কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ২৯৯৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29987 ۔۔۔ ” مسند علی “ محمد بن جبیر کہتے ہیں : مجھے بنی اود کے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عراق میں لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : میں بدر کے قلیب کنویں پر تھا یکایک تیز ہوا چلی میں نے کبھی ایسی تیز ہوا نہیں دیکھی یہ جبرائیل امین ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے دوسری بار پھر تیز ہوا چلی اس بار میکائیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے ان کی دائیں طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) تھے تیسری بار پھر تیز ہوا چلی اس بار اسرافیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میں ان کی بائیں طرف تھے جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست فاش دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کیا جب گھوڑا چل پڑا میں گھوڑے کی گردن پر گرگیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی میں مضبوطی سے بیٹھ گیا ۔ (رواہ ابن جریر)
29987- "مسند علي" عن محمد بن جبير قال: حدثني رجل من بني أود أن علي بن أبي طالب خطب الناس بالعراق، وهو يسمع فقال: بينا أنا في قليب بدر جاءت ريح لم أر مثلها قط شدة إلا التي قبلها فكانت الأولى جبريل في ألف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانت الريح الثانية ميكائيل في ألف عن ميمنة النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأبي بكر، وكانت الريح الثالثة إسرافيل في ألفين عن ميسرة النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأنا في الميسرة، فلما هزم الله تعالى أعداءه حملني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على فرسه فخرجت فلما جرت الفرس خررت على عنقها فدعوت الله فأمسكت حتى استويت. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29988 ۔۔۔ عمیر بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے ابن مکفف کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں سہل بن حنیف پر نماز جنازہ پڑھی تو پانچ تکبیریں کہیں لوگوں نے پوچھا یہ پانچ تکبیریں کیسی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سہل بن حنفی ہے اور یہ اہل بدر میں سے ہے جبکہ اہل بدر کو بقیہ لوگوں پر فضیلت حاصل ہے میں نے چاہا کہ تمہیں ان کے فضل کا احساس دلاؤں ۔ (رواہ ابن ابی الفوارس)
29988- "أيضا" عن عمير بن سعيد قال: صلى علي على ابن المكفف فكبر عليه أربعا، وصلى على سهل بن حنيف فكبر عليه خمسا فقالوا: ما هذا التكبير؟ فقال: هذا سهل بن حنيف وهو من أهل بدر ولأهل بدر فضل على غيرهم فأردت أن أعلمكم فضلهم. ابن أبي الفوارس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29989 ۔۔۔ ” مسند علی “ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : میں نے بدر کے دن سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو للکارتے ہوئے دیکھا اور گھوڑے کے ہنہنانے کی طرح آواز نکال رہے تھے اور یہ رجز پڑھ رہے تھے ۔ ” بازل عامین حدیث سنی سنحنح اللیل کانی جنی لمثل ھذا ولدتنی امی “۔ اے آٹھ سال کے کامل اونٹ دو سال سے میری عمر نئی ہوچکی ہے اور رات کو ہنہنانے کی آواز آتی ہے گویا میں ایک جن ہے اسی جنگ کے لیے میری ماں نے مجھے جنم دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) واپس لوٹے ان کی تلوار خون آلود تھی ۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
29989- "مسند علي" عن سعد قال: رأيت عليا بارزا يوم بدر فجعل يحمحم كما يحمحم الفرس ويقول:
بازل عامين حديث سني ... سنحنح الليل كأني جني
لمثل هذا ولدتني أمي
قال فما رجع حتى خضب سيفه دما. أبو نعيم في المعرفة.
بازل عامين حديث سني ... سنحنح الليل كأني جني
لمثل هذا ولدتني أمي
قال فما رجع حتى خضب سيفه دما. أبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29990 ۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ بدر کے لیے روانگی کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمیر بن ابی وقاص کو چھوٹا سمجھ کر واپس کردیا عمیر (رض) رونے لگے آپ نے انھیں اجازت دے دی حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : میں نے ہی عمیر پر تلوار کا پر تلا باندھا تھا میں بدر میں شریک ہوا میرے چہرے پر صرف ایک ہی بال تھا میں اس پر اپنا ہاتھ پھیرتا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
29990- "أيضا" عن سعد قال: رد رسول الله صلى الله عليه وسلم عمير بن أبي وقاص عن مخرجه إلى بدر، واستصغره، فبكى عمير فأجازه، قال سعد: فعقدت عليه حمالة سيفه، ولقد شهدت بدرا وما في وجهي إلا شعرة واحدة أمسحها بيدي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29991 ۔۔۔ ” مسند ابن عوف “ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر کی طرف نکلے ہماری حالت یہی تھی جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے ” ان فریقا من المؤمنین لکارھون اذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم “۔ یعنی ایک قافلہ اور دوسرا لشکر۔ (رواہ العقیلی وابن عساکر)
29991- "مسند ابن عوف" عن عبد الرحمن بن عوف قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر على الحال التي قال الله عز وجل {وَإِنَّ فَرِيقاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} إلى قوله: {وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ} قال العير. "عق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29992 ۔۔۔ ابراہیم بن سعد عن ابیہ عن جدہ کی سند سے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ میں بدر کے دن ایک صف میں کھڑا تھا میرے دائیں بائیں دو نوجوان لڑکے کھڑے تھے میں نے انھیں اپنے آس ہونے کو اپنے لیے کمزوری کا باعث سمجھا اور یہ حالت مجھے ناگوار گزری ان میں سے ایک نے مجھے کہا : اے چچا مجھے ذرا ابو جہل دکھائیں میں نے کہا : بھلا تمہیں اس سے کیا کام پڑا ؟ اس نے کہا : میں نے رب تعالیٰ کے حضور منت مان رکھی ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھا ضرور اسے قتل کروں گا ۔ دوسرے لڑکے نے بھی چپکے سے کہا : اے چچا مجھے ابوجہل دکھائیں میں نے کہا : تمہیں اس ستم گر سے کیا کام پڑا ہے ؟ اس نے بھی وہی جواب دیا کہ میں نے رب تعالیٰ کے حضور منت مان رکھی ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا ضرور قتل کروں گا چنانچہ یکسر میری کیفیت بدل گئی اب میرے پاس اس کا ہونا باعث مسرت تھا میں نے ابو جہل کی طرف اشارہ کرکے کہا : وہ رہا پھر کیا تھا بس وہ دونوں شاہین کی طرح ابو جہل کی طرف لپکے وہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے چنانچہ آنا فانا ان دونوں عقابوں نے ابوجہل کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29992- عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده عن عبد الرحمن بن عوف قال: إني لفي الصف يوم بدر، فالتفت عن يميني وعن شمالي فإذا غلامين حديثي السن فكرهت مكانهما فقال لي أحدهما سرا من صاحبه: أي عم أرني أبا جهل قلت: وما تريد منه؟ قال: إني جعلت لله علي إن رأيته أن أقتله، فقال أيضا الآخر سرا من صاحبه: أي عم أرني أبا جهل قلت وما تريد منه؟ قال: فإني جعلت لله علي إن رأيته أن أقتله فقال: فما سرني بمكانهما غيرهما، قلت هو ذاك فأشرت لهما إليه فابتدرا كأنهما صقران وهما ابنا عفراء حتى ضرباه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29993 ۔۔۔ واقدی محمد بن عبداللہ زہری عروہ ومحمد صالح بن عمرو بن رومان کے سلسلہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن عتبہ مدمقابل کے لیے للکارا جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جھونپڑی میں تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین صف بستہ تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیند کا غلبہ ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گئے (نیند کا غلبہ کیا تھا بلکہ عین حالت جنگ میں رحمت خداوندی نے ڈھانپ لیا تھا اس کی وجہ سے ڈھانپ لیا تھا جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” اذ یغشیکم النعاس امنۃ “۔ (الایۃ) اور فرمایا اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرنی جب تک میں تمہیں اجازت نہ دوں اگر دشمن حرکت میں آجائے ان پر تیر برساؤ اور تلواریں نہ سونتو حتی کہ دشمن تمہیں ڈھانپ نہ لے تھوڑی دیر بعد ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن قریب آچکا ہے اور ہمیں گھیرے میں لے رہا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں کفار کی تعداد کم کرکے دکھائی اور یوں مسلمانوں کی نظر میں بھی کفار کم دکھائی دینے لگے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرا کر بیدار ہوئے اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر رب تعالیٰ سے دعائیں مانگنی شروع کیں اور کہا : یا اللہ ! اگر تو نے کفار کو اس جماعت پر غالب کردیا شرک غالب ہوجائے گا ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ آپ کی ضرور مدد کرے گا اور آپ کو خوش وخرم کرے گا ، ابن رواحہ (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشورہ دیئے جانے سے بالاتر ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی مشورہ دیئے جانے سے بالاتر ہے آپ نے فرمایا اے ابن رواحہ : کیا اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدے کا واسطہ نہ دیا جائے اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اتنے میں عتبہ جنگ کے لیے سامنے آیا خفاف بن ایماء (رض) کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو بدر کے دن دیکھا جبکہ لوگوں نے صفیں باندھ رکھی تھیں اور ابھی تلواریں نہیں سونتی تھیں اور تیر کمانوں میں ڈال رکھے تھے جبکہ بعض لوگ دوسروں کی صفوف کو اپنے آگے ڈھال بنائے ہوئے تھے ، صفوں میں خلا نہیں تھا جبکہ بعض لوگوں نے تلواریں سونت لی تھیں میں نے بعد میں مہاجرین میں سے ایک شخص سے اس بارے میں سوال کیا ۔ اس نے کہا : ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس وقت تک ہم تلواریں نہ سونتیں جب تک دشمن ہمیں گھیر نہ لے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوئے اتنے میں عتبہ ، شیبہ اور ولید صف سے نکل کر باہر آئے پھر مبارزت کا نعرہ لگایا چنانچہ ان کی مبارزت پر انصار کے تین نوجوان معاذ، معوذ ، اور عوف بن حارث نکلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے شرم آئی کہ جنگ کے شروعات میں مشرکین کے مدمقابل انصار ہوں لہٰذا آپ نے چاہا کہ یہ کانٹا آپ کی قوم کے افراد کے لیے مختص ہو آپ نے انصار کو واپس کردیا اور ان کی حوصلہ افزائی میں اچھی بات کہی پھر مشرکین کی صدا سنائی دی ۔ وہ یہ کہ اے محمد ہماری قوم سے ہمارے ہمسروں کو نکالو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی ہاشم کھڑے ہوجاؤ اور اس حق کے لیے لڑو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے نبی کو مبعوث کیا ہے جبکہ یہ مشرکین اللہ کے نور کو بجھانے آئے ہیں اتنے میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد مناف (رض) کھڑے ہوئے چلتے چلتے مشرکین کے پاس آئے عتبہ نے کہا بات کرو تاکہ ہم تمہیں پہچان لیں چونکہ جنگی ٹوپیاں ہونے کی وجہ سے مشرکین انھیں پہچان نہ سکے ۔ کہا : اگر تم ہمارے ہمسر ہوئے ہم تمہارے ساتھ لڑیں گے حضرت حمزہ (رض) نے کہا : میں حمزہ بن عبدالمطلب اللہ کا شیر اور اللہ کے رسول کا شیر ہوں عتبہ نے کہا : کیا خوب مدمقابل ہے پھر عتبہ نے کہا : میں حلیفوں کا شیر ہوں تمہارے ساتھ یہ دو کون ہیں حمزہ (رض) نے جواب دیا : یہ علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن حارث ہیں عتبہ نے کہا : یہ بھی اچھے ہمسر ہیں پھر عتبہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے ولید کھڑے ہوجاؤ ولید کھڑا ہو اس کی طرف حضرت علی (رض) بڑھے حضرت علی (رض) اپنے دونوں ساتھیوں سے عمر میں چھوٹے تھے ، چنانچہ دونوں میں دو دو ہاتھ ہوئے تاہم حضرت علی (رض) نے ولید کو واصل جہنم کیا پھر عتبہ کھڑا ہوا حضرت حمزہ (رض) اس کی طرف بڑھے ان میں بھی دو دو ہاتھ ہوئے لیکن حمزہ (رض) نے عتبہ کو قتل کردیا پھر شیبہ کھڑا ہوا اس کی طرف عبیدہ (رض) بڑھے ، عبیدہ (رض) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں معمر شخص تھے تاہم شیبہ نے آپ (رض) کی ٹانگ تلوار سے زخمی کردی جس سے پنڈلی کا گوشت کٹ گیا یہ حالت دیکھ کر حضرت حمزہ (رض) اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے پلٹ کر شیبہ پر حملہ کردیا اور اسے واصل جہنم کیا اور دونوں عبیدہ (رض) کو اٹھائے اپنے ساتھیوں میں آملے ، جبکہ عبیدہ (رض) کی ٹانگ سے گودا بہہ رہا تھا عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں شہید نہیں ہوں آپ نے فرمایا : جی ہاں تم شہید ہو پھر کہا : کاش ابو طالب زندہ ہوتے جان لیتے کہ ان کے شعر کا میں خوب مصداق ہوں : کذبتم وبیت اللہ یبز محمد ولما نطا عن دونہ ونتاضل ونسلمہ حتی نصرع دونہ ونذھل عن ابناء نا والحلائل : بیت اللہ کی قسم ! تم جھوٹ بولتے ہو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغلوب نہیں ہوں گے چونکہ ہم اس کے آگے پیچھے نیزوں اور تیروں سے اس کا دفاع کریں گے ہم انھیں صحیح و سلامت رکھیں گے اور اس کے آگے پیچھے ڈھیر ہوجائیں گے اور اس کی خاطر ہم اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں گے ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ’(آیت)” ھذان خصمان اختصموا فی ربھم “۔ یہ دو جھگڑنے والے اپنے رب کے متعلق جھگڑ رہے ہیں حضرت حمزہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چار سار عمر میں بڑے تھے جبکہ حضرت عباس (رض) آپ سے تین سال بڑے تھے مؤرخین کا کہنا ہے کہ جب عتبہ نے مبارزت کا نعرہ لگایا تو حضرت ابو حذیفہ (رض) اٹھ کر اس کی طرف بڑھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جاؤ چنانچہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت اٹھ کر آگے بڑھی تو ابو حذیفہ (رض) نے لپک کر اپنے باپ عتبہ پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
29993- الواقدي حدثني محمد بن عبد الله عن الزهري عن عروة ومحمد صالح عن عاصم بن عمرو بن رومان قالوا: دعا عتبة يوم بدر إلى المبارزة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في العريش وأصحابه على صفوفهم فاضطجع فغشيه نوم غلبه وقال: "لا تقاتلوا حتى أوذنكم وإن كبسوكم فارموهم ولا تسلوا السيوف حتى يغشوكم"، قال أبو بكر:يا رسول الله قد دنا القوم وقد نالوا منا فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أراه الله إياهم في منامه قليلا وقلل بعضهم في أعين بعض، ففزع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو رافع يديه يناشد ربه ما وعده من النصر ويقول: اللهم إن تظهر على هذه العصابة يظهر الشرك ولا يقم لك دين وأبو بكر يقول: والله لينصرنك الله وليبيض وجهك وقال ابن رواحة: يا رسول الله إني أشير عليك ورسول الله صلى الله عليه وسلم أعظم وأعلم بالأمر أن يشار عليه إن الله أجل وأعظم من أن ينشد وعده، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا ابن رواحة ألا لينشد الله وعده إن الله لا يخلف الميعاد"، وأقبل عتبة يعمد على القتال، قال خفاف بن إيماء: فرأيت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر وقد تصاف الناس وتزاحفوا لا يسلون السيوف وقد انتضوا القسي وقد تترس بعضهم على بعض بصفوف متقاربة لا فرج بينها والآخرون قد سلوا السيوف حتى طلعوا فعجبت من ذلك، فسألت بعد ذلك رجلا من المهاجرين فقال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن لا نسل السيوف حتى يغشونا"، فدنا الناس بعضهم من بعض فخرج عتبة وشيبة والوليد حتى فصلوا من الصف ثم دعوا إلى المبارزة فخرج إليهم فتيان ثلاثة من الأنصار وهم بنو عفراء معاذ ومعوذ وعوف بنو الحارث، فاستحيا رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك وكره أن يكون أول قتال لقي المسلمون فيه المشركين في الأنصار، فأحب أن تكون الشوكة لبني عمه وقومه، فأمرهم فرجعوا إلى مصافهم وقال لهم خيرا. ثم نادى منادي المشركين يا محمد أخرج إلينا الأكفاء من قومنا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " يا بني هاشم قوموا فقاتلوا لحقكم الذي بعث الله به نبيكم إذ جاؤوا بباطلهم ليطفئوا نور الله"، فقام حمزة بن عبد المطلب وعلي بن أبي طالب وعبيدة بن الحارث بن المطلب بن عبد مناف، فمشوا إليهم فقال عتبة تكلموا لنعرفكم، وكان عليهم البيض فأنكروهم، فإن كنتم أكفاء قاتلناكم، فقال حمزة بن عبد المطلب أنا حمزة بن عبد المطلب أنا أسد الله وأسد رسوله، قال عتبة كفؤ كريم ثم قال عتبة: وأنا أسد الحلفاء، من هذا معك؟ قال: علي بن أبي طالب وعبيدة بن الحارث قال: كفؤان كريمان، ثم قال عتبة لابنه: قم يا وليد فقام الوليد وقام إليه علي وكان أصغر النفر فاختلفا ضربتين فقتله علي، ثم قام عتبة وقام إليه حمزة فاختلفا ضربتين فقتله حمزة، ثم قام شيبة
وقام إليه عبيدة بن الحارث وهو يومئذ أسن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب شيبة رجل عبيدة بذباب السيف فأصاب عضلة ساقه فقطعها، وكر حمزة وعلي على شيبة فقتلاه واحتملا عبيدة فجاءا به إلى الصف، ومخ ساقه يسيل فقال عبيدة: " يا رسول الله ألست شهيدا قال: بلى" قال: أما والله لو كان أبو طالب حيا لعلم أنا أحق بما قال منه حين يقول:
كذبتم وبيت الله يبزى محمد ... ولما نطاعن دونه ونناضل
ونسلمه حتى نصرع دونه ... ونذهل عن أبنائنا والحلائل
ونزلت هذه الآية {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} حمزة أسن من النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأربع سنين، والعباس أسن من النبي صلى الله عليه وسلم بثلاث سنين، قالوا: وكان عتبة بن ربيعة حين دعا إلى البراز قام إليه أبو حذيفة يبارزه فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "اجلس" فلما قام إليه النفر أعلى أبو حذيفة بن عتبة على أبيه فضربه. "كر".
وقام إليه عبيدة بن الحارث وهو يومئذ أسن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب شيبة رجل عبيدة بذباب السيف فأصاب عضلة ساقه فقطعها، وكر حمزة وعلي على شيبة فقتلاه واحتملا عبيدة فجاءا به إلى الصف، ومخ ساقه يسيل فقال عبيدة: " يا رسول الله ألست شهيدا قال: بلى" قال: أما والله لو كان أبو طالب حيا لعلم أنا أحق بما قال منه حين يقول:
كذبتم وبيت الله يبزى محمد ... ولما نطاعن دونه ونناضل
ونسلمه حتى نصرع دونه ... ونذهل عن أبنائنا والحلائل
ونزلت هذه الآية {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} حمزة أسن من النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأربع سنين، والعباس أسن من النبي صلى الله عليه وسلم بثلاث سنين، قالوا: وكان عتبة بن ربيعة حين دعا إلى البراز قام إليه أبو حذيفة يبارزه فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "اجلس" فلما قام إليه النفر أعلى أبو حذيفة بن عتبة على أبيه فضربه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29994 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ سعید بن زید بن عمر بن نفیل (رض) شام سے واپس لوٹے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے واپس آچکے تھے سعید بن زید (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی آپ نے ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ دیا عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا اجر وثواب کہاں ہوا فرمایا : تمہارے لیے اجر وثواب ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
29994- عن عروة قال قدم سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل من الشام بعد ما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب له بسهمه قال: وأجري بذلك يا رسول الله؟ قال: وأجرك". أبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29995 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدر سے لوٹنے کے بعد سعید بن زید بن عمرو بن نفیل شام سے واپس آئے سعید (رض) نے آپ سے بات کی آپ نے ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ دیا پھر عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا اجر وثواب آپ نے فرمایا : تمہارے لیے اجر وثواب بھی ہے۔ (رواہ ابن عائذ وابن عساکر الزھری مثلہ بن عساکر عن موسیٰ بن عقبۃ مثلہ ابن عساکر وعن ابن اسحاق مثلہ)
29995- عن عروة قال: قدم سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل من الشام بعد ما رجع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من بدر" فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب له بسهمه قال وأجري يا رسول الله قال: وأجرك". ابن عائذ،"كر"؛ الزهري - مثله "كر"؛ عن موسى بن عقبة - مثله "كر"؛ وعن ابن إسحاق - مثله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29996 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدر سے واپس آجانے کے بعد طلحہ بن عبیدہ اللہ (رض) شام سے لوٹے انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی آپ نے انھیں مال غنیمت سے حصہ دیا عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا اجر وثواب ؟ فرمایا : تمہارا جر وثواب بھی ہے۔ (رواہ ابن عائذ ، ابن عساکر وعن ابن شھاب ، ابن عساکر وعن موسیٰ بن عقبۃ مثلہ ابن عساکر وعن ابن اسحاق مثلہ ابن عساکر)
29996- عن عروة قال: قدم طلحة بن عبيد الله من الشام بعد ما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر فكلم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في سهمه فقال: " نعم لك سهمك فضرب له بسهمه قال: وأجري يا رسول الله؟ قال: وأجرك". ابن عائذ؛ كر؛ وعن ابن شهاب مثله "كر"؛ وعن موسى بن عقبة - مثله "كر"؛ وعن ابن إسحاق - مثله "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29997 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ رقیہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئیں جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف جا چکے تھے رقیہ (رض) حضرت عثمان کی بیوی تھیں اسی لیے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) اور حضرت اسامہ (رض) پیچھے رہ گئے جب یہ لوگ میت دفنا رہے تھے یکایک سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے تکبیر کی آواز آئی تو کہا اے اسامہ دیکھو یہ کیسی تکبیر ہے کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جد لماء فانی اونٹنی پر سوار تشریف لا رہے ہیں اور مشرکین کے قتل عام کا اعلان کر رہے ہیں سن کر منافقین نے کہا : بخدا یہ کچھ نہیں محض ڈھکوسلا ہے چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مشرکین بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے لائے گئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29997- عن عروة أن رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم توفيت فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر وهي امرأة عثمان؛ فتخلف وأسامة ابن زيد يومئذ فبينما هم يدفنونها إذ سمع عثمان تكبيرا فقال: يا أسامة انظر هذا التكبير، فإذا زيد بن حارثة على ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم الجدعاء يبشر بقتل أهل بدر من المشركين فقال المنافقون: لا والله ما هذا بشيء إلا الباطل حتى جيء بهم مصفدين مغللين. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29998 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے ایک شخص نے امیہ بن خلف کو گرفتار کرلیا تھا لیکن بلال (رض) نے اسے دیکھ لیا اور قتل کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29998- عن عروة أن رجلا أسر أمية بن خلف فرآه بلال فقتله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29999 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : یہ جبرائیل امین ہیں جو اپنے گھوڑے کا سرپکڑے کھڑے ہیں اور گھوڑے پر جنگی ہتھیار ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29999- عن عكرمة أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال يوم بدر: " هذا جبريل أخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30000 ۔۔۔ عکرمہ مولائے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب مسلمان بدر پہنچے اور مشرکین سامنے سے آتے دکھائی دیئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتبہ بن ربیعہ کی طرف دیکھا وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر قوم کے کسی فرد کے پاس بھلائی ہے تو وہ یہی سرخ اونٹ والا ہوسکتا ہے اگر مشرکین اس کی بات مان لیں ہدایت پاجائیں گے (چنانچہ عتبہ نے : میری بات مانو اور ان لوگوں سے جنت مت کرو چونکہ اگر تم نے جنگ کی تو آئندہ تم میں سے ہر شخص اپنے بھائی کے قاتل کو دیکھ کر کڑھتا رہے گا ، لہٰذا جنگ سے طرح دے کر چلے جاؤ ابو جہل کو عتبہ کی بات پہنچی کہنے لگا : بخدا ! اس نے محمد کو دیکھ لیا ہے اور اس کا جادو پھیلتا جا رہا ہے حالانکہ بخدا ! حقیقت اس کے برعکس ہے عتبہ کو یہ خیال اس لیے سوجھا ہے چونکہ اس کا بیٹا محمد کے ساتھیوں میں ہے جبکہ محمد اور اس کے ساتھیوں کا یہ حال ہے کہ وہ صرف ایک اونٹ کا نوالہ ہیں۔ اگر ہماری مڈبھیڑ ہوئی یہی صورت سامنے آئے گی ۔ عتبہ نے کہا : بزدلی کی وجہ سے اپنی سرینوں کو رنگنے والا عنقریب جان لے گا جو اپنی قوم میں فساد برپا کرنے والا بھی ہے۔ بخدا ! میں پوستین کے نیچے ایسی قوم کو چھپے دیکھ رہا ہوں جو تمہیں مار مار کر تمہاری درگت بنا ڈالے گی جس کا ڈر بڑی اہمیت کا حامل ہے کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ ان کے سر یوں لگتے ہیں جیسے سانپوں کے سر ہوں ان کے چہرے تلواروں کی مانند ہیں پھر عتبہ نے اپنے بھائی اور بیٹے کو بلایا اور ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا آیا حتی کہ جب صفوں سے الگ ہوگیا تو مبازت کا نعرہ لگایا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30000- عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لما نزل المسلمون بدرا وأقبل المشركون نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل أحمر فقال: " إن يكن من القوم خير فعند صاحب الجمل الأحمر إن يطيعوه ترشدوا" فقال عتبة: أطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم فإنكم إن فعلتم لم يزل في قلوبكم ينظر الرجل إلى قاتل أخيه وقاتل أبيه فاجعلوا في جنبها وارجعوا، فبلغت أبا جهل فقال: انتفخ والله سحره حيث رأى محمدا وأصحابه والله ما ذاك به وإنما ذاك لأن ابنه معهم وقد علم أن محمدا وأصحابه أكلة جزور لو قد التقينا فقال عتبة: سيعلم مصفر استه من الجبان المفسد لقومه أما والله إني لأرى تحت القشع قوما ليضربنكم ضربا يدعون لهم السبع، أما ترون كأن رؤوسهم رؤوس الأفاعي وكأن وجوههم السيوف ثم دعا أخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا فصل من الصف دعا إلى المبارزة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30001 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : تم اگر بنی ہاشم کے کسی شخص سے ملوں اسے ہرگز قتل نہ کرو چونکہ بنی ہاشم کو زبردستی گھروں سے باہر نکالا گیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30001- عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر: "من لقي منكم أحدا من بني هاشم فلا يقتله فإنهم أخرجوا كرها". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30002 ۔۔۔ مجاہد روایت کی ہے کہ جب بدر کے دن مشرکین کو قیدی بنا لیا گیا اور عباس (رض) کو ایک انصاری نے گرفتار کیا جبکہ لوگ انھیں ڈرا رہے تھے کہ مسلمان انھیں قتل کردیں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں آج رات عباس کی وجہ سے سویا نہیں ہوں جبکہ انصار کا گمان ہے کہ وہ انھیں قتل کریں گے حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ انصار کے پاس جائیں چنانچہ آپ انصار کے پاس گئے اور فرمایا : عباس کو چھوڑ دوں انصار نے کہا : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس میں رضا مندی ہے تو انھیں لے لیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
30002- عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم إنه لما أسر الأسارى يوم بدر أسر العباس رجل من الأنصار، وقد أوعدوه أن يقتلوه، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " إني لم أنم الليلة من أجل العباس، وقد زعمت الأنصار أنهم قاتلوه، فقال عمر: ائتهم يا رسول الله فأتى الأنصار فقال: أرسلوا العباس، قالوا: إن كان لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رضا فخذه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30003 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ فرشتوں نے صرف بدر کے دن قتال کیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30003- عن مجاهد لم تقاتل الملائكة إلا يوم بدر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30004 ۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابو جہل کو ادھ موا کیا پھر ابن مسعود (رض) نے اس کا کام تمام کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
30004- عن ابن سيرين قال: أقعص أبا جهل ابنا عفراء وذفف عليه ابن مسعود. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30005 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت سعید بن زید (رض) شام سے واپس لوٹے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے فارغ ہو کر واپس آچکے تھے سعید بن زید (رض) نے مال غنیمت میں اپنے حصہ کے متعلق بات کی آپ نے فرمایا تمہارے لیے حصہ ہے عرض کیا میرا اجر وثواب یا رسول اللہ ؟ فرمایا : تمہارے لیے اجر وثواب بھی ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
30005- عن الزهري قال: " قدم سعيد بن زيد من الشام بعد مقدم النبي صلى الله عليه وسلم من بدر، فكلم النبي صلى الله عليه وسلم في سهمه قال: لك سهمك، قال: وأجري يا رسول الله؟ قال: وأجرك". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
30006 ۔۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر مسلمانوں نے ستر مشرکین قید کر لیے قیدیوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس (رض) بھی تھے ان کی بیڑیوں کی دیکھ بھال کا کام حضرت عمر (رض) کے سپرد ہوا۔ عباس (رض) نے کہا : اے عمر ! بخدا تمہیں میری بیڑیوں پر صرف اس بات نے اکسایا ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خیر خواہ نہیں سمجھتے ہو ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : بخدا ! اس سے میرے لیے تمہاری عزت میں اضافہ ہی ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ایسا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس (رض) کے رونے کی آواز سن رہے تھے اور انھیں نیند نہیں آنے پا رہی تھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سوتے کیوں نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کیسے سو سکتا ہوں جبکہ میں اپنے چچا کے رونے کی آواز سنتا ہوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : انصار نے عباس (رض) کی بیڑیاں کھول دی ہیں اور انصاران کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
30006- عن يحيى بن أبي كثير لما كان يوم بدر أسر المسلمون من المشركين سبعين رجلا، فكان ممن أسر عباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم فولي وثاقه عمر بن الخطاب، فقال عباس: أما والله يا عمر ما يحملك على شد وثاقي إلا لطمي إياك في رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فقال عمر: والله ما زادتك تلك علي إلا كرامة ولكن الله أمرني بشد الوثاق، قال: "فكان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسمع أنين العباس فلا يأتيه النوم فقالوا: يا رسول الله ما يمنعك من النوم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كيف أنام وأنا أسمع أنين عمي"، قال فزعموا أن الأنصار أطلقوه من ثاقه وباتت تحرسه. "كر".
তাহকীক: