কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০৪১৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہڈی توڑنے کی دیت
٤٠٤٠٥۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے، ناک جب پوری کاٹ دی جائے تو پوری دیت کا اور اگر اس کا کنارہ کاٹا گیا تو آدھی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40405- عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى في الأنف إن جدع كله بالدية، وإذا جدعت روثته بالنصف."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪১৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ ہوگا
٤٠٤٠٦۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرمایا، عمروبن شعیب نے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو جان بوجھ کر قتل کرے ، اسے مقتول کے وارثوں کے حوالہ کردیا جائے چاہے اسے قتل کریں چاہے پوری دیت جو سو اونٹ ہیں لے لیں۔ جن میں تیس ٣٠ تین سالے، تیس ٣٠ چار سالے چالیس ٤٠ حاملہ اونٹیاں ہیں یہ تو قتل عمد کے لیے ہیں جب قاتل کو قتل نہ کیا جائے۔ اور قتل خطا اور شبہ عمد کی دیت سخت ہے وہ یوں کہ لوگوں میں شیطان اتر آئے اور ان کے درمیان اندھادھند تیراندازی ہو جس کا سبب نہ کینہ وحسد اور نہ ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھانا، سو جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہمارا نہیں، اور نہ راستہ میں تیراندازی کرتے ہوئے، سوجوشخص اس کے علاوہ کسی صورت میں مرجائے تو وہ شبہ عمد ہے اس کی دیت سخت ہے اور قتل کو قلت نہیں کیا جائے گا، قتل خطاء کی دیت تیس ٣٠ تین سالے، تیس ٣٠ دو سالے بیس ٢٠ یکسالہ اور بیس ٢٠ دو سالے مذکر، اور جس کی دیت گائیوں میں ہو تو دوسوگا اور قتل خطا میں چارسالہ اور جس کے سامنے کے دودھ والے دانت گرگئے ہوں دیا جائے اور دیت مغلظہ میں بہترین مال دیا جائے۔ اور جس کی دیت بکریوں میں ہو تودوہزار بکریاں ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گاؤں والوں پر اونٹوں کی قیمت چارسود ینا ریا ان کے برابر چاندی جس کی قیمت اونٹوں کی قیمت کے برابرہو، جب چاندی مہنگی ہوتی تو اس کی قیمت پر لگائی جاتی اور جب اس کی قیمت کم ہوتی تو جتنی بھی اونٹوں کی قیمت ہوتی اس پر، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت کی دیت مرد کی دیت جیسی ہے یہاں تک کہ اس کی دیت کا تہائی ہوجائے، جو اس زخم میں سے جس سے ہڈی ٹوٹ کر ٹل جائے تو جو اس سے زیادہ ہو تو وہ مرد کی دیت کا آدھا ہے۔ اگر عورت قتل کردی جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں میراث ہے وہ اس کا بدلہ لیں اور اس کے قاتل کو قتل کریں اور عورت اپنے خاوند کے مال اور اس کی دیت کی وارث ہوگی اور مرد اپنی بیوی کے مال اور دیت کا وارث ہوگا، جب ایک دوسرے کو انھوں نے قتل نہ کیا ہو۔ اور دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان ان کے حصوں کے بقدر میراث ہے جو بچ جائے وہ عصبہ کے لیے اور عورت کے جو بھی عصبہ ہیں وہ اس کی دیت اداکریں، اور اس کے وارث نہیں ہوں گے ہاں جو وارثوں سے بچ جائے۔ اس کے وہ وارث ہیں۔ رواہ عبدالرزاق
40406- عن ابن جريج قال: قال عمرو بن شعيب: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "من قتل متعمدا فإنه يدفع إلى أهل القتيل، فإن شاؤا قتلوه وإن شاؤا أخذوا العقل دية مسلمة، وهي مائة من الإبل: ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة، فذلك للعمد إذا لم يقتل صاحبه، ودية الخطأ وشبه العمد مغلظ ولا يقتل صاحبه، وذلك أن ينزل الشيطان بين الناس فيكون رميا 1 في عميا 2 عن غير ضغينة ولا حمل سلاح، فمن حمل علينا السلاح فليس منا، ولا رامية بطريق، فمن قتل على غير هذا فهو شبه العمد وعقله مغلظ ولا يقتل صاحبه، ودية الخطأ من الإبل ثلاثون حقة وثلاثون بنت لبون وعشرون بنت مخاض وعشرون بنو لبون ذكور، ومن كان عقله في البقر فمائتا بقرة، وفي الخطأ الجذع والثني، وفي المغلظة خيار المال، ومن كان عقله من الشاء فألفا شاة"، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيم الإبل على أهل القرى أربعمائة دينار أو عدلها من الورق ثمنها على أثمان الإبل، فإذا غلت وقع في ثمنها وإذا هانت من قيمتها من أهل القرى على نحو الثمن ما كان. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عقل المرأة مثل عقل الرجل حتى يبلغ ثلث ديتها"، وذلك في المنقولة، فما زاد على المنقولة فهو نصف عقل الرجل ما كان، وإن قتلت امرأة فعقلها بين ورثتها وهم يثأرون بها ويقتلون قاتلها، والمرأة ترث زوجها من ماله وعقله ويرثها من مالها وعقلها ما لم يقتل أحدهما الآخر، والعقل ميراث بين ورثة القتيل على قسمة فرائضهم، فما فضل فللعصبة، ويعقل عن المرأة عصبتها من كانوا، ولا يرثون منها إلا ما فضل من ورثتها."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ ہوگا
٤٠٤٠٧۔۔۔ عبداللہ بن بکربن محمد بن عمروبن جزم اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گہرے زخم میں پانچ اونٹوں اور پیٹ کے زخم میں تہائی دیت اور آنکھ میں پچاس اونٹوں اور ناک ساری کاٹ دی جائے پوری دیت کا جو سو اونٹ ہیں اور دانت میں پانچ اونٹوں کا اور دونوں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں میں ہر انگلی میں ایک کے حساب سے بیس اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40407- عن عبد الله بن بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الموضحة بخمس من الإبل، وفي الجائفة ثلث الدية، وفي العين خمسون من الإبل، وفي الأنف إذا أوعى جدعه الدية كاملة مائة من الإبل، وفي السن خمس من الإبل، وفي أصابع اليدين والرجلين في كل إصبع فما هنالك عشرين من الإبل. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ ہوگا
٤٠٤٠٨۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناک میں پوری دیت کا ذکر میں پوری دیت کا اور دونوں ہاتھوں میں پوری دیت کا اور دونوں پاؤں میں مکمل دیت کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدعبدالرزاق
40408- عن الزهري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الأنف بالدية، وفي الذكر بالدية، وفي اليدين بالدية، وفي الرجلين بالدية."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤٠٩۔۔۔ زہری سے روایت ہے فرمایا : یہ سنت جاری ہے کہ بچہ اور مجنون کا قصد (قتل) خطا ہے اور جس نے نابالغ بچہ کو قتل کیا ہم اس سے اس کا بدلہ میں گے۔ رواہ عبدالرزاق
40409- عن الزهري قال: مضت السنة أن عمد الصبي والمجنون خطأ، ومن قتل صبيا لم يبلغ الحلم أقدناه به."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٠۔۔۔ ابن شہاب سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کے بارے میں جس نے اپنی سوکن کو مارکرہلاک کردیا اور جو اس کے پیٹ میں تھا اسے بھی تو اس کی دیت کا قاتلہ اور اس کے خاندان والوں کے ذمہ اور بچہ کے عوض غلام آزاد کرانے کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40410- عن ابن شهاب قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في المرأة التي ضربت صاحبتها فقتلتها وما في بطنها بديتها على العاقلة وفي جنينها غرة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١١۔۔۔ ابوقلا بہ اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے قسم لینے کا آغاز کیا اور فرمایا قسم کھاؤتو انھوں نے قسم کھانے سے انکار کیا، تو آپ نے انصار سے فرمایا : تب یہودتمہارے لیے قسم کھائیں گے تو انصار بولے : یہود کو قسم کھانے کی کیا پر واتورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے مقتول شخص کی اپنی طرف سے سو اونٹ دیت ادا کی۔رواہ عبدالرزاق
40411- عن أبي قلابة ويحيى بن سعيد أن النبي صلى الله عليه وسلم بدأ بالأنصار فقال: "استحلفوا"، فأبوا أن يحلفوا فقال للأنصار: "إذن يحلف لكم يهود"، فقال الأنصار: وما تبالي اليهود أن يحلفوا، فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده مائة من الإبل."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٢۔۔۔ مسند علی (رض)، حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے بارہ ہزاردرہم دیت کا فیصلہ فرمایا۔ الشافعی بیہقی
40412- "مسند علي" عن الحسن أن عليا قضى بالدية اثني عشر ألفا."الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جس زخم سے ہڈی ٹوٹ کر ٹل جائے اس میں پندرہ اونٹ ہیں۔ سعید بن منصور، بیہقی
40413- عن علي قال: في المنقلة خمس عشرة."ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے دانت کے بارے میں روایت ہے فرمایا : جب کچھ دانت ٹوٹے تو جس کا دانت ٹوٹا اسے جتنا اس کا نقصان ہوا اس کے حساب سے دیا جائے اور سال بھر انتظار کیا جائے، پس اگر وہ سیاہ ہوجائے تو اس کی دیت ہے ورنہ اس سے زایدہ نہ دیا جائے۔ رواہ البیہقی
40414- عن علي في السن: إذا كسر بعضها أعطي صاحبها بحساب ما نقص منها ويتربص بها حولا، فإن اسودت ثم عقلها،وإلا لم يزد على ذلك."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے چٹکی لگانے والی، اچھلنے والی اور گردن توڑنے والی عورتوں میں تین تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ ابوعبیدہ فی الغریب، بیہقی یہ تین لڑکیاں تھیں جو ایک کھیل میں ایک دوسری پر سوار ہوئیں تو سب سے نچلی نے درمیان والی کو چٹکی لگائی اور وہ اچھلی تو سب سے اوپروالی گری تو اس کی گردن ٹوٹ گئی تو آپ نے دوتہائی دیت دونوں عورتوں پر عائد کی اور سب سے اوپروالی کی دیت ساقط کردی کیونکہ اس نے اپنے خلاف مددی تھی۔
40415- عن علي أنه قضى في القارصة والقامصة والواقصة بالدية أثلاثا."أبو عبيدة في الغريب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٦۔۔۔ مسنداسامہ عمیرہم میں ایک شخص تھا جس کا نام حمل بن مالک تھا جس کی دوبیویاں تھیں، ایک کا تعلق قبیلہ ھذیل سے تھا اور دوسری قبیلہ عامری سے تھی توہذیلیہ نے عامریہ کے پیٹ پر خیمہ یاکیمپ کا کھونٹا ماراجس سے اس کے پیٹ کا بچہ مردہ حالت میں پڑاتومارنے والی کے ساتھ اس کا بھائی اسے لے کر جس کا نام عمران بن عویمر تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ساراقصہ بیان کیا آپ نے فرمایا : اس بچہ کی دیت دو ، تو عمران نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایانہ پیانہ چیخاپس پیدا ہوا اس جیسارائیگاں جاتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہنے دو مجھے دیہاتیوں کے اشعاروالی گفتگونہ سناؤ اس میں ایک غلام یا لونڈی یاپانچ سویا ایک کھوڑایا ایک سوبیس بکریاں (قابل ادا) ہیں۔ تو وہ کہنے لگا : یا نبی اللہ ! اس کے دوبیٹے ہیں جو قبیلہ کے سردار ہیں وہ اپنی ماں کی دیت دینے کے زیادہ حق دار ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی بہن کی دیت دینے کے اس کے دونوں بیٹوں سے زیادہ حقدار ہو تو وہ بولا : مجھے اس میں دیت دینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تو آپ نے فرمایا : حمل بن مالک ! وہ اس وقت ھذیل کی زکوۃ لینے پر مامور تھے وہی دونوں عورتوں کے خاوند اور مقتول بچہ کے باپ تھے، ھذیل کی زکوۃ سے اپنے ہاتھ میں ایک سوبیس ١٢٠ بکریاں کرلینا۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ رواہ الطبرانی
40416-"مسند أسامة بن عمير" كان فينا رجل يقال له حمل بن مالك له امرأتان: إحداهما هذلية، والأخرى عامرية، فضربت الهذلية بطن العامرية بعمود خباء أوفسطاط فألقت جنينا ميتا، فانطلق بالضاربة إلى النبي صلى الله عليه وسلم معها أخ لها يقال له عمران بن عويمر، فلما قصوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم القصة قال: "دوه"، قال عمران: يا نبي الله! أندي ما لا أكل، ولا شرب ولا صاح فاستهل، مثل هذا يطل! فقال النبي صلى الله عليه وسلم، "دعني من رجز الأعراب، فيه غرة عبد أو أمة أو خمس مائة أو فرس أو عشرون ومائة شاة"، فقال: يا نبي الله! إن لها ابنين هما سادة الحي وهم أحق أن يعقلوا على أمهم، قال: "أنت أحق أن تعقل عن أختك من ولديها"، قال: ما لي شيء أعقل فيه، قال: "يا حمل بن مالك" وهو يومئذ على صدقات هذيل وهو زوج المرأتين وأبو الجنين المقتول: "اقبض من تحت يدك من صدقات هذيل عشرين ومائة شاة"، ففعل."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٧۔۔۔ اسی طرح اسامہ بن عمیر سے روایت ہے کہ ہمارے ہاں دو عورتیں رہتی تھیں ایک نے دوسری کو کھونٹا مار کر ہلاک کردیا جس سے اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کے بارے میں دیت کا اور بچہ کے بارے میں غلام لونڈی گھوڑے یادواونٹوں یا اتنی اتنی ایک سوبیس بکریوں کا فیصلہ کیا۔ تو ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! ہم اس کی دیت کیسے دیں جس نے نہ کھایانہ پیانہ چیخانہ چلایا اور اس جیسے کا خون رائیگاں ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم موذون گفتگو کرتے ہو ؟ اور عورت کی میراث کا اس کے خاوند اور اس کے بیٹے کے لیے اور دیت قتل کرنے والی کے عصبہ پر عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ رواہ الطبرانی
40417- عن أسامة بن عمير أيضا: كانت فينا امرأتان ضربت إحداهما الأخرى بعمود فقتلتها وقتلت ما في بطنها. فقضى النبي صلى الله عليه وسلم في المرأة بالعقل وفي الجنين بغرة عبد أو أمة أو بفرس أو بعيرين من الإبل أو كذا وكذا من الغنم، فقال رجل: كيف نعقل يا رسول الله من لا أكل، ولا شرب ولا صاح ولا استهل، فمثل ذلك يطل! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "أسجاعة أنت"! وقضى أن ميراث المرأة لزوجها وولدها، وأن العقل على عصبة القاتلة."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت اور غرہ
٤٠٤١٨۔۔۔ اسامہ بن عمیر سے یہ بھی روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت تھی اور پھر ایک اور عورت سے شادی کرلی گئی وہ آپس میں لڑپریں تو بذلیہ نے عامریہ کو میرے خیمہ کا کھونٹاماراجس سے مردہ بچہ کر پڑاتورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی دیت دوتو اس کا وارث آکرکہنے لگا : کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے کھایانہ پیانہ چیخا چلایا، اس جیسا رائیگاں ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا : تویہاتیوں کے اشعارسناتے ہو ہاں اس کی دیت دو ، اس میں غلام یا لونڈی آزادکرو۔ طبرانی عن الھذلی
40418- عن أسامة بن عمير أيضا: كانت عندي امرأة فتزوجت عليها أخرى، فتغايرتا فضربت الهذلية العامرية بعمود فسطاط لي فطرحت ولدا ميتا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: "دوه"، فجاء وليها فقال: أندي من لا أكل، ولا شرب ولا استهل، فمثل ذلك يطل؛ فقال: "رجز الأعراب، نعم دوه، فيه غرة عبد أو أمة"."طب - عن الهذلي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤١٩۔۔۔ مسند حسین بن عوف الختعمی کہ، حمل بن مالک بن نابغہ کے زیرنکاح دوسوکنیں ملیلۃ اور ام عفیف تھیں تو ان میں سے ایک نے اپنی سوکن کو پتھر ماراجو اس کی شرم گاہ پر لگاجس سے اس کے پیٹ کا بچہ مردہ ہو کر گرپڑا اور وہ خود بھی مرگئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کی دیت قتل کرنے والی عورت کی قوم پر عائد کی اور اس کے پیٹ کے بچہ میں غلام یا لونڈی یابیس اونٹ یاسوبکریاں مقرر کیں تو اس کا ولی کہنے لگا : یا نبی اللہ ! جس نے نہ کھایانہ پیانہ چیخا چلایا اس جیسے کا خون رائیگاں ہے۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیں جاہلیت کے اشعار کی کوئی ضرورت نہیں۔ طبرانی عن ابی الملیح بن اسامۃ
40419- "من مسند حسين بن عوف الخثعمي" إن حمل بن مالك بن النابغة كانت تحته ضرتان مليكة وأم عفيف، فرمت إحداهما صاحبتها بحجر فأصابت قبلها فألقت جنينها ميتا وماتت، فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فجعل ديتها على قوم القاتلة وجعل في جنينها غرة عبدا أو أمة أو عشرين من الإبل أو مائة شاة، فقال وليها: والله يا نبي الله! ما أكل، ولا شرب ولا صاح فاستهل، فمثل ذلك يطل؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لسنا من أساجيع الجاهلية في شيء"."طب، عن أبي المليح بن أسامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢٠۔۔۔ مسندحمل بن مالک بن نابغہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) منبرپرکھڑے ہوئے اور فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی یاددلاتاہوں جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ پیٹ کے بچہ کے بارے میں سنا تھا تو حمل بن مالک بن نابغہ الھذلی اٹھے اور کیا امیرالمومنین امیری دوبیویاں آپس میں سوکنیں تھیں، تو ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری جس نے تنیجہ میں وہ اور اس کے پیٹ کا بچہ دونوں مرگئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچہ کے بارے میں غلام یا لونڈی (کی قیمت) کا فیصلہ فرمایا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ اکبر ! اگر میں یہ بات نہ سنتا توا س کے خلاف فیصلہ کردیتا۔ عبدالرزاق، طبرانی، و ابونعیم
40420- "مسند حمل بن مالك بن النابغة" عن ابن عباس قال: قام عمر على المنبر فقال: أذكر الله امرأ سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الجنين! فقام حمل بن مالك بن النابغة الهذلي فقال: يا أمير المؤمنين! كنت بين ضرتين فضربت إحداهما الأخرى بعود فقتلتها وقتلت ما في بطنها، فقضى النبي صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد أو أمة، فقال عمر: الله أكبر! لو لم أسمع بهذا قضينا بغيره."عب، طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢١۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : مذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑپریں تو ایک نے دوسری کو پتھر ماراجو اس نے پیٹ پر لگاجس سے وہ قتل ہوگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ گرگیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقتول عورت کی دیت قتل کرنے والی کی عاقلہ (باپ کے رشتہ داروں) پر عائد کی اور اس کے بچہ کے بارے میں ایک غلام یا لونڈی (کی قیمت) کا فیصلہ فرمایا، تو ایک شخص بولا : ہم اس کے دیت کیسے دیں، جس نے کھایانہ پیانہ چیخانہ چلایا اس جیساتو رائیگاں ہوتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے رواہ عبدالرزاق
40421- عن أبي هريرة قال: اقتتلت امرأتان من هذيل فرمت إحداهما الأخرى بحجر فأصابت بطنها فقتلتها فأسقطت جنينا، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعقلها على عاقلة القاتلة، وفي جنينها غرة عبد أو أمة، فقال قائل: كيف نعقل من لا أكل، ولا شرب ولا نطق ولا استهل، فمثل ذلك يطل؛ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هذا من إخوان الكهان"."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢٢۔۔۔ ابن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹ کے بچہ کے بارے میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو وہ ھذلی جس کے خلاف فیصلہ ہواکہنے لگا : یارسول اللہ میں اس کا تاوان کیسے دوں جس نے کھایانہ پیانہ چیخا چلایا اور اس جیسا بےکارہوتا ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40422- عن ابن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الجنين غرة عبد أو وليدة، فقال الهذلي الذي قضى عليه: كيف أغرم يا رسول الله من لا أكل، ولا شرب ولا نطق ولا استهل، فمثل ذلك يطل: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنما هذا من إخوان الكهان"."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢٣۔۔۔ عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ حذلی جس کی دوبیویوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کردیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچہ کے بارے میں غلام کا اور عورت کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا تھا اس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا جو بنی کثیر بن حباثہ سے تعلق رکھتا تھا قاتل عورت کا نام ام عفیف بنت مسروح تھا جس کا تعلق بنی سعد بن ھذیل سے تھا اور اس کا بھائی علاء بن مسروح تھا، اور مقتول عورت کا نام ملیکۃ بنت عویمر تھا جس کا تعلق بنی الحیان بن ھذیل سے تھا اور اس کا بھائی عمروبن عویمر تھا۔ علاء بن مسروح کہنے لگا : جس نے کھایانہ پیانہ چیخا نہ چلایا اس جیسا رائیگاں ہوتا ہے تو عمروبن عویمر نے کہا : ہمارا بیٹا تھا، تو بنی (علیہ السلام) نے پیٹ کے بچہ ک ے بارے میں غلام یا لونڈی یا گھوڑے یاسوبکریوں یادس اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40423- عن عكرمة مولى ابن عباس أن اسم الهذلي الذي قتلت إحدى امرأتيه الأخرى فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغرة في الجنين وبدية المرأة اسمه حمل بن مالك بن النابغة من بني كثير بن حباشة، واسم المرأة القاتلة أم عفيف ابنة مسروح من بني سعد بن هذيل، وأخوها العلاء بن مسروح؛ والمقتولة مليكة بنت عويمر من بني لحيان ابن هذيل، وأخوها عمرو بن عويمر؛ فقال العلاء بن مسروح: لا أكل، ولا شرب ولا استهل، ولا نطق فمثل هذا بطل؛ فقال عمرو بن عويمر: إن ابننا ذكر، فقضى النبي صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة ذكر أو أنثى أو فرس أو مائة شاة أو عشر من الإبل."عب" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢٤۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عمروبن شعیب نے بتایا کہ ھذیل کی دو عورتیں ایک شخص کے نکاح میں تھیں ان میں سے ایک کے پاؤں بھاری تھے تو اس کی سوکن نے اسے چرغہ کی لکڑی سے ماراجس سے اس کا بچہ گرگیا اس کا خاوند نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو سارے واقعہ سے خبردارکیاتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے گرے ہوئے بچہ کے بارے میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا تو مارنے والی کا چچازادکہنے لگا : جیسے حمل بن مالک کہا جاتا تھا اس نے نہ کھایانہ پیانہ چیخا چلایا اس جیسا تورائیگاں جاتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم شعر کہتے ہو یا باقی دن شعر کہتے رہوگے۔ رواہ عبدالرزاق
40424- عن ابن جريج قال: أخبرني عمرو بن شعيب أن امرأتين من هذيل كانتا عند رجل وكانت إحداهما حبلى فضربتها ضرتها بمخيط فأسقطت، فجاء زوجها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره الخبر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "غرة عبد أو أمة في سقطها"، وقال ابن عم الضاربة يقال له حمل بن مالك ابن النابغة: لا شرب ولا أكل، ولا استهل، فمثل هذا يطل؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أسجعا - أو قال: سجعا - سائر اليوم"."عب"
tahqiq

তাহকীক: