কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০২৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30247 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے غزوہ موتہ کے موقع پر خالد بن ولید (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : اے عبدالرحمن خاموش رہو (میں خود خبر دیتا ہوں) زید نے جھنڈا اٹھایا اور بےجگری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ زید پر رحم فرمائے پھر جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا اور وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہوگیا ، اللہ تعالیٰ جعفر پر رحم فرمائے پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا لے لیا اور وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ عبداللہ پر رحم فرمائے پھر خالد بن ولید نے جھنڈا لے لیا اور تن دہی سے دشمن کا مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی ۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
30247- عن ابن عمر عن عبد الرحمن بن سمرة قال وجهني يوم مؤتة خالد بن الوليد إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما أتيته قال: اسكت يا عبد الرحمن أخذ اللواء زيد فقاتل زيد فقتل زيد فرحم الله زيدا، ثم أخذ اللواء جعفر فقاتل جعفر فقتل جعفر فرحم الله جعفرا، ثم أخذ اللواء عبد الله بن رواحة فقاتل عبد الله، فقتل عبد الله فرحم الله عبد الله، ثم أخذ اللواء خالد بن الوليد فقاتل خالد ففتح الله لخالد. يعقوب بن سفيان، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30248 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید جعفر اور عبداللہ بن رواحہ (رض) جہاد کے لیے روانہ کئے اور لشکر کا جھنڈا زید (رض) کو دے دیا چنانچہ یہ تینوں حضرات جنگ میں شہید ہوئے حضرت انس (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر ملنے سے قبل ہی ان حضرات کے شہید ہونے کی خبر دے دی اور فرمایا : جھنڈا زید کے پاس تھا وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگیا پھر جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا وہ بھی شہید ہوگیا پھر ابن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا اور وہ بھی شہید ہوگیا اس کے بعد جھنڈا سیف اللہ خالد بن ولید نے لے لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو خبر سنا رہے تھے جبکہ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
30248- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث زيدا وجعفرا وعبد الله بن رواحة فدفع الراية إلى زيد فأصيبوا جميعا قال أنس: فنعاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الناس قبل أن يجيء الخبر قال: قال أخذ الراية زيد فأصيب، ثم أخذها جعفر فأصيب، ثم أخذها عبد الله فأصيب، ثم أخذ الراية بعد سيف من سيوف الله خالد بن الوليد فجعل يحدث الناس وعيناه تذرفان. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
30249 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ میں غزوہ طائف کے چھ ماہ بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو غزوہ تبوک کا حکم دیا یہ وہی غزوہ ہے جسے غزوہ ذات العسرہ بھی کہا جاتا ہے چونکہ یہ غزوہ شدید گرمی کے موسم میں پیش آیا جبکہ لوگوں میں نفاق بھی بڑھا ہوا تھا اہل صفہ کی تعداد آئے دن بڑھتی رہتی تھی صفہ ایک مکان تھا جو فقیروں کے لیے بنایا گیا تھا اس میں فقراء جمع رہتے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے صدقات ان کے پاس آتے تھے جب کوئی غزوہ پیش آتا تو کوئی ایک شخص ان فقیروں میں سے کسی کو اپنے ساتھ سوار کرلیتا تھا یوں مسلمان ان فقیروں کو ثواب کی نیت سے اپنے ساتھ لے جاتے چنانچہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا جبکہ بہت سارے لوگوں نے دکھلاوے کے لیے خرچ کیا بہت سارے لوگ متذکرہ بالا فقراء کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے گئے اور کچھ تھوڑے سے لوگ باقی رہ گئے تھے اس دن سب سے زیادہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا انھوں نے دو سو اوقیہ چاندی اللہ کی راہ میں لا کر جمع کرائی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک سو اوقیہ چاندی لا کردی جبکہ حضرت عاصم انصاری (رض) نے نوے وسق کھجوریں دیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا خیال ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن سے پوچھا : کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے عرض کی : میں نے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں اچھا مال گھر والوں کے لیے چھوڑا ہے آپ نے پوچھا : بھلا اس کی مقدار کیا ہے عرض کی میں نے وہ رزق اور وہ مال گھر والوں کے لیے چھوڑا ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
30249- عن ابن عباس قال: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد خروجه من الطائف بستة أشهر، ثم أمره الله بغزوة تبوك وهي التي ذكر الله في ساعة العسرة وذلك في حر شديد وقد كثر النفاق وكثر أصحاب الصفة، والصفة بيت كان لأهل الفاقة يجتمعون فيه فتأتيهم صدقة النبي صلى الله عليه وسلم والمسلمين، وإذا حضر غزو عمد المسلمون إليهم فاحتمل الرجل الرجل أو ما شاء الله يشيعه فجهزوهم غزوا معهم واحتسبوا عليهم، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين بالنفقة في سبيل الله والحسبة فأنفقوا احتسابا، وأنفق رجال غير محتسبين، وحمل رجال من فقراء المسلمين، وبقي أناس، وأفضل ما تصدق به يومئذ أحد عبد الرحمن بن عوف تصدق بمائتي أوقية، وتصدق عمر بن الخطاب بمائة أوقية، وتصدق عاصم الأنصاري بتسعين وسقا من تمر، وقال عمر بن الخطاب: يا رسول الله إني لا أرى عبد الرحمن إلا قد احتوب ما ترك لأهله شيئا فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم هل تركت لأهلك شيئا؟ قال: نعم أكثر مما أنفقت وأطيب قال: كم؟ قال: ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير. ابن عساكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
30250 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک پہنچے آپ نے وہاں سے علقمہ بن مجزز کو فلسطین روانہ کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30250- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بلغ تبوك فبعث منها علقمة بن مجزز إلى فلسطين. "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
30251 ۔۔۔ حسن (رح) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سب سے آخری غزوہ غزوہ تبوک ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
30251- عن الحسن قال: آخر غزوة غزاها رسول الله صلى الله عليه وسلم تبوك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک
30252 ۔۔۔ ابن عائذ کی روایت ہے کہ ولید بن محمد محمد بن مسلم زہری سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رومیوں اور شام کے عرب کفار سے نبرد آزما ہونا چاہتے تھے، حتی کہ جب آپ تبوک پہنچے تو آپ نے بیس پچیس دن یہیں قیام کیا اور یہیں اذرح اور ابلہ کے وفود آپ سے ملنے آئے ان سے جزیہ پر صلح کی پھر آپ تبوک ہی سے واپس لوٹ آئے اس سے آگے تجاوز نہیں کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30252- ابن عائذ أنبأنا الوليد بن محمد عن محمد بن مسلم الزهري قال: ثم غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك وهو يريد الروم وكفار العرب بالشام، حتى إذا بلغ تبوك أقام بها بضع عشرة ليلة، ولقيه بها وفد اذرح ووفد أيلة فصالحهم رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجزية ثم قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم من تبوك ولم يجاوزها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ ذات السلاسل :
30253 ۔۔۔ ابن عائذ ، ولید بن مسلم ، عبداللہ بن لہیہ ، ابو اسود کی سند سے عروہ کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے شام کے مشرق میں غزوہ ذات السلاسل کیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ بلی جو کہ عاص بن وائل کے ننھال کا خاندان تھا کی طرف روانہ کیا نیز قضاعہ کی ایک جماعت کی سرکوبی بھی اس سریہ سے مقصود تھی جب سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) مقام مقصود پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمن کی تعداد لشکر اسلام سے کہیں زیادہ ہے تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آدمی بھیجا اور کمک کی درخواست کی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو ایک دستے پر امیر مقرر کرکے بھیجا اس دستے میں ابوبکر وعمر (رض) بھی تھے چنانچہ جب حضرت ابوعبیدہ (رض) پہنچے ان کے ساتھ مہاجرین اولین تھے حضرت عمر (رض) نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں امیر ہوں چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد مانگی ہے اور آپ نے میری مدد کے لیے تمہیں بھیجا ہے جبکہ مہاجرین نے کہا : تم اپنے ساتھیوں کے امیر ہو اور ہمارا امیر ابوعبیدہ ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : تمہیں میری مدد کے لیے بھیجا گیا ہے لہٰذا میں امیر ہوں جب ابوعبیدہ (رض) نے فریقین کے درمیان اختلاف بڑھتا ہوا دیکھا تو کہا مجھے آتے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تاکید کی تھی کہ آپس میں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا لہٰذا اگر تم میری نافرمانی کرو گے بخدا میں تمہاری اطاعت کروں گا چنانچہ ابو عبیدہ (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی امارت تسلیم کرلی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30253- ابن عائذ أخبرني الوليد بن مسلم عن عبد الله بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال: ثم غزوة عمرو بن العاص ذات السلاسل من مشارق الشام بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم في بلي وهم أخوال العاص بن وائل وبعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم فيمن يليهم من قضاعة، وأمره عليهم فخاف عمرو من جانبه الذي هو به، فبعث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يستمده فلما قدم رسول عمرو على رسول الله صلى الله عليه وسلم يستمده ندب له المهاجرين فانتدب أبو بكر وعمر في سراة من المهاجرين وأمر عليهم أبا عبيدة بن الجراح، ثم أمد بهم عمرو بن العاص، وعمرو يومئذ في سعة الله وتلك الناحية من قضاعة، فلما
قدم مدد رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأولين وأميرهم أبو عبيدة بن الجراح قال عمرو: أنا الأمير، وإنما أرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم استمده وأمدني بكم، قال المهاجرون: أنت أمير أصحابك وأبو عبيدة أمير المهاجرين، فقال عمرو: إنما أنتم مدد مددت به فأنا الأمير، فلما رأى أبو عبيدة ذلك وكان رجلا حسن الخلق لين الشيمة قال: إن آخر ما عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قال: " إذا قدمت على عمرو فتطاوعا"، وإنك والله إن عصيتني لأطيعنك فسلم أبو عبيدة لعمرو بن العاص. "كر".
قدم مدد رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأولين وأميرهم أبو عبيدة بن الجراح قال عمرو: أنا الأمير، وإنما أرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم استمده وأمدني بكم، قال المهاجرون: أنت أمير أصحابك وأبو عبيدة أمير المهاجرين، فقال عمرو: إنما أنتم مدد مددت به فأنا الأمير، فلما رأى أبو عبيدة ذلك وكان رجلا حسن الخلق لين الشيمة قال: إن آخر ما عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قال: " إذا قدمت على عمرو فتطاوعا"، وإنك والله إن عصيتني لأطيعنك فسلم أبو عبيدة لعمرو بن العاص. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ ذات الرقاع :
30254 ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے روانہ ہوئے چھ چھ آدمیوں کو سواری کے لیے ایک اونٹ ملا تھا ہم باری باری اونٹ پر سوار ہوتے گویا ہمیں سوار ہونے کی نسبت چلنا زیادہ پڑھتا یوں ہمارے پاؤں میں چھالے پڑگئے اور میرے تو ناخن بھی گرگئے ہم نے بچاؤ کے لیے اپنے پاؤں پر چیتھڑے (کپڑے) لپیٹ لیے اسی لیے اسے غزوہ ذات الرقاع کہا جاتا ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
30254- عن أبي موسى قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة ونحن ستة نفر بيننا بعير نعتقبه فنقبت أقدامنا وسقطت أظفاري، فكنا نلف على أرجلنا الخرق، فسميت الغزوة ذات الرقاع لما كنا نعصب على أرجلنا من الخرق. "ع، كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ یرموک :
30255 ۔۔۔ حبیب بن ابی ثابت روایت کی ہے کہ حارث بن ہشام عکرمہ بن ابی جہل اور عیاش بن ابی ربیعہ (رض) میدان جنگ میں لڑنے کے لیے نکلے جو انمبردی اور ثابت قدمی سے لڑتے رہے (اور بدن زخموں سے چور چور تھے) پھر حارث بن ہشام (رض) نے پینے کے لیے پانی مانگا پانی لایا گیا چنانچہ عکرمہ (رض) نے پانی کی طرف دیکھا حارث (رض) نے ساقی سے کہا عکرمہ کو دو عکرمہ (رض) نے جام ہاتھ میں لیا اتنے میں عیاش (رض) جام کی طرف دیکھنے لگے فرمایا : جام عیاش کو دو چنانچہ پانی عیاش (رض) تک پہنچے نہیں پایا تھا کہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ساقی واپس عکرمہ (رض) اور حارث (رض) کی طرف پلٹتا مگر وہ بھی جام بہشت نوش کرنے کے لیے کوچ کرچکے تھے ۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر) فائدہ : ۔۔۔ یہ مقام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حاصل تھا بخدا ایثار کی ایسی مثال ان کے سوا کوئی نہیں پیش کرسکتا ۔
30255- عن حبيب بن أبي ثابت أن الحارث بن هشام وعكرمة بن أبي جهل وعياش بن أبي ربيعة خرجوا يوم اليرموك حتى أثبتوا فدعا الحارث بن هشام بماء ليشربه ، فنظر إليه عكرمة فقال : ادفعه إلى عكرمة ، فلما أخذه عكرمة نظر إليه عياش فقال : ادفعه إلى عياش ، فما وصل إلى عياش حتى مات وما وصل إلى أحد منهم حتى ماتوا (ابن نعيم ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ اوطاس :
30256 ۔۔۔ ابو بردہ (رض) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر (رض) کو لشکر دے کر اوطاس پر چڑھائی کے لیے بھیجا چنانچہ درید بن صمہ سے مقابلہ ہوا درید مقتول ہوا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ گئے ابو موسیٰ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی ابو عامر کے ساتھ بھیجا تھا بنی جشم کے ایک شخص نے تیر مارا جو ابو عامر (رض) کے گھٹنے میں پیوست ہوگیا میں ابو عامر (رض) کے پاس آیا اور ان سے پوچھا : اے چچا ! آپ کو کس نے تیر مارا ہے انھوں نے اس شخص کی طرف اشارہ کیا میں جھٹ سے اس شخص کے پاس جا پہنچا میں نے کہا : کیا تو عربی نہیں ہے کیا تجھے شرم نہیں آتی ؟ پھر میں نے اس پر حملہ کردیا ہماری تلواریں ٹکرائیں بالآخر میں نے اسے قتل کردیا پھر میں ابو عامر (رض) کے پاس واپس لوٹ آیا اور میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جس نے آپ کو تیر مارا ہے ابو عامر (رض) نے کہا : میرے گھٹنے سے تیر نکلا لو میں نے تیر کھینچ کر نکال دیا پھر کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو اور انھیں میری طرف سے سلام کہو بعد سلام کہو : میرے لیے استغفار کریں پھر ابو عامر (رض) نے مجھے لشکر کا امیر بنایا اور تھوڑی دیر بعد اللہ کو پیارے ہوگئے جب میں واپس لوٹا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھر میں چارپائی پر تشریف فرما تھے چارپائی کی رسیوں کے نشانات جسم اقدس پر پڑے ہوئے تھے میں نے ابو عامر (رض) کی خبر دی اور عرض کی : ابو عامر (رض) نے آپ سے استغفار کی درخواست کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی مانگا اور وضو کیا پھر دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا : یا اللہ ! اپنے بندے ابو عامر کی مغفرت فرما آپ نے اتنے اوپر ہاتھ اٹھائے کہ میں نے بغلوں کی سفیدی دیکھ لی پھر فرمایا : یا اللہ ، قیامت کے دن ابو عامر کو نور عظیم عطا فرما ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرے لیے بھی دعا کریں فرمایا : یا اللہ ! عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری (رض) کا نام ہے) کی مغفرت فرما اور قیامت کے دن اسے بہشت میں داخل فرما ابو بردہ کہتے ہیں ، ایک دعا ابو عامر (رض) کے لیے کی اور دوسری دعا ابو موسیٰ کے لیے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30256- عن أبي بردة عن أبي موسى الأشعري قال: لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من حنين بعث أبا عامر على جيش إلى أوطاس فلقي دريد بن الصمة فقتل الله دريدا وهزم أصحابه، قال أبو موسى: وبعثني مع أبي عامر فرمي أبو عامر في ركبته، رماه رجل من بني جشم بسهم فأثبته في ركبته، فانتهيت إليه فقلت يا عم من رماك؟ فأشار أبو عامر إلى هذا، فأتيته فجعلت أقول: ألا تستحيي ألست عربيا ألا تثبت؟ فالتقيت أنا وهو فاختلفنا ضربتين فضربته بالسيف فقتلته، ثم رجعت إلى أبي عامر فقلت: قد قتل الله صاحبك، قال: فانتزع هذا السهم فنزعته فقال: يا ابن أخي انطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقرأه مني السلام وقل له: يقول لك استغفر لي واستخلفني أبو عامر على الناس فمكث يسيرا ثم إنه مات، فلما رجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم دخلت عليه وهو في بيت على سرير مرمل وعليه فراش قد أثر رمال السرير بظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وجسده، فأخبرته بخبرنا وخبر أبي عامر، فقلت: يقول لك: استغفر لي فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء فتوضأ، ثم رفع يديه فقال: اللهم اغفر لعبدك أبي عامر حتى رأيت بياض إبطيه، ثم قال: اللهم اجعل له يوم القيامة نورا كثيرا فقلت: ولي يا رسول الله استغفر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم فاغفر لعبد الله بن قيس ذنبه وأدخله يوم القيامة مدخلا كريما قال أبو بردة: أحدهما لأبي عامر والآخر لأبي موسى. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی مصطلق :
30257 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبی مصطلق پر حملہ کیا اس وقت بنی مصطلق اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے جویریہ بنت حارث (رض) اسی غزوہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غنیمت ملی تھیں میں گھوڑ سواروں میں تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30257- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أغار على بني المصطلق وهم غارون ونعمهم تسقى على الماء فكانت جويرة بنت الحارث مما أصاب وكنت في الخيل. "ش". سرية عاصم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ عاصم
30258 ۔۔۔ ” مسند حضرت انس بن مالک (رض) “ ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ انصار کے ستر سے زائد افراد ایسے تھے کہ جب رات چھا جاتی وہ مدینہ میں کسی معلم کے پاس آجاتے وہیں رات بسر کرتے اور قرآن مجید پڑھتے تھے صبح ہوتی اور جس کے پاس کچھ ہوتا کھا لیتا اور پانی پی لیتا اور جن کے پاس زیادہ خرچ کرنے کی وسعت ہوتی وہ بکری ذبح کرلیتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے کے سامنے لٹکا دیتے جب حضرت خبیب (رض) پر مصیبت نازل ہوئی تو انصار کے ان آدمیوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روانہ کیا ان میں میرے ماموں حرام (رض) بھی تھے چنانچہ یہ لوگ بنی سلیم کی ایک بستی میں آئے ، حرام (رض) نے اپنے امیر سے کہا : کیا ہم اس بستی والوں کو خبر نہ کردیں کہ ہم ان پر حملہ کرنے نہیں آئے تاکہ جنگ کا خیال ان کے دلوں سے نکل جائے ؟ چنانچہ حرام (رض) بستی والوں کے پاس آئے اور انھیں یہ بات کہی تاہم ایک شخص نے حرام (رض) کو پیٹ میں تیر مارا تیر لگتے ہی حرام (رض) کے منہ سے نکلا : اللہ اکبر فزت برب الکعبۃ ‘: اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا چنانچہ مسلمان ان لوگوں کا انتظار کرتے رہے تاہم کوئی خبر دینے والا بھی باقی نہ رہا ۔ ان لوگوں کی شہادت پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو از حد دکھ اور رنج ہوا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ ہر روز صبح کی نماز میں ہاتھ اٹھا کر بنی سلیم کے لیے بددعا کرتے رہے کچھ عرصہ بعد ابو طلحہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : کیا تمہیں حرام کے قاتل کا کوئی علم ہے ؟ اللہ اسے غارت کرے ابو طلحہ (رض) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسا نہ فرمائیں حرام (رض) کا قاتل مسلمان ہوچکا ہے۔ (رواہ الطبرانی وابو عوانۃ)
30258- "مسند أنس" ذكر سبعين من الأنصار كانوا إذا جنهم الليل أووا إلى معلم بالمدينة فيبيتون يدرسون القرآن فإذا أصبحوا فمن كان عند قوة أصاب من الحطب واستعذب من الماء ، ومن كانت عنده سعة أصابوا الشاة وأصلحوها فكانت تصبح معلقة بحجر رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما أصيب خبيب بعثهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان فيهم خالي حرام وأتوا حيا من بني سليم فقال حرام لاميرهم :
ألا أخبر هؤلاء أنا لسنا إياهم نريد فيخلوا وجوهنا ؟ فأتاهم فقال لهم ذلك فاستقبله رجل منهم برمح ، فأنفذه به ، فلما وجد حرام مس الرمح في جوفه قال : الله أكبر فزت ورب الكعبة ، فأبطأوا عليهم فما بقي منهم مخبر فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على سرية وجده عليهم ، لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما صلى الغداة رفع يديه يدعو عليهم ، فلما كان بعد ذلك أتاه أبو طلحة فقال له : هل لك في قاتل حرام ؟ قلت : ما له فعل الله به وفعل ؟ فقال أبو طلحة : لا تفعل فقد أسلم (طب ، وأبو عوادنة).
ألا أخبر هؤلاء أنا لسنا إياهم نريد فيخلوا وجوهنا ؟ فأتاهم فقال لهم ذلك فاستقبله رجل منهم برمح ، فأنفذه به ، فلما وجد حرام مس الرمح في جوفه قال : الله أكبر فزت ورب الكعبة ، فأبطأوا عليهم فما بقي منهم مخبر فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على سرية وجده عليهم ، لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما صلى الغداة رفع يديه يدعو عليهم ، فلما كان بعد ذلك أتاه أبو طلحة فقال له : هل لك في قاتل حرام ؟ قلت : ما له فعل الله به وفعل ؟ فقال أبو طلحة : لا تفعل فقد أسلم (طب ، وأبو عوادنة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ عاصم (رض) کے متعلقات :
30259 ۔۔۔ ” مسند خباب بن الارت “ حضرت خباب بن الارت (رض) کی روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جاسوس بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ خبیب (رض) کی لاش اتار لاؤں چنانچہ جس درخت پر خبیب (رض) کی لاش لٹکی ہوئی تھی میں اس درخت پر چڑھا ، لاش کھولی لاش زمین پر گری نیچے اتر کر لاش میں نے بہت تلاش کی لیکن مجھے لاش نہ ملی گویا انھیں زمین نگل گئی (یا آسمان نے اٹھا لیا) چنانچہ آج تک خبیب (رض) کی بوسیدہ ہڈی کا بھی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ (رواہ الطبرانی عن عمرو بن امیۃ الضمری)
30259 - (مسند خباب بن الارت) عن خباب بن الارث بعثني النبي صلى الله عليه وسلم عينا إلى قريش فجئت إلى خشبة خبيب وأنا اتخوف العيون فرقيت فيها فحللت خبيبا فوقع إلى الارض فانتبذت غير بعيد ثم التفت فلم أر خبيبا كأنما ابتلعته الارض فلم يذكر لخبيب رمة (1) حتى الساعة (طب - عن عمرو بن امية الضمري).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ زید بن حارثہ (رض) :
30260 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ ہمارے پاس زید بن حارثہ آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں دیکھ کر اٹھ کر ساتھ اپنے کپڑے بھی لیتے گئے پھر زید بن حارثہ (رض) کا بوسہ لیا ام قرفہ نے اپنی اولاد میں سے چالیس سوار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے لیے بھیجے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ (رض) کو ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے بھیجا تھا زید بن حارثہ (رض) کے دستہ نے ام قرفہ اور اس کے سبھی آدمیوں کو قتل کیا ام قرفہ کی زرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجی زرہ دو نیزوں کے سہارے مدینہ میں سرراہ نصب کردی گئی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30260- عن عائشة قالت: أتانا زيد بن حارثة فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يجر ثوبه فقبل وجهه قالت عائشة: وكانت أم قرفة جهزت أربعين راكبا من ولدها وولد ولدها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقاتلوه فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن حارثة فقتلهم وقتل أم قرفة وأرسل بدرعها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فنصبه بالمدينة بين رمحين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ زید بن حارثہ (رض) :
30261 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ میں نی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی بھی عریاں نہیں دیکھا البتہ ایک مرتبہ زید بن حارثہ (رض) ایک غزوہ سے فتح یاب ہو کر واپس آئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آواز سنی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عریاں اٹھ کر ان کی طرف لپکے اور اپنے کپڑے ساتھ کھینچتے لے گئے ۔ (رواہ ابن عساکر) ۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ آپ زید بن حارثہ (رض) کے پاس عریاں پہنچ گئے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیا ، بلکہ گھر کی چاردیواری کے اندر اور حجرے کے اندر عریاں ہوئے اور آپ کو عریاں دیکھنے والی صرف حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) تھیں اور دروازے سے نکلنے سے پہلے پہلے کپڑوں سے ستر کرلیا یا باہر بھی عریاں گئے لیکن واجبی ستر کا اہتمام ضرور کرلیا صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے کبھی عریاں نہیں ہوئے حتی کہ تعمیر کعبہ کے دوران قریش کے عہد میں جب آپ بچے تھے ستر کھل گیا تھا اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا اور عریاں ہونے سے بچا لیا ۔
30261- عن عائشة قالت: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عريانا قط إلا مرة واحدة جاء زيد بن حارثة من غزوة يستفتح، فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته فقام عريانا يجر ثوبه فقبله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ زید بن حارثہ (رض) :
30262 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ ام فرقہ کی مہم سے فارغ ہو کر زید بن حارثہ (رض) واپس آئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں تھے زید بن حارثہ (رض) نے دروازے پر دستک دی آپ فورا اٹھ کھڑے ہوئے آپ عریاں تھے اور اسی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے آپ کپڑے ساتھ کھینچ رہے تھے قبل ازیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی عریاں نہیں دیکھا تھا حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے پر آئے زید (رض) کا بوسہ لیا اور انھیں گلے لگا لیا پھر مہم کے متعلق پوچھا اور زید بن حارثہ (رض) نے آپ کو فتح کی خبر سنائی ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30262- عن عائشة قالت: قدم زيد بن حارثة من سرية أم قرفة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فأتى زيد فقرع الباب فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يجر ثوبه عريانا ما رأيته عريانا قبلها حتى اعتنقه وقبله ثم سأله فأخبره بما ظفره الله. الواقدي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ زید بن حارثہ (رض) :
30263 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو انصار نے اپنے اردگرد کے حلیف قبائل کو عرب کے طول وعرض میں مختلف قبائل کے ہاں بھیجا جن کے ساتھ انصار کے جنگی کمک کے معاہدے تھے یا جن کے ساتھ جنگ وجدال تھا چنانچہ انصار نے تمام امور سے قبائل کو آگاہ کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو حکم دیا کہ قبائل کے معاہدوں سے دستبردار ہوجائیں اور انھیں جنگ کا اعلان کریں چنانچہ انصار نے ایسا ہی کیا چنانچہ مکہ تک قرب و جوار میں مختلف سریا بھیجے حتی کہ موتہ جو جذام کا علاقہ ہے یہاں تک بیس سے زائد سرایا بھیجے اور موتہ زید بن حارثہ (رض) کو چھ ہزار کا لشکر دے کر بھیجا ۔ (رواہ ابن عائذ وابن عساکر)
30263- عن عروة قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة على الأنصار مهاجره إليها، وجه الأنصار حلفاء ممن حولهم من قبائل العرب وبينهم عقد وعهد على من نصرهم وعلى من قاتلهم من قبائل العرب، فأخبروه بذلك وأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبرؤا إليهم من حلفهم وأن يؤذنوهم بحرب ففعلوا، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرايا إلى من قرب منهم أو استناء عنه فيما بينه وبين مكة إلى ما بينهم وبين مؤتة من حسمى جذام فبعث بضعا وعشرين سرية منها الرجل يبعثه وأكثر من ذلك إلى ما بعث من سرية زيد بن حارثة بمؤتة في ستة آلاف. ابن عائذ، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30264 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے موتہ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی امارت میں ایک لشکر بھیجا اس لشکر میں ابوبکر وعمر (رض) (ابو عبیدہ (رض)) جیسے اساطین اسلام بھی شامل تھے کچھ لوگ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی امارت پر (ان کے لڑکا ہونے کی وجہ سے) طعنے کرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو جمع کر کے ان سے خطاب کیا فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ اسامہ کی امارت پر طعنے دیتے ہیں جبکہ لوگ قبل ازیں اس کے والد زید کی امارت پر بھی طعنے دے چکے ہیں اللہ کی قسم زید امارت کا سزوار تھے اور مجھے سب سے زیادہ وہ محبوب تھا اس کے بعد اس کا بیٹا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے مجھے امید ہے کہ اسامہ صالحین میں سے ہے لہٰذا اس سے بہتری اور خیر خواہی کا سلوک کرو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30264- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قد قطع بعثا قبل مؤتة وأمر عليهم أسامة بن زيد وفي ذلك البعث أبو بكر وعمر فكان أناس من الناس يطعنون في ذلك لتأمير رسول الله صلى الله عليه وسلم أسامة عليهم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب الناس ثم قال: إن أناسا منكم قد طعنوا في تأمير أسامة وإنما طعنوا في تأمير أسامة كما طعنوا في تأمير أبيه من قبله، وايم الله إن كان لخليقا للإمارة وإن كان من أحب الناس إلي وإن ابنه من أحب الناس إلي من بعده، وإني لأرجو أن يكون من صالحيكم فاستوصوا به خيرا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30265 ۔۔۔ عروہ روایت کی ہے کہ حضرت اسامہ بن زید (رض) نے جہاد کے لیے تیاری کی اور سازوسامان پہلی منزل مقام جرف میں منتقل کردیا جرف پہنچ کر حضرت اسامہ بن زید (رض) نے قیام کرلیا چونکہ انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیمار ہونے کی خبر پہنچ گئی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسامہ بن زید (رض) کو لشکر کا امیر مقرر کیا تھا لشکر میں مہاجرین بھی تھے ، حتی کہ عمر بن خطاب (رض) بھی شامل تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ موتہ پر جا کر چڑھائی کر دو اور فلسطین کی جانب جہاں زید بن حارثہ (رض) کو شہید کیا گیا وہاں پر بھی حملہ کرو لوگ جوق در جوق آتے اور آپ سے ملاقات کرتے اور آپ کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتے رخصت ہوتے رہے ، ، بالآخر آپ نے اسامہ (رض) کو بلا کر فرمایا : اللہ تعالیٰ کی برکت اور مدد پر صبح یہاں سے کوچ کر جاؤ میں نے تمہیں جہاں حملہ آور ہونے کا حکم دیا ہے وہیں جا کر حملہ کرو حضرت اسامہ (رض) نے عرض کی : آپ کو صبح کے وقت افاقہ ہوا ہے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا فرمائے گا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں رک جاؤں تاوقتیکہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو شفایاب کر دے اگر اسی حالت میں میں چلا گیا میرے دل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تردد رہے گا میں اچھا نہیں سمجھتا کہ آپ کے متعلق پھر لوگوں سے پوچھتا پھروں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور اٹھ کر حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے گھر میں تشریف لے گئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30265- عن عروة قال: كان أسامة بن زيد قد تجهز للغزو وخرج ثقله إلى الحرب فأقام تلك الأيام لوجع رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم على جيش عامتهم المهاجرون فيهم عمر ابن الخطاب أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يغير على أهل مؤتة وعلى جانب فلسطين حيث أصيب زيد بن حارثة، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ذلك الجذع، فاجتمع المسلمون يسلمون عليه، ويدعون له بالعافية فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد فقال: اغد على بركة الله والنصر والعافية، ثم اغز حيث أمرتك أن تغير، قال أسامة: بأبي أنت وأمي قد أصبحت مفيقا وأرجو أن يكون الله قد شفاك، فأذن لي أن أمكث حتى يشفيك الله، فإني إن خرجت على هذه الحال خرجت وفي قلبي قرحة من شأنك وأكره أن أسأل عنك الناس، فسكت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فلم يراجعه وقام فدخل بيت عائشة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ اسامہ (رض) :
30266 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ واقدی عبداللہ بن جعفر بن عبدالرحمن بن ازھر بن عوف زہری عروہ کی سند سے حضرت اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ اہل ابنی پر صبح صبح حملہ کریں اور ان کے اموال (گھر وغیرہ) جلا دیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ سے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام لے کر کوچ کر جاؤ اور آپ نے اپنے دست اقدس پرچم کو گرہیں لگا کر بریدہ بن حصیب اسلمی (رض) کو عطا کیا بریدہ (رض) پرچم لے کر اسامہ (رض) کی طرف چل پڑے حضرت اسامہ بن زید (رض) نے لشکر کا پہلا پڑاؤ مقام جرف میں کیا چنانچہ لوگ مدینہ سے نکل کر جرف میں لشکر کے ساتھ شامل ہوجاتے اور جسے کوئی تھوڑی بہت مشغولیت ہوتی یا کوئی کام ہوتا وہ فارغ ہو کر لشکر سے جا ملتا چنانچہ مہاجریں سابقین و اولین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس لشکر میں شامل نہ ہواہو حتی کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ، ابو عبیدہ ، سعد بن ابی وقاص ، ابو اعور ، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) اجمعین جیسے عمائدین اسلام بھی اس لشکر میں شامل تھے اس لشکر میں قتادہ بن نعمان اور سلمہ بن اسلم بن حریش بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے جبکہ مہاجرین میں سے بعض لوگ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی امارت کے متعلق چہ میگوئیاں کرنے لگے اس میں عباس بن ابی ربیعہ (رض) پیش پیش تھے اور کہتے تھے اس لڑکے کو مہاجرین اولین پر امیر بنادیا گیا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سن کر پرزور تردید کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر شکایت کی اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سخت غصہ آیا آپ (بیماری کی حالت ہی میں) گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے سر مبارک پر پٹی باندھ رکھی تھی اور اپنے اوپر چادر اوڑھی ہوئی تھی پھر منبر پر تشریف لے گئے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناء کی اور پھر فرمایا : امابعد ! اے لوگو ! میں کچھ چہ میگوئیاں سن رہا ہوں جو اسامہ کو امیر مقرر کرنے پر کی جا رہی ہیں اگر تم نے اسامہ کو امیر مقرر کرنے پر طعنے دیئے ہیں تو قبل ازیں تم لوگ اس کے باپ کو امیر مقرر کرنے پر طعنے دے چکے ہو بلاشبہ اس کا باپ امارت کا سزاوار تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی امارت کا سزاوار ہے اس کا باپ مجھے محبوب تھا اور یہ بھی مجھے محبوب ہے یہ دونوں (باپ بیٹا) طالب خیر ہیں لہٰذا تمہیں اسامہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنا چاہیے چونکہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوگئے یہ واقعہ بروز ہفتہ 10 ربیع الاول کا ہے اس کے بعد مسلمانوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو الوداع کہہ کر اسامہ (رض) کے پاس (صرف میں) چلے جاتے ، رخصت ہونے والوں میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں سے فرمایا : اسامہ کے لشکر کو بھیج دو اسی اثناء میں ام ایمن (اسامہ (رض) کی والدہ محترمہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں داخل ہوئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسامہ کو یہیں لشکر گاہ ہی میں عارضی طور پر قیام کی اجازت مرحمت فرما دیں حتی کہ آپ کی صحت اچھی ہوجائے چونکہ اگر وہ آپ کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلا گیا اس کے دل میں آپ کے متعلق تردد رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : اسامہ کے لشکر کو جانے دو چنانچہ جو لوگ پس وپیش میں تھے وہ بھی لشکر سے جا ملے یوں گیارہ ربیع الاول کی رات لوگوں نے لشکر گاہ میں گزاری پھر اتوار کو حضرت اسامہ بن زید (رض) خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ آپ کا بدن بیماری کی وجہ سے بوجھل ہوا جا رہا تھا اور آپ پر غشی بھی طاری ہوجاتی تھی اسی دن لوگوں نے آپ کو لدود (ایک دوائی) پلایا تھا چنانچہ اسامہ (رض) آپ کے پاس داخل ہوئے جبکہ اسامہ (رض) کی آنکھیں اشکبار تھیں آپ کے پاس حضرت عباس (رض) تھے اور آپ کے اردگرد عورتیں جمع تھیں حضرت اسامہ بن زید (رض) نے قریب پہنچ کر سر جھکا لیا اور آپ کا بوسہ لیا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بات نہیں کرسکتے تھے آپ دونوں ہاتھ اوپر آسمان کی طرف اٹھاتے اور پھر حضرت اسامہ بن زید (رض) پر ڈال دیتے اسامہ (رض) کہتے ہیں میں سمجھ گیا کہ آپ میرے لیے دعا کر رہے ہیں بالآکر میں لشکر گاہ میں چلا گیا پیر کی صبح اسامہ (رض) اپنی لشکرگاہ میں تھے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آج صبح افاقہ تھا اسامہ (رض) خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ : حضرت اسامہ بن زید (رض) نے آپ کو الوداع کہا آپ کو افاقہ تھا اور عورتوں نے آپ کو افاقہ میں دیکھ کر کنگھی کرنی شروع کردی اور عورتیں خوش ہوگئیں اتنے میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بھی تشریف لائے اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج آپ کو افاقہ ہے آج میری ابن خارجہ کے ہاں جانے کی باری ہے آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں چنانچہ آپ نے ابوبکر (رض) کو اجازت مرحمت فرمائی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مقام سخ کی طرف روانہ ہوگئے اور ادھر اسامہ (رض) بھی اپنی لشکر گاہ کی طرف چل پڑے اور لوگوں کو بھی لشکر سے جا ملنے کا حکم دیا جب لشکر گاہ میں پہنچ کر لوگوں کو جمع کرکے کوش کرنے کا حکم دیا حتی کہ کوچ کی تیاریاں مکمل ہوگئیں حضرت اسامہ بن زید (رض) سوار ہو کر بس کوچ کرنے لگے تھے کہ اتنے میں ام ایمن (اسامہ (رض) کی والدہ) کا قاصد پہنچ گیا اس نے پیغام دیا کہ ام ایمن کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ آخری وقت ہے چنانچہ حضرت اسامہ بن زید (رض) سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت ابو عبیدہ (رض) مدینہ واپس لوٹ آئے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے آپ دنیا سے رخصت ہوئے جا رہے تھے چنانچہ جب سورج بلند ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ یہ 12 ربیع الاول سوموار کا دن تھا مسلمانوں کا جو لشکر مقام صرف میں جمع تھا وہ بھی مدینہ میں واپس لوٹ آئے حضرت بریدہ اسلمی (رض) بھی لپٹا ہوا جھنڈا لے کر واپس لوٹ آئے اور جھنڈا لا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر گاڑ دیا جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ہاتھ پر بیعت ہوگئی تو آپ (رض) نے بریدہ (رض) کو حکم دیا کہ پرچم اسامہ (رض) کے گھر لے جاؤ اور اسے کھولنا نہیں چنانچہ میں جھنڈا لے کر اسامہ کے پاس گیا پھر یہ جھنڈا اسی حالت میں میں لے کر بسوئے شام گیا اور جھنڈا برابر لپٹا رہا پھر یہ جھنڈا لے کر میں اسامہ (رض) کے گھر آیا اور اسی حالت میں ان کے گھر رہا حتی کہ اسامہ (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ جب عرب کے طول وعرض میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر پہنچی تو بہت سارے لوگ اسلام سے برگشتہ ہوگئے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت اسامہ بن زید (رض) سے کہا تم اسی مہم کے لیے روانہ ہوجاؤ جس کے لیے تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا تھا چنانچہ لوگ پہلی لشکر گاہ مقام جرف میں جمع ہونے شروع ہوئے بریدہ (رض) بھی پرچم لے کر لشکر گاہ میں تشریف لائے ، قبائل کی ارتدادی حالت دیکھ کر مہاجرین اولین نے حضرت اسامہ بن زید (رض) کے لشکر کو مہم کے لیے جانا مناسب نہ سمجھا حتی کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ، سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) ابو عبیدہ (رض) سعد بن ابی وقاص (رض) اور سعید بن زید (رض) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور کہا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! مرتدین نے چاروں طرف سے پر تولنے شروع کردیئے ہیں لہٰذا اس لشکر کا جانا حالات کے موافق نہیں فی الحال آپ لشکر کو مرتدین کے فتنہ کو رفو کرنے کے لیے بھیجیں تاکہ آپ مرتدین کے فتنہ کا سد باب کرسکیں دوسری بات یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ لشکر میں چلے جائیں گے پیچھے مدینہ خالی رہ جائے گا کیا معلوم عورتوں اور بچوں پر کوئی حملہ کر دے یوں جب داخلی شورش ختم ہوجائے گی اور مرکز پر کسی قسم کی یلغار کا امکان نہیں رہے گا تب آپ اسامہ کے لشکر کو روانہ کردیں ، جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی گفتگو سنی فرمایا : کیا تم میں سے کسی اور شخص نے بھی کچھ کہنا ہے ؟ انھوں نے عرض کی : نہیں ہم نے جو کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر مجھے چرند پرند مدینہ میں نوچ لیں میں تب بھی اسامہ کا لشکر ضرور بھیجوں کا یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی رہی ہے اور آپ آخر وقت تک اس لشکر کے روانہ کرنے کی تاکید فرماتے رہے ہیں البتہ میں اسامہ سے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے متعلق بات کروں گا کہ وہ عمر کو ہمارے پاس چھوڑ جائیں چونکہ عمر کے بغیر ہمارا کوئی چارہ کار نہیں بخدا مجھے معلوم نہیں اسامہ ایسا کرے گا یا نہیں ۔ اسامہ (رض) کی امارت پر اظہار اطمینان : چنانچہ سب ہی لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ اسامہ (رض) کے لشکر کو روانہ کرنے کا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پختہ عزم کرلیا ہے ابوبکر (رض) اسامہ کے ساتھ ان کے گھر تک گئے اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو چھوڑ دینے کے متعلق گفتگو کی چنانچہ اسامہ (رض) نے عمر (رض) کو پیچھے چھوڑ دیا حتی کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اسامہ (رض) سے کہا : کیا تم خوشی سے عمر کو پیچھے رہنے کی اجازت دیتے ہو ؟ عرض کی : جی ہاں پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اعلان عام کرایا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اس لشکر کے لیے نکلا تھا وہ ضرور جائے اور پیچھے نہ رہے اگر میں نے کسی کو پیچھے پالیا میں اسے پیادہ لشکر سے ملاؤں گا جن حضرات مہاجرین نے اسامہ (رض) کی امارت پر تنقید کی تھی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے انھیں سختی سے ڈانٹا اور لشکر کے ساتھ جانے کا حکم دیا ، چنانچہ لشکر سے پیچھے کوئی شخص نہ رہا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اسامہ (رض) اور مسلمانوں کے ساتھ مشابہت کے لیے چلے لشکر میں تین ہزار افراد شامل تھے ان میں سے ایک ہزار گھوڑا سوار تھے مقام جرف سے جب لشکر نے جمع کیا اسامہ (رض) اپنی سواری پر سوار ہوئے ابوبکر (رض) ان کے ساتھ تھوڑا آگے تک چلتے رہے اور فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو نافذ کیا ہے تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام تر نصیحت کردی ہے میں تمہیں مزید کچھ حکم نہیں دیتا اور نہ منع کرتا ہوں اسامہ (رض) منزل بہ منزل آگے بڑھتے گئے جب کہ قبیلہ جہنیہ اور قضاعہ تقریبا پورا ہی اسلام سے برگشتہ ہوگیا تھا جب اسامہ (رض) مقام وادی القری میں پہنچے تو یہاں سے ایک جاسوس روانہ کیا یہ جاسوس بنی عذرہ کا ایک حریث نامہ آدمی تھا چنانچہ جاسوس اونٹنی پر سوار ہو کر لشکر سے پہلے ہی روانہ ہوگیا اور ابنی جا پہنچا یوں راستہ اور حالات کا جائز لے کر جاسوس واپس لوٹ آیا اور ابنی سے دو دن کی مسافت کی دوری پر اسامہ (رض) سے ملاقات ہوئی اس نے خبر دی کہ دشمن غفلت میں ہے اور دشمن نے ہمارے خلاف کوئی جمعیت اکٹھی نہیں کی جاسوس نے یہ بھی کہا کہ اب تمہیں وقت ضائع کیے بغیر بہت جلد منزل مقصود تک پہنچ جانا چاہیے تاکہ دشمن کو جمع ہونے کی فرصت نہ ملے اور یوں ان پر دفعۃ حملہ ہوجائے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30266- "مسند الصديق" الواقدي حدثني عبد الله بن جعفر بن عبد الرحمن بن أزهر بن عوف عن الزهري عن عروة عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره أن يغير على أهل أبني صباحا، وأن يحرق قالوا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأسامة: امض على اسم الله، فخرج بلوائه معقودا فدفعه إلى بريدة بن الحصيب الأسلمي، فخرج به إلى أسامة وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أسامة فعسكر بالجرف وضرب عسكره في موضع سقاية سليمان اليوم، وجعل الناس يأخذون بالخروج إلى العسكر فيخرج من فرغ من حاجته إلى معسكره، ومن لم يقض حاجته فهو على فراغ ولم يبق أحد من المهاجرين الأولين إلا انتدب في تلك الغزوة: عمر بن الخطاب وأبو عبيدة وسعد بن أبي وقاص وأبو الأعور سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل في رجال من المهاجرين والأنصار وكان أشدهم في ذلك عدة قتادة بن النعمان وسلمة بن أسلم بن حريش فقال رجال من المهاجرين وكان أشدهم في ذلك قولا عياش بن أبي ربيعة: يستعمل هذا الغلام على المهاجرين الأولين فكثرت القالة في ذلك فسمع عمر بن الخطاب بعض ذلك القول فرده على من تكلم به وجاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره بقول من قال، فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم غضبا شديدا فخرج وقد عصب على رأسه بعصابة وعليه قطيفة ثم صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما بعد أيها الناس فما مقالة بلغتني عن بعضكم في تأميري أسامة فوالله لئن طعنتم في إمارتي أسامة لقد طعنتم في إمارتي أباه من قبله، وايم الله إن كان للإمارة لخليق وإن ابنه من بعده لخليق للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس إلي وإن هذا لمن أحب الناس إلي وإنهما لمخيلان لكل خير فاستوصوا به خيرا، فإنه من خياركم. ثم نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل بيته وذلك يوم السبت لعشر ليال خلون من ربيع الأول، وجاء المسلمون الذين يخرجون مع أسامة يودعون رسول الله صلى الله عليه وسلم وفيهم عمر بن الخطاب ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أنفذوا بعث أسامة ودخلت أم أيمن فقالت: أي رسول الله لو تركت أسامة يقيم في معسكره حتى تتماثل فإن أسامة إن خرج على حاله هذه لم ينتفع بنفسه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفذوا بعث أسامة فمضى الناس إلى العسكر فباتوا ليلة الأحد ونزل أسامة يوم الأحد ورسول الله صلى الله عليه وسلم ثقيل مغمور وهو اليوم الذي لدوه فيه فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعيناه تهملان وعنده العباس والنساء حوله فطأطأ عليه أسامة فقبله ورسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتكلم فجعل يرفع يديه إلى السماء ثم يصبهما على أسامة، فأعرف أنه كان يدعو لي قال أسامة: فرجعت إلى معسكري، فلما أصبح يوم الاثنين غدا من معسكره وأصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم مفيقا فجاءه أسامة فقال اغد على بركة الله، فودعه أسامة ورسول الله صلى الله عليه وسلم مفيق مريح وجعلت نساءه يتماشطن سرورا براحته، ودخل أبو بكر الصديق فقال: يا رسول الله أصبحت مفيقا بحمد الله، واليوم يوم ابنة خارجة فأذن لي فأذن له، فذهب إلى السنح وركب أسامة إلى معسكره وصاح في أصحابه باللحوق إلى العسكر، فانتهى إلى معسكره ونزل وأمر الناس بالرحيل وقد منع النهار، فبينا أسامة بن زيد يريد أن يركب من الجرف أتاه رسول أم أيمن وهي أمه تخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يموت، فأقبل أسامة إلى المدينة ومعه عمر وأبو عبيدة بن الجراح فانتهوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يموت فتوفي صلى الله عليه وسلم حين زاغت الشمس يوم الاثنين لاثنتي عشرة ليلة خلت من ربيع الأول، ودخل المسلمون الذين عسكروا بالجرف إلى المدينة، ودخل بريدة بن الحصيب بلواء أسامة معقودا حتى أتى به باب رسول الله صلى الله عليه وسلم فغرزه عنده، فلما بويع لأبي بكر أمر بريدة أن يذهب باللواء إلى بيت أسامة ولا يحله حتى يغزوهم أسامة فقال بريدة: فخرجت باللواء حتى انتهيت به إلى بيت أسامة ثم خرجت به إلى الشام معقودا مع أسامة، ثم رجعت به إلى بيت أسامة فما زال معقودا في بيت أسامة حتى توفي أسامة فلما بلغ العرب وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم وارتد من ارتد منها عن الإسلام قال أبو بكر لأسامة أنفذ في وجهك الذي وجهك فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخذ الناس بالخروج وعسكروا في موضعهم الأول، وخرج بريدة باللواء حتى انتهى إلى معسكرهم الأول، فشق على كبار المهاجرين الأولين ودخل على أبي بكر عمر وعثمان وأبو عبيدة وسعد ابن أبي وقاص وسعيد بن زيد فقالوا: يا خليفة رسول الله إن العرب قد انتقضت عليك من كل جانب وإنك لا تصنع بتفريق هذا الجيش المنتشر شيئا اجعلهم عدة لأهل الردة ترمي بهم في نحورهم، وأخرى لا تأمن على أهل المدينة أن يغار عليها وفي الذراري والنساء فلو استأنيت بغزو الروم حتى يضرب الإسلام بجرانه ويعود أهل الردة إلى ما خرجوا منه أو يفنيهم السيف ثم تبعث أسامة حينئذ فنحن نأمن الروم أن تزحف إلينا؟ فلما استوعب أبو بكر كلامهم قال: هل منكم أحد يريد أن يقول شيئا؟ قالوا: لا قد سمعت مقالتنا فقال: والذي نفسي بيده لو ظننت أن السباع تأكلني بالمدينة لأنفذت هذا البعث ولا بدأت بأول منه كيف ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عليه الوحي من السماء يقول: " أنفذوا جيش أسامة" ولكن خصلة أكلم بها أسامة أكلمه في عمر يخلفه يقيم عندنا فإنه لا غنى بنا عنه، والله ما أدري يفعل أسامة أم لا، والله إن أبى لا أكرهه فعرف القوم أن أبا بكر قد عزم على إنفاذ بعث أسامة، ومشى أبو بكر إلى أسامة في بيته فكلمه في أن يترك عمر ففعل أسامة، وجعل يقول له: اذنت ونفسك طيبة؟ فقال أسامة: نعم، قال: وخرج فأمر مناديه ينادي: عزمة مني أن لا يتخلف عن أسامة من بعثه من كان انتدب معه في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإني لن أوتى بأحد أبطأ عن الخروج معه إلا ألحقته به ماشيا، وأرسل إلى النفر من المهاجرين الذين كانوا تكلموا في إمارة فغلظ عليهم وأخذهم بالخروج، فلم يتخلف عن البعث إنسان واحد، وخرج أبو بكر يشيع أسامة والمسلمين، فلما ركب أسامة من الجرف في أصحابه وهم ثلاثة آلاف رجل، وفيهم ألف فرس، فسار أبو بكر إلى جنب أسامة ساعة ثمن قال: استودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك، إني سمعت رسول الله يوصيك فأنفذ لأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فإني لست آمرك ولا أنهاك عنه، إنما منفذ لأمر أمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج سريعا فوطئ بلادا هادئة لم يرجعوا عن الإسلام مثل جهينة وغيرها من قضاعة، فلما نزل وادي القرى قدم عينا له من بني عذرة يدعى حريثا فخرج على صدر راحلته أمامه منفذا حتى انتهى إلى أبنى فنظر إلى ما هناك وارتاد الطريق، ثم رجع سريعا حتى لقي أسامة على مسيرة ليلتين من أبنى، فأخبره أن الناس غارون ولا جموع لهم وأمره أن يسرع السير قبل أن تجتمع الجموع وأن يشنها غارة. "كر"
তাহকীক: