কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ২৯৯৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29947 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن عتبہ بن ربیعہ باہر نکلا اس کے پیچھے اس کا بھائی اور بیٹا بھی ہوئے پھر عتبہ مقابل کا خواہاں ہو انصار کے چند نوجوان صفوں سے باہر نکلے عتبہ نے کہا تم کون ہو نوجوانوں نے جواب دیا عتبہ بولا ہمیں تم سے کوئی کام نہیں ہم تو اپنے چچا کے بیٹوں کے خواہشمند ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ ! کھڑے ہوجاؤ اے علی ! کھڑے ہوجاؤ اے عبیدہ بن حارث ! کھڑے ہوجاؤ حمزہ (رض) نے عتبہ کی خبر لی ، میں شیبہ کے سر ہو لیا جبکہ عبیدہ اور ولید کے درمیان دو دو ہاتھ ہوئے میں اور حمزہ نے اپای اپنا مقابل قتل کرلیا پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے اسے بھی واصل جہنم کیا اور عبیدہ (رض) کو اٹھا کرلے آئے ۔ (رواہ ابو داؤد والحاکم والبیہقی فی الدلائل)
29947- عن علي قال: تقدم عتبة بن ربيعة وتبعه ابنه وأخوه فنادى من يبارز؟ فانتدب له شاب من الأنصار فقال: من أنتم؟ فأخبروه، فقال: لا حاجة لنا فيكم، إنما أردنا بني عمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " قم يا حمزة قم يا علي قم يا عبيدة بن الحارث"، وأقبل حمزة إلى عتبة، وأقبلت إلى شيبة واختلف بين عبيدة والوليد ضربتان، فأثخن كل واحد منهما صاحبه، ثم ملنا على الوليد فقتلناه واحتملنا عبيدة. "د ك، هق" في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29948 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن مجھے اور ابوبکر (رض) کو فرمایا : تم میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہے اور دوسرے کے ساتھ میکائیل اور اسرافیل ہے جو کہ عظیم فرشتہ ہے جنگ میں حاضر ہوتا ہے یا فرمایا : صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ (رواہ الدورقی وابن ابی داؤد والعشاری فی فضائل الصدیق واللالکائی فی السنۃ)
29948- عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم بدر ولأبي بكر: " مع أحدكما جبريل ومع الآخر ميكائيل، وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال أو يكون في الصف". الدورقي وابن أبي داود والعشاري في فضائل الصديق واللالكائي في السنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29949 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن صبح کی آپ پوری رات بیدار رہے حالانکہ آپ مسافر تھے ۔ (رواہ ابویعلی وابن حبان)
29949- عن علي قال: لما أصبح النبي صلى الله عليه وسلم ببدر من الغد أحيا تلك الليلة كلها وهو مسافر. "ع، حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29950 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی رات نماز پڑھتے رہے اور یہ دعا کرتے یا اللہ ! اگر تو نے یہ تھوڑی سی جماعت ہلاک کردی تیری عبادت نہیں کی جائے گی اس رات بارش بھی ہوئی ۔ (رواہ ابن مردویہ و سعید بن المنصور)
29950- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي تلك الليلة ليلة بدر وهو يقول: اللهم إن تهلك هذه العصابة لا تعبد، وأصابهم تلك الليلة مطر. ابن مردويه، "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29951 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ بدر کے دن میں لڑتا رہا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں : یا حی یا قیوم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے ہیں پھر لڑنے کے لیے چلا گیا پھر تھوڑی دیر بعد آیا پھر دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں یاحی یا قیوم آپ برابر یہی ورد کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب فرمائی ۔ (رواہ النسائی والبزار وابو یعلی وجعفر الفریابی فی الذکر والحاکم والبیہقی فی الدلائل والضیاء)
29951- عن علي قال: لما كان يوم بدر قاتلت شيئا من قتال ثم جئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا هو ساجد يقول: يا حي يا قيوم لا يزيد عليها، ثم ذهبت فقاتلت، ثم جئت فإذا النبي صلى الله عليه وسلم ساجد يقول: يا حي يا قيوم فلم يزل يقول ذلك حتى فتح الله عليه. "ن" والبزار "ع" وجعفر الفريابي في الذكر، "ك، هق" في الدلائل، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29952 ۔۔۔ عبد خیر کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) اہل بدر پر چھ تکبیریں کہتے تھے اصحاب رسول پر پانچ اور باقی لوگوں پر چار ۔ (رواہ الطحاوی)
29952- عن عبد خير قال: كان علي يكبر على أهل بدر ستا، وعلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم خمسا، وعلى سائر الناس أربعا. الطحاوي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29953 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ میں بدر کے دن قلیب کنویں پر تھا اور اس سے پانی نکالنا چاہتا تھا یکایک سخت ہوا چلی ، پھر دوبارہ تیز ہوا چلی میں نے ایسی تیز ہوا چلتی کبھی نہیں پائی پھر سہ بارہ تیز ہوا چلی چنانچہ پہلے میکائیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ آئے اور یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں طرف سے تھے دوسرے نمبر پر اسرافیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ آئے اور یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں طرف تھے تیسرے نمبر پر جبرائیل امین تشریف لائے وہ بھی ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ آئے ان کی دائیں طرف ابوبکر (رض) تھے جبکہ میں ان کی بائیں طرف تھا جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے کفار کو ہزیمت سے دوچار کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کیا آپ نے گھوڑے کی گردن پر چابک ماری میں نے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے گھوڑے پر ثابت قدم رکھے میں نے اپنا نیزہ مارا حتی کہ لہو کے چھنٹے میری بغل تک پہنچے ۔ (رواہ ابو یعلی وابن جریر والبیھقی فی الدلائل وفیہ ابو الحویرث عبد الرحمن بن معاویۃ وھو ضعیف)
29953- عن علي قال: كنت على قليب يوم بدر أمتح منه، فجاءت ريح شديدة، ثم جاءت ريح شديدة لم أر ريحا أشد منها إلا التي كانت قبلها، ثم جاءت ريح شديدة، فكانت الأولى ميكائيل في ألف من الملائكة عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم، والثانية إسرافيل في ألف من الملائكة عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم، والثالثة جبريل في ألف من الملائكة، وكان أبو بكر عن يمينه، وكنت عن يساره، فلما هزم الله الكفار حملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على فرسه، فلما استويت عليه حمل بي فضرب على عنقه فدعوت الله يثبتني عليه فطعنت برمحي حتى بلغ الدم إبطي. "ع" وابن جرير، "هق" في الدلائل؛ وفيه أبو الحويرث عبد الرحمن بن معاوية ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29954 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں بدر کے کنووں کا پانی پست کر دوں ۔ (رواہ ابو یعلی وابن جریر وصححہ وابو نعیم فی الحلیب والدورق والبیہقی فی السنن)
29954- عن علي قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أغور ماء آبار بدر". "ع" وابن جرير وصححه، "حل" والدورقي، "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29955 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “۔ حضرت براء بن عازب (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین جو غزوہ بدر میں شریک رہے کا خیال ہے کہ ان کی تعداد طالوت کے ساتھیوں کے برابر تھی ان کی تعداد تین سو دس اور چند آدمی تھی بخدا ان کے ساتھ نہر کو صرف مومن ہی عبور کر پایا تھا ۔ (رواہ ابن نعیم فی المعرفۃ)
29955- "مسند البراء بن عازب" عن البراء بن عازب حسب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا أنهم كانوا عدة أصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر ثلثمائة وبضعة عشرة، ولا والله ما جاوز معه النهر إلا مؤمن. أبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29956 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ مجھے اور رابن عمر کو بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے ہمیں چھوٹا (کمسن) سمجھ کر واپس کردیا البتہ غزوہ احد میں ہم پیش پیش رہے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والرویانی والبغوی و ابونعیم وابن عساکر)
29956- عن البراء قال: عرضت أنا وابن عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر فاستصغرنا - وفي لفظ: فردنا يوم بدر - وشهدنا أحدا. "ش" والروياني والبغوي وأبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29957 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) روایت کی ہے کہ اہل بدر کی تعداد تین سو دس اور چند آدمی تھی ان میں سے چھتر (76) مہاجرین تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29957- عن البراء بن عازب قال: كان أهل بدر ثلثمائة وبضعة عشر والمهاجرون منهم ستة وسبعون.
"ش".
"ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29958 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعداد تین سو دس اور چند نفوس تھی ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل بدر کی تعداد اصحاب طالوت کی تعداد کے برابر تھی جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر عبور کی تھی جبکہ ان کے ساتھ صرف مومن ہی نے نہر عبور کی تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29958- عن البراء قال: كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر بضعة عشر وثلثمائة، وكنا نتحدث أنهم على عدة أصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر، وما جاوزه معه إلا مؤمن. "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29959 ۔۔۔ ” مسند بشیر بن تیم “۔ بشر بن تیم، عبداللہ بن اجلح ، اجلح ، عکرمہ کی سند سے بشیر بن تیم کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل بدر میں مختلف فدیہ دینے کا اعلان کیا اور عباس (رض) سے فرمایا : اپنی گردن آزاد کراؤ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو نعیم فی الاصابۃ وقال : ھذا مقلوب یعنی سند میں ترتیب الٹ ہے اور صواب یوں ہے الاجلح عن بشیر بن تیم عن عکرمہ چونکہ بشیر بن تیم مکی شیخ ہیں اور تابعین سے روایت حدیث کرتے ہیں انھیں سفیان بن عینیہ نے پایا ہے امام بخاری اور ابن ابی حاتم نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔
29959- "مسند بشير بن تيم" عن بشير بن تيم عن عبد الله بن الأجلح عن أبيه عن عكرمة عن بشير بن تيم أن النبي صلى الله عليه وسلم فادى أهل بدر فداء مختلفا وقال للعباس: "فك نفسك". ابن أبي شيبة وأبو نعيم في الإصابة: هذا مقلوب وإنما هو الأجلح عن بشير بن تيم عن عكرمة، وبشير بن تيم شيخ مكي يروي عن التابعين وأدركه سفيان بن عيينة، ذكره البخاري وابن أبي حاتم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29960 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کے غلام نے حضرت حاطب (رض) کی شکایت کی اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حاطب ضرور دوزخ میں جائے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے جھوٹ بولا ہے وہ دوزخ میں نہیں جائے گا چونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسلم والترمذی والنسائی والبغوی والطبرانی وابو نعیم فی المعرفۃ)
29960- عن جابر بن عبد الله أن عبد حاطب بن أبي بلتعة أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم يشتكي حاطبا فقال: يا رسول الله ليدخلن حاطب النار، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كذبت لا يدخلها إنه قد
شهد بدرا والحديبية. "ش، م، ت، ن" والبغوي، "طب" وأبو نعيم في المعرفة.
شهد بدرا والحديبية. "ش، م، ت، ن" والبغوي، "طب" وأبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29961 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کو پانی دیتا رہا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم)
29961- عن جابر قال: كنت أمنح أصحابي الماء يوم بدر. "ش" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29962 ۔۔۔ ” مسند علقمہ بن وقاص “ محمد بن عمرو بن علقمہ بن وقاص لیثی اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے لیے گھر سے نکلے حتی کے جب مقام روحاء پر پہنچے لوگوں سے خطاب کا اور پھر فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خبر پہنچی ہے کہ مشرکین فلاں فلاں جگہ پہنچ چکے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا تمہارا کیا خیال ہے ؟ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی طرف جوا دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث کا حوالہ نسخہ میں موجود نہیں بیاض ہے۔
29962- "مسند علقمة بن وقاص" عن محمد بن عمرو بن علقمة بن وقاص الليثي عن جده قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر حتى إذا كان بالروحاء خطب الناس فقال: كيف ترون؟ قال أبو بكر: يا رسول الله بلغنا أنهم بكذا وكذا، ثم خطب الناس فقال: كيف ترون؟ فقال عمر مثل قول أبي بكر ثم خطب الناس فقال: كيف ترون
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29963 ۔۔۔ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) روایت کی ہے کہ کہ مجھے بدر میں شریک ہونے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں اور ابو حسل گھر سے نکلے ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے : تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنا چاہتے ہو ہم نے بہانہ کیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں کفار نے ہم سے پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ واپس لوٹ جائیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جنگ نہ لڑیں چنانچہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ماجرا سنایا آپ نے فرمایا : تم واپس لوٹ جاؤ اور قریش کا وعدہ پورا کرو ہم واپس لوٹ گئے اور کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، والحسن بن سفیان وابو نعیم)
29963- عن حذيفة بن اليمان قال: ما منعني أن أشهد بدرا إلا أني خرجت أنا وأبي حسل فأخذنا كفار قريش، فقالوا: إنكم تريدون محمدا، فقلنا: ما نريده ما نريد إلا المدينة، فأخذوا منا عهد الله وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فأتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرناه الخبر فقال: انصرفا ففيا لهم بعهدهم ونستعين الله عليهم". "ش" والحسن بن سفيان وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29964 ۔۔۔ محمود بن لبید روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتوں نے اپنے اوپر علامتیں لگا رکھی ہیں لہٰذا تم بھی اپنے اوپر علامتیں لگا لو چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے خودوں اور توپوں پر سفید اون بطور علامت لگائی ۔ (رواہ الواقدی وابن النجار)
29964- عن محمود بن لبيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الملائكة قد سومت فسوموا فأعلموا بالصوف في مغافرهم وقلانسهم الواقدي وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29965 ۔۔۔ ” مسند حسین بن السائب انصاری “ حسین بن سائب کی روایت ہے کہ جب عقبہ کی رات ہوئی یا بدر کی رات ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم کیسے لڑائی کرو گے عاصم بن ثابت بن افلح کھڑے ہوئے اور تیر کمان لے کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب دشمن دو سو ذراع کے فاصلے پر ہوگا تو ان پر تیروں کی بارش کروں گا جب دشمن اتنا قریب ہوگا کہ پتھر ان پر آسانی سے برسائے جاسکتے ہوں تو ان پر پتھر برسائے جائیں گے جب دشمن اور زیادہ قریب ہوجائے گا تو نیزوں سے اس کی خبر لی جائے گی حتی کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے پھر ہم تلواریں لے لیں گے اور تلواروں سے ان کو ناکوں چنے چبوائیں گے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنگ کا حکم اسی طرح نازل ہوا ہے جو شخص بھی جنگ میں حصہ لے وہ عاصم کی طرح لڑے ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم)
29965- "مسند حسين بن السائب الأنصاري" عن حسين بن السائب قال: لما كان ليلة العقبة أو ليلة بدر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن معه: كيف تقاتلون؟ فقام عاصم بن ثابت بن الأفلح فأخذ القوس وأخذ النبل فقال: أي رسول الله إذا كان القوم قريبا من مائتي ذراع أو نحو ذلك كان الرمي بالقسي، وإذا دنا القوم حتى تنالنا وتنالهم الحجارة كانت المراضخة بالحجارة، فإذا دنا القوم حتى تنالنا وتنالهم الرماح كانت المداعسة بالرماح حتى تنقصف، فإذا انقصفت وضعنا، فأخذ السيف فتقلد واستل السيف وكانت السلة والمجالدة بالسيوف، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بهذا أنزلت الحرب، من قاتل فليقاتل قتال عاصم". الحسن بن سفيان وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29966 ۔۔۔ ” مسند خلاد انصاری “ اسماء بن عمیر کی روایت ہے کہ بدر کے دن فرشتے اترے انھوں نے اپنے سروں پر عمامے باندھے رکھے تھے اس دن حضرت زبیر (رض) نے زرد رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا ۔ (رواہ الطبرانی عن اسامۃ بن عمیر)
29966- "من مسند خلاد الأنصاري" عن أسامة بن عمير نزلت الملائكة يوم بدر وعليها العمائم وكانت على الزبير يومئذ عمامة صفراء. "طب" عن أسامة بن عمير.
তাহকীক: