কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০২২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30227 ۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ عمر بن محمد بن جبیر عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہی کہ حنین سے واپس کے موقع پر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی تھے پھر اعراب میں آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اعراب آپ سے مانگتے تھے حتی کہ اسی عالم میں آپ کی چادر ایک درخت کے ساتھ اٹک گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رک گئے اور فرمایا : میری چادر مجھے دو اگر میرے پاس ان جھاڑیوں کے بقدر مال ہوتا میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے بخیل نہ پاتے نہ جھوٹا پاتے اور نہ بزدل پاتے۔ (رواہ ابن جریر فی تھذیب)
30227- عن ابن شهاب قال أخبرني عمر بن محمد بن جبير عن أبيه عن جده قال: بينما هو يسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه الناس مقبلة من حنين علقت رسول الله صلى الله عليه وسلم الأعراب يسألونه حتى اضطروه إلى سمرة فخطفت رداءه، فوقف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أعطوني ردائي، فلو كان لي عدد هذه العضاه نعم لقسمته بينكم، ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذابا ولا جبانا. ابن جرير في تهذيبه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30228 ۔۔۔ نافع بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حنین سے فارغ ہوئے آپ ثنیۃ الارا کہ کے مقام پر تھے اور لوگوں کو مال دے رہے تھے یوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جھاڑی کے پاس جا پہنچے جھاڑی کی ایک ٹہنی سے آپ کی چادر اٹک گئی آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے یوں لگے جیسے چاند کا ٹکڑا ہو فرمایا میری چادر مجھے دو ہم نے چادر آپ کو دی پھر فرمایا ! کیا تم مجھ پر بخل کا خوف کرتے ہو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میرے پاس ان دو پہاڑوں کے درمیان خلا کے برابر مال ہوتا میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیتا ۔ (رواہ ابن جریر)
30228- عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال وهو عند ثنية الأراكة وهو يعطي حين فرغ من حنين، فاضطره الناس إلى سلمة فانتزع غصن من السلمة رداءه، فالتفت إلينا بوجهه مثل شقة القمر فقال: أعطوني ردائي، فأعطيناه إياه ثم قال: تخافون علي البخل فوالذي نفسي بيده لو كان عندي مثل صوحي هذا الجبل لأعطيتكموه قال: وصوحا الجبل جانباه ومقادمه ومآخره. ابن جرير؛ وقال: إنما هو صوحاة الجبل ولكن الشيخ كذا قال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30229 ۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کہا (یعنی غزوہ حنین) حتی کہ جب ہم واپسی پر مقام بطن نخلہ پر پہنچے تو وہاں آپ کے پاس لوگوں کا ہجوم ہوگیا آپ لوگوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس سے اٹک کر آپ کی چادر اتر گئی آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے یوں لگے جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ کے بدن کی سلوئیں ایسی دکھائی دیتی تھیں جیسے سونے کی لکیریں ہوں فرمایا : اے لوگو مجھے میری چادر دو کیا تم مجھے بخیل سمجھتے ہو بخدا اگر میرے پاس درختوں اور پرندوں کے بقدر چوپائے ہوتے ہیں وہ سب تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے ۔ (رواہ ابونعیم)
30229- عن أبي الزبير عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال: غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا ببطن نخلة واجتمع إليه الناس فركبوه فمر بشجرة فنشبت بردائه فتخرق، فأقبل علينا بوجهه كأنه فلقة قمر وكأن عكنه أساريع ذهب فقال: يا أيها الناس أمكنوني من ردائي أتخافون علي البخل؟ فوالذي نفسي بيده لو كان معي مثل شجر وطائر نعم حمر لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا جبانا ولا كذابا. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30230 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حنین کے موقع پر لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مال مانگا آپ نے لوگوں کا گائیں اونٹ اور بکریاں دیں حتی کہ جب آپ کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا اور لوگوں نے پھر بھی آپ کا ہجوم بنائے رکھا فرمایا : اے لوگو ! تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم مجھے بخیل سمجھتے ہو ؟ بخدا میں بخیل نہیں ہوں نہ بزدل ہوں اور نہ جھوٹا ہوں لوگوں نے آپ کی چادر کھینچ لی حتی کہ آپ کا کاندھا ننگا ہوگیا جب کاندھا مبارک ننگا ہوا مجھے یوں لگا جیسے میں چاند کا ٹکڑا دیکھ رہا ہوں (رواہ ابن جریر وسندہ علی شرط الشیخین)
30230- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حنين سأله الناس فأعطاهم من البقر والغنم والأبل، حتى لم يبق شيء من ذلك فماذا تريدون؟ أتريدون أن تبخلوني؟ فوالله ما أنا ببخيل ولا جبان ولا كذوب، فجذبوا ثوبه حتى بدا منكبه فكأنما انظر حين بدا منكبه إلى شقة القمر من بياضه. ابن جرير؛ وسنده على شرط الشيخين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30231 ۔۔۔ ہشام بن زید حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر ہو ازان اور غطفان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جم غفیر جمع کرلیا جب کہ مسلمانوں کی تعداد دس ہزار (10000) کے لگ بھگ تھی نیز مسلمانوں کے ساتھ طلقاء (وہ لوگ جن کی فتح مکہ کے دن اترے اور ر فرمایا : میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اس دن آپ نے دو مرتبہ آواز دی ان دونوں آوازوں کے درمیان کوئی اور کلام حائل نہیں تھا آپ نے دائیں طرف دیکھا فرمایا۔ اے انصار کی جماعت ! انصار کی جماعت انصار نے عرض کی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم حاضر ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں پھر بائیں طرف دیکھا اور فرمایا : اے انصار کی جماعت انصار ! نے عرض کی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم حاضر ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں پھر آپ آگے بڑھے فریقین کے درمیان جنگ ہوئی نتیجہ مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کا مال کثیر غنیمت میں ملا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت (تالیف قلب کے طور پر) طلقاء میں تقسیم کیا اس پر انصار نے کہا : سختی کے وقت ہمیں بلا لیا جاتا ہے اور اموال غنیمت دوسروں میں تقسیم کردیئے جاتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ نے انصار کو جمع کیا اور آپ ایک خیمے میں تشریف لے گئے پھر فرمایا : اے جماعت انصار ! میں یہ کیا سن رہا ہوں ؟ انصار خاموش رہے آپ نے فرمایا : اے جماعت انصار اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار کسی دوسری گھاٹی میں چل رہے ہوں میں انصار کی گھاٹی میں چلنے کو ترجیح دوں گا پھر فرمایا : کیا تم راضی ہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر واپس جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ انصار نے عرض کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم راضی ہیں۔ ہشام بن زید کہتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے کہا : کیا آپ اس واقعہ میں موجود تھے ؟ حضرت انس (رض) نے فرمایا : میں کہاں غائب ہوتا۔ (رواہ ابن عساکر وابن ابی شیبۃ)
30231- عن هشام بن زيد عن أنس قال: لما كان يوم حنين جمعت هوزان وغطفان للنبي صلى الله عليه وسلم جمعا كثيرا والنبي صلى الله عليه وسلم يومئذ في عشرة آلاف أو أكثر من عشرة آلاف ومعه الطلقاء، فجاؤوا بالنفر والذرية، فجعلوا خلف ظهورهم، فلما التقوا ولى الناس والنبي صلى الله عليه وسلم يومئذ على بغلة بيضاء، فنزل فقال: إني عبد الله ورسوله ونادى يومئذ نداءين لم يخلطا بينهما كلاما، فالتفت عن يمينه فقال: أي معشر الأنصار فقالوا: لبيك يا رسول الله نحن معك، ثم التفت عن يساره فقال: يا معشر الأنصار فقالوا: لبيك يا رسول الله نحن معك، ثم نزل إلى الأرض، فالتقوا فهزموا، وأصابوا من الغنائم، فأعطى النبي صلى الله عليه وسلم الطلقاء وقسم فيها، فقالت الأنصار: ندعى عند الشدة، وتقسم الغنيمة لغيرنا، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فجمعهم وقعد في قبة فقال: أي معشر الأنصار ما حديث بلغني عنكم؟ فسكتوا فقال: يا معشر الأنصار لو أن الناس سلكوا واديا، وسلكت الأنصار شعبا لأخذت شعب الأنصار، ثم قال: أما ترضون أن يذهب الناس بالدنيا وتذهبوا برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم تحوزنه إلى بيوتكم؟ قالوا: رضينا يا رسول الله. قال هشام بن زيد: قلت لأنس: وكنت شاهد ذلك؟ قال: وأين أغيب عن ذلك. "كر. ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30232 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابو طلحہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنساتے ہوئے آئے اور وہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ام سلیم (رض) کو نہیں دیکھا اس نے اپنے پاس خنجر رکھا ہوا ہے ؟ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلیم (رض) سے فرمایا : اے ام سلیم (رض) تم نے خنجر کس لیے رکھا ہوا ہے ؟ وہ بولیں : میں چاہتی ہوں کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا میں اسے زخمی کروں گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30232- عن أنس قال: جاء أبو طلحة يوم حنين يضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ألم تر إلى سليم معها خنجر؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أم سليم ما أردت إليه؟ قالت: أردت غن دنا إلي أحد منهم طعنته به. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30233 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حنین سے ملنے والے تاخت و تاراج میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن کو سو سو اونٹ دیئے انصار میں سے کچھ لوگ کہنے لگے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے غنائم ایسے لوگوں کو دے دی ہیں جن کے خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہے ہیں یا کہا جن کی تلواروں سے ہمارے خون ٹپک رہے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی آپ نے انصار کو پیغام بھیج کر بلوایا جب انصار خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور شخص بھی ہے ؟ انصار نے عرض کی : نہیں البتہ ہماری بہن کا بیٹا ہے۔ آپ نے فرمایا : قوم کی بہن کا بیٹا اس قوم کا فرد ہوتا ہے پھر آپ نے فرمایا : تم لوگ ایسی ویسی باتیں کرتے ہو ؟ کیا تم راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے کر واپس جائیں اور تم اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے کر جاؤ؟ عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم راضی ہیں آپ نے فرمایا : لوگ عام ہیں اور انصار خاص ہیں اور انصار میری جماعت اور میرے خاص لوگ ہیں اگر ہجرت کی تقدیر نہ ہوتی میں جماعت انصار میں سے ہوتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30233- عن أنس قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم من غنائم حنين الأقرع بن حابس مائة من الإبل وعينة بن حصن مائة من الإبل، فقال ناس من الأنصار: يعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم أو تقطر سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فأرسم إليهم فجاؤوا فقال: فيكم غيركم؟ قالوا: لا إلا ابن أختنا قال: إن ابن أخت القوم منهم فقال: قلتم كذا وكذا أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير وتذهبون بمحمد إلى دياركم قالوا: بلى يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الناس دثار والأنصار شعار الأنصار كرشي وعيبتي فلولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30234 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ہوازن حنین کے موقع پر اپنے بچے عورتیں اونٹ اور بھیڑ بکریاں لے آئے اور صفیں بنا ڈالیں انھوں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی کثرت معلوم ہو جب جنگ ہوئی تو مسلمانوں کو عارضی طور پر پسپا ہونا پڑا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ پھر فرمایا : اے مہاجرین کی جماعت ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی کوئی تلوار نہیں چلائی اور نہ ہی کوئی نیزہ چلایا اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا کافر کا سازو و سامان قاتل کے لیے ہوگا چنانچہ ابو طلحہ (رض) نے بیس کافروں کا قتل کیا اور سب کا سازوسامان انھوں نے لے لیا ابو قتادہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے ایک شخص کے کاندھے پر کاری ضرب لگائی ہے اس نے زرہ پہن رکھی تھی زرہ کٹ گئی تھی تاہم میں اسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تھا آپ نے فرمایا : دیکھو کس نے اس کا سازوسامان لیا ہے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا : میں ن ے اس کا سازوسامان لیا ہے آپ قتادہ کو اور کچھ دے دیں اور یہ سامان مجھی کو لینے دیں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ مانگا جاتا آپ عطا کردیتے تھے یا خاموش ہوجاتے تھے آپ اس مرتبہ خاموش رہے اتنے میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : بخدا ! ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک شیر کے مال کو چھین کر دوسرے شیر کو دے دے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : عمر نے سچ کہا حضرت ابوطلحہ (رض) ام سلیم (رض) سے ملے اور ام سلیم (رض) کے پاس خنجر تھا ابو طلحہ نے پوچھا : اے ام سلیم تمہارے پاس یہ کیا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے کہا : میں چاہتی ہوں کہ اگر کوئی مشرک میرے پاس آیا وت اس سے میں اسے زخمی کروں گی اور اس کے پیٹ میں کچوکے لگاؤں گی ابو طلحہ (رض) نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے ام سلیم (رض) کو نہیں سنا وہ کیا کہتی ہے ؟ ام سلیم (رض) بولیں : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! طلقاء میں سے ہمارے بعد جو شخص ہوگا میں اسے قتل کروں گی اس پر آپ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے کفایت کردی ہے اور ہمارے حق میں جنگ کا اچھا نتیجہ دیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30234- عن أنس أن هوزان جاءت بالصبيان يوم حنين والنساء والإبل والغنم فجعلوها صفوفا يكثرون على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما التقوا ولى المسلمون كما قال الله تعالى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عباد الله أنا عبد الله ورسوله ثم قال: يا معشر المهاجرين أنا عبد الله ورسوله قال: فهزم الله المشركين ولم يضرب بسيف ولم يطعن برمح وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ: من قتل كافرا فله سلبه، فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلا، فأخذ أسلابهم وقال أبو قتادة: يا رسول الله إني ضربت رجلا على جبل العاتق وعليه درع له قد تحصفت عنه فأعجلت عنه، قال: فانظر من أخذها، فقام رجل فقال: انا أخذتها فأرضه عنها، وأعطنيها وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسأل شيئا إلا أعطاه أو سكت، فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر: لا والله لا يفيئها الله على أسد من أسده، ويعطيكها فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: صدق عمر ولقي أبو طلحة أم سليم ومعها خنجر فقال أبو طلحة يا أم سليم: ما هذا معك؟ قالت أردت إن دنا مني بعض المشركين أن أبعج به بطنه، فقال أبو طلحة: يا رسول الله ألا تسمع ما تقول أم سليم؟ قالت: يا رسول الله اقتل من بعدنا من الطلقاء انهزموا بك يا رسول الله فقال: إن الله قد كفى وأحسن. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30235 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ قاسم بن محمد کی روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی بکر کو غزوہ طائف کی موقع پر ایک تیر لگا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے چالیس دن بعد عبداللہ (رض) کے لیے جان لیوا ثابت ہوا یہ تیر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس رہا حتی کہ ثقیف کا وفد آیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے وفد کو یہ تیر دکھایا اور کہا : کیا تم میں سے کوئی شخص اس تیر کو پہنچانتا ہے ؟ چنانچہ سعد بن عبید بنی عجلان کے بھائی نے کہا : یہ تیر میں نے بنایا ہے اور اس کے پر بھی میں نے ہی لگائے ہیں اور میں نے ہی یہ تیر چلایا تھا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : یہ وہی تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر کو قتل کیا ہے تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے عبداللہ کو عزت بخشی تمہارے ہاتھ سے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچنے دیا ۔ (رواہ البیہقی فی السنن)
30235- "مسند الصديق" عن القاسم بن محمد قال: رمي عبد الله بن أبي بكر بسهم يوم الطائف فانتقض به بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربعين ليلة فمات فلم يزل ذلك السهم عند أبي بكر، فقدم عليه وفد ثقيف فأخرج إليهم فقال: هل يعرف هذا السهم منكم أحد؟ فقال سعد بن عبيد أخو بني العجلان: هذا سهم أنا بريته ورشته وعقبته وأنا رميت به فقال أبو بكر: إن هذا السهم الذي قتل عبد الله بن أبي بكر فالحمد لله الذي أكرمه بيدك ولم يهنك بيده فإنه واسع لكما. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30236 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ طائف کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنظلہ بن ربیع کو اہل طائف کے پاس بات چیت کرنے کے لیے بھیجا ، اہل طائف حنظلہ (رض) کو اٹھا کرلے گئے اور اپنے قلعہ میں داخل کرنا چاہتے تھے : یہ حالت دیکھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ان لوگوں سے حنظلہ کو وا گزار کرا کر لائے گا اس کے لیے اس غزوے جیسا اجر وثواب ہوگا چنانچہ اس کام کے لیے صرف عباس بن عبدالمطلب (رض) اٹھے انھوں نے دشمن کو قلعے کے دروازے پر جا لیا قریب تھا کہ وہ لوگ حنظلہ (رض) کو قلعہ میں داخل کرلیتے لیکن جھپٹ کر عباس (رض) نے حنظلہ (رض) کو ان سے چھین لیا عباس (رض) زبردست تندھی کے مالک تھے جونہی حنظلہ (رض) کو لے کر واپس پلٹے قلعہ کے اوپر سے ان پر دشمن نے پتھروں کی بارش برسا دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) کی لیے دعائیں کرتے رہے حتی کہ عباس (رض) صحیح و سلامت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30236- عن جابر قال: لقد بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الطائف حنظلة بن الربيع إلى أهل الطائف فكلمهم، فاحتملوه ليدخلوه حصنهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهؤلاء وله مثل أجر غزاتنا هذه؟ فلم يقم إلا العباس بن المطلب حتى أدركه في أيديهم قد كادوا أن يدخلوه الحصن، فاحتضنه العباس وكان رجلا شديدا فاختطفه من أيديهم وأمطروا على العباس الحجارة من الحصن فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يدعو له حتى انتهى به إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30237 ۔۔۔ ” مسند سعد انصاری “ سعید بن عبید ثقفی کی روایت ہے کہ میں نے ابو سفیان بن حرب کو غزوہ طائف کے دن دیکھا کہ وہ ابویعلی کے باغ میں بیٹھے رہے تھے اور کچھ کھا رہے تھے میں نے آنکھ کا نشانہ لے کر تیر مارا جو سیدھا نشانے پہ جا لگا اور ان کی آنکھ جاتی رہی ابو سفیان اٹھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں میری آنکھ شہید ہوچکی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہو تمہاری آنکھ درست ہوجائے گی اور اگر چاہو کہ اس کے بدلہ میں تمہیں جنت ملے ابو سفیان نے عرض کی : مجھے جنت ملے ۔ (رواہ ابن عساکر) ۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث میں ان بدباطن لوگوں کے شبے کا ازالہ ہے کہ ابوسفیان کبھی بھی دل سے مسلمان نہیں ہوئے محض جان بچانے کے لیے اسلام قبول کرلیا تھا اور ہمیشہ تاوفات نفاق پر رہے بھلا ایک شخص اسلام قبول کرے اور کفر سے تائب ہو جیسا کہ فتح مکہ کے متعلق بیشمار مرویات میں گزر چکا ہے اور پھر اپنی آنکھ کو خدا کی راہ میں شہید کرے پھر شام کی فتوحات میں اہل خانہ کے ساتھ شریک ہو اس کے متعلق لب کشائی کرنا پرلے درجے کی بےہودگی ہے کیا اسلام ماقبل کی برائیوں کو ختم نہیں کردیتا ۔
30237- "من مسند سعد الأنصاري" عن سعيد بن عبيد الثقفي قال: رأيت أبا سفيان بن حرب يوم الطائف قاعدا في حائط أبي يعلى يأكل فرميته فأصبت عينه فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله هذه عيني أصيبت في سبيل الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن شئت دعوة الله فردت عليك، وإن شئت فالجنة قال: فالجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30238 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کے موقع پر مشرکین کے ہر اس غلام کو آزاد کردیا جو مشرکین کے پاس سے نکل کر آپ کے پاس پہنچ گیا تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30238- عن ابن عباس قال: أعتق رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الطائف كل من خرج إليه من رقيق المشركين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30239 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ غزوہ طائف کے موقع پر دو غلام نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پاس آئے آپ نے انھیں آزاد کردیا انمیں سے ایک سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بھی تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30239- عن ابن عباس قال: خرج غلامان إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الطائف فأعتقهما، أحدهما أبو بكرة فكانا مولييه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ طائف :
30240 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف پر منجنیق نصب کی تھی ۔ (رواہ العقیلی) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث موضوع ہے چونکہ اس کی سند میں عبداللہ بن خراش بن خوکشب راوی ہے امام بخاری اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے دیکھے حسن الاثر 480 ۔
30240- عن علي قال: نصب رسول الله صلى الله عليه وسلم المنجنيق على أهل الطائف.

"عق"؛ وفيه عبد الله بن خراش بن حوشب، قال "خ" منكر الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30241 ۔۔۔ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ میں غزوہ موتہ میں شریک رہا ہوں اس دن میں نے ایک شخص کو مقابلے کے لیے للکارا تاہم وہ میرے مقابلے پر اتر آیا اس کے سر پر خود تھا اور خود میں قیمتی موتی جڑا ہوا تھا اسے للکارنے سے میرا مقصد یہی قیمتی جو ہر تھا میں نے اسے قتل کرکے موتی لے لیا پھر جب ہم پسپا ہوئے میں یہ موتی لے کر مدینہ واپس ہوا اور موتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا آپ نے انعام میں وہ موتی مجھے عطا کردیا پھر میں نے یہ موتی حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک سو دینار میں فروخت کیا ۔ (رواہ الواقدی وابن و عساکر)
30241- عن خزيمة بن ثابت قال: حضرت مؤتة فبارزت رجلا يومئذ فأصبته وعليه بيضة له فيها ياقوتة فلم يكن همي إلا الياقوتة، فأخذتها، فلما انكشفنا وانهزمنا رجعت بها إلى المدينة فأتيت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فنفلنيها فبعتها زمن عمر بمائة دينار. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30242 ۔۔۔ حضرت ابوقتادہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” سوئے موتہ جیش الامراء “ کو بھیجا ، اور تاکید کی کہ تمہارا امیر زید بن حارثہ ہوگا اگر وہ شہید ہوجائے تو تمہارا امیر جعفر بن ابی طالب ہوگا ، اگر وہ بھی شہید ہوجائے تو عبداللہ بن رواحہ تمہارا امیر ہوگا جعفر (رض) نے بڑھ کر عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں کیسے مان جاؤں کہ آپ مجھ پر زید بن حارثہ کو امیر مقرر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا : تم چلو تمہیں کیا معلوم کس میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی رکھی ہے چنانچہ لشکر اسلام روانہ ہوگیا پھر جیسا اللہ نے چاہا وہی انھیں پیش آیا کچھ دنوں بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : لوگوں کو مسجد میں جمع ہوجانے کے لیے اعلان کرو جب لوگ جمع ہوگئے آپ نے فرمایا : یہ چیز کا دروازہ ہے تین بار فرمایا کیا میں تمہیں اس لشکر کے متعلق خبر نہ دوں ۔ چنانچہ ہمارا لشکر منزل بہ منزل روانہ ہوا پھر دشمن سے اس کا مقابلہ ہوا زید شہید ہوگیا لہٰذا تم لوگ اس کے لیے استغفار کرو چنانچہ لوگوں نے حضرت زید (رض) کے لیے استغفار کی فرمایا : پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا تھام لیا اس نے بردست حملہ کیا لیکن وہ بھی شہید ہوگیا اس کے لیے استغفار کرو لوگوں نے جعفر (رض) کے لیے استغفار کیا پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ (رض) نے سنبھال لیا وہ بھی استقلال سے لڑتا رہا لیکن وہ بھی شہید ہوگیا میں اس کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں اس کے لیے استغفار کرو ، ، چنانچہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے لیے استغفار کیا فرمایا : پھر خالد بن ولید نے جھنڈا سنبھال لیا حالانکہ وہ مقررہ کردہ امرء میں سے نہیں ، وہ اپنے تئیں امیر بنا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا : یا اللہ یہ (خالد بن ولید) تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد کر ، اسی لیے حضرت خالد (رض) کو سیف اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا : چلو جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو تم میں سے کوئی شخص بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ سخت گرمی میں لوگ پیادہ وسوار ہر حال میں چل پڑے اسی دوران راستے میں ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سواری پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آئی آپ کجاوے میں ایک طرف جھک گئے ، میں نے آکر اپنے ہاتھ سے آپ کو سہارا دیا ، آپ نے میرے ہاتھ کی لمس محسوس کی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے آکر اپنے ہاتھ سے آپ کو سہارا دیا ، آپ نے میرے ہاتھ کی لمس محسوس کی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی : میں ابو قتادہ ہوں آپ چلتے رہے پھر تھوڑی دیر بعد آپ کو اونگھ آگئی اور کجاوے میں ایک طرف جھک گئے میں نے آکر اپنے ہاتھ سے آپ کو سہارا دیا میرے ہاتھ کی لمس محسوس کی آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : ابو قتادہ ہوں چنانچہ آپ نے دوسری یا تیسری مرتبہ کے بعد فرمایا : میں نے آج رات تمہیں مشقت میں ڈال دیا ہے کہ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ایسا ہرگز نہیں البتہ میں سمجھتا ہوں کہ اونگھ نے مشقت میں ڈال دیا ہے اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے رک جائیں تاکہ سواری سے نیچے اتر کر نیند پوری کرلیں ؟ فرمایا مجھے خوف ہے کہ لوگ بےیارومددگار نہ ہوجائیں عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ایسا ہرگز نہیں ہوگا فرمایا : ہمارے لیے کوئی جگہ تلاش کرو جہاں میں تھوڑی دیر کے لیے نیند کرلوں میں راستے سے ہٹ گیا اور جھاڑیوں کے درمیان مستور جگہ تلاش کرلی میں نے آکر عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس ہی جھاڑیوں میں ایک جگہ ہے اللہ نے رحم فرمایا، میں نے جگہ ڈھونڈلی ، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ہمراہی راستے سے الگ ہوگئے اور اس جگہ جا کر آرام کیا پھر ہم ایسے سوئے کہ سورج کی تمازت نے ہماری آنکھ کھولی ہم پشیمانی کے عالم میں اٹھے اور نماز کے دوڑ دھوپ کرنے لگے آپ نے فرمایا : آرام سے آرام سے ذرا سورج کو بلند ہونے دو پھر آپ نے فرمایا : جس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھنی ہیں وہ جماعت سے پہلے پڑھ لے چنانچہ جس نے پڑھنی تھیں ان نے پڑھ لیں پھر آپ نے حکم دیا اذان دی گئی اور آپ نے پھر لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا فرمایا : ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں مشغول ہو کر نماز سے غافل نہیں ہوئے البتہ ہماری روحیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب چاہتا ہے روحوں کو اپنے قبضہ سے واکر دیتا ہے غور سے سن لو جس شخص کی بھی یہ نماز فوت ہوجائے وہ اسی طرح کی نماز ادا کرے ۔ برتن پانی سے ابل پڑا : پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شدت پیاس کی شکایت کی فرمایا : اے ابوقتادہ : کوئی پیاس نہیں میرے پاس کوزہ لاؤ میں کوزہ لے آیا آپ نے کوزہ گود میں رکھ لیا پھر آپ نے کوزے پر منہ کیا واللہ اعلم آپ نے کوزے میں پھونکا یا نہیں پھر فرمایا : اے ابو قتادہ مجھے چھوٹا پیالہ لا دو چنانچہ میں کجاوے سے چھوٹا سا پیالہ لے آیا آپ نے پیالہ کوزے میں انڈیلا پھر فرمایا : لوگوں کو پانی پلاؤ پھر آپ نے بآواز بلند فرمایا : جس کے پاس برتن ہیں وہ آئے پانی پی لے میں ایک آدمی کے پاس کیا اسے پانی پلایا پھر میں پیالے میں بچا ہوا پانی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا پھر میں نے حلقہ میں موجود سبھی لوگوں کو پلایا پھر میں بچا ہوا پانی لے آیا میں طمع کرتے ہوئے پیالہ میں دیکھنے لگا کہ اس میں پانی بچا ہے آپ نے پیالے میں اور پانی ڈالا اور فرمایا : پیو میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے شدید پیاس لگی ہوئی ہے آپ نے فرمایا : پیو مجھے رہنے دو چونکہ میں آج قوم کا ساقی ہوں (اور ساقی آخر میں پیتا ہے) پھر آپ نے پیالے میں پانی ڈالا اور خود پیا پھر اور ڈال کر پیا پھر سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہو کر چل دیئے ۔ آپ نے فرمایا : تم نے اس وقت لوگوں کو کس حال میں پایا جب انھوں نے اپنے نبی کو گم پایا اور پھر نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا : کیا لوگوں میں ابوبکر اور عمر نہیں اگر لوگ ان دونوں کی اطاعت کرتے رہیں گے تو ہدایت پر قائم رہیں گے اگر ان کی نافرمانی کی تو وہ بھی گمراہ ہوجائیں گے آپ نے یہ بات تین بار فرمائی حتی کہ آپ چل دیئے اور ہم چل دیئے جب ہم نحر الظہرہ کے مقام پر پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ لوگ درختوں کے سائے تلے ہیں ہم ان کے پاس آئے مہاجرین کے کچھ لوگوں میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہیں ہم نے ان سے پوچھا : جب تم لوگوں نے اپنے نبی کو گم پایا اور نماز کا وقت بھی ہوگیا تم نے کیا کیا ؟ لوگوں نے کہا : بخدا ہم تمہیں خبر دیتے ہیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) آگے بڑھے اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے کہا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے : ” انک میت وانھم میتون “ آپ نے بھی مرنا ہے اور لوگوں نے بھی مرنا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ہوسکتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا ہو لہٰذا آپ نماز پڑھائیں میں جا کر ادھر ادھر دیکھتا ہوں اگر میں نے کچھ دیکھا ورنہ میں آپ کے ساتھ مل جاؤں گا چنانچہ نماز کھڑی کردی گئی اور بات یوں ختم ہوگئی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، والرویانی ورحالہ ثقات وروری بعضہ البیہقی فی الدلائل)
30242- عن أبي قتادة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيش الأمراء وقال: عليكم زيد بن حارثة، فإن أصيب زيد فجعفر بن أبي طالب، فإن أصيب جعفر فعبد الله بن رواحة، فوثب جعفر فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله ما كنت أرتقب أن تستعمل علي زيدا قال: أمضه فإنك لا تدري في أي ذلك خير فانطلقوا فلبثوا ما شاء الله، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صعد المنبر وأمر أن ينادى: الصلاة جامعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: باب خير وباب خير - ثلاثا - ألا أخبركم عن جيشكم هذا الغازي: انطلقوا فلقوا العدو فأصيب زيد شهيدا، فاستغفروا له فاستغفر له الناس، ثم أخذ اللواء جعفر بن أبي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدا، فاستغفروا له فاستغفر له الناس، ثم أخذ اللواء عبد الله بن رواحة فثبت قدميه حتى قتل شهيدا أشهد له بالشهادة، فاستغفروا له فاستغفر له الناس ثم أخذ اللواء خالد بن الوليد ولم يكن من الأمراء هو آمر نفسه، ثم رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم ضبعيه فقال: اللهم هذا سيف من سيوفك فانتقم به - وفي لفظ: فأنت تنصره - فسمي خالد سيف الله قال: انفروا وأمدوا إخوانكم ولا يتخلفن منكم أحد فنفر الناس في حر شديد مشاة وركبانا، فبينما هم ليلة مما يلين عن الطريق إذ نعس رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مال عن الرحل فأتيته فدعمته بيدي فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: من هذا؟ فقلت: أبو قتادة فسار أيضا، ثم نعس حتى مال عن الرحل، فأتيته فدعمته بيدي فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: من هذا؟ فقلت: أبو قتادة قال في الثانية أو الثالثة: ما أراني إلا قد شققت عليك منذ الليلة؟ قلت: كلا بأبي أنت وأمي ولكن أرى الكرى أو النعاس قد شق عليك، فلو عدلت فنزلت حتى يذهب كراك؟ قال: إني أخاف أن يخذل الناس قال: كلا بأبي أنت وأمي. قال: فأبغنا مكانا خمرا فعدلت عن الطريق فإذا أنا بعقدة من شجر فجئت فقلت: يا رسول الله هذه عقدة من شجر قد أصبتها فعدل رسول الله صلى الله عليه وسلم وعدل معه من يليه من أهل الطريق فنزلوا واستتروا بالعقدة، فما استيقظنا إلا بالشمس طالعة علينا، فقمنا ونحن ذهلين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رويدا رويدا حتى تعالت الشمس ثم قال: من كان يصلي هاتين الركعتين قبل صلاة الغداة فليصلهما فصلاهما من كان يصليهما، ومن كان لا يصليهما، ثم أمر فنودي بالصلاة، ثم تقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بنا، فلما سلم قال: إنا نحمد الله أنا لم نكن في شيء من أمر الدنيا فشغلنا عن صلاتنا، ولكن أرواحنا كانت بيد الله أرسلها إن شاء ألا فمن أدركته هذه الصلاة من عبد صالح فليقض معها مثلها قالوا: يا رسول الله العطش؟ قال: لا عطش يا أبا قتادة قال: أرني الميضأة فأتيته بها فجعلها في ضبنه ثم التقم فمها فالله أعلم أنفث فيها أم لا، ثم قال: يا أبا قتادة أرني الغمر على الراحلة، فأتيته بقدح بين القدحين، فصب فيه فقال: اسق القوم، ونادى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورفع صوته: ألا من أتاه إناؤه فليشربه. فأتيت رجلا فسقيته، ثم رجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بفضلة القدح، فذهبت فسقيت الذي يليه حتى سقيت أهل تلك الحلقة، ثم رجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بفضلة القدح، فسقيت حلقة أخرى حتى سقيت سبع رفق وجعلت أتطاول هل بقي فيها شيء فصب رسول الله صلى الله عليه وسلم في القدح فقال لي: اشرب قلت: بأبي أنت وأمي إني لأجدني كثير عطش، قال: إليك عني فإني ساقي القوم منذ اليوم، فصب رسول الله صلى الله عليه وسلم في القدح فشرب ثم صب في القدح فشرب، ثم ركب وركبنا، ثم قال: كيف ترى القوم صنعوا حين فقدوا نبيهم وأرهقتهم صلاتهم؟ قلت: الله ورسوله أعلم قال: أليس فيهم أبو بكر وعمر إن يطيعوهما فقد رشدوا ورشدت أمهم وإن يعصوهما فقد غووا وغوت أمهم قالها ثلاثا، ثم سار وسرنا حتى إذا كنا في نحر الظهيرة إذا ناس يتبعون ظلال الشجر، فأتيناهم فإذا ناس من المهاجرين فيهم عمر بن الخطاب فقلنا لهم: كيف صنعتم حين فقدتم نبيكم وأرهقتكم صلاتكم؟ قالوا: نحن والله نخبركم، وثب عمر فقال لأبي بكر: إن الله تعالى قال في كتابه: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} وإني لا أدري لعل الله قد توفى نبيه فقم فصل، وأنطلق إني ناظر بعدك ومتلوم1، فإن رأيت شيئا وإلا لحقت بك، وأقيمت الصلاة وانقطع الحديث. "ش" والروياني؛ ورجاله ثقات وروى بعضه "هق" في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30243 ۔۔۔ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر حضرت زید بن حارثہ (رض) کو امیر مقرر کیا اور تاکید فرمائی کہ اگر یہ شہید ہوجائے تو تمہارا امیر جعفر بن ابی طالب ہوگا اگر وہ بھی شہید ہوجائے تو عبداللہ بن رواحہ تمہارا امیر ہوگا چنانچہ لشکر منزل بہ منزل آگے بڑھتا گیا اور جھنڈا حضرت زید بن حارثہ (رض) نے لے لیا دشمن سے جنگ ہوئی دلیری سے لڑتے رہے لیکن شہید ہوگئے ان کے بعد حضرت جعفر بن طالب (رض) نے جھنڈا سنبھالا وہ بھی دلیری سے لڑے مگر وہ بھی شہید ہوگئے ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے جھنڈا اٹھا لیا وہ بھی ثابت قدمی سے لڑے مگر وہ بھی شہید ہوگئے ان کے بعد حضرت خالد بن ولید (رض) نے جھنڈا اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لشکر کی خبر پہنچی آپ گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا : بعد ! تمہارے بھائی نے دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جھنڈا زید بن حارثہ نے اٹھایا اور لڑتا رہا بالآخر وہ شہید ہوگیا پھر جعفر نے جھنڈا سنبھالا وہ بھی دلیری سے لڑتا رہا لیکن وہ بھی شہید ہوگیا اس کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ بھی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگیا پھر جھنڈا اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے سنبھال لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن تک سوگ کرنے کی مہلت دی پھر آپ تین دن کے بعد آئے اور فرمایا آج کے بعد جعفر پر مت رو پھر آپ نے فرمایا میرے پاس میرے بھائی کے بیٹوں کو لے آؤ چنانچہ ہمیں آپ کے پاس لایا گیا ہم یوں لگتے تھے جیسے چھوٹے چھوٹے چوزے ہوں پھر آپ نے حجام کو بلایا اور آپ نے ہمارے سر منڈوائے پھر آپ نے فرمایا : رہی بات محمد کی سو یہ ہمارے چچا ابو طالب کے زیادہ مشابہ ہے رہی بات عون کی یہ صورت اور سیرت میں میرے مشابہ ہے پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یا اللہ اسے جعفر کا اس کے گھر میں اچھا جانشین بنا دے اور عبداللہ کے ہاتھ کے سودے میں برکت عطا فرما آپ نے تین بار یہ دعا فرمائی ہماری ماں آپ کے پاس آئی اور ہماری یتیمی کا تذکرہ کرنے لگی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں ان بچوں کے فقر وفاقہ کا خوف ہے حالانکہ دنیا و آخرت میں میں خود ان کا ولی ہوں ۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی وابن عساکر)
30243- عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم جيشا واستعمل عليهم زيد بن حارثة، فإن قتل واستشهد فأميركم جعفر بن أبي طالب، فإن قتل واستشهد فأميركم عبد الله بن رواحة، فانطلقوا فلقوا العدو فأخذ الراية زيد بن حارثة فقاتل حتى قتل، ثم أخذ الراية جعفر بن أبي طالب فقاتل حتى قتل، ثم أخذ الراية عبد الله بن رواحة، فقاتل حتى قتل ثم أخذ الراية خالد بن الوليد، ففتح الله عليه فأتى خبرهم النبي صلى الله عليه وسلم فخرج فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما بعد فإن إخوانكم لقوا العدو، فأخذ الراية زيد بن حارثة فقاتل حتى قتل واستشهد، ثم أخذ الراية جعفر فقاتل حتى قتل، واستشهد ثم أخذ الراية عبد الله بن رواحة فقاتل حتى قتل، واستشهد ثم أخذ الراية سيف من سيوف الله خالد بن الوليد ففتح الله عليه، ثم أمهل آل جعفر ثلاثا أن يأتيهم، ثم أتاهم فقال: لا تبكوا عليه بعد اليوم، ثم قال: ادعوا لي بني أخي، فجيء بنا كأنا أفراخ فقال: ادعوا لي الحلاق فأمره فحلق رؤوسنا، ثم قال: أما محمد فشبيه عمنا أبي طالب وأما عون فشبيه خلقي وخلقي، ثم أخذ بيدي فشالهما فقال: اللهم اخلف جعفرا في أهله وبارك لعبد الله في صفقة يمينه قالها ثلاث مرات فجاءت أمنا فذكرت يتمنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أالعيلة تخافين عليهم وأنا وليهم في الدنيا والآخرة. "حم، طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30244 ۔۔۔ ابویسر کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابو عامر اشعری (رض) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے مجھے فلاں کام کے لیے بھیجا تھا چنانچہ جب میں موتہ پہنچا لوگوں نے صفیں بنالیں پھر جعفر (رض) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے زرہ پہنی اور جھنڈا ہاتھ میں اٹھا لیا پھر آگے آگے چلنے لگے یہاں تک کہ دشمن کو دیکھ لیا پھر گھوڑے سے نیچے اتر آئے اور کہا : یہ گھوڑا اس کے مالک تک کون پہنچائے گا ؟ ایک شخص بولا میں پہنچا دوں گا پھر ذرہ اتاری اور کہا : یہ ذرہ اس کے مالک تک کون پہنچائے گا ؟ ایک دوسرے شخص بولا میں پہنچا دوں گا پھر آگے بڑھے اور اپنی تلوار سے بہادری کے جواہر دکھاتے ہوئے شہید ہوگئے خبر سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے چنانچہ آپ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بات نہ کی پھر عصر کی نماز پڑھائی اور آپ بغیر کوئی بات کئے مسجد سے باہر تشریف لے گئے آپ نے مغرب و عشاء کی نمازوں میں بھی یہی کیا حالانکہ نماز کے بعد آپ کا معمول ہوتا تھا کہ رخ انور ہماری طرف پھیر لیتے تھے چنانچہ آپ صبح کو حسب معمول نماز کے وقت سے قبل تشریف لائے میں اور ابو عامر بیٹھے ہوئے تھے آپ یہیں آکر ہمارے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا : کیا میں تمہیں ایک خواب نہ بتاؤں جو میں نے دیکھا ہے ؟ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ میں جنت میں داخل ہوا میں نے جعفر کو دو پروں کے ساتھ دیکھا جبکہ اس کا بدن خون آلود تھا زیدا س کے آگے تھا ابن رواحہ بھی ان کے ساتھ تھا لیکن ابن رواحہ (رض) ان سے بےرخی کیے ہوا تھا اس کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ جب جعفر جنگ کے لیے آگے بڑھا اس نے جنگ سے منہ نہیں موڑا اس طرح زید نے بھی جنگ سے منہ نہیں موڑا جبکہ ابن رواحہ نے موڑا لیا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30244- عن أبي اليسر قال: كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فأتاه أبو عامر الأشعري فقال: يا رسول الله بعثتني في كذا وكذا، فلما أتيت مؤتة، وصف القوم، ركب جعفر فرسه ولبس الدرع وأخذ اللواء فمشى قدما حتى رأى القوم فنزل ثم قال: من يبلغ هذه الفرس صاحبه؟ فقال رجل: أنا فبعث به، ثم نزع درعه فقال: من يبلغ هذا الدرع صاحبها؟ فقال رجل: أنا فبعث بها، ثم تقدم فضرب بسيفه حتى قتل فتغرغرت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم دموعا فصلى بنا الظهر ولم يكلمنا، ثم أقيمت العصر، فخرج فصلى ثم دخل ولم يكلمنا وفعل ذلك في المغرب والعشاء يدخل ولا يكلمنا وكان إذا صلى أقبل علينا بوجهه، فخرج علينا قبل الفجر في ساعة كان يخرج فيها وأنا وأبو عامر الأشعري جلوس فجلس بيننا فقال: ألا أحدثكم عن رؤيا رأيتها؟ أدخلت الجنة فرأيت جعفرا ذا جناحين مضرجا بالدماء وزيدا مقابله وابن رواحة معهم كأنه معرض عنهم، وسأخبركم عن ذلك؛ إن جعفرا حين تقدم فرأى القتل لم يصرف وجهه وزيدا كذلك وابن رواحة صرف وجهه. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30245 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موتہ کی طرف لشکر روانہ کیا اور زید (رض) کو اس کا امیر مقرر کیا ساتھ تاکید فرمائی کہ اگر زید شہید ہوجائے تو جعفر امیر ہوگا اگر جعفر بھی شہید ہوجائے تو ابن رواحہ امیر ہوگا چنانچہ ابن رواحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیچھے رہ گئے انھیں لشکر کے پیچھے دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبب پوچھا ابن رواحہ (رض) نے عرض کی میں آپ کے ساتھ تھوڑی دیر گزارنا چاہتا ہوں اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام صرف کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30245- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث إلى مؤتة فاستعمل زيدا فإن قتل زيد فجعفر، فإن قتل جعفر فابن رواحة، فتخلف ابن رواحة يجمع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما خلفك؟ قال: أجمع معك قال: لغدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها. "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ موتہ :
30246 ۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن عمر “ غزوہ موتہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ (رض) کو امیر مقرر کیا اور ساتھ فرما دیا کہ اگر زید شہید ہوجائے تو جعفر امیر ہو اگر جعفر بھی شہید کردیا جائے تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوگا حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کا بیان ہے کہ اس غزوہ میں میں لشکر کے ساتھ تھا چنانچہ ہم نے جعفر (رض) کو تلاش کیا چلنے پر دیکھا کہ ان کے بدن پر تلوارورں ، نیزوں اور تیروں کے نوے (90) سے زیادہ زخم آئے ہیں۔ (رواہ الطبرانی)
30246- "مسند عبد الله بن عمر" أمر النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة مؤتة زيد بن حارثة وقال إن قتل زيد فجعفر وإن قتل جعفر فعبد الله بن رواحة قال ابن عمر: وكنت معهم في تلك الغزوة فالتمسنا جعفرا فوجدنا فيما أقبل من جسمه بضعا وتسعين ما بين ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية. "طب".
tahqiq

তাহকীক: