কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০২৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خباب بن ارت (رض) کا سریہ :
30287 ۔۔۔ حضرت خباب بن ارت (رض) روایت کی ہے کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ دے کر بھیجا راستے میں ہمیں شدت سے پیاس لگی جبکہ ہمارے پاس نام کا پانی بھی نہیں تھا ہمارے ایک ساتھی کی اونٹنی بیٹھ گئی یکایک اس کی ٹانگوں کے درمیان مشکیزے کی مانند کوئی چیز نمودار ہوئی چنانچہ ہم نے سیر ہو کر اس کا دودھ لیا ۔ (رواہ الطبرانی عن جابر)
30287- "من مسنده" قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فأصابنا العطش وليس معنا ماء، فتنوخت ناقة لبعضنا وإذا بين رجليها مثل السقاء فشربنا من لبنها. "طب" عن خباب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ حضرت ضرار بن ازور (رض)
30288 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ضرار بن ازور اسدی (رض) کو بنی صیداء کے عوف ورقانی کی سرکوبی کے لیے بھیجا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30288- عن ابن عباس قال: بعث النبي صلى الله عليه وآله وسلم ضرار بن الأزور الأسدي إلى عوف الورقاني من بني الصيداء. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) :
30289 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو اپنے پاس بلایا اور حکم دیا کہ تیاری کرو میں تمہیں آج ہی ایک سریہ کے ساتھ بھیج رہا ہوں یا فرمایا کل انشاء اللہ بھیجوں گا ، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں میں نے جب یہ فرمان سنا میں نے کہا : میں صبح ضرور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں داخل ہوں گا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھوں گا تاکہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو کی گئی وصیت سن سکوں چنانچہ میں مسجد میں بیٹھا رہا پھر نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوا دیکھا کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور کچھ دیگر لوگ کھڑے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ آج رات ہی دومتہ الجندل کی طرف کوچ کر جاؤ اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دو چنانچہ دوسرے لوگ چلے گئے لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) پیچھے رہ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پیچھے رہ جانے کی وجہ دریافت کی ابن عمر (رض) کہتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کے ساتھی سحری کے وقت کوچ کر گئے تھے اور مقام جرف میں جا ٹھہرے تھے ، ان کی تعداد سات سو تھی حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں چاہتا ہوں سفر پر رورانہ ہوتے وقت میری آخری ملاقات آپ سے ہو حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے سر پر عمامہ پہن رکھا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو اپنے سامنے بٹھایا اور اپنے دست اقدس سے ان کا عماملہ کھولا پھر سیاہ عمامہ باندھا اور اس کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا : اے ابن عوف یوں عمامہ باندھنا چاہے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اپنے بدن پر تلوار لٹکا رکھی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روانہ ہوجاؤ جو بھی اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اس سے قتال کرو مال غنیمت میں خیانت نہیں کرنی کسی سے دھوکا نہیں کرنا اور بچوں کو قتل نہیں کرنا ، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) رخصت ہو کر چل پڑے اور اپنے ساتھیوں سے جا ملے پھر لشکر لے کر دومتہ الجندل جا پہنچے جب مطلوبہ بستی میں داخل ہوئے تو وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی چنانچہ تین دن تک انھیں اسلام کی دعوت دیتے رہے تاہم پہلے اور دوسرے دن ان لوگوں نے اسلام سے انکار کیا اور جنگ کا عندیہ دیا البتہ تیسرے دن اصبغ بن عموہ کلبی نے اسلام قبول کرلیا یہ نصرانی تھا اور اپنے قبیلے کا سردار تھا حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اطلاع کے لیے خط لکھ کر رافع بن مکیث کو بھیجا اور خط میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لکھا کہ میں ان لوگوں میں شادی کرنا چاہتا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوابا لکھا بلکہ اصبغ کی بیٹی تماضر سے شادی کرو چنانچہ عبدالرحمن (رض) نے تماضر سے شادی کرلی اور یہیں زفاف ہوئی پھر اسے لے کر واپس لوٹے اور اسی عورت کے بطن سے سلمہ بن عبدالرحمن مشہور تابعی پیدا ہوئے ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد وابن عساکر)
30289- عن ابن عمر قال: دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن بن عوف فقال: تجهز فإني باعثك في سرية من يومك هذا أو من الغد إن شاء الله تعالى، قال ابن عمر: فسمعت ذلك فقلت: لأدخلن ولأصلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الغداة، ولأسمعن وصية عبد الرحمن، فقعدت فصليت فإذا أبو بكر وعمر وناس من المهاجرين منهم عبد الرحمن بن عوف وإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان أمره أن يسير من الليل إلى دومة الجندل فيدعوهم إلى الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن: ما خلفك عن أصحابك؟ قال ابن عمر وقد مضى أصحابه من سحر وهم معتدون بالجرف، وكانوا سبعمائة رجل، قال : أحببت يا رسول الله أن يكون آخر عهدي بك وعلي ثياب سفري قال : وعلى عبد الرحمن عمامة قد لفها على رأسه فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فأقعده بين يديه ، فنقض عمامته بيده ، ثم عممته بعمامة سوداء ، فأرخى بين كتفية منها ثم قال : هكذا يا ابن عوف فاعتم ، وعلى ابن عوف السيف متوشحه ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اغز بسم الله وفي سبيل الله ، قاتل من كفر بالله ، لا تغال ولا تغدر ولا تقتل وليدا ، فخرج عبد الرحمن حتى لحق أصحابه فسار حتى قدم دومة الجندل ، فلما دخلها دعاهم إلى الاسلام فمكث ثلاثة أيام يدعوهم إلى الاسلام ، وقد كانوا أبوا أول ما قدم أن يعطوه إلا السيف ، فلما كان اليوم الثالث أسلم أصبغ بن عمرو الكلبي وكان نصرانيا وكان رأسهم وكتب عبد الرحمن إلى النبي صلى الله عليه وسلم يخبره بذلك وبعث رجلا من جهينة يقال له : رافع بن مكيث فكتب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أراد أن يتزوج فيهم فكتب إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن يتزوج ابنة الاصبغ تماضر ، فتزوجها عبد الرحمن وبنى بها ، ثم أقبل بها وهي أم أبي سلمة بن عبد الرحمن (قط في الافراد ، كر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) :
30290 ۔۔۔ عطاء خراسانی ابن عمر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو ایک سریہ کے ہمراہ روانہ کیا اور ان کے لیے پرچم اپنے دست اقدس سے باندھا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30290 عن عطاء الخراساني عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم. بعث عبد الرحمن بن عوف في سرية وعقد له اللواء بيده (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ معاذ (رض) :
30291 ۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن روانہ کیا میرے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک میل سے زیادہ چلے اور فرمایا : اے معاذ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو سچائی کا دامن مت چھوڑو ، امانت ادا کرو خیانت ترک کر دو پڑوسی کے حقوق کی رعایت کرو نرمی اپناؤ نرم کلام کرو ، یتیم پر شفقت کرو قرآن میں سمجھ بوجھ پیدا کرو یوم حساب سے ڈرتے رہو آخرت سے محبت کرو ، اے معاذ زمین پر ہرگز فساد مت پھیلاؤ مسلمان کو گالی مت دو جھوٹے کی تصدیق نہ کرو سچے کی تکذیب مت کرو امام عادل کی نافرمانی مت کرو اے معاذ ! میں تمہیں ہر وقت اللہ کا تعالیٰ ذکر کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ ہر گناہ کے لیے توبہ کرتے رہو اگر خفیہ گناہ کیا ہے تو خفیہ توبہ کروا اگر اعلانیہ گناہ کیا ہے تو اعلانیہ توبہ کرو ، اے معاذ میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور وہی چیز تمہارے لیے ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں اے معاذ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تاقیامت ہماری ملاقات ہوگی میں تمہیں کم سے کم وصیت کرتا ہوں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ تاقیامت ہماری ملاقات ہوگی اے معاذ ! تم میں سے وہ شخص مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے جو مجھ سے اسی حالت میں ملاقات کرے جس حالت پر میں نے اسے چھوڑا ہے نیز معاذ (رض) کو یہ فرمان بھی دیا کہ آدمی جس عورت کا مالک نہیں اسے طلاق نہیں ہوتی آدمی جس غلام کا مالک نہیں اسے آزاد بھی نہیں کرسکتا معصیت میں مانی ہوئی نذر کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ نذر بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی جو قطع رحمی میں مانی گئی ہو اور اس چیز کی نذر بھی نہیں جس کا آدمی مالک نہ ہو اور یہ کہ ہر بالغ سے ایک دینار لو یا اس کے برابر کی قیمت کے کپڑے قرآن کو غیر طہارت سے مت چھوؤ جب تم یمن پہنچو گے تو یمن کے نصرانی تم سے پوچھیں گے کہ جنت کی کنجی کیا چیز ہے ؟ تم کہو : لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ جنت کی کنجی ہے۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ رکن الشافی متروک)
30291- عن معاذ بن جبل "أن النبي صلى الله عليه وسلم لما بعثه إلى اليمن مشى أكثر من ميل يوصيه قال: يا معاذ أوصيك بتقوى الله العظيم وصدق الحديث، وأداء الأمانة، وترك الخيانة، وحفظ الجار، وخفض الجناح، ولين الكلام، ورحمة اليتيم، والتفقه في القرآن - وفي لفظ: في الدين - والجزع من الحساب، وحب الآخرة، يا معاذ لا تفسدن أرضا، ولا تشتم مسلما، ولا تصدق كاذبا، ولا تكذب صادقا، ولا تعص إماما عادلا، يا معاذ أوصيك بذكر الله عند كل حجر وشجر وأن تحدث لكل ذنب توبة السر بالسر والعلانية بالعلانية، يا معاذ إني أحب لك ما أحب لنفسي وأكره لك ما أكره لها، يا معاذ إني لو أعلم أنا نلتقي إلى يوم القيامة لأقصرت عليك من الوصية، ولكني لا أرى نلتقي إلى يوم القيامة، يا معاذ إن أحبكم إلي لمن لقيني يوم القيامة على مثل هذه الحالة التي فارقني عليها، وكتب له في عهده أن لا طلاق لامرئ فيما لا يملك ولا عتق فيما لا يملك، ولا نذر في معصية ولا في قطيعة رحم ولا فيما لا يملك ابن آدم، وعلى أن تأخذ من كل حالم دينارا أو عدله معافر، وعلى أن لا تمس القرآن إلا طاهرا، وإنك إذا أتيت اليمن يسألونك نصاراها عن مفتاح الجنة فقل: مفتاح الجنة لا إله إلا الله وحده لا شريك له". "كر"؛ وفيه ركن الشامي متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ معاذ (رض) :
30292 ۔۔۔ اے معاذ ! تم اہل کتاب کے پاس جاؤ گے وہ تم سے جنت کی کنجیوں کے متعلق سوال کریں گے ، انھیں کہہ دو کہ لا الا الہ اللہ جنت کی کنجیاں ہیں ، یہ کلمہ ہر طرح کی رکاوٹ کو توڑ کر اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے جو شخص بھی اخلاص کے ساتھ اس کلمے کو لائے گا تو یہ کلمہ ہر طرح کے گناہ پر بھاری رہے گا اے معاذ ! اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے تواضع کرو اللہ تعالیٰ تمہارا مرتبہ بلند فرمائے گا دنیا کو حقیر سمجھو اللہ تعالیٰ تمہیں حکمت کی دولت سے مالا مال کر دے گا چنانچہ جو شخص دنیا کو حقیر سمجھتا ہے اور اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ حکمت کو اس کے دل میں امر کردیتے ہیں پھر وہ منہ سے جو بات بھی نکالتا ہے اس سے علم کے موتی ٹپک رہے ہوتے ہیں اگر کسی معاملہ میں تمہیں مشکل پیش آئے کسی دوسرے سے پوچھ لو اور شرم نہ کرو مختلف امور میں مشورہ کرتے رہو چونکہ مشورہ کرنے والا بےیارومددگار نہیں رہتا ، جس سے مشورہ لیا جائے اسے امانتدار ہونا چاہیے پھر اجتھاد سے کام لو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجتھاد میں بھلائی دیکھی تو اس کی توفیق دے گا اگر کوئی معاملہ متلبس (مشتبہ) ہو تو اسے موقوف کر دو اور رک جاؤ تاوقتیکہ اس کی کوئی صورت واضح ہوجائے یا مجھے لکھ بھیجو ایسا فیصلہ ہرگز نہ کرو جو کتاب اللہ یا میری سنت کے موافق نہ ہو الا یہ کہ وہ درست اجتھاد پر مبنی ہو ، خواہش نفس سے دور رہو چونکہ خواہش نفس بدبختوں کا قائد ہے جو انھیں انجام کار دوزخ میں لے جاتا ہے جب تم اہل یمن کے ہاں پہنچوں ان میں کتاب اللہ کا نفاذ کرو اور اچھے طریقے سے ان کی تربیت کرو اہل یمن کو قرآن پڑھاؤ چونکہ قرآن انھیں حق بات اور اخلاق جمیلہ پر ابھارے گا لوگوں کو ان کے مقام پر اتارو اور ان کے مراتب کی رعایت کرو چنانچہ حدود کے معاملہ میں لوگوں میں مساوات ہونی چاہیے خیر وشر میں لوگ برابر نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں سستی مت کرو امانت کی چیز خواہ چھوٹی ہو یا بڑی اسے مالک تک ضرور پہنچاؤ جس شخص کے لیے معافی اور درگزر کی راہ نہیں نکل پاتی اسے اپنی گرفت میں لو نرمی کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو جب تم سے غلطی ہوجائے تو لوگوں سے معذرت کرلو توبہ کرنے میں عجلت کرو ، جب لوگ تم سے جہالت سے پیش آئیں تو معاملہ عیاں کر دو تاکہ لوگوں کو بخوبی آگاہی ہوجائے لوگوں کے متعلق دل میں کینہ مت رکھو جاہلی امور کا سختی سے خاتمہ کرو البتہ اس چیز کو باقی رہنے دو جسے اسلام نے اچھا سمجھا ہے۔ غیر اسلامی اخلاق کا اسلامی اخلاق کے ساتھ موازنہ کرو اور اسلامی اخلاق کو غیر اسلامی تہذیب پر مت پیش کرو ، لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہو میانہ روی اختیار کرو اور نماز کا اہتمام کرو چونکہ نماز دین اسلام کی بنیاد ہے گویا نماز کو اپنا مقصد بنا لو نماز کی مشغولیت کو بقیہ اشغال پر ترجیح دو ، لوگوں سے نرمی کا معاملہ کرو اور لوگوں کو فتنوں میں نہ ڈالو ہر نماز کے وقت کی رعایت رکھو ایسی نماز پڑھاؤ جوان کے حال کے زیادہ موافق ہو سردیوں میں نماز فجر اندھرے اندھیرے میں پڑھ لو اور قرات اتنی ہی طویل کرو جس کی لوگوں میں طاقت ہو لوگوں کو اکتاہٹ میں نہیں ڈالنا ایسا نہ ہو کہ لو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ناپسند کرنے لگیں سردیوں میں ظہر کی نماز زوال کے فورا بعد پڑھ لو عصر کی نماز اول وقت میں پڑھو دراں حالیکہ سورج بالکل واضح ہو مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہوجائے گرمی سردی میں مغرب کی نماز ایک ہی وقت پر پڑھو البتہ عذر کی حالت اس سے مستثنی ہے عشاء کی نماز ذرا تاخیر سے پڑھو چونکہ رات لمبی ہوتی ہے ہاں البتہ اگر عشاء کی نماز اول وقت میں نمازیوں کی حالت کے لیے موزوں ہو تو اول وقت میں پڑھ لو ، گرمی کے موسم میں فجر کی نماز سفیدی کر کے پڑھو چونکہ گرمیوں کی راتیں چھوٹی ہوتی ہیں یوں ایسا کرنے سے سونے والا بھی نماز کو پاسکتا ہے ظہر کی نماز (گرمیوں میں) تب پڑھو جب سایہ بڑھنے لگے اور ہوا میں ٹھنڈک پیدا ہوجائے عصر کی نماز درمیانی وقت میں پڑھو مغرب اس وقت پڑھو جب سورج کی ٹکیہ غائب ہوجائے عشاء کی نماز تب پڑھو جب شفق غائب ہوجائے الا یہ کہ اس کے علاوہ کی صورت لوگوں کے لیے زیادہ باعث راحت ہو لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہو چونکہ وعظ و نصیحت سے عمل میں پختگی پیدا ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف سبھی نے لوٹ کر جانا ہے ، اے معاذ ! مجھے دین کے معاملہ میں تمہاری آزمائش کا اعتراف ہے جو تمہارے مال اور سواری کو لے چکی ہے البتہ میں نے ہدیہ تمہارے لیے حلال کیا ہے اگر تمہیں ہدیہ میں کوئی چیز دے اسے قبول کرلو ۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر عن عبید بن صخر بن لوذان الانصاری السلمی) سریہ عمرو بن مرہ :
30292- " يا معاذ إنك تقدم على أهل الكتاب وإنهم يسألونك عن مفاتيح الجنة فأخبرهم أن مفاتيح الجنة لا إله إلا الله وأنها تحرق كل شيء حتى تنتهي إلى الله عز وجل لا يحجب دونه، من جاء بها إلى يوم القيامة مخلصا رجحت بكل ذنب، يا معاذ تواضع لله عز وجل يرفعك الله، واستدق الدنيا يؤتك الله الحكمة، فإنه من تواضع لله واستدق الدنيا أظهر الله تعالى الحكمة من قلبه على لسانه ولا تغضبن ولا تقولن إلا بعلم، فإن أشكل عليك أمر فاسأل ولا تستحي، واستشر فإن المستشير معان، والمستشار مؤتمن، ثم اجتهد فإن الله عز وجل إن يعلم منك يوفقك، وإن التبس عليك فقف، وأمسك حتى تبينه أو تكتب إلي فيه، ولا تضربن فيما لم تجد في كتاب الله ولا في سنتي على قضاء إلا عن ملأ، واحذر الهوى فإنه قائد الأشقياء إلى النار، وإذا قدمت عليهم فأقم فيهم كتاب الله وأحسن أدبهم، وأقرئهم القرآن يحملهم القرآن على الحق وعلى الأخلاق الجميلة، وأنزل الناس منازلهم فإنهم لا يستوون إلا في الحدود لا في الخير ولا في الشر على قدر ما هم عليه من ذلك، ولا تحابين في أمر الله، وأد إليهم الأمانة في الصغير والكبير، وخذ ممن لا سبيل عليه العفو، وعليك بالرفق، وإذا أسأت فاعتذر إلى الناس، فعاجل التوبة، وإذا أسروا عليك من الجهالة فبين لهم حتى يعرفوا، ولا تحاقدهم وأمت أمر الجاهلية إلا ما حسنه الإسلام، وأعرض الأخلاق على أخلاق الإسلام، ولا تعرضها على شيء من الأمور، وتعاهد الناس في المواعظ والقصد القصد والصلاة الصلاة، فإنها قوام هذا الأمر اجعلوها همكم، وآثروا شغلها على الأشغال وترفقوا بالناس في كل ما عليهم ولا تفتنوهم، وانظروا في وقت كل صلاة فإن كان أرفق بهم فصلوا بهم أوله وأوسطه وآخره، صلوا الفجر في الشتاء وغلسوا بها، وأطل في القراءة على قدر ما يطيقون لا يملون أمر الله ولا يكرهونه، ويصلون الظهر في الشتاء مع أول الزوال، والعصر في أول وقتها والشمس حية، والمغرب حين يجب القرص صلها في الشتاء والصيف على ميقات واحد إلا من عذر، وأخر العشاء شيئا ما، فإن الليل طويل إلا أن يكون غير ذلك أرفق بهم، وإذا كان الصيف فأسفر بالفجر فإن الليل قصير فيدركها النوام، وصل الظهر بعد ما يتنفس الظل وتبرد الرياح، وصل العصر في وسط وقتها، وصل المغرب إذا سقط القرص، والعشاء إذا غاب الشفق إلا أن يكون غير ذلك أرفق بهم، وتعاهدوا الناس بالتذكير وأتبعوا الموعظة بالموعظة، فإنه أقوى للعاملين على العمل بما يحب الله، ولا تخافوا في الله لومة لائم، واتقوا الله الذي إليه ترجعون، يا معاذ إني عرفت بلاءك في الدين والذي ذهب من مالك وركبك في الدين، وقد طيبت لك الهدية، فإن هدي إليك شيء فاقبل". أبو نعيم وابن عساكر - عن عبيد بن صخر بن لوذان الأنصاري السلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ عمرو بن مرۃ
30293 ۔۔۔ حضرت عمرو بن مرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہینہ اور مزینہ کو ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ھاشمی کی سرکوبی کے لیے بھیجا ابو سفیان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا جب یہ دستہ تھوڑا آگے گیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ نے کونسی مہم سر کرنے کے لیے دو مینڈھوں کو بھیجا ہے جو جاہلیت میں تیار ہوتے رہے اور پھر اسلام نے انھیں پالیا حالانکہ ان کا بقیہ جاہلیت پر ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دستے کو واپس بلانے کا حکم دیا حتی کہ دستہ واپس لوٹ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور آپ نے فرمایا : اے مزینہ جہینہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) کی خبر لو اے جہینہ مزینہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے) کی خبر لو ، عمرو بن عمر (رض) کو جہنیہ اور مزینہ دونوں پر امیر مقرر کیا پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چل پڑو چنانچہ لشکر ابو سفیان بن حارث کی طرف چل پڑا اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان حارث کو شکست سے دو چار کیا اور اس کے بہت سارے ساتھ مقتول ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30293- عن عمرو بن مرة قال: كان رسول اله صلى الله عليه وسلم بعث جهينة ومزينة إلى أبي سفيان بن الحارث بن عبد المطلب الهاشمي وكان منابد النبي صلى الله عليه وسلم فلما ولوا غير بعيد قال أبو بكر الصديق: يا رسول الله بأبي أنت وأمي على ما تبعث كبشين قد كادا يتهاينان في الجاهلية أدركهم الإسلام وهم على بقية منها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بردهم حتى وقفوا بين يديه فقال: يا مزينة حي جهينة يا جهينة حي مزينة فعقد لعمرو بن مرة على الجيشين على جهينة ومزينة ثم قال: سيروا على بركة الله، فساروا إلى أبي سفيان بن الحارث فهزمه الله وكثر القتل في أصحابه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ عمرو بن العاص (رض) :
30294 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلب غسان اور شام کے مضافات کے کفار کی سرکوبی کے لیے دوسرے بھیجے ان میں سے ایک سریہ کے امیر ابو عبیدۃ ابن الجراح (رض) کیے دوسرے سریہ پر حضرت عمرو بن العاص (رض) کو امیر مقرر کیا ابو عبیدہ (رض) کے سریہ میں ابوبکر (رض) اور عمر (رض) بھی شامل تھے ، روانگی کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوعبیدہ اور عمرو (رض) کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا : ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور اختلاف نہیں کرنا جب دونوں سریے مدینہ سے باہر نکلے ابو عبیدہ (رض) عمرو کو لے کر الگ ہوئے اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور تمہیں چلتے وقت وصیت کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں یا تم میری اطاعت کرو یا میں تمہاری اطاعت کروں ؟ عمرو (رض) نے کہا : نہیں بلکہ تم میری اطاعت کرو چنانچہ ابو عبیدہ (رض) عمرو (رض) کی اطاعت کرنے لگے اور عمرو (رض) دونوں سریوں کے امیر رہے اس پر عمرو رضی کو کچھ تردو ہوا (چونکہ ابو عبیدہ (رض) سابقین اولین میں سے تھے اور عمرو (رض) دونوں سریوں کے امیر رہے اس پر عمرو (رض) کو کچھ تردو ہوا (چونکہ ابو عبیدہ (رض) سابقین اولین میں سے تھے اور عمرو بن العاص سے رتبہ میں افضل تھے) اور کہا : کیا تم نے نابغہ کے بیٹے کی اطاعت اختیار کرلی اور اسے اپنے اوپر امارت کا اختیار دے دیا اور ابوبکر پر بھی اسی کو امیر تسلیم کرلیا اور ہمارے اوپر بھی اسی کو امیر بنادیا یہ کیسا فیصلہ کیا ؟ ابو عبیدہ (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اے میرے ماں جائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چلتے وقت ہم دونوں کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں اور اختلاف سے گریز کریں مجھے خوف ہے کہ اگر میں اس کی اطاعت نہیں کروں گا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا شکار ہوجاؤں گا اور ہمارے درمیان لوگ منقسم ہوجائیں گے بخدا میں تا واپسی اس کی اطاعت کروں گا جب لشکر واپس لوٹا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج کے بعد عمرو کو تمہارے اوپر امیر نہیں مقرر کروں گا البتہ اسی شخص کو امیر مقرر کروں گا جسے مہاجرین چاہیں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30294- عن الزهري قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثين إلى كلب وغسان وكفار العرب الذين كانوا بمشارف الشام، وأمر على أحد البعثين أبا عبيدة بن الجراح، وأمر على البعث الآخر عمرو بن العاص فانتدب في بعث أبي عبيدة أبو بكر وعمر، فلما كان عند خروج البعث دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا عبيدة وعمرا فقال: لا تعاصيا، فلما فصلا من المدينة خلا أبو عبيدة بعمرو فقال له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي وإليك أن لا تعاصيا، فإما أن تطيعني وإما أن أطيعك؟ قال: لا بل أطعني فأطاع أبو عبيدة، وكان عمرو أميرا على البعثين كليهما، فوجد عمر من ذلك قال: أتطيع ابن النابغة وتؤمره على نفسك وعلى أبي بكر وعلينا ما هذا الرأي؟ فقال أبو عبيدة لعمر: يا ابن أم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي وإليه أن لا تتعاصيا، فخشيت إن لم أطعه أن أعصى رسول الله صلى الله عليه وسلم ويدخل بيني وبينه الناس، وإني والله لأطيعنه حتى أقفل فلما قفلوا كلم عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وشكا إليه ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " لن أؤمر عليكم بعد هذا إلا منكم يريد المهاجرين". "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ بسوئے بنی قریظہ :
30295 ۔۔۔ ابوقتادہ (رض) کی روایت ہے کہ جب ہم بنی قریظ کے قلعہ تک پہنچے تو انھوں نے ہمیں دیکھا انھیں جنگ کا یقین ہوگیا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے پرچم قلعے کی دیوار کے عین نیچے گاڑ دیا بنی قریظ اپنے قلعوں کے اوپر سے سامنے ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے اور آپ کی ازواج مطہرات کو گالیاں دینے لگے ہم خاموش رہے اور ہم نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمودار ہوئے آپ کو دیکھ کر حضرت علی (رض) آپ کی طرف چل دیئے اور مجھے کہا کہ پرچم کے پاس رہو ، چنانچہ میں جم کر پرچم کے پاس کھڑا ہوگیا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اچھا نہ سمجھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی قریظ کی گستاخیاں سنیں تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قلعہ کی طرف چل دیئے آپ کے آگے آگے حضرت اسید بن حضیر (رض) تھے انھوں نے کہا : اے اللہ کے دشمنو ! میں یہاں سے نہیں ہلوں گا تاوقتیکہ تم بھوکوں مرجاؤ تم مکار لومڑ کی طرح ہو جو اپنے سوارخ میں گھسا ہوتا ہے (جب سوراخ میں پانی ڈالا جائے یا دھواں کیا جائے لومڑ باہر آجاتا ہے) بنی قریظ نے چیخ کر کہا اے ابن حضیر ہم تمہارے دوست ہیں خزرج کے دوست ہیں اسید بن حضیر (رض) نے کیا خوب جواب دیا کہا : میرے اور تمہارے درمیان عہد ہے اور نہ ہی دوستی ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30295- عن أبي قتادة قال: انتهينا إلى بني قريظة: فلما رأونا أيقنوا بالشر وغرز علي الراية عند أصل الحصن فاستقبلونا في صياصيهم يشتمون رسول الله صلى الله عليه وسلم وأزواجه وسكتنا وقلنا: السيف بيننا وبينكم وطلع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رآه علي رجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمرني أن ألزم اللواء فلزمته، وكره أن يسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم أذاهم وشتمهم، فسار رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم ويقدمه أسيد بن حضير فقال: يا أعداء الله لا أبرح حصنكم حتى تموتوا جوعا، إنما أنتم بمنزلة ثعلب في جحر، قالوا: يا ابن الحضير نحن مواليك دون الخزرج وجاروا فقال: لا عهد بيني وبينكم ولا إل الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ بسوئے بنی نضیر :
30296 ۔۔۔ محمد بن مسلمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بنی نضیر کی طرف بھیجا اور انھیں حکم دیا کہ بنی نضیر کو جلاوطنی کی تین سال کی مہلت دے دیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30296- عن محمد بن مسلمة " أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه إلى بني النضير وأمره أن يؤجلهم في الجلاء ثلاثا". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ بسوئے بنی کلاب :
30297 ۔۔۔ محمد بن مسلمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تیس سواروں کے دستہ کے ساتھ بنی بکر بن کلاب کی طرف بھیجا دستے میں عباد بن بشر (رض) بھی تھے آپ نے ہمیں حکم دیا کہ رات کو چلیں اور دن کو چھپ جائیں اور منزل مقصود تک پہنچ کر غارتگری ڈال دیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30297- عن محمد بن مسلمة قال: "بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثين راكبا فيهم عباد بن بشر إلى بني أبي بكر بن كلاب، فأمرنا أن نسير الليل ونكمن النهار وأن نشن عليهم الغارات". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ کعب بن عمیر :
30298 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت کعب بن عمیر غفاری (رض) کو پندرہ (15) سواروں کے دستہ کے ساتھ سرزمین شام کے نواح میں ذات اطلاع کی طرف روانہ کیا جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین منزل مقصود پر پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تاہم انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر تیروں کی بارش برسا دی جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے یہ صورتحال دیکھی تو دشمن پر حملہ کردیا حتی کہ سبھی صحابہ شہید ہوئے اور ان میں سے ایک صحابی کسی طرح دشمن سے جان بچا کر نکل آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر خبر کی آپ کو سن کر بڑا رنج ہوا اور لشکر جرار بھیجنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کو خبر ہوئی کہ دشمن وہاں سے کہیں اور نقل مکانی کرچکا ہے آپ نے لشکر بھیجنے کے ارادہ کو ترک کردیا ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30298- عن الزهري قال: "بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم كعب بن عمير الغفاري في خمسة عشر رجلا حتى انتهوا إلى ذات أطلاح من أرض الشام فوجدوا جمعا كثيرا فدعوهم إلى الإسلام فلم يستجيبوا لهم ورشقوهم بالنبل، فلما رأى ذلك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قاتلوهم أشد القتال حتى قتلوا، فأفلت منهم رجل جريحا فلما برد عليه الليل تحامل حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره الخبر فشق ذلك على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم بالبعثة إليهم فبلغه أنهم قد ساروا إلى موضع آخر فتركهم". الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ کعب بن عمیر :
30299 ۔۔۔ زہری وعروہ اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب بن عمیر (رض) کو بلقاء کے نواحی علاقہ ذات اباطح کی طرف بھیجا چنانچہ عمیر (رض) اور ان کے سبھی ساتھی شہید ہوگئے ۔ (رواہ یعقوب بن سفیان والبیہقی فی السنن وابن عساکر)
30299 عن الزهري وعروة وموسى بن عقبة قالوا : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم كعب بن عمير نحو ذات أباطح من البلقاء فأصيب كعب ومن معه (يعقوب بن سفيان ، هق ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات :
30300 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ بریدہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا اور سریہ کے ساتھ ایک شخص بھی بھیجا جو آپ کی طرف حالات کی خبریں لکھ کر بھیجے ۔ (رواہ ابن عساکر ورجالہ ثقات)
30300- "من مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن بريدة "أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث سرية وبعث معها رجلا يكتب إليه بالأخبار. "كر" ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات :
30301 ۔۔۔ ” مسند بشیر بن یزید ضبعی “ اشھب ضبعی کہتے میں مجھے بشیر بن یزید ضبعی نے حدیث سنائی بشیر بن یزید (رض) نے جاہلیت کا زمانہ پایا ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی قار کی جنگ کے دن فرمایا : یہ پہلا دن ہے کہ جس میں عرب نے عجمیوں سے انتقام لیا ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وبقی بن مخلد والبغوی وابن السکن والطبرانی وابو نعیم) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ 579 ۔
30301- "مسند بشير بن يزيد الضبعي" عن الأشهب الضبعي قال: حدثني بشير بن يزيد الضبعي وكان قد أدرك الجاهلية قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يوم ذي قار هذا أول يوم انتصف فيه العرب من العجم. "خ" في تاريخه وبقي بن مخلد والبغوي وابن السكن "طب" وأبو نعيم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات :
30302 ۔۔۔ ” مسند جابر بن سمرہ “ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک سریہ کے ہمراہ روانہ کیا ہمیں شکست ہوئی ان کے پیچھے سعد کو بھیجا اور وہ سوار ہو کر آئے انھیں پنڈلی پر تیر لگا جس سے خون بہہ نکلا میں نے خون بہتے دیکھا ایسے لگا جیسے جوتے کا تسمہ ہو ۔ (رواہ الطبرانی عن جابر بن سمرۃ)
30302- "من مسند جابر بن سمرة" عن جابر بن سمرة بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فهزمنا، فاتبع سعد راكبا منهم فالتفت إليه فرأى ساقه خارجة من الغرز فرماه بسهم فرأيت الدم يسيل كأنه شراك فأناخ. "طب" عن جابر بن سمرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات :
30303 ۔۔۔ حضرت براء (رض) روایت کی ہے کہ عقبہ والی رات میں ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے میرے ماموں نے مجھے باہر نکالا میں پتھر مارنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا تھا ۔ (رواہ الطبرانی)
30303- عن البراء كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة وأخرجني خالي وأنا لا أستطيع أن أرمي بحجر. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات :
30304 ۔۔۔ ” مسند خباب کنانی “ زہری ، سعید بن مسیب ، حابط بن خباب کنانی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں جنگل میں تھا اتنے ہمارے پاس سے لشکر جرار گزرا کسی نے کہا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لشکر ہے۔ (رواہ ابونعیم)
30304- "مسند خباب الكناني" عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن خابط بن خباب الكناني عن أبيه قال: كنت بالفلاة إذ مر علينا جيش عرمرم فقيل: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات اور معاہدہ جات :
30305 ۔۔۔ عبدالملک بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزام عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ عمرو بن حزام نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنادہ کے لیے یہ خط لکھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ یہ خط محمد اللہ کے رسول کی طرف سے جنادہ اور اس کی قوم کی جانب ہے جس شخص نے نماز قائم کی زکوۃ ادا کی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے غنائم سے خمس دے اور مشرکین سے الگ رہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذمہ میں ہے ، یہ خط حضرت علی (رض) نے لکھا ، (رواہ ابونعیم)
30305- عن عبد الملك بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزام عن أبيه عن جده أن عمرو بن حزم قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم لجنادة: بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله لجنادة وقومه ومن تبعه بإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وأطاع الله ورسوله وأعطى من الغنائم خمس الله ورسوله، وفارق المشركين فإن له ذمة الله وذمة محمد صلى الله عليه وسلم" وكتب علي. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات اور معاہدہ جات :
30306 ۔۔۔ مذکورہ بالا سند سے عمرو بن حزام کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حصین بن نضلہ اسدی کی طرف ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ یہ خط محمد اللہ کے رسول کی طرف سے حصین بن نضلہ اسدی کی جانب ترمد اور کتیفہ کے علاقے اس کی عملداری میں رہیں گے ان میں اس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرے گا یہ خط مغیرہ (رض) نے لکھا : (رواہ ابونعیم 9
30306- وبه عن عمرو بن حزم "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب لحصين بن نضلة الأسدي كتابا: بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم لحصين بن نضلة الأسدي أن له ترمدا وكتيفة لا يحاقه فيهما أحد" وكتب المغيرة. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক: