কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০১৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30187 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں ان کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے سب لوگوں کے لیے امن عام کا اعلان کیا ان چھے کے لیے فرمایا کہ انھیں قتل کرو خواہ کعبہ کے پردوں سے کیوں نہ لپٹے ہوں وہ یہ ہیں عکرمہ بن ابی جہل عبداللہ بن خطل ، مقیس بن صبابہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رہی بات عبداللہ بن خطل کی وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا تھا چنانچہ اس کی طرف حضرت سعید بن کریب اور حضرت عمار (رض) لپکے تاہم حضرت عمار (رض) پھرتھیلے تھے کریب (رض) پر سبقت کر گئے اور عبداللہ بن خطل کو واصل جہنم کردیا ۔ رہی بات مقیس بن صبابہ کی تو مسلمانوں نے اسے بازار میں پایا اور وہیں قتل کردیا رہی بات عکرمہ کی سو اس نے سمندر کا رخ کیا جب کشتی سمندر میں تیرنے لگی زور کی آندھی چلی اور کشتی ڈانواں ڈول ہونے لگی کشتی کے صبابہ سواروں سے کہنے لگے : خالص اللہ کو پکارو چونکہ یہاں تمہارے معبودان کچھ کام نہیں آسکتے عکرمہ (رض) نے کہا : بخدا ! جب سمندری طوفان سے صرف اخلاص ربوبیت نجات دیتا ہے تو بر میں بھی رب تعالیٰ کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں یا اللہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں سلامت رہا تو میں نکلتے ہی واپس جا کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گا مجھے ان کی طرف سے معانی کی امید ہے چنانچہ عکرمہ (رض) دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور دولت اسلام سے سرفراز ہوئے ۔ رہی بات عبداللہ بن ابی سرح کی چنانچہ وہ عثمان (رض) کے ہاں جا کر پوشیدہ ہوگئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان (رض) انھیں ساتھ لے آئے اور لا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کھڑے کردیئے : عبداللہ نے تین بار سر اٹھا کر دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر بار بیعت کرنے سے انکار کردیا البتہ پھر آپ نے بیعت کرلی پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں کوئی سمجھدار شخص نہیں جب میں نے بیعت سے ہاتھ روک لیا تم نے اس کی گردن کیوں نہیں اڑا دی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اس کا کیا علم آپ ہمیں اشارہ کردیتے آپ نے فرمایا : کسی نبی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اشارے کرے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو یعلی)
30187- "من مسند علي" عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: لما كان يوم فتح مكة أمن رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس إلا أربعة نفر وامرأتين وقال: اقتلوهم وإن وجدتموهم معلقين بأستار الكعبة: عكرمة بن أبي جهل وعبد الله بن خطل، ومقيس بن صبابة وعبد الله بن سعد بن أبي سرح، فأما عبد الله بن خطل: فأدرك وهو متعلق بأستار الكعبة فاستبق إليه سعد بن كريب وعمار فسبق سعيدا عمار وكان أشب الرجلين فقتله، وأما مقيس بن صبابة فأدركه الناس في السوق فقتلوه، وأما عكرمة فركب البحر فأصابتهم عاصف فقال أصحاب السفينة لأهل السفينة: أخلصوا فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا ههنا، فقال عكرمة: والله لئن لم ينجني في البحر إلا الإخلاص ما ينجيني في البر غيره، اللهم إن لك علي عهدا إن أنت عافيتني مما أنا فيه أني آتي محمدا حتى أضع يدي في يده، فلأجدنه عفوا كريما، فجاء فأسلم، وأما عبد الله بن أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان، فلما دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله بايع عبد الله فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا كل ذلك يأبى فبايعه بعد الثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال: أما كان فيكم رجل رشيد يقوم إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن بيعته فيقتله؟ قالوا وما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك ألا أومأت إلينا بعينك؟ قال: إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة أعين. "ش، ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30188 ۔۔۔ ” مسند اسود بن ربیعہ “ حارث بن عبیدا یادی کی روایت ہے کہ اسود بن اسود کا بیان ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : خبردار جاہلیت کے خون اور جاہلیت کے مفاخر میرے پاؤں تلے ہیں البتہ وہ امور جو بیت اللہ کی خدمت سے متعلق ہوں جیسے سقایت کا شرف وہ قابل اعتبار ہوگا ۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وقال فی الاصابہ اسنادہ مجھول)
30188- "مسند الأسود بن ربيعة" عن الحارث بن عبيد الأيادي حدثني عباية أو ابن عباية رجل من بني ثعلبة عن الأسود بن أسود اليشكري أن النبي صلى الله عليه وسلم لما فتح مكة قام خطيبا فقال: ألا إن دماء الجاهلية وغيرها تحت قدمي إلا السقاية السدانة. ابن منده وأبو نعيم؛ قال في الإصابة: إسناده مجهول.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30189 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوسفیان تمہارے قریب ہے لہٰذا اسے پکڑنے کے لیے متفرق ہوجاؤ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ابوسفیان کو پکڑ لائے آپ نے اس سے کہا : اے ابوسفیان : اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے ابوسفیان نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری قوم کا کیا بنے گا ؟ تمہاری قوم کا جو شخص اپنا دروازہ بند رکھے گا وہ امن میں ہوا عرض کیا : میرے لیے کوئی فخر کی چیز کردیں فرمایا : جو شخص تمہارے گھر میں داخل ہوگا وہ بھی امن میں ہوگا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30189- عن أنس قال: لما كنا بسرف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أبا سفيان قريب منكم فافترفوا له وأخذوه، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أسلم يا أبا سفيان تسلم قال: يا رسول الله قومي قومي، قال: قومك من أغلق بابه فهو آمن، قال: اجعل لي شيئا قال: من دخل دارك فهو آمن. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30190 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے چار آدمیوں کے سب لوگوں کو امن دیا ، وہ یہ ہیں عبدالعزی بن خطل مقیس بن صبابہ کنائی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور ام سارہ چنانچہ عبدالعزی کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا اسے پردوں سے الگ کرکے قتل کردیا گیا جبکہ عبداللہ بن سعد کے متعلق ایک انصاری نے نذر مان رکھی تھی کہ وہ اسے جہاں بھی دیکھے گا قتل کر دے گا عبداللہ بن سعد حضرت عثمان (رض) کے رضاعی بھائی تھی حضرت عثمان (رض) انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اور ان کی سفارش کی ، ادھر انصاری نے تلوار بےنیام کی اور عبد بن ابی سرح کی تلاش میں نکل پڑا جب واپس لوٹا تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دیکھا تاہم انھیں قتل کرنے سے چوک گیا چونکہ عبداللہ بن ابی سرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلقے میں داخل ہوچکے تھے پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اور ان سے بیعت لے لی پھر انصاری سے فرمایا میں نے تیرا انتظار کیا تاکہ تو اپنی منت پوری کرے انصاری نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ سے ڈر گیا تھا آپ نے آنکھ سے میری طرف اشارہ کیوں نہیں کیا : فرمایا : آنکھوں سے اشارہ کرنا کسی نبی کو زیب نہیں ۔ رہی بات مقیس کی چنانچہ اس کا ایک بھائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتا تھا وہ (کسی جنگ میں) خطا مقتول ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی فہر کا ایک شخص مقیس کے ساتھ بھیجا تاکہ انصار سے مقتول کی دیت وصول کریں جب دیت جمع کردی گئی اور دونوں واپس لوٹ آئے ایک جگہ پہنچ کر دونوں نے آرام کیا فہری سو گیا موقع ملتے ہی مقیس نے بھاری پتھر اٹھا کر فہری کے سر پردے مارا جس سے اس کا سر کچل گیا اور وہ اسی جگہ مرگیا پھر مقیس واپس لوٹ آیا اور یہ اشعار کیے : شفی النفس من قد بات بالقاع مسندا تضرج توبیہ دماع الاخادع : وکانت ھموم النفس من قبل قتلہ تلم فتنسنی وطی المضاجع : قتلت بہ فھرو غرمت عقلہ سراۃ بنی النجار ارباب فارغ : حللت بہ نذری وادرکت ثورتی وکنت التیالاوثان اول راجع : ترجمہ : ۔۔۔ ایک شخص جو کھلی جگہ ٹیک لگا کر سو گیا تھا اسے قتل کرکے میرے نفس کو شفا ملی ہے دھوکا دینے والوں کے خون سے اس کے کپڑے آلودہ تھے جبکہ اس کے قتل سے قبل میرے نفس نے نرم بستروں کو بھلا دیا تھا میں نے فہری کو قتل کیا ہے اور اس کی دیت بنی نجار کے سرداروں کو دینے کے لیے تیار ہوں اسے قتل کرکے میں نے اپنی نذر پوری کی ہے اور اپنا بدلہ لیا ہے اور اب میں سب سے پہلا وہ شخص ہو جو بتوں کی پوجا کی طرف لوٹ رہا ہے۔ رہی بات ام سارہ کی وہ قریش کی آزاد کردہ باندی تھی وہ مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور آپ سے اپنی کوئی حاجت بیان کی آپ نے اس کی حاجت پوری کی پھر اس عورت کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اہل مکہ کو خط لکھ بھیجا تاکہ ان پر احسان کرے اور اہل مکہ اس کے اہل و عیال کی حفاظت کریں (خط میں فتح مکہ کی پیشگی خبر دی گئی تھی یہ ایک راز تھا جسے وہ افشا کرنا چاہتا تھا) چنانچہ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع کردی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت علی (رض) کو اس عورت کے پیچھے دوڑایا ان دونوں حضرات نے ایک جگہ عورت کو روک لیا اور اس کی تلاشی لی اور پوچھ گچھ کی لیکن عورت نے صاف انکار کردیا دونوں حضرات واپس لوٹنے لگے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آپ ہم سے جھوٹ بولتے ہیں لہٰذا دوبارہ عورت پر دباؤ ڈالو اور اس سے خط لو چنانچہ دونوں حضرات دوبارہ عورت کے پاس لوٹ آئے اور اپنی تلواریں ننگی کرکے اس کے پاس آئے اور کہا : یا تو خط دے ورنہ ہم تجھے قتل کردیں گے پہلے عورت نے انکار کیا لیکن جب بس نہ چلا اس نے یہ شرط لگائی کہ میں اس شرط پر خط دوں گی کہ آپ یہ خط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپس نہیں کریں گے انھوں نے عورت کی یہ شرط منظور کرلی عورت نے اپنے بالوں کے گچھے سے خط نکال کر انھیں دیا پھر یہ دونوں حضرات خط لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آئے اور خط آپ کو دیا آپ نے مرسل کو بلایا اور پوچھا : یہ کیسا خط ہے اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے صرف اس لیے یہ خط لکھا ہے کہ مکہ میں میرے اہل و عیال ہیں میں نے چاہا اہل مکہ پر احسان کر دوں تاکہ وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” یا ایھا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء ۔۔۔ الایہ : اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ ۔ (رواہ ابن عساکر)
30190- عن أنس قال: آمن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة الناس إلا أربعة: عبد العزى بن خطل، ومقيس بن صبابة الكناني، وعبد الله بن سعد بن أبي سرح وأم سارة، فأما عبد العزى فإنه قتل وهو آخذ بأستار الكعبة، ونذر رجل من الأنصار أن يقتل عبد الله بن سعد إذا رآه وكان أخا عثمان بن عفان من الرضاعة، فأتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم ليشفع له فلما بصر به الأنصاري اشتمل السيف، ثم خرج في طلبه فوجده عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فهاب قتله لأنه في حلقة النبي صلى الله عليه وسلم وبسط النبي صلى الله عليه وسلم يده فبايعه، ثم قال للأنصاري: قد انتظرتك أن توفي نذرك، قال: يا رسول الله هبتك أفلا أومضت إلي: قال: إنه ليس لنبي أن يومض، وأما مقيس فإنه كان له أخ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتل خطأ فبعث معه رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من بني فهر ليأخذ عقله من الأنصار، فلما جمع له العقل، ورجع نام الفهري فوثب مقيس فأخذ حجرا فجلد به رأسه فقتله ثم أقبل وهو يقول:

شفى النفس من قد بات بالقاع مسندا ... تضرج ثوبيه دماء الأخادع

وكانت هموم النفس من قبل قتله ... تلم فتنسيني وطيء المضاجع

قتلت به فهرا وغرمت عقله ... سراة بني النجار أرباب فارع

حللت به نذري وأدركت ثورتي ... وكنت إلى الأوثان أول راجع

وأما أم سارة فإنها كانت مولاة لقريش فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت إليه الحاجة فأعطاها شيئا، ثم أتاها رجل فبعث معها كتابا إلى أهل مكة يتقرب بذلك إليهم ليحفظ عياله، وكان له بها عيال فأتى جبرئيل النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثرها عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب، فلحقاها في الطريق ففتشاها فلم يقدرا على شيء معها، فأقبلا راجعين فقال أحدهما لصاحبه: والله ما كذبنا ولا كذبنا ارجع بنا إليها، فسلا سيفهما، ثم قالا، لتدفعن علينا الكتاب أو لنذيقنك الموت، فأنكرت ثم قالت: أدفعه إليكما على أن لا ترداني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبلا ذلك منها فحلت عقاص رأسها فأخرجت الكتاب من قرن من قرونها فدفعته، فرجعا بالكتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدفعاه إليه فدعا الرجل فقال: ما هذا الكتاب؟ قال: أخبرك يا رسول الله ليس من رجل ممن معك إلا وله قوم يحفظونه في عياله، فكتبت هذا الكتاب ليكون لي في عيالي فأنزل الله {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} إلى آخر الآيات. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30191 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے آپ کے سر پر خود (جنگی ٹوپی) تھا جب آپ عین مکہ میں داخل ہوئے خود اتار دیا آپ کو اطلاع کی گئی کہ عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) کفار کو پناہ دینا :
30191- عن أنس قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة عام الفتح وعلى رأسه مغفر، فلما أن دخل نزعه فقيل له: يا رسول الله هذا ابن خطل متعلق بأستار الكعبة فقال: أقتلوه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30192 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عاص بن عبدشمس کو پناہ دے رکھی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پناہ کی اجازت مرحمت فرمائی ام ھانی بنت ابی طالب (رض) نے اپنے بھائی عقیل بن ابی طالب کو پناہ دے رکھی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پناہ کو بھی برقرار رکھا (رواہ ابن عساکر کہتے ہیں کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے چونکہ ام ھانی نے بنی مخزوم کے دو آدمیوں کو پناہ دی تھی) ۔
30192- عن أنس أن زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أجارت أبا العاص بن عبد شمس فأجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم جوارها، وأن أم هانيء ابنة أبي طالب أجارت أخاها عقيل بن أبي طالب يوم الفتح فأجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم جوارها. "كر" وقال: هذا الحديث غير محفوظ إنما أجارت رجلين من بني مخزوم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30193 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے زبیر (رض) اور مقداد (رض) کو بلایا اور فرمایا : جاؤ اور مقام ” روضہ خاخ “ میں تمہیں پالان میں بیٹھی ایک عورت ملے گی اس کے پاس ایک خط ہوگا وہ خط اس سے لیتے آؤ چنانچہ ہم اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے روضہ خاخ تک پہنچے ہمیں یہیں پالان میں بیٹھی ایک عورت ملی میں نے کہا : خط نکالو بولی : میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا : خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے چنانچہ دھمکی سنتے ہی عورت نے اپنے بالوں سے خط نکال دیا ہم نے خط لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے ، خط کھولا گیا اس میں یہ مضمون مندرجہ تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے اہل مکہ کے مشرکین کی طرف خط میں بعض اہم امور کو افشار کیا گیا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حاطب (رض) کو بلاکر فرمایا : اے حاطب یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی نہ کیجئے میں قریش میں اٹکا ہوا ہوں فی الواقع قریش سے میرا کوئی تعلق نہیں آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کے اہل مکہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلقات ہیں جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کو سامان ہیں تاہم مکہ میں میرا کوئی تعلق دار نہیں جب میرا اہل مکہ سے کوئی خونی رشتہ نہیں میں نے چاہا ان پر کوئی احسان کر دوں تاکہ وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں میں نے ایسا کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی مرتد ہونے کی وجہ سے اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد میں کفر سے راضی ہوا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے اتنے میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بول پڑے (اور رگ فاروقی نے جوش مارا) فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑئیے میں اس کی گردن اڑاتا ہوں یہ منافق ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تحقیق حاطب غزوہ بدر میں شریک رہا ہے اے عمر تمہیں کیا معلوم شاید اللہ تعالیٰ نے نظر رحمت سے اہل بدر کو یہ فرما دیا ہے کہ جو چاہے کرو بلاشبہ میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے حضرت حاطب (رض) کے متعلق یہ آیت نازل ہوئے : (آیت)” یا ایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء “۔ (الایۃ) (رواہ الحمیدی واحمد بن حنبل والعدنی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی وابو عوانۃ وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معافی الدلائل)
30193- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا والزبير والمقداد فقال: انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ، فإن بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها فانطلقنا تعادى بنا خيلنا حتى اتينا الروضة، فإذا نحن بالظعينة قلنا: أخرجي الكتاب، قالت ما معي كتاب، قلنا لتخرجن الكتاب أو لنلقين الثياب فأخرجت الكتاب من عقاصها فأخذنا الكتاب فأتينا به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا فيه من حاطب بن أبي بلتعة إلى أناس من المشركين بمكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما هذا يا حاطب؟ قال: لا تعجل علي إني كنت امرأ ملصقا في قريش ولم أكن من أنفسهم، وكان من معك من المهاجرين لهم قرابات يحمون أهليهم بمكة فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب فيهم أن أتخذ فيهم يدا يحمون بها قرابتي وما فعلت ذلك كفرا ولا ارتدادا عن ديني ولا رضا بالكفر بعد الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه قد صدقكم، فقال عمر: يا رسول الله دعني أضرب عنق هذا المنافق، فقال: إنه شهد بدرا وما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم ونزلت فيه {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} الآية.

الحميدي، "حم" والعدني وعبد بن حميد، "خ، م، د، ت، ن" وأبو عوانة، "ع" وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم، "حب" وابن مردويه وأبو نعيم، "ق" معا في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30194 ۔۔۔ ” ایضا “ حارث سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا تو یہ راز محض چند صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تک محدود رکھا ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) بھی تھے جبکہ لوگوں میں یہ خبر عام کردی گئی کہ آپ حنین کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں چنانچہ حاطب (رض) نے اہل مکہ کو خط لکھ بھیجا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے اوپر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی خبر کردی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور ابو مرثد کو بھیجا ہمارے پاس تیز رفتار گھوڑے تھے آپ نے فرمایا : روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی اس کے پاس خط ہوگا وہ خط اس سے لے لو ہم چل پڑے اور مقررہ جگہ جا پہنچے اور یہیں ہمیں ایک عورت ملی ، ہم نے عورت سے خط طلب کیا عورت نے کہا : میرے پاس خط نہیں ہے ہم نے عورت کا سامان زمین پر رکھ دیا اور تلاشی لی ہمیں اس کے سازو و سامان سے خط نہ ملا ابو مرثد (رض) بولے : شاید اس کے پاس خط نہ ہو لیکن ہم نے پھر کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی آپ ہم سے جھوٹ بولتے ہیں ہم نے عورت کو دھمکی دی کہ خط نکالو ورنہ ہم تمہیں ننگی کردیں گے عورت بولی کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے کیا تم مسلمان نہیں ہو ہم نے دوبارہ دھمکی دی خط نکالو ورنہ ہم تجھے ننگی کردیں گے ۔ اب کی بار عورت نے خط اپنے نیفہ سے نکال دیا ایک روایت میں ہے کہ عورت نے شرمگاہ سے خط نکال کردیا چنانچہ ہم خط لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے خط میں لکھا تھا : حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے خط کا مضمون سنتے ہی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : یا رسول اللہ ! حاطب نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی ہے مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑاتا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ بدر میں حاضر نہیں ہوا ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاضر ہوا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : جی ہاں لیکن اس نے بدعہدی کی ہے اور آپ نے دشمنوں کی پشت پناہی کی ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر رحمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ تم جو چاہے کرو یہ سن کر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے اور فرمایا : اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حاطب (رض) کو بلایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ہے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش سے میری کوئی قرابت نہیں فقط حلیفانہ تعلقات ہیں میرے اہل و عیال آج کل مکہ میں ہیں جن کا کوئی حامی اور مددگار نہیں بخلاف مہاجرین کے کہ مکہ میں ان کی قریش میں قرابتوں کی وجہ سے ان کے اہل و عیال محفوظ ہیں اس لیے میں نے یہ چاہا کہ جب قریش سے میری کوئی قرابت نہیں تو ان کے ساتھ کوئی احسان کرون جس کے صلہ میں وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں خدا کی قسم میں پکا مومن ہوں اور میرا اللہ اور رسول پر ایمان ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حاطب نے سچ کہا ہے لہٰذا اس کی شان میں بری بات مت کہو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” یا ایھا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ “۔ (رواہ ابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن عساکر)
30194- "أيضا" عن الحارث عن علي قال: لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأتي مكة أسر إلى أناس من أصحابه أنه يريد مكة فيهم حاطب بن أبي بلتعة وفشا في الناس أنه يريد حنينا فكتب حاطب إلى أهل مكة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يريدكم، فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعثني أنا وأبا مرثد وليس معنا رجل إلا معه فرس؟ فقال: ائتوا روضة خاخ فإنكم ستلقون بها امرأة ومعها كتاب فخذوه منها، فانطلقنا حتى رأيناها بالمكان الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا لها هاتي الكتاب، فقالت: ما معي كتاب فوضعنا متاعها ففتشناه، فلم نجده في متاعها فقال أبو مرثد: فلعله أن لا يكون معها كتاب، فقلنا ما كذب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا كذبنا، فقلنا لها: لتخرجنه أو لنعرينك؟ فقالت: أما تتقون الله أما أنتم مسلمون؟ فقلنا لها: لتخرجنه أو لنعرينك؟ فأخرجته من حجزتها - وفي لفظ: من قبلها - فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فإذا الكتاب: من حاطب بن أبي بلتعة فقام عمر فقال: يا رسول الله خان الله وخان رسوله ائذن لي فأضرب عنقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أليس قد شهد بدرا؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال عمر: بلى ولكنه قد نكث وظاهر أعداءك عليك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فلعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم ففاضت عينا عمر فقال: الله ورسوله أعلم وأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى حاطب فقال: ما حملك على ما صنعت؟ فقال: يا رسول الله كنت امرأ ملصقا في قريش، وكان بها أهلي ومالي ولم يكن من أصحابك أحد إلا وله بمكة من يمنع أهله وماله فكتبت إليهم بذلك والله يا رسول الله إني لمؤمن بالله ورسوله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صدق حاطب فلا تقولوا لحاطب إلا خيرا فأنزل الله تعالى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ} . "ع" وابن جرير وابن المنذر، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30195 ۔۔۔ ابن ابی شیبہ ، سلیمان بن حرب ، حماد بن زید ، ایوب ، عکرمہ کی سند سے مروی ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ سے رخصت ہوئے اور جاہلیت میں قبیلہ خزاعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلیف قبیلہ تھا جبکہ قبیلہ بنو بکر قریش کا حلیف تھا چنانچہ بنو خزاعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صلح میں داخل تھے اور بنوبکر قریش کی صلح میں داخل تھے خزاعہ اور بنو بکر کے درمیان جنگ چھڑگئی قریش نے بنو بکر کو باہم کمک پہنچائی حتی کہ اسلحہ دیا اشیاء خوردونوش دیں اور پھر بھی ان کی پشت پناہی کی ۔ اس کی پاداش میں بنوبکر کو خزاعہ پر غلبہ حاصل ہوا اور ان کے بہت سارے جنگجوؤں کو قتل کردیا قریش خوفزدہ ہوئے کہ مسلمان معاہدہ نہ توڑ دیں تاہم اس بچاؤ کے لیے قریش نے ابو سفیان سے کہا کہ محمد کے پاس جاؤ اور معاہدے کو مضبوط کرو اور لوگوں میں صلح کراؤ چنانچہ ابو سفیان مدینہ پہنچا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس ابوسفیان آرہا ہے اور وہ اپنی حاجت پوری کئے بغیر خوش وراضی واپس لوٹ جائے گا ابوسفیان سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آیا اور کہا اے ابوبکر (رض) ! لوگوں سے کہو کہ معاہدے کی پاسداری کریں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اس کا اختیار میرے پاس نہیں اس کا اختیار تو اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول کے پاس ہے ، پھر ابوسفیان سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور ان سے بھی اسی جیسی بات کہی انھوں نے فرمایا : تم نے معاہدہ توڑ دیا ہے جو معاہدہ میں جدید قدم اٹھائے اللہ تعالیٰ اسے آزمائش میں ڈالے اور جو زبردست ہو اللہ سے منقطع کرے ابوسفیان نے کہا : میں نے آج تک ایسا معاشرہ نہیں دیکھا جو زبردست رائے کا حامل ہو پھر حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آیا اور کہا : کیا تم اپنی قوم کی عورتوں کی فرماں روائی کرو گی پھر وہی مسئلہ ذکر کیا جو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ذکر کیا تھا فاطمہ (رض) نے فرمایا : اس معاملے کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں اس کا اختیار اللہ اور اس کے رسول کے ہاتھ میں ہے پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس آیا اور ان سے بھی یہ بات کی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میں نے ایسا گمراہ شخص نہیں دیکھا تم لوگوں کے سردار ہو تم خود ہی معاہدہ کو جاری کرواؤ اور لوگوں میں صلح کرواؤ چنانچہ ابوسفیان نے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارا اور کہا : میں نے لوگوں میں معاہدے کا اجراء کردیا پھر مکہ واپس لوٹ گیا اور اہل مکہ کو خبر دی اہل مکہ نے کہا : بخدا ! ہم نے آج کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا کہ جس میں کسی قوم کا سفیر غیر واضح معاملہ لے کر واپس لوٹے تم ہمارے پاس جنگ کی خبر نہیں لائے کہ ہم کوئی بچاؤ کا سامان کریں نہ تم صلح کی خبر لائے ہو کہ ہم بےخوف ہوجائیں ۔ ادھر خزاعہ کا وفد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو پوری خبر دی اور مدد مانگی پھر ایک شخص نے یہ شعر پڑھا۔ لاھم ان ناشد محمدا
30195- "ش" حدثنا سليمان بن حرب حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة قال: لما وادع رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل مكة وكانت خزاعة حلفاء رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجاهلية وكانت بنو بكر حلفاء قريش فدخلت خزاعة في صلح رسول الله صلى الله عليه وسلم ودخلت بنو بكر في صلح قريش، وكان بين خزاعة وبين بني بكر قتال فأمدتهم قريش بسلاح وطعام، وظلوا عليهم، فظهرت بنو بكر على خزاعة وقتلوا منهم فخافت قريش أن يكونوا قد نقضوا فقالوا لأبي سفيان: اذهب إلى محمد وأجر الحلف وأصلح بين الناس، فانطلق أبو سفيان حتى قدم المدينة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد جاءكم أبو سفيان وسيرجع راضيا بغير حاجته، فأتى أبا بكر فقال: يا أبا بكر أجر الحلف بين الناس قال: ليس الأمر إلي الأمر إلى الله وإلى رسوله وقد قال له فيما قال: ليس من قوم ظلوا على قوم وأمدوهم بسلاح وطعام أن يكونوا نقضوا، فقال أبو بكر: الأمر إلى الله وإلى رسوله، ثم أتى عمر بن الخطاب فقاله له نحوا مما قال لأبي بكر فقال له عمر: أنقضتم فما كان منه جديدا فأبلاه الله وما كان منه شديدا أو قال متينا فقطعه الله، فقال أبو سفيان: ما رأيت كاليوم شاهد عشيرة، ثم أتى فاطمة فقال: يا فاطمة هل لك في أمر تسودين فيه نساء قومك؟ ثم ذكر لها نحوا مما ذكر لأبي بكر، فقالت: ليس الأمر إلي الأمر إلى الله وإلى رسوله، ثم أتى عليا فقال له نحوا مما قال لأبي بكر، فقال له علي: ما رأيت كاليوم رجلا أضل، أنت سيد الناس فأجر الحلف، وأصلح بين الناس فضرب بإحدى يديه على الأخرى وقال: قد أجرت الناس بعضهم من بعض، ثم ذهب حتى قدم على أهل مكة فأخبرهم بما صنع، فقالوا: والله ما رأينا كاليوم وافد قوم والله ما أتيتنا بحرب فنحذر ولا أتيتنا بصلح فنأمن ارجع قال وقدم وافد خزاعة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره بما صنع القوم ودعا إلى النصر وأنشده في ذلك شعرا:

لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا

فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالرحيل، فارتحلوا فساروا حتى نزلوا مرا وجاء أبو سفيان حتى نزل بمر ليلا، ورأى العسكر والنيران فقال: ما هؤلاء؟ قيل: هذه تميم محلت بلادها وانتجعت3 بلادكم، قال: والله لهؤلاء أكثر من أهل منى، فلما علم أنه النبي صلى الله عليه وسلم قال: دلوني على العباس، فأتى العباس فأخبره الخبر، وذهب به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة له فقال له: يا أبا سفيان أسلم تسلم فأسلم أبو سفيان، وذهب به العباس إلى منزله فلما أصبحوا ثار الناس لطهورهم فقال أبو سفيان: يا أبا الفضل ما للناس أمروا بشيء؟ قال: لا ولكنهم قاموا إلى الصلاة، فأمره العباس فتوضأ ثم ذهب به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة كبر فكبر الناس، ثم ركع وركعوا، ثم رفع فرفعوا فقال أبو سفيان: ما رأيت كاليوم طاعة قوم جمعهم من ههنا ومن ههنا ولا فارس الأكارم ولا الروم ذات القرون بأطوع منهم له، قال أبو سفيان: يا أبا الفضل أصبح ابن أخيك عظيم الملك، فقال له العباس: إنه ليس بملك ولكنها نبوة قال: أو ذاك أو ذاك قال أبو سفيان: واصباح قريش، فقال العباس: يا رسول الله لو أذنت لي فأتيتهم فدعوتهم وآمنتهم وجعلت لأبي سفيان شيئا يذكر به؟

فانطلق العباس فركب بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم الشهباء، فانطلق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ردوا علي أبي ردوا علي أبي، فإن عم الرجل صنو أبيه، إني أخاف أن تفعل به قريش ما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود، دعاهم إلى الله فقتلوه، أما والله لئن ركبوها منه لأضرمنها عليهم نارا، فانطلق العباس حتى قدم مكة فقال: يا أهل مكة أسلموا تسلموا، قد استنبطتم بأشهب بازل وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الزبير من قبل أعلى مكة، وبعث خالد بن الوليد من قبل أسفل مكة فقال لهم العباس: هذا الزبير من قبل أعلى مكة، وهذا خالد من قبل أسفل مكة وخالد وما خالد وخزاعة المجدعة الأنوف، ثم قال: من ألقى السلاح فهو آمن، ثم قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فتراموا بشيء من النبل، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ظهر عليهم فأمن الناس إلا خزاعة من بني بكر فذكر أربعة: مقيس بن صبابة، وعبد الله بن أبي سرح وابن خطل وسارة مولاة بني هاشم فقاتلهم خزاعة إلى نصف النهار وأنزل الله تعالى {أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْماً نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ} الآية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30196 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ تشریف لائے اور کعبہ میں داخل ہوئے تو کعبہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کی تصویریں دیکھیں دراں حالیکہ ان کے ہاتھوں میں قسمت کے تیر تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) کو قسمت کے تیروں سے کیا لگاؤ اللہ کی قسم ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی بھی قسمت آزمانے کے لیے تیر نہیں پھینکے پھر آپ نے حکم دیا ایک کپڑا پانی میں گیلا کرکے لایا گیا اور وہ تصویریں مٹا دی گئیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30196- عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم يوم الفتح وصورة إبراهيم وإسماعيل في البيت وفي أيديهم القداح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لإبراهيم والقداح، والله ما استقسم بها قط ثم أمر بثوب فبل ومحى به صورتهما. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30197 ۔۔۔ مجاہد روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جبکہ کعبہ میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان بت نصب تھے آپ نے بتوں کو اوندھے منہ کردیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : خبردار مکہ حرمت والا شہر ہے اور تاقیامت حرمت والا رہے گا مجھے سے قبل کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا البتہ گھڑی بھر کے لیے حرم پاک میرے لیے حلال کیا گیا حرم پاک کی گھاس بھی محترم ہے ہرگز نہ کاٹے جائے حرم کا شکار نہ بھگایا جائے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں حرم میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے البتہ وہ شخص اٹھاسکتا ہے جو اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو۔ حضرت عباس (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) البتہ اذخر گھاس کی اجازت ہے چونکہ سناروں قبروں اور گھروں کے لیے یہ گھاس کام آتی ہے آپ نے فرمایا : جی ہاں سوائے اذخر کے جی ہاں سوائے اذخر کے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30197- عن مجاهد أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم يوم الفتح والأنصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها لوجوهها، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: ألا إن مكة حرام أبدا إلى يوم القيامة لم تحل لأحد من قبلي، ولا تحل لأحد بعدي غير أنها أحلت لي ساعة من النهار لا يختلى خلاها ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها إلا أن تعرف فقام العباس فقال: يا رسول الله إلا الإذخر لصاغتنا وقبورنا وبيوتنا فقال: إلا الإذخر إلا الإذخر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30198 ۔۔۔ محمد بن حنیفہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ایک حجرے سے باہر تشریف لائے اور دروازے پر بیٹھ گئے آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تنہائی میں بیٹھے تو آپ کے پاس کوئی نہیں آتا تھا تاوقتیکہ آپ خود نہ بلا لیں چنانچہ تھوڑی دیر بعد فرمایا : میرے پاس ابوبکر کو بلا لاؤ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو بلا لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے کافی دیر تک سرگوشیاں کرتے رہے پھر سامنے سے اٹھا کر اپنے دائیں یا بائیں بٹھا رہے پھر فرمایا : عمر کو بلاؤ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس بیٹھ گئے اور آپ ان سے بھی کافی دیر تک سرگوشیاں کرتے رہے دوران گفتگو سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی آواز بلند ہوگئی وہ کہہ رہے تھے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ کفر کا سرغنہ ہیں ان کا گمان ہے کہ آپ جادو گر ہیں اور کاہن ہیں آپ جھوٹے ہیں اور افترا پرداز ہیں حتی کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے چیدہ چیدہ باتیں جو اہل مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرتے تھے کہہ ڈالیں پھر آپ نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اپنی ایک طرف بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک طرف بیٹھ گئے اور حضرت عمر (رض) دوسری طرف پھر آپ نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : کیا میں تمہیں ان دو اصحاب کی مثالیں نہ دوں ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے چہرہ اقدس سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی طرف کرکے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں دودھ میں پڑے گھی سے بھی زیادہ نرم تھے پھر عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے لہٰذا معاملہ وہی طے پایا ہے جو عمر کا تجویز کردہ ہے لہٰذا تم لوگ تیاری کرو لوگ اٹھے اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے ہو لیے اور کہنے لگے : ابوبکر (رض) ہم عمر سے نہیں پوچھتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے کیا سرگوشی کی ہے آپ ہمیں بتادیں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پوچھا کہ مکہ پر چڑھائی کے بارے میں کیا کہتے ہو اور کیا رائے ہے میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ آپ کی قوم ہے (گویا میں نے نرمی برتنے کا مشورہ دیا) میں سمجھا شاید آپ میری ہی بات مان لیں گے پھر آپ نے عمر کو بلایا عمر (رض) نے کہا : اہل مکہ سر غنہ کفر ہیں حتی کہ اہل مکہ کی ہر برائی بیان کی اور کہا اللہ کی قسم عرب اس وقت تک زیر نہیں ہوں گے جب تک اہل مکہ زیر نہیں ہوتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں مکہ پر چڑھائی کرنے کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30198- عن محمد بن الحنفية قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من بعض حجره فجلس عند بابها، وكان إذا جلس وحده لم يأته أحد حتى يدعوه قال: ادع لي أبا بكر فجاء فجلس بين يديه فناجاه طويلا ثم أمره فجلس عن يمينه أو عن يساره، ثم قال: ادع لي عمر فجاء فجلس إلى أبي بكر فناجاه طويلا فرفع عمر صوته فقال: يا رسول الله هم رأس الكفر هم الذين زعموا أنك ساحر وأنك كاهن وأنك كذاب وأنك مفتر، ولم يدع شيئا مما كان أهل مكة يقولونه إلا ذكره، فأمره أن يجلس من الجانب الآخر فجلس أحدهما عن يمينه والآخر عن يساره، ثم دعا الناس فقال: ألا أحدثكم بمثل صاحبيكم هذين؟ قالوا: نعم يا رسول الله فأقبل بوجهه إلى أبي بكر فقال: إن إبراهيم كان ألين في الله من الدهن في اللبن، ثم أقبل على عمر فقال: إن نوحا كان أشد في الله من الحجر، وإن الأمر أمر عمر فتجهزوا فقاموا فتبعوا أبا بكر، فقالوا: يا أبا بكر إنا كرهنا أن نسأل عمر، ما هذا الذي ناجاك به رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: قال لي كيف تأمروني في غزو مكة؟ قلت: يا رسول الله هم قومك حتى رأيت أنه سيطيعني، ثم دعا عمر فقال عمر: إنهم لرأس الكفر حتى ذكر كل سوء كانوا يقولونه، وايم الله لا تذل العرب حتى تذل أهل مكة فأمركم بالجهاز لتغزوا مكة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30199 ۔۔۔ جعفر اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کے آس پاس بنی ہوئی تصویروں کو مٹا دینے کا حکم دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30199- عن جعفر عن أبيه "أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمر أن يطمس التماثيل التي حول الكعبة يوم فتح مكة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30200 ۔۔۔ زہری روایت کی ہے کہ بنی ویل بن بکر کے ایک شخص نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لوں ایک دوسرے شخص سے کہا : میرے ساتھ چلو دوسرا بولا مجھے ڈر ہے کہ مجھے خزاعہ قتل کردیں گے چنانچہ ویلی اسے ساتھ لیتا گیا راستے میں خزاعی ایک شخص ملا اور اسے پہچان لیا خزاعہ کے اس شخص نے ویلی کے پیٹ میں تلوار ماری بولا میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ خزاعہ مجھے قتل کردیں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم (حرمت والا) قرار دیا ہے لوگوں نے اسے حرم نہیں بنایا لہٰذا اس کی حرمت بجا لاؤ مکہ گھڑی بھر کے لیے دن کے وقت میرے لیے حلال ہوا ہے تین شخص اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ نافرمانی کرنے والے ہیں۔ ایک وہ شخص جو مکہ میں قتل کرنے دوسرا وہ شخص جو غیر قاتل کو قتل کرے تیسرا وہ شخص جو جاہلیت کے کینہ اور بغض کا بدلہ لے میں اس شخص کی دیت ضروردلاؤں گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30200- عن الزهري قال: قال رجل من بني الديل بن بكر، لوددت أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت منه، فقال لرجل: انطلق معي فقال: إني أخاف أن تقتلني خزاعة، فلم يزل به حتى انطلق فلقيه رجل من خزاعة فعرفه فضرب بطنه بالسيف، قال قد أخبرتك أنهم سيقتلوني فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: إن الله تعالى هو حرم مكة ليس الناس حرموها وإنما أحلت لي ساعة من نهار وهي بعد حرم، وإن أعدى الناس على الله ثلاثة من قتل فيها، أو قتل غير قاتله، أو طلب بذحول الجاهلية فلأدين هذا الرجل."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30201 ۔۔۔ یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اور محمد بن منکدر کی روایت ہے کہ مکہ میں فتح کے موقع پر صفا پر تین سو ساٹھ بت تھے مروہ پر ایک بت تھا جبکہ ان کے درمیان کا علاقہ بتوں سے اٹا پڑا تھا اور کعبہ بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا محمد بن منکدر کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چھڑی تھی آپ بتوں کی طرف چھڑی سے اشارہ کرتے اور بت گرجاتے حتی کہ آپ اساف اور نائلہ کے پاس آگئے یہ دونوں بت کعبہ کے دروازے کے بالمقابل نصب تھے آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ انھیں توڑ ڈالو اور کہو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی کیا کہیں ؟ فرمایا : کہو اللہ تعالیٰ نے وعدہ سچ کر دکھایا ۔ اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے اکیلے ہی نے لشکروں کو ہزیمت دی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30201- حدثنا عبد الله بن موسى أنبأنا موسى بن عبيد عن يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي ومحمد بن المنكدر قالا: كان بمكة يوم الفتح ستون وثلثمائة وثن على الصفا وعلى المروة صنم وما بينهما محفوف بالأوثان والكعبة قد أحيطت بالأوثان، قال محمد بن المنكدر: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه قضيب يشير به إلى الأوثان، فما هو إلا أن يشير إلى شيء منها فيتساقط حتى أتى أساف ونائلة وهما قدام المقام مستقبل باب الكعبة فقال: عفروهما فألقاهما المسلمون قال، قولوا: قالوا: ما نقول يا رسول الله؟ قال: قولوا صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30202 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت بلال (رض) نے بیت اللہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی انھیں دیکھ کر صفوان بن امیہ نے حارث بن ہشام سے کہا کیا تم اس غلام کی طرف نہیں دیکھ رہے حارث نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے تو اس کی شکل مسخ کر دے گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30202- عن ابن أبي مليكة قال: لما فتحت مكة صعد بلال البيت فأذن فقال صفوان بن أمية للحارث بن هشام: ألا ترى إلى هذا العبد؟ فقال الحارث: إن يكرهه الله يغيره. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30203 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ بن ابی جہل بھاگ گئے اور سمندر میں کشتی پر جا سوار ہوئے سمندری طوفان کو دیکھ کر ملاح اور کشتی سواروں نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا اور اللہ تعالیٰ ہی سے فریادیں کرنے لگے عکرمہ نے توحید پرستی کی وجہ پوچھی کشتی بانوں نے کہا : اس جگہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز نفع نہیں پہنچاتی عکرمہ (رض) کہا : یہ ہی تو محمد کا معبود ہے جسے وہ پکارتا ہے مجھے واپس کرو چنانچہ عکرمہ (رض) واپس لوٹ آئے اور اسلام قبول کرلیا جبکہ ان سے پہلے ان کی بیوی اسلام قبول کرچکی تھی اور یہ دونوں اسی نکاح پر برقرار ہے۔ (رواہ ابن عساکر من مراسیل ابی جعفر وابن ابی شیبۃ)
30203- عن ابن أبي مليكة قال: لما كان يوم الفتح هرب عكرمة بن أبي جهل فركب البحر فجعلت الصراري ومن في السفينة يدعون الله، ويستغيثون به فقال: ما هذا؟ فقيل: هذا مكان لا ينفع فيه إلا الله قال عكرمة: فهذا إله محمد الذي كان يدعو إليه ارجعوا بنا فرجع فأسلم وكانت امرأته قد أسلمت قبله فكانا على نكاحهما. "كر" من مراسيل أبي جعفر، "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ فتح مکہ : اس میں غزوہ طائف کا ذکر بھی ہے۔
30204 ۔۔۔ ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے درمیان معاہدہ تھا جبکہ بنی کعب اور بنی بکر کے درمیان مکہ میں جنگ ہوئی تھی بنی کعب کا ایک شخص فریاد رسی کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ اشعار پڑھے ۔ لا ھم انی ناشد محمدا حلف ابینا وابیہ الا تلدا فانصر ھداک اللہ نصر اعتدا وادع عباد اللہ یا توا مدادا : اے میرے پروردگار میں محمد کو وہ معاہدہ یاد دلاتا ہوں جو میرے اور ان کے باپ کے درمیان ہوا تھا اللہ تمہیں ہدایت دے ہماری زبردست مدد کیجئے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بھی مدد کے لیے بلائیں ۔ اتنے میں بادلوں کا ایک آوارہ ٹکڑا گزرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھ کر فرمایا : بادلوں کا یہ ٹکڑا بنی کعب کی مدد کا پیغام رساں ہے پھر آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا : میری تیاری کا سامان کرو اور کسی کو مت بتاؤ تھوڑی دیر بعد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور انھیں متحرک دیکھ کر پوچھا : کیا وجہ ہے ؟ عرض کی : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تیاری کا حکم دیا ہے پوچھا : کہاں کے لیے عرض کی مکہ کے لیے (جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تاکیدا فرمایا تھا کہ معاملہ صیغہ راز میں رہے پھر حضرت عائشہ (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو کیوں بتادیا ؟ مطلب یہ کہ عوام الناس میں سے کسی کو نہ بتاؤ رہی بات ابوبکر وعمر یعنی خواص کی سو انھیں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلا کر سب سے پہلے انہی سے مشورہ لیا گویا ضمنا ان کے لیے اجازت ہوگئی المختصر کہ ممانعت اوروں کے لیے تھی یہ حضرات اس سے مستثنی تھے) ابوبکر (رض) نے کہا : بخدا ! بعد ازیں ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نہیں رہے گا حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور ان سے تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : اہل مکہ نے دھوکا کیا ہے اور انھوں نے معاہدہ توڑ دیا ہے پھر آپ مسلمانوں کو لے کر چل پڑے آپ راز داری میں چلے تاکہ اہل مکہ کو خبر نہ ہونے پائے ۔ ادھر ابوسفیان نے حکیم بن حزام سے کہا : بخدا ہم غفلت میں ہیں کیا تم مرا الظہران تک میرے ساتھ جاؤ گے تاکہ ہمیں کوئی خبر ملے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا ابوسفیان نے کہا اگر چاہو تو جاسکتے ہو چنانچہ یہ تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر چل دیئے چنانچہ اس جگہ پہنچے تاریکی پھیل چکی تھی کیا دیکھتے کہ پوری وادی میں جگہ جگہ آگ جل رہی ہے ابوسفیان نے کہا : اے حکیم ! یہ کیسی آگ ہے ؟ بدیل نے کہا : یہ بنی عمرو کی آگ ہے انھیں جنگ نے دھوکا میں ڈال دیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا : تیرے باپ کی قسم ! بنی عمرو بہت کم تعداد میں ہیں جبکہ یہ لوگ تو کہیں زیادہ ہیں۔ اتنے میں ان تینوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہرہ داروں نے آن لیا اور یہ انصار کے چند لوگ تھے جبکہ پہرے کی ذمہ داری حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سپرد تھی پہرہ دار انھیں پکڑ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے آئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہنس رہے تھے اور کہا : اگر تم ابوسفیان کو پکڑ لاتے کیا ہی اچھا ہوتا پہرہ داروں نے کہا : بخدا ! ہم ابو سفیان کو پکڑ لائے ہیں فرمایا : اسے اپنے پاس گرفتار رکھو صبح ہوتے ہی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ابوسفیان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آئے ابوسفیان کو بیعت کا کہا گیا یہ بولا میرے لیے بیعت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ورنہ میرا برا حال ہوگا ، پھر حکیم بن حزام کو بیعت کا کہا گیا چنانچہ انھوں نے بھی بیعت کرلی ، جب یہ لوگ واپس پلٹے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوسفیان شہرت کو پسند کرتا ہے آپ اسے شہرت کی کوئی چیز دے دیں البتہ ابن خطل مقیس بن صبابہ لیثی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور دو باندیوں کے لیے کوئی امن نہیں انھیں قتل کرو اگرچہ یہ کعبہ کے پردوں سے کیوں نہ لپٹے ہوں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : یا رسول اللہ آپ حکم دیں تاکہ ابوسفیان کو سر راہ روک لیا جائے اور وہ اسلامی لشکر کی شان و شوکت دیکھے چنانچہ عباس (رض) نے ابو سفیان کو سر راہ روک لیا اور کہا تم یہاں بیٹھو گے تاکہ مسلمانوں کو دیکھو ؟ ابوسفیان نے اثبات میں جواب دیا وہ سمجھا مٹھی بھر مسلمان ہوں گے اس لیے دیکھنے میں کیا حرج اتنے میں قبیلہ جہینہ کا رستہ گزار ابوسفیان نے کہا : اے عباس (رض) یہ کون لوگ ہیں حضرت عباس (رض) نے کہا : یہ قبیلہ جہنیہ ہے کہا : مجھے جہینیہ سے کیا غرض بخدا ان سے ہماری کبھی لڑائی نہیں ہوئی پھر مزنیہ کا دستہ گزرا اس کے متعلق پوچھا کہا : یہ مزنیہ ہے ابوسفیان بولا : میرا مزنیہ سے کیا تعلق میری ان سے کبھی لڑائی نہیں ہوئی ، پھر قبیلہ سلیم گزرا اس کے متعلق پوچھا عباس (رض) نے کہا : یہ سلیم ہے پھر فردا فردا یکے بعد دیگرے اسلامی دستے گزرتے رہے بالکل آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ مہاجرین و انصار کے دستے میں گزرے ابوسفیان نے پوچھا : اے عباس یہ کون لوگ ہیں ؟: کہا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مہاجرین و انصار کے ساتھ ابوسفیان بولا : تمہارا بھتیجا عظیم بادشاہ بن گیا ہے عباس (رض) نے کہا : نہیں بلکہ یہ نبوت کی شان و شوکت ہے مسلمانوں کی تعداد 10، 12 ہزار کے لگ بھگ تھی ۔ ابوسفیان واپس مکہ لوٹ گیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ (رض) کو دیا ہوا تھا پھر سعد (رض) نے جھنڈا اپنے بیٹے حضرت قیس بن سعد (رض) کو دے دیا پھر ابوسفیان گھوڑے پر سوار ہو کر آگے نکل گیا حتی کہ ثنیہ میں جا پہنچا اہل مکہ نے پوچھا : تمہارے پیچھے کیا حال ہے کہا میرے پیچھے مسلمانوں کا سیل رواں ہے ایسا شوکت والا لشکر میں نے کبھی نہیں دیکھا ، جو شخص میرے گھر میں داخل ہوگا وہ امن میں رہے گا پھر لوگوں کا ہجوم ابوسفیان کے گھر پر امنڈ آیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور مقام جحون پر آکر رکے مقام جحون کے اوپر کی طرف ہے آپ نے حضرت زبیر (رض) کو شہ سواروں کے دستے پر امیر مقرر کرکے مکہ کی بالائی طرف سے روانہ کیے جبکہ حضرت خالد بن ولید کو مکہ کے زیریں حصہ سے روانہ کیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا : اے مکہ ! تو اللہ تعالیٰ کی زمین کا سب سے اعلی و افضل حصہ ہے ، بخدا ! اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا میں کبھی نہ نکلتا مجھ سے قبل مکہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا میرے لیے دن میں گھڑی بھر کے لیے حلال ہوا ہے مکہ قابل حرمت ہے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اس کی گھاس نہ کاٹی جائے اس کا لقطہ نہ اٹھایا جائے البتہ اعلان کرنے والا اٹھاسکتا ہے ، ابو شاہ نامی ایک شخص نے کہا جبکہ بعض محدثین نے حضرت عباس (رض) کا قول کیا ہے کہ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ اس حکم سے اذخر گھاس مستثنی ہے چونکہ اذخر گھاس ہمارے گھروں اور لوہاروں کے کام آتا ہے۔ رہی بات ابن خطل کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا اور وہیں قتل کردیا گیا جبکہ مقیس بن صبابہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے صفا اور مروہ کے درمیان پایا بنی کعب کے چند لوگ اسے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے اس کے چچا زاد بھائی نمیلہ نے کہا : اس کا راستہ چھوڑ دو بخدا ! جو بھی اس کے قریب آئے گا میں اس کا سر قلم کر دوں گا آگے بڑھنے والے چوک گئے اور پیچھے ہٹ گئے پھر خود ہی نمیلہ نے مقیس پر تلوار سے حملہ کردیا اور تلوار سر پردے ماری جس سے اس کا سرکٹ گیا اور مقیس ٹھنڈا ہو کر زمین پر گرگیا نمیلہ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اس کے قتل پر کوئی اور فخر نہ کرسکے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا اتنے میں عثمان بن طلحہ داخل ہوا آپ نے فرمایا : اے عثمان ! کہاں ہے بیت اللہ کی چابی ؟ کہا وہ میری ماں سلامہ بنت سعد کے پاس ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلامہ کے پاس آدمی بھیجا سلامہ نے کہا : لات اور عزی کی قسم میں کبھی بھی چابی نہیں دوں گی عثمان نے ماں سے کہا : بخدا معاملہ بدل چکا ہے اگر تو چابی نہیں دے گی مجھے اور میرے بھائی کو قتل کردیا جائے گا پھر عثمان چابی لے کر چلا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا ، چابی نیچے گرگئی اور اس پر کپڑا ڈال دیا اور پھر بیت اللہ کا دروازہ کھولا آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کے چاروں کونوں میں تکبیر کہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی پھر دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا : مجھے امید ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چابی مجھے عطا کریں گے یوں اس طرح سقایت اور حجابت (یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کا شرف اور دربانی) کا شرف ہمیں مل جائے گا تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہاں ہے عثمان ؟ جو شرف اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے میں اسے باقی رکھنا چاہتا ہوں یہ لو چابی ۔ پھر بلال (رض) کعبہ کی چھت پر چڑھے اور اذان دی خالد بن اسیر نے انھیں دیکھ کر کہا : یہ کیسی آواز ہے لوگوں نے کہا۔ یہ بلال بن رباح ہے خالد نے کہا : ابوبکر کا حبشی غلام لوگوں نے کہا : جی ہاں کہا یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ کہتا ہے : (اشھدان الا الہ الا اللہ واشھدان محمد رسول اللہ) کہنے لگا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے خالد کے باپ اسیر کو یہ آواز نہیں سننے دی اسیر جنگ بدر میں مشرک قتل کردیا گیا۔ مکہ فتح کرنے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین تشریف لے گئے جب کہ آپ کے مقابلہ کے لیے ھوازن نے اپنے انڈے بچے جمع کر رکھے تھے وہاں پہنچنے پر جنگ چھڑ گئی مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ویوم حنین اذا اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا) اور غزوہ حنین کے دن جب تمہیں تمہارے کثرت نے عجب میں ڈال دیا تھا جب کہ تمہاری کثرت تمہارے کچھ کام نہ آسکی پڑھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری سے نیچے اترے اور کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ اگر تو چاہے تو سطح زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی ۔ پھر فرمایا : شاھت الوجوہ چہرے قبیح ہوجائیں پھر مٹھی بھر کنکریاں دشمن کی طرف پھینکیں کنکریاں پھینکنی تھیں کہ دشمن الٹے پاؤں بھاگ گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں اور ان کے اموال پر قبضہ کرلیا پھر قیدیوں سے کہا : اگر چاہو تو قید میں رہو چاہو تو فدیہ دے کر جان چھڑا لو اہل حنین نے کہا : آج کے دن ہم خاندانی شرافت کو ترجیح دیں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا جب میں جاؤں تو مجھ سے سوال کرنا میرے پاس جو کچھ ہوا میں تمہیں دوں گا البتہ مسلمانوں میں سے کسی کو مشکل نہ پیش آئے جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اسی کی مثل مسلمانوں نے کہا ہے سوائے عینیہ بن حصن کے اس نے کہا ہے کہ جو میرے لیے ہے وہ میں اسے نہیں دوں گا فرمایا : تو حق پر ہے چنانچہ اس دن اس کے حصہ میں ایک بڑھیا آئی اور وہ بھی نابینا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا محاصرہ کرلیا اور یہ محاصرہ ایک مہینہ تک رہا اس دوران سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے اہل طائف کے ہاں بھیجیں میں انھیں دعوت دوں گا فرمایا اہل طائف تو تمہیں قتل کردیں گے چنانچہ عزوہ اہل طائف کے پاس گئے اور انھیں دعوت الی اللہ دی انھیں ایک مشرک نے تیر مارا اور انھیں قتل کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ کے متعلق فرمایا : اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کا واقعہ سورت یس میں بیان ہوا ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ اہل طائف کے مال مویشی پکڑ لو تاکہ انھیں سخت حالات کا مقابلہ کرنا پڑے۔ مہر نبوت کا دیدار : پھر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے اور مقام نخلہ پر پہنچے تو لوگوں نے آپ سے مال مانگنا شروع کردیا حضرت انس (رض) کہتے ہیں لوگوں نے اس قدر ہمجوم کردیا حتی کہ آپ کی کمر سے چادر بھی چھین لی اور اس کی پاداش میں مہر نبوت سامنے ہوگئی یوں دکھائی دی جیسے چاند کا ٹکڑا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازروئے ظرافت فرمایا : تمہارا باپ نہ رہے میری چادر مجھے واپس کرو کای تم مجھے بخیل سمجھتے ہو بخدا اگر میرے پاس اونٹ اور بکریاں ہوتیں جن سے ان دونوں پہاڑیوں کا درمیانی علاقہ بھرا پڑا ہوتا میں وہ بھی تمہیں دے دیتا اس دن آپ نے تالیف قلب کے طور پر لوگوں کو ایک ایک سو اونٹ تک عطا کیے اس موقع پر انصار نے کہا : کہ ہمیں کچھ نہ ملے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا میں نے سنا ہے کہ تم ایسی ایسی باتیں کرتے ہو کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی ؟ انصار نے کہا جی ہاں کیا میں نے تمہیں آپس میں دشمن نہیں پایا پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی ؟ انصار نے کہا : جی ہاں اگر تم کہلنا چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ بھی تو بےیارو مددگار آئے اور ہم نے آپ کی مدد کی ؟ انصار نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہترین اجر دینے والے ہیں اگر تم کہنا چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ بےگھر آئے ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا ؟ انصار نے کہا اللہ اور اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا بہتر صلہ دینے والے ہیں اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ کسمپرسی کے عالم میں آئے ہم نے آپ کی غمخواری کی ؟ انصار نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر صلہ دینے والے ہیں فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ؟ انصار نے عرض کی : جی ہاں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ عام ہیں اور تم خاص ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنائم پر بنی عبدالاشہل کے بھائی عباد بن رقش کو ذمہ دار بنایا تھا قبیلہ اسلم کا ایک شخص ننگا آیا اس کے پاس کوئی کپڑا نہیں تھا کہنے لگا : ان چادروں سے مجھے ایک چادر پہنا دو عباد (رض) نے کہا : نہیں یہ غنائم مسلمانوں کی ہیں میرے لیے حلال نہیں کہ ان سے تمہیں کچھ دوں ؟ اس شخص کی قوم نے کہا : ایک چادر اسے دے دو اگر کسی نے کوئی بات کی تو یہ مال ہمارا ہے اور اہمارا دیا ہوا ہے چنانچہ عباد (رض) نے اسے ایک چادر دے دی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی آپ نے فرمایا : مجھے اس کا کوئی خدشہ نہیں کہ تم نے خیانت کی ہے عباد (رض) نے عرض کی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اسے چادر نہیں اسے چادر نہیں دی حتی کہ اس کی قوم نے کہا : اگر کسی نے کوئی بات کی تو یہ ہمارا مال ہے اور ہمارا دیا ہوا آپ نے تین بار فرمایا : جزاکم اللہ خیرا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30204- حدثنا يزيد بن هارون أنبأنا محمد بن عروة عن أبي سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قالا: كانت بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين المشركين هدنة فكان بين بني كعب وبين بني بكر قتال بمكة فقدم صريخ بني كعب على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:

لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا

فانصر هداك الله نصرا عتدا ... وادع عباد الله يأتوا مددا

فمرت سحابة فرعدت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذه لترعد بنصر بني كعب ثم قال لعائشة: جهزيني ولا تعلمي بذلك أحدا، فدخل عليها أبو بكر فأنكر بعض شأنها فقال: ما هذا؟ قالت: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أجهزه قال: إلى أين؟ قالت إلى مكة قال: فوالله ما أنقضت الهدنة بيننا وبينهم بعد، فجاء أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنهم أول من غدر ثم أمر بالطرق فحبست، ثم خرج وخرج المسلمون معه فغم لأهل مكة لا يأتيهم خبر فقال أبو سفيان لحكيم بن حزام: أي حكيم والله لقد غممنا واغتممنا، فهل لك أن تركب ما بيننا وبين مر لعلنا أن نلقى خبرا، فقال له بديل بن ورقاء الكعبي من خزاعة: وأنا معكم قالا: وأنت إن شئت فركبوا ثم إذا دنوا من ثنية مر وأظلموا فأشرفوا على الثنية، فإذا النيران قد أخذت الوادي كله، قال أبو سفيان لحكيم بن حزام، أي حكيم ما هذه النيران؟ قال بديل بن ورقاء: هذه نيران بني عمرو خدعتها الحرب، قال أبو سفيان: لا وأبيك لبنو عمرو وأذل وأقل من هؤلاء، فتكشف عنهم الأراك فأخذهم حرس رسول الله صلى الله عليه وسلم نفر من الأنصار وكان عمر بن الخطاب تلك الليلة على الحرس فجاؤوا بهم إليه، فقالوا: جئناك بنفر أخذناهم من أهل مكة فقال عمر وهو يضحك إليهم: والله لو جئتموني بأبي سفيان ما زدتم؟ قالوا: قد والله أتينا بأبي سفيان فقال: احبسوه فحبسوه، حتى أصبح فغدى به على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له: بايع فقال: لا أجد إلا ذاك أو شرا منه فبايع، ثم قيل لحكيم بن حزام: بايع فقال: أبايعك ولا أخر إلا قائما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما من قبللنا فلن تخر إلا قائما، فلما ولوا قال أبو بكر: يا رسول الله إن أبا سفيان رجل يحب السماع يعني الشرف، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من دخل دار أبي سفيان فهو آمن إلا ابن خطل ومقيس بن صبابة الليثي وعبد الله بن سعد بن أبي سرح والقينتين فإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة فاقتلوهم، فلما ولوا قال أبو بكر: يا رسول الله لو أمرت بأبي سفيان فحبس على الطريق وأذن في الناس بالرحيل فأدركه العباس فقال: هل لك إلى أن تجلس حتى تنظر؟ قال: بلى ولم يكره ذلك فيرى ضعفه فسألهم فمرت جهينة فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه جهينة قال: مالي ولجهينة، والله ما كان بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت مزينة فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه مزينة قال: مالي ولمزينة، والله ما كان بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت سليم فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه سليم، ثم جعلت تمر طوائف العرب، فمر عليه أسلم وغفار فيسأل عنها فيخبره العباس حتى مر رسول الله صلى الله عليه وسلم في أخريات الناس في المهاجرين الأولين والأنصار في لأمة تلمع البصر فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه في المهاجرين الأولين والأنصار قال: لقد أصبح ابن أخيك عظيم الملك، قال: لا والله ما هو بملك ولكنها النبوة، كانوا عشرة آلاف أو اثني عشر ألفا، ودفع رسول الله صلى الله عليه وسلم الراية إلى سعد بن عبادة فدفعها سعد إلى ابنه قيس بن سعد وركب أبو سفيان فسبق الناس حتى اطلع عليهم من الثنية قال له أهل مكة: ما وراءك؟ قال: ورائي الدهم ورائي مالا قبل لكم به ورائي من لم أر مثله، من دخل داري فهو آمن، فجعل الناس يقتحمون داره، وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فوقف في الحجون بأعلى مكة، وبعث الزبير بن العوام في الخيل في أعلى الوادي، وبعث خالد بن الوليد في الخيل في أسفل الوادي. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك لخير أرض الله وأحب أرَض الله إلى الله، وإني والله لو لم أخرج منك ما خرجت، وإنها لن تحل لأحد كان قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي من النهار ساعة وهي ساعتي هذه حرام لا يعضد شجرها، ولا يحتش حشيشها، ولا يلتقط لقطتها إلا لمنشد فقال له رجل يقال له: أبو شاه والناس يقولون قال له العباس: يا رسول الله إلا الإذخر فإنه لبيوتنا وقيوننا أو لبيوتنا وقبورنا، فأما ابن خطل فوجدوه متعلقا بأستار الكعبة فقتل وأما مقيس بن صبابة فوجدوه بين الصفا والمروة فبادره نفر من بني كعب ليقتلوه، فقال ابن عمه نميلة خلوا عنه فوالله لا يدنو منه رجل إلا ضربته بسيفي هذا حتى يبرد، فتأخروا عنه فحمل عليه بسيفه ففلق به هامته وكره أن يفخر عليه أحد، ثم طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت ثم دخل عثمان بن طلحة فقال: أي عثمان أين المفتاح؟ فقال هو عند أمي سلامة ابنة سعد، فأرسل إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: لا واللات والعزى لا أدفعه إليه أبدا قال: إنه قد جاء أمر غير الأمر الذي كنا عليه فإنك إن لم تفعلي قتلت أنا وأخي، فدفعته إليه فأقبل به حتى إذا كان وجاه رسول الله صلى الله عليه وسلم عثر فسقط المفتاح منه، فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأحثى عليه بثوبه، ثم فتح له عثمان فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة، فكبر في زواياها وأرجائها وحمد الله، ثم صلى بين الأسطوانتين ركعتين، ثم خرج فقام بين الناس فقال علي: فتطاولت لها ورجوت أن يدفع إلينا المفتاح فتكون فينا السقاية والحجابة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أين عثمان هاكم ما أعطاكم الله، ثم دفع إليه المفتاح ثم رقى بلال على ظهر الكعبة فأذن، فقال خالد بن أسيد: ما هذا الصوت؟ قالوا: بلال بن رباح قال عبد أبي بكر الحبشي؟ قالوا: نعم قال: أين؟ قالوا: على ظهر الكعبة قال: على مرقة بني أبي طلحة؟ قالوا: نعم قال: ما يقول؟ قالوا: يقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لقد أكرم الله أبا خالد بن أسيد عن أن يسمع هذا الصوت يعني أباه، وكان ممن قتل يوم بدر في المشركين وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى حنين، وجمعت له هوزان بحنين فاقتتلوا فهزم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال تعالى: {وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئاً} الآية، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن دابته فقال: اللهم إنك إن شئت لم تعبد بعد اليوم، شاهت الوجوه، ثم رماهم بحصباء كانت في يده فولوا مدبرين، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم السبي والأموال فقال

لهم: إن شئتم فالفداء، وإن شئتم فالسبي فقالوا: لن نؤثر اليوم على الحسب شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا خرجت فاسألوني فإني أعطيكم الذي لي، ولن يتعذر علي أحد من المسلمين، فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم صاحوا إليه فقال: أما الذي أعطيتكموه وقال المسلمون مثل ذلك إلا عيينة بن حصن فإنه قال: أما الذي لي فأنا لا أعطيه؛ قال: فأنت على حقك من ذلك فصارت له يومئذ عجوز عوراء، ثم حاصر رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الطائف قريبا من شهر فقال عمر بن الخطاب: أي رسول الله دعني أدخل عليهم فأدعوهم إلى الله، قال: إنهم إذا قاتلوك. فدخل عليهم عروة فدعاهم إلى الله فرماه رجل من بني مالك بسهم فقتله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مثله في قومه كمثل صاحب يس وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذوا مواشيهم، وضيقوا عليهم ثم أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم: راجعا حتى إذا كان بنخلة جعل الناس يسألونه، قال أنس: حتى انتزعوا رداءه عن ظهره، فأبدوا عن مثل فلقة القمر فقال: ردوا علي ردائي لا أبا لكم أتبخلوني فوالله أن لو كان لي ما بينهما إبلا وغنما لأعطيتكموه فأعطى المؤلفة يومئذ مائة مائة من الإبل وأعطى الناس، فقالت الأنصار عند ذلك، فدعاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: قلتم كذا وكذا، ألم أجدكم ضلالا فهداكم الله بي؟ قالوا: بلى قال: أولم أجدكم عالة فأغناكم الله بي؟ قالوا: بلى، قال: ألم أجدكم أعداء فألف الله بين قلوبكم بي؟ قالوا: بلى، قال: أما إنكم لو شئتم قلتم قد جئتنا مخذولا فنصرناك؟ قالوا: الله ورسوله أمن، قال: لو شئتم قلتم جئتنا طريدا فآويناك؟ قالوا: الله ورسوله أمن قال: ولو شئتم قلتم جئتنا عائلا فواسيناك؟ قالوا: الله ورسوله أمن قال: أفلا ترضون أن ينقلب الناس بالشاء والبعير وتنقلبون برسول الله إلى دياركم، قالوا: بلى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الناس دثار والأنصار شعار وجعل على المغانم عباد بن وقش أخا بني عبد الأشهل، فجاء رجل من أسلم عاريا ليس عليه ثوب فقال: اكسني من هذه البرود بردة قال: إنما هي مقاسم المسلمين، ولا يحل لي أن أعطيك منها شيئا فقال قومه: اكسه منها بردة، فإن تكلم فيها أحد فهي من قسمنا وأعطائنا فأعطاه بردة، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما كنت أخشى هذا عليه ما كنت أخشاكم عليه فقال: يا رسول الله ما أعطيته إياها حتى قال قومه: إن تكلم فيها أحد فهي من قسمنا وأعطائنا فقال: جزاكم الله خيرا جزاكم الله خيرا جزاكم الله خيرا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30205 ۔۔۔ ” مسند بدیل بن ورقاء “ ابن بدیل بن ورقاء اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے دن انھیں حکم دیا کہ جعرانہ کی مقام پر قیدیوں اور غنائم کو روک لیا جائے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف لے آئیں چنانچہ قیدی اور غنائم روک دیئے گئے ۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والبغوی وقال فی الاصابۃ اسنادہ حسن)
30205- "مسند بديل بن ورقاء" قال أبو نعيم: حدثنا الحسن بن علان حدثنا عبد الله بن ناجية حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري ثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن إسحاق عن ابن أبي عبلة عن ابن لبديل بن ورقاء عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يحبس السبايا والأموال يوم حنين بالجعرانة حتى يقدم عليه فحبست. "خ" في تاريخه والبغوي؛ قال في الإصابة: إسناده حسن"1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
30206 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ ابو اسحاق کی روایت ہے کہ ایک شیخ نے براء (رض) سے کہا اے ابو مارہ ! کیا تم لوگ حنین میں پسپا ہوگئے تھے ؟ براء (رض) نے کہا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسپا نہیں ہوئے البتہ کچھ لوگ ھوازن کی بستی کے پاس جمع ہوگئے تھے ھوازن زبردست تیر انداز تھے انھوں نے مسلمانوں کی اس جماعت پر تیروں کی بارش کردی یہ جماعت کمک لینے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پاس آگئی تھی ابو سفیان بن حارث آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی نکیل پکڑے ہوئے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر سے نیچے اترے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور دعا کی آپ فرما رہے تھے ۔ روایت کی ہے کہ انا النبی لا کذب
30206- "مسند البراء بن عازب" عن أبي إسحاق قال: قال رجل للبراء: هل كنتم وليتم يوم حنين يا أبا مارة؟ قال: أشهد على النبي صلى الله عليه وسلم أنه ما ولى، ولكن انطلق أخفاء من الناس وحشر إلى هذا الحي من هوزان وهم قوم رماة فرموهم برشق من نبل كأنها رجل من جراد فانكشفوا فأقبل القوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو سفيان بن الحارث يقود بغلته، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستنصر ودعا يقول:

أنا النبي لا كذب

... أنا ابن عبد المطلب

اللهم انزل نصرك. قال: والله إذا احمر البأس نتقي به، وإن الشجاع الذي يحاذي به. "ش" وابن جرير.
tahqiq

তাহকীক: