কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قسموں اور نذروں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৯৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৫৪০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46528 شقیق کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں قسم کھالیتا ہوں کہ میں لوگوں کو عطا نہیں کروں گا پھر میری راے بن جاتی ہے کہ لوگوں کو عطا کروں جب میں ایسا کرلیتا ہوں تو میں اپنی طرف سے دس مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہوں، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجوریں دیتا ہوں۔ رواہ عبدالرزاق والبیہقی
46528- عن شقيق قال قال عمر: إني أحلف أن لا أعطي أقواما ثم يبدو لي أن أعطيهم فإذا رأيتني قد فعلت ذلك فأطعم عني عشرة مساكين، بين كل مسكينين صاعا من بر أو صاعا من تمر. "عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46529” مسند بشرابی خلیفہ “ ابومعشر البراء نوار بنت عمر، فاطمہ بنت مسلم، خلیفہ بن بشر روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد بشر جب اسلام لائے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا مال اور اوالدا نہیں واپس کردی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی ملاقات ہوئی آپ نے انھیں اور ان کے بیٹے کو رسیوں میں جکڑے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا : اے بشریہ کیا ہوا ہے ؟ بشر (رض) نے عرض کیا : میں نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا مال اور میری اولاد مجھے واپس لوٹا دی تو میں رسیوں میں اپنے آپ کو جکڑ کر بیت اللہ کا حج کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسی پکڑ کر کاٹ دی اور ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں حج کرو یہ طریقہ شیطان کی طرف سے ہے۔۔ رواہ الطبرانی وابن مندہ وقال : غریب تفرد بالروایۃ عن بشر ابنہ خلیفۃ ورواہ ابونعیم
46529- "مسند بشر أبي خليفة" عن أبي معشر البراء قال حدثتني النوار بنت عمر قالت حدثتني فاطمة بنت مسلم قالت حدثني خليفة بن بشر عن أبيه بشر أنه أسلم فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم ماله وولده، ثم لقيه النبي صلى الله عليه وسلم فرآه هو وابنه طلقا مقرونين بالحبل فقال: ما هذا يا بشر؟ قال: حلفت لئن رد الله علي مالي وولدي لأحجن بيت الله مقرونا، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم الحبل فقطعه وقال لهما: حجا، فإن هذا من الشيطان. "طب، وابن منده وقال: غريب وتفرد بالرواية عن بشر ابنه خليفة، وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46530 حضرت ابودرداء (رض) کی روایت ہے کہ ان کے ہاں ایک شخص مہمان ہوا حضرت ابودردائ (رض) سے تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ مہمان بھوکا ہی سوگیا اور بچے بھی بھوکے سوگئے کچھ تاخیر کے بعد حضرت ابودردائ (رض) آئے جب کہ بیوی سخت غصہ میں تھی کہنے لگی : آج رات آپ نے ہمیں سخت مشقت میں ڈال دیا، آپ (رض) نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں مشقت میں ڈال دیا ؟ بیوی نے کہا : جی ھاں۔ آپ تاخیر سے آئے حتیٰ کہ مہمان بھوکاسوگیا اور بچے بھی بھوکے سوگئے آپ (رض) کو غصہ آگیا اور فرمایا : کوئی حرج نہیں ! اللہ کی قسم میں کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک کہ تو نہیں کھائے گی۔ اتنے میں مہمان بیدار ہوگیا اور کہنے لگا : تمہیں کیا ہوا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اس نے مجھے گناہ میں ڈال دیا ہے مجھے فلاں فلاں کام میں تاخیر ہوئی مہمان نے کہا : خدا کی قسم میں بھی کھانا نہیں کھاؤں گا حتیٰ کہ تم دونوں نہ کھالو۔ ابودرداء (رض) کہتے ہیں : جب میں کھانا رکھا ہوا دیکھا مہمان اور بچے بھی بھوکے ہیں یارسول اللہ ! میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا اور دوسروں نے بھی کھانے کے لیے ہاتھ بڑھا دیئے اور وہ اپنی قسم پوری کرچکے بخدا ! یارسول اللہ ! مجھ سے گناہ سرزد ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تم ان سے بہتر ہو اور تم ان سے زیادہ اپنی قسم کو پورا کرنے والے ہو۔ رواہ ابن عساکر
46530- عن أبي الدرداء قال: تضيفهم ضيف، فأبطأ أبو الدرداء حتى نام الضيف طاويا ونام الصبية جياعا، فجاء والمرأة غضبى تلظى فقالت: لقد شققت علينا منذ الليلة، قال: أنا قالت: نعم أبطأت علينا حتى بات ضيفنا طاويا وبات صبياننا جياعا، فغضب فقال: لا جرم والله لا أطعمه الليلة! والطعام موضوع بين يديه، فقالت: أنا والله لا أطعمه حتى تطعمه! فاستيقظ الضيف وقال: ما بالكما؟ فقال: ألا ترى إليها تجني علي الذنوب! إني احتبست في كذا وكذا، فقال الضيف: أنا والله لا أطعمه حتى تطعماه! قال: فلما رأيت الطعام موضوعا ورأيت الضيف جائعا والصبية جياعا قدمت يا رسول الله يدي فأكلت وقدموا أيديهم فبروا والله يا رسول الله وفجرت! قال: بل أنت كنت خيرهم وأبرهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46531 زھدم جرمی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں آپ کے پاس کھانا لایا گیا ، کھانے میں مرغی تھی قبیلہ بنی تمیم اللہ کا ایک شخص کھڑا ہوا اور دستر خوان سے الگ ہوگیا حضرت ابو موسیٰ نے اس سے کہا : دستر خوان کے قریب ہوجاؤ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مرغی تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا : میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے تب میں نے قسم کھالی کہ میں مرغی نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے متعلق حدیث سناتا ہوں میں ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہمیں سواری دیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھالی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے پھر کچھ دیر کے بعد آپ کے پاس مال غنیمت آیا جو اونٹوں کی صورت میں تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا ہم آپس میں کہنے لگے : ہم تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم بھول گئے اللہ کی قسم ! اگر ہم اسی طرح واپس لوٹ گئے تو ہم فلاح نہیں پائیں گے ہم آپ کی طرف واپس لوٹ آئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہیں دیں گے لیکن پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں سواری عطا کی ہے اور اگر میں کسی چیز پر قسم کھالیتا ہوں پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری سمجھتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔۔ رواہ عبدالرزاق
46531- عن زهدم الجرمي قال: كنت عند أبي موسى الأشعري فقرب إليه طعام فيه دجاج، فقام رجل من بني تيم الله فاعتزل، فقال له أبو موسى: ادن، فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكلها، فقال: إني رأيتها تأكل شيئا قذرته فحلفت أن لا آكلها قال: فادن حتى أخبرك عن يمينك أيضا، إني أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من قومي فقلنا: يا رسول الله! احملنا، فحلف أن لا يحملنا، ثم أتاه نهب 1 من إبل، فأمر لنا بخمس ذود، فقلنا: تغفلنا يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله لئن ذهبنا بها على هذا لا تفلح! فرجعنا إليه فقلنا يا نبي الله! إنك حلفت أن لا تحملنا ثم حملتنا! فقال: إن تبارك وتعالى هو الذي حملكم، وإني إن أحلف على أمر فأرى الذي هو خير منه إلا أتيت الذي هو خير منه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46532 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے کوئی قسم نہیں توڑی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل فرمایا : چنانچہ آپ (رض) نے فرمایا : بخدا ! میں جو قسم کھاتا ہوں اور پھر اس کے خلاف بہتری سمجھتا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرتا ہوں اور وہ کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46532- عن عائشة أن أبا بكر لم يكن يحنث في يمين يحلف بها حتى أنزل الله كفارة اليمين، فقال: والله لا أدع يمينا حلفت عليها أرى غيرها خيرا منها إلا قبلت رخصة الله وفعلت الذي هو خير. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46533 ۔۔ حضرت مجاہد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی انصار میں سے کسی کے ہاں مہمان ہوا میزبان جب گھر آیا تو شام ہوچکی تھی میزبان نے گھر والوں سے کہا کہ کیا تم نے مہمان کو کھانا کھلایا اہل خانہ نے جواب دیا کہ ہم تو آپ کا انتظار کررہے تھے میزبان نے کہا کیا تم اس وقت تک میرا انتظار کر رہے تھے میں یہ کھانا نہیں چکھوں گا۔ میزبان کی بیوی نے کہا کہ اگر تو نہیں چکھتا تو میں بھی نہیں چکھوں گی ، مہمان نے کہا بخدا اگر تم دونوں نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا چنانچہ صبح کو جب آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ کو سارا قصہ سنایا تو آپ نے اس سے فرمایا تو نے یہ کیا کیا ؟ کہا یارسول اللہ میں نے کھانا کھالیا تو آپ نے فرمایا اللہ کی اطاعت کی اور شیطان کی نافرمانی کی۔ رواہ عبدالرزاق۔
46533- عن مجاهد قال: نزل رجل على رجل من الأنصار فجاء وقد أمسى فقال: أعشيتم ضيفكم؟ قالوا: لا، انتظرناك، قال: انتظرتموني إلى هذه الساعة! والله لا أذوقه! فقالت المرأة: والله لا أذوقه إن لم تذقه! وقال الضيف: والله لا آكل إن لم تأكلوا! فلما رأى ذلك الرجل قال: أجمع أن أمنع ضيفي ونفسي وامرأتي، فوضع يده فأكل، فلما أصبح أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقص عليه القصة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما صنعت؟ قال: أكلت يا رسول الله! قال النبي صلى الله عليه وسلم: أطعت الله وعصيت الشيطان. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46534 ۔۔ مسندعلی سے روایت ہے کہ اس شخص کے بارے میں جو قسم اٹھائے کہ وہ چلے گا فرمایا کہ وہ چلے اور اگر عاجز ہوجائے تو سوار ہو کر چلے اور بڑا جانور قربان کرے۔ رواہ الشافعی، بخاری مسلم۔
46534- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحسن عن علي في الرجل يحلف: عليه المشي، قال: يمشي، وإن عجز ركب وأهدى بدنة. "الشافعي، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کو قسم دینے کا بیان
46535 عطاء کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابی (رض) کے ساتھ مخاصمت کی اور فیصلہ حضرت زید بن ثابت کے پاس لے گئے حضرت زید (رض) نے حضرت عمر (رض) پر قسم کا فیصلہ کیا لیکن ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) کو قسم دینے سے انکار کردیا حضرت عمر (رض) بھی نہ مانے کہ وہ قسم کھائیں گے حضرت عمر (رض) کے ہاتھ میں پیلو کے درخت کی مسواک تھی چنانچہ حضرت عمر (رض) نے قسم کھائی کہ میرے ہاتھ میں پیلو کے درخت کی مسواک ہے۔ رواہ الصابونی
46535- عن عطاء أن عمر خاصم أبيا إلى زيد بن ثابت، فقضى باليمين على عمر، فأبى أبي أن يحلفه، فأبى عمر إلا أن يحلف، وفي يد عمر سواك من أراك، فحلف عمر أن بيدي سواكا من أراك. "الصابوني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کو قسم دینے کا بیان
46536 عطاء کی روایت ہے کہ ایک شخص اور حضرت عمر (رض) کے درمیان کچھ جھگڑا تھا لوگوں نے ان کے درمیان حضرت ابی بن کعب (رض) کو منصب ٹھہرایا حضرت ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) پر قسم کا فیصلہ لاگو کیا، لیکن اس شخص نے حضرت عمر (رض) سے قسم لینے سے انکار کردیا حضرت عمر (رض) نے بھی اصرار کیا کہ میں قسم ضرور کھاؤں گا آپ (رض) کے ہاتھ میں پیلو کے درخت کی مسواک تھی آپ (رض) نے دو مرتبہ قسم اٹھا کر کہا : یہ مسواک پیلو کے درخت کی ہے آپ (رض) اس شخص کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ جب قضیہ برحق ہو اس پر قسم کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رواہ سفیان بن عینیہ فی جامعہ
46536- عن عطاء أن رجلا كان بينه وبين عمر بن الخطاب خصومة فجعلوا بينهم أبي بن كعب، فقضى على عمر باليمين، فأبى الرجل أن يستحلف عمر، وأبى عمر إلا أن يحلف، وكان في يده سواك من أراك فجعل يحلف ويقول: وإن هذا السواك من أراك - مرتين يريهم أن لا بأس بذلك إذا كان حقا. "سفيان بن عيينة في جامعه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کو قسم دینے کا بیان
46537 ابن قسیط کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اے لوگو ! تمہیں کس چیز نے روکا ہے جب تم میں سے کسی شخص کا حق ہو اس کے لیے قسم کھانا جائز ہے ، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری ہاتھ میں چھوٹی سی ٹہنی ہے۔ چنانچہ آپ (رض) کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ٹہنی تھی۔ رواہ السلفی فی انتخاب احادیث القراء
46537- عن ابن قسيط قال: خطب عمر بن الخطاب الناس فقال: ما يمنعكم أيها الناس. إذا استحلف أحدكم على حق له أن يحلف! فوالذي نفس عمر بيده! إن في يده لعويد - وكان في يده عويد. "السلفي في انتخاب أحاديث القراء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کو قسم دینے کا بیان
46538 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ سارہ ایک بادشاہ کی بیٹی تھی اور وہ بڑی حسین و جمیل عورت تھیں ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے شادی کرلی ابراہیم (علیہ السلام) سارہ کو لے کر ایک بادشاہ کی پاس سے گزرے وہ بادشاہ سارہ پر فریفتہ ہوگیا بادشاہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا : یہ کون عورت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے مناسب جواب دیا : جب ابراہیم (علیہ السلام) اور سارہ نے بادشاہ کی طرف سے زیادتی کرنے کا خوف محسوس کیا، دونوں نے اسے بدعا دی جس کے اثر سے بادشاہ کے ہاتھ پاؤں سکڑ کر رہ گئے بادشاہ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا : مجھے معلوم ہے کہ یہ تمہارا ہی عمل ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو میں ٹھیک ہوجاؤں اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ برائی کا خیال ترک کرتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے لیے دعا کی جس سے اس کے ہاتھ پاؤں ٹھیک ہوگئے پھر بادشاہ نے کہا : اس عظیم خاتون کے شایان نہیں کہ یہ اپنی بھی خدمت کرے تب بادشاہ نے سارہ کو بی بی حاجرہ ھبہ کردی اور وہ سارہ کی خدمت میں کرتی تھیں پھر ایک دن (کسی وجہ سے ) سارہ کو ھاجرہ پر غصہ آگیا اور قسم کھائی کہ اس کی تین چیزوں کو ضرور تبدیل کرے گی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اس کی ختنیں کردوں اور اس کے کانوں میں چھید کردو (یوں دوکان اور ایک شرمگاہ ملا کر تین اعضاء ہوگئے) پھر سارہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس شرط پر حاجرہ ہبہ کردی کہ ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کریں گے چنانچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ھاجرہ کے ساتھ محبت کی علوق ہوا جس سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔۔ رواہ ابن عبدالحکم فی فتوح المصر والیس فیہ عن علی غیر ھذا الحدیث وحدیث ذی القرنین
46538- عن علي أن سارة كانت بنت ملك من الملوك، وكانت قد أوتيت حسنا فتزوج بها إبراهيم، فمر بها على ملك من الملوك فأعجبته، فقال لإبراهيم: ما هذه؟ فقال له ما شاء الله أن يقول، فلما خاف إبراهيم وخافت سارة أن يدنو منها دعوا الله عليه فأيبس الله يديه ورجليه، فقال لإبراهيم: قد علمت أن هذا عملك فادع الله لي، فوالله لا أسوءك فيها، فدعا له، فأطلق يديه ورجليه، ثم قال الملك: إن هذه لامرأة لا ينبغي أن تخدم نفسها، فوهب لها هاجر، فخدمتها ما شاء الله، ثم إنها غضبت عليها ذات يوم فحلفت لتغيرن منها ثلاثة أشياء، فقال: تخفضينها - وتثقبين أذنيها، ثم وهبتها لإبراهيم على أن لا يسوءها فيها، فوقع عليها، فعلقت فولدت إسماعيل ابن إبراهيم عليهما السلام. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر، وليس فيه عن علي غير هذا الحديث وحديث ذي القرنين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46539 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں لوگوں کو ایک حدیث سنارہا تھا میں نے کہا : میرے باپ کی قسم۔ اتنے میں میرے پیچھے سے کسی شخص نے کہا : اپنے ابا کی قسمیں مت کھاؤ۔ جو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہیں اور پھر آپ نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کی قسم کھالے تو بلاشبہ وہ ہلاک ہوجائے گا حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) تمہارے آباء سے بہتر تھے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46539- عن عمر قال: حدثت قوما حديثا فقلت: لا وأبي! فقال رجل من خلفي: لا تحلفوا بآبائكم، فالتفت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " لو أن أحدكم حلف بالمسيح لهلك، والمسيح خير من آبائكم. " ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46540 شعبی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا : میرے باپ کی قسم ! آپ نے فرمایا : ایک قوم کو عذاب مل چکا ہے حالانکہ ان میں عیسیٰ (علیہ السلام) جو تمہاری باپ سے بدرجہا افضل تھے وہ ان میں موجود تھے ، ہم تم سے بری الذمہ ہیں حتیٰ کہ تو واپس لوٹ آئے۔ رواہ عبدالرزاق ۔ فائدہ : یعنی غیر اللہ کی قسم کھا کر تو اسلام سے نکل گیا ہے اب توبہ کرکے اور کلمہ از سر نو پڑھ کر واپس لوٹ آئے۔
46540- عن الشعبي قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم برجل يقول: وأبي! فقال: "قد عذب قوم فيهم ابن مريم خير من أبيك، فنحن منك براء حتى ترجع. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46541 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سنا کہ میں اپنے باپ کی قسم کھارہا تھا آپ نے فرمایا اے عمر ! اپنے باپ کی قسم مت کھاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھاؤ غیر اللہ کی قسم مت کھاؤ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے صرف اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی۔۔ رواہ عبدالرزاق
46541- عن عمر قال: سمعني النبي صلى الله عليه وسلم أحلف بأبي، فقال: "يا عمر! لا تحلف بأبيك، احلف بالله، ولا تحلف بغير الله، فما حلفت بعد إلا بالله. "....".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46542 ابن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) عسفان میں مقام مخمص میں پہنچے تو لوگوں نے دوڑ لگائی لیکن آپ (رض) لوگوں سے آگے نکل گئے میں دوڑ لگانے کے لیے اٹھا اور میں آپ سے آگے نکل گیا اور میں نے کہا : کعبہ کی قسم میں عمر (رض) سے آگے نکل گیا ہوں۔ پھر آپ (رض) اٹھے اور مجھے سے آگے نکل گئے اور بولے : اللہ کی قسم میں ابن زبیر سے آگے نکل گیا ہوں۔ پھر میں اٹھا اور دوڑ میں آپ سے آگے نکل گیا میں نے کہا : کعبہ کی قسم میں ان سے آگے نکل گیا ہوں۔ پھر تیسری مرتبہ آپ (رض) اٹھے اور مجھے سے آگے نکل گئے آپ نے کہا : اللہ کی قسم میں اس سے آگے نکل گیا ہوں۔ پھر آپ (رض) نے اپنا اونٹ نیچے بٹھا دیا اور فرمایا : میں نے تمہیں کعبہ کی قسم کھاتے دیکھا ہے بخدا ! اگر مجھے قبل ازیں پتہ چلتا میں تمہیں ضرور سزا دیا، اللہ کی قسم کھاؤ پھر خواہ قسم پوری کرو یا نہ کرو۔۔ رواہ عبدالرزاق والبیہقی
46542- عن ابن الزبير قال: إن عمر لما كان بالمخمص من عسفان استبق الناس فسبقهم عمر، فانتهزت فسبقته، فقلت: سبقته والكعبة! ثم انتهز الثانية، فسبقني فقال: سبقته والله! ثم انتهزت فسبقته، فقلت: سبقته والكعبة! ثم انتهز الثالثة فسبقني فقال: سبقته والله ثم أناخ فقال: أرأيت حلفك بالكعبة، والله لو أعلم أنك فكرت فيها قبل أن تحلف لعاقبتك، احلف بالله فأثم أو أبرر. "عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46543 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے قسم کھاتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن لیا میں نے قسم پوری کھائی تھی : میرے باپ کی قسم ! آپ (رض) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں آباء کی قسمیں کھانے سے منع فرماتا ہے۔ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں پھر میں نے سمجھ بوجھ کر آباء کی قسم کھائی نہ بھول کر۔ رواہ سفیان بن عینیہ فی جامعہ ومسلم والبیہقی
46543- عن عمر قال: سمعني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أحلف وأقول: وأبي! فقال: إن الله تعالى ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، قال عمر: فما حلفت بها ذاكرا ولا آثرا. "سفيان بن عيينة في جامعه، م، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46544 عطاء کی روایت ہے کہ خالد بن عاص اور شیبہ بن عثمان جب قسم کھاتے تو یوں کہتے میرے باپ کی قسم چنانچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھیں منع کیا کہ آباء کی قسمیں مت کھاؤ۔۔ رواہ عبدالرزاق
46544- عن عطاء قال: كان خالد بن العاص وشيبة بن عثمان يقولان إذا أقسما: وأبي! فنهاهما أبو هريرة عن ذلك أن يحلفان بآبائهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46545” مسند ابوہریرہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں پر قسم پیش کی چنانچہ دنوں فریق قسم کھانے کے لیے آمادہ ہوگئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈال دیا جائے کہ ان میں سے کون قسم کھائے۔ رواہ عبدالرزاق
46545- "مسند أبي هريرة" عرض النبي صلى الله عليه وسلم على قوم اليمين فأسرع الفريقان جميعا في اليمين، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46546 ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیانا چاہا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سخت غصہ ہوں گے کسی نے عرض کیا ؟ یارسول اللہ ! اگرچہ معاملہ چھوٹی سی چیز کا ہو آپ نے فرمایا : اگر وہ معاملہ پیلو کے درخت کی مسواک کا ہی کیوں نہ ہو۔ رواہ ابن عساکر
46546- عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من حلف على يمين يقتطع بها مال امرئ مسلم لقى الله يوم القيامة وهو عليه غضبان، قيل: يا رسول الله! وإن كان يسيرا قال: وإن كان سواكا من أراك. " كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعہ قسمیں
46547 عرس بن عمیرہ کندی کی روایت ہے کہ امراؤ القیس بن عابس کندی اور حضرت موت کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوگیا حضرمی سے گواہ طلب کئے گئے مگر اس کے پاس گواہ نہیں تھے چنانچہ امراؤ القیس سے قسم لینے کا فیصلہ کیا گیا حضرمی کہنے لگا یارسول اللہ ! آپ نے اس شخص سے قسم لینے کا فیصلہ کیا ہے، وہ تو قسم کھالے گا اور یوں میری زمین میرے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے جھوٹی قسم لینے کا فیصلہ کیا ہے، وہ تو قسم کھالے گا اور یوں میری زمین میرے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مارا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غصہ ہوں گے امراؤ القیس نے کہا : جو شخصا سے ترک کردے اس کے لیے کیا انعام ہوگا۔ آپ نے فرمایا : اس کے لیے جنت ہے۔ عرض کیا : آپ گواہ رہیں میں زمین سے دستبردار ہوگا۔ چنانچہ جب اہل کندہ کثرت سے مرتد ہوگئے۔ تو امراوالقیس (رض) اسلام پر ڈٹے رہے اور مرتد نہیں ہوئے۔ رواہ ابن عساکر
46547- عن العرس بن عميرة الكندي قال: اختصم امرؤ القيس بن عابس الكندي ورجل من حضرموت فسأل الحضرمي البينة فلم يكن عنده بينة، فقضى على امرئ القيس باليمين، فقال له الحضرمي: يا رسول الله! قضيت عليه باليمين، ذهبت أرضي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من حلف على يمين فاجرة ليقتطع بها حق امرئ مسلم لقى الله وهو عليه غضبان، فقال امرؤ القيس: ما لمن ترك ذلك يا رسول الله؟ قال: الجنة، قال: فاشهد أن الأرض أرضه؛ فلما ارتدت كندة ثبت على الإسلام فلم يرتد. "كر".
তাহকীক: