسرا بننے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ بنا جانے لگا اسی دوران آپ وفات پاگئے ۔ (اور وہ بنائی کے مرحلے ہی میں رہا) ۔ (رواہ ابن جریر)
18639- وعنه قال: حيكت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حلة أنمار صوف سوداء فجعل حاشيتها بيضاء، فخرج فيها إلى أصحابه، فضرب بيده على فخذه فقال: ألا ترون إلى هذه ما أحسنها؟ فقال أعرابي: بأبي أنت وأمي يا رسول الله هبها لي، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسأل شيئا أبدا فيقول: لا، فقال: نعم فأعطاه الجبة ودعا بمعوزين له فلبسهما وأمر بمثلها فحيكت له، فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي في المحاكة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18640 ۔۔۔ حضرت ثابت (رض) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سائل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ نے اس کے لیے ایک کھجور کا حکم دیا۔ سائل نے وہ کھجور لے کر پھینک دی۔ پھر دوسرا سائل آیا آپ نے اس کے لیے بھی ایک کھجور کا حکم دیا ۔ اس نے کہا سبحان اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملی ہوئی کھجور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک باندی کو حکم دیا : ام سلمہ (رض) کے پاس جاؤ اور اس کو کہو کہ جو تمہارے پاس چالیس درہم ہیں وہ اس سائل کو دے دے ۔ شعب الایمان للبیہقی
18640- عن ثابت عن أنس قال: جاء سائل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأمر له بتمرة فوحش بها، وأتاه آخر فأمر له بتمرة فقال: سبحان الله تمرة من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال للجارية: اذهبي إلى أم سلمة فمريها فلتعطه الأربعين درهما التي عندها. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18641 ۔۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ ایک سائل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوا ۔ آپ نے اس کو ایک کھجور عنایت فرمائی ، آدمی بولا : سبحان اللہ ! انبیاء میں سے ایک نبی ایک کھجور کا صدقہ کرتا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ اس میں بہت سے باریک باریک مثقال ہیں ؟ پھر ایک دوسرا سائل آیا آپ نے اس کو بھی ایک کھجور عنایت فرما دی ، اس نے کہا : انبیاء میں سے ایک نبی نے مجھے یہ کھجور عطا کی ہے۔ لہٰذا یہ کھجور جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے جدا نہ ہوگی میں ہمیشہ اس کی برکت حاصل کرتا رہوں گا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے بھلائی کا حکم دیا ۔ پھر وہ شخص ہمیشہ مالدار ہوتا گیا ۔ شعب الایمان للبیہقی
18641- عن الحسن أن سائلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاه تمرة، فقال الرجل: سبحان الله نبي من الأنبياء يتصدق بتمرة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أو ما علمت أن فيها مثاقيل ذر كثير، فأتاه آخر فسأله فأعطاه تمرة فقال: تمرة من نبي من الأنبياء لا تفارقني هذه التمرة ما بقيت، ولا أزال أرجو بركتها أبدا، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بمعروف، وما لبث الرجل أن استغنى. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18642 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا پھر آپ نے (نہیں) فرمایا ہو ۔ (رواہ ابن عساکر)
18642- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسأل عن شيء، فقال: لا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت :
18643 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا آپ نے کبھی لا (نہیں) نہیں فرمایا ۔ (رواہ ابن جریر) ۔
18643- عن جابر قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا قط فقال: لا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خوف خداوندی :
1044 2 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قاری کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” ان لدینا انکالا وجحیما “۔ ہمارے پاس (مختلف) عذاب اور دوزخ ہے۔
یہ سننا تھا کہ آپ بےہوش ہوگئے ۔ (رواہ ابن النجار)
یہ سننا تھا کہ آپ بےہوش ہوگئے ۔ (رواہ ابن النجار)
18644- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع قارئا يقرأ: " إن لدينا أنكالا وجحيما" فصعق. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18645 ۔۔۔ ابو الہیثم (رض) روایت کرتے ہیں اس شخص سے جس نے حضرت ابو سفیان بن حرب (رض) سے سنا ۔ حضرت ابوسفیان (رض) اپنی بیٹی (ام المؤمنین) ام حبیبہ (رض) کے گھر بیٹھے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذاق فرمانے لگے ۔ بولے : واللہ ! میں نے آپ کو چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے سارے عرب نے آپ کو چھوڑ دیا اور میں نے آپ کو اس قدر سینگ مارے کہ لوگ کہنے لگے یہ کیا اس سر پر تو بال ہیں اور نہ سینگ ۔ بو سفیان (رض) کہتے رہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنستے رہے اور فرماتے رہے : اے ابو حنظلہ ! یہ تم کہہ رہے ہو ۔ (الزبیر بن بکار فی ابن عساکر)
18645- عن أبي الهيثم عمن أخبره أنه سمع أبا سفيان بن حرب مازح النبي صلى الله عليه وسلم في بيت ابنته أم حبيبة ويقول: والله إن هو إلا أن تركتك فتركتك العرب أن انتطحت فيك وقالوا: جماء ولا ذات قرن، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك ويقول: أنت تقول ذلك يا أبا حنظلة. "الزبير بن بكار في كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق :۔۔۔ صحب اور ہنسی مذاق میں :
18646 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزاح فرماتے تھے ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہاں ۔ اس شخص نے پوچھا : آپ کا مزاح کیسا ہوتا تھا ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کسی بیوی کو ایک بڑا کپڑا پہنایا اور فرمایا : اس کو پہن لے اور اس پر اللہ کا شکر کر اور اس کپڑے کو دلہن کی طرح کھینچتی پھر ۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
18646- عن ابن عباس أن رجلا سأله فقال: أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمزح؟ قال: نعم، فقال رجل: ما كان مزاحه، فقال ابن عباس: كسا النبي صلى الله عليه وسلم بعض نسائه ثوبا واسعا قال: البسيه، واحمدي الله، وجري من ذيلك هذا كذيل العروس. "كر وضعفه".
তাহকীক: