কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০১০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30107 ۔۔۔ مہلب بن ابی صفرہ کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدہ ہوا کہ ابو سفیان شب خون نہ مار دے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : اگر تمہارے اوپر شب خون مارا جائے اور تم حم کا ورد کرو تو مشرکین کی مدد نہیں ہوگی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30107- عن المهلب بن أبي صفرة قال: قال أصحاب محمد: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم حفر الخندق وهو يخاف أن يبيتهم أبو سفيان: " إن بيتم فإن دعواكم حّم لا ينصرون". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30108 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ خندق سے فارغ ہو کر واپس لوٹے اسلحہ اتارا اور غسل کیا آپ کے پاس جبرائیل امین تشریف لائے جب کہ ان کا سر غبار سے اٹا پڑا تھا فرمایا : آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے بخدا ! میں نے اسلحہ نہیں اتارا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب کس طرف حکم ہے ؟ جبرائیل امین نے فرمایا : اب اس طرف کا ارادہ ہے بنی قریظہ کی طرف ارادہ ہے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا چنانچہ اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی قریظہ کی طرف چل پڑے (رواہ ابن عساکر)
30108- عن عائشة قالت "لما رجع رسول اله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق وضع السلاح واغتسل، فأتاه جبريل وقد عصب رأسه الغبار فقال: وضعت السلاح، والله ما وضعته فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: فأين؟ قال: ههنا وأومى إلى بني قريظة، فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إليهم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30109 ۔۔۔ حسن بصری (رح) کی روایت ہے کہ قریظہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ پر اپنے قلعہ سے نیچے اترے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تین سو آدمی نہ تیغ کئے اور جو باقی بچے ان سے فرمایا سر زمین محشر کی طرف چلے جاؤ ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں یعنی شام کی طرف چنانچہ آپ نے انھیں شام کی طرف چلتا کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30109- عن الحسن قال نزلت قريظة على حكم سعد بن معاذ فقتل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم منهم ثلاثمائة وقال لبقيتهم: " انطلقوا إلى أرض المحشر فإنا في آثاركم يعني أرض الشام فسيرهم إليها". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30110 ۔۔۔ شعبی روایت کی ہے کہ کہ اہل قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ (رض) کے بازو پر تیر مارا حضرت سعد (رض) نے کہا : یا اللہ ! مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک مجھے ان (قریظہ) سے تشفی نہ ہوجائے چنانچہ بنو قریظہ حضرت سعد (رض) کے فیصلہ کے مطابقت قلعوں سے نیچے اترے آپ (رض) نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے فوجیوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30110- عن الشعبي قال: رمى أهل قريظة سعد بن معاذ فأصابوا أكحله فقال: اللهم لا تمتني حتى تشفيني منهم، فنزلوا على حكم سعد بن معاذ، فحكم أن يقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بحكم الله حكمت. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30111 ۔۔۔ عروہ روایت کی ہے کہ بنو قریظہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر قلعوں سے نیچے اترے چنانچہ انھوں نے فیصلہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا حضرت سعد (رض) نے فیصلہ کیا کہ ان کے فوجیوں کو قتل کیا جائے جبکہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کردیئے جائیں عروہ کہتے ہیں : مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30111- عن عروة أنهم نزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فردوا الحكم إلى سعد بن معاذ فحكم فيهم سعد بن معاذ أن يقتل مقاتلتهم وتسبى النساء والذرية وتقسم أموالهم، فأخبرت أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: لقد حكمت فيهم بحكم الله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30112 ۔۔۔ عکرمہ (رض) روایت کی ہے کہ غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر ایک یہودی نے مقابلہ کے لیے للکارا حضرت زبیر (رض) اس کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے صفیہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر (میرا بیٹا) زبیر مارا جائے مجھے اس پر از حد دکھ ہوگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان میں سے جو بھی غالب ہوا اور دوسرے کو قتل کر دے گا چنانچہ زبیر (رض) یہودی پر غالب ہوگئے اور اسے قتل کردیا اس کا سازو سامان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) کو انعام کے طور پردے دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
30112- عن عكرمة قال: لما كان يوم بني قريظة قال رجل من يهود: من يبارز؟ فقام إليه الزبير فبارزه فقالت صفية: واجدي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيهما علا صاحبه قتله فعلاه الزبير فقتله فنفله النبي صلى الله عليه وآله وسلم سلبه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30113 ۔۔۔ عکرمہ روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوات بن جبیر کو بنی قریظہ کی طرف گھوڑے پر سوار کرکے بھیجا اس گھوڑے کا نام ” جناح “ تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30113- عن عكرمة أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بعث خوات بن جبير إلى بني قريظة على فرس يقال له جناح. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30114 ۔۔۔ محمد بن سیرین روایت کی ہے کہ حئی بن اخطب نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کسی کی پشت پناہی نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کو ضامن رکھا غزوہ قریظہ کے دن حئی بن اخطب اور اس کا بیٹا لایا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پیمانہ پورا پورا دو چنانچہ حکم دیا اور اس کی گردن اڑا دی گئی اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی قتل کیا گیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30114- عن محمد بن سيرين قال: " قال عاهد حيي بن أخطب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن لا يظاهر عليه أحدا وجعل الله عليه كفيلا، فلما كان يوم قريظة أتي به وبابنه سلما فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أوف الكيل فأمر به فضربت عنقه وعنق ابنه". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30115 ۔۔۔ یزید بن اصم روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو رسوا کرکے واپس کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر واپس آئے اور سر دھو رہے تھے کہ اتنے میں جبرائیل امین (علیہ السلام) آنکلے اور کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے آپ نے اسلحہ کھول دیا ہے حالانکہ فرشتوں نے ابھی تک اسلحہ نیچے نہیں رکھا بنی قریظہ کے قلعہ کے پاس ہمارے ساتھ چلئے (رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان کیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بنی قریظہ کے قلعہ کے پاس جا پہنچے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30115- عن يزيد بن الأصم قال: "لما كشف الله الأحزاب ورجع النبي صلى الله عليه وسلم إلى بيته يغسل رأسه أتاه جبريل فقال: عفا الله عنك وضعت السلاح ولم تضعه ملائكة السماء ائتنا عند حصن بني قريظة فنادى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأتاهم عند الحصن. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی فریظہ :
30116 ۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ بنو قریظہ نے ابو سفیان اور اس کے اتحادیوں کی طرف غزوہ خندق کے موقع پر پیغام بھیجا کہ اپنی جگہ پر ثابت قدم رہو ہم عنقریب مسلمانوں کے پیچھے سے ان کے مرکز پر حملہ کریں گے یہ بات نعیم بن مسعود اشجعی نے سن لی نعیم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاہدہ کر رکھا تھا نعیم اس وقت عیینہ بن حصن کے پاس تھا وہ اسی وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل دیا اور آپ کو وہ تمام خبر کردی جسے بنی قریظہ اتحادیوں کی طرف بھیجا چاہتے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید ہم ہی نے انھیں اس کا حکم دیا ہو نعیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سن کر اٹھ گیا تاکہ غطفان تک پہنچا دے نعیم ایسا شخص تھا کہ اسے کوئی بات ہضم نہیں ہوتی تھی نعیم جب بنی غطفان کی طرف جانے لگا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے یہ جو کچھ فرمایا ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو اسے کر گزرئیے اگر یہ آپ کی رائے ہے تو بنی قریظہ کا معاملہ اس سے آسان تر ہے کہ آپ کچھ کہیں اور اس میں آپ پر اسے ترجیح دی جائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایک رائے ہے چونکہ جنگ ایک دھوکا اور چال ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعیم کے پیچھے قاصد دوڑایا جب نعیم واپس آگیا آپ نے اس سے کہا : میں نے جو کچھ ابھی کہا ہے اس کا کسی سے تذکرہ نہ کرنا چنانچہ نعیم چلا گیا اور عینیہ بن حصن کے پاس جا پہنچا عینیہ کے پاس بنی غطفان کے لوگ بھی تھے نعیم نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حق ہے لوگوں نے جواب دیا نہیں کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وہی بات بتائی ہے جسے بنو قریظہ نے تمہاری طرف بھیجا ہے ” کہ شاید ہم ہی نے انھیں اس کا حکم دیا ہے “ پھر محمد نے مجھے کسی سے تذکرہ کرنے سے منع کیا ۔ عینیہ ابو سفیان کے پاس آیا اور اسے نعیم کی کہی ہوئی بات بتلا دی ابو سفیان نے کہا : ہم بنی قریظہ کو پیغام بھیجیں گے اور ہم ان سے رہن کا مطالبہ کریں گے اگر انھوں نے ہمیں رہن دے دیا تو وہ سچے ہوں گے اور اگر انھوں نے رہن سے انکار کردیا تو لامحالہ وہ دھوکا کرنا چاہتے ہیں ، چنانچہ بنی قریظہ کے پاس ابو سفیان کا ایلچی آیا اور ان سے رہن کا مطالبہ کیا کہ اگر تم رہن دو گے تو تم محمد اور ان کے ساتھیوں کی مخالفت میں سچے ہو لہٰذا تم اپنے بچوں کو بطور رہن ہمارے حوالے کرو اور کل صبح لیتے آؤ بنی قریظہ نے کہا : اب ہفتہ کی رات داخل ہوچکی ہے لہٰذا ہمیں ایک دن کی مہلت دو تاکہ ہفتے کا د گزر جائے ۔ قاصد یہ پیغام لے کر ابو سفیان کے پاس واپس لوٹ آیا چنانچہ ابو سفیان اور دوسرے سرداروں نے کہا کہ یہ بنی قریظہ کی چال اور دھوکا ہے لہٰذا تم چلو ادھر سے اللہ تعالیٰ نے اتحادیوں پر آندھی بھیج دی حتی کہ ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو اپنی سواری تک رسائی حاصل کر پاتا ۔ یہ اتحادیوں کی شکست تھی اسی وجہ سے علماء نے جنگ میں دھوکا اور چال چلنے کی رخصت دی ہے۔ (رواہ ابن جریر)
30116- عن ابن شهاب قال: أرسلت بنو قريظة إلى أبي سفيان وإلى من معه من الأحزاب يوم الخندق أن اثبتوا فإنا سنغير على بيضة المسلمين من ورائهم فسمع ذلك نعيم بن مسعود الأشجعي وهو موادع لرسول الله صلى الله عليه وسلم وكان عند عيينة بن حصن حين أرسلت بذلك بنو قريظة إلى الأحزاب فأقبل نعيم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره خبر ما أرسلت به بنو قريظة إلى الأحزاب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فلعلنا نحن أمرناهم بذلك فقام نعيم بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ليحدث بها غطفان وكان نعيم رجلا لا يملك الحديث فلما ولى نعيم ذاهبا إلى غطفان قال عمر بن الخطاب: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا الذي قلت إما هو من عند الله فأمضه، وإما هو رأي رأيته فإن شأن بني قريظة هو أيسر من ذلك أن تقول شيئا يؤثر عليك فيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا رأي رأيته إن الحرب خدعة، ثم أرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثر نعيم فدعاه، فقال له: أرأيتك الذي سمعتني أذكر آنفا اسكت عنه فلا تذكره لأحد، فانصرف نعيم من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جاء عيينة بن حصن ومن معه من غطفان فقال لهم: هل علمتم أن محمدا صلى الله عليه وسلم قال شيئا قط إلا حقا؟ قالوا: لا قال: فإنه قد قال لي فيما أرسلت به إليكم بنو قريظة فلعلنا نحن أمرناهم بذلك، ثم نهاني أن أذكره لكم فانطلق عيينة حتى لقي أبا سفيان بن حرب، فأخبره بما أخبره نعيم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنما أنتم في مكر من بني قريظة قال أبو سفيان: فنرسل إليهم نسألهم الرهن فإن دفعوا إلينا رهنا منهم فصدقوا وإن أبوا فنحن منهم في مكر فجاءهم رسول أبي سفيان يسألهم الرهن فقال: إنكم أرسلتم إلينا تأمروننا بالمكث وتزعمون أنكم ستخالفون محمداومن معه فإن كنتم صادقين، فارهنونا بذلك من أبنائكم وصبحوهم غدا، قالت بنو قريظة: قد دخلت علينا ليلة السبت، فأمهلوا حتى يذهب السبت فرجع الرسول إلى أبي سفيان بذلك، فقال أبو سفيان ورؤوس الأحزاب معه، هذا مكر من بني قريظة فارتحلوا فبعث الله تعالى عليهم الريح حتى ما كاد رجل منهم يهتدي إلى رحله فكانت تلك هزيمتهم، فبذلك يرخص الناس الخديعة في الحرب. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30117 ۔۔۔ یحییٰ بن سھل بن ابی حیثمہ روایت کی ہے کہ مطہر بن رافع حارثی شام کے دس غلام لایا تاکہ اس کی زمین میں کام کریں جب خیبر پہنچے تین دن وہاں قیام کیا اس دوران یہودیوں نے غلاموں کو مظہر کے قتل کرنے پر اکسایا اور انھیں یہودیوں نے دو یا تین چھریاں بھی دے دیں چنانچہ جب خیبر سے نکل کر مقام ثبار پر پہنچے غلاموں نے مظہر پر حملہ کردیا اور پیٹ کو چاک کرکے اسے قتل کردیا غلام خیبر واپس لوٹ گئے یہودیوں نے انھیں زاد راہ دیا وہ واپس شام جا پہنچے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جب خبر ہوئی تو انھوں نے فرمایا : میں خیبر کی زمین مسلمانوں میں تقسیم کروں گا اور اموال بھی تقسیم کروں گا اس کی حدی بندی کروں گا اور نشان لگا کر یہودیوں کو وہاں سے نکال کر باہر کروں گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قرار نہیں دے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی جلاوطنی کی اجازت دی ہے چنانچہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایسا ہی کیا ۔ (رواہ ابن سعد)
30117- عن يحيى بن سهل بن أبي خيثمة قال: أقبل مظهر بن رافع الحارثي بأعلاج من الشام عشرة ليعملوا له في أرضه، فلما نزل خيبر أقام بها ثلاثا فدخل يهود للأعلاج وحرضتهم على قتل مظهر، ودسوا لهم سكينين أو ثلاثا فلما خرجوا من خيبر كانوا بثبار، ووثبوا عليه فبعجوا بطنه فقتلوه، ثم انصرفوا إلى خيبر فزودتهم يهود وقوتهم حتى لحقوا بالشام وجاء عمر بن الخطاب الخبر بذلك فقال: إني خارج إلى خيبر فقاسم ما كان بها من الأموال، وحاد حدودها، ومورف أرفها ومجل يهود منها، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهم: " ما أقركم الله" وقد أذن الله في جلائهم، ففعل ذلك بهم. ابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30118 ۔۔۔ ” مسند علی “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ جب میں نے مرحب یہودی کو قتل کیا اس کا سر کاٹ کر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں لے آیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل والعقیلی والبخاری ومسلم)
30118- "مسند علي" عن علي قال: لما قتلت مرحبا جئت برأسه إلى النبي صلى الله عليه وسلم. "حم، عق، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30119 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر پر چڑھائی کی تو خیبر کے قریب پہنچ کر آپ نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی کمان میں حملہ کے لیے لوگوں کو بھیجا چنانچہ لوگوں نے جم کر حملہ کیا لیکن سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اور آپ کے ہمراہیوں کو شکست ہوئی یوں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) لوگوں کو کوستے ہوئے اور لوگوں انھیں کوستے ہوئے واپس آئے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حالت ناگوار گزری آپ نے فرمایا : میں ایک ایسے شخص کو امیر مقرر کر کے بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، وہ اہل خیبر سے لڑائی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا اور بھاگے گا بھی ، لوگوں کو اس شرف کے حاصل کرنے کی طمع ہوئی حتی کہ سر اوپر اٹھا کر دیکھنے لگے ۔ تھوڑی دیر کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : انھیں آشوب چشم ہے فرمایا : اسے میرے پاس بلاؤ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے میری آنکھیں کھولیں اور آنکھوں میں لعاب ڈال دیا ۔ پھر مجھے جھنڈا دیا میں تیزی سے چل پڑا مجھے ڈر تھا کہ آپ کوئی نئی بات نہ کردی میں اہل خیبر کے پاس آن پہنچا اور ان پر حملہ کردیا مرحب رجز پڑھتا ہوا سامنے آیا میں بھی رجز پڑھتا ہوا اس کے مدمقابل ہوا حتی کہ ہماری مڈبھیڑ ہوئی اللہ تعالیٰ نے میری ہاتھ سے اسے قتل کیا اس کے ساتھی شکست خوردہ ہو کر قلعہ بند ہوگئے اور قلعے کا دروازہ بند کردیا میں دروازے پر آیا اور برابر دروازہ کھولنے میں کوشاں رہا باالآخر اللہ تعالیٰ نے یہ قلعہ فتح کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ، والبزار وسندہ حسن) ۔ فائدہ : ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کے مختلف قلعوں کے فتح کرنے کے لیے اعیان مہاجرین کو جھنڈا دیتے تھے یوں ہر روز جس قلعے کا ارادہ کرتے اللہ تعالیٰ اسے فتح کردیتا چنانچہ قضائے ازل ہی سے یہ مقدر تھا کہ یہ قلعہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے دس راست پر فتح ہوگا ۔ یہی بات یوں پوری ہوئی روایت سے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی شان کم نہیں ہوتی چنانچہ پہلی روایت اس کا ازالہ ہے اہل خیبر انجام کار سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ہی دور میں آپ (رض) کے حکم سے یہاں سے نکالے گئے یہ فضیلت تو لامحالہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو حاصل ہے رہی یہ بات کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں “ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ معاذ اللہ بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت نہیں کرتے تھے یا اللہ اور اللہ کے رسول کو بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے محبت نہیں تھی آپ نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو یہ کلمات ازروئے قدردانی اور حوصلہ افزائی فرمائے ۔ اس روایت سے روافض غلط غلط نظریات گھڑ لیتے ہیں اس لیے ان نکات پر تنبیہ کرنی پڑی۔
30119- عن علي قال: سار رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خيبر، فلما أتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عمر ومعه الناس إلى مدينتهم وإلى قصرهم فقاتلوهم، فلم يلبثوا أن هزموا عمر وأصحابه فجاء يجبنهم ويجبنونه فساء ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "لأبعثن عليهم رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يقاتلهم حتى يفتح الله له ليس بفرار فتطاول الناس لها، ومدوا أعناقهم يرونه أنفسهم رجاء ما قال، فمكث رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعة فقال: أين علي؟ فقالوا: هو أرمد قال: ادعوه لي فلما أتيته فتح عيني، ثم تفل فيها، ثم أعطاني اللواء فانطلقت به سعيا خشية أن يحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها حدثا أو في حتى أتيتهم فقاتلتهم فبرز مرحب يرتجز وبرزت له أرتجز كما يرتجز حتى التقينا، فقتله الله بيدي، وانهزم أصحابه فتحصنوا وأغلقوا الباب فأتينا الباب فلم أزل أعالجه حتى فتحه الله. "ش" والبزار، وسنده حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30120 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن خصیب اسلمی “ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جھنڈا لیا آپ (رض) جہد مسلسل کے باوجود واپس لوٹ آئے اور قلعہ فتح نہ ہوا دوسرے دن سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جھنڈا لیا اور یوں فتح ان کے ہاتھ پر بھی مقدر نہ تھی ابن مسلمہ قتل ہوا اور لشکر واپس لوٹ آیا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں (صبح کو) جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے وہ بغیر فتح کیے واپس نہیں لوٹے گا چنانچہ ہم نے رات گزاری اور ہم خوش تھے کہ کل فتح نصیب ہوگی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی پھر جھنڈا منگوایا ہم میں سے کوئی شخص بھی نہیں تھا جو اس امید میں نہ ہو کہ یہ شرف اسے حاصل ہو حتی کہ اس شرف کے حصول کے لیے میں نے طمع میں سر اوپر اٹھا لیا ، تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو بلایا انھیں آشوب چشم کی شکایت تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو جھنڈا دیا اور قلعہ ان کے ہاتھ پر فتح ہوا ۔ (رواہ ابن جریر)
30120- "من مسند بريدة بن الخصيب الأسلمي" عن بريدة قال: لما كان يوم خيبر أخذ اللواء أبو بكر، فرجع ولم يفتح له، فلما كان من الغد أخذ عمر ولم يفتح له، وقتل ابن مسلمة، ورجع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأدفعن لوائي هذا إلى رجل يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله لن يرجع حتى يفتح عليه، فبتنا طيبة أنفسنا أن الفتح غدا فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الغداة، ثم دعا باللواء وقام قائما فما منا من رجل له منزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا وهو يرجو أن يكون ذلك الرجل حتى تطاولت أنا لها ورفعت رأسي لمنزلة كانت لي منه فدعا علي بن أبي طالب وهو يشتكي عينيه فمسحها ثم دفع إليه اللواء ففتح له. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30121 ۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کے قریب پہنچے ۔ اہل خیبر گھبرا گئے اور کہنے لگے : محمد اہل یثرب کو لے کر آگیا ہے ، چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی کمان میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو چڑھائی کے لیے بھیجا یوں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پوری جدوجہد سے قتال کیا لیکن بغیر فتح کے واپس لوٹ آئے اور آپ (رض) لوگوں کو اور لوگ انھیں کوستے رہے پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے چنانچہ دوسرے دن جھنڈا لینے کے لیے ابوبکر وعمر (رض) آرزو مند ہوئے تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو بلایا اس دن انھیں آشوب چشم کی شکایت تھی آپ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا پھر انھیں جھنڈا دیا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) لوگوں کو لے کر قلعے کی طرف چل پڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اہل خیبر سے سامنا ہوا خصوصا مرحب کا سامنا کرنا پڑا مرحب یہ رجز پڑھ رہا تھا : قدعلمت خیبرانی مرحب شاکی السلاح بسطل مجرب اذا للیوث اقبلت تلھب اطعن احیانا وحینا اضرب : ۔ ترجمہ : ۔۔۔ اہل خیبر کو خوب معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں سلاح پوش بہادر اور تجربہ کار میں چنانچہ جب شیر مدمقابل ہونے کے لیے سامنے آتے ہیں آگ برسا رہے ہوتے ہیں میں مہارت سے نیزے بھی چلاتا ہوں اور کبھی تلوار کے وار بھی کرتا ہوں ۔ چنانچہ مرحب اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا آمناسامنا ہوا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اس کے سر پر تلوار کا وار کیا تلوار سر کو کچلتی ہوئی اس کے جبڑوں تک جا پہنچی تلوار اس زور سے اس کے سر پر پڑی تھی کہ سارے لشکر نے تلوار چلنے کی آواز سن لی پھر یہودیوں کی ہوا نکل گئی اور یوں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30121- عن بريدة قال: لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بحضرة خيبر فزع أهل خيبر فقالوا: جاء محمد في أهل يثرب، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب بالناس، فلقي أهل خيبر فردوه وكشفوه هو وأصحابه، فرجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يجبن أصحابه ويجبنه أصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين اللواء غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله، فلما كان الغد تطاول لها أبو بكر وعمر فدعا عليا وهو يومئذ أرمد فتفل في عينه وأعطاه اللواء، فانطلق بالناس فلقي أهل خيبر ولقي مرحبا الخيبري فإذا هو يرتجز
ويقول:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الليوث أقبلت تلهب ... أطعن أحيانا وحينا أضرب
فالتقى هو وعلي فضربه علي ضربة على هامته بالسيف عض السيف منها بالأضراس وسمع صوت ضربته أهل العسكر، فما تتام آخر الناس حتى فتح لأولهم. "ش".
ويقول:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الليوث أقبلت تلهب ... أطعن أحيانا وحينا أضرب
فالتقى هو وعلي فضربه علي ضربة على هامته بالسيف عض السيف منها بالأضراس وسمع صوت ضربته أهل العسكر، فما تتام آخر الناس حتى فتح لأولهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30122 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر مرحب یہودی یہ رجز پڑھتا ہوا باہر آیا ۔ قدعلمت خیبرانی مرحب شبا کی السلاح بطل مجرب اطعن احیانا وحینا اضرب اذا اللیوث اقسلت تجرب : پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں جب شیر مدمقابل ہوتے ہیں تبھی آزمائے جاتے ہیں اور کبھی تلوار سے وار کرتا ہوں جب شیر مدمقابل ہوتے ہیں تبھی آزمائے جاتے ہیں۔ چنانچہ مرحب ” ھل من مبازر “ کیا کوئی مدمقابل ہے ؟ کا نعرہ لگا رہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا کام کون تمام کرے گا ؟ حضرت محمد بن مسلمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کا کام تمام کرنا چاہتا ہوں اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے بخدا اس سے میں اپنے بھائی کا بدلہ لوں گا آپ نے فرمایا : چلو اس کے طرف کھڑے ہو جو یا اللہ ! اس کی مدد کر جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ان کے درمیان ایک درخت حائل ہو جاتاہم مرحب نے حضرت محمد بن مسلمہ (رض) پر تلوار سے وار کیا محمد بن مسلمہ (رض) نے ڈھال پر تلوار کا وار لیا جس سے ڈھال کٹ گئی لیکن حضرت محمد بن مسلمہ کو ڈھال نے بچا لیا اگلا وار محمد بن مسلمہ (رض) نے بڑھ کر کیا اور مرحب کا کام تمام کردیا ۔ (رواہ ابو یعلی وابن جریر والبغوی وابن عساکر)
30122- "مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: خرج يوم خيبر مرحب اليهودي وهو يقول:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
أطعن أحيانا وحينا أضرب ... إذا الليوث أقبلت تجرب
وهو يقول: هل من مبارز؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهذا؟ فقال محمد بن مسلمة: أنا له يا رسول الله أنا والله الموتور الثائر قتلوا أخي بالأمس، قال فقال: قم إليه اللهم أعنه فلما دنا أحدهما من صاحبه دخلت بينهما شجرة ثم حمل عليه مرحب فضربه فاتقى بالدرقة فوقع سيفه فيها فعضت به الدرقة فأمسكته فضربه محمد بن مسلمة فقتله. "ع" وابن جرير والبغوي، "كر".
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
أطعن أحيانا وحينا أضرب ... إذا الليوث أقبلت تجرب
وهو يقول: هل من مبارز؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهذا؟ فقال محمد بن مسلمة: أنا له يا رسول الله أنا والله الموتور الثائر قتلوا أخي بالأمس، قال فقال: قم إليه اللهم أعنه فلما دنا أحدهما من صاحبه دخلت بينهما شجرة ثم حمل عليه مرحب فضربه فاتقى بالدرقة فوقع سيفه فيها فعضت به الدرقة فأمسكته فضربه محمد بن مسلمة فقتله. "ع" وابن جرير والبغوي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30123 ۔۔۔ ” مسند حسیل بن خارجہ اشجعی “ حضرت حسیل بن خارجہ اشجعی (رض) کی روایت ہے کہ میں تجارت کا کچھ مال لے کر مدینہ آیا مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا آپ نے فرمایا : اے حسیل اگر میں تمہیں بیس صاع کھجوریں دوں کیا تم میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے لیے خیبر تک راہبری کروگے ؟ میں نے حامی بھری جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر پہنچے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے بیس صاع کھجوریں دیں پھر مجھے فرمایا : اے حسیل ! میرے ساتھ جو شخص بھی تین دن تک رہا ہے وہ ضرور اسلام سے سرفراز ہوا ہے چنانچہ یہ سنتے ہی میں نے اسلام قبول کرلیا ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)
30123- "مسند حسيل بن خارجة الأشجعي" عن حسيل بن خارجة الأشجعي قال: قدمت المدينة في جلب أبيعه فأتي بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا حسيل هل لك أن أعطيك عشرين صاع تمر على أن تدل أصحابي هؤلاء على طريق خيبر؟ ففعلت، فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر أتيته فأعطاني العشرين صاع تمر، ثم أتي بي إليه، فقاللي: يا حسيل إني لم أوت بامرئ ثلاثا فلم يسلم، فخرج الحبل من عنقه الأصفر قال: فأسلمت". "طب" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30124 ۔۔۔ مسند ربیعہ بن کعب اسلمی “۔ ابو طلحہ روایت کی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا اگر میں کہوں میرے گھٹنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں کو چھوتے تھے تو میں یہ کہنے سے خاموش رہا حتی کہ سحری کے وقت اہل خیبر پر حملہ کردیا اور آپ نے فرمایا : جب ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں ان کا وہ دن بہت برا ہوتا ہے۔ (رواہ الطبرانی)
30124- "مسند ربيعة بن كعب الأسلمي" عن أبي طلحة كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم فلو قلت: إن ركبتي تمس ركبته فسكت عنهم حتى إذا كان عند السحر أغار عليهم وقال: " إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
25 301 ۔۔۔ ” مسند رفاعہ بن رافع “ حضرت انس بن مالک (رض) حضرت ابو طلحہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح صبح خیبر پہنچے جبکہ اہل خیبر کدالیں اور ٹوکرے لیے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے جب انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو دیکھا تو الٹے پاؤں واپس لپکے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا : خیبر اجڑ گیا جب ہم قوم کے پاس جا اترتے ہیں تو ان کا وہ دن بہت برا ہوتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی)
30125- "من مسند رفاعة بن رافع" عن أنس عن أبي طلحة لما أصبح النبي صلى الله عليه وسلم خيبر وقد أخذوا مساحيهم ومكاتلهم وغدوا على حروثهم فلما رأوا النبي صلى الله عليه وسلم معه الخميس نكصوا مدبرين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الله أكبر الله أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين. "حم، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
30126 ۔۔۔ ” مسند سلمہ بن اکوع “۔ ایاس بن سلمہ روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے چچا نے غزوہ خیبر کے موقع پر مرحب یہودی کو مقابلہ کے لیے للکارا ۔ مرحب نے جواب میں یہ رجزیہ پڑھا۔ قد علمت خیبرانی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب اذا الحروب اقبلت تلھب : پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پوش بہادر اور تجربہ کار ہوں اس وقت کہ جب جنگوں کے شعلے بھڑک رہے ہو ۔ میرے چچا عامر نے جواب میں یہ رجز پڑھا : قد علمت خیبرانی عامر شاکی السلاح بطل مغامر : پورا خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ پوش بہادر اور نیزے سے کاری ضرب لگانے والا ہوں ۔ چنانچہ پھر دونوں میں دو دو وار ہوئے مرحب کی تلوار عامر (رض) کی ڈھال پر پڑی پھر اس کی اپنی تلوار گھٹنے پر لگی جس سے گھٹنا کٹ گیا اور اسی زخم سے اللہ کو پیارے ہوگئے حضرت سلحہ (رض) کہتے ہیں میری صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ملاقات ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : عامر کا عمل ضائع ہوگیا ، چونکہ اس نے اپنے آپ کو قتل کیا ہے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عامر کا عمل باطل ہوگیا ؟ فرمایا : کون کہتا ہے میں نے عرض کیا : آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں آپ نے فرمایا : جس نے کہا ہے اس نے جھوٹ بولا بلکہ ان کے لیے دوہرا اجر وثواب ہے جب وہ خیبر کی طرف نکلے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ رجز پڑھتے رہے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان سواریاں ہانک رہے تھے اور عامر (رض) کہہ رہے تھے ۔ تاللہ لولا اللہ ما اھت دینا ولا تصدقنا ولا صلینا ان الذین قد بغوا علینا اذا ارادو فتنۃ ابینا ونحن عن فضلک ما استغنینا فثبت الاقدام ان لاقینا وانزلن سکینۃ علینا “۔ بخدا ! اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق نہ ہوتی ہم ہدایت نہ پاتے ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے جن لوگوں نے ہمارے اوپر سرکشی کی ہے جب وہ کسی فتنہ کے درپے ہوتے ہیں ہم اس فتنے سے پہلو تہی کر جاتے ہیں ، ہم تیرے فضل و کرم سے بےنیاز نہیں ، ہمیں ثابت قدم رکھ اگر دشمن سے ہماری مدبھیڑ ہو اور ہمارے اوپر اپنی رحمت نازل فرما۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ رجز سن کر فرمایا : یہ کون ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ عامر ہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ تیری مغفرت کرے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس شخص کے لیے بھی مغفرت طلب کی ہے وہ ضرور شہید ہوا ہے جب سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ بات سنی عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاش اگر آپ عامر سے کام لینے دیتے ، چنانچہ عامر (رض) پیروی حق کے لیے کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے ۔ سلمہ (رض) کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی طرف بھیجا اور فرمایا : میں آج ایک ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے چنانچہ میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو کھینچ کر لایا چونکہ انھیں آشوب چشم کی شکایت تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور جھنڈا انھیں دیا چنانچہ قلعہ سے مرحب تلوار لہراتا ہوا نمودار ہوا اور وہ یہ رجز پڑھ رہا تھا : قد علمت خیبرانی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب اذا الحروب اقبلت تلھب : پورا خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پوش بہادر اور تجربہ کار ہوں جس وقت کہ جنگیں شعلہ زن ہوں ، جواب میں حضرت علیٰ (رض) نے یہ رجز پڑھا ۔ انا الذی سمتنی امی حیدرہ کلیث غابات کر یہ المنظرہ اوفیھم بالصاع کیل السندرہ میں وہ ہوں کہ جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا ہے میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ جنگلات کا شیر جو نہایت ڈراؤنہ سماں پیش کررہا ہوتا ہے میں صاع سے پیمانہ پورا پورا ناپ کے دیتا ہوں ۔ چنانچاہ حیدر کرار (رض) نے تلوار سے مرحب کا سر کچل دیا اور فتح سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے دست راست پر ہوئی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30126- "مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة قال: أخبرني أبي قال: بارز عمي يوم خيبر مرحبا اليهودي فقال مرحب:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلهب
فقال عمي عامر:
قد علمت خيبر أني عامر ... شاكي السلاح بطل مغامر
فاختلفا ضربتين فوقع سيف مرحب في ترس عامر فرجع السيف على ساقه فقطع أكحله فكانت فيها نفسه، قال سلمة: فلقيت من صحابة النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: بطل عمل عامر قتل نفسه فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم أبكي، قلت: يا رسول الله أبطل عمل عامر؟ قال: من قال ذلك؟ قلت: أناس من أصحابك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كذب من قال ذلك بل له أجره مرتين حين خرج إلى خيبر جعل يرتجز بأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفيهم النبي صلى الله عليه وسلم يسوق الركاب وهو يقول:
تالله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا
إن الذين قد بغوا علينا ... إذا أرادوا فتنة أبينا
ونحن عن فضلك ما استغنينا ... فثبت الأقدام إن لاقينا
وأنزلن سكينة علينا
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هذا؟ قال: عامر يا رسول الله قال:
غفر لك ربك قال: وما استغفر لإنسان قط يخصه إلا استشهد فلما سمع ذلك عمر بن الخطاب قال: يا رسول الله لو ما متعتنا بعامر؟ فقام فاستشهد، قال سلمة: ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلني إلى علي فقال: لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله أو يحبه الله ورسوله، فجئت به أقوده أرمد فبصق رسول الله صلى الله عليه وسلم في عينيه ثم أعطاه الراية فخرج مرحب يخطر بسيفه فقال:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلهب
فقال علي بن أبي طالب:
أنا الذي سمتني أمي حيدره ... كليث غابات كريه المنظره
أوفيهم بالصاع كيل السندره
ففلق رأس مرحب بالسيف وكان الفتح على يديه.
"ش"
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلهب
فقال عمي عامر:
قد علمت خيبر أني عامر ... شاكي السلاح بطل مغامر
فاختلفا ضربتين فوقع سيف مرحب في ترس عامر فرجع السيف على ساقه فقطع أكحله فكانت فيها نفسه، قال سلمة: فلقيت من صحابة النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: بطل عمل عامر قتل نفسه فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم أبكي، قلت: يا رسول الله أبطل عمل عامر؟ قال: من قال ذلك؟ قلت: أناس من أصحابك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كذب من قال ذلك بل له أجره مرتين حين خرج إلى خيبر جعل يرتجز بأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفيهم النبي صلى الله عليه وسلم يسوق الركاب وهو يقول:
تالله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا
إن الذين قد بغوا علينا ... إذا أرادوا فتنة أبينا
ونحن عن فضلك ما استغنينا ... فثبت الأقدام إن لاقينا
وأنزلن سكينة علينا
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هذا؟ قال: عامر يا رسول الله قال:
غفر لك ربك قال: وما استغفر لإنسان قط يخصه إلا استشهد فلما سمع ذلك عمر بن الخطاب قال: يا رسول الله لو ما متعتنا بعامر؟ فقام فاستشهد، قال سلمة: ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلني إلى علي فقال: لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله أو يحبه الله ورسوله، فجئت به أقوده أرمد فبصق رسول الله صلى الله عليه وسلم في عينيه ثم أعطاه الراية فخرج مرحب يخطر بسيفه فقال:
قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلهب
فقال علي بن أبي طالب:
أنا الذي سمتني أمي حيدره ... كليث غابات كريه المنظره
أوفيهم بالصاع كيل السندره
ففلق رأس مرحب بالسيف وكان الفتح على يديه.
"ش"
তাহকীক: