কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩০০২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30027 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ جب لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے بدر کے دن چھٹ گئے میں نے آپ کو شہداء میں تلاش کیا آپ نہ ملے میں نے کہا : بخدا ! آپ جنگ سے بھاگنے والے نہیں اور نہ ہی آپ شہداء میں ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارے کیے پر اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آیا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی کو آسمانوں پر اٹھا لیا ہے لہٰذا اب مجھ پر کوئی بھلائی نہیں تاوقتیکہ میں بےجگری سے لڑوں حتی کہ میں بھی راہ حق میں شہید ہوجاؤں چنانچہ میں نے اپنی تلوار کا نیام کاٹ کر پھینک دیا اور پھر دشمن پر اندھا دھند حملہ کردیا چنانچہ دشمن کا گھیرا توڑ ڈالا کیا دیکھتا ہوں کے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑا ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن کے نرغے میں ہیں۔ (رواہ ابو یعلی وابن ابی عاصم فی الجھاد والبورقی و سعید بن المنصور)
30027- عن علي قال: لما انجلى الناس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد نظرت في القتلى فلم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: والله ما كان ليفر وما أراه في القتلى، ولكن أرى الله غضب علينا بما صنعنا فرفع نبيه فما في خير من أن أقاتل حتى أقتل فكسرت جفن سيفي، ثم حملت على القوم فأفرجوا لي فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بينهم. "ع" وابن أبي عاصم في الجهاد والبورقي، "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30028 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبداللہ (رض) نے کہا : اے بیٹا اگر میں نے مدینہ میں اپنے پیچھے عورتیں ، بیٹیاں اور بہنیں نہ چھوڑی ہوتیں میں تمہیں جیتے جی میدان کار زار میں پیش کرتا لیکن تم مدینہ ہی میں دیکھ بھال کے لیے رہو ۔ جابر (رض) کہتے ہیں : میری پھوپھی دو شہیدوں یعنی عبداللہ (رض) ور دوسرے جابر (رض) کے چچا کی خبر لائیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30028- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: قال لي أبي عبد الله: أي ابني لولا بنيات أخلفهن من بعدي من أخوات وبنات لأحببت أن أقدمك أمامي ولكن كن في نظاري المدينة قال: فلم ألبث أن جاءت بهما عمتي قتيلين يعني أباه وعمه قد عرضتهما على بعير. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30029 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ہم احد کے مقتولین کی طرف گئے جب معاویہ (رض) نے ایک چشمہ جاری کروایا چالیس سال بعد ہم نے مقتولین کو نکالا ان کے بدن نرم ونازک تھے اور اطراف سے مڑے ہوئے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30029- عن جابر قال: خرجنا إلى قتلانا يوم أحد إذ أجرى معاوية العين فاستخرجناهم بعد أربعين سنة لينة أجسادهم تنثني أطرافهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30030 ۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ جب احد کے دن لوگ پیچھے ہٹ گئے سب سے پہلے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا اور مؤمنین کو آپ کے زندہ سلامت ہونے کی بشارت دی میں ایک گھاٹی میں تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب (رض) کو بلایا اور ان کو زرع لی ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب (رض) کی رزع پہنی اور اپنی انھیں پہنائی احد کے دن کعب (رض) جوانمردی سے لڑے حتی کہ ان کے بدن پر ستر زخم آئے ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30030- عن كعب بن مالك قال: لما انكشفت الناس يوم أحد كنت أول من عرف رسول الله صلى الله عليه وسلم وبشرت به المؤمنين حيا سويا وأنا في الشعب فدعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كعبا بلأمته وكانت صفراء أو بعضها فلبسها رسول الله صلى الله عليه وسلم ونزع رسول الله صلى الله عليه وسلم لأمته فلبسها كعب وقاتل كعب يومئذ قتالا شديدا حتى جرح سبعة عشر جرحا. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30031 ۔۔۔ کعب (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن سب سے پہلے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانا میں نے خود کے نیچے آپ کی آنکھیں دیکھ کر اعلان کیا : اے انصار کی جماعت ! تمہیں بشارت ہو یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف اشارہ کیا کہ خاموش رہو ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30031- عن كعب قال: كنت أول من عرف رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ فعرفت عينيه من تحت المغفر، فناديت يا معشر الأنصار أبشروا هذا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأشار إلي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن أصمت. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30032 ۔۔۔ ابو بشیر مازنی کی روایت ہے کہ شیطان نے جب پکار کر کہا محمد کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہ خبر سن کر مسلمانوں کی قدرے ہمت پست ہوگئی اور ادھر ادھر منتشر ہوگئے اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پہاڑ پر چڑھنے لگے چنانچہ سب سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سلامتی کی خبر حضرت کعب بن مالک نے دی میں نے چیخ کر کہا : یہ ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آپ مجھے انگلی کے اشارے سے چپ رہنے کی تلقین فرما رہے تھے ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30032- عن أبي بشير المازني قال: لما صاح الشيطان أزب العقبة: إن محمدا قد قتل لما أراد الله من ذلك سقط في أيدي المسلمين وتفرقوا في كل وجه وأصعدوا في الجبل فكان أول من بشرهم برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سالما كعب بن مالك، قال كعب: فجعلت أصيح ويشير إلي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بأصبعه على فيه أن أسكت. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30033 ۔۔۔ قاسم بن محمد کہل ازدی (رض) (انھیں شرف صحبت حاصل ہے) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو جنگ احد میں سکت مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ۔ بہت سارے مسلمان زخمی بھی ہوئے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : بہت سارے مسلمان زخمی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاؤ اور راستے پر کھڑے ہوجاؤ جو زخمی بھی تمہارے پاس سے گزرے یہ دعا پڑھ کر اس کے زخم پر دم کرو۔ ” بسم اللہ شفاء الحی الحمید من کل حد وحدیدا وخنجر بلید اللہم اشف انہ لا شافی الا انت “۔ اللہ کے نام سے وہی ذات شفا دینے والی ہے جو زندہ اور قابل ستائش ہے وہی شفا دیتا ہے ہر تلوار سے لوہے سے یا کند خنجر سے یا اللہ شفا عطا فرما، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ حضرت کہل (رض) کہتے ہیں چنانچہ کسی شخص کے زخم میں پیپ پڑی اور نہ ہی ورم بنا ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابن عساکر)
30033- عن القاسم بن محمد عن كهيل الأزدي وكانت له صحبة قال: أصيب الناس يوم أحد وكثر فيهم الجراحات، فأتى رجل النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: " إن الناس قد كثر فيهم الجراحات، قال: انطلق فقم على الطريق فلا يمر بك جريح إلا قلت بسم الله ثم تفلت في جرحه وقلت بسم الله شفاء الحي الحميد من كل حد وحديد أو خنجر بليد اللهم اشف إنه لا شافي إلا أنت" قال كهيل: فإنه لا يقيح ولا يرم. الحسن بن سفيان، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30034 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ (رض) کے پاس سے گزرے جبکہ آپ (رض) زخموں سے چور تھے اور آپ کا مثلہ کردیا گیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ (رض) کی میت دیکھ کر فرمایا : اگر صفیہ (رض) کے رنج کی بات نہ ہوتی میں انھیں اسی حال میں چھوڑ دیتا تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ درندوں اور پرندوں کے پیٹوں سے انھیں جمع کرتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا : میں تمہارے اوپر گواہ ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30034- "مسند أنس" لما كان يوم أحد مر النبي صلى الله عليه وسلم بحمزة وقد جرح ومثل به فقال: " لولا أن تجد صفية لتركته حتى يحشره الله من بطون السباع والطير، ولم يصل على أحد من الشهداء وقال: أنا شهيد عليكم". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30035 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین شہدا کو دفن کرو اور ان میں سے جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے قبر میں پہلے داخل کرو ۔ (رواہ ابن جریر)
30035- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال يوم أحد: "ادفنوا الرجلين والثلاثة في القبر الواحد وقدموا أكثرهم قرآنا. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30036 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ (رض) کے پاس سے گزرے جبکہ آپ (رض) کا مثلہ کردیا گیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے خوف نہ ہوتا کہ صفیہ (رض) غمزدہ ہوں گی میں انھیں اسی حال میں چھوڑ دیتا حتی کہ انھیں درندے کھا جاتے اور قیامت کے دن درندوں کے پیٹ سے انھیں جمع کیا جاتا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چادر منگوائی اس میں حضرت حمزہ (رض) کو کفن دیا جب سر کی طرف چادر کی جاتی پاؤں ننگے ہوجاتے جب پاؤں کی طرف کی جاتی سر ننگا ہوجاتا آپ نے فرمایا : چادر سے سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر پتے ڈال دو اس دن کپڑے کم اور مقتولین زیادہ تھے چنانچہ ایک شخص دو دو اشخاص اور تین تین کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا جاتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے کہ ان میں سے کسے زیادہ قرآن یاد ہے۔ اسے قبر میں پہلے داخل کرتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30036- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم مر بحمزة يوم أحد وقد مثل فوقف عليه فقال: " لولا أني أخشى أن تجد صفية في نفسها لتركته حتى تأكله العافية فيحشر من بطونها، ثم دعا بنمرة فكانت إذا مدت على رأسه بدت رجلاه، وإذا مدت على رجليه بدا رأسه فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: مدوها على رأسه واجعلوا على رجليه الحرمل وقلت الثياب وكثرت القتلى وكان الرجل والرجلان والثلاثة يكفنون في الثوب وكان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يسأل أيهم أكثر قرآنا فيقدمه". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30037 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ احد کے دن تلوار لی اور فرمایا : یہ تلوار مجھ سے کون لے گا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ہاتھ بڑھائے ہر شخص کہہ رہا تھا میں لوں گا میں لوں گا پھر آپ نے فرمایا اس تلوار کو کون لے کر اس کا حق ادا کرے گا لوگوں نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے اتنے میں حضرت سماک ابو دجانہ (رض) نے عرض کیا : تلوار میں لوں گا اور اس کا حق ادا کروں گا ابو دجانہ (رض) نے تلوار لے لی اور اس سے مشرکین کے سرکچلے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30037- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ سيفا يوم أحد فقال: من يأخذ مني هذا؟ فبسطوا أيديهم فجعل كل إنسان منهم يقول: أنا أنا فقال: من يأخذه بحقه؟ فأحجم القوم فقال سماك أبو دجانة: أنا آخذه بحقه، فأخذه ففلق به هام المشركين". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30038 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ہاتھ میں ایک تلوار لے کر آئے اور کہا : اسے خوشی سے لے لیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو آج جنگ اچھی طرح سے لڑے تو تمہارے لیے شاباش ہے آپ کے پاس حضرت سھل بن حنیف حضرت عاصم بن ثابت حضرت حارث بن صمد اور حضرت ابو دجانہ (رض) کھڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار لے لی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے راہ میں بےدریغ چلائی ۔ حتی کہ جب تلوار لائے تلوار آگے سے مڑی ہوئی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کا حق ادا کیا ، عرض کیا : جی ہاں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30038- عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: خذيه حميدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وأبو دجانة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يأخذ هذا السيف بحقه فقال أبو دجانة: أنا وأخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أعطيته حقه؟ قال: نعم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30039 ۔۔۔ محمد بن کعب قرظی کی روایت ہے کہ احد کے دن سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) حضرت فاطمہ (رض) سے ملے اور کہا تلوار لو اور اس تلوار نے مجھے پیشمان نہیں کیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ، اگر تم نے جو انمبردی سے جنگ لڑی ہے تو ابودجانہ ، مصعب بن عمیر ، حارث بن صمد اور سہل بن حنیف (یعنی انصار کے تین شخص اور قریش کا ایک شخص) بھی دلیری سے جنگ لڑ چکے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30039- عن محمد بن كعب القرظي أن عليا لقي فاطمة يوم أحد فقال: خذي السيف غير مذموم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا علي إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه أبو دجانة ومصعب بن عمير والحارث بن الصمة وسهل بن حنيف" ثلاثة من الأنصار ورجل من قريش. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30040 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ جب احد کی دن کفار نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نرغے میں لے لیا آپ نے فرمایا : جو شخص ان مشرکین کو مجھ سے پیچھے دھکیلے گا وہ جنت میں جائے گا ، چنانچہ ایک انصاری کھڑے ہوئے جان ہتھیلی پہ رکھ کر ہجوم پر دیوانہ وار ٹوٹ پڑے ۔ حتی کہ شہید ہوگئے پھر اور انصاری کھڑے ہوئے اور سات مشرکین کو قتل کر کے پیچھے دھکیل دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30040- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما رهقه المشركون يوم أحد قال: " من يردهم عنا وهو في الجنة؟ فقام رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل ثم قام آخر فردهم حتى قتل سبعة فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ما أنصفنا أصحابنا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30041 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے احد کے دن ڈھال بنے رہے ، حالانکہ آپ (رض) بہت اچھے تیر انداز تھے جب ابو طلحہ (رض) تیر مارتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نشانے کو غور سے دیکھتے تھے ۔ (رواہ ابن شاھین فی الافراد وقال تفردبہ عبدالعزیز عن الولید عن الاوزاعی لا اعلم حدث بہ غیرہ وھو حدیث غریب حسن وعبد العزیز رجل حسن من اھل الشام غریب الحدیث ورواہ ابن عساکر)
30041- عن أنس قال: كان أبو طلحة يتترس مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم بترس واحد وكان حسن الرمي، فكان النبي صلى الله عليه وسلم يتشوف إذا رمى وينظر إلى مواقع نبله. ابن شاهين في الأفراد؛ وقال تفرد به عبد العزيز عن الوليد عن الأوزاعي، لا أعلم حدث به غيره وهو حديث غريب حسن، وعبد العزيز رجل حسن من أهل الشام غريب الحديث، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30042 ۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن فرمایا : حمزہ کی قتل گاہ کسی نے دیکھی ہے ایک شخص نے کہا : میں نے ان کی قتل گاہ دیکھی ہے فرمایا : چلو مجھے دکھاؤ آپ تشریف لے گئے اور حضرت حمزہ (رض) کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کیا گیا ہے اور مثلہ کیا گیا ہے وہ شخص بولا یا رسول اللہ ! بخدا حمزہ (رض) کا مثلہ کیا گیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت حمزہ (رض) کی طرف نگاہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا : میں ان لوگوں پر گواہ ہوں انھیں ان کے خون سمیت کفن دو چونکہ قیامت کے دن یہ لوگ اٹھیں گے ان کے زخموں سے تازہ خون بہہ رہا ہوگا اور ان سے مشک کی سی خوشبو آرہی ہوگی جسے زیادہ قرآن یاد ہوا اسے پہلے قبر میں اتارو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 5307 ۔
30042- عن كعب بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال يوم أحد: " من رأى مقتل حمزة؟ فقال رجل أعزل: أنا رأيت مقتله، قال فانطلق فأرنا فانطلق حتى وقف على حمزة؟ فرآه قد شرط بطنه وقد مثل به فقال: يا رسول الله مثل به والله فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينظر إليه ووقف بين ظهراني القتلى فقال: أنا شهيد على هؤلاء القوم لفوهم في دمائهم، فإنه ليس جريح يجرح إلا جرحه يوم القيامة يدمي لونه لون الدم وريحه ريح المسك قدموا أكثر القوم قرآنا اجعلوه في اللحد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30043 ۔۔۔ ” مسند حصین بن عوف خشعمی “ حضرت حارثہ بن ربیع (رض) احد کے دن جنگی تماشائی کے طور پر آئے تھے اور ابھی لڑکے تھے چنانچہ بھٹکتا ہوا ایک تیر ان کے جا لگا اور شہید ہوگئے لشکر کی واپسی پر ان کی والدہ آئے اور عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حارثہ کا مقام معلوم ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو میں صبر کرتی ہوں وگرنہ بصورت دیگر آپ میری حالت دیکھ لیں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ام حارثہ جنت کوئی ایک نہیں بلکہ وہ بیشمار بہشتیں ہیں تمہارا فردوس بریں میں ہے ام حارثہ (رض) بولیں تب میں صبر کروں گی۔ (رواہ الطبرانی)
30043- "من مسند حصين بن عوف الخثعمي" أن حارثة بن الربيع جاء نظارا يوم أحد وكان غلاما فأصابه سهم غرب فوقع في ثغرة نحره فقتله فجاءت أمه الربيع فقالت: يا رسول الله قد علمت مكان حارثة مني فإن يكن من أهل الجنة فأصبر، وإلا فسترى قال: يا أم حارثة إنها ليست بجنة واحدة ولكنها جنان كثيرة وهو في الفردوس الأعلى قالت فسأصبر". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30044 ۔۔۔ حضرت انس (رض) حضرت مقدار (رض) سے روایت ہے نقل کرتے ہیں کہ جب ہم صف بستہ ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مصعب بن عمیر (رض) کے جھنڈے تلے تھے جب مشرکین کے علم بردار قتل ہوئے تو مشرکین ہزیمت خوردہ ہوئے اور مسلمانوں نے ان کے لشکر پر لوٹ مار ڈال دی لیکن مشرکین نے پیچھے سے پلٹ کر دوبارہ حملہ کردیا ۔ مسلمان عجیب اضطراب کا شکار ہو کر بکھر گئے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علمبر داروں میں کھڑے ہو کر آواز دی حضرت مصعب (رض) نے جھنڈا تھام لیا پھر وہ شہید کردیئے گئے ۔ خزرج کا جھنڈا حضرت بن عبادۃ (رض) نے اٹھا رکھا تھا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہی کے جھنڈے تلے تھے مہاجرین کا جھنڈا ابو روم عبدی (رض) کے پاس تھا میں نے اوس کا جھنڈا حضرت امیہ بن جعفر (رض) کے پاس دیکھا فریقین نے صفین توڑ کر خلط ملط ہو کر جنگ لڑی ۔ مشرکین لات وعزی اور ہبل کے نعرے لگا رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تحقیر آمیز کلمات کس رہے تھے بخدا میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اضطراب کی حالت میں بالشت بھر بھی اپنی جگہ سے پلتے نہیں دیکھا آپ دشمن کے آگے سینہ سپر رہے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت کبھی آپ کے پاس آجاتی اور کبھی وہ بھی پیچھے ہٹ جاتی ، میں کبھی آپ کو کمان سے تیر برساتے دیکھتا اور کبھی پتھر پھینکتے ہوئے دیکھا آپ یوں ثابت قدم رہے جس طرح ایک مضبوط جماعت کے ساتھ ثابت قدم رہتے ۔ آپ کے ساتھ چودہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تھے ان میں سے سات مہاجرین اور سات انصار تھے وہ یہ ہیں ابوبکر ، عبدالرحمن بن عوفہ ، علی بن ابی طالب ، سعد بن ابی وقاص ، طلحہ بن عبید اللہ ، ابو عبیدہ بن الجراح ، زبیر بن عوام انصار میں سے یہ تھے حباب بن منذر ابودجانہ عاصم بن ثابت حارث بن ضعمہ سھل بن حنیف اسید بن حضیر اور سور بن معاذ (رض) اجمعین ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
30044- عن أنس عن المقداد قال: لما تصاففنا للقتال جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت راية مصعب بن عمير فلما قتل أصحاب اللواء هزم المشركون الهزيمة الأولى وأغار المسلمون على عسكرهم فانتهبوا، ثم كروا على المسلمين فأتوا من خلفهم، فتفرق الناس ونادى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أصحاب الألوية، فأخذ اللواء مصعب بن عمير، ثم قتل وأخذ راية الخزرج سعد بن عبادة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم قائم تحتها، وأصحابه محدقون به ودفع لواء المهاجرين إلى أبي الروم العبدري آخر النهار، ونظرت إلى لواء الأوس مع أسيد بن حضير، فناوشوهم ساعة واقتتلوا على الاختلاط من الصفوف ونادى المشركون بشعارهم يا للعزى يا للهبل فأوجعوا والله فينا قتلا ذريعا ونالوا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما نالوا، والذي بعثه بالحق إن رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زال شبرا واحدا إنه لفي وجه العدو تثوب إليه طائفة من أصحابه مرة، وتتفرق عنه مرة، فربما رأيته قائما يرمي عن قوسه أو يرمي بالحجري حتى تحاجزوا، وثبت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كما هو في عصابة صبروا معه أربعة عشر رجلا سبعة من المهاجرين وسبعة من الأنصار أبو بكر وعبد الرحمن ابن عوف وعلي بن أبي طالب وسعد بن أبي وقاص وطلحة بن عبيد الله وأبو عبيدة بن الجراح والزبير بن العوام ومن الأنصار الحباب بن المنذر وأبو دجانة وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وسهل بن حنيف وأسيد بن الحضير وسعد بن معاذ. الواقدي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30045 ۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) کی روایت ہے کہ میں بھی غزوہ احد کے موقع پر جنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے نکلا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چھوٹا سمجھ کر واپس کرنا چاہا تاہم میرے چچا نے کہا : یارسول اللہ ! یہ بہت اچھا تیر انداز ہے اسے ساتھ لے جائیں ۔ چنانچہ دوران جنگ میرے سینے پر تیر لگا اور میرے چچا نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جا کر خبر کی آپ نے فرمایا : اگر تم اسے اسی حالت میں چھوڑ دو تو وہ شہید ہوگا ۔ (رواہ الطبرانی)
30045- عن رافع بن خديج قال: خرجت يوم أحد فأراد النبي صلى الله عليه وآله وسلم ردي واستصغرني فقال له عمي: " يا رسول الله إنه رام فأخرجه فأصابه سهم في صدره أو نحره فأتى عمه فقال: إن ابن أخي أصيب بسهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن تدعه فيه فيموت مات شهيدا". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30046 ۔۔۔ ہشام بن عامر کی روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی گئی کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے آپ نے فرمایا : قبریں کھو دو اور قبریں کشادہ رکھو اور ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین شہیدوں کو دفن کرو اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے قبر میں پہلے داخل کرو اور میرے باپ (یعنی میرے چچا حضرت حمزہ (رض)) کو دوسرے دو آدمیوں سے پہلے جنت میں داخل کرو۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30046- عن هشام بن عامر قال: "شكي إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم شدة الجراح يوم أحد فقال: احفروا وأوسعوا وأحسنوا وادفنوا في القبر الاثنين والثلاثة وقدموا أكثرهم قرآنا فقدموا أبي بين يدي رجلين". "ش".
tahqiq

তাহকীক: