কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০১৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30167 ۔۔۔ ” مسند سائب بن یزید “ حضرت سائب بن یزید (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے دن عبداللہ بن خطل کو قتل کرتے دیکھا عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں تلے دبکا ہوا تھا وہاں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے نکالا اور اس کی گردن اڑا دی گئی ۔
30167- "من مسند السائب بن يزيد" رأيت النبي صلى الله عليه وسلم قتل عبد الله بن خطل يوم الفتح وأخرجوه من تحت أستار الكعبة فضرب عنقه بين زمزم والمقام ثم قال: لا يقتلن قرشي بعد هذا صبرا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30168 ۔۔۔ ” مسند سہل بن سعد ساعدی “ حضرت سہیل بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور اہل مکہ پر غلبہ حاصل ہوا تو میں اپنے گھر میں گھسا اور دروازہ بند کردیا پھر میں نے اپنا بیٹا عبداللہ بھیجا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے لیے امن کی درخواست کرے چونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں قتل کردیا جاؤں گا عبداللہ بن سہیل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ میرے باپ کو امن دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں اسے اللہ تعالیٰ کا امان ہے لہٰذا وہ سامنے آجائے پھر آپ نے اپنے پاس موجود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : تم میں سے جس شخص کو بھی سہیل ملے اس کی طرف سخت نظروں سے نہ دیکھے سہیل کو اب باہر آجانا چاہیے چونکہ سہیل صاحب عقل اور صاحب شرف انسان سے سہیل جیسا شخص اسلام سے غافل نہیں رہ سکتا وہ سمجھتا ہے کہ جہالت اس کے نفع میں نہیں ہے۔ عبداللہ (رض) نے جا کر اپنے والد کو خبر کی سہیل نے کہا بخدا ! محمد جب چھوٹا تھا اس وقت بھی احسان کرتا رہا اور آج جب بڑا ہوا ہے تب بھی احسان کررہا ہے پھر سہیل آپ کے پاس آتے جاتے رہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک رہے اور بالآخر جعرانہ کے مقام پر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے مال غنیمت سے سو (100) اونٹ سہیل کو دیئے ۔ (رواہ الواقدی وابن سعد وابن عساکر)
30168- "من مسند سهل بن سعد الساعدي" عن سهل بن عمرو قال: لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وظهر اقتحمت بيتي وأغلقت علي بابي وأرسلت إلى ابني عبد الله بن سهيل أن أطلب لي جوارا من محمد صلى الله عليه وسلم: فإني لا آمن أن أقتل، فذهب عبد الله بن سهيل فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبي تؤمنه؟ قال: نعم هو آمن بأمان الله، فليظهر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن حوله: من لقي منكم سهيلا فلا يشد إليه النظر فليخرج فلعمري أن سهيلا له عقل وشرف وما مثل سهيل جهل الإسلام، ولقد رأى ما كان يوضع فيه إنه لم يكن له بنافع، فخرج عبد الله إلى أبيه فأخبره بمقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سهيل: كان والله برا صغيرا وكبيرا فكان سهيل يقبل ويدبر وخرج إلى حنين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على شركه حتى أسلم بالجعرانة، فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ من غنائم حنين مائة من الإبل. الواقدي وابن سعد، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30169 ۔۔۔ یحییٰ بن یزید بن ابی مریم سلولی عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کے پاس حارث بن ہشام آیا اور کہا : اے محمد ! تم مختلف خاندانوں کے لوگوں کو لے کر آئے ہو اور ہمیں قتل کروانا چاہتے ہو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاموش رہو یہ لوگ تم سے بہتر ہیں چونکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
30169- عن يحيى بن يزيد بن أبي مريم السلولى عن أبيه عن جده قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة والهدي معكوفا فجاءه الحارث بن هشام فقال: يا محمد جئتنا بأوباش من أوباش الناس تقاتلنا بهم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسكت هؤلاء خير منك وممن أخذ بأخذك، هؤلاء يؤمنون بالله ورسوله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30170 ۔۔۔ عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن صفوان بن امیہ کی بیوی بغوم بنت معدل نے اسلام قبول کرلیا جب کہ صفوان بن امیہ (رض) بھاگ نکلے اور ایک گھاٹی میں آ چھپے اپنے غلام یسار سے باربار کہتے کہ (جب کہ ان کے ساتھ غلام کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تیرا ناس ہو دیکھ ذرہ تجھے کوئی نظر آ رہا ہے غلام نے کہا : یہ رہا عمیر بن وہب صفوان (رض) نے کہا میں عمیر کو کیا کروں گا بخدا یہ تو مجھے قتل کرنے آیا ہے س نے میرے خلاف محمد کی مدد کی ہے عمیر (رض) صفوان (رض) کے پاس آن پہنچے صفوان (رض) نے کہا : اے عمیر (رض) ابھی تک جو کچھ تو کر گزرا ہے اس پر بس نہیں کرتا اب مجھے قتل کرنے کے لیے یہاں تک آدھمکا ہے عمیر (رض) نے کہ اے ابو وہب میں تجھ پر فدا جاؤں میں ایسی ہستی کے پاس سے آیا ہوں جو سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے۔ قبل ازیں عمیر نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری قوم کا سردا بھاگ نکلا ہے تاکہ اپنے آپ کو سمندر میں ڈال دے وہ نہایت خوفزدہ تھا کہ آپ اسے امن نہیں دیں گے لہٰذا میں آپ سے ملتمس ہوں کہ آپ امن دے دیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاؤ میں نے صفوان (رض) کو امن دے دیا ۔ چنانچہ عمیر (رض) صفوان کے پیچھے چل پڑے اور ان کے پاس پہنچ کر کہا تمہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امن دے دیا ہے صفوان (رض) نے کہا : بخدا ! میں اس وقت تک تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم میرے پاس کوئی نشانی نہیں لے کر آؤ گے عمیر (رض) نے واپس لوٹ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا عمامہ لیتے جاؤ آپ کا عمامہ وہی چادر تھی جسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوڑھ کر مکہ میں داخل ہوئے تھے چنانچہ عمیر (رض) دوبارہ عمامہ لیے صفوان (رض) کی تلاش میں نکل پڑے اور جب ان کے پاس پہنچے کہا : اے ابو وہب میں ایسی ہستی کے پاس سے آیا ہوں جو سب سے افضل سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ بردبار ہے اس کی عزت تیری عزت ہے اس کی بزرگی تیری بزرگی ہے اس کی بادشاہت تیری بادشاہت ہے تمہارا خاندان ایک میں تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ بےخوف ہو کر میرے ساتھ چل پڑو۔ صفوان (رض) نے کہا : مجھے خوف ہے کہ مجھے قتل کردیا جائے گا عمیر (رض) نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں اسلام کی دعوت دی ہے اگر تم اسلام میں داخل ہوجاؤ تو بہت اچھا ورنہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو مہینوں کی مہلت لے لینا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں مہلت دے دیں گے چونکہ آپ نہایت مہربان اور نہایت صلہ رحمی کرنے والے ہیں جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے پاس اپنی چادر بھیجی ہے یہ وہی چادر ہے جسے آپ نہایت مہربان اور نہایت صلہ رحمی کرنے والے ہیں جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے پاس اپنی چادر بھیجی ہے یہ وہی چادر ہے جسے آپ اوڑھ کر مکہ میں داخل ہوئے تھے صٖفوان (رض) نے چادر پہچان لی اور کہا ہاں یہ وہی چادر ہے چنانچہ صفوان (رض) واپس ہوئے اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو لوگوں کو عصر کی نماز پڑھا رہے تھے صفوان (رض) باہر ہی رک گئے ؟ اور کہا : مسلمان دن میں کتنی نماز میں پڑھتے ہیں ؟ عمیر (رض) نے جواب دیا : پانچ نمازیں پڑھتے ہیں پھر پوچھا : کیا مسلمانوں کو محمد نماز پڑھاتے ہیں ؟ جواب دیا جی ہاں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو صفوان (رض) نے چلا کر کہا : اے محمد ! عمیر بن وہب میرے پاس تمہاری چادر لے کر آیا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ تم نے مجھے واپس لوٹ آنے کی دعوت دی ہے اگر تم راضی ہو تو ٹھیک ورنہ مجھے دو مہینے کی مہلت دے دو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو وہب ! سواری سے نیچے اترو صفوان (رض) نے کہا : بخدا میں اس وقت تک نیچے نہیں اتروں گا جب تک تم معاملہ صاف نہ کر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تمہیں چار ماہ تک مہلت ہے۔ صفوان (رض) سواری سے نیچے اتر آئے ۔ پھر آپ نے ھوازن پر چڑھائی کی جبکہ صفوان (رض) آپ کے ساتھ تھے اور ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان (رض) سے اسلحہ مستعار لینا چاہا، عرض کیا : کیا آپ خوشی سے اور رضا مندی سے لینا چاہتے ہیں یا زبردستی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ عاریۃ لینا چاہتا ہوں یہ اسلحہ یعنی 100 (سو) زرہیں قابل واپسی ہوں گی چنانچہ صفوان (رض) نے زرہیں عاریۃ دے دیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی حنین اور طائف ساتھ جانے کا حکم دیا چنانچہ صفوان (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین اور طائف میں رہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعرانہ واپس آگئے اسی اثناء میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت میں چل پھر رہے تھے اور صفوان بن امیہ (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے اور مال غنیمت سے بھری ہوئی گھاٹی کو دیکھے جا رہے تھے جو جانوروں بکریوں وغیرہ اموال سے اٹی پڑی تھی صفوان (رض) انہماک سے مال غنیمت دیکھے جا رہے تھے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنکھیوں سے صفوان (رض) کو دیکھ رہے تھے پھر فرمایا : اے ابو ہب ! کیا یہ گھاٹی مال سے بھری ہوئی تمہیں اچھی لگتی ہے ؟ عرض کیا جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سارا مال تمہارا ہے پھر صفوان (رض) نے کہا : اتنی بڑی سخاوت کا مظاہرہ سوائے نبی کے کوئی نہیں کرسکتا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، چنانچہ اسی جگہ اور اسی لمحے اسلام لے آئے ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30170- عن عبد الله بن الزبير قال: لما كان يوم الفتح أسلمت امرأة صفوان بن أمية البغوم بنت المعدل من كنانة وأما صفوان بن أمية فهرب حتى أتى الشعب، وجعل يقول لغلامه يسار وليس معه غيره: ويحك انظر من ترى، قال هذا عمير بن وهب، قال صفوان: ما أصنع بعمير والله ما جاء إلا يريد قتلي قد ظاهر محمدا علي، فلحقه فقال: يا عمير ما كفاك ما صنعت بي حملتني على دينك وعيالك، ثم جئت تريد قتلي قال: أبا وهب جعلت فداك جئتك من عند أبر الناس وأوصل الناس وقد كان عمير قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله سيد قومي خرج هاربا ليقذف نفسه في البحر، وخاف أن لا تؤمنه فأمنه، فداك أبي وأمي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد أمنته فخرج في أثره فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أمنك فقال صفوان: لا والله لا أرجع معك حتى تأتيني بعلامة أعرفها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ عمامتي فرجع عمير إليه بها وهو البرد الذي دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ معتجرا به برد حبرة فخرج عمير في طلبه الثانية حتى جاء بالبرد فقال: أبا وهب جئتك من عند خير الناس وأوصل الناس وأبر الناس وأحلم الناس مجده مجدك وعزه عزك وملكه ملكك ابن أمك وأبيك وأذكرك الله في نفسك قال له: أخاف أن أقتل قال: قد دعاك إلى أن تدخل في الإسلام فإن يسرك وإلا سيرك شهرين فهو أوفى الناس وأبره، وقد بعث إليك ببرده الذي دخل به معتجرا فعرفه قال: نعم فأخرجه فقال: نعم هو هو. فرجع صفوان حتى انتهى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس العصر في المسجد، فوقفا فقال صفوان: كم يصلون في اليوم والليلة؟ قال: خمس صلوات قال: يصلي بهم محمد؟ قال: نعم، فلما سلم صاح صفوان يا محمد إن عمير بن وهب جاءني ببردك وزعم أنك دعوتني إلى القدوم عليك فان رضيت أمرا وإلا سيرتني شهرين قال: انزل أبا وهب قال: لا والله حتى تبين لي، قال: بل لك أن تسير أربعة أشهر، فنزل صفوان وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل هوازن وخرج معه صفوان وهو كافر وأرسل إليه يستعيره سلاحه، فأعاره سلاحه مائة درع بأداتها، فقال صفوان: طوعا أو كرها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عارية رادة فأعاره فأمره رسول الله صلى الله عيه وسلم فحملها إلى حنين، فشهد حنينا والطائف، ثم رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الجعرانة فبينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في الغنائم ينظر إليها ومعه صفون بن أمية فجعل صفوان بن أمية ينظر إلى شعب مليء نعما وشاء ورعاء فأدام النظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه فقال: أبا وهب يعجبك هذا الشعب؟ قال: نعم قال: هو لك وما فيه، فقال صفوان عند ذلك: ما طابت نفس أحد بمثل هذا إلا نفس نبي أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله وأسلم مكانه. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30171 ۔۔۔ ابن عبادہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جھنڈا ہر جگہ ہوتا تھا مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس تھا انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس تھا حتی کہ فتح مکہ کے دن قضاعہ کا جھنڈا حضرت ابو عبیدہ (رض) کے پاس تھا اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30171- عن ابن عباده قال: كانت راية رسول الله صلى الله عليه وسلم في المواطن كلها راية المهاجرين مع علي بن أبي طالب، وراية الأنصار مع سعد بن عبادة حتى كان يوم فتح مكة دفعت راية قضاعة إلى أبي عبيدة بن الجراح، ودفعت راية بني سليم إلى خالد بن الوليد، وكانت راية الأنصار مع سعد بن عبادة، وراية المهاجرين مع علي ابن أبي طالب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30172 ۔۔۔ ” مسند ابن عباس (رض) “۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مدینہ کی طرف نکلے تھے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرالظھران کے مقام پر پہنچے وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی ملاقات ہوئی ، (رواہ البیہقی وابن عساکر)
30172- "من مسند ابن عباس" ابن إسحاق حدثني الحسن بن عبد الله بن عبيد الله عن عكرمة عن ابن عباس قال: لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمر الظهران قال العباس بن عبد المطلب: وقد خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة. "ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30173 ۔۔۔ واقدی عبداللہ بن جعفر یعقوب بن عتبہ عکرمہ کی سند سے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام مرا الظہران پر پہنچے حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کہا : افسوس ہے قریش پر اللہ کی قسم اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں عنوۃ (غلبہ پاکر) داخل ہوئے تو قریش پر ہلاکت آئے گی میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خچر پکڑا اور اس پر سوار ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خطاب یا کسی اور شخص کو تلاش کرکے لے آؤ تاکہ اسے میں قریش کے پاس بھیجوں اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر ملاقات کرلیں قبل ازیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں عنوۃ داخل ہوں عباس (رض) کہتے ہیں : بخدا ! میں جھاڑیوں میں گھوم پھر کر کسی انسان کو ڈھونڈ رہا تھا یکایک میں نے باتوں کی آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا : بخدا میں نے رات کو جگہ آگ جلتی دیکھی ہے بدیل بن ورقاء نے کہا : یہ تو قبیلہ خزاعہ ہے ابو سفیان نے کہا : خزاعہ کی تعداد بہت تھوڑی ہے انھیں اتنی زیادہ جگہوں میں آگ جلانے کی ہمت کیسے ہوئی اچانک میں دیکھتا ہوں کہ ابو سفیان ہے میں نے آواز دی : اے ابو حنطلہ ! اس نے جواب دیا : جی ہاں اے ابو الفضل اس نے میری آواز پہچان لی اور کہا : میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں یہاں کیا کر رہے ہو ؟ میں نے کہا : تیری ہلاکت ہو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ان کے ساتھ دس ہزار کا لشکر ہے ابو سفیان نے کہا میری ماں باپ فدا ہوں کوئی حیلہ ہوسکتا ہے ؟ عباس (رض) نے کہا : یہ ہے خچر میرے پیچھے سوار ہوجائیں تجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر کروں گا ورنہ بصورت دیگر تو ہتھے چڑھ گیا قتل سے کم تیری سزا نہیں ہوگی ابو سفیان نے کہا : بخدا میری بھی یہی رائے ہے جبکہ بدیل اور حکیم واپس لوٹ گئے ۔ ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھا ، میں اسے لے کر چل پڑا جب بھی مسلمانوں کی کسی آگ کے پاس سے گزرتا مسلمان پوچھتے یہ کون ہے جب مجھے دیکھتے کہتے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ہیں حتی کہ میں عمر بن خطاب کی جلائی ہوئی آگ کے پاس سے گزرا جب عمر (رض) نے مجھے دیکھا فورا کھڑے ہوگئے اور کہا : یہ کون ہے ؟ میں نے کہا : میں عباس ہوں عمر (رض) نے جو غور سے دیکھا تو میرے پیچھے ابوسفیان کو بیٹھے دیکھا اور کہا : بخدا یہ تو اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے الحمد للہ ! بغیر کسی عہد اور قرار کے ہاتھ آگیا پھر کیا تھا عمر (رض) نے تلوار سونت لی اور میرے پیچھے ہو لیے جبکہ میں نے خچر کو کو چا دے کر ایڑ لگا دی چنانچہ ہم اکٹھے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے ۔ عمر (رض) میرے پیچھے تھے جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ رہا اللہ اور اس کے رسول کا دشمن بغیر کسی عہد و پیمان کے ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے مجھے چھوڑیئے تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ عباس (رض) کہتے ہیں میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اسے پناہ دے چکا ہوں پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لگا رہا جب عمر (رض) نے زیادہ ہی اصرار کیا میں نے کہا : اے عمر ! رک جاؤ اگر کوئی شخص بنی عدی بن کعب سے ہوتا تم ایسی بات نہ کہتے البتہ یہ بنی عبدمناف میں سے ہے تب تمہیں جرات ہو رہی ہے۔ عمر (رض) نے کہا : اے ابو الفضل ! چھوڑو بخدا ! تمہارا اسلام مجھے خطاب کے کسی بیٹے کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ مجبوب ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے لے چلو میں نے اسے پناہ دے دی میں نے اسے تمہاری وجہ سے پناہ دی ہے اور اسے اپنے پاس رات بسر کراؤ اور صبح دوبارہ ہمارے پاس لاؤ۔ صبح ہوتے ہی حضرت عباس (رض) ابو سفیان کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوں ہی ابو سفیان کو دیکھا فرمایا : افسوس ! اے ابو سفیان ! لاالہ الا اللہ کے اقرار کا ابھی وقت نہیں آیا ؟ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ نہایت ہی حلیم اور کریم اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے ہیں خدا کی قسم اگر اللہ کے سوا اور کوئی معبود ہوتا تو آج ہمارے کچھ کام آتا اور آپ کے مقابلہ میں اس سے مدد چاہتا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افسوس اے ابو سفیان ! کیا تیرے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ تو مجھے اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرے ؟ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں بیشک آپ نہایت حلیم وکریم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ابھی تک مہربانی کر رہے ہیں ابھی مجھے اس میں ذرہ تردد ہے کہ آپ نبی ہیں یا نہیں۔ حضرت عباس (رض) کہتے ہیں ! میں نے ابو سفیان سے کہا : تیرا ناس ہو گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں بخدا قتل کئے جانے سے قبل اس کا اقرار کرلو چنانچہ ابو سفیان ابو سفیان نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ، ورسولہ “۔ عباس (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ ابو سفیان صاحب جاہ اور صاحب شرف سردار ہے اور فخر کو پسند کرتا ہے لہٰذا آپ اس کے لیے کوئی ایسی شیء عطیہ کریں جو اس کے لیے باعث عزت وافتخار ہو آپ نے فرمایا : جی ہاں جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگا وہ امن میں ہوگا اور جو شخص اپنا دروازہ بند رکھے گا وہ بھی امن میں ہوگا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : آپ اسے لے کر گھاٹی میں سرراہ کھڑے ہوجائیں تاکہ یہ اسلامی لشکر کی شان و شوکت دیکھ سکے چنانچہ جب میں ابو سفیان کو لے کر گھاٹی میں اونچی جگہ کھڑا ہو اس نے کہا : اے بنی ہاشم کیا ہم سے دھوکا کرو گے ؟ عباس (رض) نے جواب دیا : جو لوگ نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں وہ دھوکا نہیں کرتے البتہ مجھے تم سے ایک حاجت ہے۔ ابو سفیان نے کہا : اگر ایسی کوئی بات تھی تو مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ، عباس (رض) نے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ تم اس راستے سے گزرتے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کوچ کرنے کا حکم دیا اتنے میں قبائل اپنے قائدین کے ساتھ اور مختلف لشکر اپنے جھنڈوں کے ساتھ امڈ پڑے ۔ سب سے پہلے حضرت خالد بن ولید (رض) ایک ہزار کے لگ بھگ کا دستہ لے کر گزرے حضرت خالد (رض) بنی سلیم پر کمان کر رہے تھے ان کا ایک جھنڈا حضرت عباس بن مرداس (رض) نے اٹھا رکھا تھا اور دوسرا حضرت خفاف بن ندیہ (رض) نے اٹھا رکھا تھا تیسرا جھنڈا حجاج بن علاط (رض) نے اٹھایا ہوا تھا ابو سفیان نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ عباس (رض) نے جواب دیا ، یہ خالد بن ولید ہے ابو سفیان نے کہا : یہ لڑکا فرمایا جی ہاں ۔ جب حضرت خالد (رض) عباس (رض) اور ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ان کے دستے نے تین مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر آگے چل پڑے پھر ان کے بعد حضرت زبیر بن عوام (رض) پانچ سو کا دستہ لے کر گزرے ان میں مہاجرین اور مضافات کے لوگ شامل تھے ان کے پاس سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جب ابو سفیان کے پاس سے دستہ گزرنے لگا تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا ابو سفیان نے کہا : یہ کون ہے عباس (رض) نے کہا : یہ زبیر بن عوام (رض) ابو سفیان نے کہا : یہ تمہارا بھانجا ہے فرمایا : جی ہاں پھر قبیلہ غفارکا دستہ گزرا اور یہ آٹھ سو افراد تھے ان کا جھنڈا حضرت ابو ذر غفاری (رض) نے اٹھا رکھا تھا جب یہ دستہ ابو سفیان کے پاس سے گزرا اس نے بھی تین بار نعرہ تکبیر لگایا اور پھر آگے نکل گیا ابوسفیان نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ عباس (رض) نے جواب دیا : یہ بنو غفار ہیں ابو سفیان نے کہا : مجھے ان سے کیا غرض : پھر قبیلہ اسلم گزرا یہ دستہ چار نفوس پر مشتمل تھا ان کے پاس دو جھنڈے تھے ایک جھنڈا بریدہ بن خصیب (رض) نے اٹھا رکھا تھا اور دوسرا ناجیہ بن عجم (رض) نے جب یہ دستہ ابو سفیان کے قریب پہنچا اس نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا ابو سفیان نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ عباس (رض) نے کہا : یہ قبیلہ اسلم ہے ابو سفیان نے کہا : اے ابو فضل مجھے قبیلہ اسلم سے کیا غرض میری ان کے ساتھ کوئی کھنڈت نہیں عباس (رض) نے کہا یہ مسلمان لوگ ہیں جو اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ پھر بنوکعب کا پانچ سو افراد کا دستہ گزرا ان کا جھنڈا بشر بن شیبان نے اٹھا رکھا تھا پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : یہ بنوکعب بن عمرو ہیں کہا : جی ہاں یہ محمد کے حلیف لوگ ہیں جب یہ دستہ ابو سفیان کے قریب پہنچا اس نے بھی تین بار نعرہ تکبیر لگایا ۔ پھر مزنیہ کا دستہ گزرا یہ دستہ ایک ہزار سپاہیوں پہ مشتمل تھا ان کے پاس تین جھنڈے تھے اور سو کے لگ بھگ گھوڑے تھے ایک جھنڈا نعمان بن مقرن نے دوسرا بلال بن حارثنی اور تیسرا عبداللہ بن عمر (رض) نے اٹھا رکھا تھا جب یہ لوگ ابو سفیان کے محاذی ہوئے انھوں نے بھی نعرہ تکبیر لگایا پوچھا یہ کون لوگ ہیں فرمایا : یہ قبیلہ مزینہ کے لوگ ہیں ابو سفیان نے کہا : اے ابو فضل مجھے مزینہ سے کیا غرض : یہ اپنا پورا جمگھٹا لے آچکے ہیں پھر جہنیہ کا دستہ گزرا جو آٹھ سو نفوس پر مشتمل تھا ان میں چار جھنڈے تھے ایک جھنڈا ابو زرعہ معبد بن خالد کے پاس تھ دوسر سوید بن صخر کے پاس تیسر رافع بن مکیث کے پاس چوتھا عبدا اللہ بن بدر کی پاس جب یہ لوگ ابو سفیان کے محاذی ہوئے انھوں نے بھی تین بار بار آواز بلند نعرہ تکبیر لگایا ۔ پھر کنایہ بنولیث ضمرہ اور سعد بن بکر دو سو کے دستہ میں گزرے ان کا جھنڈا حضرت ابو واقدلیثی (رض) نے اٹھا رکھا تھا جب یہ دستہ ابو سفیان نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں یہ نحوست والے لوگ ہیں انہی کی وجہ سے تجھ سے ہمارے اوپر چڑھائی کی ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا : بخدا ! اس کے متعلق مجھ سے نہ مشورہ لیا گیا اور نہ ہی میں اسے ناپسند کرتا ہوں لیکن یہ ایک معاملہ ہے جو تقدیر میں لکھاجا چکا ہے حضرت عباس (رض) نے کہا اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے پر چڑھایا ہے اور تم سبھی اسلام میں داخل ہوئے ہو۔ واقدی عبداللہ بن عامر ابو عمرو بن حماس سے مروی ہے کہ پھر بنولیث گزرے ان کی تعداد دو سو پچاس (250) تھی ان کی جھنڈا صعب بن جثامہ (رض) نے اٹھا رکھا تھا جب یہ دستہ ابو سفیان کے پاس سے گزرا اس نے بھی تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا : ابو سفیان نے کہا یہ کون لوگ ہیں عباس (رض) نے کہا یہ بنولیث ہیں پھر قبیلہ اتجع گزرا یہ آخری دستہ تھا س میں تین سو نفوس شامل تھے ان کا جھنڈا معقل بن سنان (رض) نے اٹھا رکھا تھا دوسرا جھنڈا نعیم بن مسعود (رض) کے پاس تھا ابوسفیان نے کہا یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عرب بھر میں سب سے زیادہ مخالف تھے عباس (رض) نے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے دلوں میں اسلام ڈال دیا ہے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فضل ہے ابو سفیان نے کہا : ابھی تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں آئے ؟ عباس (رض) نے کہا : اگر تم اس دستہ کو دیکھ لو جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو تم اسلحہ گھوڑے اور بےمثال مردوں کو دیکھو گے جس کی طاقت کی مثال کہیں نہیں ملتی ابو سفیان نے کہا : میرا خیال ہے کہ یہ طاقت کسی کے پاس نہیں ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دستہ نمودار ہوا تو یوں لگا جیسے طوفان بلاخیز امڈ آیا ہو گھوڑے غبار اڑتے ہوئے چلے آرہے تھے چنانچہ جو شخص بھی گزرا ابوسفیان کہتا : محمد نہیں گزرے ؟ عباس (رض) کہتے ہیں حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار تشریف لائے آپ کے ایک طرف ابوبکر (رض) اور دوسری طرف اسید بن حضیر (رض) تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں سے باتیں کر رہے تھے حضرت عباس (رض) نے کہا : یہ ہیں رسول اللہ ان کے دستہ میں مہاجرین و انصار ہیں یہ دستہ چاق وچوبند دستہ ہے اور لوہے کی دیوار کی مانند ہے حضرت عمر (رض) بھی اسی دستے میں تھے انھوں نے زرہ پہن رکھی تھی اور گرجدار آواز سے باتیں کر رہے تھے ابو سفیان نے کہا : اے ابو فضل ! یہ باتیں کون کررہا ہے جواب دیا یہ عمر بن خطاب (رض) ہیں ابو سفیان نے کہا : بنو عدی کی شان و شوکت بڑھ گئی ہے حالانکہ ان کا قبیلہ قلیل اور بےمقام بےمرتبہ تھا عباس (رض) نے کہا : اے ابوسفیان اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بلندی عطا کرتا ہے عمر بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اسلام نے عزت و شوکت عطا کی ہے۔ اس دستے میں دو ہزار زرہ پوش تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ (رض) کو دیا ہوا تھا اور سعد (رض) دستے کے آگے آگے جا رہے تھے جب حضرت سعد (رض) ابوسفیان کے پاس سے گزرے آواز دی : اے ابو سفیان ! آج کا دن لڑائی کا دن ہے آج کعبہ میں قتل و قتال حلال ہوگیا آج کے دن اللہ تعالیٰ قریش کو ذلیل ورسوا کرے گا چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوسفیان کے پاس سے گزرے ابوسفیان نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے اپنی قوم کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ؟ چونکہ سعد اور ان کے ساتھیوں کا یہی خیال ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی وہی حضرت سعد والی بات کہی کہ اے ابوسفیان آج لڑائی کا دن ہے آج کے دن کعبہ میں قتل و قتال حلال ہے آج اللہ تعالیٰ قریش کو ذلیل ورسوا کرے گا ابوسفیان نے کہا میں آپ کو اپنی قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سعد پر اعتماد نہیں وہ قریش پر حملہ کر دے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوسفیان آج کا دن رحمت و مہربانی کا دن ہے آج کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ قریش کو عزت دے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیغام بھیج کر حضرت سعد (رض) کو معزول کردیا اور جھنڈا ان سے لے کر حضرت قیس (رض) کو دے دیا جب سعد (رض) کو جھنڈا سپرد کرنے کا حکم ملا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاصد سے انکار کردیا اور کہا میں جھنڈا تب دوں گا جب میں کوئی نشانی دیکھوں گا تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا عمامہ بھیجا حضرت سعد (رض) نے عمامہ دیکھ کر جھنڈا اپنے بیٹے قیس (رض) کو دے دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30173- "أيضا" الواقدي حدثني عبد الله بن جعفر قال: سمعت يعقوب بن عتبة يخبر عن عكرمة عن ابن عباس قال: لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمر الظهران قال العباس بن عبد المطلب: واصباح قريش والله لئن دخلها رسول الله صلى الله عليه وسلم عنوة إنه لهلاك قريش آخر الدهر قال: فأخذت بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم الشهباء، فركبتها وقال: التمس خطابا أو إنسانا ابعثه إلى قريش يتلقون رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن يدخلها عليهم عنوة قال: فوالله إني لفي الأراك أبتغي إنسانا إذ سمعت كلاما يقول: والله إن رأيت كالليلة في النيران قال يقول بديل بن ورقاء: هذه والله خزاعة حاشتها الحرب، قال أبو سفيان: خزاعة أقل وأذل من أن تكون هذه نيرانهم وعشيرتهم، قال: فإذا بأبي سفيان فقلت أبا حنظلة فقال: يا لبيك أبا الفضل، وعرف صوتي مالك فداك أبي وأمي فقلت: ويلك هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في عشرة آلاف فقلت: بأبي أنت وأمي ما تأمرني هل من حيلة؟ قلت: نعم تركب عجز هذه البغلة فأذهب بك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنه والله إن ظفر بك دون رسول الله صلى الله عليه وسلم لتقتلن. قال أبو سفيان: وأنا والله أرى ذلك قال: ورجع بديل وحكيم، ثم ركب خلفي، ثم وجهت به كلما مررت بنار من نار المسلمين قالوا: من هذا؟ فإذا رأوني قالوا: عم رسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلته حتى مررت بنار عمر بن الخطاب، فلما رآني قام فقال: من هذا؟ فقلت العباس قال: فذهب ينظر فرأى أبا سفيان خلفي فقال: أبا سفيان عدو الله الحمد لله الذي أمكن منك بلا عهد ولا عقد، ثم خرج نحو رسول الله صلى اله عليه وسلم يشتد وركضت البغلة حتى اجتمعنا جميعا على باب قبة النبي صلى الله عليه وسلم. قال: فدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم ودخل عمر على أثرى فقال عمر: يا رسول الله هذا أبو سفيان عدو الله قد أمكن الله منه بلا عهد ولا عقد فدعني أضرب عنقه، قال قلت: يا رسول الله إني قد أجرته قال: ثم لزمت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: والله لا يناجيه أحد الليلة دوني فلما أكثر عمر فيه قلت: مهلا يا عمر فإنه والله لو كان رجل من بني عدي بن كعب ما قلت هذا ولكنه أحد بني عبد مناف فقال عمر: مهلا يا أبا الفضل فوالله لإسلامك كان أحب إلي من إسلام رجل من ولد الخطاب لو أسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذهب به فقد أجرته لك فليبت عندك، حتى تغدو به علينا، فلما أصبحت غدوت به فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ويحك أبا سفيان ألم يأن لك أن تعلم أن لا إله إلا الله؟ قال: بأبي أنت ما أحلمك وأكرمك وأعظم عفوك قد كان يقع في نفسي أن لو كان مع الله إله آخر لقد أغنى شيئا بعد قال: يا أبا سفيان ألم يأن لك أن تعلم أني رسول الله؟ قال: بأبي أنت وأمي ما أحلمك وأكرمك وأعظم عفوك، أما هذه فوالله إن في النفس منها لشيئا بعد فقال العباس: فقلت: ويحك اشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله قبل، والله، أن تقتل قال: فتشهد شهادة الحق فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله. فقال العباس: يا رسول الله إنك قد عرفت أبا سفيان وحبه الشرف والفخر اجعل له شيئا قال: نعم من دخل دار أبي سفيان فهو آمن، ومن أغلق داره فهو آمن، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بعد ما خرج: احبسه بمضيق الوادي إلى خطم الجبل حتى تمر به جنود الله فيراها، قال العباس: فعدلت به في مضيق الوادي إلى خطم الجبل، فلما حبست أبا سفيان قال: غدرا يا بني هاشم فقال العباس: إن أهل النبوة لا يغدرون ولكن لي إليك حاجة فقال أبو سفيان: فهلا بدأت بها أولا فقلت: إن لي إليك حاجة فكان أفرغ لروعي. قال العباس: لم أكن أراك تذهب هذا المذهب وعبى رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه ومرت القبائل على قادتها والكتائب على راياتها، فكان أول من قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد في بني سليم وهم ألف فيهم لواء يحمله العباس بن مرداس ولواء يحمله خفاف بن ندبة، وراية يحملها الحجاج بن علاط، قال أبو سفيان: من هؤلاء؟ قال العباس: خالد بن الوليد قال الغلام؟ قال: نعم فلما حاذى خالد العباس وإلى جنبه أبو سفيان كبروا ثلاثا، ثم مضوا، ثم مر على أثره الزبير بن العوام في خمسمائة منهم مهاجرون وأفناء الناس ومعه راية سوداء، فلما حاذى أبا سفيان كبر ثلاثا وكبر أصحابه فقال: من هذا؟ قال الزبير بن العوام قال ابن أختك؟ قال: نعم، ومرت نفر من غفار في ثلاثمائة يحمل رايتهم أبو ذر الغفاري ويقال إيماء بن رحضة، فلما حاذوه كبروا ثلاثا قال: يا أبا الفضل من هؤلاء؟ قال بنو غفار قال: مالي ولبني غفار، ثم مضت أسلم في أربعمائة فيها لواءان؟ يحمل أحدهما بريدة بن الخصيب والآخر ناجية بن الأعجم، فلما حاذوه كبروا ثلاثا فقال: من هؤلاء؟ قال: أسلم، قال: يا أبا الفضل مالي ولأسلم ما كان بيننا وبينها ترة قط قال العباس: هم قوم مسلمون دخلوا في الإسلام. ثم مرت بنو كعب بن عمرو في خمسمائة يحمل رايتهم بشر بن شيبان قال: من هؤلاء قال: بنو كعب بن عمرو، قال: نعم هؤلاء حلفاء محمد، فلما حاذوه كبروا ثلاثا، ثم مرت مزينة في ألف فيها ثلاثة ألوية وفيها مائة فرس يحمل ألويتها النعمان بن مقرن وبلال بن الحارث وعبد الله بن عمرو، فلما حاذوه كبروا فقال: من هؤلاء؟ قال مزينة قال: يا أبا الفضل مالي ولمزينة قد جاءتني تقعقع من شواهقها، ثم مرت جهينة في ثمانمائة مع قادتها فيها أربعة ألوية لواء مع أبي زرعة معبد بن خالد، ولواء مع سويد بن صخر، ولواء مع رافع بن مكيث، ولواء مع عبد الله بن بدر، فلما حاذوه كبروا ثلاثا، ثم مرت كنانة بنو ليث وضمرة وسعد بن بكر في مائتين يحمل لواءهم أبو واقد الليثي فلما حاذوه كبروا ثلاثا، فقال: من هؤلاء؟ قال بنو بكر قال: نعم أهل شؤم والله هؤلاء الذين غزانا محمد بسببهم، أما والله ماشوورت فيه ولا علمته ولقد كنت له كارها حيث بلغني ولكنه أمر حم قال العباس: قد خار الله لك في غزو محمد صلى الله عليه وسلم لكم ودخلتم في الإسلام كافة، قال الواقدي: حدثني عبد الله بن عامر عن أبي عمرو بن حماس قال: مرت بنو ليث وحدها وهم مائتان وخمسون يحمل لواءها الصعب بن جثامة، فلما مروا كبروا ثلاثا فقال: من هؤلاء؟ قال بنو ليث ثم مرت أشجع وهم آخر من مر وهم في ثلاثمائة معهم لواء يحمله معقل بن سنان ولواء مع نعيم بن مسعود فقال أبو سفيان: هؤلاء كانوا أشد العرب على محمد صلى الله عليه وسلم، فقال العباس: ادخل الله الإسلام قلوبهم، فهذا من فضل الله فسكت ثم قال: ما مضى بعد محمد؟ قال العباس: لم يمض بعد لو رأيت الكتيبة التي فيها محمد صلى الله عليه وسلم رأيت الحديد والخيل والرجال: وما ليس لأحد به طاقة قال: أظن والله يا أبا الفضل، ومن له بهؤلاء طاقة؟ فلما طلعت كتيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم الخضراء طلع سواد وغبرة من سنابك الخيل، وجعل الناس يمرون كل ذلك يقول ما مر محمد؟ فيقول العباس: لا حتى مر يسير على ناقته القصواء بين أبي بكر وأسيد بن حضير وهو يحدثهما، فقال العباس: هذا رسول الله في كتيبته الخضراء فيها المهاجرون والأنصار فيها الرايات والألوية مع كل بطل من الأنصار راية ولواء في الحديد لا يرى منه إلا الحدق، ولعمر بن الخطاب فيها زجل وعليه الحديد بصوت عال وهو يزعها، فقال أبو سفيان: يا أبا الفضل من هذا المتكلم؟ قال عمر بن الخطاب قال: لقد أمر أمر بني عدي بعد والله قلة وذلة فقال العباس: يا أبا سفيان إن الله يرفع من يشاء بما يشاء، وإن عمر ممن رفعه الإسلام وقال في الكتيبة ألفا درع وأعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم رايته سعد بن عبادة فهو أمام الكتيبة، فلما مر سعد براية النبي صلى الله عليه وسلم نادى يا أبا سفيان اليوم يوم الملحمة، اليوم تستحل الحرمة، اليوم أذل الله قريشا فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا حاذى أبا سفيان ناداه: يا رسول الله أمرت بقتل قومك؟ زعم سعد ومن معه حين مر بنا فقال: يا أبا سفيان اليوم يوم الملحمة اليوم تستحل الحرمة، اليوم أذل الله قريشا، وإني أنشدك الله في قومك فأنت أبر الناس وأوصل الناس، قال عبد الرحمن بن عوف وعثمان بن عفان: يا رسول الله ما نأمن سعدا أن يكون منه في قريش صولة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا سفيان اليوم يوم المرحمة اليوم أعز الله فيه قريشا قال: وأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى سعد فعزله وجعل اللواء إلى قيس، ورأى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن اللواء لم يخرج من سعد حين صار لابنه فأبى سعد أن يسلم اللواء إلا بالأمارة من النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إليه بعمامته فعرفها سعد فدفع اللواء إلى ابنه قيس.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30174 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ جب فتح مکہ والے سال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرا الظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ کے پاس حضرت عباس (رض) ابوسفیان کو لے کر آئے ابوسفیان نے یہیں اسلام قبول کیا پھر عباس (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوسفیان قوم کا سردار ہے اور فخر کو پسند کرتا ہے اگر آپ اسے کوئی ایسی چیز دے دیں جو اس کے لیے باعث فخر ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن میں ہوگا اور جو شخص اپنا دروازہ بند کر دے گا وہ بھی امن ہیں ہوگا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30174- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح لما جاءه العباس بن عبد المطلب بأبي سفيان فأسلم بمر الظهران فقال العباس: يا رسول الله إن أبا سفيان رجل يحب الفخر، فلو جعلت له شيئا؟ قال: نعم من دخل دار أبي سفيان فهو آمن، ومن أغلق بابه فهو آمن. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30175 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے لیے تشریف لائے جبکہ رمضان کے دن دن گزر چکے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کعبہ میں داخل ہونا :
30175- عن ابن عباس قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح لعشر مضت من رمضان. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30176 ۔۔۔ صفیہ بنت شیبہ کی روایت ہے کہ بخدا ! جب صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے تھے مجھے یوں لگتا ہے گویا میں آپ کو دیکھ رہی ہوں چنانچہ آپ کعبہ سے باہر تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں کبوتر کی شکل کی ایک مورت تھی جو لکڑی کی بنی ہوئی تھی آپ نے باہر آکر مورت کو توڑ دیا اور پھر دور پھینک دی۔ (رواہ ابن عساکر)
30176- عن صفية بنت شيبة قالت: والله لكأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الغداة حين دخل الكعبة، ثم خرج منها، ثم وقف على باب الكعبة وأن في يده لحمامة من عيدان وجدها في البيت فخرج بها في يده حتى إذا قام على باب الكعبة كسرها ثم رمى بها. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30177 ۔۔۔ صفیہ بنت شیبہ (رض) روایت کی ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے فتح مکہ کے دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ رہی ہوں اور آپ کے ہاتھوں میں کعبہ کی کنجیاں میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سقایہ اور حجابت (پانی کا کام اور تالا چابی کا شرف ہمیں عطا کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہاں ہے عثمان بن طلحہ ؟ چنانچہ آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ (رض) کو اپنے پاس بلوا کر کنجیاں ان کے حوالے کردیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30177- عن صفية بنت شيبة قالت: إني لأنظر إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة فقام إليه علي بن أبي طالب ومفاتيح الكعبة في يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا نبي الله صلى الله عليه وسلم اجمع لنا الحجابة مع السقاية صلى الله عليك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أين عثمان بن طلحة؟ فدعا له فقال له: ها مفتاحك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30178 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جبکہ آپ کعبہ کے دروازے میں کھڑے تھے آپ نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور لشکروں کو اکیلے اسی نے شکست فاش دی اپنے بندے کی مدد کی ، خبردار ! ہر وہ چیز جس کا جاہلیت میں قابل فخر ہونا اعتبار کیا جاتا تھا وہ آج میرے قدموں تلے ہے البتہ وہ عمل اور وہ چیز جس کا تعلق بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے سے تھا وہ اب بھی باقی ہے خبردار قتل عمد اور قتل خطاء کے درمیان ڈندے اور پتھر سے بھی قتل ہوتا ہے ایسی صورت میں قاتل مقتول کے ورثاء کو سو اونٹ بطور دیت دے گا ان میں سے چالیس اونٹ ایسے ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
30178- عن ابن عمر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو على درج الكعبة وهو يقول: الحمد لله الذي أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده ألا إن كل مأثرة كانت في الجاهلية فإنها تحت قدمي اليوم إلا ما كانت من سدانة البيت وسقاية الحاج، ألا وإن ما بين العمد والخطأ القتل بالسوط والحجر فيهما مائة بعير منها أربعون في بطونها أولادها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30179 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو اوپر سے داخل ہوئے اور جاتے وقت نیچے سے گئے ۔ (رواہ البزار)
30179- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما جاء مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها.

"ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30180 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو عورتیں چادریں گھوڑوں کے منہوں پر مارنے لگیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی طرف رخ انور کرکے مسکرانے لگے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : حسان نے کیا خوب کہا ہے پھر یہ اشعار پڑھے : عدمنا خیلنا ان لم تردھا تشیرالنقع موعدھا کداء یناز عن الأعنۃ مصعدات ویلطمھن بالخمر النساء : ہم گھوڑوں سے آگے نکل جائیں گے اگر انھیں روکا نہ گیا گھوڑے گردو غبار اڑاتے آرہے ہیں اور ان کی گزرگاہ مقام کداء ہے تیر گھوڑوں کے لیے رکاوٹ ہیں اور وہ اوپر چڑھ رہے ہیں جبکہ عورتیں انھیں چادروں سے مار رہیں ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکہ میں اسی راستے سے داخل ہو جس کا حسان نے کہا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام کداء سے داخل ہوئے ۔ (رواہ ابن جریر)
30180- عن ابن عمر قال: لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة جعل النساء يلطمن وجوه الخيل بالخمر فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر فقال: كيف قال حسان؟ فأنشده:

عدمنا خيلنا إن لم تردها ... تثير النقع موعدها كداء

ينازعن الأعنة مصعدات ... ويلطمهن بالخمر النساء

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخلوها من حيث قال حسان، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم من كداء. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30181 ۔۔۔ ام عثمان بنت سفیان جو کہ شیبہ کے بڑے بڑے بیٹوں کی ماں ہے نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کرنی تھی ان کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شیبۃ کو بلایا شیبہ نے کعبہ کا دروازہ کھولا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندر داخل ہوئے رکوع کرکے واپس لوٹ آئے اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ساتھی آیا آپ نے فرمایا : میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اور میں نے اسے غائب کردیا ہے چونکہ بیت اللہ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نماز کو غافل کرتی ہو ۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن عساکر)
30181- عن أم عثمان بنت سفيان وهي أم بني شيبة الأكابر وقد بايعت النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا شيبة ففتح فلما دخل البيت ركع ورجع إذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أجب فأتاه فقال: إني رأيت في البيت قرنا فغيبته، فإنه لا ينبغي أن يكون في البيت شيء يلهي المصلي. "خ" في تاريخه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30182 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ جب فتح مکہ کی رات ہوئی تو لوگ مکہ میں داخل ہوئے لوگ برابر تکبیر تہلیل اور طواف میں لگے رہے صبح ہوئی تو ابوسفیان نے اپنی بیوی ھند سے کہا : کیا تم یہ کچھ اللہ کی طرف سے دیکھ رہی ہو ؟ پھر صبح ہوتے ہی ابوسفیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ھند سے کہا تھا کیا تم سمجھتی ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ جی ہاں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ابوسفیان نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں قسم اس ذات کی جس کی ابوسفیان قسم کھاتا ہے میری یہ بات اللہ اور ھند کے سوا کسی نے نہیں سنی ۔ (رواہ ابن عساکر وسندہ صحیح) ۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث سے یہ استدلال قطعا ٹھیک نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فداہ ابی وامی) عالم الغیب تھے جس طرح کہ بعض جھال نے کیا ہے چونکہ یہ معجزہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے نیز آپ کو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آگاہ کردیا تھا ۔
30182- عن سعيد بن المسيب قال: لما كان ليلة دخل الناس مكة ليلة الفتح لم يزالوا في تكبير وتهليل وطواف بالبيت حتى أصبحوا فقال أبو سفيان لهند: أترين هذا من الله؟ ثم أصبح فغدا أبو سفيان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: قلت لهند أترين هذا من الله؟ نعم هو من الله؟ فقال أبو سفيان: أشهد أنك عبد الله ورسوله والذي يحلف به أبو سفيان ما سمع قولي هذا أحد من الناس إلا الله وهند. "كر"؛ وسنده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30183 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے موقع پر مدینہ سے آٹھ ہزار یا دس ہزار کے لشکر جرار کے ہمراہ نکلے تھے ؟ ان میں دو ہزار اہل مکہ بھی شامل تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30183- عن سعيد بن المسيب قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح من المدينة بثمانية آلاف أو عشرة آلاف ومن أهل مكة بألفين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30184 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن حضرت بلال (رض) نے کعبہ کے اوپر کھڑے ہو کر اذان دی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30184- عن عروة أن بلالا أذن يوم الفتح فوق الكعبة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30185 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعرانہ سے عمرہ کیا جب آپ عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو مکہ کا نائب مقرر کیا اور انھیں حکم دیا کہ لوگوں کو حج کے مناسک کی تعلیم دو اور لوگوں میں اعلان کرو کہ اس سال جو شخص حج کرے گا وہ امن میں ہوگا اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی شخص عریاں ہو کر طواف کرسکتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30185- عن عروة " أن النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر عام الفتح من الجعرانة، فلما فرغ من عمرته استخلف أبا بكر على مكة، وأمره أن يعلم الناس المناسك، وأن يؤذن في الناس، من حج العام فهو آمن، ولا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30186 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں غنائم تقسیم کیے حضرت عباس بن مرداس (رض) نے یہ اشعار کہے : اتجعل نھبی ونھب عبید بیت عیینۃ والاقرع وما کان حصن ولا حابس یفوقان مرداس فی المجمع وقد کنت فی الحرب ذا بدری فلم اعط شیاء ولم امنع وما کنت دون امریء منھما ومن تضع الیوم لا یرفع : ترجمہ : ۔۔۔ کیا آپ میرے تاخت و تاراج کو ان غلاموں کے برابر قرار دیں گے جو عیینہ اور اقرع کے درمیان لوٹ مار مچاتے تھے ۔ حالانکہ معرکہ میں مرداس پر نہ حصن کو فوقیت تھی اور نہ حابس کو جبکہ میں جنگ میں قوت ومدافعت والا ہوں پر مجھے کچھ دیا گیا اور نہ روکا گیا اور میں ان دونوں آدمیوں سے کم نہیں تھا لیکن آج جس شخص کو مرتبہ اور مقام گھٹا دیا گیا اس کا مقام پھر کبھی بلند نہیں ہوسکتا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! جاؤ اور اس کی زبان کاٹ دو حضرت بلال (رض) ان کی طرف اٹھ کر چل دیئے اور عباس بن مرداس (رض) دہائیاں دینے لگے کہ اے مسلمانو ! اسلام قبول کرنے کے بعد میری زبان کاٹی جائے گی یا رسول اللہ ! آئندہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا جب حضرت بلال (رض) نے عباس بن مرداس (رض) کو دہائیاں دیتے دیکھا کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فی الواقع تمہاری زبان ہی کاٹنے کا حکم نہیں دیا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ ہے کہ میں تمہیں عالیشان جوڑا دے کر تمہاری زبان بند کر دوں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30186- عن عروة لما كان يوم فتح مكة قسم النبي صلى الله عليه وسلم بين الناس قسما فقال العباس بن مرداس:

أتجعل نهبي ونهب العبيـ ... ـد بين عيينة والأقرع

وما كان حصن ولا حابس ... يفوقان مرداس في المجمع

وقد كنت في الحرب ذا تدرأ ... فلم أعط شيئا ولم أمنع

وما كنت دون امرئ منهما ... ومن تضع اليوم لا يرفع

فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب يا بلال فاقطع لسانه، فذهب بلال فجعل يقول: يا معشر المسلمين أيقطع لساني بعد الإسلام يا رسول الله لا أعود أبدا، فلما رأى بلال جزعه قال: إنه لم يأمرني أن أقطع لسانك أمرني أن أكسوك وأعطيك شيئا. "كر"
tahqiq

তাহকীক: