কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০০৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30067 ۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبر صرف چھ آدمیوں کو ہوئی وہ یہ ہیں زبیر ، طلحہ سعد بن ابی وقاص ، کعب بن مالک ، ابودجانہ ، اور سہل بن حنیف ۔ (رواہ ابن عساکر)
30067- عن ابن شهاب: خفي خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد على الناس كلهم إلا على ستة نفر الزبير وطلحة وسعد بن أبي وقاص وكعب بن مالك وأبي دجانة وسهل بن أبي حنيف. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30068 ۔۔۔ ” مسند علی “ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ میں نے احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں بائیں جبرائیل امین اور میکائیل (علیہ السلام) کو دیکھا انھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے میں نے انھیں اس سے پہلے دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30068- "مسند علي" عن سعد قال: رأيت عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن شماله يوم أحد عليهما ثياب بيض ما رأيتهما قبل ولا بعد يعني جبرئيل وميكائيل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30069 ۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص مسلمانوں کو جلانا چاہتا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تیر مارو میں نے کمان میں تیر رکھ کر نشانہ درست کیا اور تیر چلایا تیر سیدھا اس شخص کی پیشانی پر جا لگا اور وہ زمین پر گرپڑا ۔ گرتے ہی اس کا ستر کھل گیا اس کی یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے ۔ (رواہ ابن عساکر ورحالہ ثقات)
30069- "أيضا" عن سعد قال: " كان رجل من المشركين قد أحرق المسلمين فقال النبي صلى الله عليه وسلم لي: ارم فداك أبي وأمي فنزعت بسهم فيه نصل فأصابت جبهته فوقع فانكشفت عورته فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه". "كر"؛ ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30070 ۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن میں نے ایک تیر مارا ایک خوبصورت شخص نے میرا تیر مجھے واپس کردیا میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا حتی کہ کافی دیر بعد مجھے یقین ہوا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے۔ (رواہ الواحدی وابن عساکر)
30070- "أيضا" عن سعد قال: لقد رأيتني أرمي بالسهم يوم أحد فيرده علي رجل أبيض حسن الوجه لا أعرفه حتى كان بعد فظننت أنه ملك. الواحدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30071 ۔۔۔ ” مسند طلحہ “ قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ میں نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) کا شل ہاتھ دیکھا جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچاتے رہے (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابن مندہ وابن عساکر وابو نعیم فی المعرفۃ)
30071- "مسند طلحة" عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت يد طلحة بن عبيد الله شلاء وقى بها النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد. "ش، حم" وابن منده، "كر" وأبو نعيم في المعرفة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30072 ۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت طلحہ (رض) کے جسم پر چوبیس (24) زخم دیکھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہتے ہوئے آئے تھے ۔ (رواہ ابن شیبۃ)
30072- "أيضا" عن موسى بن طلحة قال: لقد رأيت بطلحة أربعة وعشرين جرحا جرحها مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30073 ۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ احد میں جب وہ اپنے ہاتھ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچانے میں مصروف تھے آپ (رض) کا ہاتھ ٹوٹ گیا غفلت میں زبان سے ” حس “ کا کلمہ نکلا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے تو اس دنیا میں رہتے ہوئے جنت میں اپنا محل دیکھ لیتے جو رب تعالیٰ نے تمہارے لیے بنایا ہے۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد وابن عساکر)
30073- عن طلحة أنه لما وقى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده يوم أحد فقطعت قال: حسن1، فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: " لو قلت: بسم الله لرأيت بناءك الذي بنى الله لك في الجنة وأنت في الدنيا". "قط" في الأفراد، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30074 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی اور مسلمان متفرق ہوئے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف بارہ صحابہ کرام (رض) اجمعین باقی رہے ان میں سے ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) بھی تھے چنانچہ ایک مشرک آگے بڑھا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر تلوار سے حملہ آور ہونا چاہتا تھا حضرت طلحہ (رض) نے آپ کے چہرہ اقدس کے آگے اپنا ہاتھ رکھ دیا جب تلوار ہاتھ پر پڑھی زبان سے ” حس “ کا کلمہ نکلا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے طلحہ رک جاؤ اگر تم بسم اللہ کہتے کیا اچھا ہوتا ؟ اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تمہیں فرشتے اوپر اٹھالیتے لوگ تمہیں دیکھتے رہ جاتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30074- عن الزهري قال: لما كان يوم أحد وانهزم المسلمون عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حتى بقي في اثني عشر رجلا من المهاجرين والأنصار منهم طلحة بن عبيد الله، فذهب رجل من المشركين يضرب وجه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالسيف فوقاه طلحة بيده، فلما أصاب طلحة السيف قال: حس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا طلحة ألا قلت بسم الله؟ لو قلت بسم الله وذكرت الله لرفعتك الملائكة والناس ينظرون إليك". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30075 ۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن مجھے ایک تیر لگا میری زبان سے ” حس “ نکلا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم بسم اللہ کہتے فرشتے تمہیں لے کر فضاء میں پرواز کر جاتے اور لوگ تمہیں دیکھتے ہی رہ جاتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30075- عن طلحة قال: لما كان يوم أحد وأصابني السهم فقلت: حسن فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: لو قلت: بسم الله لطارت بك الملائكة والناس ينظرون إليك". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30076 ۔۔۔ ” مسند انس بن ظھیر “۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن حضرت رافع بن خدیج (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انھیں چھوٹا سمجھ کر فرمایا : یہ چھوٹا لڑکا ہے آپ نے انھیں واپس کرنا چاہا رافع (رض) کے چچا ظہر بن رافع (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا بھتیجا اچھا تیر انداز ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اجازت دے دی (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن السکن وابن مندہ وابو نعیم فی المعرفۃ اور کہا ہے کہ ظہیر بن رافع (رض) کے نام میں کسی وہمی شخص سے تصحیف ہوئی ہے چونکہ صحیح نام اسید بن ظہرا ہے جبکہ الاصابہ میں ہے کہ درست وصوب وہی بات ہے جو جماعت نے کی ہے اور وہ یہ ہے انس بن ظہیر جو کہ اسید بن ظہیر کے بھائی ہیں۔ حدیث کی سند یوں ہے حسین بن ثابت بن انس بن ظہیر عن اختہ سعدی بنت ثابت عن ابیھا عن جدھا انس (رض))
30076- "مسند أنس بن ظهير" عن حسين بن ثابت بن أنس بن ظهير عن أخته سعدى بنت ثابت عن أبيها عن جدها أنس قال: لما كان يوم أحد حضر رافع بن خديج مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فاستصغره وقال: هذا غلام صغير وهم برده فقال له عمه ظهير بن رافع: يا رسول الله إن ابن أخي رجل رام فأجازه النبي صلى الله عليه وآله وسلم. "خ" في تاريخه وابن السكن وابن منده وأبو نعيم في المعرفة، قال هو تصحيف من بعض الواهمين لأن الصحيح هو أسيد بن ظهير، قال في الإصابة: وأخطأ أبو نعيم في ذلك والصواب مع الجماعة وإنه أنس بن ظهير أخو أسيد بن ظهير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30077 ۔۔۔ ” مسند عمر “ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر گھر سے نکلی اور لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوئی حتی کہ ایک باغیچے میں داخل ہوئی ۔ باغیچے میں مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی ان میں حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت طلحہ (رض) بھی تھے حضرت عمر (رض) نے کہا : تم نے جرات کا مظاہرہ کیا ہے تمہیں کیا معلوم ہوسکتا ہے کوئی آزمائش پیش آجائے یا ہم کسی جنگی چال کے لیے یہاں آئے ہوں بخدا ، عمر (رض) مجھے برابر ملامت کرتے رہے حتی کہ میں نے چاہا کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں دھنس جاؤں حضرت طلحہ (رض) نے کہا : اے عمر ! تم نے بہت باتیں کردیں جنگی چال کہاں ہے اور جنگ سے بھاگنا کہاں ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
30077- "مسند عمر" عن عائشة قالت: خرجت يوم الخندق أقفو آثار الناس فمشيت حتى اقتحمت حديقة فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم طلحة، فقال عمر: إنك لجريئة وما يدريك لعله يكون بلاء أو تحوز فوالله ما زال يلومني حتى لوددت أن الأرض تنشق فأدخل فيها، فقال طلحة: قد أكثرت أين التحوز أين الفرار. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30078 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے دن ظہر کی نماز پڑھی اور نہ ہی عصر کی نماز حتی کہ سورج غروب ہوگیا ۔ (رواہ المخلص فی حدیثہ)
30078- "أيضا" عن عمر قال: ما صلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم الخندق الظهر والعصر حتى غابت الشمس. المخلص في حديثه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30079 ۔۔۔ مسند براء بن عازب “ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے مل کر) خندق سے مٹی نکالتے رہے حتی کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹے پڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زبان مبارک سے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے یہ رجزیہ اشعار پڑھتے رہے ۔ اللہم لولا انت ما اھت دینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلن سکینۃ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا : ان الاولی قد بغوا علینا وان ارادو افتنۃ ابینا : یا اللہ اگر تیری توفیق نہ ہوتی تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے نہ صدقہ دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے ہم پر سکون اور اطمینان نازل فرما اور لڑائی کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھ ان لوگوں نے ہم پر بڑا ظلم کیا ہے اور یہ جب بھی ہمیں کسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی بھی اسے قبول نہیں کرتے ۔
30079- "مسند البراء بن عازب" عن البراء قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الخندق ينقل التراب حتى وارى التراب شعر صدره وهو يرتجز برجز عبد الله بن رواحة يقول:

اللهم لولا أنت ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا

فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا

إن الأولى قد بغوا علينا ... وإن أرادوا فتنة أبينا

"ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30080 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا خندق میں ایک جگہ بھاری چٹان آگئی جو نہ باہر نکل پائی تھی اور نہ ہی ٹوٹی تھی ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ تشریف لائے جب آپ نے چٹان دیکھی اپنی چادر نیچے رکھی اور ہتھوڑا اٹھا لیا پھر بسم اللہ پڑھ کر ہتھوڑا مارا چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا اور آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا : مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں بخدا ! میں نے شام کے سرخ محلات دیکھ لیے پھر آپ نے دوسری بار ہتھوڑا مارا چٹان دوتہائی ٹوٹ گئی آپ نے ایک بار پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا : مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی ہیں بخدا میں مدائن کے سفید محلات دیکھ رہا ہوں آپ نے پھر تیسری بار ہتھوڑا مارا اور بسم اللہ پڑھی لوں چٹان کا بقیہ حصہ بھی ٹوٹ گیا آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا : مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں بخدا میں اپنی اس جگہ سے یمن کے دروازے دیکھ رہا ہوں ۔ (رواہ ابن عساکر والخطیب فی المتفق والمفترق)
30080- عن البراء بن عازب قال: لما كان حيث أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفر الخندق عرضت لنا في بعض الخندق صخرة عظيمة شديدة لا تأخذ منها المعاول، فاشتكينا ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآها ألقى ثوبه وأخذ المعول فقال: بسم الله ثم ضرب ضربة فكسر ثلثها وقال: الله أكبر أعطيت مفاتيح الشام والله إني لأبصر قصورها الحمر الساعة، ثم ضرب الثانية فقطع الثلث الآخر فقال: الله أكبر أعطيت مفاتيح فارس والله إني لأبصر قصر المدائن الأبيض ثم ضرب الثالثة وقال: بسم الله فقطع بقية الحجر وقال: الله أكبر أعطيت مفاتيح اليمن، والله إني لأبصر أبواب صنعاء من مكاني هذا الساعة. "كر، خط" في المتفق والمفترق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30081 ۔۔۔ ” مسند ثعلبہ بن عبدالرحمن انصاری ‘’‘ حضرت زید بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے لیے مجھے اجازت دی اور مجھے چادر پہنائی ۔ (رواہ الطبرانی)
30081- "من مسند ثعلبة بن الرحمن الأنصاري" عن زيد بن ثابت "أجازني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الخندق وكساني". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30082 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے انجام میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو رسوا کرکے واپس کیا اور انھیں کچھ غنیمت نہ ملی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کی عزت میں کون اشعار کہے گا ؟ کعب بن مالک (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کہوں گا ابن رواحہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کہوں گا فرمایا : تم اچھے اشعار کہہ لیتے ہو حضرت حسان بن ثابت (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کہوں گا ، جی ہاں مشرکین کی ہجو میں اشعار کہو جبرائیل امین تمہاری مدد کریں گے ۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکرورجالہ ثقات)
30082- عن جابر قال: لما كان يوم الأحزاب ورد الله المشركين بغيظهم لم ينالوا خيرا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من يحمي أعراض المسلمين؟ قال كعب بن مالك: أنا يا رسول الله وقال ابن رواحة: أنا يا رسول الله قال: إنك تحسن الشعر فقال حسان بن ثابت: أنا يا رسول الله قال: نعم اهجم أنت وسيعينك عليهم روح القدس". ابن منده، "كر"؛ ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30083 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تین دن تک خندق کھودتے رہے اور کھانا چکھا تک نہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خندق میں ایک چٹان آگئی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر پانی ڈالو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور کدال یا ہتھوڑا لیا پھر بسم اللہ پڑھ کر تین چوٹیں لگائیں چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریب ہو کر دیکھا کہ آپ نے پیٹ مبارک پر (بھوک کی شدت کی وجہ سے) پتھر باندھ رکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30083- "مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: مكث النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يحفرون الخندق ثلاثا ما ذاقوا طعاما، فقالوا: "يا رسول الله إن هنا كدية من الجبل فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: رشوا عليها الماء فرشوها، ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم فأخذ المعول أو المسحاة ثم قال: بسم الله، ثم ضرب ثلاثا فصارت كثيبا قال جابر: فحانت مني التفاتة فرأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قد شد على بطنه حجرا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30084 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ بن یمان “ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت حذیفہ (رض) سے کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تمہاری صحبت کے متعلق اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتا ہوں کہ تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہم نے انھیں نہیں پایا تم نے انھیں دیکھا جبکہ ہم انھیں نہیں دیکھ سکے حضرت حذیفہ (رض) نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ سے تمہارے ایمان کی شکایت کرتے ہیں چونکہ تم نے اللہ کو دیکھا نہیں ، بخدا میں نہیں جانتا کہ تم اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالیتے تم کسی حال میں ہوتے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ خندق کی وہ طوفانی رات دیکھی ہے جو شدید بارش اور سخت سردی والی رات تھی یکایک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا : کون جا کر دشمن کی خبر لائے گا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) کا رفیق بنائے گا ۔ چانچہ ہم میں سے کوئی شخص بھی تیار نہ ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : کیا کوئی شخص جا کر دشمن کی خبر لائے گا وہ جنت میں داخل ہوگا بخدا مجمع سے کوئی شخص کھڑا نہ ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا کوئی شخص جائے اور دشمن کی (جاسوسی کرکے) خبر لائے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق بنائے گا چنانچہ اس بار بھی مجمع میں سے کوئی نہ اٹھا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حذیفہ کو بھیج دیں حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں میں نے کہا تم چپ رہو ، بخدا ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مخاطب نہیں کیا حتی کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے قتل ہونے کا ڈر نہیں ، البتہ مجھے گرفتار ہونے کا ڈر ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم گرفتار نہیں ہوں گے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جو چاہیں حکم دیں فرمایا : جاؤ اور قریش کے مجمع میں داخل ہوجاؤ اور کہو : اے جماعت قریش ! لوگ چاہتے ہیں کہ کل کہیں : کہاں ہیں قریش کہاں ہیں لوگوں کے راہنما کہاں ہیں لوگوں کے سردار ! آگے بڑھو تم آگے بڑھنا اور جنگ شروع کردینا یوں جنگ تمہارے بل بوتے پر ہوگی پھر تم بنی کنانہ کے پاس جاؤ اور کہو : اے جماعت کنانہ ! لوگ چاہتے ہیں کل کہیں کہ کہاں ہیں بنی کنانہ کہاں ہیں تیر انداز آگے بڑھو تم آگے بڑھنا یوں جنگ میں جا ملنا اور جنگ کا پانسہ تمہارے ہاتھ میں ہوگا پھر تم قیس کے پاس آنا اور کہو : اے جماعت قیس ! لوگ چاہتے ہیں کل کہیں کہ : کہاں ہے قبیلہ قیس جو بےمثال شہسوار ہیں کہاں شہسواروں کے پیشوا آگے بڑھو تم آگے بڑھنا اور جنگ میں جا ملنا یوں جنگ کا پانسہ تمہارے ہاتھ میں ہوگا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تاکید کی کہ اپنے اسلحہ سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنا حتی کہ تم میرے پاس واپس آجاؤ ۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں میں قریش کی طرف چل دیا اور لشکر کے درمیان جا پہنچا اور ان کے ساتھ مل کر آگ تاپنے لگا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتانے کے مطابق بات کرنے لگا کہ قریش کہاں ہیں ؟ کنانہ کہاں ہیں ؟ قیس کہاں ہیں ؟ حتی کہ سحری کے وقت ابو سفیان کھڑا ہوا اور لات عزی سے مناجات کیں پھر کہا : ہر شخص اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کی تحقیق کرے کہ کون ہے حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : میرے پاس ایک شخص بیٹھا آگ تاپ رہا تھا میں نے پھرتی سے اسے پکڑ لیا تاکہ مجھ سے پہلے وہ مجھے نہ پکڑے میں نے کہا : تو کون ہے اس نے کہاں میں فلاں ہوں میں نے کہا : اچھا اچھا ٹھیک ہے حضرت ابو سفیان نے صبح کے آثار دیکھے کہا : آواز دو کہاں ہیں قریش ؟ کہاں ہیں لوگوں کے راہنما ؟ کہاں ہیں لوگوں کے پیشوا ؟ آگے بڑھو چنانچہ لوگوں نے کہا : یہ بات تو رات کو سنی گئی ہے ابو سفیان نے پھر کہاں کہاں ہیں کنانہ تیر انداز آگے بڑھو لوگوں نے کہا : یہ بات تو رات کو سنی گئی ہے پھر کہا : کہاں ہیں قیس کہاں ہیں شہسوار کہاں ہیں گھوڑے دوڑانے والے آگے بڑھو لوگوں نے کہا : یہ بات تو رات کو سنی گئی ہے ، یہ صورتحال دیکھ کر مشرکین ڈر گئے اور ہمت ہار گئے اللہ تعالیٰ نے تندوتیز آندھی چلائی چنانچہ مشرکین کا کوئی خیمہ نہ رہا جسے ہوا نے الٹ نہ دیا ہو اور ان کا ہر برتن الٹ گیا ہر طرف کوچ کرنے کی صدائیں بلند ہوئیں ۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : میں نے ابو سفیان کو دیکھا اس نے اپنے اونٹ پر چھلانگ لگائی اونٹ بندھا ہوا تھا حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : بخدا ! اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ نہ کرنے کی تاکید نہ کی ہوتی ہیں ابو سفیان پر تیروں کی بارش کردیتا چونکہ وہ میرے بہت قریب کھڑا تھا چنانچہ قریش رسوا ہو کر چل دئیے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں واپس لوٹ آیا اور ساری کارگزاری آپ کے گوش گزار کی آپ کار گزاری سن کر ہنس پڑے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے ۔ (رواہ ابو داؤد وابن عساکر)
30084- "من مسند حذيفة بن اليمان" عن زيد بن أسلم قال: قال رجل لحذيفة أشكو إلى الله صحبتكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنكم أدركتموه ولم ندركه ورأيتموه ولم نره، قال حذيفة: ونحن نشكو إلى الله إيمانكم به ولم تروه والله ما أدري لو أنك أدركته كيف كنت تكون، لقد رأيتنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ليلة الخندق ليلة باردة مطيرة إذ قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: هل من رجل يذهب فيعلم لنا علم القوم جعله الله رفيق إبراهيم يوم القيامة؟ فما قام منا أحد، ثم قال: هل من رجل يذهب فيعلم لنا علم القوم ادخله الله الجنة؟ فوالله ما قام منا أحد ثم قال: هل من رجل يذهب فيعلم لنا علم القوم جعله الله رفيقي في الجنة؟ فما قام منا أحد فقال أبو بكر يا رسول الله ابعث حذيفة، قال حذيفة: فقلت دونك فوالله ما قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يا حذيفة حتى قلت يا رسول الله بأبي وأمي أنت والله مابي أن أقتل ولكن أخشى أن أؤسر، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إنك لن تؤسر، فقلت: يا رسول الله مرني بما شئت فقال: اذهب حتى تدخل في القوم فنأتي قريشا فتقول: يا معشر قريش: إنما يريد الناس أن يقولوا غدا: أين قريش أين قادة الناس أين رؤوس الناس؟ تقدموا فتقدموا فتصلوا بالقتال فيكون القتل بكم ثم ائت كنانة فقل: يا معشر كنانة إنما يريد الناس غدا أن يقولوا أين كنانة أين رماة الحدق تقدموا فتقدموا فتصلوا بالقتال فيكون القتل بكم، ثم ائت قيسا فقل: يا معشر قيس إنما يريد الناس غدا أن يقولوا: أين قيس أين أحلاس الخيل أين فرسان الناس تقدموا فتقدموا فتصلوا بالقتال ويكون القتل بكم. ثم قال لي: ولا تحدث في سلاحك شيئا قال حذيفة: فذهبت فكنت بين ظهراني القوم أصطلي معهم على نيرانهم وأذكر لهم القول الذي قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أين قريش أين كنانة أين قيس حتى إذا كان وجه السحر قام أبو سفيان يدعو باللات والعزى ويشرك ثم قال: لينظر رجل من جليسه؟ قال: ومعي رجل يصطلي، قال: فوثبت عليه مخافة أن يأخذني فقلت: من أنت؟ قال: أنا فلان قلت: أولى فلما رأى أبو سفيان الصبح قال أبو سفيان: نادوا أين قريش أين رؤوس الناس أين قادة الناس تقدموا قالوا: هذه المقالة التي أتينا بها البارحة ثم قال: أين كنانة أين رماة الحدق تقدموا فقالوا: هذه المقالة التي أتينا بها البارحة ثم قال: أين قيس أين فرسان الناس أين أحلاس الخيل تقدموا فقالوا هذه المقالة التي أتينا بها البارحة قال: فخافوا فتخاذلوا وبعث الله عليهم الريح فما تركت لهم بناء إلا هدمته ولا إناء إلا كفأته، وتنادوا بالرحيل قال حذيفة حتى رأيت أبا سفيان وثب على جمل له معقول فجعل يستحثه للقيام ولا يستطيع القيام لعقاله فقال حذيفة: فوالله لولا ما قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تحدث في سلاحك شيئا لرميته من قريب قال: وسار القوم وجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فضحك حتى رأيت أنيابه". "د، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30085 ۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے خندق کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : مشرکین نے ہمیں نماز عصر سے مشغول رکھا چنانچہ آپ نے تاغروب آفتاب نماز نہ پڑھی اللہ تعالیٰ کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ (رواہ البیہقی فی عذاب القبر)
30085- عن حذيفة سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول يوم الخندق: " شغلونا عن صلاة العصر - فلم يصلها يومئذ حتى غابت الشمس - ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا". "هق" في عذاب القبر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق :
30086 ۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ احزاب سے واپس لوٹے اپنی زرہ اتاری پتھروں سے استنجاء کیا اور پھر غسل کیا ۔ (رواہ ابن عساکر وقال رجالہ ثقات والحدیث غریب)
30086- عن كعب بن مالك " أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لما رجع من طلب الأحزاب نزع لأمته واغتسل واستجمر". "كر" وقال: رجاله ثقات والحديث غريب.
tahqiq

তাহকীক: