কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০০০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30007 ۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے کہ بدر کے دن حضرت زبیر بن عوام (رض) نے زرد رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا چنانچہ فرشتے بھی زرد عمائے باندھے ہوئے اترے ۔ (رواہ ابن عساکر)
30007- عن أبي جعفر قال: كانت على الزبير بن العوام يوم بدر عمامة صفراء فنزلت الملائكة وعليهم عمائم صفر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30008 ۔۔۔ محمد بن علی بن حسین کی روایت ہے کہ بدر کے دن عتبہ بن ربیعہ نے للکارا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ولید کی طرف اٹھے اور یہ دونوں نو عمر نوجوان تھے اور آپس میں ملتے جلتے تھے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ایک ہی وار میں ولید کا کام تمام کردیا پھر شیبہ اٹھا اور اس کے مقابلہ کے لیے حضرت حمزہ (رض) کھڑے ہوئے اور ایک ہی وار میں انھوں نے بھی شیبہ کا کام تمام کردیا پھر عتبہ کھڑا ہوا اس کی خبر لینے کے لیے عبیدہ بن حارث (رض) کھڑے ہوئے یہ دونوں بھی آپس میں ایک جیسے تھے ان کے آپس میں دو دو ہاتھ ہوئے حضرت عبیدہ (رض) نے تلوار کا زور دار وار کیا جس سے عتبہ کا بایاں کاندھا کٹ گیا اس نے غصہ میں تلوار چلائی جس سے حضرت عبیدہ (رض) کی پنڈلی کٹ گئی یہ حالت دیکھ کر حضرت حمزہ (رض) اور حضرت علی (رض) پلٹے اور پل جھپکنے میں عتبہ کا غرور خاک میں ملا دیا پھر یہ دونوں عبیدہ (رض) کو اٹھا لائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جھونپڑی میں لٹا دیا آپ نے اپنی ران مبارک ان کے سر کے نیچے رکھ دی اور منہ سے غبار جھاڑنے لگے اس اثناء میں عبیدہ (رض) نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخدا اگر آپ کو ابو طالب دیکھ لیتے وہ سمجھ لیتے کے ان کے شعر کا مصداق میں ہی ہوں ۔ (ونسلمہ حتی نصرع حولہ
30008- عن محمد بن علي بن الحسين قال: لما كان يوم بدر فدعا عتبة بن ربيعة إلى البراز قام علي بن أبي طالب إلى الوليد بن عتبة وكانا مشتبهين حدثين وقال بيده فجعل باطنها إلى الأرض فقتله ثم قام شيبة بن ربيعة فقام إليه حمزة وكانا مشتبهين وأشار بيده فوق ذلك فقتله، ثم قام عتبة بن ربيعة فقام إليه عبيدة بن الحارث وكانا مثل هاتين الأسطوانتين فاختلفا ضربتين فضربه عبيدة ضربة أرخت عاتقه الأيسر فأسف عتبة لرجل عبيدة فضربها بالسيف فقطع ساقه، ورجع حمزة وعلي على عتبة فأجهزا عليه وحملا عبيدة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم في العريش فأدخلاه عليه فأضجعه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ووسده رجله وجعل يمسح الغبار عن وجهه، فقال عبيدة: أما والله يا رسول الله لو رآك أبو طالب لعلم أني أحق بقوله منه حين يقول:
ونسلمه حتى نصرع حوله ... ونذهل عن أبنائنا والحلائل
ألست شهيدا؟ قال: بلى وأنا الشاهد عليك، ثم مات فدفنه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالصفراء ونزل في قبره وما نزل في قبر أحد غيره. "كر".
ونسلمه حتى نصرع حوله ... ونذهل عن أبنائنا والحلائل
ألست شهيدا؟ قال: بلى وأنا الشاهد عليك، ثم مات فدفنه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالصفراء ونزل في قبره وما نزل في قبر أحد غيره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30009 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن مہاجرین و انصار کے لیے مال غنیمت سے پورا پورا حصہ دیا اور ان میں سے جو لوگ جنگ میں حاضر نہیں ہو سکے انصار میں سے ابو لبانہ بن عبدالمند ر اور حارث بن حاطب (رض) بھی تھے (رواہ الطبرانی)
30009- عن الزهري قال: " ضرب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لنفر من المهاجرين والأنصار بسامهم في يوم بدر كاملة، وكانوا غيبا عنها لعذر كان بهم منهم من الأنصار أبو لبانة بن عبد المنذر والحارث بن حاطب". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30010 ۔۔۔ ابو صالح حنفی حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر وعمر (رض) سے فرمایا : تم میں سے ایک کی دائیں طرف جبرائیل امین ہیں اور دوسرے کے پاس میکائیل واسرافیل ہیں جو عظیم فرشتہ ہے جنگ میں حاضر ہوتا ہے اور صفوں میں کھڑا رہتا ہے (رواہ خثمۃ فی فضائل الصحابۃ وابو نعیم فی الحلیۃ)
30010- عن أبي صالح الحنفي عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر لأبي بكر وعمر: عن يمين أحدكما جبرئيل والآخر ميكائيل وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال ويكون في الصف". خثمة في فضائل الصحابة، "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30011 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ بدر کی رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں کون پانی پلائے گا لوگ سنتے ہی دوڑ پڑے اتنے میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اٹھے اور مشکیزہ اٹھا لیا پھر عبد قصر کے کنویں پر آئے کنواں تاریک تھا کنویں میں ڈول لٹکایا اتنے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جبرائیل امین میکائیل اور اسرافیل کو حکم دیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی جماعت کی مدد کے لیے تیار ہو جاؤن چنانچہ یہ فرتے جب آسمان سے گزرے ہر طرف شور برپا تھا جب اس کنویں کے پاس سے گزرے سبھی اسے سلام پیش کر رہے تھے ۔ (رواہ ابن شاھین وفیہ ابو الجارود قال احمد بن حنبل ھذا متروک وقال ابن حبان رافضی یضع الفضائل والمثال) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التنزیہ 39501 وذیل الالی 58 ۔
30011- عن علي قال: لما كان ليلة بدر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يسقي لنا من الماء؟ فأحجم الناس فقام علي فاعتصم القربة، ثم أتى بئرا بعيد القعر مظلمة فانحدر فيها فأوحى الله عز وجل إلى جبريل وميكائيل وإسرافيل تأهبوا لنصر محمد صلى الله عليه وسلم وحزبه ففصلوا من السماء لهم لغط يذعر من سمعه، فلما مروا بالبئر سلموا عليه من آخرهم إكراما وتبجيلا. ابن شاهين؛ وفيه أبو الجارود قال "حم": متروك، وقال "حب": رافضى يضع الفضائل والمثالب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30012 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ بدر کی رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مشغول رہے اور یہ دعا پڑھتے رہے یا اللہ اگر تو نے اس مٹھی بھر جماعدت کو ہلاک کردیا تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی چنانچہ اس رات بارش بھی ہوئی (رواہ ابن مردویہ)
30012- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي تلك الليلة ليلة بدر وهو يقول: اللهم إن تهلك هذه العصابة لا تعبد وأصابهم تلك الليلة مطر. ابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30013 ۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا بدر کے دن مقدار بن اسود (رض) کے سوا ہمارا کوئی آدمی گھوڑے پر سوار نہیں تھا چنانچہ وہ ابلق گھوڑے پر سوار تھے (رواہ ابن مندہ فی غریب شعبۃ والبیھقی فی الدلائل)
30013- عن الشعبي قال: قال علي ما كان فينا فارس يوم بدر إلا المقداد على فرس أبلق. ابن منده في غريب شعبة، "ق" في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30014 ۔۔۔ ابن عباد (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بدر کے دن ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے زبیر (رض) کا گھوڑا اور مقداد (رض) اکا گھوڑا اور مقداد (رض) کا گھوڑا (رواہ البیھقفی فی الدلائل وابن عساکر)
30014- عن ابن عباس أن علي بن أبي طالب قال: ما كان معنا يوم بدر إلا فرسان: فرس للزبير وفرس للمقداد. "هق" في الدلائل، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30015 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا بدر کے دن میں نے اور حمزہ (رض) نے عبیدہ بن حارث کی مدد کی اور ان کے مد مقابل ولید بن عتبہ کو قتل کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مجھے کچھ نہیں کہا (رواہ الطبرانی)
30015- عن علي قال: أعنت أنا وحمزة عبيدة بن الحارث يوم بدر على الوليد بن عتبة فلم يعب ذلك علي النبي صلى الله عليه وسلم. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30016 ۔۔۔ ” مسند ارقم “ ارقم (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : جو کچھ تمہارے پاس سامان ہے اسے بیچے رکھ دو چنانچہ ابو اسید ساعدی (رض) نے عائذ بن مرزبان کی تلوار نیچے رکھی اسے ارقم (رض) نے پہچان لیا اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ میری تلوار ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار انھیں دے دی (رواہ الباوردی والطبرانی فی الا وسط والحاکم وابو نعیم و سعید بن المنصور)
30016- "مسند الأرقم" قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر: "ضعوا ما كان معكم من الأثقال فوضع أبو أسيد الساعدي سيف عائذ بن المرزبان فعرفه الأرقم: فقال سيفي يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطله إياه". الباوردي، "طس، ك" وأبو نعيم، "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30017 ۔۔۔ ” مسند اسامہ “ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے فارغ ہوئے تو بشیر (رض) کو اہل مکہ کی طرف بھیجا اور زید بن حارثہ (رض) کو اہل سافلہ کی طرف (رواہ الحاکم)
30017- "مسند أسامة" لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر بعث بشيرين إلى أهل مكة وبعث زيد بن حارثة إلى أهل السافلة. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30018 ۔۔۔ (مسند اسامہ) حضرت اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اور حضرت عثمان (رض) کو رقیہ (رض) کی تیمارداری کے لیے پیچھے چھوڑ دیا تھا جب کہ آپ بدر کی طرف روانہ ہوگئے تھے چنانچہ زید بن حارثہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غضباء نامی اور نٹنی پر سوار ہو کر فتح کی بشارت سنانے کے لیے آئے بخدا : میں نے اس وقت تک تصدیق نہ کی جب تک میں نے قیدیوں کو نہ دیکھ لیا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کو مال غنیمت سے حصہ دیا (رواہ البیھقی فی الدلائل وسندہ صحیح)
30018- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه وعثمان بن عفان على رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أيام بدر فجاء زيد بن حارثة على العضباء ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبشارة، فوالله ما صدقت حتى رأينا الأسارى فضرب النبي صلى الله عليه وسلم لعثمان بسهمه. "هق" في الدلائل؛ وسنده صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30019 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن عمیر “ ابو ملیح اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بدر کے دن فرشتے نازل ہوئے فرشتوں نے عمامے باندھ رکھے تھے جب کہ اس دن حضرت زبیر (رض) نے زرد رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا (رواہ الطبرانی والحاکم)
30019- "مسند أسامة بن عمير" عن أبي المليح عن أبيه قال: نزلت الملائكة يوم بدر عليها العمائم وكانت على الزبير يومئذ عمامة صفراء. "طب، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30020 ۔۔۔ ” ایضا “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی بدر کے دن نشانی سفید اون تھی (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
30020- "أيضا" كان سيماء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر الصوف الأبيض. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30021 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو سفیان کا پیچھا کر رہے تھے ایک جگہ پہنچ کر فرمایا مجھے کوئی مشورہ دو ادتنے میں ابوبکر کھڑے ہوئے اور عرض کیا : آپ بیٹھ جائیں پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : آپ بیٹھ جائیں پھر حضرت سعد بن عباد (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ہمارا ارادہ کیا ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم ان کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں بھی گھس جائیں گے اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم مقام برک غماد تک ابو سفیان کا پیچھا کریں گے تو ہم اس کے لیے گھی تیار ہیں (رواہ ابن عساکر)
30021- عن أنس قال: لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم إقفال أبي سفيان قال: أشيروا علي فقام أبو بكر فقال له: اجلس فقام عمر فقال له: اجلس فقام سعد بن عبادة فقال؛ إيانا تريد يا رسول الله فلو أمرتنا أن نخيضها البحر لأخضناها ولو أمرتنا أن نضرب أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا ذلك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30022 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون دیکھنے جائے گا کہ ابوجہل کس حال میں ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کھڑے ہوئے اور چل پڑے کیا دیکھتے ہیں کہ اسے عفراء کے دو بیٹوں نے نیم جان کر کے چھوڑا ہوا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اسے داڑھی سے پکڑا آگے سے بولا : کیا تم نے مجھ سے بڑھ کر بھی کسی عظیم شخص کو قتل کیا ہے یا کہا : کیا ایسا کوئی عظیم شخص ہوسکتا ہے جسے اس کی قوم قتل کر دے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30022- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ينظر ما صنع أبو جهل فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى برد قال: أنت أبو جهل فأخذ بلحيته قال: وهل فوق رجل قتلتموه أو قتله قومه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30023 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو سفیان کا پیچھا کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مشورہ لیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کچھ بات کی آپ نے اعراض کردیا پھر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بات کی آپ نے اس کی طرف بھی کوئی خاص توجہ نہ دی اتنے میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں (یعنی انصار کو) خاطر میں لانا چاہتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم برک عماد تک جائیں ہم چلنے کے لیے تیار ہیں۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رائے کو اچھا سمجھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین چل پڑے حتی کہ بدر جا پہنچے یہاں کنوؤں پر پانی لینے کے لیے قریش کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ان میں بنی حجاج کا ایک غلام بھی تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے پکڑ لیا اور اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھنے لگے غلام بولا : مجھے ابو سفیان کا علم نہیں البتہ ابو جہل ، عتبہ ، شیبۃ ، امیۃ بن خلف وغیرھم لوگ ادھر موجود ہیں جب غلام نے یہ جواب دیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے مارا بولا : جی میں ابھی بتائے دیتا ہوں چنانچہ بولا : ابو سفیان نہیں ہے یہ جواب سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے چھوڑ دیا پھر اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھا بولا مجھے ابو سفیان کا علم میں البتہ ابو جہل ، عتبہ ، شیبۃ اور امیہ بن خلف وغیرہم یہ لوگ ادھر موجود ہیں۔ جب وہ یہ جواب دیتا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اسے مارتے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے جب نماز سے فارغ ہوئے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب یہ غلام سچ بولتا ہے تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تم اسے چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا : یہ فلاں کی پچھاڑ گاہ ہے اور یہ فلاں کی بخدا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس جس کافر کی پچھاڑ گاہ کی تعیین کی تھی اسی جگہ میں وہ مارا گیا زرہ برابر بھی کوئی وہاں سے نہیں چوکا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30023- عن أنس " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شاور حيث بلغه إقفال أبي سفيان فتكلم أبو بكر فأعرض عنه، ثم تكلم عمر فأعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول الله والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نضرب أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا فندب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقوا حتى نزلوا بدرا ووردت عليه روايا قريش وفيهم غلام أسود لبني الحجاج، فأخذوه فكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يسألونه عن أبي سفيان وأصحابه فيقول: ما لي علم بأبي سفيان ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه فإذا ضربوه قال: نعم أنا أخبركم هذا أبو سفيان فإذا تركوه سألوه قال: مالي بأبي سفيان علم ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف في الناس فإذا قال هذا أيضا ضربوه ورسول الله صلى الله عليه وسلم قائم يصلي، فلما رأى ذلك انصرف قال: والذي نفسي بيده لتضربونه إذا صدقكم وتتركونه إذا كذبكم قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا مصرع فلان يضع يده على الأرض ههنا وههنا فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30024 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گیا تھا یہ نوجوان لڑکا تھا یہ دیکھنے بھالنے کے لیے گیا تھا جنگ لڑنے نہیں گیا تھا چنانچہ دوران جنگ اسے ایک نیزا لگا یوں وہ شہید ہوگیا واپسی پر میری پھوپھی اس جوان کی ماں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا بیٹا اگر جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور اسے باعث ثواب سمجھوں گی ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام حارثہ بہشتیں تو بیشمار ہیں اور حارثہ فردوس بریں میں ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والبیہقی)
30024- عن أنس قال: كان ابن عمي حارثة انطلق مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر فانطلق غلاما نظارا ما انطلق لقتال فأصابه سهم فقتله فجاءت عمتي أمه إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: "يا رسول الله ابني حارثة إن يك في الجنة صبرت واحتسبت وإلا فسترى ما أصنع؟ فقال: يا أم حارثة إنها جنان كثيرة وإن حارثة في الفردوس الأعلى". "ش، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
25 300 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) جب غزوہ احد کو یاد کرتے رو جاتے پھر فرماتے ، غزوہ احد کا دن سارے کا سارا طلحہ کے نام ہے پھر واقعہ سنانے لگتے اور فرماتے غزوہ احد کے دن میں نے سب سے پہلے مال غنیمت سمیٹا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے پیچھے ڈھال بنے ہوئے ایک شخص کو دیکھا میں نے دل ہی دل میں کہا : اللہ کرے یہ طلحہ ہو قطع نظر اس کے کہ یہ کار خیر مجھ سے جاتا رہا میں نے پھر کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو قطع نظر اس کے کہ یہ کار خیر مجھ سے جاتا رہا میں نے پھر کہا اللہ کرے یہ شخص میری قوم کا ہو جبکہ مجھ سے مشرق کی طرف ایک شخص کھڑا تھا میں اسے نہیں جانتا تھا جبکہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھا وہ شخص تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا ابھی تک میں اسے پہنچاننے سے قاصر رہا جب وہ اور قریب ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابو عبیدہ بن الجراح (رض) تھے پھر ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک شہید کیے گئے تھے آپ کا چہرہ بھی زخمی تھا آپ کہ چہرہ اقدس میں خود کی دو کڑیاں کھپ گئیں تھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے ساتھی یعنی طلحہ کی خبر لو تاہم آپ کی اس بات کی توجہ نہ دی میں آگے بڑھا تاکہ آپ کے رخسار مبارک سے خود کی کڑیاں نکالوں تاہم جھٹ ابو عبیدہ بولے اور کہا : میں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ یہ کام میرے لیے چھوڑ دیں میں پیچھے ہٹ گیا ابوعبیدہ (رض) نے ہاتھ سے کڑیاں نکالنا اچھا نہ سمجھا چنانچہ رخسار مبارک پر منہ رکھ کر کڑیاں نکالیں جب پہلی کڑی نکالی اسی کے ساتھ دانت مبارک گرگیا اب میں آگے بڑھا تاکہ دوسری کڑی میں نکالوں مگر اب کی بار بھی ابو عبیدہ بولے : میں اپنے حق کی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دیں چنانچہ ابو عبیدہ (رض) نے دوسری کڑی بھی نکال دی اور دوسرا دانت مبارک بھی گرگیا ابو عبیدہ (رض) یہ کام کرنا اچھی طرح جانتے تھے پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت درست کی پھر ہم طلحہ (رض) کے پاس آگئے کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے بدن پر ستر سے زائد زخم ہیں ان میں سے کوئی تیروں کے زخم تھے کوئی نیزوں کے اور کوئی تلواروں کے ان کی ایک انگلی بھی کٹ گئی تھی میں نے ان کی حالت بھی درست کی ۔ (رواہ ابوداؤد الطیالسی وابن سعد وابن السنی والشاشی والبزار والطبرانی فی الاوسط الطبرانی والدارقطنی فی الافراد وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر والضیاء)
30025- "مسند الصديق" عن عائشة قالت: كان أبو بكر إذا ذكر يوم أحد بكى ثم قال: ذاك كان كله يوم طلحة ثم أنشأ يحدث قال: كنت أول من فاء يوم أحد فرأيت رجلا يقاتل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم دونه وأراه قال يحميه فقلت كن طلحة حيث فاتني ما فاتني، فقلت يكون رجلا من قومي أحب إلي وبيني وبين المشرق رجل لا أعرفه وأنا أقرب إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم منه، وهو يخطف المشي خطفا لا أعرفه فإذا هو أبو عبيدة بن الجراح فانتهينا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد كسرت رباعيته وشج في وجهه وقد دخل في وجنته حلقتان من حلق المغفر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عليكما صاحبكما يريد طلحة" وقد نزف فلم يلتفت إلى قوله، وذهبت لأنزع ذلك من وجهه فقال أبو عبيدة: أقسمت عليك بحقي لما تركتني فتركته، فكره أن يتناولهما بيده فيؤذي النبي صلى الله عليه وسلم فأزم عليهما بفيه، فاستخرج إحدى الحلقتين ووقعت ثنيته مع الحلقة، وذهبت لأصنع ما صنع فقال: أقسمت عليك بحقي لما تركتني ففعل مثل ما فعل في المرة الأولى فوقعت ثنيته الأخرى مع الحلقة، فكان أبو عبيدة من أحسن الناس هتما فأصلحنا من شأن النبي صلى الله عليه وآله وسلم، ثم أتينا طلحة في بعض تلك الحفار، فإذا به بضع وسبعون أو أقل أو أكثر من طعنة ورمية وضربة وإذا قد قطعت أصبعه فأصلحنا من شأنه. "ط" وابن سعد وابن السني والشاشي والبزار، "طس، طب، قط" في الأفراد وأبو نعيم في المعرفة، "كر، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد :
30026 ۔۔۔ ایوب کی روایت ہے کہ عبدالرحمن بن ابی بکر نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے کہا : احد کے دن میں نے آپ کو دیکھا اور آپ سے طرح دے گیا اس پر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر میں تمہیں دیکھ لیتا ہرگز تم سے طرح نہ دیتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30026- عن أيوب قال: قال عبد الرحمن بن أبي بكر رأيتك يوم أحد فصدفت عنك فقال أبو بكر: لكني لو رأيتك ما صدفت عنك. "ش".
তাহকীক: