কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০৩২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کعب بن اشرف :
30327 ۔۔۔ واقدی ابراہیم بن جعفر اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مروان بن حکم مدینہ کا گورنر تھا اور اس کے پاس ابن بابین نضری بیٹھا ہوا تھا : کعب بن اشرف کیسے قتل ہو بن بابین نے کہا : اس کا قتل ایک دھوکا اور غدر تھا حضرت محمد بن مسلمہ (رض) بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بوڑھے ہوچکے تھے انھوں نے فرمایا : اے مروان تیرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا باز کہلایا جا رہا ہے بخدا ہم نے کعب بن اشرف کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے قتل کیا ہے جبکہ مجھے اور تمہیں صرف مسجد کی چھت تلے پناہ ملی ہے اے ابن بابین ! اگر مجھے تم پر قدرت حاصل ہوئی اور میرے ہاتھ میں تلوار ہوئی میں تیرا سر قلم کروں گا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30327- الواقدي حدثني إبراهيم بن جعفر عن أبيه قال: قال مروان بن الحكم وهو على المدينة وعنده ابن بابين النضري: كيف كان قتل كعب بن الأشرف؟ قال ابن بابين: كان غدرا ومحمد بن مسلمة جالس شيخ كبير فقال: يا مروان أيغدر رسول الله صلى الله عليه وسلم عندك؟ والله ما قتلناه إلا بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يأويني وإياك سقف بيت إلا المسجد وأما أنت يا ابن بابين فلله علي لا قدرت عليك وفي يدي سيف إلا ضربت به رأسك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30328 ۔۔۔ ” مسند حشیش بن دیلمی “ ضحاک ، فیروز حشیش بن دیلمی کی روایت ہے کہ ہمارے پاس زبر بن یحنس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط لے کر آئے خط میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دین پر قائم اپنے جہاد کے لیے تیار رہنے اور اسود عنسی کی خبر لینے کا حکم دیا آپ نے ہمیں تاکید بھی کی کہ ہم آپ کو بروقت حالات سے آگاہ کرتے رہیں نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران کے عرب اور عرب میں رہنے والے عجمیوں کو بھی خطوط لکھے چنانچہ مختلف قبائل زیر کر لیے گئے اور اسود عنسی قتل ہوا اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت عطا فرمائی پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین واپس لوٹ آئے اور اپنی عملداریوں میں قیام پذیر ہوگئے ہم حضرت معاذ (رض) کی عملداری میں تھے ، معاذ (رض) ہمیں نماز پڑھاتے پھر ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا چنانچہ ہمارا خط جب پہنچا آپ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے ہمارے خط کا جواب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دیا ۔ (رواہ ابن ماجہ وسیف وابن عساکر)
30328- "مسند حشيش بن الديلمي" عن الضحاك عن فيروز عن حشيش بن الديلمي قال: قدم علينا زبر بن يحنس بكتاب النبي صلى الله عليه وسلم يأمرنا فيه بالقيام على ديننا والنهوض في الحرب والعمد في الأسود إما غيلة وإما مصادمة وأن نبلغ عنه من رأينا أن عنده نجدة أو دينا فعملنا في ذلك، وكتب النبي صلى الله عليه وسلم إلى أهل نجران إلى عربهم وساكني الأرض من غير العرب، فثبتوا وقتل الأسود، وأعز الله الإسلام وأهله، وتراجع أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إلى أعمالهم فاصطلحنا على معاذ فكان يصلي بنا وكتبنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم بالخبر، فأتاه الخبر من ليلته، وقدمت رسلنا وقد قبض النبي صلى الله عليه وسلم صبيحة تلك الليلة فأجابنا أبو بكر. "هـ"، سيف، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30329 ۔۔۔ عمرو بن یحییٰ بن وہب بن اکیدر (دومۃ الجندل کا بادشاہ) عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن اکیدر کو خط لکھا آپ کے پاس مہر نہیں تھی تاہم آپ نے ناخن سے مہر لگائی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30329- عن عمرو بن يحيى بن وهب بن أكيدر صاحب دومة الجندل عن أبيه عن جده قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ابن أكيدر ولم يكن معه خاتمه فختمه بظفره. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30330 ۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسری ، قیصر اور نجاشی کو خطوط لکھے جن کا مضمون یہ تھا : اما بعد ! ایسے کلمہ پہ آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم اللہ کے علاوہ کسی کو رب نہ مانیں اگر تم اس سے روگردانی کرو تو گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں سعید بن مسیب (رض) کہتے ہیں : کسری نے آپ کا نامہ مبارک چاق کردیا اور اس میں دیکھا تک نہیں اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوگا اور اس کی سلطنت بھی پاش پاش ہوگی ، رہی بات نجاشی کی سو اس نے ایمان لایا اور اس کے پاس جو لوگ موجود تھے وہ بھی ایمان لے آئے نجاشی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جوڑے ارسال کئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اپنے حال پر رہنے دو رہی بات قیصر کی سو اس نے نامہ مبارک پڑھا اور پھر کہا میں نے سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ایسا خط نہیں پڑھا جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہو پھر قیصر نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کو اپنے پاس بلایا یہ دونوں سرزمین شام میں تجارت کی غرض سے گئے تھے چنانچہ قیصر نے ان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مختلف سوالات کیے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اس کی اتباع کیسے لوگوں نے کی ہے انھوں نے جواب دیا عورتوں اور کمزور لوگوں نے اس کی اتباع کی ہے ایک سوال یہ بھی کیا کہ مجھے بتاؤ اس کے دین میں داخل ہو کر کوئی شخص اس کے دین سے نکلا بھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں قیصر بولا : یقیناً وہ شخص نبی برحق ہے وہ میری حکومت پر قبضہ کرلے گا اگر میں اس کے پاس ہوتا اس کے پاؤں دھوتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30330- عن سعيد بن المسيب قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى كسرى وقيصر والنجاشي أما بعد {تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} قال سعيد: فمزق كسرى الكتاب ولم ينظر فيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مزق ومزقت أمته، وأما النجاشي فآمن وآمن من كان عنده، وأرسل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بهدية حلة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اتركوه ما ترككم، وأما قيصر فقرأ كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هذا كتاب لم أسمع به بعد سليمان النبي، بسم الله الرحمن الرحيم ثم أرسل إلى أبي سفيان والمغيرة بن شعبة وكانا تاجرين بأرضه، فسألهما عن بعض شأن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسألهما من تبعه؟ فقالا: تبعه النساء وضعفة الناس فقال: أرأيتما الذين يدخلون معه يرجعون؟ قالا: لا قال: هو نبي ليملكن ما تحت قدمي لو كنت عنده لغسلت قدميه. "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30331 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زرعہ بن سیب ذی یزن کو خط لکھا خط کا مضمون یہ تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد ، محمد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے زرعہ بن ذی یزن کی طرف جب میرے قاصد بن تمہارے پاس آئیں تو میں تمہیں ان کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہوں ۔ (رواہ معاذ بن جبل وابن رواحۃ ومالک بن عبادۃ وعقبۃ بن غروان بن مندہ وابن عساکر)
30331- عن عروة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى زرعة بن سيف ذي يزن: بسم الله الرحمن الرحيم أما بعد من محمد النبي صلى الله عليه وسلم إلى زرعة بن ذي يزن إذا أتاكم رسلي فآمركم بهم خيرا. معاذ بن جبل وابن رواحة ومالك بن عبادة وعقبة بن نمر - ابن منده، "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30332 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسری قیصر اور دومہ کے اکیدر کو خطوط لکھے اور انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
30332- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى كسرى وقيصر وأكيدر دومة يدعوهم إلى الله. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30333 ۔۔۔ مسور بن مخرمہ روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی (رض) کو خط دے کر قیصر کے پاس بھیجا اور شجاع بن وہب کو منذر بن حارث بن ابی شمر غسانی کی طرف خط دے کر بھیجا ۔ (رواہ ابن عساکر وابن اسحاق)
30333- عن المسور بن مخرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه مع دحية بن خليفة الكلبي إلى قيصر، وبعث شجاع بن وهب إلى المنذر بن الحارث بن أبي شمر الغساني. "كر"، ابن إسحاق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30334 ۔۔۔ ابن شہاب عروہ بن زبیر کی سند سے مروی ہے کہ مسور بن مخرمہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ اور عسی (علیہ السلام) کا فرستادوں کے بھیجنے کے متعلق خبر دی اور حواریوں کے اختلاف عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکایت اور ہر حواری کا قوم کی زبان میں کلام کرنا اور مہاجرین کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کھڑا ہونا اور مہاجرین نے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ ہمیں حکم دیں اور آپ ہمیں اسی طرح بھیجیں کے متعلق خبر دی عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے کہا : دعوت کا معاملہ ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر عزم کرلیا ہے لہٰذا چلو اور دعوت دو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کی طرف سے یہ کام (دعوت کا کام) کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھیجیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے شجاع ! ہرقل کے پاس جاؤ اور تمہارے ساتھ دحیہ بن خلیفہ کلبی بھی جائے گا چونکہ وہ سرزمین شام سے بخوبی واقف ہے۔ (رواہ ابن عساکر) :
30334- عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة عن خطبة رسول الله صلى الله عليه وسلم وخبره عن بعث عيسى ابن مريم الحواريين واختلافهم عليه وشكيته ذلك إلى ربه وصياح كل امرئ منهم يتكلم بلسان الأمة الذي بعث إليها وقيام المهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقولهم لرسول الله صلى الله عليه وسلم: مرنا وابعثنا نحوا من هذا الحديث وقال عيسى ابن مريم للحواريين: هذا أمر قد عزم الله

لكم عليه فامضوا فافعلوا فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: نحن نؤدي عنك فابعثنا حيث شئت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذهب أنت يا شجاع ابن أبي وهب إلى هرقل وليذهب معك دحية بن خليفة الكلبي فإنه من تخوم الشام فلا بأس عليه. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30335 ۔۔۔ مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اے لوگو ! میری طرف سے اس فریضہ کو ادا کرو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اوپر رحمت کرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرح اختلاف نہیں کرنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسی چیز کی انھیں دعوت دی تھی جس کی میں تمہیں دعوت دیتا ہوں چنانچہ جس کی جگہ قریب ہوتی وہ اسے ناپسند کرتا عیسیٰ (علیہ السلام) نے رب تعالیٰ سے اس کی شکایت کی چنانچہ وہ لوگ جس قوم کی طرف بھیجے جاتے انہی کی زبان میں بات کرنے لگتے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس امر کا عزم کرلیا ہے چلو اور یہ کام کرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ کی طرف سے یہ کام کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھیجیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے شجاع بن ابی وہب تم ہرقل کے پاس جاؤ اور ساتھ دحیہ بن خلیفہ کلبی کو لیتے جاؤ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30335- عن المسور بن خرمة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله بعثني رحمة للعالمين كافة فأدوا عني رحمكم الله، ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عيسى فإنه دعاهم إلى مثل ما أدعوكم إليه، فأما من قرب مكانه فكرهه فشكا عيسى ابن مريم ذلك إلى الله تعالى، فأصبحوا وكل رجل منهم يتكلم بلسان القوم الذي وجه إليهم، فقال لهم عيسى: هذا أمر قد عزم الله لكم عليه فامضوا فافعلوا فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: نحن يا رسول الله نؤدي عنك فابعثنا حيث شئت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذهب أنت يا شجاع بن أبي وهب إلى هرقل، وليذهب معك دحية بن خليفة الكلبي فإنه من تخوم الشام فلا بأس عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30336 ۔۔۔ مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے میری طرف دعوت کا فریضہ ادا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمائے ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرف اختلاف نہیں کرنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں اسی چیز کی دعوت دی جس کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں چنانچہ جس حواری کو قریب کی جگہ میں بھیجتے وہ بخوشی چلا جاتا اگر دور بھیجتے تو بوجھل ہو کر بیٹھ جاتا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی چنانچہ ہر شخص جس قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ اسی قوم کی زبان میں بات کرنے لگا عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس امر کا تمہارے اوپر عزم کرلیا ہے لہٰذا تم چلو اور یہ کام کرو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کی طرف سے یہ کام کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھیجیں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن حذیفہ سہمی (رض) کو کسری کے دربار میں بھیجا سلیط بن عمر (رض) کو یمامہ کے بادشاہ ھوذہ بن علی کی طرف بھیجا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بن العاض (رض) کو عمان کے بادشاہاں جیفر اور عیاذ کے پاس بھیجا حضرت وحیہ (رض) کو قیصر کے پاس بھیجا حضرت شجاع ی سبھی قاصد بن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت سے پہلے واپس لوٹ آئے البتہ حضرت عمروبن العاص واپس نہ لوٹ سکے چنانچہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے وقت بحرین میں تھے (رواہ الدیلمی)
30336- عن المسور بن مخرمة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله بعثني رحمة للعالمين كافة فأدوا عني رحمكم الله ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عيسى فإنه دعاهم إلى مثل ما أدعوكم إليه، فأما من قرب مكانه فكرهه فشكا عيسى ابن مريم ذلك إلى الله تعالى، فأصبحوا وكل رجل منهم يتكلم بلسان القوم الذي وجه إليهم فقال لهم عيسى: هذا أمر قد عزم الله لكم عليه فامضوا فافعلوا فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: نحن يا رسول الله نؤدي عنك، فابعثنا حيث شئت، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن حذافة السهمي إلى كسرى، وبعث سليط بن عمرو إلى هوذة بن علي صاحب اليمامة، وبعث العلاء بن الحضرمي إلى المنذر بن ساوى صاحب هجر، وبعث عمرو بن العاص إلى جيفر وعياذ ابني الجلندي ملكي عمان، وبعث دحية إلى قيصر، وبعث شجاع بن وهب الأسدي إلى المنذر بن الحارث بن أبي شمر الغساني، وبعث عمرو بن أمية الضمري إلى النجاشي فرجعوا جميعا قبل وفاة النبي صلى الله عليه وسلم إلا عمرو بن العاص فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي وهو في البحرين. الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات :
30337 ۔۔۔ حضرت دحیہ کلبی (رض) کی روایت ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روم کے بادشاہ قیصر کے پاس خط دیے کر بھیجا چنانچہ میں نے روم پہنچ کر دربانوں سے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد کے لیے اجازت طلب کرو چنانچہ دربانوں نے قیصر سے کہا کہ دروازے پر ایک شخص ہے اس کا خیال ہے کہ وہ اللہ کے رسول کا قاصد ہے چنانچہ درباری سن کر ہکا بکا رہ گئے قیصر نے دربانوں سے کہا : اسے اندر لے آؤ میں اندر داخل ہوا اس کے پاس عیسائی مذہبی پیشوا بیٹھے ہوئے تھے میں نے اسے خظ دیا چنانچہ قیصر کو خط پڑھ کر سنایا گیا خط میں (بسم اللہ الرحمن الرحیم) لکھی ہوئی تھی اور اس کے بعد لکھا تھا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے قیصر شاہ روم کی طرف خط کی اس طرز سے قیصر کا بھتیجا جو سرخ نیلگوں آنکھوں وا الا اور سیدھے بالوں والا تھا چیں بجبیں ہوگیا اور کہا آج خط نہ پڑھا جائے چونکہ مرسل نے خط میں پہلے اپنا نام لکھا ہے اور پھر ملک روم کی بجائے صاحب روم لکھا ہے۔ بہرحال خط پڑھا گیا پھر دربار میں بیٹھے ہوئے مذہبی پیشواؤں کو وہاں سے چلے جانے کا کہا پھر مجھے اپنے پاس بلایا مجھ سے مخلتف سوالات کیے میں نے بحسن وخوابی اسے خبر دی پھر اس نے ایک پادری اپنے پاس بلایا اور جب پادری کو خط پڑھ کا سنایا گیا اس نے کہا اللہ کی قسم یہ وہی نبی آخر الزماں ہے جس کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیں خبر دی ہے اور جس کا ہم انتظار کر رہے تھے قیصر نے کہا تم مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ پادری نے کہا رہی بات میری میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کا اتباع اختیار کرتا ہوں قیصر نے کہا : میں جانتا ہوں کہ معاملہ یونہی ہے لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا چونکہ اگر میں نے ایسا کیا تو میری بادشاہت ختم ہوجائے گی اور رومی مجھے قتل کردیں گے ۔ (رواہ الطبرانی)
30337- عن دحية الكلبي بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قيصر صاحب الروم بكتاب فقلت: استأذنوا لرسول رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى قيصر فقيل له: إن على الباب رجلا يزعم أنه رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم، ففزعوا لذلك فقال: أدخله فأدخلني عليه وعنده بطارقة فأعطيته الكتاب فقرئ عليه، فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قيصر صاحب الروم فنخر ابن أخ له أحمرأزرق سبط فقال: لا تقرأ الكتاب اليوم لأنه بدأ بنفسه وكتب صاحب الروم ولم يكتب ملك الروم، فقرئ الكتاب حتى فرغ منه، ثم أمرهم فخرجوا من عنده ثم بعث إلي فدخلت عليه فسألني فأخبرته فبعث إلى الأسقف فدخل عليه فلما قرئ الكتاب عليه قال الأسقف: هو والله الذي بشرنا به موسى وعيسى الذي كنا ننتظر قال قيصر: فما تأمرني؟ قال الأسقف: أما أنا فإني مصدقه ومتبعه فقال قيصر: أعرف أنه كذلك لا أستطيع أن أفعل، إن فعلت ذهب ملكي وقتلني الروم. "طب".
tahqiq

তাহকীক: