কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০১২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30127 ۔۔۔ حضرت ابو طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ میں خیبر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا جب ہم خیبر پہنچے دیکھا کہ اہل خیبر کدالیں اور پھاوڑے لیے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے ہیں جب اہل خیبر نے ہمیں دیکھا کہنے لگے : بخدا محمد اور اس کا لشکر آگیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعرہ تکبیر لگا کر فرمایا : جب ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں اس قوم کا وہ دن بہت برا ہوتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30127- عن أبي طلحة قال: كنت ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر فلما انتهينا وقد خرجوا بالمساحي، فلما رأونا قالوا: محمد والله محمد والخميس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الله أكبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30128 ۔۔۔ حضرت ابو طلحہ (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح صبح خیبر پہنچے تو یہ آیت تلاوت کی : ” انااذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین “۔ جب ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں تو اس قوم کی وہ صبح بہت ہی بری ہوتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
30128- عن أبي طلحة أن نبي الله صلى الله عليه وسلم لما صبح خيبر تلا هذه الآية "إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30129 ۔۔۔ ” مسند ابی لیسی “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن فرمایا : میں یہودیوں کی طرف سے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس رسول اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ فتح کرے گا میرے پاس علی کو بھلاؤ چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) پکڑ کر لائے گے چونکہ انھیں آشوب چشم کی شکایت تھی دیکھ نہیں سکتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور شفا پانے کی دعا کی پھر جھنڈا نہیں دیا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کر چل پڑو چنانچہ لشکر کا آخری سپاہی ان سے ملنے نہیں آیا تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر قلعہ فتح کردیا ۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ ورجالہ ثقات)
30129- "مسند أبي ليلى" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر: أما إني سأبعث إليهم رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله عليه فقال: ادعوا لي عليا فجيء به يقاد أرمد لا يبصر شيئا، فتفل في عينيه ودعا له بالشفاء وأعطاه الراية وقال: امض بسم الله فما ألحق به آخر أصحابه حتى فتح على أولهم. أبو نعيم في المعرفة ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30130 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن فرمایا : میں صبح کو جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : مجھے اس دن کے سوا کبھی امارت کی خواہش نہیں ہوئی چنانچہ مجھے از حد شوق ہوا کہ اس شرف کے لیے مجھے بلایا جائے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو بلایا اور انہی کو جھنڈا دیا اور فرمایا جاؤ اور جنگ کرو یہاں تک کہ اللہ تمہارے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے دائیں بائیں توجہ نہیں دینی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) لشکر کو لے کر چل پڑے اور چلتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کس چیز کی بنیاد پر جنگ لڑوں فرمایا : یہود سے لڑتے رہو تاوقتیکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، جب وہ شہادتین کا اقرار کرلیں گویا انھوں نے تم سے اپنی جانوں اور اموال کو بچا لیا الا یہ کہ کوئی حق ان پر واجب ہوجائے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (رواہ ابن جریر)
30130- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر: لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله يفتح الله على يديه، قال عمر: فما أحببت الإمارة قط إلا يومئذ فتشوقت لها رجاء أن أدعى لها، فدعا عليا فبعثه وأعطاه الراية وقال: اذهب فقاتل حتى يفتح الله على يديك ولا تلتفت، فسار علي بالناس ثم وقف ولم يلتفت فقال: يا رسول الله على ما أقاتل الناس؟ قال: قاتلهم حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فإذا قالوا ذلك منعوا منك دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله عز وجل". ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30131 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے یہودیوں کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا : ”’ بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی اور ان کا بھائی ہے اور ان کی تعلیمات کی تصدیق کرنے والا ہے کی طرف سے خبردار اللہ تعالیٰ نے تم سے کہا ہے : اے یہود کی جماعت اور اہل توراۃ بلاشبہ تم اسے اپنی کتاب میں پاتے ہو ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار “۔ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ میں وہ کفاروں کے خلاف بہت سخت ہیں الایۃ۔ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اور اس کتاب کا واسطہ دیتا ہوں جو تمہارے اوپر نازل کی گئی ہے تمہیں اس ذات کا واسطہ دیتا ہوں جس نے قبل ازیں پہلے لوگوں کو من اور سلوی عطا کیا اور جس نے تمہارے آباء کے لیے دریا کو خشک کیا حتی کہ تمہیں فرعون سے نجات دی اس کے عمل سے نجات دی مگر یہ کہ تم مجھے خبر دو کہ کیا تم اپنی کتابوں میں پاتے ہو کہ تم محمد پر ایمان لاؤل گے رشد و ہدایت گمراہی سے ممتاز ہے میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ (رواہ ابن اسحاق وابو نعیم)
30131- عن ابن عباس قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يهود خيبر: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صاحب موسى وأخيه والمصدق لما جاء به موسى ألا إن الله قال لكم: يا معشر اليهود وأهل التوراة وإنكم لتجدون ذلك في كتابكم {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ} - الآية، وإني أنشدكم بالله وبالذي أنزل عليكم وأنشدكم بالذي أطعم من كان قبلكم المن والسلوى وأيبس البحر لآبائكم حتى أنجاكم من فرعون وعمله إلا أخبرتموني، هل تجدون فيما أنزل الله عليكم أن تؤمنوا بمحمد؟ قد تبين الرشد من الغي وأدعوكم إلى الله وإلى رسوله. ابن إسحاق وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30132 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمارے لیے خیبر فتح کردیا میں نے کہا : یا رسول اللہ ! اب ہم کھجوروں سے شکم سیر ہوں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30132- عن عائشة قالت: لما فتح الله علينا خيبر قلت يا رسول الله الآن نشبع من التمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30133 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی زمین اور باغات اہل خیبر کو اس شرط پردے دیئے کہ وہ ان کے اموال میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کام کریں گے اور آپ کے لیے اس کا نصف ہوگا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30133- عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولرسول الله صلى الله عليه وسلم شطرها. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30134 ۔۔۔ مکحول روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کیا تکیہ لگا کر کھانا کھایا ٹوپی پہنی اور چہرہ اقدس پر تازگی آگئی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30134- حدثنا الصغدي بن سنان العقيلي عن محمد بن الزبير الحنظلي عن مكحول قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر أكل متكئا ولبس برطلة وتنور. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30135 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کیا تو حضرت حجاج بن علاط (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مکہ میں میرا مال ہے اور میرا اہل و عیال بھی وہیں ہیں میں ان کے پاس جانا چاہتا ہوں اور مجھے کھلی چھٹی دی جائے تاکہ آپ کے متعلق کچھ کہہ کر میں مال لے آؤں ، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اجازت دے دی کہ جو جی چاہے کہو چنانچہ حجاج (رض) اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا : تمہارے پاس جو کچھ ہے جمع کرو میں محمد اور اس کے ساتھیوں کی غنیمتیں خریدنا چاہتا ہوں چونکہ انھیں شکست ہوچکی ہے اور ان کے اموال چھین لیے گئے ہیں یہی افواہ مکہ میں عام کردی مسلمان سن کر کبیدہ خاطر ہوئے جبکہ مشرکین فرحان و شاداں ہوئے حضرت عباس (رض) کو جب خبر ہوئی تو پریشانی کے عالم میں ٹانگوں میں کھڑے ہونے کی سکت باقی نہ رہی پھر اپنے غلام کو حجاج (رض) کی طرف بھیجا اور کہلوا بھیجا کہ تیرا ناس ہو تو نے کیسی خبر لائی ہے اور تو کیا کہتا پھر رہا ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خیر و بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے حجاج (رض) نے جوابا کہا : ابو الفضل (رض) کو سلام کہو اور ان سے کہو کہ مجھ سے کہیں خلوت میں ملیں میرے پاس ایسی خبر ہے جس سے وہ خوش ہوجائیں گے چنانچہ غلام واپس لوٹ آیا اور آتے ہی کہا : اے ابو الفضل خوش ہوجائیں حضرت عباس (رض) خوشی سے اچھل پڑے حتی کہ غلام کی پیشانی چوم لی پھر غلام نے حجاج (رض) کو پیغام دیا حضرت عباس (رض) نے غلام کو انعام میں آزادی سے سرفراز کیا ، پھر طے شدہ امر کے مطابق حجاج (رض) حضرت عباس (رض) کے پاس آئے اور انھیں خبر دی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کرلیا ہے اور اہل خیبر کے اموال غنیمت کی مد میں رکھے ہیں۔ اور مسلمانوں میں ان کے حصے تقسیم کردیئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لیے منتخب کیا ہے پھر صفیہ کو اختیار دیا کہ انھیں آزاد کردیا پھر چاہے تو آپ کی زوجیت میں رہے یا اپنے خاندان سے جا ملے ۔ چنانچہ صفیہ (رض) نے یہ اختیار اپنایا کہ انھیں آزاد کیا جائے اور اپنی زوجیت میں لے لیا جائے البتہ میں نے یہ افواہی تدبیر محض اپنا مال حاصل کرنے کے لیے کی ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لی تو آپ نے مجھے اجازت دے دی لہٰذا آپ تین دن تک یہ خبر مخفی رکھیں پھر جیسے چاہیں افشا کریں چنانچہ حجاج (رض) کی بیوی نے مال ومتاع جمع کیا جس میں زیورات بھی تھے بیوی نے حجاج (رض) کے سپرد کیا پھر حجاج (رض) نے کوچ کرنے کی تیاری کی ۔ تین دن کے بعد حضرت عباس (رض) حجاج (رض) کی بیوی کے پاس گئے اور اس سے کہا : تمہارے خاوند نے کیا کیا بیوی نے کہا وہ تو فلاں دن یہاں سے روانہ ہوگیا ہے اے ابو الفضل اللہ تعالیٰ آپ کو پریشان نہ کرے یقیناً یہ خبر سن کر ہم بھی پریشان ہوئے ہیں عباس (رض) نے کہا : جی ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بےیارومددگار نہیں چھوڑا جبکہ حالات وہی ہیں جو ہم چاہتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ اپنے رسول کو فتح میں دیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو اپنے لیے منتخب کیا ہے اگر تمہیں اپنے خاوند کی ضرورت ہے تو اس کے پاس چلی جاؤ ، حجاج (رض) کی بیوی نے کہا بخدا ! میں آپ کو سچا سمجھتی ہوں عباس (رض) نے کہا : بخدا میں سچ کہتا ہوں حقیقت وہی ہے جو میں نے تمہیں بتادی ہے پھر حضرت عباس (رض) قریش کی ایک مجلس کے پاس گئے جبکہ قریش کہہ رہے تھے اے ابوالفضل تمہیں خیر و بھلائی ملے عباس (رض) نے جوابا کہا : اللہ کا شکر ہے مجھے صرف اور صرف خیر و بھلائی ہی ملی ہے مجھے حجاج بن علاط نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ اپنے رسول کے لیے فتح کردیا ہے اور اس کے حصہ بھی مسلمانوں میں تقسیم کردیئے ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو اپنے لیے منتخب کیا ہے حجاج نے مجھ سے مطالبہ کیا تھا کہ میں تین دن تک حقیقت حال مخفی رکھوں وہ تو اس طرح کی افواہ پھیلا کر اپنا مال یہاں سے لے جانا چاہتا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی پریشانی کو مشرکین پر پلٹ دیا اور مسلمان یہ خبر سن کر فرحان وشادان ہوگئے مسلمان جمگٹھا بنا کر حضرت عباس (رض) کے پاس آئے حضرت عباس (رض) نے مسلمانوں کو حقیقت حال سے آگاہ کیا سن کر مسلمان خوش ہوگئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو رسوا کیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی والطبرانی وابو نعیم وابن عساکر وروی النسائی بعضہ) غزوہ حدیبیہ :
30135- عن أنس قال لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر قال الحجاج بن علاط: " يا رسول الله إن لي بمكة مالا وإن لي بها أهلا وإني أريد أن آتيهم وأنا في حل إن نلت منك أو قلت شيئا فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقول ما شاء، فأتى امرأته حين قدم فقال: اجمعي ما كان عندك فإني أريد أن اشتري من غنائم محمد وأصحابه فإنهم قد استبيحوا وأصيبت أموالهم وفشا ذلك بمكة فانقمع المسلمون وأظهر المشركون فرحا وسرورا وبلغ الخبر العباس بن عبد المطلب فعقر وجعل لا يستطيع أن يقوم، ثم أرسل غلاما إلى الحجاج بن علاط ويلك ماذا جئت به وماذا تقول؟ فما وعد الله عز وجل خير مما جئت به فقال الحجاج: اقرأ على أبي الفضل السلام وقل له: فليخل بي في بعض بيوته لآتيه فإن الخبر على ما يسره فجاءه غلامه فلما بلغ الباب قال: أبشر يا أبا الفضل فوثب العباس فرحا حتى قبل بين عينيه فأخبره بما قال الحجاج فأعتقه، ثم جاءه الحجاج فأخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد افتتح خيبر وغنم أموالهم وجرت سهام الله في أموالهم واصطفى رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية بنت حيي واتخذها لنفسه، وخيرها بين أن يعتقها وتكون زوجة، أو تلحق بأهلها، فاختارت أن يعتقها وتكون زوجة، ولكن جئت لمال كان لي ههنا أردت أن أجمعه فأذهب به فاستأذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن لي أن أقول ما شئت فأخف علي ثلاثا ثم اذكر ما بدا لك، فجمعت امرأته ما كان عندها من حلي أو متاع فدفعته إليه ثم انشمر به، فلما كان بعد ثلاث أتى العباس امرأة الحجاج فقال: ما فعل زوجك؟ فأخبرته أنه قد ذهب يوم كذا وكذا وقالت: لا يخزيك الله يا أبا الفضل لقد شق علينا الذي بلغك، قال: أجل لا يخزيني الله ولم يكن بحمد الله إلا ما أحببنا، فتح الله خيبر على رسوله، واصطفى رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية لنفسه، وإن كان لك حاجة في زوجك فالحقي به، قالت: أظنك والله صادقا؟ قال: فإني والله صادق والأمر على ما أخبرتك، ثم ذهب حتى أتى مجلس قريش وهم يقولون إذا مر بهم: لا يصيبك إلا خير يا أبا الفضل، قال: لم يصيبني إلا خير بحمد الله لقد أخبرني الحجاج بن علاط أن خيبر فتحها الله على رسوله وجرت سهام الله فيها، واصطفى رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية لنفسه، وقد سألني أن أخفي عنه ثلاثا، وإنما جاء ليأخذ ماله وما كان له من شيء ههنا ثم يذهب، فرد الله الكآبة التي كانت بالمسلمين على المشركين، وخرج المسلمون من كان دخل بيته مكتئبا حتى أتوا العباس، فأخبرهم الخبر، فسر المسلمون ورد الله ما كان من كآبة أو غيظ أو حزن على المشركين.

"حم، ع، طب" وأبو نعيم، "كر"؛ وروى "ن" بعضه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30136 ۔۔۔ واقدی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرمایا کرتے تھے کہ حدیبہ کی فتح سے بڑھ کر اسلام میں کوئی اور فتح عظیم نہیں ۔ لیکن اس دن مسلمانوں کی آراء کوتاہ تھیں بندے تو جلد باز ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ جلد بازی سے پاک ہے حتی کہ معاملات رب تعالیٰ کے مرضی کے مطابق ہوئے میں نے سہیل بن عمرو کو حجۃ الوداع کے موقع پر دیکھا کہ وہ ذبح گاہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کھڑا اونٹوں کو آپ کے قریب کررہا تھا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دست اقدس سے اونٹوں کا نحر کر رہے تھے پھر حجام کو بلوا کر سر منڈوایا ، میں نے سہیل کو دیکھا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال مبارک چن رہا تھا میں نے اسے دیکھا آپ کے موئے مبارک وہ اپنی آنکھوں پر لگا رہا تھا جبکہ مجھے حدیبیہ کے دن اس کی وہ بات بھی یاد ہے کہ وہ معاہدہ نامہ کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوانے سے انکار کررہا تھا اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھوانے سے بھی انکار کررہا تھا ، میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس نے سھیل کو اسلام کی ہدایت سے مالا مال کیا ۔ (رواہ ابن عساکر) ۔
30136- الواقدي قال: كان أبو بكر الصديق يقول: ما كان فتح أعظم في الإسلام من فتح الحديبية ولكن الناس يومئذ قصر رأيهم عما كان بين محمد وربه، والعباد يعجلون والله لا يعجل كعجلة العباد حتى يبلغ الأمور ما أراد، لقد نظرت إلى سهيل بن عمرو في حجة الوداع قائما عند المنحر يقرب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بدنة ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينحرها بيده، ودعا الحلاق فحلق رأسه، وأنظر إلى سهيل يلتقط من شعره وأراه يضعه على عينيه، وأذكر إباءه أن يقر يوم الحديبية بأن يكتب بسم الله الرحمن الرحيم، ويأبى أن يكتب محمد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فحمدت الله الذي هداه للإسلام. "كر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30137 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے ساتھ صلح کی اور انھیں کچھ دیا بھی اگر اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر کسی اور شخص کو امیر مقرر کرتے اور وہ وہی کچھ کرتا جو اللہ کے پیغمبر نے کیا ہے میں قطعا اس کی بات سنتا اور نہ اس کی اطاعت کرتا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی یہ شرط تسلیم کرلی کہ کفار سے جو شخص مسلمانوں سے آملے گا مسلمان اسے واپس کردیں گے اور جو شخص کفار سے جا ملے گا کفار اسے واپس نہیں کریں گے ۔ (رواہ ابن سعدہ وسند صحیح)
30137- عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: لقد صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل مكة على صلح وأعطاهم شيئا لو أن نبي الله صلى الله عليه وسلم أمر علي أميرا فصنع الذي صنع نبي الله ما سمعت ولا أطعت وكان الذي جعل لهم أن من لحق من الكفار بالمسلمين ردوه، ومن لحق بالكفار لم يردوه. ابن سعد؛ وسنده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30138 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر صلح سے قبل کچھ غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نکل کر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان غلاموں کے آقاؤں نے خط لکھا کہ یہ لوگ تمہارے دین میں راغب ہو کر نہیں آئے وہ تو غلامی سے بھاگ کر تمہارے پاس آئے ہیں کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ان کے آقاؤں نے سچ کہا ہے آپ انھیں واپس کردیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصہ ہوئے اور فرمایا : اے جماعت قریش ! میں تمہیں حق بات سے باز رہتے کیوں دیکھ رہا ہوں حتی کہ رب تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کر دے جو تمہارے گردنیں مارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان غلاموں کو واپس کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ بندے ہیں جبکہ صلح کے بعد کچھ اور غلام نکل کر آپ کے پاس آئے آپ نے شرط معاہدہ کے مطابق انھیں کفار کی طرف واپس کردیا ۔ (رواہ ابو داؤد وابن جریر وصححہ والبخاری ومسلم والضیاء)
30138- عن علي قال: خرج عبدان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية قبل الصلح فكتب إليه مواليهم فقالوا: يا محمد ما خرجوا إليك رغبة في دينك وإنما خرجوا هربا من الرق، فقال ناس: صدقوا يا رسول الله ردهم إليهم فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما أراكم تنتهون يا معشر قريش حتى يبعث الله عليكم من يضرب رقابكم على هذا، وأبى أن يردهم وقال: هم عتقاء الله عز وجل، وخرج آخرون بعد الصلح فردهم. "د" وابن جرير وصححه، "ق، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30139 ۔۔۔ حضرت براء (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ میں جانے سے روک دیا گیا تو آپ نے اہل مکہ کے ساتھ صلح کردی اور اس کی شرائط میں یہ تھا کہ آئندہ صرف تین دن رہیں مسلمان تلواریں نیام میں کرکے آئیں اہل مکہ سے اپنے ساتھ کسی شخص کو نہیں لے کر جائیں گے اور جو شخص مکہ میں رہنا چاہے ، اسے نہیں روکیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : یہ شرائط لکھ دو چنانچہ معاہدہ نامہ کی ابتداء یوں کی : بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے مشرکین نے اسے پر اعتراض کیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے آپ کی اتباع کرلیتے البتہ یوں لکھو ” محمد بن عبداللہ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے فرمایا : یہ جگہ مجھے دکھاؤ چنانچہ آپ نے اپنے دست اقدس سے مٹا دیا اور اس کی بجائے ابن عبداللہ لکھوایا چنانچہ تین دن تک قیام کیا جب تیسرا دن ہوا مشرکین نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے کہا کہ اپنے صاحب سے کہو : آج شرط کا تیسرا اور آخری دن ہے لہٰذا ان سے کہو کہ چلے جائیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا : آپ نے فرمایا : جی ہاں چنانچہ آپ یہاں سے کوچ کرگئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30139- عن البراء قال: لما حصر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البيت صالحه أهل مكة على أن يدخلها فيقيم بها ثلاثا، ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح السيف وقرابه، ولا يخرج معه أحد من أهلها، ولا يمنع أحدا أن يمكث بها ممن كان معه فقال لعلي: اكتب الشرط بيننا: بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله، فقال المشركون: لو نعلم أنك رسول الله تابعناك، ولكن اكتب محمد بن عبد الله، فأمر عليا أن يمحاها فقال علي: لا والله لا أمحاها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أرني مكانها فأراه مكانها فمحاها، وكتب ابن عبد الله فأقام فيها ثلاثة أيام، فلما كان اليوم الثالث قالوا لعلي: هذا آخر يوم من شرط صاحبك، فمره فليخرج، فحدثه بذلك، فقال: نعم فخرج".

"ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30140 ۔۔۔ حضرت براء (رض) کی روایت ہے کہ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر حدیبیہ اترے جو لوگ پہلے پہنچے انھوں نے پانی پی لیا جبکہ بعد میں آنے والوں کے لیے پانی نہ بچا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں پر بیٹھے پھر ڈول منگوایا پانی لیا اور کلی کرکے کنویں میں پانی ڈالا پھر اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی چنانچہ کنویں کا پانی وافر ہوگیا حتی کہ سب لوگ سیراب ہوگئے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30140- عن البراء قال: نزلنا يوم الحديبية فوجدنا ماءها قد شربه أوائل الناس فجلس النبي صلى الله عليه وسلم على البئر، ثم دعا بدلو منها فأخذ منه بفيه، ثم مجه فيها ودعا الله فكثر ماؤها حتى تروى الناس منها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30141 ۔۔۔ حضرت براء (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ۔ (1400) سو تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30141- عن البراء قال: كنا يوم الحديبية ألفا وأربعمائة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30142 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں کی تعداد پندرہ (15) سو تھی ۔ (ابو نعیم فی المعرفۃ)
30142- عن جابر قال: كان أصحاب الشجرة ألفا وخمسمائة. أبو نعيم في المعرفة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30143 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد 14 سو تھی اس دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم آج اہل زمین میں سب سے افضل ہو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، وابو نعیم)
30143- عن جابر قال: كنا يوم الحديبية ألفا وأربعمائة، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أنتم اليوم خير أهل الأرض. "ش" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30144 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ حدیبیہ میں لوگوں کو شدت پیاس نے سخت تنگ کیا حتی کہ قریب تھا کہ ان کی گردنیں جھڑ جائیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم ہلاک ہوگئے آپ نے فرمایا : ہرگز نہیں میرے ہوتے ہوئے تم ہلاک نہیں ہو گے پھر آپ نے ڈول میں ہاتھ ڈالا ڈول میں مدبھر پانی تھا اس میں انگلیاں پھیلا دیں قسم اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت سے سرفراز کیا ہے میں نے کنویں میں پھوٹ پھوت کر پانی جاتے دیکھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں کے بیچ سے نکل رہا تھا آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے زندہ ہوجا پھر ہم نے سیر ہو کر پانی پیا اور اپنی سواریوں کو بھی پلایا اپنی مشکیزے بھی بھر لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا نبی اور اس کا رسول ہوں جو شخص بھی صدق دل سے کلمہ شہادت پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا کسی نے جابر (رض) سے پوچھا اس دن تمہاری تعداد کیا تھی ؟ جابر (رض) نے کہا : ہم چودہ سو (1400) تھے اگر یہ لوگ منی جاتے تو ان کے لیے کافی ہوتی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30144- عن جابر قال: عطش الناس وهم بالحديبية حتى كادت أن تنقطع أعناقهم من شدة العطش، ففزعوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالوا: هلكنا يا رسول الله هلكنا، قال: كلا لن تهلكوا وأنا فيكم، ثم أدخل يده في تور كان بين يديه فيه قريب من مد ماء ففرج فيه أصابعه، فوالذي أكرمه بنبوته لرأيت الماء يفور من بين أصابعه كالعيون التي تجري، فقال: حي باسم الله فشربنا وسقينا الركاب، ثم عمدنا إلى المزاد والقرب، فملأناها حتى صدرنا فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله وأني نبي الله ورسوله لا يقولها عبد بصدق قلبه ولسانه إلا دخل الجنة قيل: كم كنتم يومئذ؟ قال: أربع عشرة مائة، ولو شهد ذلك اليوم أهل منى لوسعهم وكفاهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30145 ۔۔۔ ” مسند جریر بجلی “ جریر (رض) کی روایت ہے کہ جب ہم مقام غمیم پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی طرف سے خبر ملی کہ انھوں نے خالد بن ولید کی کمان میں کچھ شہسوار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے بھیجے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے مڈ بھیڑ کرنا اچھا نہ سمجھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر رحم دل تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون شخص ہے جو متبادل راستے میں ہماری راہنمائی کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : میرا باپ آپ پر فدا ہو اس کام کے لیے میں تیار ہوں۔ چنانچہ ہم نے یہ راستہ چھوڑ دیا اور متبادل راستے پر چلتے ہوئے ہم حدیبیہ آن پہنچے حدیبیہ ایک کنواں ہے اسمیں آپ نے ایک یا دو تیر ڈالے پھر کنویں میں لعاب ڈالا پھر دعا کی کنواں پانی سے پھوٹ پڑا حتی کہ پانی اتنا اوپر آگیا کہ اگر ہم چاہتے چلو بھر لیتے ۔ (رواہ الطبرانی)
30145- "من مسند جرير البجلي" لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم خبرا من قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل يتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتلقاه، وكان بهم رحيما فقال: من رجل يعدل بنا عن الطريق؟ فقلت: أنا بأبي أنت فأخذتهم في طريق قد كان مهاجري بها فدافد وعتاب، فاستوت بنا الأرض حتى أنزلته على الحديبية، وهي نزح فألقى فيها سهما أو سهمين من كنانته، ثم بصق فيها ثم دعا ففارت عيونها حتى أني أقول: لو شئنا لاغترفنا بأيدينا. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوة الحديبية
30146 ۔۔۔ ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کی ہے کہ جب ہم مقام غمیم پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر پہنچی کہ قریش نے خالد بن ولید کی کمان میں گھوڑ سواروں کو لشکر دے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے لیے بھیجا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مد مقابل ہونا اچھا نہ سمجھا آپ کو ان پر رحم بھی آ رہا تھا آپ نے فرمایا : کون شخص ہمیں متبادل راستے پر لے جائے گا میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اس کام کے لیے میں تیار ہوں چنانچہ میں لشکر کو متبادل راستے پر لے کر چلا اور یوں ہم راستہ طے کرتے ہوئے حدیبیہ آپہنچے حدیبیہ ایک کنواں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ترکش سے ایک یا دو تیر کنویں میں ڈالے پھر اس میں لعاب ڈالا پھر دعا کی کنواں پانی سے پھوٹ پڑا اگر ہم چاہتے اپنے پیالے بھر لیتے (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم)
30146- عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل نتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلقاه وكان بهم رحيما، فقال: من رجل يعدلنا عن الطريق؟ فقلت: أنا بأبي أنت وأمي يا رسول الله، فأخذت بهم في طريق قد كان مهاجري بها فدافد وعتاب، فاستوت بي الأرض حتى أنزلته على الحديبية وهي نزح قال: فألقى فيها سهما أو سهمين من كنانته، ثم بصق فيها، ثم دعا ففارت عيونها حتى أني لأقول: لو شئنا لاغترفنا بأقداحنا. "ش" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক: