কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫২ টি
হাদীস নং: ১৮৫৪৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18542 ۔۔۔ حضرت قتادہ (رح) حضرت انس ب سے یا حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھری ہوئی پنڈلیوں والے اور بھرے ہوئے قدموں والے تھے میں نے آپ سے زیادہ کوئی حسین شخص نہیں دیکھا ۔ (الرؤیانی ، ابن عساکر)
18547- عن البراء قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم شديد البياض كثير الشعر يضرب شعره منكبيه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18543 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک کھلی ہوئی چاندنی رات میں دیکھا آپ کے جسم پر سرخ جوڑا میں کبھی آپ کو دیکھتا اور کبھی چاند کو آخر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری آنکھوں میں چاند سے زیاد حسین جچ گئے ۔ رواہ ابو نعیم۔
18548- عن أبي إسحاق قال: قال رجل للبراء: أكان وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حديدا مثل السيف؟ قال: لا، ولكن كان مثل القمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
1044 2 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کے (اگلے حصے) اور ڈاڑھی کے بال الجھا رکھے تھے پھر آپ نے بالوں میں تیل لگایا اور کنگھی کی تو آپ کے بالوں کی کیفیت واضح نہیں ہوئی ۔ پھر جب بال پراگندہ اور چکٹ گئے تو بال واضح ہوگئے اور کھل گئے تب میں نے جانا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ڈاڑھی اور سر میں بہت زیادہ بال ہیں ، اور میں نے آپ کے شانہ اقدس کے اوپری حصہ میں کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی جو آپ کے جسم سے مشابہت رکھتی تھی ۔ (رواہ ابن عساکر)
18549- عن البراء قال: ما رأيت أحسن شعرا ولا أحسن بشرا في ثوبين أحمرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18545 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ گویا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالوں کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے بال یہاں تک آرہے ہیں۔ پستانوں پر ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے ۔ (الکبیر للطبرانی)
18550- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حسن الجسم ليس بالقصير ربعة، ليس بالطويل، أسمر اللون، كان شعره ليس بجعد ولا سبط، إذا مشى يتوكأ. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18546 ۔۔۔ حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سرخ جوڑے میں بالوں کو سنوارا ہوا دیکھا پس میں نے پھر آپ سے زیادہ کوئی حسین نہیں دیکھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18551- عن أنس قال: ما مسست شيئا قط خزة ولا حريرة ألين من كف رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا شممت رائحة قط مسكا ولا عنبر أطيب من رائحة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18547 ۔۔۔ حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سرخی مائل) بہت سفید رنگت والے ، گھنے بالوں والے تھے آپ کے بال آپ کے شانوں کو چھوتے تھے ۔ (ابن عساکر)
18552- عن أنس قال: كان لون رسول الله صلى الله عليه وسلم أسمر. "ع وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18548 ۔۔۔ ابو الاسحاق (رح) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت براء (رض) سے پوچھا : کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ تلوار کی طرح لوہے جیسا تھا ؟ تو انھوں نے فرمایا نہیں ، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ چاند جیسا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18553- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض كأنما صيغ من فضة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18549 ۔۔۔ حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیاد حسین بالوں والا اور زیادہ خوبصورت دو سرخ جوڑوں میں کوئی اور نہیں دیکھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18554- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ربعة حسن الجسم ليس بالطويل ولا بالقصير، وكان شعره إلى شحمة أذنيه ليس بالجعد ولا بالسبط، أسمر اللون إذا مشى كأنه يتوكأ. "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18550 ۔۔۔ حضرت انس (رض) ارشاد فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسین ومعتدل جسم کے مالک تھے ۔ نہ بالکل لمبے تھے اور نہ کوتاہ قد بلکہ میانہ قد والے (اور ہمیشہ عام لوگوں سے زیادہ قد آور معلوم ہوتے تھے) (سفید رنگت میں) گندم گوں (سرخی مائل) رنگت والے تھے ۔ آپ کے بال مبارک قدرے گھنگھریالے تھے جب آپ چلتے تو آگے کو کسی قدر جھکے ہوئے چلتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
18555- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس قواما وأحسن الناس وجها، وأحسن الناس لونا، وأطيب الناس ريحا، وألين الناس كفا، وكانت له جمة إلى شحمة أذنيه، وكانت لحيته قد ملأت من ها هنا إلى ها هنا وأمر يديه على عارضيه، وكان إذا مشى كأنه يتكفأ، وكان ربعة ليس بالطويل ولا بالقصير، كان أبيض بياضه إلى السمرة."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18551 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے کبھی کوئی چیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں چھوئی خواہ وہ ریشم ہو یا دیباج اور نہ میں نے کبھی کوئی خوشبو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشبو سے زیادہ اچھی سونگھی مشک ہو یا عنبر ۔ (رواہ ابن جریر)
18556- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرسل شعره إلى أنصاف أذنيه، وكان يتوكأ إذا مشى. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18552 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سفید رنگت والے مائل بہ) گندم گوں رنگت تھے ۔ (مسند ابی یعلی وابن جریر)
18557- عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض الوجه، كث اللحية، ضخم الهامة، أحمر المآقي، أهدب الأشفار، شثن الكفين والقدمين، ضخم الساقين، لطيف المسربة، ليس بالقصير ولا بالطويل، وهو إلى الطول أقرب منه إلى القصر، كثير العرق، إذا مشى تقلع كأنه يمشي في صعد لم أر قبله ولا بعده مثله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18553 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (چمکدار) سفید رنگت والے تھے گویا چاندی سے ڈھالے گئے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
18558- وعنه قال: ما مسست بكفي ألين من كف رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا وجدت رائحة أطيب من رائحة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وصحبته عشر سنين فما قال لي لشيء: لم صنعت كذا وكذا ولا صنعت كذا وكذا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18554 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میانہ قد و قامت والے تھے ، نہ لمبے اور نہ کوتاہ قد تھے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال کانوں تک تھے ، نہ بالکل سخت چھلے دار تھے ، اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (سفید رنگت والے) گندم گوں تھے ۔ جب چلتے تھے تو گویا آگے کو جھکتے ہوئے چلتے تھے ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن عساکر)
18559- عن علي قال: ما بعث الله نبيا قط إلا صبيح الوجه، كريم الحسب حسن الصوت، وكان نبيكم صلى الله عليه وسلم صبيح الوجه كريم الحسب حسن الصوت، مادا ليس له ترجيع. "ابن مردويه وأبو سعيد الأعرابي في معجمه والخرائطي في اعتلال القلوب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18555 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ڈھانچے والے تھے ، سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے تھے ، سب سے زیادہ اچھے رنگ والے تھے ، سب سے زیادہ اچھی خوشبو والے تھے اور سب سے زیادہ اچھی ہتھیلی والے تھے ۔ آپ کے (جمہ) بال کانوں کی لو تک تھے ۔ پھر حضرت انس (رض) نے اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا آپ کی ڈاڑھی یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی ، جب چلتے تھے آگے کو کسی قدر جھک کر چلتے تھے ۔ درمیانے قدوقامت کے مالک تھے ، نہ بالکل لمبے تھے اور نہ بالکل کوتاہ قد، آپ کی سفید رنگت مائل بہ گندمی تھی ۔ (رواہ ابن عساکر)
18560- عن أبي هريرة قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الإثنين لاثنتي عشر خلت من شهر ربيع الأول، فلما كان صبيحة الخميس إذا نحن بشيخ قد جاء فقال: أنا حبر من أحبار بيت المقدس، فقال: يا علي صف لي صفات رسول الله صلى الله عليه وسلم كأني أنظر إليه، فقال: بأبي وأمي، لم يكن بالطويل الذاهب ولا بالقصير، كان ربعة من الرجال، أبيض مشربا بحمرة، جعد المفرق شعره إلى شحمة أذنيه، صلت الجبين، واضح الخدين مقرون الحاجبين أدعج العينين سبط الأظفار، أقنى الأنف، دقيق المسربة، مفلج الثنايا، كث اللحية كأن عنقه إبريق فضة، كأن الذهب يجري في تراقيه، عرقه في وجهه كاللؤلؤ، شثن الكفين والقدمين، له شعرات ما بين لبته وصدره تجري كالقضيب، لم يكن على بطنه ولا على ظهره شعرات غيرها، يفوح منه ريح المسك، إذا قام غمر الناس، وإذا مشى فكأنما يتقلع من صخرة، إذا التفت التفت جميعا، وإذا انحدر فكأنما ينحدر في صبب، أطهر الناس خلقا، وأشجع الناس قلبا، وأسخى الناس كفا، لم يكن قبله مثله ولا يكون بعده مثله أبدا، فقال الحبر: يا علي إني أصبت في التوراة هذه الصفة وقد أيقنت أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18556 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بال کانوں کی آدھی لو تک چھوڑ رکھے تھے اور جب آپ چلتے تھے تو گویا ٹیک لگا کر آگے کو جھکتے ہوئے چلتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
18561- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن، فإني لأخطب يوما على الناس وحبر من أحبار اليهود واقف في يده سفر ينظر فيه فناداني فقال: صف لنا أبا القاسم، فقال علي: رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالقصير ولا بالطويل البائن، وليس بالجعد القطط ولا بالسبط، هو رجل الشعر أسوده، ضخم الرأس، مشرب بحمرة، عظيم الكراديس، شثن الكفين والقدمين، طويل المسربة وهو الشعر الذي يكون في النحر إلى السرة، أهدب الأشفار، مقرون الحاجبين، صلت الجبين، بعيد ما بين المنكبين إذا مشى يتكفأ كأنما ينزل من صبب، لم أر قبله مثله ولم أر بعده مثله، قال علي: ثم سكت، فقال لي الحبر: وماذا؟ قال علي: هذا ما يحضرني، فقال الحبر: في عينيه حمرة حسن اللحية، حسن الفم، تام الأذنين، يقبل جميعا ويدبر جميعا، فقال علي: هذه والله صفته، فقال الحبر: وشيء آخر، قال علي: وما هو؟ قال الحبر: وفيه حياء، فقال علي: هو الذي قلت لك كأنما ينزل من صبب، قال الحبر: فإني أجد هذه الصفة في سفر آبائي، ونجده يبعث من حرم الله وأمنه وموضع بيته، ثم يهاجر إلى حرم يحرمه هو، وتكون له حرمة كحرمة الحرم الذي حرم الله، ونجد أنصاره الذين هاجروا إليهم قوما من ولد عمرو بن عامر أهل نخل وأهل الأرض قبلهم يهود، فقال علي: هو هو رسول الله، فقال الحبر: فإني أشهد أنه نبي وأنه رسول الله وأنه أرسل إلى الناس كافة فعلى ذلك أحيى وعليه أموت وعليه أبعث إن شاء الله. "ابن سعد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18557 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ سفید ، داڑھی گھنی ، سر بڑا ، ناک کی طرف والے گوشہ چشم سرخ ، پلکیں گھنی ، سر بڑا ، ناک کی طرف والے گوشہ چشم سرخ ، پلکیں گھنی ، ہاتھ پاؤں اور پنڈلیاں بھری ہوئیں ، سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر ، قد میانہ ، طویل نہ کوتاہ اور قدرے لمبے تھے ۔ آپ کو پسینہ بہت آتا تھا ۔ جب چلتے تھے تو قدم قوت سے اٹھاتے تھے گویا کسی بلندی پر چڑھ رہے ہیں۔ میں نے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد آپ جیسا کوئی حسین دیکھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
18562- عن علي قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أزهر اللون، كث اللحية. "ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18558 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں سے زیادہ نرم کسی چیز کو نہیں چھوا۔ اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی اچھی خوشبو سونگھی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں دس سال رہا ، آپ نے مجھے کبھی نہیں فرمایا ، کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا وغیرہ وغیرہ ۔ (رواہ ابن عساکر)
18563- عن نافع بن جبير قال: وصف لنا علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لم يكن بالطويل ولا بالقصير، وكان أبيض مشربا بحمرة، ضخم الهامة عظيم اللحية، كثير الشعر رجله، شثن الكفين والقدمين، ضخم الكراديس طويل المسربة إذا مشى يمشي قلعا كأنما ينحدر من صبب لم أر قبله ولا بعده مثله. "ابن جرير ق فيه؛ ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18559 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے ، آپ (رض) ارشاد فرماتے تھے : للہ پاک نے ہر نبی کو سفید اور خوبصورت چہرے والا بنا کر بھیجا نیز عالی حسب ونسب اور عمدہ آواز والا بنا کر بھیجا ۔ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سفید اور خوبصورت چہرے والے ، اعلی ، حسب ونسب والے اور عمدہ آواز والے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرات کھینچ کر ترتیل کے ساتھ فرماتے تھے اور ترجیع (ایک ہی وقت میں ایک ہی آیت کو مختلف آوازوں اور قرآء توں) میں نہیں پڑھتے تھے ۔ (ابن مردویہ ، ابو سعید الاعرابی فی معجمہ ، الخرائطی فی اعتلال القلوب)
18564- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض مشربا بياضه حمرة، وكان أسود الحدقة أهدب الأشفار لا قصير ولا طويل، وهو إلى الطول أقرب، من رآه حيره، لا جعد ولا سبط، عظيم المناكب في صدره مسربة، شثن الكف والقدم، كأن عرقه اللؤلؤ، إذا مشى تكفأ كأنما يمشي في صعد لم أر قبله ولا بعده مثله. "ابن جرير ق فيه؛ كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18560 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو رحلت فرما گئے ، جمعرات کی صبح کو اچانک ایک بوڑھا راہب عالم ہمارے پاس آیا اور بولا میں بیت المقدس کے علماء سے تعلق رکھتا ہوں ، پھر اس نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو مخاطب کرکے فرمایا : ے علی ! مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات یوں بیان کرو گویا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔
18565- عن يوسف بن مازن الراسبي أن رجلا قال لعلي: انعت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان أبيض مشربا بحمرة، ضخم الهامة، أغر أبلج أهدب الأشفار، ليس بالذاهب طولا وفوق الربعة، إذا جاء مع القوم غمرهم، شثن الكفين والقدمين، إذا مشى تقلع كأنما يمشي في صبب كأن العرق في وجهه اللؤلؤ. "ق فيه؛ كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بالکل لمبے اور نہ کوتاہ قد تھے بلکہ عام لوگوں سے زیادہ قد آور تھے ۔ سرخی مائل سفید رنگت والے تھے ۔ گھنگھریالے بالوں والے تھے ، آپ کے بال کانوں کی لو تک جا رہے تھے ، ہموار پیشانی والے اور ہموار رخساروں والے ، ملی ہوئی بھنوؤں والے ، آپ کی آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں ۔ (سیدھی انگلیوں اور سیدھے ناخنوں والے تھے) ناک کا بانسہ بلند تھا۔ سینے سے ناف تک بالوں کی ایک لمبی لکیر تھی ، سامنے کے دانتوں میں کشادگی تھی ، داڑھی گھنی تھی ، آپ کی گردن چاندی کی صراحی جیسی تھی ، آپ کی ہنسلیوں میں گویا سونا چلتا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا ۔ ہاتھ اور پاؤں بھرے بھرے تھے سینے پر جو بالوں کی لمبی لکیر تھی اس کے علاوہ کمر اور پیٹ پر بال نہ تھے آپ کے منہ سے مشک کی خوشبو پھوٹتی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھڑے ہوتے تو فضیلت و شرافت میں سب پر حاوی ہوجاتے تھے ۔ جب چلتے تھے تو گویا کسی چٹان سے پاؤں اکھاڑ رہے ہیں (یعنی قوت سے قدم اٹھاتے تھے سستی وکاہلی سے قدم کھینچتے نہ تھے) جب کس طرف متوجہ ہوتے تو پورے سراپا کے ساتھ متوجہ ہوتے جب نیچے اترتے تو محسوس ہوتا گویا کسی نشیبی وادی میں اتر رہے ہیں تمام انسانوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اخلاق والے تھے ، آپ کا ہاتھ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھا۔ آپ سے پہلے جیسا کوئی نہیں گذرا اور نہ آپ کے بعد آپ جیسا کوئی بھی آسکتا ہے۔
18566- عن علي سئل عن نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض اللون مشربا بحمرة، أدعج العينين سبط الشعر ذا وفرة، دقيق المسربة سهل الخد، كث اللحية، كأن عنقه إبريق فضة من لبته إلى سرته شعر يجري كالقضيب، ليس في بطنه ولا ظهره شعر غيره، شثن الكف والقدم، إذا مشى كأنما ينحدر من صبب وإذا مشى كأنما يتقلع من صخرة، وإذا التفت التفت جميعا، كأن عرقه في وجهه اللؤلؤ، ولريح عرقه أطيب من المسك الأذفر، ليس بالطويل ولا بالقصير ولا العاجز ولا اللئيم، لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم. "ق فيه كر"
তাহকীক: