কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৫৮৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18578 ۔۔۔ ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے کے دروازے کے پاس رات گذارتا تھا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت کھڑے ہوتے میں آپ کو ہمیشہ یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا : ” سبحان اللہ رب العالمین سبحان ربی العظیم وبحمدہ “۔ پاک ہے جہانوں کا پروردگار پاک ہے میرا رب عظمت والا ، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ (مصنف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، مستدرک الحاکم)
18587- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ وهو قاعد فإذا أراد أن يركع قام قدر ما يقرأ إنسان أربعين آية. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৮৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18579 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے ہم جب بھی چاہتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتا ہوا دیکھیں تو اس طرح دیکھ لیتے تھے اور جب بھی ہمیں خواہش ہوتی کہ آپ کو فارغ دیکھیں تو فارغ دیکھ لیتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
18588- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صلى قائما في التطوع يشق عليه القيام ركع ثم سجد سجدتين ثم قعد فقرأ ما بدا له وهو قاعد فإذا أراد أن يركع قام فقرأ بعض ما يريد أن يقرأ، ثم يركع ويسجد.

"ابن شاهين في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৮৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18580 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قدر عبادت فرمائی کہ پرانے مشکیزے کی طرح (سوکھ کر کمزور) ہوگئے تھے ۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو اس قدر مشقت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف نہیں کردیئے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو پھر کیا مجھے اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ نہیں بننا چاہیے ؟ (رواہ ابن النجار)
18589- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي فيما بين أن يفرغ من العشاء الآخرة إلى أن ينصدع الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم بين كل ثنتين ويوتر بواحدة، ويمكث في سجوده بقدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية قبل أن يرفع رأسه."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18581 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک اور پنڈلیوں پر ورم آجاتا تھا ۔ آپ کو کہا گیا : کیا اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف نہیں کردیئے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو کیا میں اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ (رواہ ابو داؤد)
18590- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ست ركعات يسلم من كل ركعتين، ثم يجلس فيسبح ويكبر، ثم يقوم فيصلي ركعتين. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18582 ۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی اس قدر روزے رکھتے کہ کہا جانے لگتا کہ آپ کسی دن بھی روزہ نہیں چھوڑیں گے ، پھر کبھی روزہ رکھنے کو اس قدر طویل مدت تک چھوڑ دیتے کہ کہا جانے لگتا کہ آپ تو روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ (نسائی ، مسند ابی یعلی ، السنن لسعید بن منصور)
18591- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاثة عشرة فيها خمس يوتر بهن، ولا يجلس إلا في آخرهن ثم يسلم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف امور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کا بیان طعام :
18583 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر قدم پر اللہ کا ذکر کرتے تھے ۔ (ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر) کلام : ۔۔۔ اس روایت میں بشر بن الحسین عن الزبیر بن عدی کا طریق منقول ہے علامہ ذہبی (رح) فرماتے ہیں بشر بن الحسین اصبہانی عن الزبیر بن عدی کا طریق نسخہ باطل ہے۔ (کنز ج 7 صفحہ 180)
18592- عن أنس قال: حلبت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة فشرب من لبنها، ثم أخذ ماء فمضمض وقال: إن له دسما. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف امور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کا بیان طعام :
18584 ۔۔۔ عبداللہ بن قیس بن مخرمہ بن المطلب بن عبد مناف (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رات کی) نماز دیکھی ، آپ نے دو دو رکعات نماز پڑھی ۔ حتی کہ تیرہ رکعات پڑھ لیں ، آخر میں ایک رکعت کے ساتھ وتر کرلیا تھا ۔ ہر دو رکعت پہلے والی دو رکعات سے مختصر ہوا کرتی تھی ، اسی طرح نماز پڑھتے پڑھتے آپ فارغ ہوگئے اور پھر دائیں کروٹ پر استراحت فرمانے کے لیے لیٹ گئے ۔ (ابن سعد ، البغوی)
18593- عن علي قال: كان أحب ما في الشاة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الذراع. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف امور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کا بیان طعام :
18585 ۔۔۔ ابن جریح (رح) سے مروی ہے کہ مجھے عبدالکریم نے ایک شخص کے متعلق خبر دی کہ وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی اہل خانہ کے فرد نے خبر دی کہ اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رات گذاری ۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو کھڑے ہوئے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے ، پھر مشکیزے کے پاس آئے اور اس سے پانی بہا کر تین بار ہاتھ دھوئے ، پھر وضو کیا پھر ایک ہی رکعت میں سات لمبی سورتیں قراءت فرمائیں ۔ (مصنف عبدالرزاق)
18594- عن يحيى بن أبي كثير قال: كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم من سعد بن عبادة جفنة من ثريد كل يوم تدور معه أينما دار من نسائه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس :
18586 ۔۔۔ اسود بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رات کی) نماز کے بارے میں پوچھا ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے ارشاد فرمایا ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے اول پہر سو جاتے تھے اور آخری پہر اٹھ کھڑے ہوتے تھے ، جس قدر مقدرد میں لکھا ہوتا نماز ادا فرماتے پھر نماز سے فارغ ہو کر اپنے بستر پر چلے جاتے ، پھر سو جاتے بغیر پانی کو چھوئے ، پھر جب اذان کی پہلی آواز سنتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اگر جنبی نہ ہوتے تو نماز کے لیے وضو فرماتے پھر دو رکعت نماز (سنت محمد) ادا فرماتے ۔ پھر نکل کر فجر کی نماز پڑھاتے ۔ (السنن لسعید بن منصور)
18595- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كنت مع عمر بن الخطاب فقال: رأيت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم وعليه جبة شامية ضيقة الكمين. "ابن سعد وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس :
18587 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قعدہ (التحیات) کی حالت میں قرات فرماتے پھر جب رکوع فرمانا چاہتے تو (قیام فرماتے اور) کھڑے ہوجاتے جس قدر کہ کوئی چالیس آیات پڑھ لے ۔ (رواہ ابن النجار)
18596- عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه قميص أصفر ورداء أصفر وعمامة صفراء. "كر وابن النجار وفيه: سليمان بن أرقم متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18588 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (نفل نماز کے) قیام کی حالت میں جب قرات کرتے کرتے تھک جاتے تو رکوع کرلیتے پھر دو سجدے کرکے قعدہ میں بیٹھ جاتے اور جس قدر ممکن ہوتا اسی حالت میں قرآن پڑھتے پھر جب رکوع کا ارادہ ہوتا تو اٹھ کھڑے ہوتے (یعنی قیام فرماتے) اور کچھ تھوڑی بہت تلاوت فرماتے پھر رکوع اور سجدے کرکے نماز پوری فرماتے (ابن شاھین فی الافراد)
18597- "مسند الصديق" عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: بينما أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ رأيته يدفع عن نفسه شيئا، ولا أرى شيئا، فقلت: يا رسول الله ما الذي تدفع عن نفسك ولا أرى شيئا؟ قال: الدنيا تطولت لي فقلت: إليك عني قال: أما إنك لست بمدركي. "البزار وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18589 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد سے فجر ہونے تک گیارہ رکعات نماز پڑھ لیتے تھے ، ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور آخر میں ایک رکعت (ملا کر) وتر بنا لیتے تھے ۔ آپ اپنے سجدوں میں سر اٹھانے سے قبل پچاس آیات کے بقدر توقف فرماتے تھے ۔ (ابن جریر)
18598- عن زيد بن أرقم أن أبا بكر الصديق استسقى فأتي بإناء فيه ماء وعسل، فلما وضع على يده بكى وانتحب، فما زال يبكي حتى بكى من حوله فسألوه مالذي هيجك على البكاء؟ فقال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعل يدفع عنه شيئا إليك عني إليك عني، ولم أر معه أحدا، فقلت: يا رسول الله أراك تدفع شيئا ولا أرى معك أحدا، فقال: هذه الدنيا تمثلت لي بما فيها فقلت لها إليك عني فتنحت، ثم رجعت فقالت: أما والله إن أفلت مني فلن ينفلت مني من بعدك، فخشيت أن تكون لحقتني فذاك أبكاني. "ك حل هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18590 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو چھ رکعات نماز ادا فرماتے تھے ۔ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے اور بیٹھ کر تسبیح وتکبیر (کے ساتھ ذکر اللہ ) میں مشغول رہتے ۔ پھر کھڑے ہو کر دو رکعات نماز پڑھتے ۔ (ابن جریر)
18599- عن عمر قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع على خصفة1، وإن بعضه لعلى التراب متوسد وسادة أدم محشوة ليفا وفوق رأسه إهاب معطون معلق في سقف العلية وفي زاوية منها شيء من قرظ "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18591 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات میں تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے ۔ پانچ رکعات کے ساتھ وتر ادا فرماتے تھے اور صرف آخری رکعات میں بیٹھتے تھے ۔ پھر پھیر دیتے تھے ۔ (ابن جریر) فائدہ :۔۔۔ آٹھ رکعات تو تہجد کی ہوتی تھیں پھر تین رکعات وتر کی اس کے بعد دو رکعت فجر کی سنتیں ہوا کرتی تھیں ۔ تین رکعت وتر کی ادائیگی میں طویل قعدہ آخری رکعت میں کرتے تھے جس سے اس رکعت کا پہلی دو رکعات کے ساتھ اتصال ہوتا تھا ۔
18600- عن الأسود أن عمر بن الخطاب دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في شكاة شكاها، فإذا هو على عباءة قطوانية ومرفقة من صوف حشوها الإذخر، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله كسرى وقيصر على الديباج وأنت على هذه؟ فقال: يا عمر أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة، ثم إن عمر مسه فإذا هو شديد الحمى، فقال: تحم هكذا وأنت رسول الله؟ فقال: إن أشد هذه الأمة بلاء نبيها، ثم الخير فالخير، وكذلك كانت الأنبياء عليهم السلام قبلكم والأمم. "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18601 ۔۔۔ عمرو بن دینار اور عبید اللہ بن ابی یزید (رض) سے مروی ہے دونوں حضرات ارشاد فرماتے ہیں : عہد نبوی میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کی کوئی دیوار نہ ہوتی تھی ۔ پھر بعد میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے (اپنے دور خلافت میں) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کی چار دیواری بنائی ، عبید اللہ بن ابی یزید (رض) فرماتے ہیں : یہ دیواریں بھی چھوٹی چھوٹی تھیں ، پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے (اپنے دور خلافت میں) دیواریں بنائیں اور ان میں اضافہ کیا ۔ (رواہ ابن سعد)
18601- عن عمرو بن دينار وعبيد الله بن أبي يزيد قالا: لم يكن على عهد النبي صلى الله عليه وسلم على بيت النبي صلى الله عليه وسلم حائط فكان أول من بنى عليه جدارا عمر بن الخطاب قال عبيد الله بن أبي يزيد: كان جداره قصيرا، ثم بناه عبد الله بن الزبير بعده وزاد فيه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18602 ۔۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چٹائی یا تخت پر لیٹادیکھا جس کے اثرات آپ کے جسم پر نمایاں نظر آرہے تھے ۔ کمرے میں جانور کی کھال دباغت میں پڑی ہوئی تھی ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رو پڑے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیوں رو رہے ہو ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : آپ اللہ کے نبی ہیں۔ جب کہ قیصر و کسری (شاہان روم وفارس) سونے کے تختوں پر آرام کرتے ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ۔ (رواہ ابن سعد)
18602- عن الحسن قال: دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه وسلم فرآه على حصير أو سرير قد أثر بجنبه، وفي البيت أهب عطنة، فبكى عمر، فقال: ما يبكيك يا عمر؟ قال: أنت نبي الله وكسرى وقيصر على أسرة الذهب، قال: يا عمر أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18603 ۔۔۔ حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چمڑے کے بچھونے پر استراحت فرما رہے تھے ۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ، کمرے میں کچھ کھالیں دباغت میں پڑی ہوئی تھیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رونے لگے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر ! تم کو کس چیز نے رلایا ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ کسری (شاہ ایران) ریشم ، دیباج اور حریر پر سوتے ہیں۔ اسی طرح قیصر بھی ، اور آپ اللہ کے محبوب ہیں اس کے سب سے بہترین بندے ہیں اور اس حال میں جیسے کہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! نہ رو ۔ لیکن اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مکھی کے پر جتنی بھی ہوتی تو کسی کافر کو دنیا میں سے کچھ نہ ملتا ۔ (رواہ ابن سعد)
18603- عن عطاء قال: دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم وهو مضطجع على ضجاع من أدم محشو ليفا وفي البيت أهبة ملقاة فبكى عمر، فقال: ما يبكيك يا عمر؟ قال: أبكي أن كسرى في الخز والقز والحرير والديباج، وقيصر مثل ذلك، وأنت حبيب الله وخيرته كما أرى، قال: لا تبك يا عمر، فلو أشاء أن تسير الجبال ذهبا لسارت، ولو أن الدنيا تعدل عند الله جناح ذباب ما أعطي كافر منها شيئا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18604 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے دروازے پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا جس میں کچھ تصویریں تھیں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ (رض) اس کو ہٹاؤ کیونکہ میں جب بھی اس کو دیکھتا ہوں مجھے دنیا یاد آتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
18604- عن عروة قال: كان على باب عائشة ستر فيه تصاوير، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عائشة أخري هذا، فإني إذا رأيته ذكرت الدنيا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18605 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی مدینہ تشریف لائے کبھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا حتی کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کے راستے پر چلے گئے ۔ (ابن جریر)
18605- عن عائشة قالت: ما شبع رسول الله صلى الله عليه وسلم من خبز بر ثلاثة أيام تباعا منذ قدم المدينة حتى مضى لسبيله. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ اخلاقیات کے متعلق :

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زہد کا بیان :
18606 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے فرماتی ہیں : آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی مسلسل دو دن جو کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ۔ (ابن جریر)
18606- عن عائشة قالت: ما شبع آل محمد من خبز الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: