কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০০৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30087 ۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج “ ھرمز بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر سب سے اچھا قلعہ بنی حارثہ کا قلعہ تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں اور بچوں کو اسی قلعہ میں محفوظ کیا اور عورتوں کو تاکید کردی کہ اگر کوئی شخص تمہارے اوپر حملہ آور ہو تو تلواروں سے اس کی خبر لو چنانچہ بخدان نامی شخص جو بنی حجاش سے تھا گھوڑے پر سوار ہو کر قلعہ کے عین نیچے آکھڑا ہو اور عورتوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا ایک بہترین شخص کی طرف نیچے اتروعورتوں نے قلعہ کے اوپر سے تلواریں لہرائیں جنہیں مسلمانوں نے دیکھ لیا مسلمانوں کی ایک جماعت خبر لینے قلعے کی طرف دوڑ پڑی ان میں بنی حارثہ کا ایک شخص ظہیر بن رافع (رض) بھی تھا اس نے مشرک سے کہا : سامنے آکر مقابلہ کر ۔ چنانچہ ظہیر (رض) نے اس پر حملہ کردیا اور اس کی گردن اڑا دی پھر سر لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ (رواہ الطبرانی)
30087- "من مسند رافع بن خديج" عن هرمز بن عبد الرحمن بن رافع بن خديج عن أبيه عن جده لما كان يوم الخندق لم يكن حصن أحصن من حصن بني حارثة، فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم النساء والصبيان والذراري فيه فقال: إن ألم بكن أحد فألمعن بالسيف فجاءهن رجل من بني ثعلبة بن سعد يقال له بخدان أحد بني حجاش على فرس حتى كان في أصل الحصن، ثم جعل يقول للنساء: انزلن إلى خير لكن فحركن السيف فأبصره أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم فابتدر الحصن قوم فيهم رجل من بني حارثة يقال له ظهير بن رافع فقال: يا بخدان ابرز فبرز إليه فحمل عليه فقتله وأخذ رأسه فذهب به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30088 ۔۔۔ ہرمز بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج عن ابیہ عن جدہ کی سند سے حضرت زید بن ثابت (رض) کی حدیث مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق میں شرکت کرنے کے لیے مجھے اجازت دی اور مجھے ایک چادر بھی اوڑائی ۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ یعقوب بن محمد الزھری ضعیف)
30088- عن هرمز بن عبد الرحمن بن رافع بن خديج عن أبيه عن جده عن زيد بن ثابت قال: أجازني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق وكساني قبطية. "كر"؛ وفيه يعقوب بن محمد الزهري ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30089 ۔۔۔ ابن جہاد (رض) سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے نے کہا (ابن جہاد (رض) کو شرف صحبت حاصل ہے) اے اباجان ! آپ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں رہے ہیں اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیتا آپ کے ساتھ ایسا اور ایسا برتاؤ کرتا ابن جہاد (رض) نے فرمایا : اے بیٹا ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرتے رہو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ہم غزوہ خندق کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا : جو شخص مشرکین کی خبر لائے گا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا چنانچہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہ اٹھا چونکہ بھوک اور سردی نے لوگوں کو نہایت کسم پرسی کے عالم میں دکھیل دیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے حذیفہ (رض) حضرت حذیفہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں صرف اس خوف سے نہیں اٹھا کہ ممکن ہے میں آپ کے پاس مشرکین کی خبر نہ لا سکوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حذیفہ (رض) کے لیے دعائے خیر کی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30089- عن وهب انبأنا سعيد بن عبد الرحمن الجشمي رجل من الأنصار من بني سلمة عن أبيه عن جده ابن جهاد وكان ابن جهاد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن ابنه قال: يا أبتاه رأيتم رسول الله صلى الله عليه وسلم وصحبتموه والله لو رأيته لفعلت وفعلت فقال: يا بني اتق الله وسدد فوالذي نفسي بيده لقد رأيتنا معه يوم الخندق وهو يقول: " من يذهب فيأتيني بخبرهم جعله الله رفيقي يوم القيامة؟ فما قام من الناس أحد من صميم ما بنا من الجوع والقر، ثم نادى يا حذيفة باسمه فقال: يا رسول الله والذي نفسي بيده ما منعني أن أقوم إلا خشية أن لا آتيك بخبرهم فقال: اذهب ودعا له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بخير". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30090 ۔۔۔ واقدی ابن عباس بن سہل عن ابیہ جدہ کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہتھوڑا لیا اور پتھر پر ضرب لگائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضرب سے پتھر کی کھوکھلی آواز آئی آپ ہنس پڑے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں ایک قوم سے ہنسا ہوں جس کا تعلق مشرق سے ہے اسے جنت کی طرف بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جارہا ہے جبکہ وہ جنت میں نہیں جانا چاہتے ۔ (رواہ ابن النجار)
30090- الواقدي حدثني أبي ابن عباس بن سهل عن أبيه عن جده قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق فأخذ الكرزين وضرب به فصادف حجرا فصل الحجر فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل: يا رسول الله مم تضحك؟ قال: أضحك من قوم يؤتى بهم من المشرق في الكبول يساقون إلى الجنة وهم كارهون". ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30091 ۔۔۔ ” مسند ابی سعید “۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دوران ہم ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں سے سے روک دیئے گئے پھر ہماری کفایت کردی گئی چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” وکفی اللہ المؤمنین القتال وکان اللہ قویا عزیز “۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی طرف سے جنگ کے لیے کافی ہے اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا انھوں نے اذان دی پھر نماز قائم کی پہلے ظہر کی نماز پڑھی جس طرح کہ اس سے پہلے پڑھتے تھے پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی ایسے ہی جس طرح پہلے پڑھتے تھے ، آپ نے یہ نمازیں یہ آیت نازل ہونے سے پہلے پڑھیں (آیت)” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ یعنی اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ پا نماز پڑھ لو یا سوار ہو کر ۔ یعنی نماز خوف کے حکم کے نزول سے قبل کا وقعہ ہے۔ (رواہ ابو داؤد والطیالسی وعبدالرزاق واحمد بن حنبل وابن ابی شیبۃ وعبدبن حمید والنسائی وابو یعلی وابو الشیخ فی الاذان والبیہقی)
30091- "مسند أبي سعيد" عن أبي سعيد حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى كفينا ذلك وذلك قوله تعالى: {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً} فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر بلالا فأذن، ثم أقام الصلاة، ثم صلى الظهر كما كان يصليها قبل ذلك ثم أقام فصلى العصر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام المغرب فصلى المغرب كما كان يصليها قبل ذلك ثم أقام العشاء فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك وذلك قبل أن ينزل {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَاناً} . "ط، عب، حم، ش" وعبد بن حميد، "ن، ع" وأبو الشيخ في الأذان، "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30092 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احزاب (لشکروں) پر یوں بددعا کی ” اللہم منزل الکتاب سریع الحساب ھازم الاحزاب اھزمھم وزلزلھم “۔ اے اللہ ! کتاب کے نازل کرنے والے جلد از جلد حساب چکانے والے لشکروں کو شکست دینے والے ، لشکروں کو شکست دے اور انھیں جھنجھوڑ ۔ (رواہ ابن ابی شبیۃ)
30092- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: دعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على الأحزاب فقال: " اللهم منزل الكتاب سريع الحساب هازم الأحزاب اهزمهم وزلزلهم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30093 ۔۔۔ مصعب کی روایت ہے کہ ابن زبیر (رض) حدیث سنایا کرتے تھے کہ غزوہ خندق کے دن وہ قلعہ میں ایک بلند جگہ پر تھے جبکہ حضرت حسان بن ثابت (رض) عورتوں کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ عمر بن ابی سلمہ (رض) بھی تھے ابن زبیر (رض) کا کہنا ہے کہ حسان بن ثابت (رض) نے ایک اونچی جگہ پر کھونٹا گاڑ رکھا تھا جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مشرکین پر حملہ کرتے حسان (رض) کھونٹے پر تلوار سے حملہ کردیتے اور جب مشرکین ہجوم بنا کر آئے تب بھی کھونٹے پر حملہ کرتے تاکہ یوں لگے گویا حسان (رض) کسی بہادر دشمن سے لڑ رہے ہیں اور ایک طرح کی مشابہت بھی ہوجائے دیکھنے سے یوں لگے گویا جہاد میں مصروف ہیں وہ ایسا ضعف کی وجہ سے کرتے تھے (حضرت حسان (رض) اگرچہ دست وبازو سے جہاد کرنے سے ضعیف تھے لیکن جو جہاد انھوں نے زبان سے مشرکین کے خلاف اشعار کہہ کر کیا ہے اس کی مثال نہیں ملی) عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں اس دن میں نے ابن ابی سلمہ پر بڑا ظلم کیا وہ مجھ سے دو سال بڑا تھا میں اسے کہتا پہلے تم مجھے اپنی گردن پر اٹھاؤ تاکہ میں تماشا دیکھوں (چونکہ ابن زیبر 3، 4، سال کے بچے تھے) پھر میں تمہیں اٹھاؤں گا جب اس کے اٹھانے کی باری آتی میں کہتا اس بار نہیں اگلی بار ابھی میں اپنے باپ کو دیکھ رہا ہوں میری باپ نے زور رنگ کا عمامہ باندھ رکھا ہے ، بعد میں میں نے اپنے والد سے اس کا تذکرہ کیا انھوں نے مجھ سے پوچھا : تم اس وقت کہاں تھے ؟ میں نے کہا : میں ابن ابی سلمہ کی گردن پر تھا اس نے مجھے اٹھا رکھا تھا میرے والد (رض) نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے اپنے والدین جمع کیے (یعنی فرمایا تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں) ابن زبیر (رض) کہتے ہیں اسی اثناء میں ایک یہودی قلعہ کی طرف آنکلا اور قلعے پر چڑھنے لگا حضرت صفیہ (رض) نے حضرت حسان (رض) سے کہا : اے حسان (رض) اس یہودی کی خبر لو حسان (رض) نے کہا : اگر میں جنگ لڑسکتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتا صفیہ (رض) نے حسان (رض) سے کہا : اچھا اپنی تلوار مجھے دو حسان (رض) نے انھیں تلوار دے دی جب یہودی اوپر چڑھ آیا صفیہ (رض) نے اس پر حملہ کردیا اور یہودی کو قتل کرکے اس کا سر تن سے جدا کردیا پھر حسان (رض) کو سر دے کر کہا کہ یہ سر نیچے پھینکو چونکہ مرد عورت کی بنسبت دور تک پھینک سکتا ہے صفیہ (رض) چاہتی تھیں تاکہ یہودی کے دوسرے ساتھیوں پر رعب پڑے کہ قلعہ میں بھی کچھ مسلمان سپاہی موجود ہیں۔ (رواہ الزبیر بن بکار وابن عساکر)
30093- عن مصعب قال كان ابن الزبير يحدث أنه كان في فارع أطم حسان بن ثابت مع النساء يوم الخندق ومعهم عمر بن أبي سلمة فقال ابن الزبير: ومعنا حسان بن ثابت ضاربا وتدا في ناحية الأطم، فإذا حمل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم على المشركين حمل على الوتد فضربه بالسيف، وإذا أقبل المشركون انحاز على الوتد حتى كأنه يقاتل قرنا يتشبه بهم كأنه يرى أنه يجاهد جبنا عن القتال قال: وإني لأظلم ابن أبي سلمة يومئذ وهو أكبر مني بسنتين فأقول له: تحملني على عنقك حتى أنظر، فإني أحملك إذا نزلت فإذا حملني، ثم سألني أن يركب قلت: هذه المرة وإني لأنظر إلى أبي معتما بصفرة فأخبرتها أبي بعد فقال: وأين أنت حينئذ؟ قلت على عنق ابن أبي سلمة يحملني فقال: أما والذي نفسي بيده إن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حينئذ ليجمع لي أبويه قال ابن الزبير: فجاء يهودي يرتقي إلى الحصن فقالت صفية لحسان: عندك يا حسان فقال: لو كنت مقاتلا كنت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فقالت صفية له: أعطني السيف فأعطاها فلما ارتقى اليهودي ضربته حتى قتلته ثم احتزت رأسه فأعطته حسان وقالت: طرح به فإن الرجل أشد رمية من المرأة تريد أن ترعب أصحابه. الزبير بن بكار، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30094 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے ساتھ مصروف جنگ رہے جس کی وجہ سے آپ کی نماز فوت ہوئی آپ نے فرمایا : مشرکین نے ہمیں عصر کی نماز سے مشغول رکھا جو کہ نماز وسطی ہے اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ (رواہ البیہقی فی السنن فی اعذاب القبر)
30094- عن ابن عباس قال: قاتل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المشركين حتى فاتتهم الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله قبورهم وأجوافهم نارا". "هق" في عذاب القبر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30095 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ جس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احزاب سے فارغ ہو کر واپس لوٹے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں اعلان کیا کہ کوئی شخص بھی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ کی بستی میں تاہم بنو قریظہ کے ہاں پہنچنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو تاخیر ہوئی اور نماز عصر فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوا اس لیے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے رستے ہی میں نماز پڑھ لی جبکہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا ہم وہیں پڑھیں گے جہاں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے گو نماز کا وقت نکل جائے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریقین میں سے کسی پر نکیر نہیں کی ۔ (رواہ ابن جریر)
30095- عن ابن عمر " أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نادى فيهم يوم انصرف عنهم الأحزاب ألا لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة فأبطأ الناس فتخوفوا فوت وقت الصلاة فصلوا وقال آخرون: لا نصلي إلا حيث أمرنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وإن فاتنا الوقت، فما عنف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم واحدا من الفريقين". ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30096 ۔۔۔ ” مسند ابن عمر “ حاکم (فی مناقب الشافعی) فضل بن ابی نصر ابوبکر (رض) احمد بن یعقوب بن عبدالملک بن عبدالجبار قرشی جرجانی ابولعباس احمد بن خالد بن یزید بن غزوان فضل بن ربیع کی اولاد سے ایک شخص سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ہارون الرشید نے مجھے پیغام بھیجا پھر ہارون الرشید کے امام شافعی (رح) کو بلانے کا قصہ ذکر کیا اور اس دعا کا ذکر کیا جو امام شافعی (رح) نے کی تھی پھر وہ حدیث پوچھی جسے امام شافعی (رح) مالک بن انس ، (رض) نافع (رض) ، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ احزاب کے موقع پر قریش کی لیے بدعا کی جس کے الفاظ یہ ہیں اے اللہ ! میں تیرے مقدس نور اور تیری طہارت کی عظمت اور تیرے جلال کی برکت کی ہر طرح کی آفت سے پناہ چاہتا ہوں ۔۔ کلام : ۔۔۔ چنانچہ امام بیہقی (رح) نے ” کتاب بیان خطا من اخطا علی الشافعی “ میں ذکر کیا ہے کہ اس حدیث کی سند موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں چونکہ فضل بن ربیع کا حال مجہول ہے اور اس کی اولاد کا حال بھی مجہول ہے احمد بن یعقوب یہ ابن بغاطرہ قرشی اموی ہے اس کی اس طرح کی بیشمار موضوع احادیث ہیں جن کی روایت کسی طرح حلال نہیں اور نہ وہ روایت حلال ہے جو ہمارے شیخ نے نقل کی ہے اگر وہ اس روایت سے اجتناب کرتے بہت اچھا ہوا ، امام شافعی (رح) اس طرح کی روایت سے پاکدامن ہیں اسی طرح مالک نافع اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بھی مبرا ہیں البتہ میں نے یہ حدیث ابو عیم احد بن عبداللہ اصبہانی (رح) کی کتاب میں دیکھی ہے اس کی سند یوں ہے ابی بکر احمد بن محمد بن موسیٰ محمد بن حسین ابن مکرم عبدالاعلی بن حماد نرسی کا کہنا ہے کہ ایک دن رشید نے فضل بن ربیع سے کہا : پھر حدیث ذکر کی ۔ یہ حدیث اپنی سند سے شافعی مالک کے طریق سے ذکر کی ہے اور یہ بھی موضوع ہے۔ نیز ابوبکر محمد بن جعفر بغدادی ابی بکر محمد بن عبید ابو نصر مخزومی فضل بن ربیع کی سند سے ذکر کی ہے اور اس میں ذکر نہیں کہ یہ امام مالک (رح) کی روایت ہے جبکہ پڑھی اس جیسی روایت ہے یہ انکار نہیں کہ امام شافعی (رح) نے دعا نہیں کی لیکن وہ روایت منکر ہے جو شافعی مالک نافع ابن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریق سی مروی ہے۔ انتھی۔
30096- "مسند ابن عمر" قال "ك" في مناقب الشافعي: أخبرني الفضل بن أبي نصر أخبرني أبو بكر أحمد بن يعقوب بن عبد الملك بن عبد الجبار القرشي الجرجاني حدثنا أبو العباس أحمد بن خالد بن يزيد بن غزوان حدثني رجل من ولد الفضل بن الربيع عن أبيه قال: بعث إلي الرشيد فذكر قصة في استدعائه الشافعي ودعاء دعا به ثم قوله حين سئل عنه هو الذي حدثني به مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر " أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم دعا به يوم الأحزاب على قريش اللهم إني أعوذ بنور قدسك وعظمة طهارتك وبركة جلالك من كل آفة وعاهة"، قال "ق" في كتاب بيان خطأ من أخطأ على الشافعي: سند هذا الحديث موضوع على الشافعي لا شك فيه ولا يدري حال الفضل بن الربيع في الرواية ولا حال ولده ومن رواه عنه، وأحمد بن يعقوب هذا كان يعرف بابن بغاطرة القرشي الأموي له من أمثال هذا أحاديث موضوعة لا استحل رواية شيء منها ولا رواية ما ذكره شيخنا ولو تورع هو أيضا عن روايته لكان أولى به، فالشافعي مبرأ من هذه الرواية وكذلك مالك ونافع وابن عمر؛ ولقد رأيته في كتاب أبي نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني: عن أبي بكر أحمد بن محمد بن موسى عن محمد بن الحسين بن مكرم عن عبد الأعلى بن حماد النرسي قال قال الرشيد يوما للفضل بن الربيع - فذكره، وذكره بسنده عن الشافعي عن مالك وهو أيضا موضوع، ورواه عن أبي بكر محمد بن جعفر البغدادي عن أبي بكر محمد بن عبيد عن أبي نصر المخزومي عن الفضل بن الربيع غير أنه لم يذكر روايته عن مالك وهذا أمثل، ولا ينكر أن يكون الشافعي جمع دعاء ودعا به وإنما المنكر رواية من رواه عنه عن مالك عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم - انتهى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30097 ۔۔۔ حضرت ام حبیبہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے دن فرمایا : مشرکین نے ہمیں نماز وسطی یعنی نماز عصر سے مشغول رکھا حتی کہ سورج غروب ہوگیا ۔ (رواہ ابن جریر)
30097- عن أم حبيبة أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال يوم الخندق: " شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر حتى غابت الشمس". ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30098 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو دودھ دے رہے تھے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے کے بال غبار آلود تھے اور آپ یہ شعر پڑھ رہے تھے ۔ اللہم ان الخیر الاخرۃ فاغفرالانصار والمھاجرہ۔ اے اللہ ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما ۔
30098- عن أم سلمة قالت: أنشد النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق وهو يعاطيهم اللبن وقد اغبر شعر صدره وهو يقول:
اللهم إن الخير خير الآخرة ... فاغفر للأنصار والمهاجرة
"كر".
اللهم إن الخير خير الآخرة ... فاغفر للأنصار والمهاجرة
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30099 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غزوہ خندق کے دن چار نمازوں سے مشغول رکھا حتی کہ رات کا بھی کچھ حصہ گذر گیا پھر آپ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا انھوں نے اذان دی پھر ظہر کی نماز کے لیے اقامت کہی اور ظہر کی نماز پڑھی (جب ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے) پھر عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھی پھر اقامت کہی اور مغرب کی نماز پڑھی پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30099- عن ابن مسعود " أن المشركين شغلوا النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق عن أربع صلوات حتى ذهب من الليل ما شاء الله فأمر بلالا فأذن وأقام فصلى الظهر، ثم أقام فصلى العصر، ثم أقام فصلى المغرب، ثم أقام فصلى العشاء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30100 ۔۔۔ ابن اسحاق ، یزید بن رومان اور عبیداللہ بن کعب بن مالک انصاری کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن عمرو بن عبدو اپنے لشکر سے نکل کر باہر آیا تاکہ میدان جنگ کا اندازہ کرے جب وہ اور اس کے شہسوار ایک جگہ رکے حضرت علی (رض) نے عمرو سے کہا : اے عمرو ! تم نے اللہ تعالیٰ سے قریش کے لیے عہد کر رکھا تھا کہ اگر تمہیں کوئی شخص دو چیزوں کی دعوت دے تو ان میں سے ایک کو اختیار کرے گا ۔ عمرو (رض) نے کہا جی ہاں ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں عمرو نے کہا : مجھے اسلام کی حاجت نہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : پھر میں تمہیں مبارزت (جنگ) کے لیے دعوت دیتا ہوں ، کہا : اے بھتیجے کیوں بخدا مجھے پسند نہیں کہ میں تمہیں قتل کروں ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بخدا مجھے پسند ہے کہ میں تمہیں قتل کروں ۔ اس پر عمرو کو غیرت آئی اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی طرف چل پڑا چنانچہ دونوں گتم گھتا ہوگئے بلآخر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اس کا کام تمام کردیا ۔ (رواہ ابن جریر)
30100- عن ابن إسحاق عن يزيد بن رومان عن عروة عن عبيد الله ابن كعب بن مالك الأنصاري قال: لما كان يوم الخندق خرج عمرو بن عبدود معلما ليرى مشهده فلما وقف هو وخيله قال له علي: يا عمرو إنك قد كنت تعاهد الله لقريش أن لا يدعوك رجل إلى خلتين إلا اخترت إحداهما قال: أجل قال: فإني أدعوك إلى الله وإلى رسوله وإلى الإسلام، قال: لا حاجة لي في ذلك قال: فإني أدعوك إلى المبارزة، قال: لم يا ابن أخي فوالله ما أحب أن أقتلك قال علي: ولكني والله أحب أن أقتلك فحمي عمرو عند ذلك فأقبل إلى علي فتنازلا فتجاولا فقتله علي. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30101 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خندق کے دن مشرکین کا جائزہ لے رہے تھے یہ دن بڑے آزمائش کا دن تھا اس جیسا دن مسلمانوں نے دیکھا نہیں تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمین پر بیٹھے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بھی تھے یہ کھجوروں کے خوشے نکلنے کا موسم تھا ۔ خوشے دیکھ کر لوگوں کو بہت خوشی ہوتی تھی چونکہ ان کی سال بھر کی معیشت کا دارومدار کھجوروں پر ہوتا تھا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سر اوپر اٹھا کر دیکھا انھیں ایک خوشہ نظر آیا اور یہ پہلا خوشہ تھا جو دیکھا گیا تھا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرحت و شادمانی کا خوشہ نمودار ہوچکا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کو ہم سے نہ چھیننا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30101- عن عروة أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم صاف المشركين يوم الخندق وكان يوما شديدا لم يلق المسلمون مثله قط قال: ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم جالس وأبو بكر معه جالس، وذلك زمان طلع النخل، وكانوا يفرحون به فرحا شديدا لأن عيشهم فيه فرفع أبو بكر رأسه فبصر بطلعة وكانت أول طلعة رؤيت فقال: - هكذا بيده: طلعة يا رسول الله من الفرح فنظر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وقال: اللهم لا تنزع منا صالح ما أعطيتنا - أو: صالحا أعطيتنا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30102 ۔۔۔ عکرمہ (رض) روایت کی ہے کہ نوفل یا ابن نوفل غزوہ خندق کے موقع پر گھوڑے سے گر کر ہلاک ہوگیا ابو سفیان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سو اونٹ بطور دیت بھیجوائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت لینے سے انکار کردیا اور فرمایا تم خود ہی اسے لو چونکہ یہ دیت خبث ہے اور وہ جنت کا خبث ہے ۔۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30102- عن عكرمة " أن نوفلا أو ابن نوفل تردى به فرسه يوم الخندق فقتل فبعث أبو سفيان إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بديته مائة من الإبل، فأبى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقال: خذوه فإنه خبيث الدية خبيث الجنة". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30103 ۔۔۔ عکرمہ (رض) روایت کی ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر مشرکین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور مبارزت کا نعرہ لگایا یا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہوجاؤ حضرت صفیہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا غم ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! یارسول اللہ ہوجاؤ، زبیر (رض) کھڑے ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں میں سے جو بھی غالب ہوا وہ دوسرے کو قتل کرے گا چنانچہ زبیر (رض) مشرک پر غالب آگئے اور اسے قتل کردیا پھر اس کا سازو سامان لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سازو و سامان حضرت زبیر (رض) کو انعام میں دے دیا ۔ (رواہ ابن جریر)
30103- حدثنا أبو كريب حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم الجزري عن عكرمة قال: لما كان يوم الخندق قام رجل من المشركين فقال: من يبارز؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: قم يا زبير فقالت صفية: يا رسول الله واجدي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قم يا زبير فقام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيهما علا صاحبه قتله فعلاه الزبيرفقتله، ثم جاء النبي صلى الله عليه وآله وأصحابه وسلم بسلبه فنفله صلى الله عليه وسلم إياه". ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30104 ۔۔۔ ” مسند انس “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح صبح نہایت سردی میں تشریف لائے جبکہ مہاجرین اور انصار خندق کھودنے میں مصروف تھے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف دیکھا تو فرمایا : اللہم ان العیش عیش الاخرۃ فاغفر للانصار والمھاجرۃ “۔ یا اللہ درحقیقت زندگی تو آخرت کی زندگی ہے انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جوابا کہا۔ نحن الذین بایعوا محمد ا علی الجھاد مابقینا ابدا ‘۔ ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کر رکھی ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے ۔
30104- "مسند أنس" " خرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم غداة باردة والمهاجرون والأنصار يحفرون الخندق فلما نظر إليهم قال:
اللهم إن العيش عيش الآخرة ... فاغفر للأنصار والمهاجرة
فأجابوا:
نحن الذين بايعوا محمدا ... على الجهاد ما بقينا أبدا
"ش".
اللهم إن العيش عيش الآخرة ... فاغفر للأنصار والمهاجرة
فأجابوا:
نحن الذين بايعوا محمدا ... على الجهاد ما بقينا أبدا
"ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30105 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے دن فرمایا : یا اللہ ! تو نے عبیدہ بن حارث کو بدر میں لے لیا اور حمزہ بن عبدالمطلب کو احد میں لے لیا اور یہ ہے علی یا اللہ مجھے تنہا نہ چھوڑنا بیشک تو بھلائی عطا کرنے والا ہے (رواہ الدیلمی)
30105- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الخندق: " اللهم إنك أخذت عبيدة بن الحارث يوم بدر وحمزة بن عبد المطلب يوم أحد وهذا علي فلا تدعني فردا وأنت خير الوارثين". الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30106 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ عمرو بن عبدو غزوہ خندق کے موقع پر آیا اور اپنا گھوڑا لیے چکر لگاتا رہا بالآخر ایک جگہ سے خندق عبور کر آیا اور کہنے لگا میرے مقابلہ میں کون آئے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین خاموش رہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا کوئی شخص اس کے مد مقابل ہوگا ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کا مدمقابل ہونا چاہتا ہوں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا کیا کوئی شخص اس کا مد مقابل ہوگا ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑیئے میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں چونکہ مجھے دو طرح کی نیکیوں میں اختیار حاصل ہے اگر میں نے اسے قتل کیا تو وہ دوزخ میں چلا جائے گا اور اگر اس نے مجھے قتل کیا میں جنت میں داخل ہوں گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی اور فرمایا : اے علی جاؤ چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے جب اس کے قریب ہوئے نے پوچھا اے بھتیجے تم کون ہو ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے جواب دیا : میں علی ہوں عمرو نے کہا : تیرا باپ میرا شراب کا ساتھی ہے میں تجھے قتل کرنا اچھا نہیں سمجھتا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا : تو نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ تجھ سے جو شخص بھی تین چیزوں کا مطالبہ کرے گا تو اسے ضرور پورا کرے گا سو میں تجھ سے صرف ایک چیز کا مطالبہ کرتا ہوں عمرو نے استفسار کیا کہ وہ کیا چیز ہے ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا : میں تجھے دعوت دیتا ہوں کہ تو کلمہ شہادت ” لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ “ کی گواہی دے دے عمرو نے کہا : مجھے تیری رسوائی کا اختیار نہیں چاہیے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا : اچھا پھر واپس چلے جاؤ نہ ہمارے خلاف رہو اور نہ ہمارے ساتھ عمرو نے کہا : میں نے منت مان رکھی ہی کہ میں حمزہ کو قتل کروں گا لیکن وحشی مجھ پر سبقت لے گیا میں نے پھر منت مانی ہے کہ میں محمد کو قتل کروں گا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہا اچھا پھر نیچے اترو عمرو گھوڑے سے نیچے اترا پھر دونوں کی تلواریں کوندنے لگیں تاہم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اس کا کام تمام کردیا (رواہ المحاملی فی امالیہ)
30106- عن ابن عباس قال: سمعت عمر يقول: جاء عمرو بن عبدود فجعل يجول بفرسه حتى جاوز الخندق وجعل يقول: هل من مبارز؟ وسكت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل يبارزه أحد فقام علي فقال: أنا يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل يبارزه أحد؟ فقال علي: دعني يا رسول الله فإنما أنا بين حسنيين: إما أن أقتله فيدخل النار، وإما أن يقتلني فأدخل الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اخرج يا علي فقال له عمرو: من أنت يا ابن أخي؟ قال: أنا علي فقال: إن أباك كان نديما لي لا أحب قتالك، فقال علي: إنك كنت أقسمت لا يسألك أحد ثلاثا إلا أعطيته فاقبل مني واحدة، فقال عمرو: وما ذلك؟ فقال علي: أدعوك أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقال عمرو: ليس إلى ذلك سبيل قال: فترجع فلا تكون علينا ولا معنا ثلاثا، قال: إني نذرت أن أقتل حمزة، فسبقني إليه وحشي، ثم إني نذرت أن أقتل محمدا، قال علي: فانزل فنزل فاختلفا في الضربة فضربه علي فقتله. المحاملي في أماليه.
তাহকীক: