কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قسموں اور نذروں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৯৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৫২০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46508” مسند صدیق “ ضحاک روافت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے وہ اس پر حرام نہیں ہوجائے گی البتہ اس پر کفارہ ہوگا۔ رواہ ھناد بن السری فی حدیثہ
46508- "مسند الصديق" عن الضحاك عن أبي بكر وعمر قالا: ايما رجل قال لامرأته: أنت علي حرام، فليست عليه حرام وعليه كفارة. "هناد بن السري في حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46509 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : لفظ ” حرام “ کا استعمال قسم کے زمرے میں آتا ہے اس کا کفارہ دیا جائے گا۔ رواہ عبدالرزاق والدارقطنی والبیہقی
46509- عن عمر قال: الحرام يمين يكفرها. "عب، قط، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46510 سالم روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) علم کی نفی پر قسم کھاتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
46510- عن سالم أن عثمان كان يحلف على نفي العلم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46511 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں ایسی چیز پر قسمکھاؤ جس میں تمہارا ساتھی تمہیں سچا کرسکے۔۔ رواہ ابن ابی شیبہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 6571
46511- عن عمر قال: يمينك على ما صدقك صاحبك. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46512 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : قسم ایک جرم ہے یا باعث ندامت ہے۔۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی تاریخہ وابوداؤد
46512- عن عمر قال: إن اليمين مأثمة أو مندمة. "ش، خ في تاريخه، د".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الیائ۔۔۔کتاب الیمین والنذر۔۔۔از قسم افعال ۔ یمین (قسم) کا بیان
46513 حارث بن برصاء لیثی کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حج کے موقع پر ارشاد فرماتے سنا آپ جمرتین کے درمیان چل رہے تھے آپ نے فرمایا : جس شخص نے اپنے بھائی کا کچھ حق جھوٹی قسم کھا کر چھینا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے حاضرین غائبین تک پہنچادیں، اور ایک دوسری روایت میں ہے ” جس شخص نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا کچھ مال چھینا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ رواہ ابونعیم
46513- عن الحارث بن برصاء الليثي قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في الحج وهو يمشي بين الجمرتين وهو يقول: "من اقتطع من مال أخيه شيئا بغير حق يأخذه بيمين فاجرة فليتبوأ مقعده من النار، فليبلغ شاهدكم غائبكم - وفي لفظ: "من أخذ شيئا من مال امرئ مسلم بيمين فاجرة فليتبوأ بيتا في النار". " أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46514 ابن عباس (رض) نے اس شخص کے بارے میں فرمایا : جو قسم میں یوں کہے کہ وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے یا مجوسی ہے یا اسلام سے بری الذمہ ہے یا اس پر اللہ کی لعنت ہو یا اس پر نذر ہے فرمایا کہ یہ یمین مغلظ ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46514- عن ابن عباس في الرجل يقول: هو يهودي أو نصراني أو مجوسي أو بريء من الإسلام أو عليه لعنة الله أو عليه نذر، قال: يمين مغلظة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46515 عثمان بن ابی حاضر کی روایت ہے کہ ایک عورت نے یوں قسم کھائی کہ میرا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ اور میری باندی آزاد اگر میں فلاں فلاں کام نہ کروں اس عورت نے ایسے کام پر قسم کھائی جسے اس کا شوہر ناگوار سمجھتا تھا چنانچہ اس مسئلہ کے بارے میں ابن عباس (رض) اور ابن عمر (رض) سے سوال کیا گیا : ان دونوں حضرات نے جواب دیا کہ باندی تو آزاد ہوگئی اور رہی بات اس کے مال کی سو وہ اپنے مال کی زکوۃ صدقہ کردے۔ رواہ عبدالرزاق
46515- عن عثمان بن أبي حاضر قال: حلفت امرأة فقالت: مالي في سبيل الله! وجاريتها حرة إن لم تفعل كذا وكذا - لشيء كرهه زوجها أن تفعله، فسئل عن ذلك ابن عباس وابن عمر فقالا: أما الجارية فتعتق، وأما قولها: ما لي في سبيل الله، فتصدق بزكاة مالها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46516 ابن عباس (رض) فرماتے ہیں جس شخص کے ذمہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کوئی غلام کا آزاد کرنا ہو وہ اسے رسوا نہیں کرتا مگر ہم سے۔ رواہ عبدالرزاق
46516- عن ابن عباس قال: من كانت عليه رقية من ولد إسماعيل لم يخزه إلا منا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46517 حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : قسم اس چیز پر کھاؤ جسے تم سچ ثابت کرسکو۔ رواہ عبدالرزاق
46517- عن عائشة قالت: اليمين على ما يصدقك به. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46518 ابن عمر (رض) جب کہتے : میں تمہارے اوپر اللہ کی قسم کھاتا ہوں اس شخص کے لیے مناسب نہ سمجھا جاتا کہ وہ قسم توڑے اگر وہ قسم توڑ دیتا تو آپ (رض) اس کا کفارہ ادا کرتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
46518- عن ابن عمر: إذا قال: أقسمت عليك بالله، فينبغي له أن لا يحنثه، فإن فعل كفر الذي حلف. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46519 ابو رافع کہتے ہیں : میری مالکہ نبلہ بنت عجماء نے قسم کھائی کہ اگر تم اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور اس کے اور اپنے درمیان تفریق نہ کرو تو اس کے سب غلام آزاد ، اس کا سارا مال صدقہ اور یہودیہ اور نصرانیہ ہو میں زینب بنت ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا۔ (چونکہ اس وقت فقہ کے حوالے سے اگر کسی عورت کا تذکرہ ہوتا تو زینب کا نام لیا جاتا) زینب میرے ساتھ میری مالکہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : کیا گھر میں ہاروت وماروت ہیں ؟ کہا : اے زینب ! اللہ تعالیٰ مجھ آپ پر قربان کرے مالکہ نے قسم کھائی ہے کہ اس کے سارے غلام آزاد وہ یہودیہ اور نصرانیہ ہے زینب نے کہا : یہ یہودیہ اور نصرانیہ ہے اس شخص اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو گویا انھوں نے اس کا عذر قبول نہ کیا : پھر میں اپنی مالکہ کے ساتھ حضرت حفصہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ام المومنین اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میری مالکہ نے قسم کھائی ہے کہ اس کا ہر غلام آزاد اس کا سارا مال صدقہ اور وہ یہودیہ ونصرانیہ ہوا حضرت حفصہ (رض) نے جواب دیا : یہ ہویدیہ اور نصرانیہ ہے اس شخص اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو گویا انھوں نے بھی قبول عذر سے انکار کردیا۔ اس کے بعد میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی خدمت میں حاضرہوا۔ وہ میرے ساتھ میرے گھر کی طرف تشریف لائے جب آپ (رض) نے فرمایا : کیا تو پتھر کی ہے یا لوہے کی بنی ہوئی ہو یا پھر کسی چیز کی ہو تجھے زینب نے فتویٰ دیا، ام المومنین نے فتویٰ دیا لیکن ان کے فتو وں کو تم نے قبول نہیں کیا عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے : میں نے قسم کھائی ہے کہ میرا ہر غلام آزاد میرا سب مال صدقہ اور میں یہودیہ اور نصرانیہ ہوں آپ نے فرمایا : یہودیہ اور نصرانیہ ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو جب کہ اس آدمی اور اس کی بیوی کا راستہ آزاد کردو۔۔ رواہ عبدالرزاق
46519- عن أبي رافع قال: قالت لي مولاتي نبلة ابنة العجماء: كل مملوك لها حر وكل مال لها هدى وهي يهودية ونصرانية إن لم تطلق امرأتك وتفرق بينك وبين امرأتك، فأتيت زينب بنت أم سلمة - وكان إذا ذكرت امرأة بفقه ذكرت زينب - فجاءت معي إليها فقالت: أفي البيت هاروت وماروت؟ فقال: يا زينب! جعلني الله فداك! إنها قالت: كل مملوك لها حر وهي يهودية ونصرانية، فقالت زينب: يهودية ونصرانية! خلى بين الرجل وامرأته، فكأنها لم تقبل ذلك؛ فلقيت حفصة فأرسلت معي إليها، فقال: يا أم المؤمنين! جعلني الله فداك! قالت: كل مملوك لها حر وكل مال لها هدى وهي يهودية ونصرانية، فقالت حفصة: يهودية ونصرانية! خلي بين الرجل وبين امرأته، فكأنها أبت؛ فأتيت عبد الله بن عمر فانطلق معي إليها، فلما سلم عرفت صوته فقالت: بأبي أنت وبأمي أبوك! فقال: أمن حجارة أنت أم من حديد أم من أي شيء أنت! أفتتك زينب وأفتتك أم المؤمنين فلم تقبلي منهما، قالت: يا أبا عبد الرحمن! جعلني الله فداك! إنها قالت: كل مملوك لها حر وكل مال لها هدي وهي يهودية ونصرانية، قال: يهودية ونصرانية! كفري عن يمينك، وخلي بين الرجل وامرأته. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46520 ثوری، ابوسلمہ ، وبرہ کی روایت ہے کہ عبداللہ (رض) نے فرمایا : (روای کہتا ہے مجھے یاد نہیں رہا آیا کہ وہ ابن مسعود ہیں یا ابن عمر ہیں) مجھے کہیں زیادہ محبوب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھاؤں بنسبت اس کے کہ میں غیر اللہ کی سچی قسم کھاؤ۔ رواہ عبدالرزاق
46520- عن الثوري عن أبي سلمة عن وبرة قال قال عبد الله - لا أدرى ابن مسعود أو ابن عمر - لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلي من أحلف بغيره صادقا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46521 ابومکتف کی روایت ہے کہ ابن مسعود (رض) ایک شخص کے پاس سے گزرے جب کہ وہ کہہ رہا تھا : سورت بقرہ کی قسم ! آپ (رض) سے ابومکتف نے عرض کیا : کیا آپ اس پر کفارہ سمجھتے ہیں فرمایا : خبردار ! اس پر ہر آیت کے بدلہ میں قسم آئی ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46521- عن أبي مكتف أن ابن مسعود مر برجل وهو يقول: وسورة البقرة! فقال: أتراه مكفرا! أما! إن عليه بكل آية منها يمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفریہ قسم کھانے پر لعنت
46522 ابن مسعود (رض) نے اس شخص کی بارے میں جو اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کردے فرمایا کہ اگر اس کی نیت طلاق کی ہو تو طلاق ہوگی ورنہ قسم ہوگی۔ رواہ عبدالرزاق
46522- عن ابن مسعود في الرجل يحرم امرأته قال: إن كان يرى طلاقا، وإلا فهي يمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46523” مسند صدیق “ زید بن وھب کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ایک عورت کے پاس آئے جو کسی طرح سے بھی باتیں نہیں کرنے پارہی تھی آپ (رض) نے اسے نہ چھوڑا حتیٰ کہ اس نے بات کی اور کہا : اے اللہ کے بندے ! تم کون ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں مہاجرین میں سے ہوں ۔ عورت بولی : مہاجرین بھی تو بہت سارے ہیں تمہارا تعلق کس قبیلہ سے ہے ؟ فرمایا : میں قریش سے ہوں عورت بولی : قریش بھی بہت سارے ہیں ان کی کس شاخ سے ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں ابوبکر ہوں عورت نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں : جاہلیت میں ہماری اور ایک قوم کے درمیان کچھ نزاع تھا میں نے قسم کھالی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں عافیت بخشی میں اس وقت تک کسی سے ۔ کلام نہیں کروں گی جب تک میں حج نہ کرلوں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اسلام نے اس رسم کو ختم کردیا ہے لہٰذا تم باتیں کرو ۔ رواہ البیہقی
46523- "مسند الصديق" عن زيد بن وهب عن أبي بكر الصديق أنه أتى امرأة فلم تكلمه، فلم يتركها حتى كلمته، قالت: يا عبد الله! من أنت؟ قال: من المهاجرين، قال: المهاجرون كثير، فمن أين أنت؟ قال: من قريش، قالت: قريش كثير، فمن أيهم أنت؟ قال أنا أبو بكر، قالت: بأبي أنت وأمي! كان بيننا وبين قوم في الجاهلية شيء فحلفت إن الله عافانا أن لا أكلم أحدا حتى أحج، قال إن الإسلام هدم ذلك فتكلمي. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46524 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے کسی چیز پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے جو بہتری والا کام ہو وہ کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46524- عن عمر: قال من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46525 یسار بن نمیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجھ سے فرمایا : میں قسم کھالیتا ہوں کہ میں لوگوں کو عطا نہیں کروں گا پھر صورت حال مجھ پر ظاہر ہوتی ہے تو میں لوگوں کو عطا کرنے لگتا ہوں جب میں ایسا کرتا ہوں تو دس مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہوں ہر مسکین کو ایک صاع جو یا ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع گیہوں دیتا ہوں۔۔ رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ وعبدبن حمید وابن جریر وابن النذر وابوالشیخ
46525- عن يسار بن نمير قال: قال لي عمر بن الخطاب إني لأحلف أن لا أعطي رجالا ثم يبدو لي فأعطيهم، فإذا رأيتني فعلت ذلك فأطعم عشرة مساكين، كل مسكين صاعا من شعير أو صاعا من تمر أو نصف صاعا من قمح. "عب، ش، وعبد بن حميد وابن جرير، وابن المنذر، وأبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46526 مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت عائشہ (رض) فرماتے ہیں جو شخص کسی چیز کی قسم کھائے یا اپنا مال مسکینوں کو صدقہ کرے یا مال کعبہ کی نذر کرے یہ قسم ہے اس کا کفارہ دیا جائے گا اور دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ رواہ البیہقی
46526- عن مجاهد قال قال عمر بن الخطاب وعائشة في الرجل يحلف بالشيء أو ماله في المساكين أو في رتاج الكعبة أنها يمين يكفرها طعام عشرة مساكين. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کا بیان
46527 ابن ابی لیلیٰ کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! مجھے سواری دیں۔ آپ (رض) نے کہا : اللہ کی قسم میں سواری نہیں دوں گا اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم آپ مجھے سواری دیں گے۔ چونکہ میں مسافر ہوں اور میری سواری مرگئی ہے چنانچہ آپ (رض) نے اس شخص کو سواری دے دی اور پھر فرمایا : جو شخص کسی چیز پر قسم کھائے اور پھر اس کے خلاف میں بہتری سمجھے تو اسے بہتر کام کرلینا چاہیے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ رواہ البیہقی
46527- عن ابن أبي ليلى قال: جاء رجل إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين احملني! قال: والله لا أحملك! قال: والله لتحملني! إني ابن سبيل قد أدت بي راحلتي، فحمله ثم قال: من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه. "ق".
তাহকীক: