কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قسموں اور نذروں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৯৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৫৮০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46568 حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفتاء لیا کہ ان کی والدہ کے ذمہ ایک نذر ہے جب کہ وہ نذر پوری کرنے سے قبل ہی وفات پاچکی تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی والدہ کی طرف سے نذر پوری کرو۔۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ
46568- "أيضا" إن سعد بن عبادة استفتى النبي صلى الله عليه وسلم في نذر كان على أمه فتوفيت قبل أن تقضيه، فقال: اقضيه عنها. "ش، خ، م، د، ت، ن، هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46569 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک نذر کے متعلق دریافت کیا جو ان کی والدہ کے ذمہ واجب تھی اور اسے پوری کرنے سے قبل وفات پاچکی تھی آپ نے حضرت سعد (رض) کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا : اپنی والدہ کی طرف سے نذر پوری کرو۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور
46569- عن ابن عباس قال: سأل ابن عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نذر كان على أمه ماتت قبل أن تقضيه، فأمره بقضائه وفي لفظ: فقال: اقض عنها. "عب، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46570 ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطاء سے کہا : ایک شخص نے نذر مان رکھی ہے کہ وہ گھنٹوں کے بل طواف کے ساتھ چکر لگائے گا۔ عطاء نے جواب دیا : ابن عبس (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں کو گھنٹوں کے بل طواف کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، البتہ اسے چاہیے کہ وہ دو مرتبہ طواف کے ساتھ سات چکر لگائے (یوں کل ملاکر 14 چکر ہوجائیں گے) یوں سات چکر پاؤں کی طرف سے ہوجائیں گے اور سات چکر ہاتھوں کی طرف سے میں نے کہا : کیا آپ اس شخص کو کفارے کا حکم نہیں دیں گے ؟ جواب دیا : نہیں۔ رواہ عبدالرزاق
46570- أخبرنا ابن جريج قال: قلت لعطاء: رجل نذر أن يطوف على ركبتيه سبعا، فقال: قال ابن عباس: لم يؤمروا أن يطوفوا حبوا ولكن ليطف سبعين: سبعا لرجليه وسبعا ليديه، قلت: ولم تأمره بكفارة؟ قال: لا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46571 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب کوئی شخص نذر کو غیر معین مان لے تو وہ سخت ترین قسم تصور کی جائے گی اور اس پر سخت ترین کفارہ ادا کرنا ہوگا اور وہ غلام آزاد کرنا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46571- عن ابن عباس قال: النذر إذا لم يسمها صاحبها فهي أغلظ الأيمان، ولها أغلظ الكفارة بعتق رقبة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46572 ابن عباس (رض) فرماتے ہیں نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46572- عن ابن عباس قال: النذر كفارته كفارة يمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46573” مسند عبداللہ بن عمر “ عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نذر ماننے سے منع فرمایا ہے اور اس پر آپ نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی، البتہ بخیل آدمی کا کچھ مال خرچ ہوجاتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46573- "مسند عبد الله بن عمر" نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النذر وقال: "إنه لا يقدم شيئا، وإنما يستخرج به من الشحيح. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46574 ابن عمر (رض) فرماتے ہیں نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46574- عن ابن عمر قال: ليس للنذر إلا الوفاء به. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46575 ابن عمر (رض) سے نذر کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (رض) نے فرمایا : نذر افضل قسم ہے اگر پوری نہ کرے تو اس کا پہلے والا کفارہ ادا رے اگر وہ نہیں پاتا تو اس کے بعد والا کفارہ ادا کرے اگر وہ بھی نہیں پاتا تو اس کے بعد والا ادا کرے یعنی غلام آزاد کرے اگر وہ نہیں پاتا تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے اگر وہ نہیں پاتا تو دس مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ رواہ عبدالرزاق
46575- عن ابن عمر أنه سئل عن النذر فقال: أفضل الأيمان فإن لم تجد فالتي تليها، فإن لم تجد فالتي تليها - يقول: الرقبة والكسوة والطعام. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر کا بیان
46576 ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نذر نہ تو کسی چیز کو مقدم کرتی ہے اور نہ موخر کرتی ہے البتہ نذر کے ذریعے بخیل شخص کا کچھ مال نکل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46576- عن ابن مسعود قال: إن النذر لا يقدم شيئا ولا يؤخره، ولكن الله يستخرج من البخيل، ولا وفاء بنذر في معصية الله، وكفارته كفارة يمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46577 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے یتیم بھتیجوں کے ساتھ کھانا نہیں کھائے گا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اس کی خبر کی گئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر کھانا کھاؤ۔ رواہ عبدالرزاق
46577- عن ابن عباس قال: نذر رجل أن لا يأكل مع بني أخ له يتامى، فأخبر به عمر بن الخطاب فقال: اذهب فكل معهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46578 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے نذر مان رکھی ہے کہ میں اپنی اونٹنی ذبح کروں گا اور فلاں فلاں کام کروں گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ تم اپنی اونٹنی ذبح کردو اور فلاں فلاں نذریں شیطان کی طرف سے ہیں۔ رواہ احمد بن حنبل
46578- عن علي قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني نذرت أن أنحر ناقتي وكيت وكيت، فقال: "أما ناقتك فانحرها، وأما كيت وكيت فمن الشيطان. " حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46579” مسند بشیر ثقفی “ ابوامیہ عبدالکریم بن ابی مخارق حفصہ بنت سیرین سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بشیر ثقفی (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں اونٹ کا گوشت نہیں کھاؤں گا اور شراب نہیں پیوں گا۔ اس پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ اونٹ کا گوشت کھاؤ اور شراب مت پیو۔ رواہ البغوی والاسماعیلی و ابونعیم وابوامیۃ ضعیف
46579- "مسند بشير الثقفي" عن أبي أمية عبد الكريم ابن أبي المخارق عن حفصة بنت سيرين عن بشير الثقفي أنه قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني نذرت في الجاهلية أن لا آكل لحم الجزور، ولا أشرب الخمر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أما لحم الجزور فكلها وأما الخمر فلا تشرب. " البغوي، والإسماعيلي وأبو نعيم، وأبو أمية ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46580” مسند ابن عباس “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کا طواف کررہے تھے اسی اثناء میں آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک دوسرے شخص کو اس کی ناک میں رسی ڈال کر کھینچ رہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے رسی توڑ دی پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ اس شخص کو ہاتھ سے پکڑ کر کھینچو۔ رواہ عبدالرزاق
46580- "مسند ابن عباس" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان يقود إنسانا بحزامة في أنفه، فقطعها النبي صلى الله عليه وسلم بيده، ثم أمره أن يقوده بيده. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46581” ایضاً “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے رسی یادھاگے کے ساتھ اپنا ہاتھ ایک دوسرے شخص کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسی توڑ ڈالی اور فرمایا : اسے ہاتھ سے پکڑ کر چلاؤ۔۔ رواہ عبدالرزاق والطبرانی
46581- "أيضا" إن النبي صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان قد ربط يده إلى إنسان آخر بسير أو خيط أو بشيء غير ذلك، فقطعه النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: "قده بيده. " عب، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46582 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے مکہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی آپ (رض) نے فرمایا : وہ شخص پیدل چلے جب تھک جائے تو سوار ہوجائے پھر جب دوسرا سال آجائے تو جتنا سفر اس نے سوار ہو کر کیا ہے وہ پیدل چل کر طے کرے اور جتنا پیدل چلا تھا اتنا سوار ہوجائے اور اونٹ ذبح کرے۔ رواہ عبدالرزاق
46582- عن ابن عباس أن رجلا نذر أن يمشي إلى مكة، قال: يمشي فإذا أعيا ركب، فإذا كان عاما قابلا مشى ما ركب وركب ما مشى ونحر بدنة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر توڑنے کا بیان
46583 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جو شخص پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانے اسے چاہیے کہ وہ مکہ سے پیدل چلے رواہ عبدالرزاق
46583- عن ابن عباس قال: من نذر أن يحج ماشيا فليمش من مكة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل حج کرنے کی نذر
46584 عطاء کی روایت ہے کہ ایک شخص ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے نذر مانی ہے کہ میں مکہ پیدال چل کر جاؤں گا۔ لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ہوں ابن عمر (رض) نے فرمایا : جس قدر تم طاقت رکھتے ہو پیدل چلو اور پھر سوار ہوجاؤ حتیٰ کہ جب تم حرم کے قریب پہنچ جاؤ تو پیدل چلو حتیٰ کہ مکہ میں داخل ہوجاؤ پھر کوئی جانور ذبح کردو یا صدقہ کرو۔ رواہ عبدالرزاق
46584- عن عطاء أن رجلا جاء ابن عمر فقال له نذرت لأمشين إلى مكة فلم أستطع، قال: فامش ما استطعت واركب حتى إذا دخلت الحرام فامش حتى تدخل، فاذبح أو تصدق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل حج کرنے کی نذر
46585 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر مانے وہ پیدل چلتا رہے اور جب تھک جائے سوار ہوجائے اور اونٹ بطور ہدی ذبح کرے۔ رواہ عبدالرزاق
46585- عن علي فيمن نذر أن يمشي إلى البيت قال: يمشي، فإذا أعيا ركب ويهدي جزورا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل حج کرنے کی نذر
46586 عطاء کی روایت ہے کہ ایک شخص ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے نذر مان رکھی ہے کہ میں ضرور اپنے آپ کو ذبح کروں گا۔ (ابن عمر (رض) نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو۔ آدمی بولا کیا میں اپنے آپ کو قتل کردوں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : تب تو تم جہنم میں داخل ہوجاؤ گے۔ وہ آدمی بولا : آپ نے تو مجھ پر معاملہ مشتبہ کردیا آپ (رض) نے فرمایا : بلکہ تم نے خود اپنے اوپر معاملہ مشتبہ کردیا ہے اتنی میں ابن عباس (رض) تشریف لائے انھوں نے اس شخص کو دنبہ ذبح کرنے کا حکم دیا) ۔۔ رواہ عبدالرزاق
46586- عن عطاء أن رجلا جاء ابن عمر فقال: نذرت لأنحرن نفسي، قال: أوف ما نذرت، قال: فأقتل نفسي؟ قال:إذن تدخل النار، قال: ألبست علي، قال: أنت ألبست على نفسك فجاء ابن عباس فأمره بكبش. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل حج کرنے کی نذر
46587 حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کی روایت ہے کہ مدینہ کے راستے میں ایسے دو آدمی دیکھے جنہوں نے اپنے آپ کو ایک دوسرے سے باندھ رکھا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے باندھنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے جواب دیا : ہم نے نذر مان رکھی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بندھے رہیں گے حتیٰ کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کرلیں آپ نے فرمایا : تم اپنا جوڑی بندھن ختم کرو چونکہ نذر وہی ہوسکتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضاومقصود ہو۔ رواہ ابن النجار
46587- عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلين مقرنين قد ربط أحدهما نفسه إلى صاحبه بطريق المدينة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما بال القران؟ قالا: يا رسول الله! نذرنا أن نقترن حتى نطوف بالبيت، قال: أطلقا قرانكما، فلا نذر إلا ما ابتغي به وجه الله. " ابن النجار".
তাহকীক: