কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৭৯ টি
হাদীস নং: ৪০৪৫৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٥۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرمایا : مجھے یونس بن یوسف نے بتایا، فرماتے ہیں ! میں نے ابن المسیب سے کہا : قسامۃ پر تعجب ہوتا ہے ! ایک شخص جو قاتل کو اور مقتول کو نہیں جانتا اور آکر قسمیں کھاتا ہے تو انھوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے مقتول کے بارے میں قسامت کا فیصلہ فرمایا، اگر آپ کو یہ علم ہوتا کہ لوگ اتنی جرأت کریں گے تو اس کا فیصلہ نہ فرماتے ۔ رواہ عبدالرزاق
40445- عن ابن جريج قال: أخبرني يونس بن يوسف قال: قلت لابن المسيب: عجبا من القسامة! يأتي الرجل لا يعرف القاتل من المقتول ثم يقسم! فقال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقسامة في قتيل خيبر، ولو علم أن يجترئ الناس عليها ما قضى بها. "عب" "
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٦۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے (قسامت) کا آغاز کیا تو انھوں نے انکار کیا تو آپ انصار قسمیں لیں، تو انصار نے بھی انکار کردیاتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودپردیت عائد کی۔ رواہ عبدالرزاق
40446- عن الحسن أن النبي صلى الله عليه وسلم بدأ بيهود فأبوا أن يحلفوا، فرد القسامة على الأنصار فأبوا أن يحلفوا، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم العقل على اليهود. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ
٤٠٤٤٧۔۔۔ زہری سے روایت ہے فرماتے حضرت عمربن عبدالعزیز نے مجھ سے قسامت کے بارے میں پوچھا، تو میں نے کہا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ کے بعد خلفاء نے اس سے فیصلہ کیا ہے۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ
40447- عن الزهري قال: سألني عمر بن عبد العزيز عن القسامة فقلت: قضى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم والخلفاء بعده."عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کی زیادتی اور جانورپر زیادتی
٤٠٤٤٨۔۔۔ عبدالعزیز بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) باغ کو قلعہ بندی اور سدھائے ہوئے درندوں (کے شر سے) باڑکومضبوط کرنے کا حکم دیتے پھر تین مرتبہ ان جانوروں کو ان کے مالکوں کے پاس واپس کرتے اس کے بعدان کے پاؤں کاٹ دیتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
40448- عن عبد العزيز بن عبد الله أن عمر بن الخطاب كان يأمر بالحائط أن يحصن وتشد الحظر من الضاري المذل، ثم يرد إلى أهله ثلاث مرات، ثم يعقر ""عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کی زیادتی اور جانورپر زیادتی
٤٠٤٤٩۔۔۔ عبدالکریم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے : اونٹ گائے، گدھائے ہوئے درندوں کو تین باران کے مالکوں کے پاس بھیجا جائے جب وہ باغ میں آئیں پھر ان کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ رواہ عبدالرزاق
40449- عن عبد الكريم أن عمر بن الخطاب كان يقول: يرد البعير أو البقرة أو الحمار أو الضواري إلى أهلهن ثلاثا إذا حضر على الحائط، ثم يعقرن."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کی زیادتی اور جانورپر زیادتی
٤٠٤٥٠۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے اس کے گھوڑے کے بارے میں جس کی آنکھوں کو نقصان پہنچایا گیا، اس کی قیمت کے نصف (تاوان ادا کرنے) کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
40450- عن الشعبي أن عليا قضى في الفرس تصاب عيناه بنصف ثمنه."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥١۔۔۔ (مسندبکربن حارثہ الجہنی) بکربن حارثہ (رض) سے روایت ہے کہ میں اس لشکر میں تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روانہ کیا تھا ہماری اور مشرکین کی مڈبھیڑ ہوئی، (دوران جنگ) میں نے ایک مشرک شخص پر حملہ کردیاتو اسلام لانے کے ذریعہ مجھ سے بچنے لگا پھر بھی میں نے اسے قتل کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ بات پہنچی تو آپ مجھ پر ناراض ہوئے اور مجھے اپنے سے دورکردیاتو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی بھیجی، کہ کسی ایماندار کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے، البتہ اگر غلطی سے قتل کرے، الایۃ تو آپ مجھے سے راضی ہوگئے اور مجھے اپنے قریب کرلیا۔ الدولابی وابن مندہ و ابونعیم
40451-"مسند بكر بن حارثة الجهني" عن بكر بن حارثة قال، كنت في سرية بعثها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقتتلنا نحن والمشركون وحملت على رجل من المشركين فتعوذ مني بالإسلام فقتلته، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فغضب وأقصاني، فأوحى الله إليه {وما كان لمؤمن أن يقتل مؤمنا إلا خطأ} الآية، فرضي عني وأدناني."الدولابي وابن منده وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٢۔۔۔ جندب بن عبداللہ سے روایت ہے تم میں سے ہرگز کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور قیامت کے روزایسی حالت میں حاضرنہ ہو کہ اس کے ہاتھ پر کسی ایسے شخص کا خون لگاہو جو لاالہ الا اللہ کہتا تھا، کیونکہ جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے تو تم میں ہرگز کوئی اللہ تعالیٰ سے اپنا عہد نہ توڑے ورنہ اللہ تعالیٰ جب اولین آخرین کو جمع کرے گا تو اسے جہنم میں اوندھے منہ گرادے گا۔ ابونعیم بن حمادفی القتن
40452- عن جندب بن عبد الله: لا يلقين أحد منكم الله يوم القيامة على كف من دم رجل يقول "لا إله إلا الله" فإنه من صلى الصبح فهو في ذمة الله، فلا يخفرن الله أحد منكم في خافره فيكبه الله إذا جمع الأولين والآخرين في جهنم."نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٣۔۔۔ جندب بجلی (رض) سے روایت ہے فرمایا : یہ کچھ لوگ ان کے خون میں پڑگئے دنیا کی وجہ سے ایک دوسرے کا گلاگھونٹنے لگے اور لمبی لمبی اونچی عمارتیں بنانے لگے (رح) : اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکرکہتا ہوں کہ تم پر تھوڑاہی عرصہ گڑرے گا کہ بندھا اونٹ دورسیاں اور پالان ایک بڑے گاؤں سے زیادہ پسندیدہ ہوں گے جانتے ہو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : ہرگز تم میں سے کسی کے اور جنت کے درمیان جب کہ وہ اس کے دروازہ کو دیکھ رہاہو کسی مسلمان آدمی کے خون سے رنگاہاتھ حائل نہ ہو جس کو اس نے ناجائز بنایاہو، خبردار ! جس نے نماز فجر پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے لہٰذا ایسا ہرگز نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے ذمہ کی کسی چیز کا مطالبہ کرے۔ رواہ عبدالرزاق
40453- عن جندب البجلي قال: إن هؤلاء القوم قد ولغوا في دمائهم وتخانقوا على الدنيا وتطاولوا في البنيان، وإني أقسم بالله لا يأتي عليكم إلا يسير حتى يكون الجمل الضابط والحبلان والقتب أحب من الدسكرة العظيمة، تعلمون أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا يحولن بين أحدكم وبين الجنة وهو يرى بابها كف من دم امرئ مسلم أهراقه بغير حله، ألا! من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله، فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء"."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٤۔۔۔ قبیصہ بن ذؤیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے ایک شخص نے شکست خوردہ جماعت پر حملہ کیا اور ایک مشرک شخص کو گھیرلیا، وہ شکست کھاچکا تھا جب اس مسلمان نے تلوار کے ذریعہ اس پر چڑھنا چاہا تو وہ شخص (فورا) کہنے لگا : لاالہ الا اللہ، تو یہ شخص اس سے نہ رکا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا پھر اس مسلمان کو اس کے قتل کرنے سے دل میں کھٹک ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا اور آپ سے کہا : کہ اس نے یہ کلمہ بچنے کے لیے کہا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کا سینہ پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا ! زبان ہی دل کی ترجمان ہے کچھ ہی عرصہ بعد اس قاتل شخص کا انتقال ہوگیا، کفن دفن کیا گیا تو وہ قبر سے اچھال کر زمین پر پڑا ہوا تھا اس کے رشتہ داروں نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا حال بیان کیا، آپ نے فرمایا : اسے دوبارہ دفن کردو چنانچہ اسی طرح دفن کردیا گیا تو پھر زمین پر پڑا پایا اس کے رشتہ داروں نے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا : تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (رح) : کہ زمین نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے اسے کسی غار میں پھینک دو ۔ عبدالرزاق، ابن عساکر
40454- عن قبيصة بن ذؤيب قال: أغار رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم على سرية انهزمت فغشي رجلا من المشركين وهو منهزم، فلما أن أراد أن يعلوه بالسيف قال الرجل: لا إله إلا الله، فلم يتناه عنه حتى قتله، فوجد الرجل في نفسه من قتله فذكر حديثه للنبي صلى الله عليه وسلم وقال: إنما قالها متعوذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم "فهلا شققت عن قلبه! فإنما يعبر عن القلب باللسان"، فلم يلبثوا إلا قليلا حتى توفي ذلك الرجل القاتل فدفن فأصبح على وجه الأرض، فجاء أهله فحدثوا النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ادفنوه"، فدفن أيضا فأصبح على وجه الأرض، فأخبر أهله النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الأرض أبت أن تقبله فاطرحوه في غار من الغيران"."عب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٥۔۔۔ (مسندابی رفاعہ) مسلمان کا اپنے (مسلمان) بھائی کو قتل کرنا کفر اور اسے گالی دیناکھلی برائی ہے اور اس کے مال کی عزت اس کے خون کی طرح ہے۔ الخطیب فی المتفق والمفترق، ابن عساکر
40455- "مسند أبي رفاعة" قتل المؤمن أخاه كفر، وسبابه فسوق، وحرمة ماله كحرمة دمه."الخطيب في المتفق والمفترق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی اس قتل کی وجہ سے جو اس نے ناحق کیا ہوگا قیامت کے روزہزار بارقتل کیا جائے گا۔ ابن ابی شیبۃ، سندہ صحیح
40456- عن أبي هريرة قال: إن الرجل ليقتل يوم القيامة ألف قتلة بضروب ما قتل."ش وسنده صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٧۔۔۔ (مسند ابوہریرہ ) ابوہریرہ اگر تم چاہتے ہو کہ پلک جھپکنے کی مقدار بھی پل صراط پر نہ ٹھہرو اور جنت میں داخل ہوجاؤ تو مسلمانوں کے خون ان کی عزتوں اور ان کے اموال سے اپنی پیٹھ ہلکی کرلو۔ الدیلمی عن ابوہریرہ
40457- "مسند أبي هريرة" يا أبا هريرة إن أحببت أن لا تقف على الصراط طرفة عين حتى تدخل الجنة، فكن خفيف الظهر من دماء المسلمين وأعراضهم وأموالهم."الديلمي عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٨۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں ایسے کھڑے ہوئے جیسے تمہارے درمیان میں کھڑاہوں اور فرمایا : ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں ایسے کھڑے ہوئے جیسے تمہارے درمیان میں کھڑاہوں اور فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو شخص لاالہ الا اللہ کی اور میرے رسول اللہ ہونے کی گواہی دے اس کا خون تین وجوہات میں سے کسی ایک وجہ کے بغیر جائز نہیں جان کے بدلہ جان شادی شدہ زناکار اور اسلام کو ترک کرنے والاجماعت کو چھوڑنے والا۔ رواہ عبدالرزاق
40458- عن ابن مسعود قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقامي فيكم فقال: "والذي لا إله غيره! ما يحل دم رجل يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا إحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والتارك للإسلام المفارق للجماعة"."عب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ قتل کرنے سے ڈراوا
٤٠٤٥٩۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ آدمی اپنے دین کی طرف سے اس وقت تک وسعت و کشادگی میں رہتا ہے جب تک حرمت والے خون کونہ بہائے جونہی وہ حرمت والے خون کو بہادے گا تو اس سے حیا کھینچ لی جائے گی۔ ابونعیم عبدالرزاق
40459- عن ابن مسعود قال: لا يزال الرجل في فسحة من دينه ما لم يهرق دما حراما، فإذا أهراق دما حراما نزع منه الحياء."نعيم، عب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل قتل
٤٠٤٦٠۔۔۔ (مسند جابربن عبداللہ) جابربن عبداللہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر نیام کے تلوار لینے دینے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن عساکر
40460- من مسند جابر بن عبد الله عن جابر بن عبد الله قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتعاطى السيف مسلولا. "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب القصص۔۔۔ ازقسم اقوال گنجے، سفید کوڑھ والے اور اندھے کا قصہ
٤٠٤٦١۔۔۔ بنی اسرائیل میں تین آدمی سفید کوڑھ والا گنجا اور اندھا تھے جن کا اللہ تعالیٰ نے امتحان لینا چاہا تو ان کی طرف ایک فرشتہ (بصورت انسان) بھیجا، وہ فرشتہ (سب سے پہلے) کوڑھی کے پاس آکر کہنے لگا : تمہیں سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے ؟ اس نے کہا : اچھا رنگ اور اچھی جلد کیونکہ لوگ مجھے گھٹیا سمجھتے ہیں تو فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اسے اچھا رنگ اور اچھی جلد عطا کردی، پھر اس کہا تمہیں کون سامال سب سے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اونٹ تو اسے حاملہ اونٹنی دے دی گئی پھر فرشتہ نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں (تمہارے مال میں) برکت دے۔ اس کے بعد گنجے کے پاس آیا، اس سے کہا : تمہیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے ؟ اس کہا، اچھے بال تال کہ یہ گنجاپن مجھ سے دور ہوجائے۔ کیونکہ لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتہ نے اس (کے سر) پر ہاتھ پھیرا اور (اس کا گنجاپن) چلا گیا اور اسے اچھے بال عطا ہوگئے کہا تمہیں کون سامال زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا : گائے تو اسے ایک حاملہ گائے دی اور کہا اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت عطاکرے۔ اس کے بعد وہ اندھے کے پاس آیا اور کہا : تمہیں کیا چیز سب سے بھلی لگتی ہے ؟ اس نے کہا : کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری نظرعطا کردے تاکہ میں لوگوں کو اس سے دیکھ سکوں فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیراتو اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر واپس کردی کہا : کون سامال زیادہ اچھا لگتا ہے ؟ اس نے کہا : بکریاں توا سے ایک ماں بننے والی بکری دے دی پھر کچھ عرصہ بعد ان دونوں کوڑھی اور گنجے کے جانوروں نے بچوں کو جنم دیا، اور اس کی بکری بھی بچہ والی ہوگئی۔ کوڑھی کو اونٹوں سے بھری وادی ہوگئی اور گنجے کی گائیوں سے اور نا بینے کی بکریوں کی وادی ہوگئی۔ پھر وہ فرشتہ اسی شکل و صورت میں کوڑھی کے پاس آیا، اور کہا : میں غریب مسکین آدمی ہوں سفر میں میرے اسباب سفرختم ہوگئے آج میں اللہ تعالیٰ اور تمہارے سہارے پر ہوں، میں اس ذات کے واسطہ سے تم سے سوال کرتا ہوں جس نے تمہیں اچھا رنگ، اچھی جلد اور (اونٹوں کی صورت میں) مال عطا کیا، مجھے ایک اونٹ اپنے سفر میں کام میں لانے کے لیے دے دو ! اس نے کہا : مجھ پر کئی حقوق ہیں، فرشتہ نے اس سے کہا، لگتا ہے میں تمہیں جانتا ہوں، کیا تم وہ کوڑھی نہ تھے جسے لوگ فقیر سمجھ کر نفرت کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ؟ اس نے کہا : نہیں مجھے بڑے کے بعد بڑے سے یہ مال وراثت میں ملا ہے تو اس نے کہا : اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں پھرویساہی کردے جیسا تم تھے ! پھر وہ اسی شکل و صورت میں گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا، اس نے بھی وہی جواب دیاجو اس نے دیا تھا، کہا : اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں پھرویسا کردے جیسا تم تھے اس کے بعد وہ اندھے کے پاس اسی صورت میں آیا اور اس سے کہا : مسکین آدمی ہوں، مسافرہوں، سفر میں میرے اسباب سفر ختم ہوگئے آج میرا اللہ تعالیٰ کے سوا اور تمہارے علاوہ کوئی آسرا نہیں میں تم سے اس ذات کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جس نے تمہیں بصارت عطا کی مجھے ایک بکری دوجس کے ذریعہ میں اپنے سفرکاخرچ چلاسکوں۔ اس نے کہا میں نابینا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے نظردی اور میں فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار کیا جتنی بکریاں چاہولے لو، اللہ کی قسم ! میں کسی اسی چیز میں تم پر مشقت نہیں ڈالوں گا جو تم اللہ تعالیٰ کے لیے لو گے فرشتہ نے کہا : اپنے مال کو محفوظ رکھو تمہارا تو صرف امتحان مقصود تھا اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔ بیہقی عن ابوہریرہ
40461- "إن ثلاثة نفر في بني إسرائيل أبرص وأقرع وأعمى بدأ الله أن يبتليهم فبعث إليهم ملكا، فأتى الأبرص فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال لون حسن وجلد حسن، قد قذرني الناس، فمسحه فذهب وأعطى لونا حسنا وجلدا حسنا، فقال وأي المال أحب إليك؟ قال: الإبل، فأعطى ناقة عشراء فقال: يبارك لك فيها! وأتى الأقرع فقال: أي شيء أحب إليك؟ فقال: شعر حسن فيذهب هذا عني، قد قذرني الناس، فمسحه فذهب وأعطى شعرا حسنا، قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: البقر، فأعطاه بقرة حاملا وقال: يبارك لك فيها! وأتى الأعمى فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: يرد الله إلي بصري فأبصر به الناس، فمسحه فرد الله إليه بصره، قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: الغنم فأعطاه شاة والدا فأنتج هذان وولّد هذا فكان لها واد من الإبل ولهذا واد من بقر ولهذا واد من غنم ثم إنه أتى الأبرص في صورته وهيئته2 فقال: رجل مسكين تقطعت بي الحبال في سفري فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي أعطاك اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعيرا أتبلغ عليه في سفري! فقال له: إن الحقوق كثيرة، فقال له: كأني أعرفك، ألم تكن أبرص يقذرك الناس فقيرا فأعطاك الله؟ فقال: لقد ورثت لكابر عن كابر، فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت! وأتى الأقرع في صورته وهيئته فقال له مثل ما قال لهذا ورد عليه مثل ما رد عليه هذا فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت! وأتى الأعمى في صورته وهيئته فقال: رجل مسكين وابن السبيل وتقطعت بي الحبال في سفري فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي رد عليك بصرك شاة أتبلغ بها في سفري! فقال: قد كنت أعمى فرد الله بصري، وفقيرا فأغناني الله فخذ ما شئت فوالله لا أجهدك اليوم بشيء أخذته لله! فقال: أمسك مالك فإنما ابتليتم، فقد رضى الله عنك وسخط عن صاحبيك". "ق عن أبي هريرة" "
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہزارروپے قرض لینے والے کا قصہ
٤٠٤٦٢۔۔۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا اس نے کسی اسرائیلی سے ہزار دینارقرض مانگا، تو اس نے کہا : میرے پاس گواہ لاؤتا کہ میں انھیں گواہ کرلوں تو اس نے کہا : اللہ گواہ کافی ہے تو اس نے کہا : میرے پاس کوئی ضامن لاؤ اس نے کہا : اللہ ضامن کافی ہے اس نے کہا : تم نے سچ کہا پھر اسے ایک مقررمدت تک کے لیے وہ پیسے دے دیئے چنانچہ وہ سمند کے سفر پر نکل گیا اور اپنی ضرورت پوری کرلی، پھر وہ سوار ہونے کے لیے کوئی کشتی تلاش کرنے لگا تاکہ جو مدت اس سے طے کی تھی اس پر اس کے پاس جاسکے لیکن اسے کشتی نہ ملی تو اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں کھدائی کرکے ہزاردینار اور اپنی طرف سے ایک خط اپنے دوست کی طرف ڈالا پھر اس کی جگہ کو ہموار کردیا اس کے بعد سمندر کے پاس آکر کہنے لگا : اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں سے ایک ہزار دینا رقرض لیا تھا اس نے مجھ سے ضامن کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ ضامن کافی ہے تو وہ آپ پر راضی ہوگیا تھا پھر وہ مجھ سے کہنے لگا گواہ لاؤ تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے تو وہ آپ پر راضی ہوگیا، اور میں نے بھر پورکوشش کی کہ مجھے کوئی کشتی مل جائے تو جس کے پاس دس کی طرف بھیجوں لیکن مجھے کشتی نہ ملی۔ میں اس رقم کو آپ کے سپرد کرتا ہوں پھر اسے سمندر میں پھینک دیایہاں تک کہ وہ لکڑی سمندر میں داخل ہوگئی اس کے بعد وہ شخص واپس لوٹ گیا اور اسی حال میں کشتی تلاش کرنے لگاتا کہ اپنے شہر جائے (ادھر) وہ شخص جس نے اسے قرض دیا تھا دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی کشتی اس کا مال لے کر آجائے اچانک وہ لکڑی نظر پڑی جس میں مال تھا اسے پکڑا اور اپنے گھروالوں کے لیے بطورائندھن لے آیا جب اسے چیز اتو اس میں مال اور خط پایا بعد میں وہ شخص بھی ہزار دینالے کر آگیا جسے اس نے قرض دیا تھا کہا میں بخد اکشتی کی تلاش میں رہاتا کہ تمہارے پاس تمہارا مال لاؤں لیکن مجھے اس طرف سے کوئی کشتی نہ ملی جس سمت سے میں آیا اس نے کہا : کیا تو نے کوئی چیز میری طرف بھیجی ہے ؟ کہا : میں نے تمہیں بتایانا کہ مجھے اس طرف سے کوئی کشتی نہیں ملی جس طرف سے میں آیاہوں تو وہ شخص کہنے لگا : تو اللہ تعالیٰ نے وہ تمہاری طرف سے ادا کردیئے ہیں جو تم نے لکڑی میں بھیجے تھے ، چنانچہ وہ شخص خوشی خوشی واپس لوٹ گیا۔ مسد احمد، بخاری عن ابوہریرہ
40462- "إن رجلا من بني إسرائيل سأل بعض بني إسرائيل أن يسلفه دينار فقال: ائتني بالشهداء أشهدهم، فقال: كفى بالله شهيدا، قال: فائتني بالكفيل، فقال: كفى بالله كفيلا، قال: صدقت، فدفعها إليه إلى أجل مسمى، فخرج في البحر فقضى حاجته، ثم التمس مركبا يركبها يقدم عليه للأجل الذي أجله، فلم يجد مركبا فأخذ خشبة فنقرها فأدخل فيها ألف دينار وصحيفة منه إلى صاحبه ثم زجج موضعها، ثم أتى بها إلى البحر فقال: اللهم! إنك تعلم أني تسلفت من فلان ألف دينار فسألني كفيلا فقلت: كفى بالله كفيلا، فرضى بك، وسألني شهيدا فقلت: كفى بالله شهيدا، فرضى بك، وإني قد جهدت أن أجد مركبا أبعث إليه الذي له فلم أجد، وإني أستودعكها! فرمى بها في البحر حتى ولجت فيه ثم انصرف وهو في ذلك يلتمس مركبا يخرج إلى بلده، فخرج الرجل الذي كان أسلفه ينظر لعل مركبا قد جاء بماله، فإذا بالخشبة التي فيها المال، فأخذها لأهله حطبا، فلما نشرها وجد المال والصحيفة، ثم قدم الذي كان أسلفه فأتى بألف دينار وقال: والله ما زلت جاهدا في طلب مركب لآتيك بمالك فما وجدت مركبا قبل الذي أتيت فيه! قال: هل كنت بعثت إلي شيئا؟ قال: أخبرتك أني لم أجد مركبا قبل الذي جئت فيه، قال: فإن الله قد أدى عنك الذي بعثت في الخشبة، فانصرف بألف دينار راشدا". "حم، خ " عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالوں کا قصہ
٤٠٤٦٣۔۔۔ تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص سفر پر نکلے سفرپرنکلے اور رات انھیں ایک غار میں آگئی وہ غار میں داخل ہوئے تو پہاڑ سے چٹان ڈھل کی اور غارکا دروازہ بند کردیا تو وہ (آپس میں) کہنے لگے : تم اس غار سے اسی صورت میں نجات پاسکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے اچھے اعمال کے ذریعہ دعا کرو، تو ان میں کا ایک کہنے لگا : اے اللہ ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے اور میں ان سے پہلے نہ اہل و عیال کو دودھ پلاتانہ مال کو ایک دن مجھے کسی چیز کی تلاش میں دیر ہوگئی تو میں اس وقت ان کے پاس آیاجب وہ سوگئے تو میں ان کے دودھ کا حصہ لے کر آیا اور انھیں سویا ہوا پایا مجھے اچھا نہ لگا کہ میں ان کے حصہ سے پہلے اہل و عیال اور مال کو پلاؤں میں اسی انتظار میں تھا کہ وہ بیدار ہوں اور دودھ کا برتن میرے ہاتھ میں تھا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ وہ بیدار ہوئے اور انھوں نے اپنا حصہ پیا، اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس چٹان کی مصیبت کو دورکردے تو اتنی چٹان ہٹی جس سے وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ دوسرے نے کہا : اے اللہ ! میری ایک چچا زاد تھی جو مجھے سب زیادہ محبوب تھی تو ایک دن میں نے اس سے مباشرت کرنا چاہی لیکن وہ رک گئی پھر اس پر تنگدستی کا سال آیا تو وہ میرے پاس آکر سوال کرنے لگی تو میں نے اسے اس شرط پر ایک سوبیس دینار دیئے کہ وہ مجھے صحبت کرنے سے نہیں روکے گی۔ تو اس نے ایسے ہی کیا میں نے جب اس پر قابو پالیا تو وہ بولی : تمہارے لیے ناحق مہر توڑناجائز نہیں تو میں نے اس سے صحبت کرنے سے احتراز کیا، اور اس سے اعراض کیا جب کہ وہ میری سب سے زیادہ محبوب تھی اور جو سونا میں نے اسے دیاوہ (واپس لینا) چھوڑدیا۔ اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام آپ کی رضاجوئی کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور کردے تو چٹان اتنی سر کی جس سے وہ باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا : اے اللہ ! میں نے اجرت پر کچھ مزدور لیے اور انھیں ان کی مزدوری دے دی صرف ایک آدمی نے اپنی اجرت جو اس کی بنتی تھی چھوڑدی اور چلا گیا اس کی مزدوری سے میں نے مویشی خرید لیے جس سے اس کی بارآور ہوئی اور اس کی وجہ سے اس کا مال بڑھ گیا پھر وہ کچھ مدت بعد میرے پاس آکر کہنے لگا : اللہ کے بندے ! مجھے میری مزدوری دو میں نے اس سے کہا : جو اونٹ گائے بکریاں اور غلام تمہیں نظرآ رہے ہیں سب تمہاری مزدوری ہیں تو وہ کہنے لگا : اللہ کے بندے ! مجھ سے مزاح مت کرو ! میں نے کہا : میں تم سے مزاح نہیں کررہا چنانچہ اس نے سارامال لیا اور آگے لگالیا اس میں سے کوں چیز نہیں چھوڑی۔ اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام آپ کی رضا ہوئی کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما توچٹان ہٹ گئی وہ چلتے ہوئے باہرنکل آئے۔ بیہقی عن ابن عمرو
40463- "انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى أووا المبيت إلى غار فدخلوه، فانحدرت عليهم صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار، فقالوا: إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم، فقال رجل منهم: اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران وكنت لا أغبق " قبلهما أهلا ولا مالا، فنأى بي في طلب شيء يوما فلم أرح عليهما حتى ناما، فحلبت لهما غبوقهما فوجدتهما نائمين، فكرهت أن أغبق قبلهما أهلا ومالا، فلبثت والقدح في يدي أنتظر استيقاظهما حتى برق الفجر، فاستيقظا فشربا غبوقهما، اللهم! إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك ففرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة؛ فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج، وقال الآخر: اللهم! كانت لي ابنة عم كانت أحب الناس إلي فأردتها على نفسها فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجاءتني، فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها، ففعلت حتى إذا قدرت عليها قالت: لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه، فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهي أحب الناس إلي وتركت الذهب الذي أعطيتها، اللهم! إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه؛ فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها، وقال الثالث: اللهم! استأجرت أجراء فأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذي له وذهب فثمرت أجره حتى كثرت منه الأموال، فجاءني بعد حين فقال: يا عبد الله! أد إلي أجري، فقلت له: كل ما ترى من أجرك: من الإبل والغنم والرقيق، فقال: يا عبد الله! لا تستهزئ بي، فقلت: إني لا أستهزئ بك، فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا، اللهم! فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه؛ فانفرجت الصخرة، فخرجوا يمشون". "ق " عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غاروالوں کا قصہ
٤٠٤٦٤۔۔۔ ایک دفعہ تین آدمی جارہے تھے کہ بارش نے انھیں آگھیراتو وہ پہاڑ کی ایک کھوہ میں پنا گزیں ہوئے ادھر غار کے دبانے پر پہاڑ کی ایک چٹان گرپڑی جس سے غارکادہانہ بند ہوگیا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : اپنے ان نیک اعمال کو یاد کرو جو تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے کئے ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرویقینی بات ہے اللہ تعالیٰ تمہاری مصیبت دور فرمادے گا۔ ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ میرے بوڑھے والدین تھے میری بیوی اور چھوٹے بچے تھے میں ان کی خاطر بکریاں چرایا کرتا تھا جب شام کے وقت آتا دودھ دوہتا توا پنے والدین سے شروع کرتا انھیں اپنے بچوں سے پہلے دودھ پلاتا ایک درخت سے شاخیں اتارنے کی مشغولی نے مجھے دیر کرادی تو میں شام ڈھلے آسکا میں نے دیکھا کہ وہ دونوں سوچکے ہیں حسب عادت میں نے دودھ دوہا پھر میں دودھ کا برتن لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا رہا میں نے انھیں جگانامناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے اپنے بچوں کو پلانا اچھا نہ لگاجب کہ وہ میرے پاؤں بھوک پیاس کی وجہ سے میں ہلک رہے تھے میری اور ان کی یہی حالت رہی یہاں تک کہ صبح ہوگئی اگر آپ کی خاطر میں نے یہ کام کیا ہے تو اتنا شگاف کردیں کہ ہم آسمان دیکھ سکیں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنا شگاف کردیا جس سے انھوں نے آسمان دیکھا۔ دوسرے نے کہا اے اللہ ! میری ایک چچازاد تھی جس سے مجھے اسی طرح شدید محبت تھی جیسی مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے اس سے قربت کرنا چاہی تو اس نے انکار کردیا کہ پہلے سو دینار لاؤ تو میں نے محنت کوشش کرکے سو دینار اکٹھے کئے اور اس کے پاس لے آیا جب میں صحبت کے لیے اس کے پاؤں میں آیا تو وہ کہنے لگی : اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر اور ناحق مہرکونہ توڑ، تو میں اس سے اٹھ کھڑا ہوا، آپ جانتے ہیں اگر میں نے یہ کام آپ کی رضا جوئی کے لیے ہے ہم سے یہ تنگی دور فرمادیں تو ان کے لیے کچھ اور گنجائش ہوگئی۔ تیسرے نے کہا : اللہ میں نے چاول کے پیمانہ کے عوض ایک مزدور رکھا جب اس نے اپنا کام پوراکر لیا تو مجھے کہنے لگا : مجھے میرا حق دو تو میں نے اسے اس کا پیمانہ دیناچاہامگر اس نے اعراض کیا تو میں اس کو برابرکاشت کرتا رہایہاں تک کہ اس سے گائیں اور چرواہے جمع کرلئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد وہ میرے پاس آکر کہنے لگا : اللہ سے ڈر اور میرا حق دبا کر مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے کہا : ان گائیوں اور ان کے چرواہوں کی طرف جاؤ اور انھیں لے لو وہ کہنے لگا : اللہ سے ڈر مجھ سے مزاح نہ کر میں نے کہا : میں تجھ سے مزاح نہیں کررہا ان گائیوں اور ان کے چرواہوں کو لے لو چنانچہ اس نے انھیں لیا اور روانہ ہوگیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے یہ کام آپ کی خوشنودی کے لیے کیا اس لیے اس مصیبت کو ہم سے دور فرما ! تو اللہ تعالیٰ نے باقی ماندہ چٹان کو ہٹادیا۔ بیہقی عن ابن عمرو
40464- "بينما ثلاثة نفر يمشون أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل فانطبقت عليهم، فقال بعضهم لبعض: انظروا أعمالا عملتموها صالحة لله فادعوا الله بها لعله يفرجها عنكم! فقال أحدهم: اللهم! إنه كان والدان شيخان كبيران وامرأتي ولي صبية صغار أرعى عليهم فإذا أرحت عليهم حلبت فبدأت بوالدي فسقيتهما قبل بني، وإني نأى بي ذات يوم الشجر فلم آت حتى أمسيت فوجدتهما قد ناما، فحلبت كما كنت أحلب فجئت بالحلاب فقمت عند رؤسهما أكره أن أوقظهما من نومهما وأكره أن أسقى الصبية قبلهما والصبية يتصاغون عند قدمى، فلم يزل ذلك دأبي ودأبهم حتى طلع الفجر، فإن كنت تعلم أني قد فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا منها فرجة حتى نرى السماء؛ ففرج الله منها فرجة فرأوا منها السماء، وقال الآخر: اللهم! إنه كانت لي ابنة عم أحببتها كأشد ما يحب الرجال النساء وطلبت منها نفسها، فأبت حتى آتيها بمائة دينار، فتعبت حتى جمعت مائة دينار فجئتهما بها، فلما وقعت بين رجليهما قالت: يا عبد الله! اتق الله ولا تفتح الخاتم إلا بحقه، فقمت عنها، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا منها فرجة؛ ففرج لهم، وقال الآخر: اللهم! إني كنت استأجرت أجيرا بفرق أرز فلما قضى عمله قال: أعطني حقي، فعرضت عليه فرقه فرغب عنه، فلم أزل أزرعه حتى جمعت منه بقرا ورعاءها فجاءني فقال: اتق الله ولا تظلمني حقي، قلت: اذهب إلى تلك البقر ورعائها فخذها، فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي، فقلت: إني لا أستهزئ بك، خذ ذلك البقر ورعاءها، فأخذه فذهب به، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج ما بقي؛ ففرج الله ما بقي". "ق عن ابن عمر".
তাহকীক: