কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০২০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30207 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ بخدا ! غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسپا نہیں ہوئے جبکہ حضرت عباس (رض) اور ابو سفیان آپ کے خچر کی لگام پکڑے رہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے ۔ انا النبی لا کذب
30207- عن البراء بن عازب قال: لا والله ما ولى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين دبره قال: والعباس وأبو سفيان آخذ بلجام بغلته وهو يقول:
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
"ش"، وأبو نعيم.
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
"ش"، وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30208 ۔۔۔ چنانچہ اس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر حملہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا گیا ۔ (رواہ ابن جریر)
30208- عن البراء قال: كان أبو سفيان يقود بالنبي صلى الله عليه وسلم بغلته يوم حنين، فلما غشي النبي صلى الله عليه وسلم المشركون نزل وهو يرتجز:
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
قال: فما رئي من الناس أشد منه. ابن جرير.
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
قال: فما رئي من الناس أشد منه. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30209 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ ۔ عبداللہ بن برید کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن مسلمانوں کو (عارضی طور پر) پسپا ہونا پڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف زید نامی ایک شخص باقی رہا اس نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی یہ خچر نجاشی نے آپ کو ہدیۃ بھیجا تھا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید (رض) سے فرمایا : اے زید ! لوگوں کو بلاؤ ، چنانچہ زید (رض) نے آواز دی اے لوگو ! یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں چنانچہ اس پکار پر کسی نے جواب نہ دیا آپ نے فرمایا : خصوصا اوس اور خزرج کو آواز دے کر بلاؤ، چنانچہ زید (رض) نے کہا : اے اوس و خزرج کی جماعت ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں تمہیں بلا رہے ہیں چنانچہ اب کی بار بھی کسی نے جواب نہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے زید تیرا ناس ہو مہاجرین کو بلاؤ چونکہ انھوں نے بیعت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں مجھے بریدہ (رض) نے حدیث سنائی کہ اس پر ایک ہزار مہاجرین امڈ آئے اور اپنی تلواریں بےنیام کرلیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور یوں اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30209- "من مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن عبد الله بن بريدة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين انكشف الناس عنه فلم يبق معه إلا رجل يقال له زيد آخذ بعنان بغلته الشهباء، وهي التي أهداها له النجاشي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويحك يا زيد ادع الناس، فنادى أيها الناس هذا رسول الله يدعوكم فلم يجب أحد عند ذلك فقال: حض الأوس والخزرج فقال: يا معشر الأوس والخزرج هذا رسول الله يدعوكم فلم يجبه أحد عند ذلك فقال: ويحك ادع المهاجرين فإن لله في أعناقهم بيعة قال: فحدثني بريدة أنه أقبل منهم ألف قد طرحوا الجفون وكسروها، ثم أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى فتح عليهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30210 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو لوگ ثابت قدم رہے ان میں سے ایک ایمن ابن ام ایمن یعنی ایمن بن عبید بھی تھے ۔ (رواہ ابو نعیم)
30210- عن جابر قال: كان فيمن ثبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين أيمن ابن أم أيمن وهو أيمن بن عبيد. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30211 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب گھمسان کارن پڑے گا پھر آپ نے اپنی رکابیں کس لیں اور فرمایا رب کعبہ کی قسم مشرکین کو شکست ہوگئی ہے (رواہ العسکری فی الامثال)
30211- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم حنين: الآن حمي الوطيس، ثم انتحى ركابه وقال: هزموا ورب الكعبة. العسكري في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30212 ۔۔۔ ” مسند حارث بن بدل السعدی “ حارث بن بدل (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک تھا آپ کا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ہزیمت ہوئی البتہ عباس بن عبدالمطلب اور ابو سفان بن حارث آپ کے ساتھ جمے رہے اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے چہروں پر مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر ماریں ہمیں شکست ہوئی میں نے دیکھا کہ کوئی درخت اور کوئی پتھر ایسا نہیں تھا جو ہمارے پیچھے بھاگ نہ رہا ہو ۔ (رواہ الحسن بن سفیان والطبرانی وابو نعیم وابن عساکر)
30212- "مسند الحارث بن بدل السعدي" عن الحارث بن بدل قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فانهزم أصحابه أجمعون إلا العباس بن عبد المطلب وأبا سفيان بن الحارث فرمى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجوهنا بقبضة من الأرض، فانهزمنا فما خيل إلي أن لا شجر ولا حجر إلا وهو في آثارنا. الحسن بن سفيان، "طب"، وأبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30213 ۔۔۔ حارث بن سلیم بن بدل کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن میں مشرکین کے ساتھ تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر مشرکین کے چہروں پر ماریں اور فرمایا شاھت الوجوہ یعنی چہرے قبیح ہوجائیں پھر یکایک اللہ تبارک وتعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دو چار کردیا۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
30213- عن الحارث بن سليم بن بدل قال: كنت مع المشركين يوم حنين فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم كفا من حصى فضرب به وجوههم وقال: شاهت الوجوه فهزم الله المشركين. ابن منده، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30214 ۔۔۔ ” مسند حسین بن علی “ حسین بن علی (رض) کی روایت ہے کہ حنین کے دن جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمے رہے ان میں سے یہ بھی تھے عباس ، علی ، ابو سفیان بن حارث عقیل بن ابی طالب عبداللہ بن زبیر بن عبدالمطلب زبیر بن عوام اور اسامہ بن زید (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
30214- "من مسند الحسين بن علي" قال الزبير بن بكار: حدثني إبراهيم بن حمزة حدثني محمد بن عثمان بن أبي حرملة مولى بني عثمان عن الحسين بن علي قال: كان ممن ثبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين العباس وعلي وأبو سفيان بن الحارث وعقيل بن أبي طالب وعبد الله بن الزبير بن عبد المطلب والزبير بن العوام وأسامة بن زيد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30215 ۔۔۔ حسین بن علی کی روایت ہے غزوہ حنین کے موقع پر جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمے رہے ان میں یہ بھی تھے عباس ، علی ، ابو سفیان بن حارث ، عقیل بن ابی طالب عبداللہ بن زبیر بن عبد المطلب زبیر بن عوام اور اسامہ بن زید (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
30215- عن محمد بن عثمان بن أبي حرملة مولى بني عثمان عن الحسين بن علي قال: كان ممن ثبت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين العباس وعلي وأبو سفيان بن الحارث وعقيل بن أبي طالب وعبد الله ابن الزبير بن عبد المطلب والزبير بن العوام وأسامة بن زيد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30216 ۔۔۔ ” مسند ابی سائب خباب “۔ حضرت حکیم بن حزام (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے آسمان سے زمین پر ایک آواز سنی جو یوں لگتی تھی جیسے کسی تھال میں کنکریاں پڑنے کی آواز ہوتی ہے اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ کنکریاں ماری تھیں اور ہمیں شکست ہوگئی ۔ (رواہ الطبرانی)
30216- "من مسند أبي السائب خباب" عن حكيم بن حزام سمعنا صوتا من السماء وقع إلى الأرض كأنه صوت حصاة في طست، ورمى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين بتلك الحصاة فانهزمنا. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30217 ۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن ابو سفیان بن حارث صفوان بن امیہ عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس (رض) کو سو سو اونٹ (تالیف قلب کے طور پر) عطا کیے جبکہ حضرت عباس بن مرداس (رض) کو ان سے کم اونٹ دیئے اس پر عباس بن مرداس (رض) نے یہ اشعار ہے : انجعل نھبی ونھب العبید یدبین عینیہ والاقرع وما کان بدرو ولا حابس یفوقان مرداس فی المجع وما کنت دون امری منھا ومن یحفض الیوم لا یرفع : کیا آپ نے میرا تاخت و تاراج اور غلاموں کا تاخت و تاراج عینیہ اور اقرع کے برابر کردیا ہے جبکہ بدر اور حابس جنگ میں مرداس پر فوقیت نہیں لے جاتے تھے میں کسی طرح بھی ان دونوں سے کمتر نہیں ہوں لیکن جو شخص آج پست ہوگیا وہ کبھی بھی بلند نہیں ہو ستکا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے بھی سو اونٹ مکمل کر رہے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30217- عن رافع بن خديج قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين أبا سفيان بن الحارث وصفوان بن أمية وعيينة بن حصن والأقرع بن حابس مائة من الإبل، وأعطى العباس بن مرداس
دون ذلك فقال العباس بن مرداس:
أتجعل نهبي ونهب العبي ... د بين عيينة والأقرع
وما كان بدر ولا حابس ... يفوقان مرداس في المجمع
وما كنت دون امرئ منهما ... ومن يخفض اليوم لا يرفع
قال: فأتم له رسول الله صلى الله عليه وسلم مائة. "كر"
دون ذلك فقال العباس بن مرداس:
أتجعل نهبي ونهب العبي ... د بين عيينة والأقرع
وما كان بدر ولا حابس ... يفوقان مرداس في المجمع
وما كنت دون امرئ منهما ... ومن يخفض اليوم لا يرفع
قال: فأتم له رسول الله صلى الله عليه وسلم مائة. "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30218 ۔۔۔ ” مسند سلمہ بن اکوع “ ” ایاس بن سلم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم ھوازن کے غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک تھے اسی طرح ہم بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جبکہ ہم میں سے عموماً لوگ پیادہ تھے اور ہم میں کمزور لوگ بھی تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا، اس نے اپنے تھیلے سے رسی نکالی اور ایک نوجوان نے اس کا اونٹ باندھ دیا پھر وہ شخص آکر مسلمانوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا جب اس نے مسلمانوں کی کمزوری کا مشاہدہ کرلیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کے پاس سواریاں بھی کم ہیں اٹھ کر اپنے اونٹ کی طرف دوڑ پڑا اس نے اونٹ کھولا پھر بٹھایا اور جلدی سے اس پر سوار ہو کر چل دیا اور اونٹ کو کو چا دے کر بھگانے لگا ، اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص اٹھا اس کا تعلق قبیلہ اسلم سے تھا وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوا اور اس شخص کے پیچھے ہو لیا جب میں نے یہ دیکھا تو میں بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑا جب میں نے انھیں جا لیا تو دیکھا کہ اونٹنی کا سر (جاسوس کے) اونٹ کی سرینوں سے لگتا تھا اور میں اونٹنی کے عین پیچھے تھا پھر میں پھرتی سے آگے بڑھا اونٹ کی لگام پکڑلی پھر اونٹ کو بٹھایا جب اونٹ نے گھٹنے زمین پر ٹیکے میں نے جھٹ تلوار سونت لی اور لمحہ بھر میں اس کا سر کاٹ دیا یوں وہ ٹھنڈا ہوگیا میں اس کا سازو سامان اور اونٹ لے کر واپس لوٹ آیا تھوڑی دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : جاسوس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ مسلمانوں نے جواب دیا سلمہ بن اکوع نے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتول کا سازوسامان مجھے انعام میں دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30218- "من مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة قال: حدثني أبي قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هوزان فبينما نحن نتضحى وعامتنا مشاة فينا ضعفة إذ جاء رجل على جمل أحمر، فانتزع طلقا من حقبه3 فقيد به جمله رجل شاب، ثم جاء يتغدى مع القوم، فلما رأى ضعفهم وقلة ظهرهم خرج يعدو إلى جمله، فأطلقه، ثم أناخه فقعد عليه، ثم خرج يركضه فاتبعه رجل من أسلم من صحابة النبي صلى الله عليه وسلم على ناقة ورقاء هي أمثل ظهر القوم، فقعد فاتبعه فخرجت أعدو فأدركته ورأس الناقة عند ورك4 الجمل، وكنت عند ورك الناقة، ثم تقدمت حتى أخذت بخطام الجمل فأنخته، فلما وضع ركبتيه بالأرض اخترطت سيفي فأضرب رأسه فندر فجئت براحلته وما عليها أقوده فاستقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا فقال: من قتل الرجل؟ فقالوا: ابن الأكوع، فنفله سلبه . "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30219 ۔۔۔ ” مسند شیبۃ بن عثمان عبدی صاحب کعبہ “ مصعب بن شیبۃ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا بخدا ! میں اسلام قبول کرنے کی غرض سے نہیں گیا تھا البتہ میں اس لیے گیا تھا تاکہ ھوازن قریش پر چڑھائی کریں اور میں تماشا دیکھوں اسی اثناء میں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا تھا یکایک میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں ابلق گھوڑوں پر سوار لوگوں کو دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا : اے شیبہ ! ان گھڑ سواروں کو کسی کافر کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر تین بار فرمایا : یا اللہ ! شیبہ کو ہدایت عطا فرما چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ میرے دل کی دنیا بدل گئی اور سطح زمین پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں تھی چنانچہ مسلمانوں نے بےجگری سے جنگ لڑی جس نے جنگ میں قتل ہونا تھا وہ ہوا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے جبکہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) آپ کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور عباس (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے اتنے میں عباس (رض) نے اعلان کیا : کہاں ہیں مہاجرین عباس (رض) نے بااواز بلند یہ اعلان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں پھر لوگوں نے آپ کی طرف امڈ آنا شروع کیا جبکہ آپ یہ رجز یہ شعر پڑھ رہے تھے : انا النبی لا کذب
30219- "مسند شيبة بن عثمان العبدري صاحب الكعبة" عن مصعب بن شيبة عن أبيه قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين والله ما خرجت إسلاما ولكني خرجت آنفا أن تظهر هوزان على قريش، فوله إني لواقف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قلت: يا نبي الله إني لأرى خيلا بلقا قال: يا شيبة إنه لا يراها إلا كافر فضرب بيده في صدري فقال: اللهم اهد شيبة ففعل ذلك ثلاثا، فما رفع النبي صلى الله عليه وسلم يده عن صدري الثالثة حتى ما أحد من خلق الله تعالى أحب إلي منه، فالتقى المسلمون فقتل من قتل ثم أقبل النبي صلى الله عليه وسلم وعمر آخذ باللجام والعباس آخذ بالثفر فنادى العباس: أين المهاجرون أين أصحاب سورة البقرة بصوت عال؟ هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل الناس والنبي صلى الله عليه وسلم يقول قدماها:
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
فأقبل المسلمون فاصطكوا بالسيوف، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الآن حمي الوطيس. "كر".
أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب
فأقبل المسلمون فاصطكوا بالسيوف، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الآن حمي الوطيس. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30220 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی اسی اثناء میں مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا عباس (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی لگام برابر پکڑے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح عطا کی اور مشرکین کو شکست دی ۔ (رواہ الزبیر بن بکار وابن عساکر)
30220- عن عبادة بن الصامت قال: أخذ العباس بعنان دابة رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين حين انهزم المسلمون، فلم يزل آخذا بعنان دابته حتى نصر الله رسوله وهزم المشركون. الزبير بن بكار، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30221 ۔۔۔ حضرت عباس بن مطلب کی روایت ہے کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میں آپ کے ساتھ صرف میں اور ابوسفیان بن حارث تھے ہم دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چمٹے رہے آپ سے الگ نہیں ہوئے ، آپ خچر پر سوار تھے میں نے لگام پکڑی ہوئی تھی اور برابر خچر کو روک رہا تھا جبکہ خچر مشرکین کی طرف دوڑے جا رہا تھا آپ نے مجھے فرمایا : اصحاب سمرہ کو بلاؤ اتنے میں مسلمان واپس لوٹ آئے دیکھا کہ آپ لڑائی کے لیے تیار ہیں آپ نے فرمایا : اب جنگ کے شعلے بلند ہوں گے پھر آپ نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر مشرکین کی طرف پھنکیں اور فرمایا : رب کعبہ کی قسم مشرکین ہزیمت خوردہ ہوچکے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دو چار کیا وہ وقت مجھے یوں یاد ہے گویا میں ابھی ابھی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور میں آپ کے پیچھے ہوں ۔ (رواہ العسکری فی الامثال)
30221- عن العباس بن المطلب قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين وما معه إلا أنا وأبو سفيان بن الحارث، فلزمنا النبي صلى الله عليه وسلم فلم نفارقه وهو على بغلة شهباء، وأنا آخذ بلجامها أكفها وهو لا يألو ما أسرع نحو المشركين فقال لي: ناد أصحاب السمرة فأقبل المسلمون فنظر وهو كالمتطاول إلى قتالهم فقال هذا حين حمي الوطيس، ثم أخذ حصيات فرمى بها وجوههم وقال: هزموا ورب الكعبة، فهزمهم الله فكأني أنظر إلى النبي صلى الله عليه وسلم خلفهم يركض على بغلته.
العسكري في الأمثال.
العسكري في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30222 ۔۔۔ ابوبکربن سبرہ ابراہیم بن عبداللہ عبید بن عبداللہ بن عتبہ ایک صحابی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی مہم سے فارغ ہو کر واپس لوٹے تو آپ کی رضاعی بہن سعدیہ (رض) آپ کے پاس تشریف لائیں آپ نے انھیں دیکھ کر مرحبا فرمایا اور ان کی لیے اپنی چادر بچھائی جب سعدیہ چادر پر بیٹھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی ڈاڑھی تر ہوگئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں مجھے ان کی رحمت پر رونا آتا ہے بالفرض اگر تم میں سے کسی شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو پھر وہ خرچ کر دے وہ ان کی رضاعت کا حق ادا نہیں کرسکتا ، رہی بات میرے حق کی جو میں نے تم سے لیا ہے وہ تمہارا ہے رہا مسلمانوں کا حق سو وہ ان کا اپنا حق ہے میں ان کی دلی رضا مندی کے بغیر نہیں لے سکتا ۔ چنانچہ مسلمانوں نے جو بھی لیا تھا وہ دے دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ کلام : ۔۔۔ معنی میں ہے کہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ابوبکر بن سبرہ موضوع احادیث بیان کرتا تھا ۔
30222- عن أبي بكر بن سبرة عن إبراهيم بن عبد الله عن عبيد بن عبد الله بن عتبة عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاءت أخت رسول الله صلى الله عليه وسلم السعدية إليه مرجعه من حنين فلما رآها رحب بها وبسط لها رداءه، لأن تجلس عليه فاعظمت ذلك، فعزم عليها فجلست فذرفت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بلت دموعه لحيته فقال رجل من القوم: أتبكي يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم لرحمها وما دخل عليها، لو كان لأحدكم أحد ذهبا ثم أعطاه في حق رضاعه ما أدى حقها، أما حقي الذي آخذ منك فلك، وأما ما للمسلمين فلست بآخذته إلا أن يطيبوا به نفسا، قال: فلم يبق أحد من المسلمين إلا أدى ما أخذ منها. "عب"؛ قال في المغني: أبو بكر بن أبي سبرة قال "حم": كان يضع الحديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30223 ۔۔۔ ابن مسیب کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ ہزار کے لگ بھگ مرد اور عورتیں قید کیں اور ابو سفیان بن حارث کو ان پر نگران مقرر کیا ۔ (رواہ الزبیر بن بکار وابن عساکر)
30223- عن ابن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سبى يوم حنين ستة آلاف بين غلام وامرأة، فجعل عليهم أبا سفيان بن الحارث. الزبير بن بكار، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30224 ۔۔۔ عروہ بن محمد بن عطیہ عن ابیہ عن جدہ عطیہ کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عطیہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ھوازن کے قیدیوں کے متعلق رسول اللہ سے بات چیت کی تھی چنانچہ عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا خاندان ہے آپ کے علاوہ سب کو دودھ پلانے والے ہیں ہم نے آج کے دن کے لیے اس رشتہ کو چھپا رکھا ہے ھوازن کی عورتیں آپ کی مائیں ہیں آپ کی بہنیں ہیں اور آپ کی خالائیں ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بات چیت کی چنانچہ آپ نے قیدیوں کو واپس کردیا البتہ دو شخصوں نے قیدی واپس کرنے سے انکار کردیا آپ نے فرمایا : انھیں ساتھ لے جاؤ اور انھیں اختیار دو ان میں سے ایک نے کہا کہ میں بھی اپنا حصہ چھوڑتا ہوں ، دوسرے نے کہا : میں اپنا حصہ نہیں چھوڑتا جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا آپ نے فرمایا : یا اللہ ! اس کے حصہ کو بےبرکت کر دے چنانچہ وہ جس غلام یا باندی کے پاس سے گزرتا چشم پوشی کرجاتا حتی کہ ایک بوڑھیا کے پاس سے گزرا کہنے لگا : میں اپنے حصہ میں اسے لوں گا چونکہ یہ بستی والوں کی ماں ہے بستی والے گراں بدل دے کر اسے چھڑائیں گے اس پر عطیہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا : چلو اسی کو لے لو نہ تو یہ بارونق چہرے والی ہے نہ اس کے پستانوں سے دودھ نکلے گا اور نہ ہی اس کے قرب کی کسی کو خواہش ہوتی ہے ایک بڑھیا ہے جس کی طرف کسی کو رغبت نہیں جب اس شخص نے دیکھا کہ بڑھیا کے لیے کوئی تعرض نہیں کررہا اس نے اسے بھی چھوڑا دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30224- عن عروة بن محمد بن عطية عن أبيه عن جده عطية أنه كان ممن كلم النبي صلى الله عليه وسلم يوم سبى هوزان فقال: يا رسول الله عشيرتك وأصلك وكل المرضعين دونك، ولهذا اليوم اختبأناك، وهن أمهاتك وأخواتك وخالاتك، وكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه فرد عليهم سبيهم إلا رجلين فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهبوا فخيروهما، فقال أحدهما: إني أتركه وقال الآخر: إني لا أتركه، فلما أدبر قال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم أخس سهمه فكان يمر بالجارية البكر وبالغلام فيدعه حتى مر بعجوز فقال: إني آخذ هذه فإنها أم حي ويستنقذونها مني بما قدروا عليه فكبر عطية فقال: خذها فوالله ما فوها ببارد ولا ثديها بناهد ولا وافدها بواجد عجوز بتراء شنة ما لها أحد، فلما رآها لا يعرض لها أحد تركها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
25 302 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ حنین کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب لڑائی کے شعلے بھڑکیں گے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زبردست حملے کرتے تھے ۔ (رواہ العسکری فی الامثال)
30225- عن أنس قال لما كان يوم حنين قال النبي صلى الله عليه وسلم: الآن حمي الوطيس، وكان علي بن أبي طالب أشد الناس قتالا بين يديه. العسكري في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30226 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ہے کہ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعا تھی یا اللہ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30226- عن أنس كان من دعاء النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين: اللهم إنك إن تشأ لا تعبد بعد هذا اليوم. "ش".
তাহকীক: