কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৫৬৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
یہ اوصاف سن کر اسرائیلی عالم بولا : اے علی (رض) میں نے توراۃ میں بھی آخری نبی کی یہی نشانیاں پڑھی ہیں پس میں یقین کے ساتھ کلمہ اسلام پڑھتا ہوں ۔
18567- عن يوسف بن مازن أن رجلا سأل عليا فقال: انعت لنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ليس بالذاهب طولا وفوق الربعة، إذا قام في القوم غمرهم أبيض شديد الوضح ضخم الهامة أغر أبلج ضخم القدمين والكعبين إذا مشى يتقلع كأنما ينحدر في صبب، كأن العرق في وجهه اللؤلؤ لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم."الدورقي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ رواہ ابن عساکر)
18568- عن إبراهيم بن محمد من ولد علي بن أبي طالب قال: كان علي إذا وصف النبي صلى الله عليه وسلم قال: لم يكن بالطويل الممغط ولا بالقصير المتردد، وكان ربعة من القوم، ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط، كان جعدا رجلا، ولم يكن بالمطهم ولا بالمكلثم، وكان في وجهه تدوير، أبيض مشربا حمرة، أدعج العينين أهدب الأشفار، جليل المشاش والكتد أجرد ذا مسربة شثن الكفين والقدمين، إذا مشى تقلع كأنما يمشي في صبب وإذا التفت التفت معا، بين كتفيه خاتم النبوة، وهو خاتم النبيين أجود الناس كفا، وأرحب الناس صدرا، وأصدق الناس لهجة، وأوفى الناس ندمة وألينهم عريكة وأكرمهم عترة من رآه بديهة هابه، ومن خالطه معرفة أحبه، يقول ناعته لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم.
"ت وقال إسناده متصل؛ وهشام بن عمار في البعث والكجي ق في الدلائل".
"ت وقال إسناده متصل؛ وهشام بن عمار في البعث والكجي ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18561 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا ۔ ایک دن میں یمن میں لوگوں کو خطبہ دے رہا تھا ۔ یہود کا ایک عالم کھڑا ہوا ، اس کے ہاتھ میں کچھ دستاویزات تھیں اور وہ ان کو دیکھ رہا تھا : پھر وہ بولا : (اے علی ! ) ہم کو ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف بیان کرو۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میں نے کہنا شروع کیا :
18569- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالقصير ولا بالطويل، ضخم الرأس واللحية، شثن الكفين والقدمين، مشربا وجهه حمرة، طويل المسربة، ضخم الكراديس، إذا مشى تكفأ تكفأ كأنما ينحط من صبب لم أر قبله ولا بعده مثله. "ط حم والعدني وابن منيع ت وقال: حسن صحيح؛ وابن أبي عاصم وابن جرير حب، ك، ق، في الدلائل؛ ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ کوتاہ قد تھے اور نہ بہت لمبے ۔ آپ کے بال مبارک نہ سخت چھلے دار تھے اور نہ بالکل سیدھے ۔ بلکہ آپ قدرے گھنگھریالے اور سیاہ بالوں والے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر اقدس بڑا تھا سفید رنگت سرخی کے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔ چوڑے اور دراز بازوؤں والے تھے ۔ ہاتھ ہاتھ پاؤں گوشت سے بھر پور تھے حلق کے نیچے ہڈی سے لے کر ناف تک بالوں کی لمبی اور باریک سے لکیر تھی آپ کی پلکیں لمبی (اور گھنی) تھیں بھنوئیں ملی ہوئی تھیں ۔ پیشانی سیدھی اور ہموار تھی دونوں شانوں (کندھوں) کے درمیان فاصلہ تھا چلتے تو گویا (جھکے ہوئے) نیچے کو اتر رہے ہیں میں نے آپ سے پہلے آپ جیسا کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد آپ جیسا کوئی دیکھا ۔ حضرت علی (رض) پھر خاموش ہوئے تو یہودی عالم نے کہا : اور کچھ بھی بیان کرو حضرت علی (رض) نے فرمایا : فی الحال میرے ذہن میں یہی تھا یہودی عالم نے کہا : آپ کی آنکھوں میں کچھ کچھ سرخی تھی ۔ آپ کی ڈاڑھی خوبصورت (اور بھری ہوئی) تھی حسین دہانہ تھا کان مکمل (اور حسین تھے) پورے متوجہ ہوتے اور پورے مڑتے تھے ۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : قسم اللہ کی ! یہ بھی آپ کی صفات تھیں ۔ عالم بولا : اور کچھ ؟ حضرت علی (رض) نے دریافت فرمایا اور کیا ؟ عالم بولا : آپ حیادار تھے حضرت علی (رض) نے فرمایا وہ تو میں نے کہا تھا کہ آپ قدرے جھکے ہوئے چلتے تھے گویا ن نیچے کو اتر رہے ہیں۔ یہودی عالم بولا یہ صفات میں نے اپنے آباء و اجداد کی دستاویزات میں آخری نبی کی پائی ہیں نیز ہم نے یہ بھی لکھا دیکھا ہے کہ وہ نبی اللہ کے حرم اللہ کے امن کی جگہ اور اس کے گھر کے پاس نبی بنا کر بھیجے جائیں گے پھر وہ دوسرے حرم کی طرف ہجرت کریں گے جس کو وہ خود حرم قرار دیں گے اور اس کی حرمت بھی اللہ کے حرم کے برابر ہوگی ۔ نیز ہم نے یہ بھی لکھا پایا ہے کہ آپ ایسی قوم کی طرف ہجرت کریں گے جو آپ کے مددگار و انصار ہوں گے اور عمرو بن عامر کی اولاد ہوں گے وہ کھجوروں کے باغات والے ہوں گے اور ایسی سر زمین میں فروکش ہوں گے جہاں ان سے پہلے یہود بھی آباد ہوں گے ۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : ہاں ہاں یہی ہمارے اللہ کے رسول ہیں۔ یہودی عالم بولا : پس میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی ہیں اللہ کے رسول ہیں اور وہ تمام انسانوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ پس میں اسی (دین اسلام) پر زندگی گزاروں گا اور اسی پر مروں گا اور ان شاء اللہ اسی ) دین) پر اٹھایا جاؤں گا ۔ (ابن سعد ابن عساکر)
18570- عن أبي هريرة قال: كان عمر بن الخطاب ينشد قول زهير بن أبي سلمى في هرم بن سنان:
لو كنت في شيء سوى بشر ... كنت المضيء لليلة البدر
ثم يقول عمر وجلساؤه: كذلك كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يكن كذلك غيره. "أبو بكر ابن الأنباري في أماليه".
لو كنت في شيء سوى بشر ... كنت المضيء لليلة البدر
ثم يقول عمر وجلساؤه: كذلك كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يكن كذلك غيره. "أبو بكر ابن الأنباري في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18562 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صف شفاف رنگت اور گھنی ڈاڑھی والے تھے ۔ (البیھقی فی الدلائل)
18571- عن عمر بن الخطاب أنه سئل عن صفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان أبيض اللون مشربا بحمرة أدعج العينين كث اللحية ذا وفرة رقيق المسربة، كأن عنقه إبريق فضة، كأنما يجري له شعر من لبته إلى سرته كالقضيب لم يكن في بطنه ولا في جسده شعرة غيره، شثن الأصابع، شثن الكفين والقدمين، إذا التفت التفت جميعا، وإذا مشى كأنما يتقلع على صخر أو ينحط في صبب، إذا جاء القوم غمرهم، كأن ريح عرقه المسك، بأبي وأمي لم أر قبله ولا بعده أحدا مثله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18563 ۔۔۔ نافع بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ ہم کو حضرت علی (رض) نے حضور بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف (حلیہ) بیان فرمائے ۔ ارشاد فرمایا : ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت لمبے تھے اور نہ کوتاہ قد ۔ آپ سفید رنگت مائل بہ سرخی والے تھے بڑا سر اور گھنی ڈاڑھی والے تھے۔ آپ کثیر اور لچھے دار بالوں والے تھے ۔ ہاتھ پاؤں پر گوشت تھے ۔ بازو اور کلائیاں چوڑی دراز اور گوشت تھیں سینے پر بالوں کی لمبی لکیر تھی جب چلتے تو قوت سے قدم اٹھاتے اور تھوڑا جھک کر چلتے تھے گویا کسی نشیب میں اتر رہے ہوں ۔ میں نے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد جیسا کوئی (حسین و جمیل) شخٰص دیکھا (ابن جریر البیھقی فی الدلائل مسند ابی یعلی ابن عساکر)
18572- عن أبي سعيد الخدري أن رجلا سأله فقال: إن شعري كثير فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر شعرا منك وأطيب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18564 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سرخی سے ملا ہوا سفید رنگ تھا آپ کی آنکھوں کی پتلیاں نہایت سیاہ تھیں پلکیں ددراز تھیں آپ کا قد بہت لمبا نہ تھا بلکہ عام لوگوں سے قدرے لمبے تھے جو شخص آپ کو دیکھتا حیران ہوجاتا تھا آپ کے بال کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھے آپ چوڑے چکلے کاندھے والے تھے آپ کے سینے میں بالوں کی لمبی لکیر تھی ۔ ہاتھ پاؤں کا گوشت بھرا ہوا تھا ۔ آپ کا پسینہ موتیوں کے دانے محسوس ہوتے تھے ۔ جب چلتے تو کچھ جھک کر چلتے تھے گویا اوپر سے نیچے کو اتر رہے ہیں۔ میں نے آپ جیسا کوئی حسین نہیں دیکھانہ پہلے نہ بعد میں (ابن جریر البیھقی فی الدلائل ابن عساکر)
18573- عن عمار قال: لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معه إلا خمسة أعبد وامرأتان وأبو بكر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18565 ۔۔۔ یوسف بن مازن رابسی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : ہمیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف بیان کیجئے : حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرخی مائل گوری رنگت والے تھے آپ بڑے سر روشن پیشانی سامنے کے کشادہ دانت اور دراز پلکوں کے مالک تھے بہت لمبے نہ تھے اور نہ کوتاہ قد بلکہ قدرے دراز قد تھے جب قوم کے ساتھ تشریف لاتے تو سب سے وجیہہ اور قد آور معلوم ہوتے تھے ہاتھ پاؤں گوشت سے بھرے ہوئے تھے چلتے وقت قوت سے قدم اٹھاتے تھے ۔ اور نشیب میں اترتے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور پسینہ آپ کے چہرے پر چمکتے ہوئے موتیوں جیسا لگتا تھا (البیھقی فی الدلائل ابن عساکر)
18574- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما منذ نزل القرآن. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18566 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت کے بارے میں سوال کیا گیا حضرت علی (رض) نے ارشاد فامایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفید رنگت والے قدرے سرخی مائل تھے ۔ آپ کی آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت سیاہ تھیں ۔ آپ کے بال سیدھے (اور قدرے خمدار) تھے جو کانوں کی لو کو چھوتے تھے ۔ سینے پر ناف تک بالوں کا باریک خط تھا ۔ آپ کے رخسار نرم ونازک تھے ۔ ریش مبارک گنجان اور گھنی تھی ۔ آپ کی گردن چاندی کی صراحی کی مانند تھی ۔ آپ کے سینے پر بالوں کے خط کے سوا سینے اور پشت پر مزید بال نہ تھے ۔ ہاتھ پاؤں پر گوشت تھے ۔ جب چلتے تھے گویا پشت کی طرف اتر رہے ہیں اور پاؤں گویا چٹان سے اٹھا رہے ہیں (یعنی اٹھا اٹھا کر رکھ رہے ہیں نہ کہ ہموار زمین پر گھسیٹ رہے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی طرف متوجہ ہوتے تھے تو پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے آپ کے چہرے پر پسینہ چمکتے موتی محسوس ہوتے تھے ۔ آپ کے سینے کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی محسوس ہوتی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت لمبے تھے اور نہ کوتاہ قامت نہ عاجزوکمزور اور نہ گھٹیا انسان تھے بلکہ میں نے آپ جیسا عظیم انسان پہلے دیکھا اور نہ بعد میں کبھی دیکھا ۔ (البیھقی فی الدلائل ابن عساکر)
18575- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوم حتى تزلع رجلاه. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18567 ۔۔۔ یوسف بن مازن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے سوال کیا : کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلیہ (کیسا تھا ؟ ) ہمیں بیان فرما دیجیے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت لمبے تھے (اور نہ کوتاہ قد) بلکہ میانہ قد سے قدرے اونچے تھے ۔ جب آپ کھڑے ہوتے تو تمام لوگوں (سے وجیہہ اور قد آور محسوس ہوتے تھے اور سب پر چھا جاتے تھے ۔ انتہائی ستھری گوری رنگت والے تھے ۔ سر بڑا روشن پیشانی ، دانت باریک ، آبدار ، سفید اور سامنے والے دانت کچھ کھلے کھلے تھے ۔ پاؤں اور ٹخنے گٹھے ہوئے تھے ۔ جب چلتے تھے تو مضبوطی کے ساتھ چلتے تھے گویا نیچے کو اتر رہے ہیں ، پسینے کے قطرے آپ کے چہرے پر موتیوں کی طرح چمکتے تھے ۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا حسین و جمیل پہلے اور نہ کبھی بعد میں دیکھا ۔ (الدورفی)
18576- عن أسامة بن أبي عطاء قال: كنت عند النعمان بن بشير فدخل سويد بن غفلة فقال له النعمان: ألم يبلغني أنك صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم مرة؟ قال: لا بل مرارا، كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نودي بالأذان كأنه لا يعرف أحدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18568 ۔۔۔ آل علی بن ابی طالب کے ایک فرزند ابراہیم بن محمد سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف بیان فرماتے تھے تو یہ ارشاد فرماتے تھے : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت اونچے لمبے تھے اور نہ بالکل پست قد تھے ۔ بلکہ لوگوں میں سب سے قد آور معلوم ہوتے تھے ۔ آپ کے بال نہ بالکل سخت چھلے دار تھے اور نہ بالکل سیدھے لمبے کسی قدر گولائی لیے ہوئے سیدھے بال تھے ۔ نہ آپ موٹے تھے اور نہ آپ کے چہرے پر گوشت لٹکا ہوا تھا ، آپ کا چہرہ گول (اور کتابی) تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرخی مائل سفید رنگت والے تھے ۔ آنکھوں کی پتلیاں نہایت سیاہ تھیں اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں ۔ پلکیں دراز تھیں ۔ مضبوط اور گٹھے ہوئے اعصاب کے مالک تھے ، سینے پر بالوں کے باریک خط کے سوا سینے اور کمر پر اور بال نہ تھے ۔ ہاتھ اور پاؤں گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔ جب چلتے تھے تو قدم اکھاڑ کر رکھتے تھے ۔ اور قدرے جھک کر چلتے تھے ۔ کسی طرف دیکھتے تو پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہوجاتے تھے ۔ دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین تھے ۔ سب سے زیادہ سخی دست تھے ۔ سب سے زیادہ کشادہ سینے والے تھے ۔ سب سے زیادہ سچ بولنے والے تھے ۔ سب سے زیادہ وفادار دوست تھے ، سب سے زیادہ ہنس مکھ اور نرم مزاج انسان تھے ، سب سے زیادہ عزت والے خاندان والے تھے ۔ جو آپ کو اچانک دیکھتا مرعوب ہوجاتا تھا ۔ جو آپ کے ساتھ کچھ دیر کے لیے ساتھ رہ لیتا وہ آپ سے محبت کرنے لگ جاتا تھا ۔ آپ کی صفت بیان کرنے والا ہر ایک شخص کہتا تھا کہ میں نے آپ جیسا کوئی عظیم و خوبصورت انسان نہیں دیکھا ۔ پہلے اور نہ بعد میں ۔ (ترمذی واسنادہ متصل ، ہشام بن عمار فی البعث ، الکجی ، الدلائل للبیھقی) یارب صل وسلم دائما ابدا ابدا ۔۔ علی حبیبک خیر الخلق کلھم :
18577- عن صفوان بن المعطل السلمي قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فرمقت صلاته ليلة فصلى العشاء الآخرة، ثم نام، فلما كان نصف الليل انتبه فتلا العشر آيات آخر سورة آل عمران ثم نام، ثم قام ثم تسوك، ثم توضأ وصلى ركعتين، فلا أدري أقيامه أم ركوعه أم سجوده كان أطول، ثم انصرف فنام، ثم استيقظ فتلا العشر آيات من آخر سورة آل عمران، ثم قام ثم تسوك ثم قام فتوضأ وصلى ركعتين فلا أدري أقيامه أم ركوعه أم سجوده أطول، ثم انصرف فنام ثم استيقظ ففعل مثل ذلك فلم يزل يفعل كما فعل أو ل مرة حتى صلى إحدى عشرة ركعة."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18569 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ کوتاہ قد تھے اور نہ بالکل لمبے ۔ گنجان ڈاڑھی اور بڑے سر کے مالک تھے ۔ ہاتھ پاؤں پر گوشت تھے ۔ چہرہ میں سرخی کی طرف میلان تھا ۔ سینے پر ناف تک بالوں کا طویل اور باریک خط تھا ۔ چوڑی اور دراز کلائیوں اور بازوؤں والے تھے ۔ جب چلتے تھے تو قوت کے ساتھ چلتے تھے اور پستی میں اترتے معلوم ہوتے تھے ۔ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ۔ (ابوداؤد الطیالسی ، مسند احمد ، العدنی ، ابن منیع ، ترمذی حسن صحیح ، ابن ابی عاصم ، ابن جریر ، ابن حبان مستدرک الحاکم ، البیھقی فی الدلائل ، السنن لسعید بن منصور “۔
18578- عن ربيعة بن كعب الأسلمي قال: كنت أبيت عند باب حجرة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل يصلي يقول: سبحان الله رب العالمين الهوي ثم يقول: سبحان ربي العظيم وبحمده الهوي. " عب ش ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18570 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) زہیر بن ابی سلمی کا شعر (حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں) پڑھتے تھے جو زہیر نے ہرم بن سنان کے لے پڑھا تھا : ” لوکنت فی شیء سوی بشر : کنت المضی للیۃ البدر : گر آپ انسان کے سوا کچھ اور ہوتے تو چودھویں رات کو روشن کرنے والے ہوتے ۔ پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور آپ کے ہم نشین کہتے : درحقیقت یہ صفت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھی کوئی اور ایسا نہیں تھا ۔ (ابوبکر ابن الانباری فی اعالیہ)
18579- عن أنس قال: ما كنا نشاء أن نرى رسول الله صلى الله عليه وسلم مصليا إلا رأيناه، ولا نشاء أن نراه قائما إلا رأيناه. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18571 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت پوچھی گئی تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرخی مائل سفید رنگت والے تھے ۔ آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں ، ریش مبارک گھنی اور گنجان تھی ، کانوں تک بال تھے ۔ سینے پر ناف تک بالوں کا باریک خط تھا ، آپ کی گردن گویا چاندی کی صراحی تھی ، سینے پر ناف تک بالوں کی باریک لکیر کے سوا جسم پر زائد بال نہ تھے ۔ انگلیاں ، پاؤں اور ہتھیلیاں گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔ جب کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل وجود کے ساتھ متوج ہوجاتے تھے ۔ جب چلتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا گویا چٹان پر سے قدم اٹھا رہے ہیں اور نشیب میں اتر رہے ہیں۔ جب کسی قوم کے پاس آتے تو فضیلت و شرافت کے ساتھ سب سے وجیہہ اور قد آور معلوم ہوتے تھے ۔ آپ کا پسینہ مشکل سے زیادہ خوشبودار ہوتا تھا ، میرے ماں باپ کی قسم میں نے آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ، پہلے اور نہ بعد میں ۔ (رواہ ابن عساکر)
18580- عن أنس قال: تعبد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صار كالشن البالي، قالوا: يا رسول الله، ما يحملك على هذا؟ أليس قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: بلى أفلا أكون عبدا شكورا.
"ابن النجار".
"ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18572 ۔۔۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ان سے کسی شخص نے کہا : میرے بال بہت زیادہ (لمبے) ہیں۔ حضرت ابو سعید (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے زیادہ (لمبے) اور اچھے بالوں والے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
18581- عن أنس قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه، أو قال ساقاه، فقيل له: أليس قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: أفلا أكون عبدا شكورا. "د".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18573 ۔۔۔ حضرت عمار (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (اس وقت) دیکھا جب آپ کے ساتھ صرف پانچ غلام ، دو عورتیں اور صرف سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) (اسلام لائے) تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18582- عن أسامة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسرد الصوم فيقال: لا يفطر ويفطر فيقال: لا يصوم. "ن ع ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18574 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ساری ساری رات عبادت میں) کھڑے رہتے تھے حتی کہ قرآن نازل ہوگیا ۔ فائدہ : ۔۔۔ سورة مزمل نازل ہوئی تو اس میں آپ کو رات کو عبادت میں کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا سوائے کچھ حصہ آرام کرنے کے ۔ پھر آپ اس قدر نماز نفل نماز میں کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں مبارک ورما جاتے تھے ، پھر سورة طہ نازل ہوئی جس میں آپ کو کہا گیا کہ قرآن اس لیے نازل نہیں ہوا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں ۔ پھر آپ نے رات کی عبادت میں کچھ تخفیف فرمائی ۔ (رواہ نسائی)
18583- عن أنس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر بين كل خطوتين. "ابن شاهين في الترغيب في الذكر؛ وفيه بشر بن الحسين عن الزبير بن عدي؛ قال الذهبي: بشر بن الحسين الأصبهاني له عن الزبير بن عدي نسخة باطلة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18575 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (عبادات میں) کھڑے رہتے تھے حتی کہ آپ کی ٹانگیں (ورما کر) پھٹنے کو ہوجاتی تھیں ۔ (رواہ ابن النجار)
18584- عن عبد الله بن قيس بن مخرمة بن المطلب بن عبد مناف، قال: قلت لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ركعتين ركعتين، حتى صلى ثلاث عشرة ركعة بواحدة أو تربها، كل ثنتين صلاهما أقصر من اللتين قبلهما، صنع ذلك حتى فرغ من صلاته، واضطجع على شقه الأيمن. "ابن سعد والبغوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18576 ۔۔۔ اسامہ بن ابی عطاء (رح) سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نعمان بن بشیر (رض) کے پاس تھا ، اتنے میں سوید بن غفلہ (رض) تشریف لے آئے ۔ نعمان بن بشیر (رض) نے ان سے پوچھا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے ایک بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا فرمائی ہے ؟ حضرت سوید (رض) نے فرمایا : نہیں بلکہ کئی بار پڑھی ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذان کی آواز کانوں میں پڑتی تھی تو اس وقت (آپ ہر شی سے) ایسے (غافل) ہوجاتے تھے گویا کسی کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
18585- عن ابن جريج قال: أخبرني عبد الكريم عن رجل قال: أخبرني بعض أهل النبي صلى الله عليه وسلم أنه بات معه فقام النبي صلى الله عليه وسلم من الليل يقضي حاجته، ثم جاء إلى القربة فاستكب ماء فغسل كفيه ثلاثا ثم توضأ فقرأ بالطوال السبع في ركعة واحدة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات شریفہ کے بیان میں عبادات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادات کا بیان :
18577 ۔۔۔ صفوان بن معطل سلمی (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ، ایک رات میں نے آپ کی نماز کی ٹوہ لی ۔ آپ نے عشاء کی نماز ادا کی پھر سو گئے ۔ جب آدھی رات بیت گئی تو اٹھ گئے اور سورة آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائی اور سو گئے ۔ پھر تھوڑی دیر بعد اٹھے ، مسواک کی ، وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ قیام ، رکوع ، سجدوں میں کون سی زیادہ لمبی تھی (کیونکہ ہر ایک میں بہت دیر تک مشغول رہے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ گئے اور سو گئے ۔ پھر دوبارہ بیدار ہوئے اور دوبارہ سورة آل عمران کی وہی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں اور اٹھ کھڑے ہوئے ، مسواک کی پھر کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی معلوم نہیں کہ ان میں قیام ، رکوع یا سجدے کون سی چیز زیادہ لمبی تھی ، پھر اٹھ کر سو گئے ۔ پھر بیدار ہوئے اور پہلے کی طرح عمل کیا اور مسلسل اسی طرح آپ کرتے رہے حتی کہ آپ نے گیارہ رکعات نماز ادا فرما لیں ۔ (رواہ ابن عساکر) فائدہ : ۔۔۔ اس میں آٹھ رکعت تہجد کی نماز ہوئی اور تین رکعت وتر کی نماز ہوئی ۔
18586- عن الأسود بن يزيد قال: سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: كان ينام أول الليل ويقوم آخر فيصلي ما قضى فإذا قضى صلاته قام إلى فراشه، فإذا كانت له حاجة إلى أهله أتى أهله، ثم نام كهيئته لم يمس ماء، فإذا سمع المنادي الأول قام، فإن كان جنبا اغتسل، وإن لم يكن جنبا توضأ وضوءه للصلاة، ثم صلى ركعتين، ثم خرج إلى الصلاة. "ص".
তাহকীক: