কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৭৯ টি
হাদীস নং: ৪০৪৩৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت
٤٠٤٢٥۔۔۔ معمرزہری اور قتادہ سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹ کے بچہ کے بارے میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا۔ طبرانی عن الھذلی
40425- عن معمر عن الزهري وقتادة قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد أو أمة."طب - عن الهذلي". دية الذمى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৩৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی دیت
٤٠٤٢٦۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے ایک شخص کو قصداقتل کردیا حضرت عثمان (رض) کے ہاں مقدمہ پیش ہوا آپ نے اسے قتل نہیں کیا اس پر مسلمان کی دیت کی طرح دیت میں سختی کی۔ عبدالرزاق، دارقطنی، بیہقی
40426- عن ابن عمر أن رجلا مسلما قتل رجلا عمدا، فرفع إلى عثمان فلم يقتله وغلظ عليه الدية مثل دية المسلم."عب، قط، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی دیت
٤٠٤٢٧۔۔۔ عبدالرزاق : ابوحنیفہ (رح) سے وہ حکم بن عتبہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کہ یہودی، عیسائی اور ہر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت جیسی ہے ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : یہی میرا قول ہے۔
40427- عب: عن أبي حنيفة عن الحكم بن عتيبة أن عليا قال: دية اليهودي والنصراني وكل ذمي مثل دية المسلم - قال أبو حنيفة: وهو قولي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی دیت
٤٠٤٢٨۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عمروبن شعیب نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہراس مسلمان پر جس نے کسی کتابی کو قتل کیا، چار ہزار درہم عائد کئے اور یہ کہ اسے اس کی زمین سے دوسری زمین کی طرف جلاوطن کیا جائے۔ رواہ عبدالرزاق
40428- عن ابن جريج قال: أخبرني عمرو بن شعيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض على كل مسلم قتل رجلا من أهل الكتاب أربعة آلاف درهم وأنه ينفى من أرضه إلى غيرها."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی دیت
٤٠٤٢٩۔۔۔ معمر، زہری سے روایت کرتے ہیں کہ یہودی عیسائی، مجوسی اور ہر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت جیسے ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اور ابوبکر و عمرو عثمان (رض) کے دورتک یہی رہی، پھر جب امیرمعاویہ (رض) خلیفہ ہوئے تو انھوں نے آدھی دیت بیت المال میں اور ادھی مقتول کے وارثوں کو دی۔ رواہ عبدالرزاق
40429- عن معمر عن الزهري قال: دية اليهودي والنصراني والمجوسي وكل ذمي دية المسلم، قال: وكذلك كانت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان، حتى كان معاوية فجعل في بيت المال نصفها وأعطى أهل المقتول نصفها."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی دیت
٤٠٤٣٠۔۔۔ مسنداسامہ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہد (جس سے عہد و پیمان ہو) کی دیت مسلمان کی دیت جیسی مقرر کی۔ دارلطنی۔ وضعفہ
40430- "مسند أسامة" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل دية المعاهدي كدية المسلم."قط وضعفه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوسی کی دیت
٤٠٤٣١۔۔۔ مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجوسی کی دیت میں آٹھ سو درہم کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40431- عن مكحول قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في دية المجوسي بثمانمائة درهم."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوسی کی دیت
٤٠٤٣٢۔۔۔ (مسند علی (رض)) ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت علی وابن مسعود (رض) مجوسی کی دیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : آٹھ سو درہم۔ رواہ البیہقی
40432- "مسند علي" عن ابن شهاب أن عليا وابن مسعود كانا يقولان في دية المجوسي: ثمانمائة درهم."ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٣۔۔۔ مسند الصدیق، مہاجربن ابی امیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے میری طرف لکھا : قیس بن مکشوج کو بیڑیاں پہنا کر میرے پاس بھیج دو میں اس سے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پچاس قسمیں لوں گا کہ اس نے ان دونوں کو قتل نہیں کیا۔ الشافعی، بیہقی
قسامہ قسم ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء جب اسے کسی قوم میں مردہ پائیں اور قاتل کا بھی پتہ نہ ہو تو پچاس ورثاء اپنے آدمی کے خون کے مطالبہ کی قسم کھائیں اور اگر وہ پچاس آدمی نہ ہوں تو موجودہ افراد پچاس قسمیں کھائیں جن میں بچہ عورت، پاگل، غلام نہ ہو یا جن پر قتل کی تہمت لگی وہ قتل کی نغی کی قسم کھائیں، جب دعویدارقسم کھالیں تو دیت کے مستحق ہوجائیں گے اور اگر وہ لوگ قسم کھائیں جن پر قتل کی تہمت تھی تو ورثاء دیت کے حق دار نہیں ہوسکتے۔ النایہ فی غریب الحدیث
قسامہ قسم ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء جب اسے کسی قوم میں مردہ پائیں اور قاتل کا بھی پتہ نہ ہو تو پچاس ورثاء اپنے آدمی کے خون کے مطالبہ کی قسم کھائیں اور اگر وہ پچاس آدمی نہ ہوں تو موجودہ افراد پچاس قسمیں کھائیں جن میں بچہ عورت، پاگل، غلام نہ ہو یا جن پر قتل کی تہمت لگی وہ قتل کی نغی کی قسم کھائیں، جب دعویدارقسم کھالیں تو دیت کے مستحق ہوجائیں گے اور اگر وہ لوگ قسم کھائیں جن پر قتل کی تہمت تھی تو ورثاء دیت کے حق دار نہیں ہوسکتے۔ النایہ فی غریب الحدیث
40433- "مسند الصديق" عن المهاجر بن أبي أمية قال: كتب إلي أبو بكر الصديق أن: ابعث إلي قيس بن مكشوج في وثاق، فأحلفه خمسين يمينا عند منبر النبي صلى الله عليه وسلم ما قتل ذاذويه."الشافعي، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٤۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ وادعۃ ھمدان کے کسی ویرانہ میں ایک مقتول پایا گیا حضرت عمر (رض) کے ہاں مقدمہ پیش ہوا آپ نے ان سے پچاس قسمیں لیں (رح) : کہ نہ ہم نے اسے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ ہے پھر آپ نے ان پر دیت مقرر کی ، پھر فرمایا اے ہمدان کے لوگو ! تم نے اپنی قسموں کے ذریعہ اپنے خون بچالئے تو اس مسلمان آدمی کا خون رائیگاں کیوں جائے۔ سعید بن منصور، بیہقی
40434- عن الشعبي أن قتيلا وجد في خربة من خرب وادعة همدان، فرفع إلى عمر بن الخطاب، فأحلفهم خمسين يمينا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، ثم غرمهم الدية، ثم قال يا معشر همدان! حقنتم دماءكم بأيمانكم فما يبطل دم هذا الرجل المسلم."ص، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٥۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص قتل کیا گیا تو حضرت عمر (رض) نے حطیم میں پچاس آدمی داخل کئے جن پر دعوی تھا تو انھوں نے قسم کھائی۔ ہم نے نہ اسے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا علم ہے۔ رواہ البیہقی
40435- عن الشعبي قال: قتل رجل فأدخل عمر بن الخطاب الحجر المدعى عليهم خمسين رجلا فأقسموا، ما قتلنا ولا علمنا قاتلا."ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٦۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا : جب حضرت عمر (رض) نے اپنا آخری حج کیا تو وادعہ کے اطراف میں ایک مسلمان شخص کو مردہ پایا تو آپ نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں پتہ ہے کہ تم میں اس کا قاتل کون ہے ؟ تو انھوں نے کہا : نہیں تو حضرت عمر (رض) نے ان سے پچاس بوڑھے آدمی نکالے اور انھیں حطیم میں داخل کیا اور ان سے اللہ کی قسم لی جو بیت الحرام کا حرمت والے شہر کا اور حرمت والے مہینہ کا رب ہے کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ تمہیں قاتل کا پتہ ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کی قسم کھائی، جب انھوں نے قسمیں کھالیں تو آپ نے فرمایا : اس کی زیادہ دیت اداکرو۔ تو ایک شخص بولا : امیرالمومنین ؟ کیا میری قسم میرے مال کی جگہ نہیں لے سکتی ؟ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے تمہارے سامنے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ کیا۔ (دارقطنی بیہقی وقال : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اس روایت کی نسبت کچھ زیادتی کے ساتھ ہے اس سند میں عمر بن صبح ہے جس کی روایت ترک کرنے پر اجماع ہے) ۔ کلام :۔۔۔ ضعاف الدارقطنی ١٨٤۔
40436- عن سعيد بن المسيب قال: لما حج عمر حجته الأخيرة وجد رجلا من المسلمين قتيلا بفناء وادعة فقال لهم: علمتم لهذا القتيل قاتلا منكم؟ قالوا: لا، فاستخرج منهم خمسين شيخا فأدخلهم الحطيم فاستحلفهم بالله رب هذا البيت الحرام ورب هذا البلد الحرام ورب هذا الشهر الحرام أنكم لم تقتلوه ولا علمتم له قاتلا، فحلفوا بذلك، فلما حلفوا قال: أدوا ديته مغلظة: فقال رجل منهم: يا أمير المؤمنين! أما تجزيني يميني من مالي؟ قال: لا، إنما قضيت عليكم بقضاء نبيكم صلى الله عليه وسلم."قط، ق وقال: رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم منكر وفيه عمر ابن صبح أجمعوا على تركه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٧۔۔۔ سلیمان بن یسار اور عراک بن مالک سے روایت ہے کہ بنی سعد بن لیث کے ایک شخص نے گھوڑادوڑایا اور جہینہ کے شخص کی انگلی رونددی جس سے اس کا ساراخون بہہ گیا اور اس کی ہلاکت ہوگئی۔ تو حضرت عمر (رض) نے مدعا علیہم سے فرمایا : کیا تم اللہ تعالیٰ کی پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ وہ اس سے نہیں مرا ؟ تو انھوں نے انکار کیا اور قسمیں کھانے سے ہچکچائے، تو آپ نے دوسروں سے فرمایا : تم قسمیں کھاؤ ! تو انھوں نے انکار کیا، تو حضرت عمر (رض) نے بنی سعد والوں پر آدھی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ مالک والشافعی، عبدالرزاق، بیہقی
40437- عن سليمان بن يسار وعراك بن مالك أن رجلا من بني سعد بن ليث أجرى فرسا فوطئ على إصبع رجل من جهينة فنزي منها فمات، فقال عمر بن الخطاب للذين ادعى عليهم: أتحلفون بالله خمسين يمينا ما مات منها؟ فأبوا وتحرجوا من الأيمان، فقال للآخرين: احلفوا أنتم، فأبوا، فقضى عمر بشطر الدية على السعديين."مالك والشافعي، عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٨۔۔۔ مسند علی (رض) سعید بن وھب سے روایت ہے کہ کچھ لوگ (سفرپر) نکلے تو ایک شخص ان کے ساتھ ہولیا، جب واپس آئے تو وہ ان میں نہیں تھا، تو اس کے رشتہ داروں نے ان پر (قتل کا) الزام لگایا، توقاضی شریح نے فرمایا : تمہارے گواہوں کا بیان ہے تمہارے آدمی نے اسے قتل کیا ہے، ورنہ اللہ کی قسم کھائیں کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا تو وہ حضرت علی (رض) کے پاس آئے سعید فرماتے ہیں ! میں ان کے پاس تھا تو آپ نے ان سے جدا جدا پوچھا تو انھوں نے اعتراف کیا، میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا : میں ابوالحسن سردارہوں، پھر آپ نے انھیں قتل کئے جانے کا حکم کیا تو وہ قتل کردیئے گئے۔ دارقطنی
40438- "مسند علي" عن سعيد بن وهب قال: خرج قوم فصحبهم رجل فقدموا وليس معهم، فاتهمهم أهله، فقال شريح: شهودكم أنه قتل صاحبكم! وإلا حلفوا بالله ما قتلوه، فأتوا عليا - قال سعيد: وأنا عنده - ففرق بينهم فاعترفوا، فسمعت عليا يقول: أنا أبو الحسن القرم! فأمر بهم على فقتلوا."قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٣٩۔۔۔ ابن سیرین سے روایت ہے وہ حضرت علی (رض) سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ ایک شخص نے اپنے دوستوں کے ساتھ سفر کیا، لیکن جب وہ لوٹے تو وہ اپس نہیں آیا، تو اس کے رشتہ داروں نے اس کے دوستوں پر الزام قتل لگایا، انھوں نے قاضی شریح کے مقدمہ دائر کروایا تو آپ نے اس قتل کے گواہوں کا پوچھا تو وہ حضرت علی (رض) کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے اور قاضی شریح کی بات انھیں بتائی تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : ان اونٹوں کو سعد پانی پر لایا اور سعد چادراوڑھے تھا اے سعد ! اس طرح اونٹوں کو پانی پر نہیں لایاجاتا، پھر فرمایا : سب سے گھٹیا پلانا پتلا پلانا ہے۔ فرماتے ہیں : پھر انھیں جدا جدا کیا اور ان سے پوچھا تو پہلے ان کا آپس میں اختلاف ہوگیا پھر اس کے قتل کا اقرار کیا تو آپ نے اس کی وجہ سے انھیں قتل کیا۔ ابوعبیدفی الغریب، بیہقی
جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو
جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو
40439- عن ابن سيرين عن علي في الرجل سافر مع أصحاب له فلم يرجع حين رجعوا، فاتهم أهله أصحابه فرفعوهم إلى شريح، فسألهم البينة على قتله، فارتفعوا إلى علي وأخبروه بقول شريح فقال علي:أوردها سعد وسعد مشتمل ... ما هكذا تورد يا سعد الإبل ثم قال: إن أهون السقي التشريح، قال: ثم فرق بينهم وسألهم، فاختلفوا ثم أقروا بقتله، فقتلهم به."أبو عبيد في الغريب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کسی جنگل میں کوئی مقتول پایا گیا تو اس کی دیت، بیت المال سے ہوگی تاکہ اسلام میں اس کا خون باطل نہ ہو، اور جو مقتول دو بستیوں میں پایا گیا تو وہ اس کے ذمہ ہے جس کے زیادہ قریب ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40440- عن علي قال: أيما قتيل بفلاة من الأرض فديته من بيت المال لكيلا يبطل دم في الإسلام، وأيما قتيل وجد بين قريتين فهو على أسبقهما يعني أقربهما."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤١۔۔۔ اسود سے روایت ہے کہ ایک شخص کعبہ میں قتل کیا گیا، تو حضرت عمر (رض) نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : بیت المال سے اس کی دیت ادا کی جائے۔ رواہ عبدالرزاق
40441- عن الأسود أن رجلا قتل في الكعبة، فسأل عمر عليا فقال: من بيت المال."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٢۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے وہاں جاکر منتشر ہوئے تو انھیں ایک مقتول پڑاملاتو انھوں نے ان لوگوں سے کہا جن کے پاس تھا تم نے ہمارا آدمی قتل کیا ہے ! تو انھوں نے کہا نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ ہے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہنے لگے یا نبی اللہ ! ہم خیبر اور وہاں ہمارے کسی آدمی نے ایک مقتول دیکھاتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑا معاملہ ہے، بڑا معاملہ ہے، پھر ان سے فرمایا : کیا تم قاتل کے گواہ لاسکتے ہو ؟ تو وہ کہنے لگے : ہمارا کوئی گواہ نہیں ہے آپ نے فرمایا : پھر وہ تمہارے لیے قسمیں کھائیں ؟ انھوں نے کہا : یہودیوں کی قسموں پر ہم راضی نہیں تو آپ نے یہ ناپسند سمجھا کہ اس کا خون رائیگاں جائے تو آپ نے اپنی طرف سے صدقہ کے سو اونٹوں سے اس کی دیت دی۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40442- عن سهل بن أبي حثمة أن نفرا من قومه انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا! قالوا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، فانطلقوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا، يا نبي الله! انطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا، قال النبي صلى الله عليه وسلم "الكبر! الكبر"! فقال لهم: "تأتون بالبينة على من قتل"؟ قالوا: ما لنا بينة، قال: "فيحلفون لكم"؟ قالوا: لا ترضى بأيمان اليهود، فكره النبي صلى الله عليه وسلم أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٣۔۔۔ مسند (عبداللہ بن عمروبن العاص) حویصہ اور محیصہ مسعود کے بیٹے اور عبداللہ، عبدالرحمن فلاں کے بیٹے، خیبر سے غلہ لینے گئے تو عبداللہ پر کسی نے حملہ کرکے قتل کردیا انھوں نے اس کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکرکیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پچاس قسمٰن کھاؤیوں تم دیت کے مستحق ہوجاؤگے، انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہم نے جب دیکھاہی نہیں توہم کیسے قسمیں کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر یہودتم سے بری ہیں۔ انھوں نے عرض کی پھر تو یہودی ہمیں ایک ایک کرکے قتل کردیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے اس کی دیت دی۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40443- "مسند عبد الله بن عمرو بن العاص" إن حويصة ومحيصة ابني مسعود وعبد الله وعبد الرحمن ابني فلان خرجوا يمتارون بخيبر، فعدي على عبد الله فقتل، فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تقسمون بخمسين وتستحقون"، فقالوا: يا رسول الله! كيف نقسم ولم نشهد؟ قال: "فتبرئكم يهود"، قالوا: يا رسول الله! إذن تقتلنا يهود؛ فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٤۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ قسامت جاہلیت میں تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے برقرار رکھا (جس کی صورت یہ ہوئی کہ) انصار کا ایک شخص یہود کے کنوئیں میں مقتول پایا گیا فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے ابتدا کی اور ان سے قسم کھانے کو کہا : تو یہود نے کہا : ہم تو ہرگز قسمیں نہیں کھائیں گے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے فرمایا : کیا تم قسمیں کھاؤگے ؟ انصارنے کہا : ہم تو قسمیں نہیں کھائیں گے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودپردیت کا تاوان مقرر کیا کیونکہ وہ ان کے درمیان قتل کیا گیا۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ ابن حبان
40444- عن سعيد بن المسيب أن القسامة كانت في الجاهلية فأقرها النبي صلى الله عليه وسلم في قتيل من الأنصار وجد في جب اليهود، قال: فبدأ النبي صلى الله عليه وسلم باليهود: فكلفهم قسامة، فقالت اليهود: لن نحلف! فقال النبي صلى الله عليه وسلم للأنصار: "أفتحلفون؟ " قالت الأنصار: لن نحلف، فأغرم النبي صلى الله عليه وسلم اليهود ديته، لأنه قتل بين أظهرهم."عب، ش، حب" "
তাহকীক: