কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০১৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30147 ۔۔۔ رفاعہ بن عرابہ جبنی کی روایت ہے کہ جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام کدید پہنچے تو کچھ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت چاہنے لگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اجازت دیتے رہے اور فرمایا : اس درخت کا کیا حال ہے جو اللہ کے رسول کے قریب ہے وہ غم سے نڈھال ہے اس کے بعد ہم نے جسے بھی دیکھا وہ رو رہا تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا : جو شخص بھی آپ سے اجازت چاہے وہ بیوقوف ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں قسم کھاتا ہوں آپ جب قسم اٹھاتے یوں کہتے قسم اس ذات کی جس کی قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے تم میں سے جو شخص بھی دولت ایمان سے بہرہ مند ہو اور پھر وہ درستی پہ رہے جنت میں جائے گا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا اور انھیں کوئی عذاب نہیں ہوگا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو گے جب تک تم جنت کا حق نہیں ادا کرو گے یہی حال تمہاری بیویوں اور اولاد کا ہے پھر جب نصف رات یا تہائی رات گذر چکی فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ اس وقت آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے جو شخص بھی مانگتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں جو بھی مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں جو بھی مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے میں اس کی بخشش کرتا ہوں حتی کہ اسی حال میں فجر ہوجاتی ہے (رواہ احمد بن حنبل والدارمی وابن خزیمہ وابن حبان والطبرانی)
30147- عن رفاعة بن عرابة الجهني قال: أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا بالكديد - أو قال: بقديد - وجعل رجال منا يستأذنون إلى أهاليهم، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأذن لهم وقال: ما بال شق الشجرة الذي يلي رسول الله أبغض إليكم من الشق الآخر؟ فلم نر بعد ذلك من القوم إلا باكيا، فقال أبو بكر: إن الذي يستأذنك في شيء بعدها لسفيه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه وقال: أشهد عند الله، وكان إذا حلف قال: والذي نفس محمد بيده ما منكم من أحد يؤمن بالله ثم يسدد إلا سلك به في الجنة، ولقد وعدني ربي أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب، وإني لأرجو أن لا يدخلوها حتى تتبوؤا أنتم ومن صلح من أزواجكم وذرياتكم مساكن في الجنة ثم قال: إذا مضى نصف الليل - أو قال - ثلثاه - ينزل الله تعالى إلى سماء الدنيا فيقول: لا أسأل عن عبادي أحدا غيري، من ذا الذي يسألني أعطيه من ذا الذي يدعوني أستجيب له؟ من ذا الذي يستغفرني أغفر له حتى ينصدع الفجر. "حم" والدارمي وابن خزيمة، "حب، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30148 ۔۔۔ ” مسند سلمہ بن اکوع “ ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : ہم غزوہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سو اونٹوں کا نحر (ذبح) کیا ہم تعداد میں سترا سو (1700) تھے ہمارے پاس اسلحہ اور گھوڑے بھی تھے آپ کے اونٹوں میں ابو جہل کے اونٹ بھی تھے آپ حدیبیہ جا اترے وہیں قریش نے صلح کی کہ یہی جگہ بدیوں کے ذبح کرنے کا مقام ہے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30148- "من مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة الحديبية فنحر مائة بدنة ونحن سبع عشرة مائة ومعهم عدة السلاح والرجال والخيل وكان في بدنه جمل أبي جهل فنزل الحديبية، فصالحته قريش على أن هذا الهدي محله حيث حبسناه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30149 ۔۔۔ ایاس بن سلمہ اپنے والد حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو حویطب بن عبدالعزی اور مکرز بن سلمہ اپنے والد حضرت سلمہ بن حفص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا تاکہ آپ سے صلح کریں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو دیکھا کہ ان میں سہیل بھی ہے تو فرمایا : مشرکین نے تمہارے معاملے کو اور آسان کردیا ہے تمہارے پاس رشتہ داری کا واسطہ لے کر صلح کرنے آئے ہیں لہٰذا قربانی کے اونٹوں کو اٹھاؤ اور زور زور سے تلبیہ کہو شاید یوں ان کے دل نرم ہوجائیں چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے تلبیہ کیا جس سے مضافات کی پہاڑیاں گونج اٹھیں چنانچہ یہ لوگ آئے اور صلح کی درخواست کی چنانچہ لوگ سی لے دے میں مصروف تھے کہ مسلمانوں میں بھی کچھی مشرکین تھے اور مشرکین میں بھی کچھ مسلمان تھے ابو سفیان نے معاہدہ توڑا یکایک دیکھتے ہیں کہ وادی جنگجوؤں اور اسلحہ سے اٹی پڑی ہے سلمہ (رض) کہتے ہیں میں چھ مشرکین کو ہانکتے ہوئے لے آیا جب کہ وہ مسلح تھے وہ اپنے نفع و نقصان سے یکسر بےنیاز تھے میں انھیں ہانکتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے سازو سامان چھینا اور نہ انھیں قتل کیا بلکہ معاف کردیا ہم چھینٹا مار کر مشرکین کے قبضے سے مسلمانوں کو چھڑا لائے ان کے قبضے میں ایک مسلمان بھی نہ چھوڑا پھر قریش نے سہیل بن عمرو او 3 ر حویطب بن عبدالعزی کو صلح کے لیے بھیجا جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) اور حضرت طلحہ (رض) کو صلح کے لیے بھیجا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے صلح نامہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا۔ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) یہ وہ معاہدہ ہے جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ساتھ صلح کی ہے ان شرائط پر کہ دھوکا وہی اور چوری چکاری نہیں ہوگی یہ ک محمد کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص حج کرنے یا عمرہ کرنے یا تجارت کی غرض سے مکہ آئے وہ امن میں ہوگا اس کی جان اور اس کا مال محفوظ ہوگا قریش میں سے کوئی شخص اگر محمد کے جپ اس چلا جائے اسے واپس کیا جائے گا اور محمد کے ساتھیوں سے کوئی شخص قریش کے پاس آجائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا اس شرط پر مسلمانوں کا غصہ دوبالا ہوگیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم میں سے جو شخص قریش کے ساتھ جا ملے اللہ تبارک وتعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کرے اور ان میں سے جو شخص ہمارے پاس آجائے ہم اسے واپس کردیں گے چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اسلام کو غالب اور نمایاں کرنا چاہتا ہے نیز صلح نامہ میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اس سال واپس چلے جائیں اور آئندہ سال عمرہ کے لیے آئیں اور اسی مہینہ میں آئیں ہمارے پاس گھوڑوں پر سوار اور مسلح ہو کر نہ آئیں البتہ مسافر جتنا سامان ساتھ رکھ سکتے ہیں تین دن تک رہیں پھر واپس چلے جائیں یہ کہ ذبح کے اونٹوں کے لیے یہی جگہ ہو ہمارے پاس نہ لائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم اونٹوں کو ہانکتے ہیں تم انھیں آگے سے واپس کرنا چاہتے ہو ۔
30149- عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى ومكرز بن حفص إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصالحوه، فلما رآهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم سهيل قال: قد سهل من أمركم القوم يأتون إليكم بأرحامكم وسائلوكم الصلح: فابعثوا الهدي وأظهروا بالتلبية لعل ذلك يلين قلوبهم فلبوا من نواحي العسكر حتى ارتجت أصواتهم بالتلبية، فجاؤه فسألوه الصلح، فبينما الناس قد توادعوا وفي المسلمين ناس من المشركين وفي المشركين ناس من المسلمين، ففتك أبو سفيان فإذا الوادي يسيل بالرجال والسلاح قال سلمة: فجئت بستة من المشركين مسلحين أسوقهم ما يملكون لأنفسهم نفعا ولا ضرا فأتينا بهم النبي صلى الله عليه وسلم فلم يسلب ولم يقتل وعفا، فشددنا على ما في أيدي المشركين منا فما تركنا فيهم رجلا منا إلا استنقذناه، وغلبنا على من في أيدينا منهم، ثم إن قريشا أتت سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى فولوا صلحهم، وبعث النبي صلى الله عليه وسلم عليا وطلحة فكتب علي بينهم: بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا صالحهم على أنه لا إغلال، ولا إسلال1، وعلى أنه من قدم مكة من أصحاب محمد حاجا أو معتمرا أو يبتغي من فضل الله فهو آمن على دمه وماله، ومن قدم المدينة من قريش مجتازا إلى مصر وإلى الشام يبتغي من فضل الله فهو آمن على دمه وماله، وعلى أنه من جاء محمدا من قريش فهو رد، ومن جاءهم من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فهو لهم، فاشتد ذلك على المسلمين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من جاءهم منا فأبعده الله ومن جاءنا منهم رددناه إليهم يعلم الله الإسلام من نفسه يجعل الله له مخرجا وصالحوه على أنه يعتمر عاما قابلا في مثل هذا الشهر لا يدخل علينا بخيل ولا سلاح إلا ما يحمل المسافر في قرابه فيمكثوا فيها ثلاث ليال، وعلى أن هذا الهدي حيث حبسناه فهو محله لا يقدمه علينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نحن نسوقه وأنتم تردون وجهه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30150 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) روایت کی ہے کہ کہ صلح حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو یا تیرہ سو تھی اس دن قبیلہ اسلم مہاجرین کا اٹھوں حصہ تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم فی الفرفۃ)
30150- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: كنا يوم الشجرة ألفا وأربعمائة أو ألفا وثلاثمائة، وكانت أسلم يومئذ ثمن المهاجرين. "ش" وأبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30151 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صلح کی ان میں سے ایک سہیل بن عمرو بھی تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھو : بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل نے کہا : ہم نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے وہی لکھو جو ہم جانتے ہیں یعنی ” باسمک اللہم “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھ : محمد رسول اللہ کی جانب سے قریش نے کہا : اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانتے آپ کا اعتبار کرلیتے البتہ اس کی بجائے محمد بن عبداللہ لکھو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : محمد بن عبداللہ قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ شرط عائد کی کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا ہم اسے واپس نہیں کریں گے اور جو شخص ہم میں سے آپ کے پاس چلا جائے گا آپ اسے واپس کرنے کے مجاز ہوں گے صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم یہ شرط بھی لکھ دیں ؟ فرمایا جی ہاں ہم میں سے جو شخص ان کے پاس چلا جائے اسے اللہ تعالیٰ دور کرے اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے تو عنقریب اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30151- عن أنس أن قريشا صالحوا النبي صلى الله عليه وسلم منهم سهيل بن عمرو فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعلي: أكتب بسم الله الرحمن الرحيم فقال سهيل: أما بسم الله الرحمن الرحيم فلا ندري ما بسم الله الرحمن الرحيم ولكن اكتب بما نعرف باسمك اللهم فقال: اكتب من محمد رسول الله، قالوا لو علمنا أنك رسول الله لاتبعناك، ولكن اكتب اسمك واسم أبيك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اكتب من محمد بن عبد الله، فاشترطوا على النبي صلى الله عليه وسلم أن من جاء منكم لم نرده عليكم، ومن جاء منا رددتموه علينا، فقالوا: يا رسول الله أنكتب هذا؟ قال: نعم إنه من ذهب منا إليهم فأبعده الله ومن جاءنا منهم سيجعل الله له فرجا ومخرجا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل عروہ :
30152 ۔۔۔ عروہ روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ اترے قریش میں کھلبلی مچ گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی آدمی کو مکہ بطور ایلچی بھیجنا چاہا آپ نے اس کام کے لیے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اپنے پاس بلایا تاکہ انھیں بھیجیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! میں قریش پر لعنت بھیجتا ہوں بنی کعب کا کوئی شخص مکہ میں نہیں جو مجھے اذیت پہنچانے پر غصہ ہو آپ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو بھیج دیں چونکہ مکہ میں ان کے رشتہ دار ہیں وہ سفارت اچھی طرح سے کریں گے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو بلایا اور انہی کو قریش کی پاس بھیجا اور فرمایا : ان سے جا کر کہو کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے ہم تو عمرہ کے لیے آئے ہیں نیز انھیں اسلام کی دعوت دو اور مکہ میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کے پاس جاؤ انھیں بشارت دو کہ فتح عنقریب نصیب ہونے والی ہے انھیں خبر دو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ عنقریب دین حق کو غالب کر دے گا حتی کہ دین اسلام کا نام لیوا کوئی شخص نہیں چھپے گا ۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) رخصت ہوئے اور مقام بلدح میں قریش کے پاس سے گزرے قریش نے پوچھا کہاں جا رہے ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں دعوت اسلام دوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤں نیز میں تمہیں یہ خبر کرنے آیا ہوں کہ ہم لوگ کسی شخص سے جنگ کرنے نہیں آئے ہم تو عمرہ کے لیے آئے ہیں قریش نے کہا : ہم نے تمہاری بات سن لی اپنا کام کرو اتنے میں امان بن سعید بن العاص کھڑا ہوا عثمان (رض) کو خوش آمدید کہا اپنے گھوڑے پر زین درست کی پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو گھوڑے پر سوار کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پناہ دی اور خود ان کے پیچھے سوار ہوگیا حتی کہ مکہ آن پہنچے پھر قریش نے بدیل بن ورقاء خزاعی اور بنی کنانہ کے ایک شخص کو بھیجا پھر عروہ بن مسعود ثقفی آیا (پھر پوری حدیث ذکر کی) پھر عروہ قریش کے پاس آیا اور کہا : محمد اور اس کے ساتھی عمرہ کے لیے آئے ہیں لہٰذا انھیں بیت اللہ میں عمرہ کے لیے جانے دو پھر قریش نے سہیل بن عمرو ، حویطب بن عبدالعزی اور مکرز بن حفص کو صلح کے لیے بھیجا انھوں نے آکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صلح اور معاہدہ کی دعوت دی جب فریقین ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور مشرکین کے پاس جو مسلمان تھے وہ بھی صلح کے انتظار میں تھے اسی اثناء میں فریقین میں سے کسی شخص نے دوسرے فریق کو تیر مارا اور یوں جنگ چھڑ گئی فریقین ایک دوسرے پر تیر اور پتھر برسانے لگے چنانچہ فریقین نے ایک دوسرے کے ایلچیوں کو گرفتار کرلیا مسلمانوں نے سہیل بن عمرو اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا اور مشرکین نے حضرت عثمان اور ان کے ساتھ جانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو پکڑ لیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو (مرمٹنے کی) بیعت کے لیے بلایا ، ایک منادی نے اعلان کیا کہ جبرائیل امین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ہیں اور آپ کے بیعت کا حکم دیا ہے لہٰذا اللہ کا نام لے کر نکلو اور بیعت کرو مسلمانوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بیعت کے لیے لپک پڑے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے کھڑے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس شرط پر بیعت کی کہ بھاگیں گے نہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مرعوب کیا اور انھوں نے جن مسلمانوں کو گرفتار کرلیا تھا انھیں چھوڑ دیا اور صلح اور معاہدہ کی دعوت دینے لگے ۔ مسلمان کہنے لگے جبکہ وہ حدیبیہ میں تھے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے واپس لوٹنے سے پہلے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) بیت اللہ کی طرف ہم سے نکل کر جا چکے ہیں انھوں نے بیت اللہ کا طواف کرلیا ہوگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا گمان نہیں کہ عثمان نے بیت اللہ کا طواف کیا ہو اور ہم یہاں محصور ہوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں طواف کرنے میں کیا ممانعت ہے حالانکہ وہ بیت اللہ تک پہنچ گئے ہیں فرمایا : میرا گمان ہے کہ وہ طواف نہیں کرے گا تاوقتیکہ ہم سب مل کر طواف نہ کریں حتی کہ جب سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) واپس لوٹے ۔ مسلمانوں نے کہا : اے ابو عبداللہ کیا تم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا ہے ؟ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے جواب دیا : تم لوگ بدگمانی کا شکار ہوئے ہو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں ایک سال تک مکہ میں قیام کئے رہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر بیت اللہ کا طواف نہیں کروں گا حالانکہ مجھے قریش نے طواف کی دعوت دی تھی میں نے طواف کرنے سے انکار کردیا مسلمانوں نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ہم سے زیادہ حسن ظن رکھتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر وابن ابی شیبۃ)
30152- عن عروة في نزول النبي صلى الله عليه وسلم الحديبية قال: وفزعت قريش لنزوله عليهم وأحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبعث إليهم رجلا من أصحابه فدعا عمر بن الخطاب ليبعثه إليهم فقال: يا رسول الله إني لألعنهم وليس أحد بمكة من بني كعب يغضب لي إن أوذيت فأرسل عثمان، فإن عشيرته بها وإنه يبلغ لك ما أردت، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان بن عفان فأرسله إلى قريش وقال: أخبرهم أنا لم نأت لقتال، وإنما جئنا عمارا وأدعهم إلى الإسلام وأمره أن يأتي رجالا من المؤمنين بمكة ونساء مؤمنات فيدخل عليهم ويبشرهم بالفتح ويخبرهم أن الله جل ثناؤه يوشك أن يظهر دينه بمكة حتى لا يستخفى فيها بالإيمان تثبيتا يثبتهم قال: فانطلق عثمان فمر على قريش ببلدح فقالت قريش: أين؟ قال: بعثني رسول الله إليك لأدعوكم إلى الله عز وجل وإلى الإسلام، ونخبركم أنا لم نأت لقتال أحد وإنما جئنا عمارا، فدعاهم عثمان كما أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: قد سمعنا ما تقول فانفذ لحاجتك، وقام إليه أبان بن سعيد بن العاص فرحب به، وأسرج فرسه فحمل عثمان على الفرس فأجاره وردفه أبان حتى جاء مكة، ثم إن قريشا بعثوا بديل بن ورقاء الخزاعي وأخا بني كنانة، ثم جاء عروة بن مسعود الثقفي - فذكر الحديث فيما قالوا وقيل لهم - ورجع عروة إلى قريش وقال: إنما جاء الرجل وأصحابه عمارا، فخلوا بينه وبين البيت، فليطوفوا فشتموه. ثم بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى ومكرز بن حفص ليصلحوا عليهم فكلموا رسول الله صلى الله عليه وسلم ودعوه إلى الصلح والموادعة فلما لان بعضهم لبعض وهم على ذلك لم يستقم لهم ما يدعون إليه من الصلح وقد أمر بعضهم بعضا وتزاوروا، فبينا هم كذلك وطوائف المسلمين في المشركين لا يخاف بعضهم بعضا ينتظرون الصلح والهدنة إذ رمى رجل من أحد الفريقين رجلا من الفريق الآخر فكانت معركة وتراموا بالنبل والحجارة، وصاح الفريقان كلاهما وارتهن كل واحد من الفريقين من فيهم، فارتهن المسلمون سهيل بن عمرو ومن أتاهم من المشركين، وارتهن المشركون عثمان بن عفان ومن كان أتاهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ودعا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى البيعة، ونادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا إن روح القدس قد نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمر بالبيعة فاخرجوا على اسم الله فبايعوا، فثار المسلمون إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو تحت الشجرة، فبايعوه على أن لا يفروا أبدا، فرعبهم الله تعالى، فأرسلوا من كانوا قد ارتهنوا، ودعوا إلى الموادعة والصلح - وذكر الحديث في كيفية الصلح والتحلل من العمرة قال: وقال المسلمون وهم بالحديبية قبل أن يرجع عثمان: خلص عثمان من بيننا إلى البيت فطاف به، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ما أظنه طاف بالبيت ونحن محصورون، قالوا: وما يمنعه يا رسول الله وقد خلص؟ قال: ذاك ظني به أن لا يطوف بالكعبة حتى نطوف معا، فرجع إليهم عثمان فقال المسلمون: اشتفيت يا أبا عبد الله من الطواف بالبيت؟ فقال عثمان: بئسما ظننتم بي فوالذي نفسي بيده لو مكثت مقيما بها سنة ورسول الله صلى الله عليه وسلم مقيم بالحديبية ما طفت بها حتى يطوف بها رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولقد دعتني قريش إلى الطواف بالبيت فأبيت فقال المسلمون: رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أعلمنا بالله وأحسننا ظنا. "كر، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل عروہ :
30153 ۔۔۔ ابو اسامہ ہشام اپنے والد عروہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کی طرف نکل پڑے صلح حدیبیہ کا واقعہ شوال کے مہینہ میں رونما ہوا چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان پہنچے تو آپ کو بنی کعب کا ایک شخص ملا اس نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے قریش کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انھوں نے اپنے تمام خاندان آپ کے خلاف جمع کرلیے ہیں اور انھیں گوشت میں بنایا گیا چورا کھلایا جاتا ہے وہ آپ کو بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان میں نمودار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قریش کے چھوٹے سے لشکر سے مڈبھیڑ ہوگئی اس کی کمان خالد بن ولید کے ہاتھ میں تھی آپ نے خالد بن ولید کی خبر پاتے ہی راستہ تبدیل کردیا حتی کہ مقام عمیم پر پہنچے اور یہاں پہنچ کر لوگوں سے خطاب کیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : اما بعد ! قریش نے تمہارے خلاف انڈے بچے جمع کر لیئے ہیں اور تمہیں بیت اللہ کے پاس جانے سے روکنا چاہتے ہیں۔ تم لوگ جو بہتر سمجھتے ہو مجھے مشورہ دو تم اہل مکہ کی سرکوبی کرنا چاہتے ہو یا ان قبائل کی جنھوں نے اہل مکہ کی معاونت کی ہے کی عورتوں اور بچوں پر چھاپہ مارنا چاہتے ہو یوں قریش ان کے معاونین شکست خوردہ ہوجائیں گے اگر اہل مکہ ہمارا پیچھا کریں گے رسوا ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل کرے گا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر آپ اہل مکہ پر چڑھائی کرنا چاہتیے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور آپ کو غلبہ عطا کرے گا جبکہ حضرت مقداد بن اسود (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! بخدا ! ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں کہ انھوں نے اپنے نبی سے کہا تھا : تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور جنگ لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے لیکن ہم یوں کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جنگ کے لیے جائیں ہم آپ کے شانہ بشانہ لڑیں گے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ پہنچنے کے ارادہ سے چل پڑے جب حرم کے قریب پہنچے آپ کی جدعاء نامی اونٹنی بیٹھ گئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہنے لگے : اونٹنی تھک گئی جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا ! اونٹنی نہیں تھکی اسے تو اسی ذات نے آگے بڑھنے سے روک دیا ہے جس نے ہاتھیوں کو آگے جانے سے روک دیا تھا مجھے قریش حرم پاک کی تعظیم کی دعوت دیں اور مجھ سے آگے بڑھ جائیں ایسا نہ ہونے پائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا جبکہ آپ گھاٹی میں دائیں طرف مڑگئے اسی جگہ کو ذات الحنظل کہا جاتا ہے حتی کہ آپ حدیبیہ میں آن پہنچے ۔ جوں ہی حدیبیہ پہنچے لوگوں نے شدت پیاس کی شکایت کی جبکہ کنویں میں پانی برائے نام تھا آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اپنے ترکش سے تیر نکال کردیا اور فرمایا : اے کنویں میں گاڑ دو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کنویں میں پانی تیر گاڑا پانی سے پھوٹ پڑا کافی اوپر آگیا حتی کہ لوگ پانی سے سیر ہوگئے جب قریش نے شور سنا تو انھوں نے بنی حیس کا ایک شخص بھیجا یہ وہ لوگ تھے جو حرم کے جانوروں کی تعظیم کرتے تھے اس نے کہا : جانوروں کو بھیج دو جب اس نے مسلمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہ سنا واپس قریش کے پاس چلا گیا اور کہا : اے میری قوم ! مسلمانوں نے کہا : جانوروں کو نشان زدہ کرکے لایا ہے ان کے گلوں میں قلائد ڈال رکھے ہیں قریش کو ڈرایا دھمکایا اور بیت اللہ کے پاس آنے والوں کی تعظیم کرنے کی ہدایت کی قریش نے اسے سخت وسست کہا اور انھیں گالیاں دیں اور کہا : تو گنوار ہے اور اجڈ ہے ہم تجھ پر تعجب نہیں کرتے ہمیں خود اپنے اوپر تعجب ہے جو تمہیں قبل ازیں مسلمانوں کے پاس بھیجا میں تم یہیں بیٹھ جاؤ ۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود ثقفی سے کہا : تم محمد کے پاس جاؤ اور اپنے پیچھے خیال رکھنا عروہ چل پڑا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور کہا : اے محمد ! میں نے عرب کا کوئی شخص نہیں دیکھا جو تمہاری طرح چلا ہو تم اپنے نام لیواؤں کو لے کر آئے ہو اور اپنے خاندان کو ختم کرنا چاہتے ہو تمہیں معلوم ہے کہ میں کعب بن لوی کے پاس سے آرہا ہوں انھوں نے چیتوں کی کھالیں پہن لی ہیں اور قسمیں کھا رہے ہیں کہ تم جس طرح بھی ان سے تعرض کرو گے وہ اسی طرح تم سے پیش آئیں گے یہ سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم جنگ وجدل کے کے لیے نہیں آئے البتہ ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں اور ذبح کے لیے جانور لائے ہیں تم اپنی قوم کے پاس جاؤ تمہاری قوم اونٹ پالتی ہے اور اونٹ لڑائی سے دور بھاگتے ہیں اب ان کے لیے جنت میں کوئی بھلائی نہیں چونکہ جنگ ان میں سے چیدہ چیدہ افراد کو ہڑپ کرچکی ہے بیت اللہ تک پہنچے میں میری رکاوٹ نہ ہونا کہ ہم عمرہ ادا کریں اور لائے ہوئے جانور ذبح کرلیں وہ میرے اور اپنے درمیان مدت مقرر کردیں ان کی عورتیں اور بچے امن میں ہوں گے مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیں بخدا ! میں اس دعوت پر میں ہر گورے اور کالے سے لڑوں گا تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ مجھے ان پر غلبہ عطا کرے اگر لوگوں نے مجھے پالیا تو یہی ان کی چاہت ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ دے دیا تو انھیں اختیار ہے (یا تو حد سے بڑھتے ہوئے جنگ کرتے رہیں یا اسلام میں داخل ہوجائیں عروہ یہ گفتگو سن کر واپس لوٹ گیا اور کہا : اے لوگو ! تم جانتے ہو کہ سطح زمین پر مجھے تم سے زیادہ محبوب کوئی قوم نہیں تم میرے بھائی ہو اور لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو میں نے محبت میں تمہارے لیے لوگوں سے مدد طلب کی جب لوگوں نے تمہاری مدد نہ کی میں اپنے اہل و عیال کو لے کر تمہارے پاس آگیا تاکہ تمہاری غمخواری کرسکوں بخدا ! تمہارے بعد مجھے زندگی سے کوئی لگاؤ نہیں تم جانتے ہو میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس آگیا ہوں میں نے بڑے بڑے سرداروں کو دیکھا ہے اللہ کی قسم میں نے عقیدت تعظیم واجلال کا جو منظر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں دیکھا وہ کسی بادشاہ یا سردار کے ہاں نہیں دیکھا ۔ جب تک اس کے ساتھی اجازت نہ لیں بات نہیں کرتے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت دے تب وہ بات کرنے پاتے ہیں ، اگر وہ اجازت نہ دے خاموش رہتے ہیں ، جب وہ وضو کرتا ہے وت اس کے غسالہ کو اس کے ساتھی سروں پر ملتے ہیں ، جب قریش نے عروہ کی گفتگو سنی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سہیل بن عمرو اور مکرز بن حفص کو بھیجا اور کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور دیکھو جو کچھ عروہ نے کہا ہے اگر سچ ہے تو اس سے صلح کرلو اور کہو کہ اس سال واپس چلے جائیں گے اور بیت اللہ کے پاس جاؤ اور دیکھو جو کچھ عروہ نے کہا ہے اگر سچ ہے تو اس سے صلح کرلو اور کہو کہ اس سال واپس چلے جائیں اور بیت اللہ کے پاس کوئی نہ جائے چنانچہ سہیل اور مکرز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے حالات دیکھ کر صلح کی پیشکش کی آپ نے صلح قبول کرلی اور فرمایا لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، قریش نے کہا بخدا ہم یہ کسی طرح بھی نہیں لکھیں گے فرمایا : کیوں ؟ قریش نے کہا : ہم تو ” بسمک اللہم “ لکھیں گے فرمایا چلو یہی لکھو قریش نے بسم اللہ کے بجائے یہ کلمات لکھے پھر فرمایا : لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا ہے قریش نے کہا : بخدا ہمیں تو اسی میں اختلاف ہے فرمایا : پھر میں کیا لکھوں قریش نے کہا : محمد بن عبداللہ لکھو یہی بہتر ہے فرمایا یہی لکھو : چنانچہ یہی لکھ لیا ان کی شرائط میں تھا کہ دھوکا اور فریب نہیں ہوگا یہ کہ جو شخص تمہارے پاس چلا جائے گا تم اسے واپس کرو گے اور جو شخص ہمارے پاس آئے گا ہم اسے واپس نہیں کریں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص میرے ساتھ داخل ہوگا وہ میری شرائط میں برابر کا شریک ہوگا قریشے بھی یہی بات کہی بنو کعب نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے ساتھ ہیں جبکہ بنو بکر نے کہا : ہم قریش کے ساتھ ہیں اسی اثناء میں ابو جندل (رض) بیڑیوں میں جکڑے ہوئے آئے مسلمانوں نے کہا : ابو جندل ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے حصہ میں ہے سہیل نے کہا : یہ میرے حصہ کا آدمی ہے پھر کہا : چلو صلح نامہ پڑھو چنانچہ صلح نامہ کی رو سے ابو جندل (رض) مشرکین کے حصہ میں آئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابو جندل ! یہ ہے تلوار اور وہ بھی تو ایک آدمی ہے سہیل نے کہا : اے عمر تم نے مجھ پر ظلم کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے مجھے ہبہ کر دو سہیل نے انکار کیا فرمایا : چلو اسے میری پناہ میں دے دو اس کا بھی انکار کیا مکرز نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اسے تمہاری پناہ میں دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30153- "أيضا" حدثنا أبو أسامة حدثنا هشام عن أبيه قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الحديبية وكانت الحديبية في شوال فخرج حتى إذا كان بعسفان لقيه رجل من بني كعب فقال: يا رسول الله إنا تركنا قريشا وقد جمعت أحابيشها تطعمها الخزير يريدون أن يصدوك عن البيت، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا تبرز عسفان لقيهم خالد بن الوليد طليعة لقريش، فاستقبلهم على الطريق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هلم ههنا فأخذ بين سروعتين - يعني شجرتين - ومال عن سنن الطريق حتى نزل الغميم فلما نزل الغميم خطب الناس فحمد الله وأثنى عليه بما هو أهله ثم قال: أما بعد فإن قريشا قد جمعت لكم أحابيشها تطعمها الخزير يريدون أن يصدونا عن البيت فأشيروا علي بما ترون أن تعمدوا إلى الرأس - يعني أهل مكة - أم ترون أن تعمدوا إلى الذين أعانوهم فتخالفوهم إلى نسائهم وصبيانهم، فإن جلسوا جلسوا موتورين مهزومين، فإن طلبوا طلبونا طلبا متداريا ضعيفا فأخزاهم الله؟
فقال أبو بكر: يا رسول الله إن تعمد إلى الرأس فإن الله معينك، وإن الله ناصرك وإن الله مظهرك، قال المقداد بن الأسود وهو في رحله: إنا والله يا رسول الله لا نقول لك كما قالت بنو إسرائيل لنبيها: اذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون ولكن اذهب أنت وربك فقاتلا إنا معكم مقاتلون فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا غشي الحرم ودخل أنصابه بركت ناقته الجدعاء فقالوا: خلأت فقال: والله ما خلأت
وما الخلأ بعادتها، ولكن حبسها حابس الفيل عن مكة، لا تدعوني قريش إلى تعظيم المحارم فيسبقوني إليها هلم ههنا لأصحابه فأخذ ذات اليمين في ثنية تدعى ذات الحنظل، حتى هبط على الحديبية، فلما نزل استسقى الناس من البئر، فنزفت ولم تقم بهم فشكوا ذلك إليه فأعطاهم سهما من كنانته، فقال اغرزوه في البئر فغرزوه في البئر فجاشت وطما ماؤها حتى ضرب الناس بعطن فلما سمعت به قريش أرسلوا إليه أخا بني حليس وهم من قوم يعظمون الهدي فقال: ابعثوا الهدي، فلما رأى الهدي لم يكلمهم كلمة، وانصرف من مكانه إلى قريش فقال: يا قوم القلائد والبدن والهدي فحذرهم وعظم عليهم.
فسبوه وتجهموه وقالوا: إنما أنت أعرابي جلف لا نعجب منك ولكنا نعجب من أنفسنا إذ أرسلناك؛ اجلس، ثم قالوا لعروة بن مسعود: انطلق إلى محمد ولا تؤتين من ورائك، فخرج عروة حتى أتاه فقال: يا محمد ما رأيت رجلا من العرب سار إلى مثل ما سرت إليه سرت بأوباش الناس إلى عترتك وبيضتك التي تفلقت عنك لتبيد خضراءها تعلم أني قد جئتك من عند كعب بن لؤي وعامر بن لؤي قد لبسوا جلود النمور عند العوذ المطافيل يقسمون بالله لا تعرض لهم خطة إلا عرضوا لك أمرا منها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا لم نأت لقتال ولكنا أردنا أن نقضي عمرتنا وننحر هدينا، فهل لك أن تأتي قومك فإنهم أهل قتب وإن الحرب قد أخافتهم وإنه لا خير لهم أن تأكل الحرب منهم إلا ما قد أكلت فيخلون بيني وبين البيت فنقضي عمرتنا وننحر هدينا ويجعلون بيني وبينهم مدة تزيل فيها نساؤهم ويأمن فيها سربهم، ويخلون بيني وبين الناس فإني والله لأقاتلن على هذا الأمر الأحمر والأسود حتى يظهرني الله أو تنفرد سالفتي، فإن أصابني الناس فذاك الذي يريدون، وإن أظهرني الله عليهم اختاروا؛ إما قاتلوا معدين وإما دخلوا في السلم وافرين. قال: فرجع عروة إلى قريش فقال: تعلمن والله ما على الأرض قوم أحب إلي منكم، إنكم الإخواني، وأحب الناس إلي، ولقد استنصرت لكم الناس في المجامع، فلما لم ينصروكم أتيتكم بأهلي حتى نزلت معكم إرادة أن أواسيكم، والله ما أحب الحياة بعدكم تعلمن أن الرجل قد عرض نصفا فاقبلوه، تعلمن أني قدمت على الملوك ورأيت العظماء واقسم بالله إن رأيت ملكا ولا عظيما أعظم في أصحابه منه لن يتكلم معه رجل حتى يستأذنه، فإن هو أذن تكلم وإن لم يأذن له سكت، ثم إنه ليتوضأ فيبتدرون وضوءه ويصبونه على رؤوسهم يتخذونه حنانا. فلما سمعوا مقالته أرسلوا إليه سهيل بن عمرو ومكرز بن حفص فقالوا: انطلقوا إلى محمد فإن أعطاكم ما ذكر عروة فقاضياه على أن يرجع عامه هذا عنا ولا يخلص إلى البيت حتى يسمع من يسمع بمسيره من العرب أنا قد صددناه، فخرج سهيل ومكرز حتى أتياه وذكرا ذلك له فأعطاهما الذي سألا فقال: اكتبوا بسم الله الرحمن الرحيم قالوا: والله لا نكتب هذا أبدا قال: فكيف؟ قالوا: نكتب باسمك اللهم، قال: وهذه فاكتبوها فكتبوها قال: اكتب هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله فقالوا: والله ما نختلف إلا في هذا، فقال: ما أكتب؟ فقالوا: إن شئت فاكتب محمد بن عبد الله قال: وهذه حسنة فاكتبوها فكتبوها، وكان في شرطهم: أن بيننا للعيبة المكفوفة وأنه لا إغلال ولا إسلال، قال أبو أسامة: الإغلال الدروع والإسلال السيوف، ويعني بالعيبة المكفوفة أصحابه يكفهم عنهم، وإنه من أتاكم منا رددتموه علينا، ومن أتانا منكم لم نرده عليكم. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ومن دخل معي فله مثل شرطي فقالت قريش: من دخل معنا فهو منا له مثل شرطنا، فقالت بنو كعب: نحن معك يا رسول الله وقالت بنو بكر: نحن مع قريش فبينما هم في الكتاب إذ جاء أبو جندل يرسف في القيود فقال المسلمون: هذا أبو جندل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هو لي وقال سهيل: هو لي وقال سهيل: اقرأ الكتاب فإذا هو لسهيل فقال أبو جندل: يا رسول الله يا معشر المسلمين أرد إلى المشركين فقال عمر: يا أبا جندل: هذا السيف فإنما هو رجل ورجل فقال سهيل: أعنت علي يا عمر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هبه لي قال: لا قال: فأجره لي قال: لا قال مكرز: قد أجرته لك يا محمد فلم يبح. "ش".
فقال أبو بكر: يا رسول الله إن تعمد إلى الرأس فإن الله معينك، وإن الله ناصرك وإن الله مظهرك، قال المقداد بن الأسود وهو في رحله: إنا والله يا رسول الله لا نقول لك كما قالت بنو إسرائيل لنبيها: اذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون ولكن اذهب أنت وربك فقاتلا إنا معكم مقاتلون فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا غشي الحرم ودخل أنصابه بركت ناقته الجدعاء فقالوا: خلأت فقال: والله ما خلأت
وما الخلأ بعادتها، ولكن حبسها حابس الفيل عن مكة، لا تدعوني قريش إلى تعظيم المحارم فيسبقوني إليها هلم ههنا لأصحابه فأخذ ذات اليمين في ثنية تدعى ذات الحنظل، حتى هبط على الحديبية، فلما نزل استسقى الناس من البئر، فنزفت ولم تقم بهم فشكوا ذلك إليه فأعطاهم سهما من كنانته، فقال اغرزوه في البئر فغرزوه في البئر فجاشت وطما ماؤها حتى ضرب الناس بعطن فلما سمعت به قريش أرسلوا إليه أخا بني حليس وهم من قوم يعظمون الهدي فقال: ابعثوا الهدي، فلما رأى الهدي لم يكلمهم كلمة، وانصرف من مكانه إلى قريش فقال: يا قوم القلائد والبدن والهدي فحذرهم وعظم عليهم.
فسبوه وتجهموه وقالوا: إنما أنت أعرابي جلف لا نعجب منك ولكنا نعجب من أنفسنا إذ أرسلناك؛ اجلس، ثم قالوا لعروة بن مسعود: انطلق إلى محمد ولا تؤتين من ورائك، فخرج عروة حتى أتاه فقال: يا محمد ما رأيت رجلا من العرب سار إلى مثل ما سرت إليه سرت بأوباش الناس إلى عترتك وبيضتك التي تفلقت عنك لتبيد خضراءها تعلم أني قد جئتك من عند كعب بن لؤي وعامر بن لؤي قد لبسوا جلود النمور عند العوذ المطافيل يقسمون بالله لا تعرض لهم خطة إلا عرضوا لك أمرا منها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا لم نأت لقتال ولكنا أردنا أن نقضي عمرتنا وننحر هدينا، فهل لك أن تأتي قومك فإنهم أهل قتب وإن الحرب قد أخافتهم وإنه لا خير لهم أن تأكل الحرب منهم إلا ما قد أكلت فيخلون بيني وبين البيت فنقضي عمرتنا وننحر هدينا ويجعلون بيني وبينهم مدة تزيل فيها نساؤهم ويأمن فيها سربهم، ويخلون بيني وبين الناس فإني والله لأقاتلن على هذا الأمر الأحمر والأسود حتى يظهرني الله أو تنفرد سالفتي، فإن أصابني الناس فذاك الذي يريدون، وإن أظهرني الله عليهم اختاروا؛ إما قاتلوا معدين وإما دخلوا في السلم وافرين. قال: فرجع عروة إلى قريش فقال: تعلمن والله ما على الأرض قوم أحب إلي منكم، إنكم الإخواني، وأحب الناس إلي، ولقد استنصرت لكم الناس في المجامع، فلما لم ينصروكم أتيتكم بأهلي حتى نزلت معكم إرادة أن أواسيكم، والله ما أحب الحياة بعدكم تعلمن أن الرجل قد عرض نصفا فاقبلوه، تعلمن أني قدمت على الملوك ورأيت العظماء واقسم بالله إن رأيت ملكا ولا عظيما أعظم في أصحابه منه لن يتكلم معه رجل حتى يستأذنه، فإن هو أذن تكلم وإن لم يأذن له سكت، ثم إنه ليتوضأ فيبتدرون وضوءه ويصبونه على رؤوسهم يتخذونه حنانا. فلما سمعوا مقالته أرسلوا إليه سهيل بن عمرو ومكرز بن حفص فقالوا: انطلقوا إلى محمد فإن أعطاكم ما ذكر عروة فقاضياه على أن يرجع عامه هذا عنا ولا يخلص إلى البيت حتى يسمع من يسمع بمسيره من العرب أنا قد صددناه، فخرج سهيل ومكرز حتى أتياه وذكرا ذلك له فأعطاهما الذي سألا فقال: اكتبوا بسم الله الرحمن الرحيم قالوا: والله لا نكتب هذا أبدا قال: فكيف؟ قالوا: نكتب باسمك اللهم، قال: وهذه فاكتبوها فكتبوها قال: اكتب هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله فقالوا: والله ما نختلف إلا في هذا، فقال: ما أكتب؟ فقالوا: إن شئت فاكتب محمد بن عبد الله قال: وهذه حسنة فاكتبوها فكتبوها، وكان في شرطهم: أن بيننا للعيبة المكفوفة وأنه لا إغلال ولا إسلال، قال أبو أسامة: الإغلال الدروع والإسلال السيوف، ويعني بالعيبة المكفوفة أصحابه يكفهم عنهم، وإنه من أتاكم منا رددتموه علينا، ومن أتانا منكم لم نرده عليكم. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ومن دخل معي فله مثل شرطي فقالت قريش: من دخل معنا فهو منا له مثل شرطنا، فقالت بنو كعب: نحن معك يا رسول الله وقالت بنو بكر: نحن مع قريش فبينما هم في الكتاب إذ جاء أبو جندل يرسف في القيود فقال المسلمون: هذا أبو جندل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هو لي وقال سهيل: هو لي وقال سهيل: اقرأ الكتاب فإذا هو لسهيل فقال أبو جندل: يا رسول الله يا معشر المسلمين أرد إلى المشركين فقال عمر: يا أبا جندل: هذا السيف فإنما هو رجل ورجل فقال سهيل: أعنت علي يا عمر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هبه لي قال: لا قال: فأجره لي قال: لا قال مكرز: قد أجرته لك يا محمد فلم يبح. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل عروہ :
30154 ۔۔۔ خالد بن مخلد ، عبدالرحمن بن عبدالعزیز انصاری ابن شہاب عروہ بن زبیر کہتے ہیں : حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھارہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ مدینہ سے نکلے آپ نے خزاعہ سے ناجیہ کو بطور جاسوس روانہ کیا جب آپ غدیر اشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس نے یہ اطلاع کی کہ کعب بن لوی اور عامر بن لوی نے آپ کے لیے لشکر عظیم جمع کرلیا ہے وہ آپ کے سفر کی خبر سن چکے ہیں میں نے انھیں اجتماعی طور پر کھاتے پیتے چھوڑا ہے۔ نیز خالد بن ولید بھی مقدمہ الجیش کے ساتھ مقام غمیم میں آن پہنچا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم یہ رائے دیتے ہو کہ ہم اپنی راہ پر چلتے جائیں اور جو ہماری راہ میں رکاوٹ ہے اس سے جنگ کریں یا یہ رائے دیتے ہو کہ ہم متبادل راستہ اختیار کرلیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حقیقت میں فیصلہ آپ کا فیصلہ ہے۔ اور قابل عمل رائے آپ ہی کی رائے ہے چنانچہ مسلمانوں نے متبادل راستہ اختیار کیا حتی کہ خالد بن ولید نے مسلمانوں کی غبار بھی نہ پائی حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیے ہوئے اونٹنی مقام بلدح پر پہنچی اور بیٹھ گئی آپ نے فرمایا : اونٹنی بیٹھ گئی چنانچہ اونٹنی اٹھنے نہیں پاتی تھی لوگوں نے کہا : اونٹنی بیٹھ گئی آپ نے فرمایا : بخدا ! یہ اس کی عادت نہیں البتہ اسے ہاتھیوں کو روکنے والے نے آگے بڑھنے سے روک دیا ہے ، پھر آپ نے فرمایا : بخدا ! قریش مجھ سے جس ایسے امر کی درخواست کریں گے کہ جس میں شعار اللہ کی تعظیم ہوتی ہو میں ضرور اس کو منظور کروں گا یہ کہہ کر اونٹنی کو کو چا دیا فورا اٹھ کھڑی ہوئی وہاں سے ہٹ کر آپ نے حدیبیہ میں قیام کیا گرمی کا موسم تھا پیاس کی شدت ہوئی پانی قلیل تھا گڑھے میں جس قدر پانی تھا وہ کھینچ لیا گیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ نے اپنے ترکش سے تیر نکال کردیا اور فرمایا : اسے گڈھے میں گاڑ دو اسی وقت پانی جوش مارنے لگا اور پورا لشکر سیراب ہوگیا ۔ اسی دوران بدیل بن ورقاء خزاعی آپ کے پاس سے گزرا اور اس کے ساتھ اس کی قوم کے چند سوار بھی تھے بدیل نے کہا : اے محمد ! آپ کی قوم (قریش) نے نواحی حدیبیہ میں پانی کے بڑے بڑے چشموں پر آپ کے مقابلہ کے لیے لشکر عظیم جمع کیا ہے کہ آپ کو کسی طرح مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے ان کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیاں ہیں کھاتے پیتے ہیں (یعنی طویل قیام کا ارادہ ہے) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بدیل ، ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے ہم تو عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں تاکہ بیت اللہ کا طواف کریں اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لیے صلح کی ایک مدت مقرر کر دوں اس مدت میں کوئی ایک دوسرے سے تعرض نہ کرے اور مجھ کو اور عرب کو چھوڑ دیں اگر میں لوگوں پر غالب آجاؤں تو چاہیں تو اس دین میں داخل ہوجائیں اگر بالفرض عرب غالب آجائیں تو تمہاری تمنا پوری ہوگئی ۔ بدیل نے کہا : یہ پیغام میں قریش تک پہنچائے دیتا ہوں حتی کہ جب بدیل قریش کے پاس پہنچا تو انھوں نے پوچھا کہاں سے آرہے ہو ؟ کہا میں تمہارے پاس رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آیا ہوں اگر تم چاہو تو اس کی سنی ہوئی بات تمہیں کہوں چنانچہ قریش کے چند ناہنجار لوگوں نے کہا : ہمیں اس کی کوئی بات سننے کی حاجت نہیں جبکہ سمجھدار اور دانا لوگوں نے کہا نہیں بلکہ ہمیں خبر دو چنانچہ بدیل نے ساری بات سنائی اور مدت صلح کا بھی تذکرہ کیا ۔ کفار قریش میں اس دن عروہ بن مسعود ثقفی بھی تھا اس نے اچھل کر کہا : اے جماعت قریش کیا تم مجھ سے کوئی بدگمانی رکھتے ہو کیا میں تمہارے لیے بمنزلہ باپ کے اور تم میرے لیے بمنزلہ اولاد کے نہیں کیا میں اہل عکاظ کو تمہاری مدد کے لیے دعوت نہیں دے چکا ؟ جب انھوں نے تمہاری مدد سے انکار کیا تو میں اپنی جان اور اپنی اولاد لے کر تمہارے پاس حاضر ہوگیا ؟ قریش نے کہا : بلاشبہ تم نے یہ سب کچھ کیا عروہ نے کہا : لہٰذا یہ بدیل جو پیغام لایا ہے اور اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے اوپر پیش کیا ہے اسے بغیر لیت ولعل کے قبول کرو مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجو تاکہ میں اس سے مل کر اس معاملہ میں گفتگو کروں قریش نے عروہ کو اجازت دی اور وہ حدیبیہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور کہا : اے محمد یہ تمہاری قوم کعب بن لوی اور عامر بن لوی ہے یہ دودھ دینے والی اونٹنیوں کو لے کر آئے ہیں اور قسمیں کھا رہے ہیں کہ آپ کو بیت اللہ میں نہیں جانے دیں گے حتی کہ تم ان کا صفایا نہ کر دوں آپ کو دو باتوں کا اختیار ہے (1) یہ کہ تم اپنی قوم کو استحصال کر دو حتی کہ قوم کے کسی فرد کو باقی نہ چھوڑو (2) اور یہ کہ آپ سلامتی میں رہیں اور قوم کو بھی سلامت رکھیں میں مختلف قوموں کے لوگ تمہارے ساتھ دیکھ رہا ہوں میں ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہوں اور نہ ہی ان کے چہرے دیکھے ہیں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے غصہ میں عروہ کو گالی دی کہ تو لات کی شرمگاہ چومیں ، کیا ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دیں گے عروہ نے کہا : خدا کی قسم اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں بدلہ نہیں چکا سکا میں تمہیں ضرور جواب دیتا کسی وقت عروہ کو دیت میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کی مدد کی تھی حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے تھے عروہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گفتگو کررہا تھا جب بھی کوئی بات کرتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگاتا مغیرہ (رض) کو دیکھ کر یہ حالت سخت ناگوار گزری اور نیزے سے عروہ کا ہاتھ پیچھے دھکیل دیا عروہ نے کہا : یہ کون ہے لوگوں نے جواب دیا : یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں عروہ نے کہا : اے دھوکا باز یہ تم ہو کیا میں نے تیری دھوکا دہی کو عکاظ کے بازار میں نہیں صاف کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ سے وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی ۔ عروہ واپس اپنی قوم کی طرف چل دیا اور آکر کہا : اے جماعت قریش میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس گیا ہوں شام میں قیصر کے پاس گیا ہوں حبشہ میں نجاشی کے پاس گیا ہوں اور عراق میں کسری کے پاس گیا ہوں خدا کی قسم میں نے ایسا عظیم بادشاہ کوئی نہیں دیکھا چنانچہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں کوئی شخص ایسا نہیں جو اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے یا اس کے سامنے کوئی آواز بلند کرے محمد کے وضو کے غسالہ پر اس کے ساتھی مرتے ہیں لہٰذا بدیل تمہارے پاس جو پیغام لایا ہے اسے بغیر کم وکاست کے قبول کرلو بلاشبہ اسی میں اچھائی ہے قریش نے عروہ سے کہا تم بیٹھ جاؤ پھر قریش نے بنی حارث بن مناف کے ایک شخص کو بلایا اسے حلیس کے نام سے پکارا جاتا تھا اس سے کہا : تم جاؤ اور حالات کا جائز لے کر آؤ چنانچہ حلیس چل پڑا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حلیس کو دیکھا فرمایا : یہ حلیس ہے اور اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو بیت کی نذر کیے ہوئے جانوروں کی تعظیم کرتی ہے ، لہٰذا اس کی راہ میں جانوروں کو کھڑا کر دو ۔ اس کے بعد حلیس کے متعلق اختلاف ہے ابن شہاب کی روایت ہے کہ بعض محدثین کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلیس سے وہی بات کہی ، جو عروہ اور بدیل سے کہی تھی بعض کہتے ہیں کہ حلیس نے جونہی ہدی کے جانور دیکھے واپس لوٹ گیا اور قریش سے کہا : میں نے ایسی چیز دیکھی ہے کہ یہ لوگ صرف عمرہ کے لیے آئے ہیں پس ان کی راہوں میں رکاوٹ بننا بدبختی سے کم نہیں ہوگا قریش نے اس سے بھی کہا : تو بیٹھ جا پھر قریش نے مکرز بن حفص بن احنف جو کہ بنی عامر بن لوی سے تھا بھیجا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا فرمایا : یہ فاجر شخص ہے اور ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے آپ نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل عروہ اور اس کے ساتھیوں سے قبل ازیں کہی تھی مکرز نے قریش کو خبر کی اب کی بار قریش نے بنی عامر بن لوی سے سہیل بن عمرو کو بھیجا تاکہ وہی صلح کا معاملہ طے کرے ، اس نے کہا : مجھے قریش نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں صلح نامہ لکھو جس پر میں اور آپ راضی ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! ” بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل نے کہا : میں اللہ اور رحمن کو نہیں جانتا البتہ وہی لفظ لکھو جو ہم لکھا کرتے تھے یعنی ” باسمک اللہم “ مسلمانوں کو اس پر غصہ آیا اور کہا : ہم اس وقت تک صلح نامہ نہیں لکھتے جب تک تم رحمن اور رحیم کا اقراء نہ کرلو سہیل نے کہا میں بھی صلح نامہ نہیں لکھوں گا حتی کہ میں یونہی واپس چلا جاؤں گا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاتب سے فرمایا : لکھو : باسمک اللہم “ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : سہیل نے کہا میں اس کا اقرار نہیں کرتا اگر میں آپ کو اللہ کا رسول مانتا آپ کی مخالفت نہ کرتا آپ کی نافرمانی نہ کرتا البتہ محمد بن عبداللہ لکھو مسلمانوں کو اس پر بھی گہرا غم وغصہ ہوا ۔ آپ نے کاتب سے فرمایا : لکھو : محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو اتنے میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ فرمایا : جی ہاں عرض کیا : پھر ہم کیوں اپنے دین کے معاملہ میں پستی کا مظاہرہ کریں ، فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں میں ہرگز اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا جبکہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ایک طرف کھڑے تھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور کہا : اے ابوبکر (رض) جواب دیا : جی ہاں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : کیا ہم حق پر نہیں ہیں کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ انھوں نے بھی جواب دیا ہاں کیا : پھر ہم اپنے دین کے معاملہ میں اتنی پستی کا مظاہرہ کیوں کریں ؟ فرمایا : اے عمر ! اپنی رائے کو چھوڑ دو چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ۔ صلح نامے کی شرائط میں یہ مندرجات تھے یہ ہمارا کوئی شخص جو تمہارے دین پر ہو اور وہ تمہارے پاس آجائے تم اسے واپس کرنے کے مجاز ہو گے اور تمہارا جو آدمی ہمارے پاس آجائے گا ہم اسے واپس کریں گے آپ نے فرمایا : رہی یہ بات کہ ہمارا کوئی آدمی تمہارے پاس چلا جائے سو ہمیں اس کے واپس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ پہلی شرط ہمیں منظور رہے ۔ اسی اثناء میں لوگ یہ شرط سن کر اس پر گفتگو کر رہے تھے اتنے میں حضرت ابو جندل بن سہیل بن عمرو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہاتھ پاؤں کے بل گھسٹتے ہوئے نمودار ہوئے جبکہ ہاتھوں میں تلوار بھی اٹھا رکھی تھی جب سہیل نے ان کا اوپر اٹھایا کیا دیکھتا ہے کہ اس کا اپنا بیٹا ہے سہیل نے کہا : یہ ہمارے صلح نامہ کا پہلا فیصلہ ہوگا لہٰذا آپ اسے واپس کردیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سہیل ہم نے صلح نامہ ابھی مکمل نہیں کیا ہے سہیل نے کہا : میں کسی بات پر آپ کے ساتھ صلح نہیں کرتا حتی کہ تم لوگ اسے واپس نہ کرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے اسے واپس لے جاؤ، ابو جندل (رض) نے نہایت حسرت سے مسلمانوں سے کہا : اے مسلمانو ! کیا مجھے مشرکین کے پاس واپس لوٹایا جائے گا یوں مشرکین مجھے میرے دین میں سخت آزمائشوں میں مبتلا کردیں گے حضرت عمر (رض) ابو جندل (رض) کے ساتھ چمٹ گئے جبکہ سہیل نے ابو جندل (رض) کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنی طرف کھینچنے لگا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرما رہے تھے یہ بھی تو ایک آدمی ہے اور تمہارے پاس تلوار ہے چنانچہ اس شرط کی پاداش میں مشرکین سے جو شخص بھی مسلمانوں کے پاس آتا آپ اسے واپس لوٹا دیتے یو واپس جانے والوں کی اچھی خاصی جماعت اکٹھی ہوگئی ان میں حضرت ابو بصیرہ (رض) بھی تھے انھوں نے ساحل سمندر کے قریب ایک جگہ اقامت اختیار کرلی اور قریش کا جو قافلہ بھی شام تجارت کے لیے جاتا اسے لوٹ لیتے قریش نے تنگ آکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغام بھیجا کہ آپ جن لوگوں کو واپس کرتے رہے ہیں انھوں نے ہماری ناک میں دم کردیا ہے لہٰذا انھیں اپنے پاس بلوا لو اور یوں اس کڑی شرط کا خاتمہ ہوا۔ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال آپ لوگ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال عمرہ کے لیے آئیں اور ہدی کے جانور بھی لاسکتے ہیں نیز عمرہ کی غرض کے لیے آپ کو صرف تین دن قیام کرنے کی اجازت ہوگی اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ لوگوں کو حکم دیا کہ اٹھو جانوروں کو ذبح کرو سر منڈواؤ اور احرام سے حلال ہوجاؤ مگر بیت اللہ اور عمرہ کے شوق میں مسلمانوں میں سے کسی فرد نے حرکت تک بھی نہ کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ حالت دیکھ کر حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس گئے اور ان سے کہا : اے ام سلمہ ! لوگوں کو کیا ہوا جو میں انھیں تین مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ جانور ذبح کرو ، سر منڈواؤ اور حلال ہوجاؤ مگر کسی نے حرکت تک نہیں کی ۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! پہلے آپ خود جانور ذبح کریں حجام کو بلا کر سر منڈوائیں اور حلال ہوجائیں آپ کی دیکھا دیکھی لوگ بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ کو دیکھ کر کود پڑے جانور ذبح کرنے لگ اور ایک دوسرے کے سر بھی مونڈنے لگے حتی کہ شدید ازدھام ہوگیا ابن شہاب کہتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ستر اونٹ قربانی کے لیے لائے تھے پھر خیبر سے ملنے والا سارا مال غنیمت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں میں تقسیم کیا جو صلح حدیبیہ میں شامل تھے مال کے اٹھارہ حصے کیے اور ہر سو آدمیوں کو ایک ایک حصہ دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30154- حدثنا خالد بن مخلد حدثنا عبد الرحمن بن عبد العزيز الأنصاري حدثني ابن شهاب حدثني عروة بن الزبير "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج عام الحديبية في ألف وثمان مائة وبعث بين يديه عينا له من خزاعة يدعى ناجية يأتيه بخبر القوم حتى نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم غديرا بعسفان عينه بغدير الأشطاط فقال: يا محمد تركت قومك كعب بن لؤي وعامر بن لؤي قد استنفروا لك الأحابيش من أطاعهم قد سمعوا بمسيرك وتركت غدواتهم يطعمون الخزير في دورهم وهذا خالد بن الوليد في خيل بعثوه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ماذا تقولون ماذا تأمرون؟ أشيروا علي قد جاءكم خبر من قريش مرتين وماصنعت، فهذا خالد بن الوليد بالغميم، قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: أترون أن نمضي لوجهنا ومن صدنا عن البيت قاتلناه، أم ترون أن نخالف هؤلاء إلى من تركوا وراءهم فإن اتبعنا منهم عنق قطعه الله تعالى؟ قالوا: يا رسول الله الأمر أمرك والرأي رأيك، فتيامنوا في هذا الفعل فلم يشعر به خالد ولا الخيل التي معه حتى جاوز بهم قترة الجيش، وأوفت به ناقته على ثنية تهبط على غائط القوم يقال لها: بلدح فبركت فقال: حل حل فلم تنبعث، فقالوا: خلات القصواء قال: إنها والله ما خلأت ولا هو لها بخلق ولكن حبسها حابس الفيل، أما والله لا يدعوني اليوم إلى خطة يعظمون فيها حرمة ولا يدعون فيها إلى صلة إلا أجبتهم إليها، ثم زجرها فوثبت فرجع من حيث جاء عوده على بدئه حتى نزل بالناس على ثمد من ثماد الحديبية ظنون قليل الماء يتبرض الناس ماءها تبرضا فشكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قلة الماء فانتزع سهما من كنانته فأمر رجل فغرزه في جوف القليب فجاش بالماء حتى ضرب الناس عنه بعطن. فبينما هو على ذلك إذ مر به بديل بن ورقاء الخزاعي في ركب من قومه من خزاعة فقال: يا محمد هؤلاء قومك قد خرجوا بالعوذ المطافيل يقسمون بالله، ليحولن بينك وبين مكة حتى لا يبقى منهم أحد قال: يا بديل إني لم آت لقتال أحد إنما جئت لأقضي نسكي وأطوف بهذا البيت وإلا فهل لقريش في غير ذلك هل لهم إلى أن أمادهم مدة يأمنون فيها ويستجمون ويخلون فيها بيني وبين الناس، فإن ظهر فيها أمري على الناس كانوا فيها بالخيار أن يدخلوا فيما دخل فيه الناس وبين أن يقاتلوا وقد جمعوا وأعدوا قال بديل: سأعرض هذا على قومك، فركب بديل حتى مر بقريش فقالوا: من أين؟ قال: جئتكم من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن شئتم أخبرتكم بما سمعت منه فعلت؟ فقال ناس من سفهائهم: لا تخبرنا عنه شيئا وقال ناس من ذوي أسنانهم وحكمائهم: بل أخبرنا ما الذي رأيت وما الذي سمعت؟ فاقتص عليهم بديل قصة رسول الله صلى الله عليه وسلم وما عرض عليهم من المدة قال: وفي كفار قريش يومئذ عروة بن مسعود الثقفي، فوثب فقال: يا معشر قريش هل تتهموني في شيء، ألست بالولد ولستم بالوالد؟ وألست قد استنفرت لكم أهل عكاظ؟ فلما بلحوا علي نفرت إليكم بنفسي وولدي ومن أطاعني؟ قالوا: بلى قد فعلت قال: فاقبلوا من بديل ما جاءكم به وما عرض عليكم رسول الله صلى الله عليه وسلم وابعثوني حتى آتيكم بمصافيها من عنده قالوا: فاذهب فخرج عروة حتى نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية فقال: يا محمد هؤلاء قومك كعب بن لؤي وعامر بن لؤي قد خرجوا بالعوذ المطافيل يقسمون لا يخلون بينك وبين مكة حتى تبيد خضراؤهم، وإنما أنت بين قتالهم من أحد أمرين: أن تحتاج قومك، فلم تسمع برجل قط اجتاح أصله قبلك وبين أن يسلمك، من أرى معك فإني لا أرى معك إلا أوباشا من الناس لا أعرف أسماءهم ولا وجوههم فقال أبو بكر وغضب: امصص بظر اللات، أنحن نخذله أو نسلمه. فقال عروة: أما والله إن لولا يد لك عندي لم أجزك بها لأجبتك فيما قلت، وكان عروة قد حمل بدية فأعانه أبو بكر فيها بعون حسن والمغيرة بن شعبة قائم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى وجهه المغفر، فلم يعرفه عروة وكان عروة يكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما مد يده فمس لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعها المغيرة بقدح كان في يده حتى إذا أخرجه قال: من هذا؟ قالوا: المغيرة بن شعبة، قال عروة: أنت بذاك يا غدر، وهل غسلت عنك غدرتك إلا أمس بعكاظ. فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعروة بن مسعود مثل ما قال لبديل، فقام عروة فخرج حتى جاء إلى قومه فقال: يا معشر قريش إني قد وفدت على الملوك على قيصر في ملكه بالشام وعلى النجاشي بأرض الحبشة، وعلى كسرى بالعراق وإني والله ما رأيت ملكا هو أعظم ممن هو بين ظهريه من محمد في أصحابه والله ما يشدون إليه النظر، وما يرفعون عنده الصوت، وما يتوضأ بوضوء إلا ازدحموا عليه، أيهم يظفر منه بشيء، فاقبلوا الذي جاءكم به بديل فإنها خطة رشد قالوا: اجلس ودعوا رجلا من بني الحارث بن مناف يقال له: الحليس قالوا؛ انطلق فانظر ما قبل هذا الرجل وما يلقاك به فخرج الحليس فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا عرفه وقال: هذا الحليس وهو من قوم يعظمون الهدي، فابعثوا الهدي في وجهه فبعثوا الهدي في وجهه، قال ابن شهاب: فاختلف الحديث في الحليس؛ فمنهم من قال: جاءه فقال له مثل ما قال لبديل وعروة، ومنهم من قال: لما رأى الهدي رجع إلى قريش فقال: لقد رأيت أمرا لئن صددتموه إني لخائف عليكم أن يصيبكم غب فأبصروا بصركم، قالوا: اجلس ودعوا رجلا يقال له مكرز بن حفص بن الأحنف من بني عامر بن لؤي، فبعثوه فلما رآه النبي صلى الله عليه وسلم قال: هذا رجل فاجر ينظر بعين فقال له مثل ما قال لبديل وأصحابه في المدة، فجاءهم فأخبرهم فبعثوا سهيل بن عمرو من بني عامر بن لؤي يكاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم على الذي دعا إليه فجاء سهيل بن عمرو. فقال: قد بعثتني قريش إليك أكاتبك على قضية نرتضي أنا وأنت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: نعم اكتب بسم الله الرحمن الرحيم قال: ما أعرف الله وما أعرف الرحمن ولكن اكتب كما كنا نكتب باسمك اللهم، فوجد الناس من ذلك وقالوا: لا نكاتبك على خطة حتى يقر بالرحمن الرحيم قال سهيل: إذا لا أكاتب على خطة حتى أرجع قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اكتب باسمك اللهم هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله قال: لا، لا أقر لو أعلم أنك رسول الله ما خالفتك ولا عصيتك ولكن محمد بن عبد الله، فوجد الناس منها أيضا قال: اكتب محمد بن عبد الله سهيل بن عمرو فقام عمر بن الخطاب فقال: يا رسول الله ألسنا على الحق أو ليس عدونا على الباطل؟ قال: بلى قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال: إني رسول الله ولن أعصيه ولن يضيعني. وأبو بكر متنح بناحية، فأتاه عمر فقال: يا أبا بكر فقال: نعم قال: ألسنا على الحق أو ليس عدونا على الباطل؟ قال بلى قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال: دع عنك ما ترى يا عمر، فإنه رسول الله ولن يضيعه الله ولن يعصيه، وكان في شرط الكتاب: أنه من كان منا فأتاك فكان على دينك رددته إلينا، ومن جاءنا من قبلك رددناه إليك قال: أما من جاء من قبلي فلا حاجة لي برده، وأما التي اشترطت لنفسك فتلك بيني وبينك، فبينما الناس على ذلك الحال إذ طلع عليهم أبو جندل بن سهيل بن عمرو يرسف في الحديد قد خلا له أسفل مكة متوشح السيف فرفع سهيل رأسه فإذا هو بابنه أبي جندل فقال: هذا أول من قاضيتك عليه رده، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا سهيل إنا لم نقض الكتاب بعد قال: وما أكاتبك على خطة حتى ترده قال: فشأنك به. فبهش أبو جندل إلى الناس. فقال: يا معشر المسلمين أرد إلى المشركين يفتنوني في ديني فلصق به عمر وأبوه آخذ بيده يجتره وعمر يقول: إنما هو رجل ومعك السيف فانطلق به أبوه فكان النبي صلى الله عليه وسلم يرد عليهم من جاء من قبلهم يدخل في دينه، فلما اجتمع نفر فيهم أبو بصير ردهم إليهم أقاموا بساحل البحر، فكأنهم قطعوا على قريش متجرهم إلى الشام فبعثوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا نراها منك صلة أن تردهم إليك وتجمعهم، فردهم إليه، فكان فيما أرادهم النبي صلى الله عليه وسلم في الكتاب أن يدعوه يدخل مكة فيقضي نسكه وينحر هديه بين ظهريهم، فقالوا: لا تتحدث العرب أنك أخذتنا ضغطة أبدا ولكن ارجع عامك هذا، فإذا كان قابل أذنا لك فاعتمرت وأقمت ثلاثا وقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال للناس: قوموا فانحروا هديكم واحلقوا وأحلوا، فما قام رجل ولا تحرك، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم الناس بذلك ثلاث مرات، فما تحرك أحد منهم ولا قام من مجلسه، فما رأى النبي صلى الله عليه وسلم ذلك دخل على أم سلمة وكان خرج بها في تلك الغزوة فقال: يا أم سلمة ما بال الناس أمرتهم ثلاث مرار أن ينحروا وأن يحلقوا وأن يحلوا، فما قام رجل إلى ما أمرته به، فقالت يا رسول الله: اخرج أنت فاصنع ذلك، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يمم هديه فنحره ودعا حلاقه فحلقه، فلما رأى الناس ما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبوا إلى هديهم فنحروه، وأكب بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم أن يغم بعضا من الزحام، قال ابن شهاب: وكان الهدي الذي ساق رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه سبعين بدنة، قال ابن شهاب: فقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر على أهل الحديبية على ثمانية عشر سهما لكل مائة رجل سهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل عروہ :
30155 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ ماہ ذی القعدہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجری و انصار کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے حتی کہ جب آپ حدیبیہ پہنچے قریش نے رکاوٹ کھڑی کردی اور آپ کو بیت اللہ سے روک دیا فریقین میں نرم وگرم گفتگو ہوئی حتی کہ قریب تھا کہ فریقین میں جنگ چھڑ جاتی ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بیعت لی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تعداد پندرہ سو (1500) تھی آپ نے درخت کے نیچے بیعت لی ، اسے بیعت رضوان کہا جاتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش سے معاہدہ کیا قریش نے کہا : ہم اس شرط پر معاہدہ کرتے ہیں کہ آپ قربانی اسی جگہ کریں گے حلق کروا کر واپس لوٹ جائیں حتی کہ آئندہ سال ہم آپ کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گے اور بیت اللہ تین دن کے لیے آپ کے لیے خالی چھوڑ دیں گے چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا آپ عکاظ چلے گئے وہیں تین دن قیام کیا پھر واپس لوٹ گئے قریش نے ایک شرط یہ بھی طے کی تھی کہ آپ تلوار کے سوا اسلحہ نہیں لاسکتے آپ اپنے ساتھ اہل مکہ کا کوئی شخص لے کر باہر نہیں جائیں گے ورنہ آپ کو قربانی کرنی ہوگی حتی کہ اگلے سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہی دنوں مکہ داخل ہوئے اور اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی لائے لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت)” لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق لتدخلن المسجد الحرام انشا اللہ آمنین “۔ ” بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا ہے جو مطابق واقع کے ہے تم لوگ انشاء اللہ امن کے ساتھ مسجد میں ضرور جاؤ گے “۔ نیز یہ آیت بھی نازل فرمائی : ”’ الشھرالحرام بالشھر الحرام “۔ حرمت والا مہینہ حرمت والا مہینے کے بدلے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی دیا کہ مسجد میں اگر قریش آپ سے جنگ کریں تو آپ کے لیے بھی مسجد میں جنگ کرنا حلال ہے حدیبیہ میں صلح کے بعد ابو جندل بن سہل بن عمرو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے گھسٹ گھسٹ کر آئے انھیں باپ سہیل بن عمرو نے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو جندل (رض) کو باپ کو واپس کردئیے ۔ (رواہ ابن ابی)
30155- عن عطاء قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم معتمرا في ذي القعدة معه المهاجرون والأنصار، حتى أتى الحديبية فخرجت إليه قريش فردوه عن البيت حتى كان بينهم كلام وتنازع حتى كاد يكون بينهم قتال فبايع النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه - وعدتهم ألف وخمسمائة - تحت الشجرة وذلك يوم بيعة الرضوان، فقاضاهم النبي صلى الله عليه وسلم فقالت قريش:
نقاضيك على أن تنحر الهدي مكانه وتحلق وترجع حتى إذا كان العام المقبل نخلي لك مكة ثلاثة أيام ففعل فخرجوا إلى عكاظ، فأقاموا فيها ثلاثا واشترطوا عليه أن لا يدخلها بسلاح إلا بالسيف ولا تخرج بأحد من أهل مكة إن خرج معك فنحر الهدي مكانه، وحلق ورجع حتى إذا كان في قابل في تلك الأيام دخل مكة وجاء بالبدن معه وجاء الناس معه فدخل المسجد الحرام، فأنزل الله تعالى {لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ} وأنزل عليه {الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ} - الآية، فأحل الله لهم إن قاتلوه في المسجد الحرام أن يقاتلهم، فأتاه أبو جندل بن سهيل بن عمرو وكان موثوقا أوثقه أبوه فرده إلى أبيه. "ش".
نقاضيك على أن تنحر الهدي مكانه وتحلق وترجع حتى إذا كان العام المقبل نخلي لك مكة ثلاثة أيام ففعل فخرجوا إلى عكاظ، فأقاموا فيها ثلاثا واشترطوا عليه أن لا يدخلها بسلاح إلا بالسيف ولا تخرج بأحد من أهل مكة إن خرج معك فنحر الهدي مكانه، وحلق ورجع حتى إذا كان في قابل في تلك الأيام دخل مكة وجاء بالبدن معه وجاء الناس معه فدخل المسجد الحرام، فأنزل الله تعالى {لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ} وأنزل عليه {الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ} - الآية، فأحل الله لهم إن قاتلوه في المسجد الحرام أن يقاتلهم، فأتاه أبو جندل بن سهيل بن عمرو وكان موثوقا أوثقه أبوه فرده إلى أبيه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل عروہ :
30156 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ حدیبیہ والا دن آئندہ سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم پاک میں پڑاؤ کا دن تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30156- عن عطاء قال: كان منزل النبي صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية بالحرم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30157 ۔۔۔ ” مسند سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) “ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال ابو قحافہ کی ایک بیٹی گھر سے باہر نکلی کچھ گھڑ سواروں کی اس سے ملاقات ہوئی اور کسی شخص نے اس کے گلے سے چاندی کا ہار چھین لیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں داخل ہوئے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کھڑے ہو کر کہا : میں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری بہن کا ہار برآمد کیا جائے بخدا کسی شخص نے بھی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بات کا جواب نہ دیا آپ (رض) نے دوسری بار یہی گذارش کی مگر اب کی بار بھی کسی نے جواب نہ دیا ، یہاں آپ (رض) نے بہن سے کہا : اے بہن اپنے ہار کو اللہ کی راہ میں باعث ثواب سمجھو بخدا ! آج لوگوں میں امانتداری کا احساس کم ہے۔ (رواہ البیہقی فی الدلائل)
30157- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لما كان عام الفتح خرجت ابنة لأبي قحافة فلقيتها الخيل وفي عنقها طوق من ورق، فاقتطعه إنسان من عنقها فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد قام أبو بكر فقال: أنشد بالله والإسلام طوق أختي، فوالله ما أجابه أحد ثم قال الثانية فما أجابه أحد فقال: يا أخية احتسبي طوقك، فوالله إن الأمانة اليوم في الناس لقليل. "هق" في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30158 ۔۔۔ زہری سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے آپ نے صفوان بن امیہ ، ابو سفیان بن حرب اور حارث بن ہشام کو پیغام بھیجا میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے اور میں انھیں جانتا ہوں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں حتی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا ” لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین “۔ آج تمہارے اوپر کوئی باز پرس نہیں اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے اور وہ رحمت کرنے والا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا اس پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حیاء آنے لگی کہ میں نے کیا بات کہہ دی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30158- عن الزهري عن بعض آل عمر عن عمر بن الخطاب أنه قال: لما كان يوم الفتح ورسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة أرسل إلى صفوان ابن أمية وإلى أبي سفيان بن حرب وإلى الحارث بن هشام قال عمر: فقلت قد أمكن الله منهم لأعرفنهم بما صنعوا حتى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مثلي ومثلكم كما قال يوسف لإخوته: {لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} قال عمر: فانفضحت حياء من رسول الله صلى الله عليه وسلم كراهية أن يكون بدر مني وقد قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30159 ۔۔۔ عبدالرحمن بن صفوان (رض) کی روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن کپڑے پہنے پھر میں گھر سے چل پڑا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری ملاقات ہوئی جبکہ آپ بیت اللہ سے باہر تشریف لا رہے تھے میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں کیا کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں دو رکعتیں نماز ادا کی ہے۔ (رواہ ابن سعد الطحاوی)
30159- عن عبد الرحمن بن صفوان قال: لبست ثيابي يوم فتح مكة، ثم انطلقت فوافقت النبي صلى الله عليه وسلم حين خرج من البيت فسألت عمر أي شيء صنع النبي صلى الله عليه وسلم حين دخل البيت؟ فقال: صلى ركعتين. ابن سعد والطحاوي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30160 ۔۔۔ ” مسند عثمان “ معان بن رفاعہ سلامی ، ابو خلف اعمی سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جبکہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے ہاتھ میں ابن ابی سرح تھا جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابن ابی سرح کو پائے وہ اس کی گردن اڑا دے اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ کیوں نہ چمٹا ہو سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو معاملہ عام لوگوں کے ساتھ کیا گیا ہے وہ ابن ابی سرح کے ساتھ بھی کیا جائے ابن ابی سرح نے ہاتھ آگے بڑھایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا ، پھر ہاتھ بڑھا کر اس سے بیعت لی اور اسے امن دیا پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا جب میں نے اس سے اعراض کیا تم مجھے دیکھ نہیں رہے تھے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں اشارے اور کنایات کی اجازت نہیں اور نبی کے شایان شان نہیں کہ وہ خیانت کے لیے اشارہ کرے ۔ (رواہ ابن عساکر ومعان بن رفاعۃ ضعیف)
30160- "مسند عثمان" عن معان بن رفاعة السلامى عن أبي خلف الأعمى وكان نظير الحسن بن أبي الحسن عن عثمان بن عفان أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة أخذ بيد ابن أبي سرح وقال رسول
الله صلى الله عليه وسلم: من وجد ابن أبي سرح فليضرب عنقه، وإن وجده متعلقا بأستار الكعبة، فقال: يا رسول الله فيسع ابن أبي سرح ما وسع الناس ومد إليه يده فصرف عنقه ووجهه ثم مد إليه يده فصرف عنه يده، ثم مد إليه يده أيضا فبايعه وآمنه، فلما انطلق قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما رأيتموني فيما صنعت؟ قالوا أفلا أومأت إلينا يا رسول الله قال رسول الله؟ ليس في الإسلام إيماء ولا فتك إن الإيمان قيد الفتك والنبي لا يومئ يعني بالفتك الخيانة". "كر"؛ ومعان بن رفاعة ضعيف.
الله صلى الله عليه وسلم: من وجد ابن أبي سرح فليضرب عنقه، وإن وجده متعلقا بأستار الكعبة، فقال: يا رسول الله فيسع ابن أبي سرح ما وسع الناس ومد إليه يده فصرف عنقه ووجهه ثم مد إليه يده فصرف عنه يده، ثم مد إليه يده أيضا فبايعه وآمنه، فلما انطلق قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما رأيتموني فيما صنعت؟ قالوا أفلا أومأت إلينا يا رسول الله قال رسول الله؟ ليس في الإسلام إيماء ولا فتك إن الإيمان قيد الفتك والنبي لا يومئ يعني بالفتك الخيانة". "كر"؛ ومعان بن رفاعة ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30161 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے جبکہ بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ (360) بت تھے جن کی اللہ کے سوا پوجا کی جاتی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو یہ بت اوندھے منہ کردیئے گئے پھر فرمایا : حق آیا اور باطل بھاگ نکلا بیشک باطل بھاگنے کا سزاوار ہے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں بیت اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی تصویریں دیکھیں بایں طور کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھ میں قسمت کے تیر ہیں آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مشرکین کا ناس کرے ابراہیم (علیہ السلام) تیروں سے قسمت نہیں معلوم نہیں کرتے تھے پھر آپ نے زعفران منگوا کر ان تصویروں کو مسخ کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30161- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وفي البيت وحول البيت ثلاثمائة وستون صنما تعبد من دون الله فأمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبت كلها لوجوهها، ثم قال: جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا، ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فصلى فيه ركعتين فرأى فيه تمثال إبراهيم وإسماعيل وإسحاق قد جعلوا في يد إبراهيم الأزلام يستقسم بها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قاتلهم الله ما كان إبراهيم يستقسم بالأزلام ثم دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بزعفران فلطخه بتلك التماثيل. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30162 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے آپ نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30162- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة وعليه عمامة سوداء. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30163 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فتح مکہ کے موقع پر حکم دیا جبکہ آپ بطحاء میں تھے کہ کعبہ میں جاؤ اور تصویر بھی پاؤ اسے مٹا دو چنانچہ آپ بیت اللہ میں اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک کہ ہر تصویر مٹا نہ دی گئی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30163- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصور في البيت وأن النبي صلى الله عليه وسلم أمر عمر بن الخطاب زمان الفتح وهو بالبطحاء أن يأتي الكعبة فيمحو كل صورة فيها فلم يدخل البيت حتى محيت كل صورة فيها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30164 ۔۔۔ حارث بن غزیہ انصاری کی روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ فتح کے بعد ہجرت نہیں ۔ اب بس ایمان ہی بہت ہے اور جہاد ہے متعہ نسواں حرام ہے متعہ نسواں حرام ہے متعہ نسواں حرام ہے پھر دوسرے دن فرمایا : اے خزاعہ ! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر تم کسی شخص کو قتل کر دو گے میں اس کی دیت دوں گا میں اس شخص سے بڑھ کر کسی کو اللہ تعالیٰ کا نافرمان نہیں سمجھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی حرمت کو حلال سمجھے یا غیر قاتل کو قتل کرے ۔ پھر آپ واپس لوٹ گئے اور دوسرے دن فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں جانتا ہوں کہ مکہ اللہ تعالیٰ کی حرمت والی جگہ ہے اور امن والی جگہ ہے نیز اللہ تعالیٰ کی محبوب تیرین جگہ ہے اگر مجھے اس شہر سے نہ نکالا جاتا میں یہاں سے نہ نکلتا اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اس کی گھاس نہ کاٹی جائے اس کی جھاڑیاں کاٹی جائیں حضرت عباس (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! سوائے اذخر گھاس کے جو سناروں کے لیے لائی جاتی ہے چھتیں ڈھالنے کے لیے کاٹی جاتی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں سوائے اذخر کے مکہ کا شکار نہ بھگایا جائے مکہ میں گری پڑی چیز کو کوئی شخص اپنے لیے حلال نہ سمجھے البتہ اعلان کے لیے اٹھاسکتا ہے۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم)
30164- عن الحارث بن غزية الأنصاري سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم فتح مكة: لا هجرة بعد الفتح إنما هو الإيمان والنية والجهاد متعة النساء حرام، متعة النساء حرام، متعة النساء حرام، ثم كان الغد فقال: يا معشر خزاعة والذي نفسي بيده لو قتلتم قتيلا لأديته لا أعلم أحدا أعدى على الله ممن استحل حرمة الله أو قتل غير قاتله، ثم انصرف ثم كان بعد الغد فقام فقال: والذي نفسي بيده لقد علمت أن مكة حرم الله وأمنه وأحب البلدان إلى الله ولو لم أخرج منها لم أخرج لا يعضد شجرها ولا يحتش حشيشها ولا يختلى خلاها فقال العباس: إلا الإذخر يا رسول الله فإنه للصواغين وظهور البيوت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إلا الإذخر لا ينفر صيدها ولا تحل لقطتها إلا لمنشد الحسن بن سفيان وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30165 ۔۔۔ حارث بن مالک حضرت برصاء لیثی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : آج کے بعد تا قیامت جہاد ہوتا رہے گا ۔ (رواہ ابن شیبۃ ابو نعیم) فائدہ : ۔۔۔ اس حدیث کو اس طرح بھی مفہوم عام میں بیان کیا جاتا ہے ” الجھاد ماض الی یوم القیامۃ “ یعنی جہاد تا قیامت جاری رہے گا ۔ (از مترجم)
30165- عن الحارث بن مالك أن البرصاء الليثي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة: تغزى بعد اليوم إلى يوم القيامة. "ش" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ :
30166 ۔۔۔ ” مسند مسور بن مخرمہ “ ابن اسحاق ، زہری عروہ بن زبیر مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عمرو بن سالم خزاعی مدینہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خزاعہ اور بنی بکر پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے متعلق حاضر ہوا اور آپ کو خبر کرنے لگا اس نے اشعار بھی کہے تھے آپ کے پاس حاضر ہو کہ یہ اشعار کہے ۔ لاھم انی ناشد محمدا حلف ابینا وابیہ الا تلدا فوالدا کنا وکنت ولدا ثمت اسلمنا فلم ننزع یدا فانصر رسول اللہ نصرا عبدا فادع عبادا اللہ یا توا مددا فیھم رسول اللہ قد تجددا فی فیلق کالبحر یجری مذبدا : ان قریشا اخلفوک الموعدا ونقضوا میثاقک المؤکدا وزعموا ان لست تدعوا حدا فھم اذل واقل عددا قد جعلوا لی بکداء مرصدا : ھم بیتونا بالوتیر ھجدا فقتلونا رکعا وسجدا : ۔ ترجمہ : ۔۔۔ اے اللہ ! میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واسطہ دیتا ہوں کہ ہمارے باپ اور ان کے باپ کا پرانا معاہدہ ہے ہم والد تھے اور آپ اولاد تھے وہیں ہم نے اسلام قبول کیا لہٰذا آپ ہم سے دست کش نہ ہوں اے اللہ کے رسول ! ہماری مدد کیجئے اور اللہ کے بندوں کو کمک کے لیے بلوائیں انہی میں اللہ کے رسول موجود ہیں وہ یکسر الگ ہوئے ہیں جس طرح سمندر کا پانی جھاگ سے الگ ہوجاتا ہے قریش نے آپ کا معاہدہ توڑ دیا ہے اور آپ کا لیا ہوا پختہ عہد ختم کردیا ہے چونکہ قریش کا دعوی ہے کہ آپ کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملاتے یوں آپ بےیارومددگار ہیں اور آپ کی تعداد بھی کم ہے قریش نے مقام کداء میں میرے لیے گھات لگا رکھی ہے انھوں نے ہمارے اوپر مارنے کی چال چلی حتی کہ انھوں نے رکوع اور سجدے میں ہمیں قتل کیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمرو بن سالم تمہاری مدد کی جائے گی اتنے میں بادلوں کا ٹکڑا بھٹکتا ہوا فضا کے دوش پر تیرنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بادلوں کے اس ٹکڑے نے بنی کعب کی مدد میں آسانی کردی ہے اسی وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو تیار ہونے کا حکم دیا اور اپنے کوچ کرنے کی خبر کو مخفی رکھا اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ انھیں ہماری روانگی کی خبر نہ ہو حتی کہ ان کے علاقے میں قریش کو آن لیا ۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر) عبداللہ بن خطل کا قتل :
30166- "مسند المسور بن مخرمة" ابن إسحاق حدثني الزهري عن عروة بن الزبير عن مروان بن الحكم والمسور بن مخرمة أنهما أخبراه جميعا أن عمرو بن سالم الخزاعي ركب إلى النبي صلى الله عليه وسلم عندما كان من أمر خزاعة وبني بكر بالوتير حتى قدم المدينة على رسول الله صلى الله عليه وسلم يخبره الخبر وقد قال أبيات شعر فلما قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم أنشده إياها:
لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا
فوالدا كنا وكنت ولدا ... ثمت أسلمنا فلم ننزع يدا
فانصر رسول الله نصرا أعبدا ... فادع عباد الله يأتوا مددا
فيهم رسول الله قد تجردوا ... في فيلق كالبحر يجري مزبدا
إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا
وزعموا أن لست تدعو أحدا ... فهم أذل وأقل عددا
قد جعلوا لي بكداء مرصدا ... هم بيتونا بالوتير هجدا
فقتلونا ركعا وسجدا
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نصرت يا عمرو بن سالم فما برح حتى مرت عنانة في السماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا السحابة لتستهل بنصر بني كعب، وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس بالجهاز وكتمهم مخرجه، وسأل الله أن يعمي على قريش خبره حتى يبغتهم في بلادهم. ابن منده "كر".
لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا
فوالدا كنا وكنت ولدا ... ثمت أسلمنا فلم ننزع يدا
فانصر رسول الله نصرا أعبدا ... فادع عباد الله يأتوا مددا
فيهم رسول الله قد تجردوا ... في فيلق كالبحر يجري مزبدا
إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا
وزعموا أن لست تدعو أحدا ... فهم أذل وأقل عددا
قد جعلوا لي بكداء مرصدا ... هم بيتونا بالوتير هجدا
فقتلونا ركعا وسجدا
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نصرت يا عمرو بن سالم فما برح حتى مرت عنانة في السماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا السحابة لتستهل بنصر بني كعب، وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس بالجهاز وكتمهم مخرجه، وسأل الله أن يعمي على قريش خبره حتى يبغتهم في بلادهم. ابن منده "كر".
তাহকীক: