কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৬০৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18607 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئے حتی کہ کبھی کھجور اور پانی سے بھی پیٹ نہیں بھرا (ابن جریر)
18607- عن عائشة قالت: قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وما شبع من الأسودين التمر والماء. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18608 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات فرما گئے اور کبھی دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون کے تیل سے بھی پیٹ نہیں بھرا۔ (ابن جریر) ابن النجار نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں۔ اور روٹی اور گوشت سے ۔
18608- عن عائشة قالت: لقد مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وما شبع من خبز وزيت في يوم واحد مرتين. "ابن جرير ورواه ابن النجار بلفظ من خبز ولحم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18609 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں چالیس چالیس دن تک اس حال میں رہتے تھے کہ چولہا نہیں جلتا تھا ۔ اور نہ ہی چراغ جلتا تھا ۔ میں نے عرض کیا : پھر کس چیز پر آپ لوگ زندگی بسر کرتے تھے ؟ فرمایا اسودین پر یعنی پانی اور کھجور پر ۔ وہ بھی جب میسر ہوتیں ۔ (ابن جریر)
18609- عن عروة قال: قالت عائشة: إن كنا لنمكث أربعين صباحا لا نوقد في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم نارا مصباحا ولا غيره، قلت: بأي شيء كنتم تعيشون؟ قالت: بالأسودين التمر والماء إذا وجدنا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18610 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم ایک چاند دیکھتے پھر دوسرا چاند دیکھتے پھر تیسرا چاند بھی دیکھ لیتے اور دو دو مہینے بسر ہوجاتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی ، حضرت عروہ (رض) نے عرض کیا : خالہ ! پھر آپ کس چیز پر زندہ رہتی تھیں ؟ فرمایا : ہمارے پڑوسی تھے ، انصار ! اور وہ بہترین پڑوسی تھے ۔ ان کے پاس دودھ والی بکریاں ہوتی تھیں وہ ان کا دودھ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج دیا کرتے تھے ۔ (ابن جریر)
18610- عن عائشة قالت: إن كنا لننظر إلى الهلال ثم الهلال ثم الهلال في شهرين، وما أوقد في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم نارا، قلت: يا خالة وما كان يعيشكم؟ قالت: كان لنا جيران من الأنصار نعم الجيران كانت لهم منائح من غنم، فكانوا يرسلون من ألبانها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18611 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک مرتبہ بکری کی ٹانگ ہدیہ میں بھیجی ۔ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو کاٹ رہے تھے کسی نے پوچھا : آپ لوگوں نے چراغ کیوں نہیں جلا لیا تھا ۔ فرمانے لگیں اگر ہمارے پاس جلانے کا تیل ہوتا تھا تو اس کو (روٹی کے ساتھ) کھالیتے تھے ۔ (ابن جریر)
18611- عن عائشة قالت: أهدى أبو بكر رجل شاة فإني لأقطعها أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ظلمة البيت فقيل لها: فهلا أسرجتم؟ قالت: لو كان لنا ما نسرج به أكلناه. "ابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18612 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت میرے پاس آئی اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر دیکھا کہ ایک عباء کو دوہرا کرکے بچھا رکھا ہے۔ پھر اس نے ایک بستر بھیج دیا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا فلاں عورت نے بھیجا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو واپس کر دو ۔ اللہ کی قسم ! اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے ۔ پھر میں اس کو نہ لوٹاتا ۔ اب مجھے اس کا گھر میں ہونا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمائی ۔ (الدیلمی)
18612- عن عائشة قالت: دخلت علي امرأة من الأنصار فرأت فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم عباءة مثنية، فبعثت بفراش حشوه الصوف فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما هذا؟ قلت: بعثت فلانة فقال: رديه يا عائشة فوالله لو شئت لأجرى الله معي جبال الذهب والفضة فلم أرده، وأعجبني أن يكون في بيتي، حتى قال ذلك ثلاث مرات. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18613 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ سے جا ملے مگر گندم کی روٹی (پیٹ بھر کر) نہیں کھائی (المتفق للخطیب)
18613- عن عائشة قالت: ما أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى لقي الله إلا خبز شعير. "خط في المتفق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18614 ۔۔۔ ابی السلیل سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوس بن حوشب انصار کے گھر میں تشریف فرما تھے ۔ آپ کی خدمت میں ایک لٹیا نما برتن لا کر آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا گیا ۔ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ دودھ اور شہد ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے ہاتھ میں روک کر فرمایا : یہ دونوں مشروب ہم ان کو پی سکتے ہیں اور نہ اس کو حرام کہہ سکتے ہیں۔ جس نے اللہ کے لیے تواضع برتی اللہ پاک اسے بلند کریں گے اور جس نے سرکشی کی اللہ پاک اسے توڑ دیں گے ۔ اور جس نے اپنی گذر بسر کی اچھی تدبیر کی اللہ اسے رزق پہنچائیں گے ۔ (رواہ ابن النجار)
18614- عن أبي السليل قال: أخبرني أبي قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في دار رجل من الأنصار يقال له: أوس بن حوشب، فأتي بعس فوضع في يده، فقال: ما هذا؟ فقالوا: يا رسول الله لبن وعسل، فوضعه في يده ثم قال: هذا شرابان لا نشربه ولا نحرمه، من تواضع رفعه الله ومن تجبر قصمه الله، ومن أحسن تدبير معيشته رزقه الله. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18615 ۔۔۔ عبداللہ ہوزنی (رح) سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن حضرت بلال (رض) سے ملا، میں نے عرض کیا : اے بلال ! مجھے بتاؤ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے کا کیا حال تھا ؟ حضرت بلال (رض) نے ارشاد فرمایا : آپ کے پاس کوئی شی نہ ہوتی تھی ۔ جب سے اللہ نے آپ کو مبعوث کیا تھا وفات تک میں ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے پینے کا بند و بست کرتا تھا ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی ننگا بھوکا مسلمان آتا تو آپ مجھے حکم کردیتے میں قرض لے کر اس کو پہناتا اور کھلاتا پلاتا تھا ۔ حتی کہ ایک مشرک مجھے ملا اور بولا اے بلال ! کسی اور سے قرض مت لیا کر ، میرے پاس مال کی فراوانی ہے۔ جو ضرورت پڑے مجھ سے قرض لے لیا کرو۔ پس میں اس سے قرض لینے لگا ۔ ایک دن میں وضو کرکے نماز کے لیے اذان دینے کو کھڑا ہوا ۔ اتنے میں وہی مشرک تاجروں کی ایک جماعت کے ساتھ آیا اور مجھے دیکھ کر بولا : اے حبشی ! میں نے کہا : لبیک ۔ پھر وہ مجھ پر چڑھ دوڑا اور مجھے بہت برا بھلا کہا ۔ بولا : تو جانتا ہے مقررہ مہینہ ہونے میں کتنا وقت رہ گیا ہے ؟ میں نے کہا : قریب ہے۔ بولا صرف چار دن رہ گئے ہیں اگر تم نے وعدہ ادائیگی پورا نہ کیا تو میں اپنے حق کے بدلے تم کو پکڑ لوں گا ۔ میں نے تم کو قرض اس لیے نہیں دیا کہ تم میرے نزدیک کوئی عزت دار شخص ہو اور نہ ہی تمہارے ساتھی کی میرے ہاں کوئی وقعت ہے میں نے تم کو قرض اس لیے دیا ہے کہ تم کو اپنا غلام بنا سکوں اور پھر تم سے اپنی بکریاں چرواؤں جو کام تم پہلے کرتے تھے ۔ حضرت بلال (رض) فرماتے ہیں : پس میرے دل میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح خطرات پیدا ہونے لگے ۔ پھر میں چلا اور اذان دی ۔ حتی کہ جب میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے گھر والوں کے پاس چلے گئے ۔ میں اجازت لے کر حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے جس مشرک سے قرض لیا تھا وہ مجھے فلاں فلاں دھمکیاں دے گیا ہے۔ اور آپ کے پاس بھی کوئی بند و بست نہیں ہے کہ میرے قرض کا دفعیہ فرما سکیں اور نہ میرے پاس کوئی صورت ادائیگی ہے۔ اور وہ مجھے رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے آپ مجھے اجازت دیں میں ان قبیلوں کے پاس جاتا ہوں جو اسلام لا چکے ہیں شاید اللہ پاک آپ کو ادائیگی کی صورت پیدا فرما دیں ۔ حضرت بلال (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں اجازت لے کر پہلے اپنے گھر آیا ۔ اپنی تلوار ، اپنا تھیلا ، اپنی ڈھال اور جوتے اٹھا کر اپنے سرہانے کی طرف رکھ لیے اپنا چہرہ آسمان کی طرف کرکے آرام کے لیے لیٹ گیا۔ ہر تھوڑی دیر بعد جاگتا اور رات سر پر باقی ہوتی تو پھر سو جاتا حتی کہ صبح کی پہلی پو پھٹی ۔ میں نے نکلنے کا ارادہ کیا ۔ لیکن ایک آدمی آوازیں دیتا ہوا آیا : اے بلال ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربار میں حاضری دو ، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ۔ دیکھا کہ باہر چار اونٹنیاں سامان سے لدی بیٹھی ہیں۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اور حاضری کی اجازت لی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھے اندر بلا کر ارشاد) فرمایا : خوشخبری ہو ، اللہ نے تمہارا کام کردیا ہے۔ میں نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا۔ آپ نے فرمایا : کیا تم چار سامان سے لدی سواریوں کے پاس سے نہیں آئے ؟ میں نے عرض کیا بالکل ضرور یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ سواریاں بھی اور ان پر بار کیا ہوا ، کپڑا اور اناج بھی تم کو آیا ۔ یہ مال مجھے فدک کے سردار نے ہدیہ بھیجا ہے۔ تم ان کو اپنے قبضے میں لے اور ان سے اپنا قرض اتارو ۔ چنانچہ میں نے تعمیل ارشاد کی ۔ سواریوں سے ان کا بار اتارا ۔ ان کو چارا ڈالا۔ پھر صبح کی نماز کے لیے اذان دینے کھڑا ہوا ۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھالی تو میں بقیع گیا اور کانوں میں انگلیاں دے کر بلند آواز سے پکارا : جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کوئی قرض ہو وہ آجائے ۔ پس لوگ (آتے رہے اور) میں خریدو فروخت کرتا رہا اور لوگوں کے قرض چکاتا رہا ۔ حتی کہ روئے زمین پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرض کا مطالبہ کرنے والا کوئی باقی نہ رہا ۔ اور پھر بھی میرے ہاتھ میں ڈیڑھ دو اوقیہ (چاندی) بچ گئی ۔ پھر میں مسجد آیا جبکہ دن کا اکثر حصہ نکل گیا تھا ۔ رسول اللہ مسجدہ میں تنہا تشریف فرما تھے ۔ میں سلام کیا آپ نے مجھے جواب سے نوازا اور پوچھا تمہارے اس سامان نے کیا کام دیا ؟ میں نے عرض کیا : اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سارا قرض اتار دیا ہے۔ آپ نے پوچھا کیا کچھ بچا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : دیکھ ! مجھے اس سے بھی راحت دے دے ۔ کیونکہ میں گھر واپس نہ جاؤں گا جب تک اس میں سے کچھ بھی باقی ہے ؟ چنانچہ شام ہوگئی مگر ہمارے پاس کوئی حاجت مند نہیں آیا پھر عشاء کی نماز پڑھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور پوچھا : کیا کچھ باقی ہے ؟ میں نے عرض کیا سارا بقیہ مال اسی طرح جوں کا توں موجود ہے ، کوئی آیا ہی نہیں ہے۔ آخر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ رات مسجد ہی میں گذاری اور پھر صبح ہوئی اور اگلا دن بھی آخر ہونے کو پہنچ گیا ۔ پھر دو مسافر سوار آئے میں نے ان کو لے کر جا کر کھلایا پلایا اور لباس بھی دیا ۔ پھر عشاء کے بعد آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا : کیا ہوا ؟ عرض کیا : اللہ نے آپ کو اس مال سے نجات اور راحت دے دی ہے۔ آپ نے (خوشی سے) اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمد وثناء کی کہ کہیں موت آجاتی اور مال آپ کے پاس موجود رہتا ۔ پھر میں آپ کے پیچھے ہو لیا اور آپ اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک ایک بیوی کو جا کر سلام کیا حتی کہ پھر اس بیوی کے پاس چلے گئے جہاں رات گذارنے کی باری تھی ۔ پس یہ ہے تمہارے سوال کا جواب ۔ (الکبیر للطبرانی)
18615- عن عبد الله الهوزني قال: لقيت بلالا مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا بلال حدثني كيف كان نفقته صلى الله عليه وسلم؟ فقال: ما كان له شيء كنت أنا الذي ألي ذلك منه منذ بعثه الله عز وجل حتى توفي، وكان إذا أتاه الإنسان المسلم فرآه عاريا يأمرني به فأنطلق فأستقرض فأشتري البردة فأكسوه وأطعمه، حتى اعترضني رجل من المشركين فقال: يا بلال إن عندي سعة فلا تستقرض من أحد إلا مني ففعلت فلما كان ذات يوم توضأت ثم قمت لأؤذن بالصلاة، فإذا المشرك قد أقبل في عصابة من التجار، فلما رآني قال: يا حبشي قلت: لبيك فتجهمني، وقال لي قولا عظيما فقال: أتدري كم بينك وبين الشهر؟ قلت: قريب قال: إنما بينك وبينه أربع، وآخذك بالذي لي عليك، فإني لم أعطك الذي أعطيتك من كرامتك، ولا كرامة صاحبك علي، ولكن أعطيتك لأتخذك لي عبدا، فأردك ترعى الغنم كما كنت قبل ذلك، فأخذ في نفسي ما يأخذ في أنفس الناس، فانطلقت ثم أذنت بالصلاة حتى إذا صليت العتمة رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أهله، فاستأذنت عليه فأذن لي فقلت: يا رسول الله إن المشرك الذي كنت أدنت منه قال لي كذا وكذا وليس عندك ما تقضي عني، وليس عندي وهو فاضحي، فأذن لي أن آتي إلى بعض هؤلاء الأحياء الذين قد أسلموا حتى يرزق الله رسوله ما يقضي عني فخرجت حتى أتيت منزلي فجعلت سيفي وجرابي ومحجني ونعلي عند رأسي، واستقبلت بوجهي الأفق، فكلما نمت ساعة انتبهت، فإذا رأيت علي ليلا نمت حتى ينشق عمود الصبح الأول. فأردت أن أنطلق فإذا إنسان يسعى يدعو يا بلال أجب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت حتى أتيته، فإذا أربع ركائب مناخات عليهن أحمالهن فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنت فقال: أبشر فقد جاءك الله بقضاءك، فحمدت الله عز وجل فقال: ألم تمر على الركائب المناخات الأربع؟ قلت: بلى قال: إن لك رقابهن وما عليهن فإن عليهن كسوة وطعاما أهداهن إلي عظيم فدك فاقبضهن ثم اقض دينك ففعلت، فحططت عنهن أحمالهن ثم علفتهن، ثم قمت إلى تأذيني صلاة الصبح، حتى إذا صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم خرجت إلى البقيع فجعلت أصبعي في أذني فناديت، فقلت: من كان يطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم بدين فليحضر، فما زلت أبيع وأقضي حتى لم يبق على رسول الله صلى الله عليه وسلم دين في الأرض، حتى فضل في يدي أوقيتان أو أوقية ونصف، ثم انطلقت إلى المسجد وقد ذهب عامة النهار، وإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في المسجد وحده فسلمت عليه فقال لي: ما فعل ما قبلك؟ قلت قد قضى الله كل شيء كان على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يبق شيء، فقال: أفضل شيء؟ فقلت: نعم، قال: انظر أن تريحني منها، فإني لست داخلا على أحد من أهلي حتى تريحني منه، فلم يأتنا أحد حتى أمسينا، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العتمة دعاني فقال لي: ما فعل الذي قبلك؟ قلت: هو معي لم يأتنا أحد فبات في المسجد حتى أصبح فظل اليوم الثاني حتى كان في آخر النهار جاء راكبان، فانطلقت بهما فأطعمتهما وكسوتهما حتى إذا صلى العتمة دعاني فقال لي: ما فعل الذي قبلك؟ فقلت قد أراحك الله منه يا رسول الله، فكبر وحمد الله شفقا من أن يدركه الموت وعنده ذلك ثم اتبعته حتى جاء أزواجه، فسلم على امرأة امرأة حتى أتى مبيته فهو الذي سألتني عنه."طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18616 ۔۔۔ حضرت حسن (رض) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور بولا : اے محمد ! اللہ آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے : اگر تم چاہو تو میں وادی بطحاء کو تمہارے لیے سونے کا بنا دوں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کیا : اے پروردگار ! میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور تیرا شکر کروں اور ایک دن بھوکا رہوں اور آپ سے سوال کروں (یہ مجھے زیادہ پسند ہے) ۔ (رواہ العسکری)
18616- عن الحسن عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتاني ملك فقال: يا محمد إن ربك يقرأ عليك السلام ويقول: إن شئت جعلت لك بطحاء مكة ذهبا قال: فرفع رأسه إلى السماء وقال: لا يا رب اشبع يوما فأحمدك وأجوع يوما فأسألك. "العسكري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18617 ۔۔۔ ابوالبختری سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت کرتے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے لوگوں کو ارشاد فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اس مال (بیت المال) میں سے ہمارا کیا حق ہے ؟ لوگوں نے کہا : یا امیر المؤمنین ! ہم نے آپ کو آپ کے گھر والوں کے کام کاج سے ، آپ کی گذر بسر اور تجارت وغیرہ سے مشغول کردیا ہے۔ پس آپ جو چاہیں لے لیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے مجھے فرمایا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : لوگ آپ کو مشورہ دے چکے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے مجھے تاکیدا فرمایا : نہیں تم بتاؤ میں نے کہا کہ آپ اپنے یقین کو گمان نہ بنائیں (جس قدر خرچ کا آپ کو یقین ہے وہ لے لیں اور ظن و گمان کی بناء پر زائد نہ لیں) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : پھر آپ خود میرے لیے حصہ نکال دیں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : میں نے کہا : ہاں میں ضرور نکال دوں گا ۔ کیا آپ کو وہ واقعہ یاد ہے کہ آپ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تھا ۔ پھر آپ حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پاس آئے انھوں نے آپ کو صدقہ (زکوۃ ) دینے سے انکار کردیا۔ پھر آپ دونوں کے درمیان کچھ تکرار ہوئی ۔ آپ نے مجھے کہا : میرے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو ۔ تاکہ ہم دونوں عباس کے متعلق حضور کو خبر دیں ۔ چنانچہ ہم دونوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوگئے ۔ اگلے روز آپ کے پاس گئے تو آپ کو ہشاش بشاش پایا ۔ تب میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عباس (رض) کے متعلق ساری خبر سنائی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بجائے مجھے خبر دینی چاہیے تھی) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں پھر ہم نے آپ سے پچھلے دن آپ کی طبیعت کی ناسازی کی اور آج کے دن طبیعت کی خوشگواری کی وجہ پوچھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم جب پچھلے دن میرے پاس آئے تھے اس دن صدقہ کے مال میں سے دو دینار میرے پاس بچ گئے تھے جن کی وجہ سے میری طبیعت پر ان کا بار تھا ۔ اور آج جب تم آئے ہو اور مجھے ہشاش بشاش اور خوش دیکھ رہے اس کی وجہ بھی وہی دینار ہیں کیونکہ وہ (راہ خدا میں) خرچ ہوچکے ہیں۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : تب سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) (بات سمجھ گئے اور) مجھے ارشاد فرمایا : میں دنیا و آخرت میں تمہارا شکر گزار ہوں ۔ (مسند احمد ، مسند ابی یعلی ، الدورقی ، السنن للبیھقی ، مسند البزار) امام بزار (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور ابو البختری کے درمیان کوئی (ارسال ہے اور) کوئی راوی متروک ہے۔
18617- عن أبي البختري عن علي قال: قال عمر بن الخطاب للناس: ما ترون في فضل فضل عندنا من هذا المال؟ فقال الناس: يا أمير المؤمنين قد شغلناك عن أهلك وضيعتك وتجارتك فهو لك، فقال لي: ما تقول أنت؟ فقلت قد أشاروا عليك فقال لي: قل فقلت: لم تجعل يقينك ظنا فقال: لتخرجن مما قلت، فقلت أجل والله لأخرجن منه، أتذكر حين بعثك نبي الله صلى الله عليه وسلم ساعيا فأتيت العباس بن عبد المطلب فمنعك صدقته، فكان بينكما شيء فقلت لي انطلق معي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلنخبره بالذي صنع، فانطلقنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فوجدناه خاثرا فرجعنا ثم غدونا عليه الغد، فوجدناه طيب النفس، فأخبرته بالذي صنع العباس، فقال لك: أما علمت أن عم الرجل صنو أبيه، وذكرنا له الذي رأينا من خثوره في اليوم الأول، والذي رأينا من طيب نفسه في اليوم الثاني، فقال: إنكما أتيتماني في اليوم الأول، وقد بقي عندي من الصدقة ديناران فكان ذلك الذي رأيتما من خثوري لذلك وأتيتماني اليوم وقد وجهتهما فذلك الذي رأيتما من طيب نفسي فقال عمر: صدقت أما والله لأشكرن لك الأولى والآخرة. "حم ع والدورقي هق ز وقال فيه: إرسال بين أبي البختري وعلي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18618 ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) یحییٰ بن عبید اللہ عن ابیہ عن ابوہریرہ (رض) کی سند سے مروی ہے ، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں مجھے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ واقعہ سنایا کہ ایک رات مجھ سے عشاء کا کھانا رہ گیا میں گھر والوں کے پاس آیا ان سے کچھ کھانے کو پوچھا انھوں نے کہا ایسی کوئی چیز گھر میں نہیں جو آپ کو پیش کرسکیں ۔ پھر میں اپنے بستر پر کروٹ لے کر لیٹ گیا ۔ لیکن بھوک نے نیند کو نہیں آنے دیا ۔ آخر میں نے کہا : چلو مسجد میں چلتا ہوں نماز پڑھتا ہوں اور ذکر وغیرہ میں مشغول ہو کر اس تکلیف کو دفع کرتا ہوں ۔ سو میں مسجد میں گیا نماز پڑھی ، پھر مسجد کے گوشہ میں ٹیک لا کر بیٹھ گیا ۔ میں اسی حال میں تھا کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بھی آگئے ۔ انھوں نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : ابوبکر ۔ انھوں نے پوچھا آپ کو اس وقت کس چیز نے یہاں بھیجا ہے ؟ میں نے ان کو سارا واقعہ سنایا ۔ انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکال کر یہاں بھیجا ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے پہلو میں بیٹھ گئے ، ہم اسی حال میں بیٹھے تھے ک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ادھر آنکلے ۔ اور ہمیں نہ پہچان کر پوچھا : کون لوگ ہیں ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جواب دینے میں مجھ پر سبقت لی اور عرض کیا ابوبکر ، اور عمر ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : تم کو کیا چیز اس وقت یہاں لائی ہے ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : میں نکل کر مسجد میں آیا تو میں نے ابوبکر (رض) کا سایہ دیکھا پوچھنے پر انھوں نے فرمایا : ہاں میں ابوبکر ہوں ۔ میں نے ان سے اس وقت یہاں آنے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے اصل حقیقت بتائی تب میں نے ان کو کہا کہ اللہ کی قسم مجھے بھی یہی چیز لانے والی ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم مجھے بھی اسی چیز نے یہاں آنے پر مجبور کیا ہے جس نے تم کو مجبور کیا ہے۔ چلو ہم چلتے ہیں میرے واقف کار ابی الہیثم بن التیہان کے پاس ۔ شاید وہاں ہم کو کوئی چیز کھانے کو مل جائے چنانچہ ہم نکل کر چاند کی روشنی میں چل پڑے اور ابو الہیثم کے باغ میں پہنچ کر ان کے گھر کا دروازہ بجایا ۔ ایک عورت بولی : کون ؟ حضرت عمر (رض) نے آواز دی یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر وعمر آئے ہیں عورت نے دروازہ کھول دیا ۔ ہم اندر داخل ہوگئے ۔ اور واقعی وہ آگئے انھوں نے ایک مشکیزہ اٹھایا ہوا تھا ۔ باغ میں داخل ہو کر انھوں نے مشکیزہ ایک کھونٹی پر لٹکا دیا ۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : مرحبا خوش آمدید بہت اچھا کیا ایسے مہمان کس کے ہاں نہ آئے ہوں گے جو میرے ہاں تشریف لائے ہیں۔ پھر کھجور کا ایک خوشہ توڑ کر ہمارے سامنے پیش کردیا ۔ ہم چاند کی روشنی میں خوشے سے کھجور چن چن کر کھانے لگے ۔ ابو الہیثم نے چھری تھامی اور بکریوں کے درمیان پھرنے لگے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دودھ والی بکری کو ذبح نہ کرنا ۔ پھر انھوں نے ایک بکری ذبح کی اور اس کی کھال اتاری اور بیوی کو فرمایا : کھڑی ہو ۔ چنانچہ انھوں نے گوشت پکایا روٹی بنائی اور دیگچی میں گوشت کو گھمانے لگی ۔ نیچے آگ دھونکتی رہی حتی کہ روٹی اور گوشت تیار ہوگیا ۔ پھر انھوں نے ثرید تیار کیا اور اس پر مزید گوشت اور سالن ڈالا اور ہمارے سامنے پیش کردیا ۔ ہم نے کھایا اور (خوب) سیر ہوگئے ۔ پھر الہیثم نے مشکیزہ اتارا جس کا پانی اب تک ٹھنڈا ہوگیا تھا ۔ انھوں نے برتن میں پانی ڈال کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تھمایا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی نوش فرمایا پھر وہ مجھے یعنی (ابوبکر) کو دیا ۔ میں نے بھی پی کر عمر (رض) کو دیدیا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے نوش فرمایا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم گھروں سے نکلے اور ہمیں گھروں سے نکالنے والی شی صرف بھوک تھی ۔ پھر ہم یہاں لوٹے اور یہ کھانا پایا ۔ بیشک قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واقفی کو فرمایا : کیا بات ہے تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے جو تمہارا پانی وغیرہ بھر دیا کرے ۔ انھوں نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارے پاس غلام آئیں تو تم چلے آنا ہم تمہارے لیے کوئی غلام مہیا کردیں گے ، پھر ، کچھ ہی عرصہ گزرا ہوگا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ غلام آگئے ۔ چنانچہ واقفی بھی آپ کے پاس پہنچے ۔ آپ نے وجہ آمد دریافت کی ، انھوں نے عرض کیا وہی وعدہ جو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ غلام ہیں کھڑے ہو کر ان میں سے پسند کرلو ۔ واقفی نے عرض کیا : آپ ہی میرے لیے پسند فرما دیں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ غلام لے لو ۔ لیکن اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔ واقفی اس غلام کو بیوی کے پاس لے گئے ۔ بیوی نے غلام کے تعلق پوچھا تو واقفی نے سارا ماجرا کہہ سنایا ۔ عورت نے پوچھا : تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا کہا ؟ واقفی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہہ دیا تھا کہ آپ ہی میرے لیے غلام پسند کردیں ۔ بیوی نے کہا : یہ تم نے بہت اچھا کیا ۔ پس جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے تو اس کے ساتھ اچھا سلوک ہی روا رکھنا ۔ واقفی نے بیوی سے پوچھا : اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہونا چاہیے ؟ بیوی نے کہا : اس کو آزاد کردیں ، واقفی نے کہا : یہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ (مسند ابی یعلی ، ابن مردویہ) کلام : ۔۔۔ روایت کی سند میں یحییٰ اور اس کا والد دونوں ضعیف ہیں۔ مجمع الزوائد 10 ۔ 319 ۔
18618- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن يحيى بن عبيد الله عن أبيه عن أبي هريرة قال: حدثني أبو بكر قال: فاتني العشاء ذات ليلة فأتيت أهلي فقلت هل عندكم عشاء؟ قالوا: لا والله ما عندنا عشاء، فاضطجعت على فراشي فلم يأتني النوم من الجوع، فقلت: لو خرجت إلى المسجد فصليت وتعللت حتى أصبح، فخرجت إلى المسجد فصليت ما شاء الله، ثم تساندت إلى ناحية المسجد، فبينا أنا كذلك إذ طلع عمر بن الخطاب فقال: من هذا؟ فقلت أبو بكر، قال ما أخرجك هذه الساعة؟ فقصصت عليه القصة، فقال: والله ما أخرجني إلا الذي أخرجك، فجلس إلى جنبي، فبينا نحن كذلك إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنكرنا فقال: من هذا؟ فبادرني عمر فقال: هذا أبو بكر وعمر فقال: ما أخرجكما هذه الساعة؟ فقال عمر: خرجت فدخلت المسجد فرأيت سواد أبي بكر، فقلت: من هذا؟ فقال: أبو بكر، فقلت ما أخرجك هذه الساعة؟ فذكر الذي كان، فقلت: وأنا والله ما أخرجني إلا الذي أخرجك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وأنا والله ما أخرجني إلا الذي أخرجكما،فانطلقوا بنا إلى الواقفي أبي الهيثم بن التيهان فلعلنا نجد عنده شيئا يطعمنا، فخرجنا نمشي وانطلقنا إلى الحائط في القمر فقرعنا الباب فقالت المرأة: من هذا؟ فقال عمر: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر، ففتحت الباب، فدخلنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أين زوجك؟ قالت: ذهب يستعذب لنا من الماء من حش بني حارثة، الآن يأتيكم. فجاء يحمل قربة حتى أتى بها نخلة وعلقها على كرنافة من كرانيفها ثم أقبل علينا وقال: مرحبا وأهلا ما زار ناس أحدا قط مثل من زارني، ثم قطع لنا عذقا فأتانا به، فجعلنا ننقي منه في القمر ونأكل، ثم أخذ الشفرة فجال في الغنم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياك والحلوب أو قال: إياك وذوات الدر، فأخذ شاة فذبحها وسلخها وقال لامرأته: قومي، فطبخت وخبزت وجعلت تقطع في القدرمن اللحم وتوقد تحتها حتى بلغ الخبز واللحم فثرد وغرف لنا وعليه من المرق واللحم، ثم أتانا به فوضعه بين أيدينا فأكلنا حتى شبعنا، ثم قام إلى القربة وقد شففها الريح فبرد فصب في الإناء ثم ناول رسول الله صلى الله عليه وسلم فشرب، ثم ناولني فشربت، ثم ناول عمر فشرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله خرجنا لم يخرجنا إلا الجوع، ثم رجعنا وقد أصبنا هذا لتسألن عن هذا يوم القيامة هذا من النعيم، ثم قال للواقفي: مالك خادم يسقيك الماء؟ قال: لا والله يا رسول الله قال: فإذا أتانا سبي فأتنا حتى نأمر لك بخادم، فلم يلبث إلا يسيرا حتى أتاه سبي فأتاه الواقفي، فقال: ما جاء بك؟ قال: يا رسول الله وعدك الذي وعدتني، قال: هذا سبي فقم فاختر منه، فقال: كن أنت تختار لي، فقال: خذ هذا الغلام وأحسن إليه، فأخذه وانطلق به إلى امرأته، فقالت: ما هذا؟ فقص عليها القصة، قالت: فأي شيء قلت له؟ قال: قلت له كن أنت الذي تختار لي، قالت: قد أحسنت قال لك: أحسن إليه فأحسن إليه، قال: ما الإحسان إليه؟ قالت: أن تعتقه، قال: هو حر لوجه الله. "ع وابن مردويه ويحيى وأبوه ضعيفان"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18619 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو ارشاد فرمایا : چلو ہمارے ساتھ واقفی کے گھر چلو ۔ چنانچہ ہم چاند کی روشنی میں واقفی کے گھر کے لیے چل پڑے حتی کہ اس کے باغ میں گھر پر پہنچ گئے ۔ واقفی نے ہم کو خوش آمدید اور مبارک باد دی ۔ پھر چھری لے کر بکریوں میں چکر لگانے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا ۔ (ابن ماجہ عن طارق بن شھاب) کلام : ۔۔۔ زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی سند میں یحییٰ بن عبداللہ ایک راوی ہے جس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں وہ واھی الحدیث ہے۔
18619- عن أبي هريرة قال: حدثني أبو بكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له ولعمر: انطلقوا بنا إلى الواقفي، فانطلقنا في القمر حتى أتينا الحائط فقال: مرحبا وأهلا، ثم أخذ الشفرة ثم جال في الغنم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إياك والحلوب أو قال: ذوات الدر. "هـ عن طارق بن شهاب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18620 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے بےچینی میں ادھر ادھر کروٹ لے رہے ہیں۔ آپ کو اس قدر ردی کھجوریں بھی میسر نہ تھیں کہ جو شکم کو کفایت کرسکیں۔ (مسند ابوداؤد ۔ الطیالسی ، ابن سعد، مسند احمد ، مسلم ، ابن ماجہ ، ابوعوانہ ، مسند ابی یعلی ، صحیح ابن حبان ، ابن جریر، البیہقی فی الدلائل)
18620- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يظل اليوم يلتوي من الجوع ما يجد من الدقل ما يملأ به بطنه.
"ط وابن سعد حم م هـ وأبو عوانة ع حب وابن جرير ق في الدلائل".
"ط وابن سعد حم م هـ وأبو عوانة ع حب وابن جرير ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18621 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : کہ ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت باہر نکلے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو مسجد میں پایا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے پوچھا : اس وقت تم کو یہاں کس چیز نے آنے پر مجبور کیا ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : یا رسول اللہ ! مجھے اسی چیز نے یہاں آنے پر مجبور کیا ہے جس نے آپ کو یہاں آنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی اثناء میں عمر بن خطاب (رض) بھی وہاں آگئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے بھی وہاں آنے کی وجہ دریافت کی ۔ انھوں نے عرض کیا : مجھے بھی وہی چیز یہاں لائی ہے۔ جو آپ دونوں کو لائی ہے۔ پھر عمر بھی بیٹھ گیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں کو کچھ باتیں ارشاد فرماتے رہے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں حضرات سے دریافت فرمایا : کیا تم دونوں فلاں باغ تک چلنے کی سکت رکھتے ہو ؟ وہاں کھانا پانی اور سایہ ملے گا ۔ دونوں حضرات نے اثبات میں جواب دیا ۔ لہٰذا آپ نے فرمایا : پھر چلو ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن التیہان انصاری کے گھر ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل دیئے اور ہم بھی ان کے پیچھے ہو لیے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کیا اور تین بار اجازت لی ، ام الہیثم دروازے کے پیچھے کھڑی ہوئی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سن رہی تھی ان کی منشاء تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک بول اور زیادہ سنیں ۔ جب آخر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹنے لگے تو ام الہیثم جھٹ نکلیں اور دروازے کی اوٹ سے بولیں کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں نے آپ کا سلام سنا تھا ۔ بس میرے میں خواہش ہوئی کہ آپ کی مزید دعائیں ہم کو ملیں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر ہے ، پھر پوچھا : ابو الہیثم کہاں ہے مجھے نظر نہیں آرہے ؟ ام الہیثم نے عرض کیا : قریب ہی ہیں ، گھر کے لیے میٹھا پانی بھرنے گئے ہیں۔ آپ اندر تشریف لے آئیے ، وہ بھی آتے ہی ہوں گے ان شاء اللہ ۔ پھر انھوں نے ہمارے لیے چٹائی بچھا دی ۔ چنانچہ ابو الہیثم آئے تو ہم کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھیں بھی ہم سے ٹھنڈی ہوگئیں ۔ وہ آکر فورا ایک درخت پر چڑھے اور کھجور کا ایک خوشہ توڑ لائے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کافی ہے ابو الہیثم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اور آپ کے ساتھی اس سے نرم اور سخت من پسند کھجوریں کھائیں ۔ پھر وہ پانی لے کر آئے ، ہم نے کھجوروں کے ساتھ پانی بھی پیا، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ وہ نعمتیں ہیں ، جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا ۔ پھر ابو الہیثم کھڑے ہو کر بکری ذبح کرنے اٹھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ والی بکری ذبح کرنے سے اجتناب کا حکم دیا ۔ ام الہیثم آٹا گوندھنے اور روٹی پکانے میں مصروف ہوگئیں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر (رض) نے اپنے سر قیلولہ (دوپہر میں آرام ) کے لیے رکھ دیئے ۔ جب کچھ دیر بعد وہ اٹھے تو کھانا تیار ہوچکا تھا ۔ ان کے سامنے کھانا رکھا گیا ۔ سب نے کھایا انھوں نے کھانا کھایا اور سیر ہوگئے اور اللہ کی حمد وثناء اور شکر ادا کیا ، پھر ام الہیثم نے بچا ہوا کھجوروں کا خوشہ سامنے رکھ دیا ۔ انھوں نے کچی پکی کھجوریں کھائیں ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا اور ان کے لیے خیر کی دعا کی پھر ابو الہیثم کو فرمایا : جب تم کو خبر ملے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں تو آجانا ۔ ام الہیثم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اگر آپ ہمارے لیے دعا کردیں تو اچھا ہو ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” افطر عندکم الصائمون واکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملائکۃ “۔ روزے دار تمہارے پاس افطار کریں ، تمہارا کھانا متقی لوگ کھائیں اور ملائکہ تم پر رحمتیں بھیجیں ۔ ابوالہیثم (رض) فرماتے ہیں : جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غلام آئے ہیں تو میں حاضر خدمت ہوا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک غلام عطا کیا ۔ میں نے اس غلام کے ساتھ چالیس ہزار درہم پر مکاتبت کا سودا کرلیا میں نے اس سے زیادہ برکت والا غلام کوئی نہیں دیکھا ۔ (البزار ، مسند ابی یعلی ، الضعفاء للعقیلی ، ابن مردویہ ۔ البیھقی ، فی الدلائل ، السنن لسعید بن منصور)
18621- عن ابن عباس أنه سمع عمر بن الخطاب يقول: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الظهيرة فوجد أبا بكر في المسجد، فقال: ما أخرجك في هذه الساعة؟ فقال: أخرجني الذي أخرجك يا رسول الله، وجاء عمر بن الخطاب فقال: ما أخرجك يا ابن الخطاب؟ قال: أخرجني الذي أخرجكما فقعد عمر، وأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدثهما، ثم قال: هل بكما قوة تنطلقان إلى هذا النخل، فتصيبان طعاما وشرابا وظلا؟ قلنا نعم، قال: سيروا بنا إلى منزل أبي الهيثم التيهان الأنصاري فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أيدينا فسلم، فاستأذن ثلاث مرات، وأم الهيثم وراء الباب تسمع الكلام وتريد أن يزيد لها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما أراد أن ينصرف خرجت أم الهيثم خلفه فقالت: يا رسول الله قد سمعت والله تسليمك، ولكن أردت أن تزيدنا من صلاتك، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم خيرا، وقال لها: أين أبو الهيثم ما أراه؟ قالت هو قريب ذهب يستعذب لنا الماء، ادخلوا فإنه يأتي الساعة إن شاء الله فبسطت لنا بساطا تحت شجرة فجاء أبو الهيثم وفرح بهم وقرت عينه بهم، وصعد على نخلة فصرم عذقا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حسبك يا أبا الهيثم، قال: يا رسول الله تأكلون من رطبه ومن بسره ومن تذنوبه، ثم أتاهم بماء فشربوا عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا من النعيم الذي تسألون عنه، وقام أبو الهيثم ليذبح لهم شاة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياك واللبون، وقامت أم الهيثم تعجن لهم وتخبز، ووضع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر رؤوسهم للقائلة، فانتبهوا وقد أدرك طعامهم، فوضع الطعام بين أيديهم فأكلوا وشبعوا وحمدوا الله، وردت عليهم أم الهيثم بقية العذق، فأكلوا من رطبه ومن تذنوبه، فسلم عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ودعا لهم بخير، ثم قال لأبي الهيثم: إذا بلغك أن قد أتانا رقيق فأتنا، وقالت له أم الهيثم: لو دعوت لنا؟ قال: أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة، قال أبو الهيثم: فلما بلغني أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رقيق أتيته فأعطاني رأسا فكاتبته على أربعين ألف درهم، فما رأيت رأسا كان أعظم بركة منه. "البزار ع عق وابن مردويه ق في الدلائل ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18622 ۔۔۔ ام ہانی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شکم اطہر دیکھا تو مجھے کاغذوں کے پلندے یاد آگئے جو ایک دوسرے پر لپیٹے جاتے ہیں۔ (الرؤیانی ، الشاشی ، ابن عساکر)
18622- عن أم هانئ قالت: ما رأيت بطن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا ذكرت القراطيس يثنى بعضها على بعض. "الرؤياني والشاشي كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقروفاقہ کا بیان :
18623 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں دسویں روز کے بعد پائے کھاتے تھے) (الخطبیب فی المتفق)
18623- عن عائشة قالت كنا نأكل الكراع على عهد رسول الله بعد عاشرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18624 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو موٹی کسی قدر سرخ چادریں تھیں جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں میں ملبوس ہو کر بیٹھتے تو چادروں کا بوجھ محسوس کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ فلاں یہودی شام سے بز (ریشم) کا کپڑا لے کر آیا ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : آپ کسی کو بھیج کر اس سے دسو کپڑے خرید لیں اس شرط پر کہ جب سہولت ہوگی قیمت ادا کردیں گے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو اس کام کے لیے بھیج دیا ۔ یہودی بولا : مجھے معلوم ہے تم کیا چاہتے ہو ؟ تم یہ کپڑے یا کہا میرا مال لے کر بھاگنا چاہتے ہو ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (یہ سن کر) فرمایا : وہ جھوٹ بولتا ہے ، وہ بخوبی جانتا ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ امانت ادا کرنے والا ہوں ۔ (نسائی ، ابن عساکر)
18624- عن عائشة قالت: كان على رسول الله صلى الله عليه وسلم قطريان غليظان فكان إذا قعد فيهما عرف ثقلا عليه، وقدم فلان اليهودي ببز من الشام، فقالت عائشة: لو بعثت إليه فاشتريت منه ثوبين إلى الميسرة؟ فبعث إليه فقال: قد علمت ما تريد إنما تريد أن تذهب بهما أو تذهب بمالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كذب، قد علم أني من أتقاهم لله وأداهم للأمانة. "ن كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18625 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) حضرت شفاء بنت عبداللہ (رض) سے روایت کرتے کہ فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے ۔ میں آپ سے آپ کا حال پوچھنے لگی ۔ اور شکوہ و شکایت بھی کیا (کہ مجھے کچھ دیتے نہیں) آپ بھی مجھ سے معذرت فرمانے لگے ۔ پھر نماز کا وقت آگیا ۔ میں اپنی بیٹی کے گھر میں داخل ہوئی جو شرجیل بن حسنہ کے عقد میں تھیں ۔ میں نے بیٹی کے شوہر شرجیل کو گھر میں موجود پایا وت اس کو ملامت وسرزنش کی کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے (حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو چلے گئے ہیں) اور تم یہاں بیٹھے ہو۔ انھوں نے کہا : اے پھوپھی جان ! مجھے برا بھلا نہ کہو ۔ میرے پاس دو ہی کپڑے تھے ۔ ایک کپڑا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مانگے سے (عاریتا) لے گئے ہیں ، شفاء فرماتی ہیں : تب مجھے اپنے دل میں شرمندگی کا احساس ہوا اور کہنے لگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حال ہے اور پھر کس کو زیب دیتا ہے کہ آپ کو ملامت کرے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18625- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن الشفاء بنت عبد الله قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فسألته وشكوت إليه فجعل يعتذر إلي، وجعلت ألومه، ثم حانت صلاة الأولى، فدخلت بيت ابنتي وهي عند شرحبيل بن حسنة، فوجدت زوجها في البيت فوقعت به ألومه حضرت الصلاة الأولى وأنت ها هنا، فقال: يا عمة لا تلوميني كان لي ثوبان استعار أحدهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدت في نفسي من ذلك، فقلت: ومن يلومه وهذا شأنه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کی حالت :
18626 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتا دیکھ رہا ہوں ۔ آپ کو کیا تکلیف لاحق ہوئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) بھوک نے یہ حال کردیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں رو پڑا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رو نہ ، بیشک قیامت کے دن کی سختی اور شدت بھوکے کو نہ پہنچے گی اگر وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔ (رواہ ابن النجار)
18626- عن أبي هريرة قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي جالسا فقلت: يا رسول الله أراك تصلي جالسا فما أصابك؟ قال: الجوع يا أبا هريرة، فبكيت فقال: لا تبك فإن شدة القيامة لا تصيب الجائع إذا احتسب.
"ابن النجار".
"ابن النجار".
তাহকীক: