কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০৪৭৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت موسیٰ اور خضر علیہماالسلام کا قصہ
٤٠٤٦٥۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں خطبہ دینے (تقریر کرنے) کھڑے ہوئے تو کسی نے آپ سے پوچھا :(روئے زمین میں) کون سا آدمی سب سے زیادہ عالم ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :(چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی شریعت کا علم دیا اس لئے) میں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب کیا، کیونکہ آپ نے علم کا معاملہ باری تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹایا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی بھیجی کہ میرا ایک بندہ دودریاؤں یاسمندروں کے ملنے کی جگہ میں ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : میرے رب ! میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں ؟ تو ان سے کہا گیا : زنبیل میں ایک مچھلی اٹھالے جاؤ جہاں مچھلی گم پاؤ گے وہیں وہ ہوگا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے ساتھ آپ کا خدمت گاریوشع بن نون اپنے ساتھ زنبیل میں مچھلی لیے چل نکلے پھر جب وہ چٹان کے پاس پہنچے اور سستانے کے لیے لیٹے اور دونوں سوگئے مچھلی زنبیل سے کھسک گئی اور سمندروں میں اپنا خشک راستہ بنالیا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خدمت گار کے لیے یہ تعجب کی بات تھی۔ پھر اپنا سفر کا باقی حصہ رات دن چل کر پوراکرکیاصبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گار سے کہا : دوپہرکا کھانالاؤ، ہم اپنے اس سے تھک گئے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکاوٹ اسی وقت محسوس ہوئی جب انھوں نے اس مقررہ جگہ سے جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا تھا آگے نکل گئے تھے۔ تو ان کے خدمت گارنے کہا : آپ نے دیکھا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی بھول گیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : یہی ہمارا مطلوبہ مقام ہے چنانچہ وہ اپنے نشان قدم دیکھتے دیکھتے واپس پلٹے، جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے لیٹا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سلام کیا، تو خضربولے : تمہاری زمین میں سلام کہاں ہے ؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں موسیٰ انھوں نے کہا : بنی اسرائیل والا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہاں پھر کہا : کیا میں علم کی ان باتوں میں جن کا آپ کو علم ہے۔ پیروی کرسکتا ہوں، انھوں نے فرمایا : آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے، اے موسیٰ ! مجھے اللہ تعالیٰ نے جو علم عطا کیا ہے اسے آپ نہیں جانتے اور جو علم آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اسے میں نہیں جانتا تو موسیٰ (علیہ السلام) بولے : انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی کام میں میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ (اس عہد و پیمان کے بعد) وہ ساحل کے کنارے چلتے چلتے جارہے تھے کہ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری ان سے گفتگو ہوئی کہ انھیں سوار کرلیں تو وہ خضر (علیہ السلام) کو پہچان گئے اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ کر سمندر میں ایک یا دو ٹھونکیں ماریں تو خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (رح) : میرے اور آپ کے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا اس چڑیانے اس سمندر سے پانی کم کیا ہے، اس کے بعد خضر (علیہ السلام) نے کشتی کے تختے اکھیڑلئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی توڑدی تاکہ اس کے سوار ڈوب جائیں تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : کیا میں نے آپ سے نہ کہا تھا : کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میری بھول پر مواخذہ نہ فرمائیں تو یہ پہلی بات موسیٰ (علیہ السلام) سے بھولے سے ہوگئی تھی۔ پھر وہ چلتے چلتے ایک لڑکے کے پاس پہنچے جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہاتھاحضرت خضر (علیہ السلام) نے اوپر سے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کا سرتن سے جدا کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : آپ نے ایک معصوم جان کا ناحق خون کردیا ؟ خضر (علیہ السلام) نے کہا : میں نے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے، پھر چل پڑے اور ایک بستی میں پہنچے بستی والوں سے کھانا مانگاتو انھوں نے انھیں کھانادینے سے انکار کردیا (چلتے چلتے) انھیں دیوار نظر آئی جو گرنے والی تھی تو خضر (علیہ السلام) نے اسے تعمیر کرکے سیدھا کردیا فرماتے ہیں : کہ خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے اسے سیدھاکردیاتو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری لے لیتے انھوں نے کہا : پس اب یری اور تمہارے درمیان جدائی ہے، اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ہماری چاہت تھی کہ اگر وہ صبر کرتے تو ہمیں ان کے قصہ کا پتہ چلتا۔ بیہقی ترمذی، نسائی
40465- "قام موسى خطيبا في بني إسرائيل فسئل: أي الناس أعلم؟ فقال: أنا، فعتب الله عليه إذا لم يرد العلم إليه، وأوحى الله إليه أن لي عبدا بمجمع البحرين وهو أعلم منك، قال: يا رب! فكيف لي به؟ فقيل: احمل حوتا في مكتل فإذا فقدته فهو ثم، فانطلق وانطلق معه بفتاه يوشع بن نون وحملا حوتا في مكتل حتى كانا عند الصخرة فوضعا رؤسهما فناما، فانسل الحوت من المكتل {فاتخذ سبيله في البحر سربا} وكان لموسى وفتاه عجبا، فانطلقا بقية يومهما وليلتهما، فلما أصبح قال موسى {لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَباً} ولم يجد موسى مسا من النصب حتى جاوز المكان الذي أمره الله تعالى به فقال له فتاه {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ} قال موسى {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصاً} فلما انتهيا إلى الصخرة إذا رجل مسجى بثوب فسلم موسى، فقال الخضر: وأنى بأرضك السلام؟ قال: أنا موسى، قال: موسى بني إسرائيل؟ قال: نعم، قال {هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْداً قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً} يا موسى! إني على علم من علم الله تعالى علمنيه لا تعلمه أنت، وأنت على علم من علم الله تعالى علمكه الله لا أعلمه أنا، {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِراً وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْراً} ، فانطلقا يمشيان على الساحل فمرت سفينة فكلموهم أن يحملوهما، فعرفوا الخضر فحملوهما بغير نول 1، وجاء عصفور فوقع على حرف السفينة فنقر نقرة أو نقرتين في البحر فقال الخضر: يا موسى! ما نقص علمي وعلمك من علم الله إلا كنقرة هذا العصفور في هذا البحر، فعمد الخضر إلى لوح من ألواح السفينة فنزعه، فقال موسى: قوم حملونا بغير نول عمدت إلى سفينتهم فخرقتها {لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا} {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْراً} {قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ} فكانت الأولى من موسى نسيانا، فانطلقا فإذا بغلام يلعب مع الغلمان، فأخذ الخضر برأسه من أعلاه فاقتلع رأسه بيده، فقال له موسى {أَقَتَلْتَ نَفْساً زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ} {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرا} {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَاراً يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ} قال الخضر بيده فأقامه؛ فقال موسى: {لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْراً قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} ، يرحم الله موسى! لوددنا لو صبر حتى يقص علينا من أمرهما". "ق ت، ن عن أبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৭৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھائی والوں کا قصہ اور اس میں بچہ کی گفتگو بھی ہے
٤٠٤٦٦۔۔۔ تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کا ایک جادو گر تھا جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا : میں بوڑھا ہوچکاہوں میرے پاس ایک ڑکابھیجیں جسے میں جادوسکھاؤں، تو بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا جسے وہ جادوسکھاتا تھا، جس راستہ سے وہ چل کر آتا تھا اس میں ایک اھب تھا وہ لڑکا اس راھب کے پاس بیٹھا اس کی گفتگوسنی جو اسے بھلی لگی پھر وہ جب بھی ساحر کے پاس آتاراھب کے پاس سے گزرتے ہوئے ضروربیٹھتا جب وہ جادو گر کے پاس آیا تو اس نے اسے ماراجس کی شکایت اس نے راھب سے کی تو اس نے کہا : جب تمہیں جادو گر کا ڈر ہو تو کہنا مجھے گھر سے دیر ہوگئی تھی اور جب گھروالوں کا خوف ہو تو کہنا : مجھے جادو گر کے ہاں دیر ہوگئی تھی۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا کہ اس نے ایک بہت بڑا جانوردیکھا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا تو وہ دل میں کہنے لگا آج مجھے پتہ چل جائے گا کہ جادو گر افضل ہے یاراھب افضل ہے تو اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! اگر آپ کو راہب کا کام جادو گر کے کام سے یادہ پسند ہے تو اس جانورکوہلاک کردیں تاکہ لوگ گزرجائیں اور پتھر دے ماراجس سے وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرگئے۔ راہب کے پاس آکر سے بتادیا تو راہب نے اسے کہا : بیٹا ! آج تو مجھے سے افضل ہے میں نے تیرا مرتبہ دیکھ لیا ہے عنقریب تمہارا امتحان ہو کا اور جب تمہارا امتحان ہو تو میرے بارے میں نہ بتانا تو وہ لڑکا مادرزاد اندھوں اور کوڑھی کو چنگا کرتا اور باقی بیماریوں کا علاج کرتا ادھر بادشاہ کے ہمنشین نے سنا جو اندھا ہوچکا تھا تو وہ اس کے پاس بہت سے بدیئے تحفے لے کر آیا اور کہا : اگر تم نے مجھے شفادے دی تو میں یہاں جو کچھ تمہارے لیے جمع کردوں گا تو رکے نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اکر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعاکروں گا وہ تمہیں شفادے گا چنانچہ وہ ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفادے دی پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور جس طرح پہلے بیٹھتا تھا بیٹھ گیا بادشاہ نے کہا تمہاری نظر کس نے لوٹائی ؟ اس نے کہا : میرے رب نے بادشاہ بولا : میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہارا رب اللہ ہے تو بادشاہ اسے سزادینے لگا تو اس نے لڑکے کا بتادیا لڑکے کو لایا گیا تو بادشاہ نے اسے کہا : بیٹا ! تمہارا جادو اس حدتک پہنچ گیا کہ تم مادرزاد اندھوں اور کو ڑھوں کو درست کرنے لگے اور یہ یہ کام کرنے لگے ہو۔ تو اس نے کہا : میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا اللہ تعالیٰ ہی شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے بھی سزا دینا شروع کردی تو اس نے راہب کا پتہ بتادیا، راہب کالا یا گیا اور اس سے کہا گیا اپنے دین سے پھر جاتو اس نے انکار کردیا تو آرے سے جو اس کے سرکے درمیان رکھا گیا اس کے دوٹکڑے کردیئے گئے اور وہ دونوں ٹکڑے زمین پر آگرے ، پھر بادشاہ کے ہمنشین کو لایا گیا، کہا گیا : دین سے پھرجاؤ اس نے انکار کردیاتو اس کی مانگ میں آرہ رکھا گیا اور اس کے ٹکڑے کردیئے گئے اور اس کے دونوں ٹکڑے زمین پر آرہے۔ پھر لڑکے کو لا گیا : کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ اس نے انکار کیا تو اسے اپنے سپاہیوں کے حوالہ کردیا اور کہا : اسے فلاں پہاڑپرلے جاؤجب پہاڑ کی چوئی پر پہنچوتو اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو بہترورنہ اسے نیچے گرادینا، چنانچہ وہ اسے لے کر چل دیئے اور پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے تو اس لڑکے نے کہا : اے اللہ ! ان کے مقابلے میں میری کفایت فرماجیسی توچا ہے ! توپہاڑ میں جنبش ہوئی اور وہ گرگئے اور وہ لڑکاچلتا ہوا بادشاہ کے سامنے آگیا بادشاہ نے اس سے کہا : تمہارے ساتھ والے لوگوں کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا :(میرا) اللہ ان کے مقابلہ میں مجھے کافی ہوگیا تو اس نے اسے اپنے آدمیوں کے حوالہ کیا اور کہا : اسے لے جاکر لمبی کشتی میں سوار کرنا اور جب درمیان میں پہنچ جاؤ تو اسے اگر یہ اپنے دین سے نہ پھرے پانی میں پھینک دینا چنانچہ وہ اسے لے گئے تو اس نے کہا : اے اللہ ! ان کے مقابلہ میں میری جیسی توچا ہے کفایت کر تو کشتی انھیں لے کر الٹ گئی اور وہ ڈوب گئے اور وہ بادشاہ کے پاس چلتا ہوا آیا بادشاہ نے پوچھا تمہارے ساتھ والے لوگ کہاں گئے ؟ اس نے کہا ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے میری کفایت کی۔ پھر اس نے بادشاہ سے کہا : آپ مجھے اس وقت تک قتل نہیں کرسکتے جب تک وہ نہ کروجو میں آپ سے کہوں بادشاہ نے کہا : وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرو اور مجھے تنے پر سولی دو پھر میرے ترکش سے ایک تیرلے کر اس کو کمان کی درمیان میں رکھنا پھر کہنا اس لڑکے کے رب اللہ کے نام سے پھر میری طرف تیرچلا دینا پس جب تم یہ کرو گے تو مجھے قتل کرسکوگے۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اسے تنے پر سولی دی پھر اس کے ترکش سے ایک تیرلیا اور کمان کی درمیان میں رکھا پھر کہا : اس لڑکے کے رب اللہ کے نام سے پھر اسے تیرماراتیر اس کی کنپٹی پر لگا اس نے اپنی کنپٹی پر تیر کی جگہ ہاتھ رکھا اور مرگیا لوگوں نے کہا : آمنابرب الغلام ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں تین مرتبہ کہا : بادشاہ کے پاس کوئی آکر کہنے لگا : جس سے آپ ذر رہے تھے ، اللہ کی قسم ! آپ کو خوف زدہ کرنے والی چیز پیش آچکی لوگ ایمان لے آئے تو بادشاہ نے گلیوں کے دہانوں جیسی کھائیاں کھودنے کا حکم دیا کھائیاں کھودی گئیں اور ان میں آگ بھڑکائی گئی اور کہا : جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے ان میں ڈال دینا چنانچہ انھوں نے ایسے ہی کیا آخر میں ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا (دودھ پیتا بچہ بھی تھا عورت آگ کو دیکھ کر پیچھے ہٹی کہ مبادا اس میں گرجائے تو اس کے بچہ نے کہا : اے ماں ! صبر کر بیشک تو حق پر ہے۔ مسند احمد، مسلم عن صھیب
40466- "كان ملك فيمن كان قبلكم وكان له ساحر فلما كبر قال للملك: إني قد كبرت فابعث إلي غلاما أعلمه السحر، فبعث إليه غلاما يعلمه، فكان في طريقه إذا سلك راهب فقعد إليه وسمع كلامه فأعجبه، فكان إذا أتى الساحر مر بالراهب وقعد إليه، فإذا أتى الساحر ضربه، فشكى ذلك إلى الراهب، فقال: إذا خشيت الساحر فقل؛ حبسني أهلي، وإذا خشيت أهلك فقل: حبسني الساحر، فبينما هو كذلك إذ أتى على دابة عظيمة قد حبست الناس فقال: اليوم أعلم الساحر أفضل أم الراهب أفضل! فأخذ حجرا فقال: اللهم! إن كان أمر الراهب أحب إليك من أمر الساحر فاقتل هذه الدابة حتى يمضى الناس، فرماها فقتلها، ومضى الناس، فأتى الراهب فأخبره، فقال له الراهب: أي بني! أنت اليوم أفضل مني، قد بلغ من أمرك ما أرى وإنك ستبتلى، فإن ابتليت فلا تدل علي، وكان الغلام يبرئ الأكمه والأبرص ويداوي الناس سائر الأدواء، فسمع جليس للملك كان قد عمى فأتاه بهدايا كثيرة فقال: ما ههنا لك أجمع إن أنت شفيتني! قال: إني لا أشفي أحدا إنما يشفي الله عز وجل، فإن آمنت بالله دعوت الله فشفاك، فآمن بالله فشفاه الله، فأتى الملك فجلس إليه كما كان يجلس، فقال له الملك: من رد عليك بصرك؟ قال: ربي، قال: ولك رب غيرى؟ قال: ربي وربك الله. فأخذه فلم يزل يعذبه حتى دل على الغلام، فجيء بالغلام فقال له الملك: أي بني! قد بلغ من سحرك ما يبرئ الأكمه والأبرص وتفعل وتفعل! فقال: إني لا أشفي أحدا إنما يشفي الله عز وجل، فأخذه فلم يزل يعذبه حتى دل على الراهب، فجيء بالراهب فقيل له: ارجع عن دينك! فأبى، فدعى بالمنشار فوضع في مفرق رأسه فشقه به حتى وقع شقاه، ثم جيء بجليس الملك فقيل له: ارجع عن دينك! فأبى فوضع المنشار في مفرق رأسه فشقه به حتى وقع شقاه، ثم جيء بالغلام فقيل له: ارجع عن دينك! فأبى فدفعه إلى نفر من أصحابه فقال: اذهبوا به إلى جبل كذا وكذا فاصعدوا به الجبل فإذا بلغتم به ذروته فإن رجع عن دينه وإلا فاطرحوه، فذهبوا به فصعدوا به الجبل فقال: اللهم اكفنيهم بما شئت! فرجف بهم الجبل فسقطوا، وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل أصحابك؟ فقال: كفانيهم الله عز وجل، فدفعه إلى نفر من أصحابه فقال: اذهبوا به فاحملوه في قرقور فتوسطوا به البحر فإن رجع عن دينه وإلا فاقذفوه، فذهبوا به فقال: اكفنيهم بما شئت! فانكفأت بهم السفينة فغرقوا، وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل أصحابك؟ فقال: كفانيهم الله. فقال للملك: إنك لست بقاتلي حتى تفعل ما آمرك به! قال: وما هو؟ قال تجمع الناس في صعيد واحد وتصلبني على جذع، ثم خذ سهما من كنانتي ثم ضع السهم في كبد القوس ثم قل: بسم الله رب الغلام! ثم ارمني، فإنك إن فعلت ذلك قتلتني؛ فجمع الناس في صعيد واحد فصلبه على جذع، ثم أخذ سهما من كنانته ثم وضع السهم في كبد القوس ثم قال: بسم الله رب الغلام! ثم رماه، فوقع السهم في صدغه فوضع يده على صدغه موضع السهم فمات؛ فقال الناس: آمنا برب الغلام! آمنا برب الغلام! آمنا برب الغلام! فأتي الملك فقيل له: أرأيت ما كنت تحذر! قد والله نزل بك حذرك، قد آمن الناس، فأمر بالأخدود " بأفواه السكك "، فخدت وأضرم النيران وقال: من لم يرجع عن دينه فأقحموه " فيها، ففعلوا حتى جاءت امرأة ومعها صبي لها فتقاعست "أن تقع فيها، فقال لها الغلام: يا أمه! اصبري فإنك على الحق". "حم، م عن صهيب" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پنگوڑے میں بات کرنے والے بچے
٤٠٤٦٧۔۔۔ پنگوڑے میں صرف تین بچے بولے ہیں : عیسیٰ (علیہ السلام) ، بنی اسرائیل میں ایک جریج نامی تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا تو اس کی ماں نے اسے بلایا تو اس نے دل میں کہا : میں نماز پڑھوں یا ماں کو جواب دوں ! تو اس کی ماں نے کہا : اے اللہ ! رنڈیوں کا منہ دکھائے بغیر اسے موت نہ دینا، ایک دفعہ جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ اس کے پاس ایک عورت آکر خواہش کرنے لگی تو اس نے انکار کردیا پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اسے اپنے آپ پر قدرت دی جس کے نتیجہ میں اس نے ایک لڑکا جنا، تو کہنے لگی : یہ جریج سے ہے تو لوگوں نے آکر اس کا عبادت خانہ توڑدیا اور اسے نیچے اتار کر گالیاں دینے لگے، اس نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر بچہ کے پاس آیا اور کہا : لڑکے تیرا باپ کون ہے ؟ اس نے کہا : چرواہا، لوگوں نے کہا : ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے اس نے کہا : نہیں صرف مٹی سے بنادو (تیسرابچہ) ایک دفعہ بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچہ کو دودھ بلارہی تھی تو اس کے پاس ایک عمدہ سواری والا گزراتو وہ عورت کہنے لگی : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنادے تو اس نے پستان ترک کرکے سوار کو دیکھ کر کہا : اے اللہ ! مجھے اس جیسا نہ بنا، پھر پستان چوسنے لگا پھر اس کی ماں کے پاس ایک ہاندی گذری تو وہ کہنے لگی : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بناتو اس نے پستان ترک کرکے کہا : اے اللہ ! مجھے اس جیسا بناتو وہ کہنے لگی : ایسا کیوں ؟ تو وہ بولا : سوار ایک ظالم تھا اور یہ باندی ایسی ہے جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں : کہ اس نے چوری کی زنا کیا جب کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ مسنداحمد، بیہقی عن ابوہریرہ
40467- "لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة: عيسى، وكان في بني إسرائيل رجل يقال له جريج يصلي جاءته أمه فدعته فقال: أجيبها أو أصلي! فقالت: اللهم لا تمته حتى تريه وجوه المومسات! وكان جريج في صومعته فتعرضت له امرأة، فكلمته فأبى، فأتت راعيا فأمسكته من نفسها، فولدت غلاما فقالت: من جريج، فأتوه وكسروا صومعته فأنزلوه وسبوه، فتوضأ وصلى ثم أتي الغلام فقال: من أبوك يا غلام؟ قال: الراعي، قالوا: نبني لك صومعتك من ذهب! قال: لا إلا من طين: وكانت امرأة ترضع ابنا لها في بني إسرائيل فمر بها رجل راكب ذو شارة فقالت: اللهم اجعل ابني مثله! فترك ثديها وأقبل على الراكب وقال: اللهم! لا تجعلني مثله، ثم أقبل على ثديها يمصه، ثم مر بأمة فقالت أمه: اللهم! لا تجعل ابني مثل هذه، فترك ثديها وقال: اللهم اجعلني مثلها! فقالت: لم ذاك؟ فقال: الراكب جبار من الجبابرة، وهذه الأمة يقولون: سرقت زنت، ولم تفعل". "حم، ق عن أبي هريرة" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کی بیٹی کی ماما کا قصہ
٤٠٤٦٨۔۔۔ جس رات مجھے معراج کرائی گئی اس رات میں نے ایک سوندھی خوشبومحسوس کی، میں نے کہا : جبرائیل یہ اتنی اچھی خوشبو کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : یہ فرعون کی بیٹی کی ماما اور اس کے بچوں کی خوشبو ہے میں نے کہا : ان کا کیا قصہ ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ایک دفعہ وہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنکھی نیچے گرگئی تو اس عورت نے کہا : بسم اللہ، تو فرعون کی بیٹی نے کہا : میرا باپ مراد ہے ؟ وہ عورت بولی نہیں بلکہ میرا تمہارا اور باپ کا رب اللہ مراد ہے وہ کہنے لگی : کیا میرے باپ کے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، وہ بولی تب میں اسے اس کے بارے میں بتادوں ؟ اس عورت نے کہا : ہاں بتادو اس نے فرعون کو بتادیا فرعون نے کہا : اری فلانی ! کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : ہاں میرا اور تمہارا رب وہ ہے جو آسمان میں ہے تو فرعون نے تانبے کی ایک گائے کا حکم دیا جسے تپایا گیا پھر اس کے بچوں کو پکڑا اور ایک ایک کرکے اس میں ڈالنے لگے تو وہ عورت بولی : مجھے تم سے ایک کام ہے فرعون نے کہا : کیا ہے ، اس نے کہا : میں چاہتی ہوں کہ آپ میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں یکجاکریں اور پھرا نہیں ایک کپڑے میں ڈال کردفن کردیں فرعون نے کہا : ہم تمہاری بات مان لیتے ہیں کیونکہ تمہارا ہم پر حق ہے تو اس کے بیٹے گائے میں ڈالتے رہے آخر اس کا وہ بچہ رہ گیا جو دودھ پیتا تو عورت اس کی وجہ سے پیچھے ہٹی تو اس بچے نے کہا : اے ماں ! کو دپڑو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے پھر وہ اپنے بچہ سمیت ڈال دی گئی۔ (یوں) چار چھوٹے بچوں نے گفتگو کی،(ایک) یہ بچہ یوسف (علیہ السلام) کی گواہی دینے والا جریج والا اور عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام۔ مسنداحمد، نسائی، حاکم، بیہقی فی شعب الایمان، عن ابن عباس
40468- "لما كانت الليلة التي أسرى بي فيها وجدت رائحة طيبة فقلت: ما هذه الرائحة الطيبة يا جبريل؟ قال: هذه رائحة ماشطة بنت فرعون وأولادها، قلت ما شأنها؟ قال: بينما هي تمشط بنت فرعون إذ سقط المشط من يدها فقالت: بسم الله: فقالت بنت فرعون: أبي؟ فقالت: لا ولكن ربي وربك ورب أبيك الله، قالت: وإن لك ربا غير أبي؟ قالت: نعم، قالت: فأعلمه بذلك؟ قالت: نعم، فأعلمته، فدعا بها فقال: يا فلانة! ألك رب غيري؟ قالت: نعم، ربي وربك الله الذي هو في السماء، فأمر ببقرة من نحاس فأحميت ثم أخذ أولادها يلقون فيها واحدا بعد واحد، فقالت: إن لي إليك حاجة! قال: وما هي؟ قالت: أحب أن تجمع عظامي وعظام ولدي في ثوب واحد فتدفننا جميعا! قال: ذلك لك لما لك علينا من الحق، فلم يزل أولادها يلقون في البقرة حتى انتهى إلى ابن لها رضيع فكأنما تقاعست من أجله فقال لها: يا أمه! اقتحمي فإن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة، ثم ألقيت مع ولدها، وتكلم أربعة وهم صغار: هذا وشاهد يوسف وصاحب جريج وعيسى ابن مريم". "حم، ن ك، هب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کی بیٹی کی ماما کا قصہ
٤٠٤٦٩۔۔۔ ایک آدمی نے دوسرے سے اس کی زمین خریدی تو خرید نے والے نے اس میں ایک گھڑادیکھا جس میں سونا تھا جس نے زمین خریدی وہ کہنے لگا مجھے سے اپناسونا لے لے میں نے زمین خریدی تھی سونا نہیں تو جس کی زمین تھی اس نے کہا : میں نے تمہارے ہاتھ زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب کچھ بیچ دیا تھا تو وہ دونوں ایک شخص کے پاس فیصلہ کرانے گئے تو حکم نے ان سے کہا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ تو ایک نے کہا : میرا بیٹا ہے اور دوسرے نے کہا : میری بیٹی ہے تو حکم نے کہا : لڑکے کا لڑکی سے نکاح کردو اور اس سونے ان پر خرچ کرو اور صدقہ کردو۔ مسنداحمد، بیہقی، ابن ماجہ عن ابوہریرہ
40469- "اشترى رجل من رجل عقارا له، فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب، فقال له الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني، إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع الذهب، وقال الذي له الأرض: إنما بعتك الأرض وما فيها، فتحاكما إلى رجل، فقال الذي تحاكما إليه: ألكما ولد؟ قال أحدهما: لي غلام، وقال الآخر لي جارية، فقال: أنكحوا الغلام الجارية وأنفقوا على أنفسهما منه وتصدقوا". "حم، ق ، هـ - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال
٤٠٤٧٠۔۔۔ بنی اسرائیل نے اپنا ایک خلیفہ بنایا وہ بیت المقدس کی چھت پر چاندی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اسے اپنے وہ کام یاد آگئے جو اس نے کئے تھے تو وہ ایک رسی سے لٹک کر نیچے اتر آیا صبح کے وقت وہ رسی مسجد کے ساتھ لٹک رہی تھی اور جاچکا تھا چلتے چلتے وہ نہر کے کنارے ایک قوم کے پاس پہنچا جنہیں دیکھا کہ وہ کچی اینیٹیں بنا رہے ہیں اس نے ان سے پوچھا : کہ تم ان اینٹوں کی کتنی اجرت لیتے ہو تو انھوں اسے بتایا تو یہ ان کے پاس ٹھہر گیا وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانے لگا جب نماز کا وقت ہوا وضو کیا اور نماز پڑھی اس مزدور کی خبر ان کے سردارتک پہنچی تو اس نے کہا : ہم میں ایک شخص ہے جو اس طرح کام کرتا ہے سردارنے اس کی طرف آنے کا پیام بھیجا اس نے انکار کردیا پھر وہ سردار سواری پرچلتے ہوئے اس کے پاس آیا یہ اسے دیکھ بھاگ کھڑا ہوا، اس نے اس کا پیچھا کیا اور اس تک پہنچ گیا اور کہا : ٹھہرو میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے تو وہ ٹھہر گیا تو اسے بتایا کہ وہ بادشاہ تھا اپنے دین کے خوف کی وجہ سے وہ بھاگا ہے تو اس شخص نے کہا : میں اسی وجہ سے تمہارا ساتھ اختیار کرنا چاہتا ہوں، تو دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان دونوں کو اکٹھے موت دے چنانچہ وہ اکٹھے فوت ہوئے۔ طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ١٠٨٣۔
40470- "إن بني إسرائيل استخلفوا عليهم خليفة، فقام يصلي في القمر فوق بيت المقدس فذكر أمورا صنعها فتدلى بسبب فأصبح السبب متعلقا بالمسجد وقد ذهب، فانطلق حتى أتى قوما على شط البحر فوجدهم يصنعون لبنا فسألهم: كيف تأخذون على هذا اللبن؟ فأخبروه فلبث معهم، فكان يأكل من عمل يده حتى إذا حضرت الصلاة تطهر وصلى، فرفع ذلك العامل إلى دهقانهم فقال: فينا رجل يصنع كذا وكذا، فأرسل إليه فأبى أن يأتيه، ثم إنه جاء يسير على دابة، فلما رآه فر، فتبعه فسبقه فقال: أنظرني أكلمك كلمة! فقام حتى كلمه فأخبره أنه كان ملكا وأنه فر من رهبة دينه، فقال: إني لاحق بذلك معك! فعبدا الله جميعا، فسألا الله عز وجل أن يميتهما جميعا، فماتا جميعا". "طب عن ابن مسعود" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال
٤٠٤٧١۔۔۔ ایک نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر خوش ہوا اور کہا : ان کے سامنے کون ٹھہرے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وخی بھیجی کہ اپنی امت کے لیے تین باتوں میں سے ایک پسند کر میں، یا میں ان پر موت مسلط کروں یا دشمن یا بھوک تو نبی نے انھیں بات بتائی انھوں نے کہا : آپ اللہ کے نبی ہیں ہم آپ کے سپرد کرتے ہیں آپ خود ہمارے لیے منتخب کرلیں، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وہ جب بھی کسی مشکل میں پڑتے تو نماز کاسہارالیتے تو نبی نے نماز پڑھی اور دل میں کہا جہاں تک بھوک کا تعلق ہے تو ہمیں اس کی طاقت نہیں نہ ہمیں دشمن سے مقابلہ کی قوت ہے لیکن موت تو ان پر موت مسلط کی گئی چنانچہ تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لیے میں آج کہتا ہوں : اے اللہ ! تیرے ذریعہ میں قصد کرتا، تیرے بھروسے پر حملہ کرتا اور تیرے سہارے میں جنگ کرتا ہوں، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ مسند احمد، ابویعلی طبرانی فی الکبیر حلیۃ الاولیائ، بیہقی، سعید بن منصورعن صھیب
40471- "إن نبيا من الأنبياء أعجبته كثرة أمته فقال: من يقوم لهؤلاء! فأوحى الله إليه أن خير أمتك بين إحدى ثلاث: إما أن أسلط عليهم الموت، أو العدو، أو الجوع؛ فعرض لهم ذلك فقالوا: أنت نبي الله نكل ذلك إليك فخر لنا، فقام إلى صلاته وكانوا يفزعون إذا فزعوا إلى الصلاة فصلى فقال: أما الجوع فلا طاقة لنا به، ولا طاقة لنا بالعدو، ولكن الموت! فسلط عليهم الموت، فمات منهم في ثلاثة أيام سبعون ألفا؛ فأنا اليوم أقول: اللهم! بك أحاول، وبك أصاول، وبك أقاتل، ولا حول ولا قوة إلا بالله". "حم، ع طب، حل، ق، ص عن صهيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب القصص ۔۔۔ ازقسم افعال فرعون کی بیٹی کی ماما کا قصہ
٤٠٤٧٢۔۔۔ (مسندابی) معراج کی رات میں نے ایک اچھی خوشبومحسوس کی، میں نے جبرائیل سے کہا : یہ اچھی خوشبو کیسی ہے ؟ انھوں نے کہا : کنگھی کرانے والی اس کے دونوں بیٹوں اور اس کے خاوند کی خوشبو ہے جس کا آغاز اس طرح ہوا کہ خضربنی اسرائیل کے مالدار لوگوں سے تعلق رکھتے تھے ان کا کزر ایک راہب پر اس کے عبادت خانہ کے پاس سے ہوتا تھا راہب انھیں دیکھتا اور اسلام کی تعلیم دیتا جب خضر بانغ ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کی شادی کرادی خضرنے اسے اسلام کی تعلیم دی اور اس سے یہ عہدلیا کہ وہ کسی کو اس کی اطلاع نہ دے، وہ عورتوں کے قریب زیادہ نہ ہوتے تھے اس لیے اسے طلاق دے دی۔ پھر ان کے والد نے دوسری عورت سے ان کی شادی کرادی اسے بھی اسلام کی تعلیم دی اور اس سے عہد لیا کہ وہ کسی کو اس کی اطلاع نہ دے پھرا سے بھی طلاق دے دی تو ان میں سے ایک نے ان کا اسلام چھپایا اور دوسری نے ظاہر کردیاتو وہ بھاگ نکلے اور سمندر کے ایک جزیرہ میں پہنچ گئے وہاں دو آدمی لڑنے لگے ان دونوں نے خضرکودیکھا تو ایک نے چھپایا اور دوسرے نے ظاہر کردیا کہنے لگا : میں نے خضر کو دیکھا ہے کسی نے کہا : تمہارے ساتھ کسی اور نے دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : فلاں نے اس سے پوچھا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کے دین میں تھا کہ جو جھوٹ بولے اسے قتل کردیا جائے پھر ان کا اسلام چھیا نے والی عورت کی شادی ہوگئی ایک دفعہ وہ فرعون کی بیٹی کنگھی کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ کنگھی کرگئی تو اس نے کہا : فرعون کا ناس ہو تو بیٹی نے اپنے باپ کو بتادیا اس عورت کے دو بیٹے اور خاوند تھا فرعون نے انھیں بلا بھیجا عورت اور اس کے خاوند کو ورغلایا کہ وہ اپنے دین سے پھرجائیں مگر انھوں نے انکار کیا فرعونے کہا میں تمہیں قتل کرنے والا ہوں انھوں نے کہا : تمہاری طرف سے ہم پر احسان ہوگا کہ ہمیں قتل کرنے کے بعد ایک کمرہ میں ڈال دینا اس نے ایسا ہی کیا۔ ابن مردویہ عن ابی ذروسندہ حسن
40472- "مسند أبي" "ليلة أسرى بي وجدت ريحا طيبة فقلت: يا جبريل! ما هذه الريح الطيبة؟ فقال: هذه ريح الماشطة وابنيها وزوجها، وكان بدء ذلك أن الخضر كان من أشراف بني إسرائيل وكان ممره براهب في صومعته فيطلع عليه الراهب فيعلمه الإسلام، فلما بلغ الخضر فزوجه أبوه امرأة فعلمها الخضر الإسلام وأخذ عليها أن لا تعلمه أحدا وكان لا يقرب النساء فطلقها، ثم زوجه أبوه امرأة أخرى فعلمها وأخذ عليها أن لا تعلمه أحدا فطلقها، فكتمت إحداهما وأفشت عليه الأخرى، فانطلق هاربا حتى أتى جزيرة في البحر فأقبل رجلان يختصمان فرأياه فكتم أحدهما وأفشى الآخر وقال: لقد رأيت الخضر، فقيل له: من رآه معك؟ قال: فلان: فسئل فكتم، وكان في دينهم أن من كذب قتل؛ فتزوج المرأة الكاتمة فبينا هي تمشط بنت فرعون سقط المشط من يدها فقال: تعس فرعون! فأخبرت أباها، وكان للمرأة ابنان وزوج فأرسل إليهم فراود المرأة وزوجها أن يرجعا عن دينهما فأبيا، فقال: إني قاتلكما، فقالا: إحسان منك إلينا إن قتلتنا أن تجعلنا في بيت ففعل". "وابن مردويه - عن أبي ذر، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب القصص ۔۔۔ ازقسم افعال فرعون کی بیٹی کی ماما کا قصہ
٤٠٤٧٣۔۔۔ اسی طرح قتادہ سے وہ مجاہد سے وہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرمایا : مجھ سے ابی بن کعب (رض) نے بیان کیا فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : کہ جس رات مجھے معراج ہوا، میں نے ایک اچھی خوشبو محسوس کی میں نے کہا : جبرائیل ! یہ کیسی خوشبو ہے ؟ تو انھوں نے کہا : کنگھی کرانے والی عورت اس کے بیٹوں اور اس کے خاوند کی قبر کی خوشبو ہے جس کا آغاز اس طرح ہوا کہ خضر بنی اسرائیل کے شرفاء سے تعلق رکھتے تھے ان کا گزر ایک راہب پر اس کے عبادت خانہ سے ہوتا تھا وہ باہر جھانکتا اور انھیں اسلام کی تعلیم دیتا اس نے ان سے یہ عہد لیا کہ وہ اس کا کسی کو نہ بتائیں پھر ان کے والد نے ایک عورت سے ان کی شادی کردی انھوں نے اس وعدہ پر اسے اسلام کی تعلیم دی کہ کسی کو ان کا نہیں بتائے گی وہ عورتوں کے زیادہ قریب نہ ہوتے تھے اس لیے اسے طلاق دے دی پھر ان کے والد نے دوسری عورت سے ان کی شادی کردی اسے بھی اس شرط پر کہ وہ ان کا کسی کو نہیں بتائے گی اسلام کی تعلیم دی بعد میں اسے بھی طلاق دے دی تو ایک نے ان کا راز فاش کیا اور دوسری نے پوشیدہ رکھا راز فاش ہونے کے بعد وہ گھبرا کربھاگ نکلے اور ایک جزیرہ جو سمندر میں تھا اس میں فروکش ہوئے، وہاں انھیں دو آدمیوں نے دیکھا تو ان میں سے ایک نے ان کا بھید چھپایا اور دوسرے نے ظاہر کردیا دیکھنے والے سے کہا گیا : تمہارے ساتھ اور کس نے دیکھا ہے ؟ اور ان کے دین میں یہ قانون تھا کہ جو جھوٹ بولتا اسے قتل کردیاجاتا تو جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے پوشیدہ رکھا یوں بتانے والا جھوٹا پڑگیا جس کی پاداش میں بتانے والے کو قتل کردیا گیا۔ بعد میں راز چھپانے والے کی راز چھپانے والی سے شادی ہوگئی ایک دفعہ وہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گری تو اس نے کہا : فرعون موا، تو بچی نے اپنے والد کو بتادیا تو فرعون نے اسے اس کے دونوں بیٹوں اور اس کے خاوند کو بلا بھیجا اور انھیں ان کے دین سے ہٹانے کا ارادہ کیا انھوں نے انکار کیا فرعون نے کہا : میں تمہیں قتل کرنے والا ہوں، انھوں نے کہا : ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں قتل کرنے کے بعد ایک قبر میں دفن کردیں تو انھیں قتل کرنے کے بعد ایک قبر میں دفن کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ میں جنت میں داخل ہوچکا تھا مگر میں نے اس سے اچھی خوشبو نہیں سونگھی۔ ابن ماجۃ ابن عساکر
40473- "أيضا" عن قتادة عن مجاهد عن ابن عباس قال: حدثني أبي بن كعب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "شممت ليلة أسري بي رائحة طيبة فقلت: يا جبريل! ما هذه الرائحة الطيبة؟ قال ريح قبر الماشطة وابنيها وزوجها، وكان بدء ذلك أن الخضر كان من أشراف بني إسرائيل وكان ممره براهب في صومعة فيطلع عليه الراهب فيعلمه الإسلام وأخذ عليه أن لا تعلمه أحدا، ثم إن أباه زوجه امرأة فعلمها الإسلام وأخذ عليها أن لا تعلمه أحدا وكان لا يقرب النساء، ثم زوجه أخرى فعلمها الإسلام، وأخذ عليها أن لا تعلمه أحدا ثم طلقها، فأفشت عليه إحداهما وكتمت الأخرى، فخرج هاربا حتى أتى جزيرة في البحر فرآه رجلان فأفشى عليه أحدهما وكتم الآخر، فقيل له: ومن رآه معك؟ قال: فلان، وكان في دينهم أن من كذب قتل، فسئل فكتم، فقتل الذمي أفشى عليه ثم تزوج الكاتم عليه المرأة الكاتمة، فبينا هي تمشط بنت فرعون إذ سقط المشط من يدها فقالت: تعس فرعون! فأخبرت الجارية أباها، فأرسل إلى المرأة وابنيها وزوجها، فأرادهم أن يرجعوا عن دينهم فأبوا، فقال: إني قاتلكما قالوا: أحببنا إن أنت قتلتنا أن تجعلنا في قبر واحد، فقتلهم فجعلهم في قبر واحد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شممت رائحة أطيب منها وقد دخلت الجنة". "هـ, كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالے
٤٠٤٧٤۔۔۔ حضرت عائشۃ (رض) کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے فرمایا : تین شخص (سفرپر) نکلے، ان پر (سخت) بارش ہوئی تو وہ ایک غار میں داخل ہوگئے تو ان پرچٹان نے دروازہ بند کردیا تو وہاں ایک دوسرے سے کہنے لگے : یہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے ہر شخص صرف اپنے اچھے عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو ان میں سے ایک شخص اٹھا اور کہا : اے اللہ ! میرے بوڑھے والدین تھے میں انھیں دودھ کا حصہ دینے سے پہلے دودھ نہ پیتا ایک رات میں ان کا حصہ لے کر ان کے سرہانے آیا تو وہ سوگئے تھے میں نے نہ چاہا کہ انھیں ان کی نیند سے بیدار کروں اور یہ بھی نہ چاہا کہ انھیں دودھ پلائے بغیر واپس پلٹ جاؤں میں ان کے سرہانے کھڑاہی رہایہاں تک کہ صبح ہوگئی ، اے اللہ ! آپ جانتے ہیں میں نے اگر یہ کام آپ کے لیے کیا تو یہ چٹان ہٹادیں تو چٹان تھوڑی سی سر کی کہ انھیں روشنی نظر آنے لگی، پھر دوسرا اٹھا اور کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میری ایک چچازاد تھی جس سے میں بےحدمحب کرتا تھا میں نے اس کی خواہش کی تو اس نے کہا : سو دینار دوتب تو میں نے اس کے لیے سو دینار جمع کئے جب اس نے مجھے اپنے آپ پر قدرت دے دی تو کہنے لگی : تمہارے لیے ناحق مہرتوزنا جائز نہیں تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ ! آپ کو علم ہے اگر میں نے یہ کام آپ کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور کردیں توچٹان تھوڑی ہئی جس سے لگتا تھا وہ نکل جائیں۔ پھر تیسراکھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میرے کئی مزدور تھے جن میں کسی کی مزدوری میرے پاس ایک رات بھی نہ رہتی تھی، اور ایک مزدور اپنی مزدوری میرے پاس چھوڑ گیا میں نے اس سے کاشت کی جس سے پیداوار ہوئی ، میں نے اس کے ذریعہ غلام اور بہت سا مال خریدا پھر کچھ عرصہ بعد وہ میرے پاس آکرکہنے لگا : اللہ کے بندے ! مجھے میرے مزدوری دو ، میں نے کہا : یہ ساری تمہاری مزدوری ہے وہ کہنے لگا : اللہ کے بندہ ! مجھ سے مزاح نہ کر میں نے کہا : میں تم سے مزاح کر رہاتو اس نے سب کچھ لیا اور میرے لیے تھوڑایازیادہ کچھ بھی نہیں چھوڑا، اے اللہ ! آپ جانتے ہیں میں نے اگر یہ کام اگر یہ کام آپ کے لیے کیا تو ہم سے یہ مصیبت دور کردیں توچٹان ہٹ گئی اور وہ باہرنکل آئے۔ الحسن بن سفیان
40474- عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خرج ثلاثة نفر فأصابتهم السماء فدخلوا غارا فانطبق عليهم الجبل، فقال بعضهم لبعض: هذا بأعمالكم فليقم كل رجل فليدع الله بخير عمله قط، فقام أحدهم فقال: اللهم! إنك تعلم أنه كان لي أبوان كبيران وكنت لا أغتبق حتى أغبقهما، وأني أتيتهما ليلة بغبوقهما فقمت على رؤسهما فوجدتهما نائمين، فكرهت أن أنبههما من نومهما وكرهت أن أنصرف حتى يغتبقا، فلم أزل قائما على رؤسهما حتى نظرت إلى الفجر، اللهم! إن كنت تعلم أن ذلك كذلك فافرج عنا، فانصدع الصخرة حتى نظروا إلى الضوء؛ ثم قام الآخر فقال: اللهم! إن كنت تعلم أنه كانت لي ابنة عم وكنت أحبها حبا شديدا وأني سمتها نفسها فقالت: لا إلا بمائة دينار، فجمعتها لها، فلما أمكنتني من نفسها قالت: لا يحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه، فقمت فتركتها، اللهم! إن كنت تعلم أن ذلك كذلك فافرج عنا، فانفرج الجبل حتى كادوا يخرجون، ثم قام الآخر فقال: اللهم! إن كنت تعلم أنه كان لي أجراء كثير وكان لا يبيت لأحد منهم عندي أجر، وإن أجيرا منهم ترك أجره عندي وإني زرعته فأخصب، فاتخذت منه عبدا ومالا كثيرا، فأتى بعد حين فقال لي: يا عبد الله! أعطني أجري، قلت: هذا كله أجرك، قال: يا عبد الله لا تتلاعب بي، قلت: ما أتلاعب بك، فأخذه كله ولم يترك لي منه قليلا ولا كثيرا، اللهم! إن كنت تعلم أن ذلك كذلك فافرج عنا؛ فانفرج الجبل عنهم فخرجوا""الحسن بن سفيان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالے
٤٠٤٧٥۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص اپنے گھروالوں کے لیے کھانے کی تلاش میں نکلے، توبارش نے انھیں آلیا تو وہ ایک پہاڑ کی کھوہ میں پناہ میں ہو کئے اوپر سے ایک چٹان آئی غارکامنہ بند ہوگیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : بارش سے ہمارے قدموں کے نشان مٹ گئے اور غار کے دہانے پر پتھر آگیا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو تمہاری جگہ کا علم نہیں اپنے ان اعمال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کروجن پر تمہیں بھروسہ ہو تو ان میں سے ایک کہنے لگا : اے اللہ !

آپ جانتے ہیں کہ ایک عورت مجھے اچھی لگتی تھی میں نے اس سے خواہش ظاہر کی تو اس نے اجرت کے بغیر انکار کیا (اجرت کا بند و بست کرنے کے بعد) جب میں اس کے قریب ہوا تو میں نے اسے چھوڑ دیا آپ جانتے ہیں اگر میں نے یہ کام آپ کی رحمت کی امید اور آپ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا ہے تو ہمیں باہرنکالیں توچٹان کا تہائی حصہ ہٹ گیا۔

بوڑھے والدین کی خدمت کا صلہ

دوسرے نے کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں میرے بوڑھے والدین تھے میں ان کے برتن میں ان کے لیے دودھ دوہتا، ایک دفعہ (حسب عادت) جب میں ان کے پاس آیا تو وہ سوئے ہوئے تھے تو میں ان کے بیدار ہونے تک کھڑارہا پھر جب بیدار ہوئے تو دودھ پیا، آپ جانتے ہیں اگر میں نے یہ کام آپ کی رحمت کی امید اور آپ کے عذاب کے خوف سے کیا ہے تو ہمیں یہاں سے نکال دیں توتہائی پتھرہٹ کیا۔ تیسرے نے کہا اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایک دن مزدورکوکام پر لگایا تو اس نے آدھا دن کام کیا میں نے اسے مزدوری دی تو وہ ناراض ہو کر چھوڑ گیا تو میں نے اسے بڑھایا تو وہ کل مال کے برابر ہوگئی پھر وہ اپنی مزدوری طلب کرنے آیا میں نے کہا : یہ سب کچھ تمہارا ہے اگر میں چاہتاتو اسے صرف اس کی مزدوری دیتا آپ جانتے ہیں : اگر میں نے یہ کام آپ کی رحمت کی امید اور آپ کے عذاب کے خوف سے کیا ہے تو ہمیں یہاں سے نکال دیں تو پتھرہٹ گیا اور وہ چلتے ہوئے باہرآگئے۔ ابن حبان، طبرانی فی الاوسط
40475- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خرج ثلاثة فيمن كان قبلكم يرتادون لأهليهم فأصابتهم السماء فلجؤا إلى جبل، فوقعت عليهم صخرة فقال بعضهم لبعض: عفا الأثر، ووقع الحجر، ولا يعلم مكانكم إلا الله، ادعوا الله بأوثق أعمالكم؛ فقال أحدهم: اللهم! إن كنت تعلم أنه كانت امرأة تعجبني فطلبتها، فأبت علي فجعلت لها جعلا، فلما قربت نفسها تركتها، فإن كنت تعلم أني إنما فعلت ذلك رجاء رحمتك وخشية عذابك فافرج عنا! فزال ثلث الجبل؛ فقال الآخر: اللهم! إن كنت تعلم أنه كان لي والدان وكنت أحلب لهما في إنائهما، فإذا أتيتهما وهما نائمان قمت قائما حتى يستيقظا، فإذا استيقظا شربا، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك رجاء رحمتك وخشية عذابك فافرج عنا! فزال ثلث الحجر؛ فقال الثالث: اللهم! إن كنت تعلم أني استأجرت أجيرا يوما فعمل نصف النهار فأعطيته أجره، فتسخطه ولم يأخذه، فوفرتها عليه حتى صار من كل المال، ثم جاء يطلب أجره فقلت: هذا كله، ولو شئت لم أعطه إلا أجره، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك رجاء رحمتك وخشية عذابك فافرج عنا! فزال الحجر وخرجوا يتماشون". "حب، طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالے
٤٠٤٧٦۔۔۔ حنش بن الحارث سے وہ اپنے والد سے وہ حضرت علی (رض) سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں : آپ نے فرمایا تین آدھی چل رہے تھے انھیں بارش نے آلیا انھوں نے پہاڑ کی ایک کھوہ میں پناہ لی ان کی کھوہ پر پہاڑ سے ایک چٹان گری جس نے کھوہ کا راستہ بند کردیا تو ان میں سے کسی نے کہا : اپنے ان اعمال صالحہ کو یاد کرو جو تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے کئے ہیں ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعاکرو تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے بوڑھے ماں باپ ایک بیوی اور بچے تھے میں ان کے بیٹے بکریاں چرایا کرتا تھا جب میں شام کو واپس آتا تو ان کے لیے دودھ دوہتاتو میں اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلاتا ایک دن کسی درخت کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی تو میں شام کے وقت ان کے پاس آیا تو وہ سوچکے تھے حسب عادت جیسے میں دودھ دوہتا تھا دودھ دو بار اور آکر ان کے سرہانے کھڑا ہوگیا مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انھیں ان کی نیند سے بیدار کروں اور نہ یہ اچھا لگا کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں وہ میرے لیے اتنی گنجائش کردیں کہ ہم آسمان کو دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تھوڑی سی گنچائش پیدا فرمادی۔ دوسرے نے کہا : اے اللہ ! میری ایک چچاز اد تھی جس سے میں ایسی ہی محبت کرتا تھا جیسے مردعورتوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں میں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا تو اس نے انکار کیا یہاں تک کہ میں سو دینار لاؤں تو میں کوشش محنت کر کرتے اس کے پاس سو دینار جمع کرکے لے آیا جب میں صحبت کے لیے اس کے پاؤں میں آیا تو اس نے کہا : اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر اور ناحق مہر کو نہ توڑ تو میں اسے چھوڑ کر اٹھکھڑا ہوا آپ جانتے ہیں میں نے اگر یہ کام آپ کی رضاجوئی کے لیے کیا ہے تو ہمارے لیے اتنی وسعت پیدا کردیں کہ ہم آسمان دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اتنی وسعت پیدا فرمادی۔ تیسرے نے کہا : میں نے اجرت پر ایک مزدور رکھا، جب اس نے اپنا کام ختم کیا تو میں نے اسے اس کا حق دیاتو اس نے اعراض کیا اور چھوڑ کر بےغبت ہوگیا تو میں نے ان سے ایک گائے خریدی جسے میں اس کے لیے چرانے لگا پھر وہ کچھ عرصہ بعد آیا اور کہنے لگا : اللہ تعالیٰ سے ڈر مجھ پر ظلم نہ کرے مجھے میرا حق دے میں نے کہا : اس گائے اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ اور اسے پکڑلو وہ تمہاری ہے تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ سے ڈر مجھ سے مزاح نہ کر میں نے کہا : میں تجھ سے مزاح نہیں کررہا اس گائے اور اس کے چرواہے کو لے لے آپ جانتے ہیں میں نے اگر یہ کام آپ کو خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا ہے تو باقی چٹان ہٹادیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا راستہ کھول دیا۔ الخرائطی فی اعتدال القلوب
40476- عن حنش بن الحارث عن أبيه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "بينما نفر ثلاثة يمشون إذ أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل، فانحطت عليهم في غارهم صخرة من الجبل فأطبقت عليهم بعض الغار، فقال بعضهم: انظروا أعمالا عملتموها لله صالحة فادعوه بها، فدعوا الله فقال بعضهم: اللهم! إنه كان لي أبوان شيخان كبيران وامرأة وصبيان فكنت أرعى عليهم، فإذا رحت إليهم حلبت لهم فبدأت بوالدي أسقيهما قبل بني، وإنه نأى بي الشجر فلم آت حتى أمسيت فوجدتهما قد ناما، فحلبت كما كنت أحلب فجئت فقمت عند رؤسهما أكره أن أوقظهما من نومهما وأكره أن أبدأ بالصبية قبلهما، فجعلوا يتضاغون عند قدمي، فلم أزل كذلك وكان دأبهم حتى طلع الفجر؛ فإن كنت تعلم أني جعلت ذلك ابتغاء لوجهك فافرج عنا فرجة نرى منها السماء! ففرج الله لهم فرجة؛ وقال الآخر: اللهم! إنه كانت لي ابنة عم فأحببتها كأشد ما يحب الرجال النساء، فطلبت إليها نفسها فأبت علي حتى آتيها بمائة دينار، فسعيت حتى جمعت مائة دينار فجئتها بها، فلما قعدت بين رجليها قالت: يا عبد الله! اتق الله ولا تفض الخاتم إلا بحقه، فقمت عنها؛ فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا فرجة نرى منها السماء! ففرج الله لهم فرجة؛ وقال الآخر: اللهم! إني استأجرت أجيرا، فلما قضى عمله قال: أعطني حقي، فأعرضت عنه فتركه ورغب عنه، حتى اشتريت بقرا رعيتها له، فجاء بعد حين فقال: اتق الله ولا تظلمني وأعطني حقي، فقلت: اذهب إلى تلك البقر وراعيها فخذه فهو لك، فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي، فقلت: إني لا أستهزئ بك فخذ تلك البقر وراعيها، فأخذها وذهب؛ فإن كنت تعلم إني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا ما بقي! ففرجها الله عنهم". "الخرائطي في اعتلال القلوب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالے
٤٠٤٧٧۔۔۔ (مسند انس (رض)) سابقہ لوگوں میں سے تین آدمی اپنے گھروالوں کے لیے معاش کی طلب میں نکلے توبارش نے انھیں گھیرلیا وہ ایک غار میں داخل ہوگئے ایک ترچھا پتھر ان کے غار پر گرا جس سے انھیں صرف تھوڑا سا نظر آتا تھا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : پتھر آپڑا نشان قدم مٹ گئے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی تمہاری جگہ کو نہیں جانتا لہٰذا اللہ تعالیٰ سے اپنے ان اعمال کے ذریعہ دعامانگو ! جن (کی قبولیت) پر بھروسا ہے۔ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں میرے بوڑھے والدین تھے میں ان کے برتن میں دودھ دوہ کر ان کے پاس لاتا اور جب وہ سوئے ہوتے تو میں ان کی نیند میں خلل ڈالے ان کے سرہانے کھڑارہتاپرجب وہ جاگتے سوجاگتے ، اے اللہ ! اگر آپ کو میرا یہ عمل پسند ہے کہ میں نے آپ کی رضاجوئی اور آپ کے عذاب سے ڈرنے کے لیے ایساکیاتو ہمیں باہر نکالیں تو تہائی پتھرہٹ گیا۔ دوسرے نے کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایک کام کے لیے مزدوراجرت پر لیاجب وہ میرے پاس مزدوری مانگنے آیا تو میں غصہ میں تھا میں نے اسے ڈانٹاتو وہ اپنی مزدوری چھوڑکرچلا گیا میں نے اسے جمع رکھا اور وہ بار آور ہوئی یہاں تک کہ اس سے سارامال بن گیا پھر وہ میرے پاس اپنی مزدوری مانگنے آیا تو میں نے سب کچھ اسے دے دیا اگر میں چاہتا تو اسے اس کی پہلی مزدوری دیتا اے اللہ ! آپ جانتے ہیں اگر میں نے یہ کام آپ کی رضاجوئی اور آپ کے عذاب کے خوف سے کیا ہے تو ہمیں باہر نکال دیں تو تہائی پتھر پھر ہٹ گیا۔ تیسرے نے کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ ایک عورت اچھی لگی پھر اسے کے لیے اجرت مقرر کی جب وہ اس پر قادر ہوا اور پوری طرح قابوپالیا اور اس کی اجرت اسے دے دی ، اے اللہ ! آپ جانتے ہیں اگر میں نے یہ کام آپ کی رحمت کی امید اور آپ کے عذاب کے خوف سے کیا ہے تو ہمیں باہرنکال دیں تو (سارا) پتھرہٹ گیا تو وہ دوڑتے ہوئے باہرنکل آئے۔ طبرانی مسنداحمد، وابوعوانہ عن انس
40477- "مسند أنس" "إن ثلاثة نفر فيما سلف من الناس انطلقوا يرتادون لأهلهم فأخذتهم السماء فدخلوا غارا، فسقط عليهم حجر متجاف حتى ما يرون منه خصاصة فقال بعضهم لبعض: قد وقع الحجر، وعفا الأثر، ولا يعلم مكانكم إلا الله عز وجل، فادعوا الله بأوثق أعمالكم، فقال رجل منهم: اللهم! إن كنت تعلم أنه كان لي والدان فكنت أحلب لهما في إنائهما فآتيهما، فإذا وجدتهما راقدين قمت على رؤسهما كراهية أن أرد سنتهما في رؤسهما حتى يستيقظا متى استيقظا، اللهم! إن كنت تعلم أني إنما فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك ففرج عنا! فزال ثلث الحجر؛ وقال الثاني: اللهم! إن كنت تعلم أني استأجرت أجيرا على عمل يعمله، فأتاني يطلب أجره وأنا غضبان فزبرته، فانطلق وترك أجره، فجمعته وثمرته حتى كان منه كل المال، فأتاني يطلب أجره فدفعت إليه ذلك كله، ولو شئت لم أعطه إلا أجره الأول؛ اللهم! إن كنت تعلم أني إنما فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك ففرج عنا! فزال ثلث الحجر؛ وقال الثالث: اللهم! إن كنت تعلم أنه أعجبته امرأة فجعل لها جعلا، فلما قدر عليها وفر " لها نفسها وسلم لها جعلها، اللهم! إن كنت تعلم أني فعلت ذلك رجاء رحمتك ومخافة عذابك ففرج عنا! فزال الحجر وخرجوا معانيق " يتماشون". "ط، حم، وأبو عوانة عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٧٨۔۔۔ علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے مال میں اس شرط پر کام کیا کہ نفع ان کے درمیان آدھ آدھ ہوگا۔ مالک ، بیہقی
40478- عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن جده أنه عمل في مال لعثمان بن عفان على أن الربح بينهما."مالك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٩۔۔۔ علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : میں حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا اور ان سے کہا : کچھ سامان آیا ہے کیا آپ کو کوئی رغبت ہے کہ مجھے کچھ مال دیں اور میں اس سے سامان خریدوں انھوں نے فرمایا : کیا تم ایسا کرو کے ؟ میں نے کہا : ماں ، سیکن چونکہ میں ایسا شخص ہوں جو غلام ہے اور عہد و پیمان کئے ہوئے ہے میں وہ سامان اس شرط پر خریدوں گا کہ نفع ہمارے درمیان نصف اور نصف ہوگا تو انھوں نے فرمایا ٹھیک ہے پھر انھوں نے مجھے اس شرط پر مال دیا۔ رواہ البیہقی
40479- عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه أنه قال: جئت عثمان بن عفان فقلت له: قد قدمت سلعة فهل لك أن تعطيني مالا فأشتري بذلك؟ فقال: أتراك فاعلا؟ فقلت: نعم ولكني رجل مكاتب فأشتريها على أن الربح بيني وبينك. قال: نعم، فأعطاني مالا على ذلك."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٨٠۔۔۔ عبداللہ بن حمید اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) کو یتیم کا مال بطور مضاربت دیا گیا تو آپ نے اس میں طلب کی تو فائدہ ہوا اور فالتومال آپس میں تقسیم کرلیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40480- عن عبد الله بن حميد عن أبيه عن جده أن عمر بن الخطاب دفع إليه مال يتيم مضاربة، فطلب فيه فأصاب، فقاسمه الفضل."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٨١۔۔۔ اسلم سے روایت ہے کہ عبداللہ اور عبید اللہ بن عمر بن خطاب (رض) ایک لشکر میں عراق گئے واپسی پر وہ موسیٰ اشعری (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے انھیں خوش آمدید کہا اس وقت وہ بصرہ کے گورنر تھے انھوں نے فرمایا : میں اگر کسی ایسے اور کام کی قدرت رکھتا جس سے آپ دونوں کو فائدہ ہوتا تو میں ایسا کرلیتا پھر فرمایا : ہاں یاد آیایہاں اللہ تعالیٰ کا کچھ مال ہے میں اسے امیرالمؤمین کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں میں وہ تمہیں قرض دے دیتاہوں آپ اس سے عراق کا کوئی سامان خریدلیں پھر مدینہ منورہ میں اسے بیچ ڈالیں اصل مال امیرالمومنین کودے دیں اور نفع آپ دونوں کے لیے ہوجائے گا انھوں نے کہا : ہمیں پسند ہے انھوں نے ایسا ہی کیا ادھر انھوں نے (ابوموسیٰ (رض)) نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ ان دونوں سے مال لے لیں۔ جب وہ دونوں آئے تو سامان بیچا اور نفع کمایا، جب حضرت (رض) کو انھوں نے مال دیاتو آپ نے فرمایا : کیا انھوں نے پورے لشکر کو ایسے قرض دیاجی سے تمہیں دیا تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم امیرالمومنین کے بیٹے ہو اس لیے دیا ہے ! مال اور نفع مجھے دے دو تو عبداللہ بن عمرنے تو حوالہ کردیا رہے عبید اللہ تو انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! آپ کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں ، اگر مال ہلاک ہوجاتایاکم ہوتا تو ہم ضامن ہوتے حضرت عمرنے فرمایا : دونوں اداکردو۔ توعبدالہ چپ رہے اور عبید اللہ یہی کہتے رہے تو آپ کے ہمنشینوں میں سے ایک آدمی نے کہا : امیرالمومنین ! ؟ اگر آپ اسے مضاربت کردیں، تو آپ نے فرمایا : میں نے اسے مضاربت کردیاتو حضرت عمر (رض) نے مال اور آدھا نفع وصول کرلیا اور عبداللہ اور عبیداللہ نے مال کا آدھا نفع لے لیا۔ مالک والشافعی
40481- عن أسلم قال: خرج عبد الله وعبيد الله ابنا عمر بن الخطاب في جيش إلى العراق، فلما قفلا مرا على أبي موسى الأشعري فرحب بهما وسهل وهو أمير البصرة فقال: لو أقدر لكما على أمر أنفعكما به لفعلت! ثم قال: بلى ههنا مال من مال الله أريد أن أبعث به إلى أمير المؤمنين فأسلفكماه فتبتاعان به متاعا من متاع العراق ثم تبيعانه بالمدينة فتؤديان رأس المال إلى أمير المؤمنين ويكون لكما الربح! فقالا: وددنا، ففعلا فكتب إلى عمر أن يأخذ منهما المال، فلما قدما باعا وربحا، فلما دفعا ذلك إلى عمر قال أكل الجيش أسلفه كما أسلفكما؟ قالا: لا: قال عمر: ابنا أمير المؤمنين فأسلفكما! أديا المال وربحه، فأما عبد الله فسلمه، وأما عبيد الله فقال: ما ينبغي لك يا أمير المؤمنين هذا! لو هلك المال أونقص لضمناه، قال: أدياه! فسكت عبد الله، وراجعه عبيد الله، فقال رجل من جلساء عمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين؟ لو جعلته قراضا! فقال: قد جعلته قراضا، فأخذ عمر المال ونصف ربحه وأخذ عبد الله وعبيد الله نصف ربح المال."مالك والشافعي"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٨٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے مضاربت اور شریکوں کے بارے میں فرماتے ہیں نقصان مال پر اور نفع جو وہ طے کرلیں۔ رواہ عبدالرزاق
40482- عن علي في المضاربة والشريكين: الوضيعة على المال والربح على ما اصطلحوا عليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض ومضاربت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٠٤٨٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جس نے نفع آپس میں تقسیم کیا اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ رواہ عبدالرزاق
40483- عن علي قال: من قاسم الربح فلا ضمان عليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক: