কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০০৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30047 ۔۔۔ ” مسند رفاعہ بن رافع “ جب مشرکین احد سے شکست کھا کر واپس لوٹے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زرہ توجہ کرو تاکہ میں اپنے رب کی ثناء کرلوں پھر یہ دعا کی ۔ اللہم لک الحمد کلہ اللہم لا قابض لما بسطت ولا باسط لما قبضت ولا ھادی لما اضللت ولا مضل لما ھدیت ولا معطی لما منعت ولا مانع لما اعطیت ولا مقارب لما باعدت ولا مباعد لما قوبت اللہم ابسط علینا من برکاتک ورحمتک وفضلک ورزقک اللہم انی اسالک النعیم المقیم الذی لایحول ولا یزول اللہم انی اسالک النعیم یوم العیلۃ والا من یوم الخوف اللہم عائذبک من شرما اعطیتنا ومن شر ما منعت منا اللہم حبب الینا الایمان وزینہ فی قلوبنا وکرہ الینا الکفر والفسوق واجعلنا من الراشدین اللہم توفنا مسلمین واحینا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولا مفتونین اللہم قاتل الکفرۃ الذین یکذبون رسلک ویصدون عن سبیلک واجعل علیہم رجزک وعذابک اللہم قاتل الکفرۃ الذی اوتوالکتاب الہ الحق “۔۔ ترجمہ : ۔۔۔ یا اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں یا اللہ تیرے فراخی کو تنگی میں کوئی نہیں تبدیل کرسکتا اور تیری دی ہوئی تنگی کو کوئی فراخی میں نہیں تبدیل کرسکتا جسے تو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا تیرے عطا کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو تو روک دے اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا جس چیز کو تو دور کر دے اسے کوئی قریب نہیں کرسکتا اور جس چیز کو تو قریب کرے اسے کوئی دور نہیں کرسکتا یا اللہ اپنی برکتیں ہمیں عطا فرما ۔ اپنی رحمت فضل اور رزق سے ہمیں نواز یا اللہ میں تجھ سے دائمی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی تبدیل نہیں ہوئیں اور جن پر کبھی زوال نہیں آتا یا اللہ کم مائیگی کے دن میں تجھ سے نعمتوں کا سوال کرتا ہوں اور خوف کے دن امن کا خواستگار ہوں یا اللہ ایمان ہمیں محبوب بنا دے اور ایمان کو ہمارے دلوں میں مزین فرما ، کفر کا ناپسندیدہ کر دے فسوق سے ہمیں دور رکھ اور ہمیں رشد و ہدایت پانے والوں میں سے بنا دے یا اللہ ! ہمیں مسلمانوں کی موت عطا فرما۔ ہمیں مسلمان زندہ رکھ اور صالحین کے ساتھ شامل کر دے دراں حالیکہ ہم پشیمان نہ ہوں اور آزمائشوں میں نہ ڈالے جائیں ۔ یا اللہ کافروں کا صفایا کر دے جو تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور تیرے راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں کافروں پر اپنا عذاب نازل فرمایا اللہ ! ان کافروں کو قتل کر دے جنہیں کتاب دی گئی اے معبود برحق۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری فی الادب والنسائی والطبرانی والبغوی والباوردی وابو نعیم فی الحلیۃ والحاکم وتعقب البیہقی، فی الدعوات والضیاء عن رفاعۃ بن رافع الزرقی) ۔ کلام : ۔۔۔ حافظ ذھبی کہتے ہیں یہ حدیث باوجود نظافت اسناد کے منکر ہے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں یہ موضوع نہ ہو ۔
30047- "مسند رفاعة بن رافع" استووا حتى أثني علي ربي اللهم لك الحمد كله اللهم لا قابض لما بسطت، ولا باسط لما قبضت، ولا هادي لما أضللت ولا مضل لما هديت ولا معطي لما منعت، ولا مانع لما أعطيت ولا مقارب لما باعدت ولا مباعد لما قربت، اللهم ابسط علينا من بركاتك ورحمتك وفضلك ورزقك اللهم إني أسألك النعيم المقيم الذي لا يحول ولا يزول اللهم إني أسألك النعيم يوم العيلة والأمن يوم الخوف، اللهم عائذ بك من شر ما أعطيتنا ومن شر ما منعت منا، اللهم حبب إلينا الإيمان وزينه في قلوبنا، وكره إلينا الكفر والفسوق واجعلنا من الراشدين، اللهم توفنا مسلمين، وأحينا مسلمين وألحقنا بالصالحين غير خزايا ولا مفتونين، اللهم قاتل الكفرة الذين يكذبون رسلك ويصدون عن سبيلك واجعل عليهم رجزك وعذابك، اللهم قاتل الكفرة الذين أوتوا الكتاب إله الحق. "حم، خ" في الأدب، "ن، طب" والبغوي والباوردي، "حل، ك" وتعقب، "هق" في الدعوات، "ض" عن رفاعة بن رافع الزرقي قال لما كان يوم أحد وانكفأ المشركون قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم - فذكره؛ قال الذهبي الحديث مع نظافة إسناده منكر أخاف أن يكون موضوعا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30048 ۔۔۔ ابو حمید ساعدی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احد کے موقع پر مدینہ سے روانہ ہوئے اور جب ثنیۃ الوداع پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چھوٹا لشکر ہے جو مکمل طور پر اسلحہ سے لیس ہے آپ نے فرمایا : یہ کون لوگ ہیں ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : عبداللہ بن ابی بنی قینقاع کے چھ سو یہودی سپاہیوں کے ہمراہ ہے آپ نے فرمایا : کیا ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جواب دیا نہیں فرمایا : انھیں کہو واپس چلے جائیں چونکہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیتے ۔ (رواہ ابن النجار)
30048- عن أبي حميد الساعدي أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم خرج يوم أحد حتى إذا جاز ثنية الوداع، فإذا هو بكتيبة خشناء قال: من هؤلاء؟ قالوا: عبد الله بن أبي في ستمائة من مواليه من اليهود من بني قينقاع، قال: وقد أسلموا؟ قالوا: لا يا رسول الله قال: مروهم فليرجعوا فإنا لا نستعين بالمشركين على المشركين. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30049 ۔۔۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے د صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی حتی کہ عارضی طور پر مسلمانوں کو شکست ہوئی مگر مسلمان کفر کے سامنے ڈٹ گئے اور صبر و استقامت کا ثبوت دیا حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جسموں سے ڈھانپ لیا اور آپ کے آگے ڈھال بن گئے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یوں کہتے : یا رسول اللہ ! میری جان آپ کو جان پر قربان جائے میرا چہرہ آپ کے چہرے پر قربان ان میں سے بعض شہید ہوں وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ ہیں ابوبکر ، عمر ، علی ، زبیر ، طلحہ ، سعد سھل بن حنیف ابن ابی افلح ، حارث بن صمہ ، ابو دجانہ ، حباب بن منذر ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹان پر چڑھنے لگے مگر آپ نے دو زرہیں پہن رکھی تھیں ، بوجھ بھاری ہونے کی وجہ سے چٹان پر نہ چڑھ سکے حضرت طلحہ بن عبداللہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اٹھا کر چٹان پر رکھا آپ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے اور آپ نے فرمایا : طلحہ کے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
30049- عن سعد بن عبادة قال: بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم عصابة من أصحابه على الموت يوم أحد حتى انهزم المسلمون فصبروا وكرموا وجعلوا يسترونه بأنفسهم يقول الرجل منهم: نفسي لنفسك الفداء يا رسول الله وجهي لوجهك الوقاء يا رسول الله وهم يحمونه ويقونه بأنفسهم، حتى قتل منهم من قتل وهم أبو بكر وعمر وعلي والزبير وطلحة وسعد وسهل بن حنيف وابن أبي الأفلح والحارث بن الصمة وأبو دجانة والحباب بن المنذر قال: ونهض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إلى الصخرة ليعلوها وقد ظاهر بين درعين فلم يستطع فاحتمله طلحة بن عبيد الله فأنهضه حتى استوى عليها فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أوجب طلحة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30050 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس زخمی ہوا اور سامنے کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب سخت ہوا چونکہ انھوں نے کہا : عزیر اللہ کا بیٹا ہے اللہ تعالیٰ کا غضب نصرانیوں پر بھی سخت ہوا چونکہ انھوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اس شخص پر بھی اللہ کا غضب ہوگا جس نے میرا خون بہایا اور میری اولاد کے متعلق مجھے اذیت دی ۔ (رواہ ابن النجار وفیہ زیاد بن المنذر رافضی متروک)
30050- عن أبي سعيد قال: لما كان يوم أحد شج رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجهه، وكسرت رباعيته فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ رافعا يديه يقول: "إن الله تعالى اشتد غضبه على اليهود أن قالوا: عزيز ابن الله، واشتد غضبه على النصارى أن قالوا: المسيح ابن الله، وإن الله اشتد غضبه على من أراق دمى وآذاني في عترتي". ابن النجار؛ وفيه زياد بن المنذر رافضي متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30051 ۔۔۔ عبداللہ بن حارث بن نوفل کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک مشرک تلوار سونتے ہوئے آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کا مانا کیا اور فرمایا : انا لا نبی غیر الکذب اناابن المطلب میں سچا نبی ہوں اور میرے نبی ہونے میں جھوٹ نہیں ہے ، عبید المطلب کا بیٹا ہوں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30051- عن عبد الله بن الحارث بن نوفل أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استقبله رجل من المشركين يوم أحد مصلتا يمشي فاستقبله رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فقال:
أنا النبي غير الكذب ... أنا ابن عبد المطلب
فضربه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتله. "ش".
أنا النبي غير الكذب ... أنا ابن عبد المطلب
فضربه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30052 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف چار آدمی باقی رہے تھے ان میں ایک حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بھی تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30052- عن ابن عباس قال: ما بقي مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم أحد إلا أربعة أحدهم عبد الله بن مسعود. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30053 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص احد کے دن قتل کیا گیا مشرکین نے اسے دوائی پلانا چاہی مگر اس نے علاج کروانے سے انکار کردیا مشرکین نے اسے دوائی دی ، حتی کہ مقام ویہ پر پہنچا اور مرگیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30053- عن ابن عباس قال: قتل رجل من المشركين يوم أحد فأراد المشركون أن يدوه3 فأبى فأعطوه حتى بلغ الدية فأبى. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30054 ۔۔۔ خالد بن مخلد ، مالک بن انس عبداللہ بن ابی بکر ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک میں خود کی کڑیاں کھب گئیں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور آپ کا چہرہ اقدس بھی زخمی ہوا آپ کا جلے ہوئے شیرے سے علاج کیا گیا اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) آپ کے پاس مشکیزے میں پانی لاتے رہے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30054- حدثنا خالد بن مخلد ثنا مالك بن أنس عن عبد الله بن أبي بكر عن رجل قال: هشمت البيضة على رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد وكسرت رباعيته، وجرح في وجهه، ودووي بحصير محرق؛ وكان علي بن أبي طالب ينقل إليه الماء في الحجفة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30055 ۔۔۔ ابن شباب کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پیچھے تنہا رہ گئے تھے جبکہ آپ کے اور مشرکین کے درمیان حضرت حمزہ (رض) حائل تھے اور بےجگری سے لڑتے جارہے تھے اسی اثناء میں وحشی گھات لگائے بیٹھا تھا موقع ملتے ہی حضرت حمزہ (رض) کو شہید کردیا جبکہ آپ (رض) کے ہاتھ سے اکتیس (31) کفار واصل جہنم ہوئے آپ (رض) کو اسد اللہ کہہ کر پکارا جاتا تھا ۔ (رواہ ابو نعیم)
30055- عن خالد بن معدان عن أبي بلال قال: قال ابن الشباب: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوم الشعب آخر أصحابه ليس بينه وبين العدو غير حمزة يقاتل العدو، فرصده وحشي فقتله وقد قتل الله بيد حمزة من الكفار واحدا وثلاثين وكان يدعى أسد الله. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30056 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ احد کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک جماعت کے ساتھ واپس کردیتا تھا ان میں اوس بن عزابہ ، زیدبن ثابت اور رافع بن خدیج (رض) بھی تھے ، رواہ ابو نعیم ۔
30056- عن ابن عمر قال: لما كان عام أحد ردني رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر منهم أوس بن عزابة وزيد بن ثابت ورافع بن خديج. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30057 ۔۔۔ ” مسند ابن عمر “ جاؤ راستے میں کھڑے جاؤ اور جو زخمی بھی تمہارے پاس سے گزرے بسم اللہ پڑھ کر اس کے زخم پر دم کرو اور پھر یہ دعا پڑھ : ” بسم اللہ شفاء الحی الحمید من کل حد وحدید وحجر تلید اللہم اشف انہ لا شافی الا نت “۔ اللہ کے نام سے جو زندہ اور قابل ستائش ہے وہی شفا دینے والا ہے ہر تلخ سے تلوار سے دھاری دار پتھر سے یا اللہ شفاء دے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابن عساکر عن ابی کھیل الازدی)
30057- "مسند ابن عمر" " انطلق فقم على الطريق فلا يمر بك جريح إلا قلت: بسم الله، ثم تفلت في جرحه وقلت: بسم الله شفاء الحي الحميد من كل حد وحديد وحجر تليد اللهم اشف إنه لا شافي إلا أنت فإنه لا يقيح ولا يدمي". الحسن بن سفيان وابن عساكر عن أبي كهيل الأزدي قال: أتى رجل يوم أحد إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إن الناس كثر فيهم الجراحات قال - فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30058 ۔۔۔ قتادہ حسن بصری (رح) اور سعید بن مسیب (رح) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ شہداء کو غسل دیا گیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30058- عن قتادة عن الحسن وسعيد بن المسيب أن قتلى أحد غسلوا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30059 ۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ احد کے دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے ساتھ تدبیر (چال) چلی جبکہ تدبیر چلانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30059- عن الشعبي قال: مكر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالمشركين يوم أحد وكان أول يوم مكر فيه بهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30060 ۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ احد کے دن حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ بن راہب شہید کیے گئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30060- عن الشعبي قال: قتل حمزة بن عبد المطلب يوم أحد وقتل حنظلة ابن الراهب الذي طهرته الملائكة يوم أحد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30061 ۔۔۔ شیبہ کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناک زخمی ہوئی آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے نیز حضرت طلحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ہاتھ سے بچاتے رہے حتی کہ ان کی انگلی ناکارہ ہوگئی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30061- عن الشعبي قال: أصيب يوم أحد أنف النبي صلى الله عليه وآله وسلم ورباعيته وزعم أن طلحة وقى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بيده فضرب فشلت أصبعه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30062 ۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر ایک عورت اپنے پیٹے کو لائی اور اس نے بیٹے کو تلوار دی لڑکا نہیں اٹھاسکتا تھا چنانچہ عورت نے رسی سے لڑکے کے بازو کے ساتھ تلوار باندھ دی پھر عورت بیٹے کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یہ میرا بیٹا ہے یہ آپ کی طرف سے لڑے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بیٹا یہاں سے حملہ کرو اے بیٹا یہاں سے حملہ کرو چنانچہ دوران جنگ لڑ کے زخم آیا اور گھائل ہوگیا اس کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور فرمایا : اے بیٹا شاید تم جزع فزع کر رہے ہو ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30062- عن الشعبي أن امرأة دفعت إلى ابنها يوم أحد السيف فلم يطق حمله، فشدته على ساعده بنسعة1، ثم أتت به النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: " يا رسول الله هذا ابني يقاتل عنك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أي بني احمل ههنا أي بني احمل ههنا فأصابته جراحة، فصرع فأتي به النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: أي بني لعلك جزعت؟ قال: لا يا رسول الله". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30063 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت کو چھوٹا سمجھ کر واپس کردیا ان میں عبداللہ بن عمر بن خطاب تھے ان کی عمر چودہ (14) سال تھی ، اسامہ بن زید ، براء بن عازب ، عزابۃ ب اوس بنی حارثہ کا ایک شخص زید بن ارقم ، زید بن ثابت اور رافع (رض) اجمعین تاہم رافع (رض) نے ایڑیاں اوپر اٹھا کر اپنے آپ کو بڑا ثابت کیا یوں انھیں اجازت مل گئی اور لشکر کے ساتھ چل پڑے جبکہ بقیہ کو مدینہ میں پیچھے چھوڑ گئے اور یہ لوگ مدینہ میں عورتوں اور بچوں کی رکھوالی کرتے رہے۔ (رواہ ابن عساکر و سعید بن المنصور)
30063- عن عروة قال: رد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم أحد نفرا من أصحابه استصغرهم فلم يشهدوا القتال منهم عبد الله بن عمر بن الخطاب وهو يومئذ ابن أربع عشرة سنة وأسامة بن زيد والبراء بن عازب وعزابة بن أوس ورجل من بني حارثة وزيد بن أرقم وزيد بن ثابت ورافع قال: فتطاول له رافع وأذن له فسار معهم، وخلف بقيتهم فجعلوا حرسا للذراري والنساء بالمدينة. "كر، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30064 ۔۔۔ عکرمہ (رض) روایت کی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس زخمی ہوا آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے شدت پیاس کی وجہ سے آپ گھٹنوں پر جھکا چاہتے تھے اتنے میں ابی بن خلف آیا اور وہ اپنے بھائی امیۃ بن خلف کا بدلہ لینا چاہتا تھا بولا ! کہاں ہے وہ شخص جو نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے وہ ذرا میرے سامنے آئے اگر وہ سچا ہے مجھے قتل کرے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حربہ دو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ میں حربہ چلانے کی سکت ہے فرمایا : میں نے رب تعالیٰ سے اس کا خون مانگا ہے آپ نے حربہ لیا اور پھر اس کی طرف چل دئیے آپ نے حربہ اس دشمن کی طرف پھینکا ۔ حربہ نشانے پر لگا ابی بن خلف زخم کھا کر گھوڑے سے نیچے گرا اس کے ساتھی اسے گھسیٹتے ہوئے لے آئے اور کہا : تجھے کیا ہوا زخم تو گہرا نہیں ۔ اس نے کہا : محمد نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے میرے خون کی منت مان رکھی تھی میں اتنا درد پاتاہوں کہ اگر یہ درد ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں تقسیم کیا جائے انھیں بھی کافی ہو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30064- حدثنا محمد بن مروان عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال: شج النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم أحد في وجهه، وكسرت رباعيته، وذلق من العطش حتى جعل يقع على ركبتيه، وترك أصحابه فجاء أبي بن خلف يطلبه بدم أخيه أمية بن خلف فقال: أين هذا الذي يزعم أنه نبي فليبرز لي فإنه إن كان نبيا قتلني؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أعطوني الحربة فقالوا: يا رسول الله وبك حراك فقال: إني قد استسقيت الله دمه فأخذ الحربة ثم مشي إليه فطعنه فصرعه عن دابته وحمله أصحابه فاستنفذوه فقالوا له: ما نرى بك بأسا؟ قال: إنه قد استسقى الله دمي إني لأجد لها ما لو كانت على ربيعة ومضر لوسعتهم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30065 ۔۔۔ عقال حماد بن سلمہ ، ہشام بن عمروہ عن ابیہ زبیر (رض) کی سند سے بھی مثل بالاحدیث مروی ہے۔
30065- حدثنا عقال حدثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن الزبير - مثله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30066 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے والد کو غزوہ احد میں ایک مسلمان نے قتل کردیا جبکہ مسلمان اسے مشرکین کافر وسمجھ رہا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہوا تو آپ نے اپنی طرف سے حذیفہ (رض) کو دیت دی چنانچہ اس کا نام حسیل یا حسل تھا ۔ (رواہ ابونعیم)
30066- عن عكرمة أن أبا حذيفة بن اليمان يوم أحد قتله رجل من المسلمين وهو يرى أنه من المشركين فواده رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده قال: وكان اسمه حسيل بن اليمان أو حسل. أبو نعيم.
তাহকীক: