কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০২৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30267 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ (رض) کو لشکر کا امیر مقرر کیا تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اسامہ (رض) کی امارت پر تنقید کر رہے ہیں تو آپ نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : خبردار ! شنید ہے کہ تم لوگ اسامہ کی امارت پر تنقید کر رہے ہو جبکہ تم لوگ قبل ازیں اس کے باپ پر بھی تنقید کرچکے ہو بلاشبہ اس کا باپ امارت کا سزاوار تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اس کے بعد اس کا بیٹا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا اس کے ساتھ بہتر سلوک کرو چونکہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔ سالم کہتے ہیں : ابن عمر (رض) نے جب بھی یہ حدیث سنائی ضرور کہا : بخدا ! سوائے فاطمہ (رض) کے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا کہ اسامہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے تو حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس سے فاطمہ (رض) کو مستثنی رکھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30267- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين أمر أسامة بن زيد وبلغه أن الناس عابوا إمارته، فطعنوا فيها فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فقال: ألا إنكم تعيبون أسامة وتطعنون في إمارته وقد فعلتم ذلك بأبيه من قبل، وإن كان لخليقا بالإمارة، وإن كان لأحب الناس كلهم إلي، وإن ابنه من بعده لأحب الناس إلي، فاستوصوا به خيرا، فإنه من خياركم، قال سالم: ما سمعت عبد الله بن عمر يحدث بهذا الحديث قط إلا قال: والله ما حاشا فاطمة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30268 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ سیف بن عمر ، زہری، ابو ضمرہ وابوعمرو غیرھما حسن ابن ابی الحسن سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات سے قبل ایک لشکر ترتیب دیا لشکر میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی شامل تھے اور حضرت اسامہ (رض) کو لشکر کا امیر مقرر کیا چنانچہ لشکر کے آخری فرد نے خندق عبور نہیں کر پائی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے اسامہ (رض) نے لشکر وہیں روک لیا اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ کے پاس واپس جائیں اور اجازت لیں کہ میں لشکر لے کر واپس آجاؤ چونکہ میرے ساتھ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں چونکہ مجھے خوف ہے کہ مشرکین مسلمانوں کو کوئی گزند نہ پہنچائیں انصار نے کہا : اگر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نہ مانیں تو ہماری بات ان تک پہنچا دیں کہ ہمارا امیر کسی ایسے شخص کو مقرر کریں جو عمر میں اسامہ سے بڑا ہو چنانچہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اسامہ (رض) کا پیغام لے کر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور انھیں اسامہ کا پیغام دیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر میرے بدن کو کتے اور بھیڑئیے نوچ نوچ کر کھا جائیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کیے ہوئے فیصلہ کو کسی قیمت رد نہیں کرسکتا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : مجھے انصار نے کہا ہے کہ آپ کو ان کا پیغام پہنچا دوں کہ آپ کسی ایسے شخص کو امیر مقرر کردیں جو عمر میں اسامہ سے بڑا ہو انصار اس کا مطالبہ کر رہے ہیں چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیٹھے ہوئے تھے جھٹ سے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا : اے ابن خطاب تیری ماں تجھے گم پائے اسامہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر مقرر کیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں اپنے معزول کر دوں چنانچہ عمر (رض) مایوس ہو کر لشکر میں واپس لوٹ آئے اور لوگوں سے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں چلو آگے بڑھو ، مجھے آج تمہاری وجہ سے خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سخت ڈانٹ پڑی ہے۔ پھر بذات خود سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) لشکر کے پاس تشریف لائے تاکہ لشکر کو رخصت کریں اور چند قدم بطور مشابہت کے لشکر کے ساتھ چلیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدل چل رہے تھے جبکہ اسامہ (رض) سوار تھے اور عبدالرحمن بن عوف (رض) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی سواری کو پکڑے چل رہے تھے اسامہ (رض) نے کہا : اے خلیفہ رسول یا تو آپ بھی سوار ہوجائیں یا پھر میں بھی نیچے اتر جاؤں گا ؟ فرمایا : بخدا ! تم نیچے نہ اترو بخدا میں سوار نہیں ہوں گا میں تو اس لیے پیدل چل رہا ہوں تاکہ گھڑی بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں میرے قدم غبار آلود ہوں چنانچہ مجاہد کے لیے ہر قدم کے بدلہ میں سات سو نیکیاں لکھنی جاتی ہیں اور سات سو برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اس کے بعد فرمایا : اگر تم سے ہو سکے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو میری مدد کے لیے چھوڑ دو چنانچہ اسامہ (رض) نے اجازت دے دی پھر آپ (رض) نے لشکر کو مخاطب کرکے فرمایا : اے لوگو ! رک جاؤ میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں انھیں یاد رکھو خیانت مت کرو ، مال غنیمت میں دھوکا مت کرو ، غدر سے اجتناب کرو لاشوں کا مثلہ نہیں کرنا چھوٹے بچے کو قتل نہیں کرنا نہ ہی بوڑھے کو قتل کرنا عورت کو بھی قتل نہیں کرنا باغات نہ کاٹنا اور نہ باغات جلانا پھلدار درخت بھی نہیں کاٹنا بکری گائے اور اونٹ کو ذبح نہ کرنا ہاں اگر انھیں ذبح کرو تو کھاؤ عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جو گرجوں میں پڑے ہوں گے انھیں اپنے حال پر رہنے دینا عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو تمہارے پاس برتن لائیں گے جو طرح طرح کے کھانوں سے سجیہوں گے جب تم اس سے کھاؤ تو اللہ تعالیٰ کا نام لو عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جنہوں نے اپنے سر درمیان سے مونڈھے ہوں گے اور اطراف سے چھوڑے ہوں گے تو تلواروں سے انھیں کچل دینا اب اللہ کا نام لے کر چل پڑو اللہ تعالیٰ تمہیں طعن وطاعون سے محفوظ رکھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30268- "مسند الصديق" سيف بن عمر عن الزهري عن أبي ضمرة وأبي عمر وغيرهما عن الحسن بن أبي الحسن قال: ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا قبل وفاته على أهل المدينة ومن حولهم وفيهم عمر بن الخطاب وأمر عليهم أسامة بن زيد فلم يجاوز آخرهم الخندق حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فوقف أسامة بالناس ثم قال لعمر: ارجع إلى خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنه يأذن لي فأرجع بالناس فإن معي وجوه الناس ولا آمن على خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم وثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأثقال المسلمين أن يتخطفهم المشركون وقالت الأنصار: فإن أبى إلا أن نمضي فأبلغه عنا واطلب إليه أن يولي أمرنا رجلا أقدم سنا من أسامة، فخرج عمر بأمر أسامة فأتى أبا بكر فأخبره بما قال أسامة، فقال أبو بكر، لو اختطفتني الكلاب والذئاب لم أرد قضاء قضاه رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: فإن الأنصار أمروني أن أبلغك أنهم يطلبون إليك أن تولي أمرهم رجلا أقدم سنا من أسامة، فوثب أبو بكر وكان جالسا، فأخذ بلحية عمر وقال: ثكلتك أمك وعدمتك يا ابن الخطاب استعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم وتأمرني أن أنزعه، فخرج عمر إلى الناس فقالوا له: ما صنعت؟ فقال: امضوا ثكلتكم أمهاتكم ما لقيت من سببكم اليوم من خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم خرج أبو بكر حتى أتاهم فأشخصهم وشيعهم وهو ماش وأسامة راكب وعبد الرحمن بن عوف يقود دابة أبي بكر فقال له أسامة: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم لتركبن أو لأنزلن؟ فقال: والله لا تنزل ووالله لا أركب وما علي أن أغبر قدمي ساعة في سبيل الله فإن للغازي بكل خطوة يخطوها سبعمائة حسنة تكتب له وسبعمائة درجة ترفع له، وتمحى عنه سبعمائة خطيئة حتى إذا انتهى قال له: إن رأيت أن تعينني بعمر بن الخطاب فأفعل، فأذن له وقال: يا أيها الناس قفوا أوصيكم بعشر فاحفظوها عني: لا تخونوا، ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا، ولا تقتلوا طفلا صغيرا، ولا شيخا كبيرا، ولا امرأة، ولا تعقروا نخلا، ولا تحرقوه، ولا تقطعوا شجرة مثمرة، ولا تذبحوا شاة ولا بقرة ولا بعيرا إلا لمأكلة، وسوف تمرون بأقوام قد فرغوا أنفسهم في الصوامع فدعوهم وما فرغوا أنفسهم له، وسوف تقدمون على أقوام يأتونكم بآنية فيها ألوان الطعام، فإذا أكلتم منها شيئا بعد شيء فاذكروا اسم الله عليه، وسوف تلقون أقواما قد فحصوا أوساط رؤوسهم وتركوا حولها مثل العصائب، فاخفقوهم بالسيوف خفقا، اندفعوا باسم الله أغناكم الله بالطعن والطاعون. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30269 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ ابن عائذ ولید بن مسلم عبداللہ بن لہیہ ابو اسود کی سند سے عروہ کی روایت ہے کہ جب مسلمان سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دست حق پرست پر بیعت کرنے سے فارغ ہوئے تو آپ (رض) نے اسامہ (رض) سے فرمایا : اپنی اس مہم کے لیے چلو جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں حکم دیا تھا مہاجرین اور انصار میں سے کچھ حضرات نے آپ (رض) سے بات کی کہ فی الحال حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسامہ (رض) اور ان کے لشکر کو روک لیں چونکہ ہمیں ڈر ہے کہ عرب ہمارے اوپر پل نہ پڑیں چونکہ جب عرب کے طول وعرض میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر پھیلے گی لوگ اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی شخصیت زبردست معاملہ فہم تھی فرمایا ! میں اس لشکر کو روک لوں جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھیجا ہے تب تو میں بڑی جرات کر بیٹھوں گا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر سبھی عرب مجھ پر ٹوٹ پڑیں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسامہ کے لشکر کو روک لوں جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھیجا ہے اے اسامہ تم اپنے لشکر کو لے کر چلو اور وہاں پہنچ جاؤ جہاں جہاد کرنے کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں حکم دیا ہے ، یعنی فلسطین اور موتہ کی طرف البتہ اگر تم بہتر سمجھو تو عمر کو اپنے دو میں ان سے مشورہ لوں گا اور میری مدد کریں گے حضرت اسامہ بن زید (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو چھوڑ دیا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت کی خبر سن کر عام عرب دین سے پھرگئے اسی طرح عامہ اہل مشرق غطفان ، بنو اسد اور عامہ اشجع بھی دین اسلام سے برگشتہ ہوگئے البتہ بنی طے اسلام پر ڈٹے رہے ان حالات کے پیش نظر عام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ابوبکر (رض) سے کہا کہ آپ اسامہ اور ان کے لشکر کو روک لیں اور فی الحال انھیں غطفان اور دیگر مرتدین عرب کی سرکوبی کے لیے بھیجیں ابوبکر (رض) نے صاف انکار کردیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تم لوگوں سے جدا ہوئے چند دن ہوئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے مشورہ لیتے تھے اس پر تمہارے اوپر کوئی حجت نازل نہیں ہوئی تم مشورہ دیتے رہے میں نے بھی تم سے مشورہ لیا ہے تمہیں جو ہدایت والی راہ ملے اس کا امتثال کرو اللہ تعالیٰ تمہیں اس گمراہی پر جمع نہیں کرے گا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں جہاد سے افضل کوئی کام نہیں سمجھتا حتی کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بکری کی رسی دیتا تھا اور اب وہ اس سے انکار کرے گا میں اس سے بھی جہاد کروں گا چنانچہ سبھی مسلمانوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رائے پر سر جھکا لیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30269- "مسند الصديق" ابن عائذ حدثنا الوليد بن مسلم عن عبد الله بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال: لما فرغوا من البيعة واطمأن الناس قال أبو بكر لأسامة: امض لوجهك الذي بعثك له رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمه رجال من المهاجرين والأنصار وقالوا: أمسك أسامة وبعثه فإنا نخشى أن تميل علينا العرب إذا سمعوا بوفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو بكر وكان أحزمهم أمرا: أنا أحبس جيشا بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد اجترأت على أمر عظيم فوالذي نفسي بيده لأن تميل علي العرب أحب إلي من أن أحبس جيشا بعثهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، امض يا أسامة في جيشك للوجه الذي أمرت به، ثم اغز حيث أمرك رسول الله صلى الله عليه وسلم من ناحية فلسطين وعلى أهل مؤتة، فإن الله سيكفي ما تركت، ولكن إن رأيت أن تأذن لعمر بن الخطاب فأستشيره وأستعين به، فإنه ذو رأي ومناصح للإسلام فافعل، ففعل أسامة ورجع عامة العرب عن دينهم وعامة أهل المشرق وغطفان وبنو أسد وعامة أشجع وتمسك طيء بالإسلام وقال عامة أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمسك أسامة وجيشه ووجههم نحو من ارتد عن الإسلام من غطفان وسائر العرب، فأبى ذلك أبو بكر وقال: إنكم قد علمتم أنه قد كان من عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم في المشورة فيما لم يمض من نبيكم فيه سنة ولم ينزل عليكم به كتاب وقد أشرتم وسأشير عليكم فانظروا أرشد ذلك فائتمروا به فإن الله لن يجمعكم على ضلالة، والذي نفسي بيده ما أرى من أمر أفضل في نفسي من جهاد من منع عنا عقالا كان يأخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فانقاد المسلمون لرأي أبي بكر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30270 ۔۔۔ ” مسند حسین بن علی “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوقت وفات تین چیزوں کی وصیت کی (1) حضرت اسامہ بن زید (رض) کا لشکر بہرحال روانہ کیا جائے ۔ (2) مدینہ میں دین اسلام کا نام لیوا ہی رہے کسی دوسرے دین کے پیروکار کو نکال باہر کیا جائے محمد کہتے ہیں تیسری بات میں بھول گیا ہوں ۔ (رواہ الطبرانی عن محمد بن علی بن حسین عن ابیہ عن جدہ) فائدہ : ۔۔۔ دوسری روایت میں ہے کہ تیسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ میرے بعد اختلاف نہ کیا جائے یا نماز کی پابندی کی وصیت کی یا جہاد کرنے کی وصیت کی ۔
30270- "مسند الحسين بن علي" أوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته بثلاث: أوصى أن ينفذ جيش أسامة، ولا يسكن معه المدينة إلا أهل دينه قال محمد: ونسيت الثالثة. "طب" عن محمد بن علي بن حسين عن أبيه عن جده.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30271 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ کا لشکر روانہ کیا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرض الوفات کی وجہ سے لشکر جرف سے آگے نہ جاسکا نیز مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے بھی اپنی جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا تھا بعض لوگ اسامہ (رض) کی امارت پر بھی تنقید کر رہے تھے حتی کہ بیماری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے سر درد کی وجہ سے سر مبارک پر پٹی باندھ رکھی تھی آپ نے فرمایا : میں نے عائشہ (رض) کے گھر میں خواب دیکھا ہے میں دیکھتاہوں کہ میرے بازوؤں میں سونے کے دو کنگن ہیں میں نے انھیں سخت ناپسند کیا اور پھینک دیئے میں نے ان کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی ہے یعنی صاحب یمامہ اور صاحب یمن میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ اسامہ کی امارت پر تقید کر رہے ہیں بخدا قبل ازیں لوگ اس کے باپ کی امارت پر بھی تنقید کرچکے ہیں بلاشبہ اس کا باپ امارت کا سزاوار تھا اور اسامہ بھی امارت کا سزوار ہے لہٰذا اسامہ کے لشکر کو چلتا کرو پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا چنانچہ اسامہ (رض) نے مدینہ سے نکل کر مقام جرف میں پڑاؤ ڈال لیا اسی اثناء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض میں شدت آگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحت یابی کے انتظار میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا ۔ (رواہ سیف و ابن عساکر)
30271- عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم قد ضرب بعث أسامة ولم يستتب لوجع النبي صلى الله عليه وسلم ولخلع مسيلمة والأسود وقد أكثر المنافقون في تأمير أسامة حتى بلغ النبي صلى الله عليه وسلم فخرج عاصبا رأسه من الصداع لذلك من الشأن ولبشارة أريها في بيت عائشة وقال: إني رأيت البارحة فيما يرى النائم في عضدين سوارين من ذهب فكرهتهما فنفختهما فطارا فأولتهما هذين الكذابين صاحب اليمامة وصاحب اليمن، وقد بلغني أن أقواما يقولون في إمرة أسامة ولعمري لئن قالوا في إمارته لقد قالوا في إمارة أبيه من قبله، وإن كان أبوه لخليقا لها وإنه لها لخليق فأنفذوا بعث أسامة وقال: لعن الله الذين يتخذون قبور أنبيائهم مساجد". فخرج أسامة فضرب بالجرف وثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يستتم الأمر انتظر أولهم آخرهم حتى توفى الله نبيه صلى الله عليه وسلم. سيف، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30272 ۔۔۔ ” مسند اسامہ “ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں ابنی پر حملہ کروں اور ان کے اموال جلاؤں ۔ (رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد الطیالسی والشافعی واحمد بن حنبل وابو داؤد وابن ماجہ والبغوی والطبرانی)
30272- "مسند أسامة" عن أسامة قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أغير على أبنى صباحا وأحرق. "ق، ط" والشافعي، حم، د، هـ" والبغوي، "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30273 ۔۔۔ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لشکر کا امیر مقرر کیا ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد)
30273- "أيضا" استعملني النبي صلى الله عليه وسلم على سرية. "قط" في الأفراد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30274 ۔۔۔ ” حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دومۃ الجندل کی طرف ایک سریہ روانہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اکیدر کو بستی سے باہر شکار کرتا دیکھو گے چنانچہ سریہ مہم سر کرنے چل پڑا اور اکیدر کو اسی حال میں پایا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : مسلمان اکیدر کو پکڑ لائے اور مدینہ میں مسلمانوں کے پاس آوارد ہوئے مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اکیدر سے کہا : میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں بتاؤ کیا تم اپنی کتابوں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر پاتے ہو ؟ وہ وبولا ! نہیں جبکہ اس کے پہلو میں ایک شخص کھڑا تھا وہ بولا : ہم اپنی کتاب میں محمد کا ذکر پاتے ہیں۔ اسی شخص نے ابوبکر (رض) سے کہا : اے ابوبکر (رض) کیا ان لوگوں نے ابھی ابھی کفر نہیں کردیا فرمایا جی ہاں پس تم خاموش رہو تم بھی عنقریب کفر پر اتر آؤ گے چنانچہ وہ شخص خاموش ہو کر گھر میں داخل ہوگیا چنانچہ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کردیا ایک شخص نے کہا : میں نے تجھے دومتہ الجندل میں کہتے سنا ہے کہ تم عنقریب کفر پر اتر آؤ گے اور یہ مسیلمہ کا خروج ہے کہا : نہیں البتہ وہ آخر زمانہ میں ہوگا ۔ (رواہ ابن مندہ والحاملی فی امالیہ وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
30274- عن حذيفة "أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعثا إلى دومة الجندل فقال: إنكم ستجدون أكيدر خارجا يتصيد الصيد فخذوه، فانطلقوا فوجدوه كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذوه وعلموا أهل المدينة وأشرفوا على المسلمين يكلمونهم، فقال رجل من المسلمين: أذكرك الله هل تجدون محمدا في كتابكم؟ فقال: لا فقال رجل إلى جنبه: إنا نجده في كتابنا فقال الرجل لأبي بكر: يا أبا بكر أليس قد كفر هؤلاء الآن؟ قال: بلى فاسكت وأنتم سوف تكفرون وسكت الرجل ودخل البيت وخرج مسيلمة يتنبأ فقال رجل: سمعتك تقول ونحن بدومة الجندل وأنتم سوف تكفرون، وذلك خروج مسيلمة فقال: لا ولكن في آخر الزمان.
ابن منده والمحاملي في أماليه وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
ابن منده والمحاملي في أماليه وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30275 ۔۔۔ حضرت خالد بن ولید (رض) کی روایت ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف دستہ دے کر بھیجا اور فرمایا : تم عرب کی جس بستی کی پاس سے گزرو اگر ان کی اذان کی آواز سنو تو ان سے تعرض مت کرو ، اگر اذان کی آواز نہ سنو تو انھیں اسلام کی دعوت دو اگر اسلام قبول نہ کریں ان پر چڑھائی کر دو ۔ (رواہ الطبرانی عن خالد بن سعید بن العاص)
30275- "من مسند خالد بن الوليد" " بعثني النبي صلى الله عليه وسلم إلى اليمن فقال: من مررت به من العرب فسمعت فيهم الأذان فلا تعرض له، ومن لم تسمع فيهم الأذان فادعهم إلى الإسلام فإن لم يجيبوا فجاهدهم. "طب" عن خالد بن سعيد بن العاصي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30276 ۔۔۔ ” مسند بجیر بن بجرہ طائی “ ابو معارک شماخ بن معارک بن مرہ بن صخر بن بجیر بن بجرہ معارک بن مرہ بن ضحر ، مرہ بن ضحر کی سند سے یجیر بن نجبرہ (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو دومتہ الجندل کے بادشاہ اکیدر کی طرف لشکر دے کر بھیجا میں بھی اس لشکر میں شامل تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے نیل گائے کا شکار کرتے پاؤں گے چنانچہ ہم نے اکیدر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشنگوئی کے عین مطابق پایا چاندنی رات میں وہ باہر شکار کے لیے نکلا تھا ہم نے اکیدر کو پکڑ لیا اور اس کا بھائی ہمارے مقابلے پہ اتر آیا ہم نے اسے قتل کردیا اس نے دیباج کی قباء پہن رکھی تھی خالد (رض) نے یہ قباء نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیج دی جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے یہ اشعار کہے ۔ تبارک سائق البقرات انی رایت اللہ یھدی کل ھاد : فمن یک عائدا عن ذی تبوک فانا قد امرنا بالجھاد : گائیوں کو ہانکنے والی ذات بڑے برکت والی ہے میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیا ہے کہ وہ ہر ہادی کو ہدایت دیتا ہے جو بھی تبوک والے سے واپس لوٹے گا ہمیں تو جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم (رض) نے یہ اشعار سن کر فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے دانتوں کو گرنے سے محفوظ رکھ ، چنانچہ بجیر (رض) کی عمر نوے سال ہوئی اور ان کے منہ میں کوئی دانت ہلا تک نہیں اور نہ کوئی داڑھ ہلنے پائی ۔ (رواہ ابونعیم وابن مندہ وابن عساکر)
30276 - "مسند بجير بن بجرة الطائي" عن أبي المعارك الشماخ بن المعارك بن مرة بن صخر بن بجير بن بجرة قال: حدثني أبي عن جدي عن أبيه بجير بن بجرة قال: كنت في جيش خالد ابن الوليد حين بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أكيدر ملك دومة الجندل فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إنك تجده يصيد البقر" قال فوافيناه في ليلة مقمرة، قد خرج كما نعته رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذناه وقتلنا أخاه كان قد حاربنا وعليه قباء ديباج، فبعث به خالد إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما أتينا النبي صلى الله عليه وسلم أنشدته:
تبارك سائق البقرات إن ... رأيت الله يهدي كل هاد
فمن يك عائدا عن ذي تبوك ... فإنا قد أمرنا بالجهاد
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يفضض الله فاك" قال: فأتت عليه تسعون سنة ما تحركت له سن ولا ضرس. أبو نعيم وابن منده، "كر".
تبارك سائق البقرات إن ... رأيت الله يهدي كل هاد
فمن يك عائدا عن ذي تبوك ... فإنا قد أمرنا بالجهاد
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يفضض الله فاك" قال: فأتت عليه تسعون سنة ما تحركت له سن ولا ضرس. أبو نعيم وابن منده، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30277 ۔۔۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ مجھے یزید بن رومان اور عبداللہ بن ابی بکر نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو دومہ کے بادشاہ اکیدر بن عبدالملک کندی کی طرف بھیجا اور ان سے فرمایا ، تم اسے نیل گائے شکار کرتے ہوئے پاؤں گے خالد (رض) تشریف لے گئے اور جب اکیدر کے قلعہ کے قریب پہنچے تو چاندنی رات میں اس سے ملے وہ اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ باہر گھوم رہا خالد (رض) نے اسے گرفتار کرلیا اس کا بھائی مقابلے پہ اتر آیا اور مقتول ہوا پھر خالد (رض) اکیدر کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی جان بخشی کی اور جزیے پر اس سے صلح کرلی پھر اسے رہا کردیا اور وہ اپنی بستی میں واپس لوٹ آیا ، چنانچہ قبیلہ طی کے بجیر بن بجرہ نامی ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خالد (رض) سے کہے ہوئے فرمان کہ ” تم اکیدر کو نیل گائے شکار کرتے پاؤ گے “ کا تذکرہ کیا اور یہ اشعار کئے ۔ تبارک سائق البقرات لیلا کذاک اللہ یھدی کل ھاد فمن یک عائذا عن ذی تبوک فاناقدامرنا بالجھاد : (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وابن عساکر قال ابن مندہ ھذا حدیث مرسل فی المغازی)
30277- قال ابن إسحاق حدثني يزيد بن رومان وعبد الله بن أبي بكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد إلى أكيدر بن عبد الملك رجل من كندة كان ملكا على دومة وكان نصرانيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لخالد: " إنك ستجده يصيد البقر" فخرج خالد حتى إذا كان من حصنه بمنظر العين وهي ليلة مقمرة فلقيه في ركب من أهل بيته فأخذه وقتل أخاه حسانا وقدم بالأكيدر على رسول الله صلى الله عليه وسلم فحقن له دمه وصالحه على الجزية، ثم خلى سبيله فرجع إلى قريته فقال رجل من طييء يقال له بجير بن بجرة فذكر قول رسول الله صلى الله عليه وسلم لخالد إنك ستجده يصيد البقر تلك الليلة حتى
أخرجه لتصديق قول رسول الله صلى الله عليه وسلم:
تبارك سائق البقرات ليلا ... كذاك الله يهدي كل هاد
فمن يك عائدا عن ذي تبوك ... فإنا قد أمرنا بالجهاد
ابن منده وأبو نعيم، "كر"؛ قال ابن منده: هذا حديث مرسل في المغازي.
أخرجه لتصديق قول رسول الله صلى الله عليه وسلم:
تبارك سائق البقرات ليلا ... كذاك الله يهدي كل هاد
فمن يك عائدا عن ذي تبوك ... فإنا قد أمرنا بالجهاد
ابن منده وأبو نعيم، "كر"؛ قال ابن منده: هذا حديث مرسل في المغازي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30278 ۔۔۔ خالد بن سعید بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خط دے کر روم کے بادشاہ قیصر کے پاس بھیجا جب میں قیصر کے دربار میں پہنچا میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد کو اجازت دو قیصر کو اطلاع کی گئی کہ دروازے پر ایک شخص سے اس کا دعوی ہے کہ وہ اللہ کے رسول کا قاصد ہے درباری سن کر ہکا بکا رہ گئے اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی قیصر نے دربان سے کہا : اسے اندر داخل کرو دربان مجھے اندر لے گیا قیصر کے پاس اس کے وزراء اور مشیر بیٹھے ہوئے تھے میں نے اسے نامہ والا دیا قیصر کو نامہ مبارک پڑھ کر سنایا گیا خط میں لکھا تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم محمداللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے قیصر صاحب روم کی طرف اس پر قیصر کے ایک بھتیجے نے جو گورا نیلگوں آنکھوں والا اور سیدھے لمبے بالوں والا تھا نے کہا : آج خط نہ پڑھا جائے چونکہ خط کے مرسل نے خط کی ابتداء اپنے نام سے کی ہے اور پھر ملک روم (روم کا بادشاہ) کی بجائے صاحب روم لکھا ہے ، چنانچہ خط پڑھا گیا اور ختم کردیا گیا پھر قیصر نے دربار میں موجودین کو چلے جانے کا حکم دیا پھر پیغام بھیج کر مجھے اپنے پاس بلایا مجھ سے خط کے متعلق دریافت کیا میں نے اسے خبر کی پھر اس نے ایک پادری اپنے پاس بلوایا جب پادری نے خط پڑھا بولا : اللہ کی قسم یہ وہی پیغمبر ہے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیں بشارت دی ہے اور جس کے آج تک ہم منتظر تھے قیصر نے کہا : تم مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ پادری نے کہا میں تو اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی اتباع کرتا ہوں قیصر نے کہا : میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ کا رسول پر حق ہے لیکن میں اس کی اتباع کی طاقت نہیں رکھتا چونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو میری بادشاہت ختم ہوجائے گی اور رومی مجھے قتل کردیں گے ۔ (رواہ الطبرانی عن دحیہ کلبی (رض))
30278- عن خالد بن سعيد بن العاص أيضا بعثني النبي صلى الله عليه وسلم إلى قيصر صاحب الروم بكتاب فقلت: استأذنوا لرسول رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى قيصر فقيل له: إن على الباب رجلا يزعم أنه رسول رسول الله ففزعوا لذلك فقال: أدخله فأدخلني عليه وعنده بطارقته فأعطيته الكتاب فقرئ عليه فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قيصر صاحب الروم فنخر ابن أخ له أحمر أزرق سبط فقال: لا يقرأ الكتاب اليوم لأنه بدأ بنفسه وكتب صاحب الروم ولم يكتب ملك الروم، فقرئ الكتاب حتى فرغ منه ثم أمرهم فخرجوا من عنده، ثم بعث إلي فدخلت عليه فسألني فأخبرته، فبعث إلى الأسقف فدخل عليه، فلما قرأ الكتاب قال الأسقف: هو والله الذي بشرنا به موسى وعيسى الذي كنا ننتظره قال قيصر: فما تأمرني؟ قال الأسقف: أما أنا فإني مصدقه ومتبعه فقال قيصر: أعرف أنه كذلك ولكن لا أستطيع أن أفعل، إن فعلت ذهب ملكي وقتلني الروم. "طب" عن دحية الكلبي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30279 ۔۔۔ ” مسند ابی سائب خباب “ حضرت خریم بن اوس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ حیرہ کی سرزمین مجھے دکھائی گئی میں نے شیماء بنت نفیلہ ازدیہ کو سفید خچر پر سوار دیکھا ہے اس نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم سرزمین حیرہ میں داخل ہوئے اور میں نے شیماء کو اسی حالت میں پالیا تو وہ میری ہوجائے گی آپ نے فرمایا : اچھا وہ تمہاری ہوئی چنانچہ آپ کی رحلت کے بعد عرب اسلام سے پھرگئے لیکن بنی طے کا کوئی شخص بھی مرتد نہ ہوا ہم قیس سے اسلام پر لڑتے رہے ان میں عینیہ بن حصن بھی تھا اسی طرح ہم بنی اسد سے بھی لڑتے رہے ان میں طلحہ بن خویلد فقعسی بھی تھا : پھر خالد (رض) مسلیمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوئے میں بھی ان کے ساتھ تھا جب ہم مسلیمہ کذاب اور اس کے اتباع سے فارغ ہوئے تو ہم نے بقر کے مضافات کی خبر لی کا ظمیہ میں ہر مزجم غفیر کے ساتھ ہمارا مقابل ہوا خالد (رض) نے اسے قتل کردیا اور تمام احوال سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو لکھ بھیجے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ہرمز کا سازوسامان خالد (رض) کو انعام میں دیا پھر ہم طف کے راستے پر چلے اور حیرہ میں داخل ہوئے اور حیرہ میں سب سے پہلے ہماری جس سے ملاقات ہوئی وہ شیماء بنت نفیلۃ ازدیہ تھی وہ سفید خچر پر سوار تھی اور اس نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا تھا میں فورا شیماء کے ساتھ لپٹ گیا اور میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عورت مجھے ہبہ کی ہے خالد (رض) نے مجھ سے گواہ طلب کیے میں نے گواہ پیش کیے خالد (رض) نے شیماء میرے حوالے کردی ۔ (رواہ الطبرانی عن حریم بن اوس)
30279- "مسند أبي السائب خباب" عن خريم بن أوس سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "هذه الجيرة البيضاء قد رفعت لي وهذه الشيماء بنت نفيلة الأزدية على بغلة شهباء معتجرة بخمار أسود فقلت: يا رسول الله وإن نحن دخلنا الحيرة ووجدتها على هذه الصفة فهي لي؟ قال: هي لك"، ثم ارتد العرب فلم يرتد أحد من طيئ وكنا نقاتل قيسا على الإسلام وفيهم عيينة بن حصن وكنا نقاتل بني أسد وفيهم طلحة بن خويلد الفقعسي، ثم سار خالد إلى مسيلمة فسرنا معه، فلما فرغنا من مسيلمة وأصحابه أقبلنا إلى ناحية البقرة فلقينا هرمز بكاظمة في جمع عظيم فبرز له خالد بن الوليد، ودعا إلى البراز فبرز له هرمز فقتله خالد وكتب بذلك إلى أبي بكر فنفله سلبه، ثم سرنا على طريق الطف، حتى دخلنا الحيرة فكان أول من تلقانا فيها شيماء بنت نفيلة الأزدية على بغلة لها شهباء بخمار أسود كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فتعلقت بها وقلت: هذه وهبها لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعاني خالد عليها البينة، فأتيته بها فسلمها إلي. "طب" عن خريم بن أوس
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30280 ۔۔۔” مسند ابن عباس “ واقدی ، ابن ابی حبیبہ ، داؤد بن حصین عکرمہ ، ابن عباس ، ومحمد بن صالح ، عاصم بن عمر بن قتادہ ومعاذ بن محمد ، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ واسماعیل بن ابراہیم موسیٰ بن عقبہ ان تمام اسناد سے حدیث مروی ہے اور اس کا اساس ابن ابی حبیبہ کی حدیث ہے روایت یہ ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو چار سو بیس شہسواروں کے لشکر کا امیر مقر کرکے بسوئے تبوک دومۃ الجندل کے بادشاہ اکیدر بن عبد الملک کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا اکیدر کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا اور نصرانی تھا خالد (رض) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اکیدر کو اپنی گرفت میں کیسے لیے سکتا ہوں حالانکہ وہ کلب کے علاقوں کے بیچوں بیچ ہے ، جبکہ میرے پاس تھوڑی سی جمعیت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اکیدر کو نیل گائے شکار کرتے پاؤ گے اسے گرفتار کرلینا حضرت خالد (رض) کا نام لے کر چل پڑے ، جب اکیدر کے قلعہ کے قریب پہنچے چاندنی رات تھی اور سماں واضح دکھائی دیتا تھا اکیدر گرمی سے بچاؤ کے لیے قلعہ کی چھت پر بیٹھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی رباب بنت انیف بن عامر کندیہ بھی تھی ، اس کے آس پاس کنیزیں گانا بجا رہی تھیں ، پھر اکیدر نے شراب طلب کی اور شکم سیر ہو کر پی اتنے میں نیل گایوں کا نموار ہوا اور کچھ گائیں قلعہ کے دروازے کو سینگوں سے کھرچنے لگیں اکیدر کی بیوی نے کہا : آج رات کی طرح میں نے کوئی رات نہیں دیکھی جس میں اتنی کثرت سے ہمارے پاس گوشت آیا ہو کیا تم نے ایسی دیکھی ہے ؟ اکیدر نے کہا : نہیں پھر کہنے لگی ان جیسی گایوں کو کون چھوڑتی ہے ؟ اکیدر نے کہا : کوئی نہیں چھوڑتا بخدا ! میں نے اتنی کثرت میں کبھی بھی گائیں نہیں دیکھیں میں نے انہی کے لیے اپنے گھوڑے تیار کر رکھے ہیں جنہیں تیار کرنے میں مجھے ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا ہے۔ پھر اوپر چھت سے نیچے اترا اور اپنا گھوڑاتیار کرنے کا حکم دیا گھوڑے پر زیں ڈال دی گئی چنانچہ اس کے ساتھ اس کے گھر کے بھی چند افراد گھوڑوں پر سوار ہوئے اس کے ساتھ اس کا بھائی حسان اور دو غلام بھی تھے چنانچہ شکار کے اوزار لے کر قلعہ سے باہر نکلے جب قلعے سے تھوڑا آگے پہنچے جبکہ خالد (رض) کے شہسوار اکیدر اور اس کے ساتھیوں کو نمایاں دیکھ رہے تھے مسلمانوں کے گھوڑوں نے ہنہنانا بند کردیا حتی کہ کسی گھوڑے نے حرکت تک نہ کی جب اکیدر مسلمانوں کے احاطہ میں آگیا فورا اسے پکڑ لیا جبکہ اس کے بھائی حسان نے لڑنا چاہا لیکن مقتول ہوا جبکہ غلام اور دوسرے ساتھ بھاگ کر قلعہ میں داخل ہوگئے حسان نے دیباج کی قباء پہن رکھی تھی جو سونے کے تروں سے جڑی ہوئی تھی خالد (رض) نے قباء اتارلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ارسال کردی اس قباء کو حضرت عمرو بن امیہ ضمری (رض) لے کر آئے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد (رض) کو وصیت کی تھی کہ اکیدر کو زندہ گرفتار کر کے لاؤ اگر وہ جھڑپ پر اتر آئے تو اسے قتل کر دو لیکن بغیر جھڑپ کے اکیدر مسلمانوں کی گرفت میں آگیا حضرت خالد (رض) نے اس سے کہا : میں تمہیں قتل سے پناہ دیتا ہوں کیا تم سے یہ ہوسکتا ہے ہمارے لیے دومہ کا قلعہ کھول دو اور میں تمہیں محفوظ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤں گا ۔ اکیدر نے اس کی حامی بھر لی اکیدر کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا خالد (رض) اسے قعلہ تک لے گئے اکیدر نے بآواز بلند اہل قلعہ کو پکارا کہ دروازہ کھولو اہل قلعہ نے دروازہ کھولنے کا ارادہ کیا لیکن اکیدر کے بھائی مصاد نے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا اکیدر نے خالد (رض) سے کہا : جب تک اہل قلعہ مجھے بیڑیوں میں دیکھیں گے دروازہ نہیں کھولیں گے ، لہٰذا تم میری بیڑیاں کھول دو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہوں کہ دروازہ کھلواؤں گا خالد (رض) نے کہا : چلو میں اس پر تمہارے ساتھ حلم کرتا ہوں اکیدر نے کہا میں دروازہ کھلواتا ہوں بشرطیکہ اہل قلعہ سے تم صلح کرلو خالد (رض) نے حامی بھر لی پھر اکیدر نے کہا : بدل صلح کے لیے اگر چاہو تو مجھے حکم تسلیم کرو چاہو تم خود فیصلہ کرو خالد (رض) نے کہا : تم جو کچھ دو گے ہم اسے قبول کرلیں گے چنانچہ اکیدر نے دو ہزار اونٹ آٹھ سو غلام چار سو زرہیں اور چار سو نیزوں پر صلح کی اور خالد (رض) نے ساتھ یہ شرط رکھیں کہ اکیدر اور اس کا بھائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر کئے جائیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ان دونوں کے متعلق فیصلہ کریں گے چنانچہ جب فریقین کا اتفاق ہوگیا اور کی بیڑیاں کھول دی گئیں اکیدر نے قلعے کا دروازہ کھول دیا حضرت خالد (رض) اندر داخل ہوگئے اور اکیدر کے بھائی مصاد کو گرفتار کرکے بیڑیوں میں جکڑ لیا پھر بدل صلح یعنی اونٹ غلام اور اسلحہ لیا پھر مدینہ واپس لوٹ آئے آپ (رض) کے ساتھ اکیدر اور اس کا بھائی مصاد بھی تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جزیہ پر اکیدر کے ساتھ صلح کرلی اور اکیدر اور اس کے بھائی کی جان بخشی کی اور ان کا راستہ چھوڑ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ بھی لکھوایا اور اس پر اپنے ناخن سے مہر لگائی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30280- "مسند ابن عباس" الواقدي حدثني ابن أبي حبيبة عن داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس ومحمد بن صالح عن عاصم بن عمر ابن قتادة ومعاذ بن محمد عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة وإسماعيل بن إبراهيم عن موسى بن عقبة فكل قد حدثني من هذا الحديث بطائفة وعماده حديث ابن أبي حبيبة قالوا: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد من تبوك في أربعمائة وعشرين فارسا إلى أكيدر بن عبد الملك بدومة الجندل وكان أكيدر من كندة قد ملكهم، وكان نصرانيا فقال خالد: يا رسول الله كيف لي به وسط بلاد كلب، وإنما أنا في أناس يسير؟ فقال رسول الله صلى اله عليه وسلم: ستجده يصيد البقر فتأخذه، فخرج خالد حتى إذا كان من حصنه بمنظر العين وفي ليلة مقمرة طائفة وهو على سطح له ومعه امرأته الرباب بنت أنيف بن عامر من كندة فصعد على ظهر الحصن من الحر وقينته تغنيه ثم دعا بشراب فشرب فأقبلت البقر تحك بقرونها باب الحصن فأقبلت امرأته الرباب فأشرفت على الحصن فرأت البقر فقالت: ما رأيت كالليلة في اللحم هل رأيت مثل هذا قط؟ قال: لا، ثم قالت: من يترك مثل هذا؟ قال لا أحد قال: يقول أكيدر: والله ما رأيت جاءتنا بقر ليلا غير تلك الليلة، ولقد كنت أضمر لها الخيل إذا أردت أخذها شهرا أو أكثر، ثم أركب بالرجال وبالآلة فنزل فأمر بفرسه فأسرجت وأمر بخيل فأسرجت، وركب معه نفر من أهل بيته معه أخوه حسان ومملوكان له فخرجوا من حصنهم بمطاردهم فلما فصلوا من الحصن وخيل خالد تنظرهم لا يصهل فيها فرس ولا تتحرك فساعة فصل أخذته الخيل فاستأسر أكيدر وامتنع حسان فقاتل حتى قتل وهرب المملوكان ومن كان معه من أهل بيته فدخلوا الحصن وكان على حسان قباء ديباج مخوص بالذهب فاستلبه خالد فبعث به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عمرو بن أمية الضمري وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لخالد بن الوليد: " إن ظفرت بأكيدر فلا تقتله وائت به إلي فإن أبى فاقتله"، فطاوعهم فقال خالد بن الوليد لأكيدر: هل لك أن أجيرك من القتل حتى آتي بك رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن تفتح لي دومة قال نعم ذلك لك، فلما صالح خالد أكيدر وأكيدر في وثاق، وانطلق به خالد حتى أدناه من باب الحصن نادى أكيدر أهله افتحوا باب الحصن، فأرادوا ذلك، فأبى عليهم مصاد أخو أكيدر فقال أكيدر لخالد: تعلم والله لا يفتحون لي ما رأوني في وثاقك فحل عني فلك الله والأمانة أن أفتح لك الحصن إن أنت صالحتني على أهله، قال خالد: فإني أصالحك فقال أكيدر: إن شئت حكمتك وإن شئت حكمتني؟ قال خالد: بل نقبل ما أعطيت فصالحه على ألفي بعير وثمانمائة رأس وأربع مائة درع وأربعمائة رمح على أن ينطلق به وأخيه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيحكم فيها حكمه، فلما قاضاه خالد على ذلك خلى سبيله ففتح الحصن فدخله خالد وأوثق مصادا أخا أكيدر وأخذ ما صالح عليه من الإبل والرقيق والسلاح، ثم خرج قافلا إلى المدينة ومعه أكيدر ومصاد فلما قدم بأكيدر على رسول الله صلى الله عليه وسلم صالحه على الجزية وحقن دمه ودم أخيه وخلى سبيلهما وكتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابا فيه أمانهم وما صالحهم وختمه يومئذ بظفره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30281 ۔۔۔ عمرو بن یحییٰ بن وہب بن اکیدر (بادشاہ دومۃ الجندل) عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکیدر کے بیٹے کی طرف خط لکھا اب کے پاس اس وقت مہر نہیں تھی آپ نے ناخن سے مہر لگائی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30281- عن عمرو بن يحيى بن وهب بن أكيدر صاحب دومة الجندل عن أبيه عن جده قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ابن أكيدر ولم يكن معه خاتمه فختمه بظفره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30282 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت خالد بن ولید (رض) سے کہا : اے خالد تیرا ناس ہو تم نے بنی جذیمہ سے وہ سلوک کیا جو جاہلیت کا عیاں کار ہے کیا اسلام جاہلیت کی گندگی کو مٹا نہیں دیتا ؟ حضرت خالد بن ولید (رض) نے کہا : اے ابو حفص میں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ مبنی برحق ہے میں نے مشرکین پر حملہ کیا جب وہ مقابلے پر اتر آئے میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں تھا میں نے انھیں گرفتار کیا پھر تلوار کی دھار پر لے آیا ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : کون شخص ہے جو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہو ؟ حضرت خالد بن ولید (رض) نے کہا : میں اسے جانتا ہوں بخدا وہ نیک صالح شخص ہے پس حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے مجھے تمہارے بیان کے الٹ بات بتائی ہے۔ حالانکہ وہ اس لشکر میں تمہارے ساتھ تھا حضرت خالد بن ولید (رض) نے کہا : میں اللہ کے حضور استغفار کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اس پر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) طرح دے گئے اور کہا : تیرا ناس ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہارے لیے استغفار کریں ۔ (رواہ ابوقدی وابن عساکر)
30282- عن ابن عمر قال: قال عمر لخالد بن الوليد: ويحك يا خالد أخذت بني جذيمة بالذي كان من أمر الجاهلية أو ليس الإسلام قد محا ما كان في الجاهلية؟ فقال: يا أبا حفص والله ما أخذتهم إلا بالحق اغرت على قوم مشركين فامتنعوا فلم يكن لي بد إذا امتنعوا من قتالهم فأسرتهم ثم حملتهم على السيف فقال عمر: أي رجل تعلم عبد الله بن عمر: قال: أعلمه والله رجلا صالحا، قال: فهو الذي أخبرني غير الذي أخبرتني وكان معك في ذلك الجيش: فقال خالد: فإني أستغفر الله وأتوب إليه فانكسر عنه عمر وقال: ويحك ائت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستغفر لك. الواقدي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30283 ۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو ہوازن کے بت عزی کو گرانے کے لیے بھیجا اس بت کی دیکھ بھال کا کام بنو سلیم کے سپرد تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) سے فرمایا : جاؤ تمہارے پاس ایک عورت آئے گی جو بہت سیاہ لمبے بالوں والی بڑے بڑے پستانوں والی اور کوتاہ قد ہوگی چنانچہ اسی صفات کی عورت حضرت خالد بن ولید (رض) کے پاس آئی حضرت خالد بن ولید (رض) نے تلوار سے اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا پھر خالد (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آئے آپ نے پوچھا اے خالد تم نے کیا کیا ؟ عرض کی : میں نے اس عورت کو قتل کردیا ہے آپ نے فرمایا : عزی کا خاتمہ ہوا آج کے بعد عزی کا وجود نہیں رہے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30283- عن قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد إلى العزى وكانت لهوازن وكانت سدنتها بنو سليم فقال: انطلق فإنه تخرج عليك امرأة شديدة السواد طويلة الشعر عظيمة الثديين قصيرة فشد عليها خالد فضربها فقتلها، وجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا خالد ما صنعت؟ قال: قتلتها قال: ذهبت العزى فلا عزى بعد اليوم. "كر". بعث جرير
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30284 ۔۔۔ حضرت جریر (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور اشعث بن قیس کو میرے پاس بھیجا میرا قیام مقام قرقیساء میں تھا ان دونوں نے کہا : امیر المؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور انھوں نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اچھا کیا ہے جو تمہیں معاویہ سے جدا کردیا میں تمہیں وہی مقام دوں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں دیتے تھے میں نے جواب میں کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن بھیجا تھا تاکہ اہل یمن سے جہاد کروں اور انھیں اسلام کی دعوت دوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو انھوں نے اپنے اموال اور جانیں محفوظ جکر لیں میں ایسے شخص سے جنگ نہیں کروں گا جو ” لا الہ الا اللہ “ کا اقرار کرتا ہو۔ چنانچہ حضرات واپس لوٹ گئے ۔ (رواہ الطبرانی)
30284- عن جرير قال: بعث إلي علي بن أبي طالب ابن عباس والأشعث بن قيس وأنا بقرقيسياء فقالا: إن أمير المؤمنين يقرئك السلام ويقول: نعم ما أراك الله من مفارقتك معاوية، وإني أنزلك مني بمنزلة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي أنزلتكها، فقلت: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني إلى اليمن أقاتلهم وأدعوهم أن يقولوا لا إله إلا الله، فإذا قالوها حرمت دماؤهم وأموالهم" فلا أقاتل أحدا يقول لا إله إلا الله فرجعا على ذلك. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30285 ۔۔۔ حضرت جریر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے جریر ! کیا تم مجھے یمن کے ذی الخلصہ ، بتکدہ سے راحت نہیں پہنچاتے ؟ چنانچہ میں 150 سواروں کا دستہ لے کر بسوئے یمن روانہ ہوا میں نے ذی الخلصہ کو آگ سے جلا دیا پھر جریر (رض) نے ابوارطاۃ (رض) کو مابن ابی شیبۃ دہ سنانے بھیجا ابو ارطاۃ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب میں یمن سے روانہ ہوا میں نے ذی الخلصہ کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑا ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
30285- عن جرير قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا جرير ألا تريحني من ذي الخلصة؟ فنفرت في خمسين ومائة فارس من أحمس فحرقتها بالنار فبعث جرير رجلا يقال له أبو أرطاة، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي بعثك بالحق ما جئتك حتى تركتها كأنها جمل أجرب". أبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالدین ولید بسوئے اکیدردومتہ الجندل :
30286 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جریر بن عبداللہ (رض) کو ذی الکلاع بدیع بن باکوراء اور ذی ظلیم حوشب بن طخیہ کی سرکوبی کے لیے بھیجا ۔ رواہ ابن عساکر)
30286- عن ابن عباس قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جرير بن عبد الله إلى ذي الكلاع اسمه بديع بن باكوراء وإلى ذي ظليم حوشب بن طخية. "كر".
তাহকীক: