কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ২৯৯৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29967 ۔۔۔ حضرت رفاعہ بن رافع (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن مشرکین مکہ نے امین بن خلف کے پاس اجتماع کرلیا میں نے اس کی زرہ میں پھٹن دیکھ لی جو اس کی بغل کے نیچے تھی ، چنانچہ میں نے بغل کے نیچے پھٹن میں نیزہ مارا اور اپنے قتل کردیا بدر کے دن میری آنکھ میں تیر لگا میری آنکھ پھوٹ گئی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی آپ نے میری آنکھ میں تھوکا اور میرے لیے دعا فرمائی چنانچہ میری آنکھ سے درد جاتا رہا ۔ (رواہ الطبرانی والحاکم)
29967- "أيضاْ" عن رفاعة بن رافع لما كان يوم بدر تجمع الناس على أمية بن خلف، فنظرت إلى قطعة من درعه قد انقطعت من تحت إبطه فطعنته بالسيف فيها طعنة فقتلته، ورميت بسهم يوم بدر ففقت عيني، فبصق فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا لي فما آذاني منها شيء. "طب، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29968 ۔۔۔ حضرت رفاعہ بن رافع (رض) کی روایت ہے کہ جب ابلیس نے بدر کے دن مشرکین کی درگت ہوتی دیکھی تو ڈر گیا کہ جنگ کا پانسہ کہیں اس پر نہ پلٹ جائے چنانچہ حارث بن ہشام اسے سراقہ بن مالک سمجھ کر اس سے چمٹ گیا ابلیس نے حارث کے سینے پر مکا دے مارا اور وہ نیچے گرگیا پھر کیا تھا ابلیس سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا اور سمندر میں جا کو دا اور اپنے ہاتھ اوپر اٹھالیے اور کہا : یا اللہ میں تجھ سے کرم فرمائی کا سوال کرتا ہوں ابلیس خوفزدہ تھا کہیں جنگ اسی کی طرف نہ پلٹ جائے ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم فی الدلائل)
29968- "أيضا" عن رفاعة بن رافع لما رأى إبليس ما تفعل الملائكة بالمشركين يوم بدر أشفق أن يخلص القتل إليه فتشبث به الحارث بن هشام وهو يظن أنه سراقة بن مالك، فوكز في صدر الحارث فألقاه، ثم خرج هاربا حتى ألقى نفسه في البحر فرفع يديه وقال: اللهم إني أسألك نظرتك إياي وخاف أن يخلص القتل إليه. "طب" وأبو نعيم في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29969 ۔۔۔ معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد بدر کی طرف جانے کے لیے گھر سے نکلے اور ہم اپنے ایک کمزور سے اونٹ پر سوار تھے حتی کہ جب ہم روحاء کے قریب پہنچے اونٹ بیٹھ گیا میں نے کہا : یا اللہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے اس اونٹ کو ذبح کرکے لوگوں میں تقسیم کریں گے ہم یہیں پریشانی کے عالم میں تھے کہ اتنے میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ ہم نے اپنی پریشانی کے متعلق آپ کو آگاہ کیا کہ ہمارا اونٹ کمزور ہے وہ بیٹھ گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے نیچے اترے اور وضو کیا پھر وضو کے پانی میں تھوکا پھر ہمیں اونٹ کا منہ کھولنے کا حکم دیا ہم نے اونٹ کا منہ کھولا آپ نے منہ میں پانی انڈیلاپھر اونٹ کے سرپر پانی ڈالا پھر گردن پر پانی ڈالا پھر گردن پر پانی ڈالا پھر دونوں کندھوں کے درمیان بالائی حصہ پر پانی ڈالا پھر کوہان پر ڈالا پھر سرینوں پر ڈالا پھر دم پر وضو کا پانی ڈالا پھر فرمایا : یا اللہ ! رافع اور خلاد کی سواری کو ہمت عطا فرما ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھ گئے ہم بھی کوچ کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور اونٹ پر سوار ہو کر چل دیئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصف راستے کی مسافت پر ہم نے جالیا پھر ہم سواروں کے آگے آگے جانے والی جماعت میں شامل ہوگئے جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دیکھا ہنس پڑے اور ہم آگے بڑھ گئے حتی کہ ہم بدر پہنچ گئے جب بدر کی وادی کے قریب ہوگئے اونٹ بیٹھ گیا ہم نے کہا : الحمد اللہ ! ہم نے اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کردیا ۔ (رواہ ابو نعیم)
29969- "أيضا" عن معاذ بن رفاعة بن رافع عن أبيه قال: خرجت أنا وأخي خلاد إلى بدر على بعير لنا أعجف حتى إذا كنا بموضع البريد الذي خلف الروجاء برك بنا بعيرنا، فقلت: اللهم لك علينا لئن أتينا المدينة لننحرن، فبينا نحن كذلك إذ مر بنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: " ما لكما؟ فأخبرناه أنه برك علينا فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضأ، ثم بزق في وضوئه ثم أمرنا ففتحنا له فم البعير فصب في جوف البكر من وضوئه، ثم صب على رأس البكر، ثم على عنقه، ثم على حاركه، ثم على سنامه، ثم على عجزه، ثم على ذنبه، ثم قال: اللهم احمل رافعا وخلادا، فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقمنا نرتحل فارتحلنا، فأدركنا النبي صلى الله عليه وسلم على رأس النصف، وبكرنا أول الركب، فلما رآنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك فمضينا: حتى أتينا بدرا حتى إذا كنا قريبا من وادي بدر برك علينا، فقلنا الحمد لله فنحرناه وتصدقنا بلحمه". أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29970 ۔۔۔ ” مسند سھل بن سعد ساعدی “ سہل بن عمرو کی روایت ہے کہ میں نے بدر کے دن بہت سارے سفید فام لوگوں کو دیکھا ہے جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار زمین و آسمان کے درمیان فضا میں ہے انھوں نے اپنے اوپر علامتیں لگا رکھی تھیں وہ دشمن کو قتل بھی کرتے تھے اور قید بھی کرتے تھے ۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
29970- "مسند سهل بن سعد الساعدي" عن سهل بن عمرو قال: لقد رأيت يوم بدر رجالا بيضا على خيل بلق بين السماء والأرض معلمين يقتلون ويأسرون. الواقدي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29971 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت زبیر (رض) نے بدر کے زرد رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی پھر اسی کا عمامہ باندھ لیا پھر فرشتے نازل ہوئے انھوں نے بھی زرد رنگ کے عمامے باندھ رکھے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
29971- عن عبد الله بن الزبير أن الزبير كانت عليه ملاءة صفراء يوم بدر فاعتم بها فنزلت الملائكة معتمين بعمائم صفر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29972 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ اہل بدر کے تعداد تین سو دس (310) تھی ان میں سے ستتر (77) مہاجرین تھے جبکہ 236 انصار تھے مہاجرین کے جھنڈابردار حضرت علی بن ابی طالب تھے اور انصار کے جھنڈا بردار سعد بن عبادۃ (رض) تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
29972- عن ابن عباس قال: كانت عدة أهل بدر ثلثمائة عشر رجلا كان المهاجرون سبعة وسبعين رجلا، والأنصار مائتين وستة وثلاثين رجلا وكان صاحب راية المهاجرين علي بن أبي طالب وصاحب راية الأنصار سعد بن عبادة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29973 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس تھا اور انصارکا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
29973- عن ابن عباس رضي الله عنه قال: كان لواء رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر مع علي بن أبي طالب، ولواء الأنصار مع سعد بن عبادة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29974 ۔۔۔ ابو الیسر کی روایت ہے کہ میں نے بدر کے دن عباس بن عبدالمطلب کو دیکھا وہ کھڑے رو رہے تھے میں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو برا رشتہ دار ہونے کا بدلہ دے کیا آپ اپنے بھیجتے کو اس کے دشمن کے ساتھ مل کر قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ عباس نے کہا : کیا میرا بھتیجا قتل ہوگیا میں نے کہا اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرنے والا ہے اور ان کا مدد گار ہے پھر کہا : تم کیا چاہتے ہو میں نے کہا : میں آپ کو قید کرنا چاہتا ہو چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے کہا : یہ اس کی کوئی پہلی صلہ رحمی نہیں ہے (بلکہ قبل ازیں بارہا صلہ رحمی کرچکا ہے) چنانچہ میں عباس (رض) کو گرفتار کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
29974- عن أبي اليسر قال: نظرت إلى العباس بن عبد المطلب يوم بدر وهو قائم وعيناه تذرفان، فقلت: جزاك الله من ذي رحم شرا تقاتل ابن أخيك مع عدوه؟ قال: ما فعل وهل أصابه القتل؟ قلت: الله أعز له وأنصر من ذلك قال: ما تريد إلي؟ قلت: استأسر فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن قتلك، قال: ليست بأول صلته، فأسرته ثم جئت به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29975 ۔۔۔ ابو الیسر کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے بدر کے دن اعلان کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا باپ آپ پر فدا ہو آپ کو خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا عباس کو زندہ سلامت رکھا ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا : اے عمر ! اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں خیر و بھلائی کی خوشخبری دے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں سلامت رکھے یا اللہ ! عمر کی مدد کر اور اسے تقویت بخش ۔ (رواہ الدیلمی)
29975- عن أبي اليسر أن عمر بن الخطاب نادى أو نادى مناد يوم بدر يا رسول الله بأبي أنت البشرى قد سلم الله عمك العباس فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: " بشرك الله بخير يا عمر في الدنيا والآخرة وسلمك يا عمر في الدنيا والآخرة اللهم أعن عمر وأيده". الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29976 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کے متعلق حکم دیا کہ انھیں قلیب کی طرف کھینچ کر لایا جائے چنانچہ قلیب میں مقتولین ڈال دیئے گئے پھر آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا میں نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مردوں سے کلام کر رہے ہیں ؟ فرمایا : یہ لوگ جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا ہے جب ابو حذیفہ (رض) نے اپنے باپ عتبۃ کو کھینچتے ہوئے دیکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو حذیفہ (رض) کے چہرے پر ناگواری کے آثار بھانپ لیے اور فرمایا : اے ابو حذیفہ گویا تمہیں اس سے ناگواری ہو رہی ہے ابو حذیفہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا باپ سردار تھا میں پرامید تھا کہ رب تعالیٰ اسے ہدایت اسلام سے سرفراز فرمائے گا لیکن جب یہ واقعہ پیش آیا اس نے مجھے نہایت غم گین کردیا ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو حذیفہ (رض) کے لیے دعائے خیر کی ۔ (رواہ ابن جریر)
29976- عن عائشة قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتلى بدر أن يسحبوا إلى القليب فطرحوا فيه، ثم وقف وقال: يا أهل القليب هل وجدتم ما وعد ربكم حقا فإني قد وجدت ما وعدني ربي حقا؟ فقالوا: يا رسول الله تكلم قوما موتى؟ قال: لقد علموا أن ما وعدهم ربهم حق فلما رأى أبو حذيفة ابن عتبة أباه يسحب على القليب عرف رسول الله صلى الله عليه وسلم الكراهية في وجهه قال: يا أبا حذيفة كأنك كاره لما رأيت فقال يا رسول الله إن أبي كان رجلا سيدا فرجوت أن يهديه ربه إلى الإسلام، فلما وقع الموقع الذي وقع أحزنني ذلك فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي حذيفة بخير". ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29977 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے مقتولین کو کنویں میں پھینک دینے کا حکم دیا اور یہ لوگ کنویں میں پھینک دیئے گئے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ نبی کی قوم کو برا بدلہ دے جو انھوں نے نہایت بدگمانی کا مظاہرہ کیا اور میری تکذیب کی عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مردوں سے کیسے بات کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم ان سے زیادہ میری بات کو نہیں سمجھ رہے ۔ (رواہ ابن جریر)
29977- عن عائشة قالت لما أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأولئك الرهط عتبة بن ربيعة وأصحابه فألقوا في الطوي قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: " جزى الله شرا من قوم نبي ما كان أسوأ الظن وأشد التكذيب، فقيل: يا رسول الله كيف تكلم قوما قد جيفوا؟ قال: ما أنتم بأفهم لقولي منهم أو لهم أفهم لقولي منكم". ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29978 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے انھیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دی ۔ (رواہ ابن عساکر)
29978- عن ابن عمر أنه عرض على النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر فلم يقبله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29979 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قلیب پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شبیہ بن ربیہ ! اے ابو جہل بن ہشام ! اے فلاں ! کیا تم نے رب تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا ہم نے رب تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : کیا یہ لوگ مردے نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ لوگ اب میری بات کو اس طرح سن رہے ہیں جس طرح تم سنتے ہو حتی کہ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن جریر)
29979- عن ابن عمر قال: وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على القليب يوم بدر فقال: يا عتبة بن ربيعة ويا شيبة بن ربيعة ويا أبا جهل بن هشام يا فلان يا فلان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا؟ قالوا: أليسوا أمواتا؟ قال: والذي نفسي بيده إنهم ليسمعون قولي الآن كما تسمعون، ما أنتم بأسمع لما أقول منهم". "ش" وابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29980 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ بدر کے دن مشرکین کا جھنڈا طلحہ نے اٹھا رکھا تھا چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اسے للکار کر قتل کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29980- عن ابن عمر قال: كان طلحة صاحب راية المشركين يوم بدر فقتله علي بن أبي طالب مبارزة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29981 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) روایت کی ہے کہ میں سعد اور عمار بدر کے دن مال غنیمت جمع کرتے رہے سعد (رض) نے ایک قیدی لایا جبکہ میں نے اور عمار نے کوئی قیدی نہ لایا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)
29981- عن ابن مسعود قال: اشتركت أنا وسعد وعمار يوم بدر فيما أصبنا من الغنيمة فجاء سعد بأسير، ولم أجيء أنا وعمار بشيء. "ش، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29982 ۔۔۔ ابراہیم کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن عربی قیدی کا فدیہ چالیس اوقیہ چاندی مقرر کی جبکہ عجمی کا فدیہ بیس اوقیہ مقرر کیا ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
29982- عن إبراهيم قال: " جعل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فداء العربي يوم بدر أربعين أوقية وجعل فداء المولى عشرين أوقية، والأوقية أربعون درهما". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29983 ۔۔۔ ابراہیم تیمی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن مشرکین قریش کے ایک شخص کو قتل کیا اور اسے درخت پر لٹکا دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29983- عن وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم عن إبراهيم التيمي " أن النبي صلى الله عليه وسلم قتل رجلا من المشركين من قريش يوم بدر وصلبه إلى شجرة". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29984 ۔۔۔ سعید بن جبیر روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن سامنے بٹھا کر صرف تین شخصوں کو قتل کیا ہے وہ یہ ہیں عقبہ بن ابی معیط خضر بن حارث اور طعیمہ بن عدی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29984- عن سعيد بن جبير " أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يقتل يوم بدر صبرا إلا ثلاثة عقبة بن أبي معيط، والنضر بن الحارث، وطعيمة بن عدي". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29985 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ بدر کے دن مہاجرین میں سے پانچ اشخاص شہید ہوئے اور یہ پانچوں قریش سے تھے وہ یہ ہیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کا آزاد کردہ غلام مھجع وہ یہ رجز پڑھتا تھا انا مھجع والی ربی ارجع ترجمہ میں مھجع ہوں اور اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤں گا ذوشمالین ابن بیضاء عبیدہ بن الحارث اور عامر بن وقاص (رض) ، (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29985- عن سعيد بن المسيب قال: قتل يوم بدر خمسة رجال من المهاجرين من قريش مهجع مولى عمر يحمل يقول: "أنا مهجع وإلى ربي أرجع" وقتل ذو الشمالين وابن بيضاء وعبيدة بن الحارث وعامر بن وقاص. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29986 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ بدر کی رات ہمیں بخار کی شکایت ہوگئی اور بارش بھی ہوئی لوگ بارش سے بچاؤ کے لیے درختوں تلے بھاگ نکلے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا حتی کہ فجر طلوع ہوگئی آپ نے آواز لگائی : اے اللہ کے بندو ! لوگ سنتے ہی درختوں تلے سے نکل پڑجے آپ نے نماز پڑھائی پھر جنگ کی طرف متوجہ ہوگئے لوگوں کو لڑنے کی ترغیب دی اور فرمایا : بنی عبدالطلب زبردستی لائے گئے ہیں بخوشی نہیں آئے لہٰذا تم میں سے جو بھی کسی مطلبی کو پائے اسے قید کرلے اور قتل نہ کرے پھر فرمایا : قریش پہاڑ کے اس ناکے تلے جمع ہیں جب قریس صفہ بستہ ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سرخ اونٹ پر سوار دیکھا ، آپ نے فرمایا : اگر قریش کے کسی فرد کے پاس کوئی بھلائی ہے تو اس سرخ اونٹ والے کے پاس کچھ بھلائی ہے پھر فرمایا : اے علی جاؤ حمزہ سے پوچھو یہ شخص کیا کہہ رہا ہے حضرت حمزہ (رض) قریش کے قریب کھڑے تھے چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت حمزہ (رض) سے پوچھا انھوں نے کہا : یہ عتبہ بن ربیعہ ہے یہ قریش کو جنگ کرنے سے منع کررہا ہے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں : ہم میں سے وہ شخص بہادر تصور کیا جاتا تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوتا تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے قریش کو ہزیمت سے دو چار کیا کیا دیکھتا ہوں کہ عقیل کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ رسی سے گردن کے ساتھ باندھے ہوئے ہیں میں ان سے طرح دے گیا مجھے چیخ کر کہا : اے علی ! کہا تمہیں میرا مقام معلوم نہیں پھر جان بوجھ کر یہ بےرخی کیسی ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابو یزید کو دیکھا ہے اس کے ہاتھ اسی کے گردن سے باندھے گئے ہیں آپ نے فرمایا : چلو اس کے پاس چلتے ہیں چنانچہ ہم چلتے ہوئے عقیل کے پاس پہنچے جب عقیل نے ہمیں دیکھا کہا : یا رسول اللہ ! اگر آپ نے ابو جہل کو قتل کردیا تو آپ ظفر مند ہوگئے ورنہ قوم کی خبر لیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کو قتل کردیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
29986- عن علي قال: لما كان ليلة بدر أصابنا وعك من حمى وشيء من مطر فافترق الناس يستترون تحت الشجر، وما رأيت أحدا يصلي غير النبي صلى الله عليه وآله وسلم حتى انفجر الصبح، فصاح عباد الله، فأقبل الناس من تحت الشجر، فصلى بهم، ثم أقبل على القتال، ورغبهم فيه فقال لهم: إن بني عبد المطلب قوم أخرجوا كرها لم يريدوا قتالكم، فمن لقي منكم أحدا منهم فلا يقتله وليأسره أسرا، ثم قال لهم: إن جمع قريش عند ذلك الضلع من الجبل، فلما تصاف القوم رأى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يسير على جمل أحمر فقال: إن يكن عند أحد من القوم خير فعند صاحب هذا الجمل الأحمر، ثم قال: يا علي انطلق إلى حمزة وكان حمزة أدنى القوم من القوم فسله عن صاحب الجمل الأحمر وماذا يقول فسأله فقال: هذا عتبة بن ربيعة وهو ينهى عن القتال قال علي: وكان الشجاع منا يومئذ الذي يقوم بإزاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما هزم الله القوم التفت فإذا عقيل مشدودة يداه إلى عنقه بنسعة فصددت عنه فصاح بي يا ابن أم علي أما والله لقد رأيت مكاني ولكن عمدا تصد عني؟ قال علي: فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله هل لك في أبي يزيد مشدودة يداه إلى عنقه بنسعة فقال: انطلق بنا إليه فمضينا إليه نمشي، فلما رآنا عقيل قال: يا رسول إن كنتم قتلتم أبا جهل بعد ظفرتم وإلا فأدركوا القوم ما داموا بحدثان فرحتهم، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: قد قتله الله عز وجل". "كر".
তাহকীক: