কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭১ টি

হাদীস নং: ২৯৯২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29927 ۔۔۔ انشاء اللہ ! کل ہمارے اترنے کی جگہ مقام حنیف کا دایاں کنارہ ہوگا جہاں مشرکین آپس میں قسمیں اٹھاتے تھے ۔ (رواہ الطبرانی ، عن ابن عباس (رض))
29927- "منزلنا غدا إن شاء الله بالخيف الأيمن حيث استقسم المشركون". "طب" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ ابی قتادۃ : ۔۔۔ از اکمال :
29928 ۔۔۔ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ آیا وہ سچا ہے یا جھوٹا ۔ (رواہ ابو یعلی والطبرانی و سعید بن المنصور عن جندب البجلی)
29928- "هلا شققت عن قلبه فنظرت أصادق هو أم كاذب". "ع، طب، ص" عن جندب البجلي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ ۔۔۔ ازاکمال :
29929 ۔۔۔ مکہ میں میرے لیے دن کے وقت گھڑی بھر کے لیے جنگ حلال کردی گئی میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہوگی مکہ اللہ تعالیٰ کی حرمت سے محترم ہوا ہے مکہ کا درخت نہ کاٹا جائے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے مکہ کا شکار نہ بھگایا جائے مکہ میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے البتہ وہ شخص اٹھاسکتا ہے جو اعلان کرکے اصل مالک تک پہنچا سکتا ہو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : کی اذخر گھاس کاٹی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں صرف اذخر گھاس کاٹی جاسکتی ہے۔ (رواہ الطبرانی ، عن ابن عباس (رض))
29929- " أحلت لي مكة ساعة من نهار ولم تحل لأحد من بعدي وهي حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شجرها، ولا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها ولا يلتقط لقطتها إلا لمنشد قالوا: إلا الإذخر؟ قال: إلا الإذخر". "طب" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ ۔۔۔ ازاکمال :
29930 ۔۔۔ یہ لڑائی کا دن ہے اپنا روزہ افطار کرلو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن یہ حکم دیا تھا ۔ (رواہ ابن سعد بن عبید بن عمیر مرسلا)
29930- "إن هذا يوم قتال فأفطروا" - قاله يوم الفتح فتح مكة. ابن سعد - عن عبيد بن عمير مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ فتح مکہ ۔۔۔ ازاکمال :
29931 ۔۔۔ میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی ” لا تثریب علیکم الیوم “ یعنی آج تمہارے اوپر کوئی باز پرس نہیں اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے اور وہ خوب رحم کرنے والا ہے۔ (وراہ ابن الدنیا فی ذم العضب ، عن ابو ہریرہ (رض) ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ عن ابن عمرو (رض))
29931- "أقول كما قال أخي يوسف {لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} "ابن أبي الدنيا في ذم الغضب - عن أبي هريرة؛ ابن السني في عمل يوم وليلة - عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سریہ خالد بن ولید ۔۔۔ از اکمال :
29932 ۔۔۔ عزی کا زمانہ ختم ہوچکا آج کے بعد عزی نہیں رہے گا ۔ (رواہ ابن عساکر عن قتادۃ (رض) مرسلا)
29932- "ذهبت العزى فلا عزى بعد اليوم". ابن عساكر - عن قتادة مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسامہ (رض) کو ایک معرکہ میں بھیجنا : ۔۔۔ از اکمال :
29933 ۔۔۔ اہل ابنی پر غارت ڈال دو صبح صبح جب وہ غفلت میں ہوں پھر بستی کو آگ سے جلا دو ۔ (رواہ الشافعی واحمد بن حنبل وابوداؤد وابن ماجہ ابن سعد والبغوی فی معجمہ عن اسامہ بن زید)
29933- " أغر على أبنى صباحا ثم حرق. الشافعي، حم، د، هـ"، ابن سعد والبغوي في معجمه عن أسامة بن زيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات غزوات : ۔۔۔ از اکمال :
29934 ۔۔۔ اے عائشہ یہ جگہ ہے اگر حشرات ارض کی کثرت نہ ہو ۔ (رواہ البغوی عن سفیان بن ابی نمر عن ابیہ) کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ پر تھے آپ کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) بھی تھیں آپ عقیق نامی جگہ سے جب گزرے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
29934- "يا عائشة هذا المنزل لولا كثرة الهوام". البغوي - عن سفيان بن أبي نمر عن أبيه قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة ومعه عائشة فمر بجانب العقيق قال - فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الغزوات والوفود : ۔۔۔ از قسم افعال : باب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات ، بعوث اور مرسلات کے بیان میں غزوات کی تعداد :
29935 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انیس (19) غزوات میں حصہ لیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29935- عن البراء بن عازب أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم غزا تسع عشرة غزوة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الغزوات والوفود : ۔۔۔ از قسم افعال : باب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات ، بعوث اور مرسلات کے بیان میں غزوات کی تعداد :
29936 ۔۔۔ ابو اسحاق حضرت زید بن ارقم (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سترہ (17) غزوات کیے ابو اسحاق کہتے ہیں : میں نے حضرت زید بن ارقم (رض) سے پوچھا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کتنے غزوات ہوئے ؟ انھوں نے کہا : سترہ ۔
29936- عن أبي إسحاق عن زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم غزا سبع عشرة غزوة، قال أبو إسحاق: فسألت زيد بن أرقم كم غزوة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: سبع عشرة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الغزوات والوفود : ۔۔۔ از قسم افعال : باب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات ، بعوث اور مرسلات کے بیان میں غزوات کی تعداد :
29937 ۔۔۔ ابو یعقوب اسحاق بن عثمان کہتے ہیں میں نے موسیٰ بن انس سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوات کئے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : ستائیں غزوات ، آٹھ غزوات میں مہینوں گھر سے غائب رہتے اور انیس غزوات میں کئی کئی دن گھر سے غائب رہتے میں نے پوچھا حضرت انس بن مالک (رض) نے کتنے غزوات میں حصہ لیا ہے جواب دیا آٹھ غزوات میں ۔ (رواہ عساکر)
29937- "مسند أنس" عن أبي يعقوب إسحاق بن عثمان قال: سألت موسى بن أنس كم غزا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ قال: سبعا وعشرين غزوة: ثمان غزوات يغيب فيها الأشهر وتسع عشرة يغيب فيها الأيام، قلت: كم غزا أنس بن مالك؟ قال: ثماني غزوات. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29938 ۔۔۔ ” مسند فاروق “ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک دن سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہمیں اہل بدر کا واقعہ سنانے لگے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بدر کے اگلے دن مشرکین کی قتل گاہیں دکھائیں اور فرمایا : انشاء اللہ کل یہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی ، انشاء اللہ کل یہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی چنانچہ آپ نے جس جس جگہ کی تعیین کی تھی کل اسی جگہ پر کفار پچھاڑے گئے میں نے عرض کیا : اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے کفار آپ کی بتائی ہوئی پچھاڑ گاہوں سے ذرہ برابر بھی نہیں چوکے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا مقتولین کفار کو ایک کنویں میں پھینک دیا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس گئے اور آواز دے کر کہا اے فلاں اے فلاں ! کیا تم نے رب تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا میں نے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسے لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو مردہ لاشیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم ان سے زیادہ میری بات کو نہیں سنتے (یعنی وہ سنتے ہیں) البتہ وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل ومسلم والنسائی وابو عوانۃ وابو یعلی وابن جریر)
29938- "مسند الفاروق" عن أنس قال: أخذ عمر يحدثنا عن أهل بدر فقال: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليرينا مصارعهم بالأمس يقول: هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله، وهذا مصرع فلان غدا إن شاء الله، فجعلوا يصرعون عليها، قلت والذي بعثك بالحق ما أخطأوا تيك كانوا يصرعون عليها ثم أمر بهم فطرحوا في بئر فانطلق إليهم يا فلان يا فلان هل وجدتم ما وعدكم الله حقا فإني وجدت ما وعدني الله حقا، قلت: يا رسول الله أتكلم قوما قد جيفوا؟ قال: ما أنتم بأسمع لما أقول منهم ولكن لا يستطيعون أن يجيبوا". "ط، ش، حم، م، ن" وأبو عوانة، "ع" وابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29939 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ مجھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بدر کا واقعہ سنایا اور کہا بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر نظر دوڑائی ان کی تعداد تین سو سے کچھ زیادہ تھی جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کو ایک نظر دیکھا ان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی فریقین میں اتنا تفاوت دیکھ کر آپ قبلہ رہو ہو کر بیٹھ گئے آپ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھالیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اوپر چادر اوڑھ رکھی تھی اور تہبند باندھی ہوئی تھی آپ نے دعا کی اور کہا : یا اللہ اپنا وعدہ پورا فرمایا اللہ ! اپنا وعدہ پورا فرمایا اللہ ! اگر تو نے اسلام کی نام لیوا اس مٹھی بھر جماعت کو ہلاک کردیا زمین پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تیری عبادت بند ہوجائے گی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر رب تعالیٰ سے فریاد اور دعا کرتے رہے حتی کہ محویت میں آپ کی چادر گرگئی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آگے بڑھ کر چادر اٹھائی اور آپ پر اوڑھ دی پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! رب تعالیٰ سے آپ کا واسطہ کافی ہوچکا اللہ تعالیٰ آپ کے وعدہ کو پورا فرمائے گا اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت)” اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین “۔ ترجمہ : ۔۔۔ جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور تمہاری مدد کے لیے لگاتار ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے ۔ چنانچہ جب میدان کارزار گرم ہوا مشرکین شکست خوردہ ہوئے ستر (70) مشرکین مارے گئے اور ستر (70) قیدی ہوئے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر ، عمر اور علی (رض) سے بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورہ لیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : اے اللہ کے نبی ! یہ قیدی چچا کے بیٹے ہیں رشتہ دار ہیں اور بھائی ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے فدیہ لے کر انھیں رہا کردیں اس سے ہماری (معاشی) قوت مضبوط ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت عطا فرما دے اور یہ ہمارے دست وبازو بن جائیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا : بخدا ! میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر (رض) کی رائے ہے میری رائے کچھ اس طرح ہے کہ آپ میرے فلاں قریبی رشتہ دار کو میرے حوالے کریں تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں عقیل کو علی کے حوالے کردیں وہ اس کی گردن اڑا دے اور فلاں شخص کو حمزہ کے حوالے کردیں وہ اس کا بھائی ہے اور وہ اس کی گردن اڑا دے تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں زرہ برابر بھی مشرکین کی محبت نہیں بلاشبہ یہ قیدی مشرکین کے روساء ہیں ان کے پیشوا ہیں اور ان کے قائدین ہیں تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رائے کی طرف مائل ہوگئے اور میری رائے کی طرف توجہ نہ دی چنانچہ مشرکین سے فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا دوسرے دن علی الصباح میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے ساتھ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بھی ہیں اور وہ دونوں رو رہے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بھی خبر دیں آپ اور آپ کا رفیق کیوں رو رہے ہیں ؟ اگر کوئی ایسی بات ہے تو میں بھی رؤوں اگر مجھے رونا نہ آئے کم از کم رونے کی صورت تو بنا لوں گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیدیوں نے جو فدیہ پیش کیا ہے وہ فدیہ کیا ہے وہ تو عذاب ہے جو اس درخت سے بھی قریب دکھائی دیتا ہے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت)” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض لولا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم “۔ کسی نبی کے اختیار میں نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہو یہاں تک کہ زمین پر کثرت سے خون نہ بہا دے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نوشتہ پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو لیے ہوئے ہیں اگلے سال مسلمانوں کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑی چنانچہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھاگ گئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک شہید ہوئے سر مبارک میں خود کے دندانے کھب گئے جس سے آپ کے چہرے پر خون بہ پڑا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت)” اولما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔ کیا جب تمہیں مصیبت پیش آئی جبکہ تم دوگنی مصیبت پہنچا چکے ہو تم کہتے ہو یہ مصیبت کہاں سے آگئی کہہ دیجئے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، واحمد بن حنبل ومسلم وابو داؤد والترمذی وابو عوانۃ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معافی الدلائل)
29939- عن ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم بدر نظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى أصحابه وهم ثلثمائة ونيف ونظر إلى المشركين فإذا هم ألف وزيادة فاستقبل النبي صلى الله عليه وسلم القبلة ومد يديه وعليه رداؤه وإزاره ثم قال: اللهم أنجز ما وعدتني اللهم أنجز ما وعدتني، اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة من الإسلام فلا تعبد في الأرض أبدا. فما زال يستغيث ربه ويدعوه حتى سقط رداؤه فأتاه أبو بكر فأخذ رداءه فرداه، ثم التزمه من ورائه ثم قال: يا نبي الله كفاك مناشدتك لربك فإنه سينجز لك ما وعدك وأنزل الله تعالى عند ذلك {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ} فلما كان يومئذ والتقوا هزم الله المشركين وقتل منهم سبعون رجلا وأسر منهم سبعون رجلا، فاستشار رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا بكر وعليا وعمر فقال أبو بكر: يا نبي الله هؤلاء بنو العم والعشيرة والإخوان وإني أرى أن تأخذ منهم الفدية فيكون ما أخذتم منهم قوة لنا على الكفار وعسى الله أن يهديهم فيكونوا لنا عضدا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ترى يا ابن الخطاب؟ قلت: والله ما أرى ما رأى أبو بكر، ولكن أرى أن تمكنني من فلان قريب لعمر فأضرب عنقه، وتمكن عليا من عقيل فيضرب عنقه وتمكن حمزة من فلان أخيه فيضرب عنقه حتى يعلم الله أنه ليست في قلوبنا مودة للمشركين هؤلاء صناديدهم وأئمتهم وقادتهم، فهوي رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال أبو بكر ولم يهو ما قلت، فأخذ منهم الفداء، فلما كان من الغد غدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فإذا هو قاعد وأبو بكر وهما يبكيان قلت: يا رسول الله أخبرني ما يبكيك أنت وصاحبك؟ فإن وجدت بكاء بكيت وإن لم أجد بكاء تباكيت لبكائكما. فقال النبي صلى الله عليه وسلم للذي عرض علي أصحابك من الفداء، لقد عرض علي عذابكم أدنى من هذه الشجرة قريبة فأنزل الله تعالى {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} {لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ} من الفداء ثم أحل لهم الغنائم، فلما كان يوم أحد من العام المقبل عوقبوا بما صنعوا يوم بدر من أخذهم الفداء فقتل منهم سبعون وفر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وكسرت رباعيته، وهشمت البيضة على رأسه، وسال الدم على وجهه وأنزل الله تعالى {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} بأخذكم الفداء. "ش، حم، م، د، ت" وأبو عوانة وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم، "حب" وأبو الشيخ وابن مردويه وأبو نعيم والبيهقي معا في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29940 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) بدرد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ٹھہرنے کی جگہ کے متعلق سوال کیا گیا تو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ سخت حملہ کرنے والے تھے ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
29940- عن علي أنه سئل عن موقف النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر قال: كان أشدنا يوم بدر من حاذى بركبتيه رسول الله صلى الله عليه وسلم "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29941 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ جب ہم ہجرت کرکے مدینہ آئے ہم نے مدینہ کے پھل کھائے اور ہمیں یہاں کی آب وہوا راس نہ آئی ہمیں بخار ہوگیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھی بدر کے متعلق پوچھتے رہتے تھے جب ہمیں خبر پہنچی کہ مشرکین جنگ کے لیے آرہے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف چل دیئے بدر ایک کنویں کا نام ہے ہم مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے بدر میں ہمیں دو شخص ملے ایک شخص قریشی تھا جبکہ دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام تھا قریشی تو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا رہی بات عقبہ کے غلام کی وہ ہماری ہاتھ لگ گیا ہم اس سے پوچھتے لوگوں کی کیا تعداد ہے ، وہ کہتا : بخدا ان کی تعداد زیادہ ہے اور ان کی لڑائی شدید ہے۔ جب وہ یہ بات کہتا مسلمان اسے مارتے حتی کہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر زور دے کر پوچھا کہ مشرکین کی تعداد کیا ہے ؟ اس نے تعداد بتانے سے انکار کردیا آپ نے پوچھا وہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں غلام نے کہا : وہ روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی تعداد ایک ہزار ہے چونکہ ایک اونٹ سو آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے پھر رات کو بارش برسی ہم درختوں کے نیچے چلے گئے اور ڈھالوں سے بچاؤ کا کام لیا جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات دعا کرتے گزاری دعا میں کہتے : یا اللہ اگر تو نے یہ مختصر سی جماعت ہلاک کردی تیری عبادت نہیں کی جائے گی طلوع فجر کے وقت نماز پڑھنے کا اعلان کیا گیا لوگ درختوں کے نیچے سے نکل کر آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور پھر جنگ پر ہمیں ابھارا پھر فرمایا : سبھی لوگ سرخی مائل پہاڑ کے اس حصہ کے نیچے رہیں جب مشرکین ہمارے قریب ہوئے ہم نے صفیں بنالیں یکایک جماعت مشرکین کی طرف سے اس شخص کے قریب کھڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مشرکین میں اگر کوئی شخص بھلی بات کرنے والا ہے تو وہ یہی سرخ اونٹ کا سوار ہے عین ممکن ہے یہ کوئی بات کرے اتنے میں حضرت حمزہ (رض) تشریف لائے اور فرمایا : یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے یہ جنگ سے منع کررہا ہے اور اپنی قوم سے کہہ رہا ہے : اے میری قوم : میں انھیں (مسلمانوں کو) موت کی پروا کیے بغیر لڑنے والا دیکھ رہا ہوں تم ان تک پہنچ پاؤ گے حالانکہ تمہارے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے اے میری قوم ! جنگ کا خیال ترک کرو اور اس بےعزتی کو میرے سرمنڈ دو اور کہو کہ عقبہ بن ربیعہ نے سستی اور ڈرپوکی کا مظاہرہ کیا حالانکہ تم جانتے ہو میں کاہل اور ڈرپوک نہیں ہوں یہ آفر ابوجہل نے سن لی وہ بولا : تم یہ بات کہتے ہو بخدا ! اگر تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا ہے اسے دانتوں سے کاٹ دیتا حالانکہ تیرے حسن منظر نے تیرے پیٹ کو رعب سے بھر دیا ہے عتبہ بولا : اے سرینوں کو زعفران سے رنگنے والے (یعنی عیاش پرست تجھے جنگی تدابیر سے کیا واسطہ) مجھے عار مت دو آج تم جان لو گے کہ ہم میں سے کون بزدل ہے ؟ چنانچہ عتبہ اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید باہر نکلے اور مدمقابل کے خواہشمند ہوئے ادھر سے انصار سے چھ نوجوان نکلے عتبہ نے کہا : ہم تمہارے خواہشمند نہیں ہیں تم ہمارے مقابل کے نہیں ہو ہم تو اپنے چچا کے بیٹوں یعنی بنی عبدالمطلب کے خواہشمند ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! کھڑے ہوجاؤ اے حمزہ ! کھڑے ہوجاؤ اے عبیدہ بن حارث ! کھڑے ہوجاؤ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عتبہ بن ربیعہ ! شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو واصل جہنم کیا اور عبیدہ (رض) زخمی ہوگئے پھر ہم مشرکین کے ستر آدمی قتل کیے اور ستر آدمی قید پھر ایک انصاری عباس بن عبدالمطلب کو قید کر لایا عباس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اس نے گرفتار نہیں کیا البتہ مجھے ایک شخص نے قید کیا ہے اس کے سر سے کنارے کے بال اکھڑے ہوئے تھے وہ بہت خوبصورت تھا اور ابلق گھوڑے پر سوار تھا میں اسے نہیں دیکھ رہا انصاری نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے ہی اسے قید کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاموش رہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتے سے تمہاری مدد کی ہے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بنی مطلب سے ہم نے عباس عقیل اور نوفل بن حارث کو قید کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابن جریر وصحح والبیہقی فی الدلائل وروی ابن ابی عاصم فی الجھاد بعضہ)
29941- عن علي قال لما قدمنا المدينة أصبنا من ثمارها فاجتويناها وأصابنا بها وعك وكان النبي صلى الله عليه وسلم يتخبر عن بدر، فلما بلغنا أن المشركين قد أقبلوا سار رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر وبدر بئر فسبقنا المشركين إليها فوجدنا فيها رجلين منهم رجل من قريش ومولى لعقبة بن أبي معيط، فأما القرشي فانفلت وأما مولى عقبة فأخذناه فجعلنا نقول له: كم القوم؟ فيقول: هم والله كثير عددهم شديد بأسهم، فجعل المسلمون إذا قال ذلك ضربوه حتى انتهوا به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له: كم القوم؟ قال: هم والله كثير عددهم شديد بأسهم، فجهد النبي صلى الله عليه وسلم أن يخبره كم هم فأبى، ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم سأله كم ينحرون من الجزر؟ فقال: عشرا كل يوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: القوم ألف كل جزور لمائة وتبعه ا"، ثم إنه أصابنا من الليل طش من مطر، فانطلقنا تحت الشجر والحجف نستظل تحتها من المطر وبات رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو ربه ويقول: اللهم إنك إن تهلك هذه الفئة لا تعبد. فلما أن طلع الفجر نادى الصلاة عباد الله، فجاء الناس من تحت الشجر والحجف، فصلى بنا رسول الله وحرض على القتال، ثم قال: إن جميع قريش تحت هذه الضلع الحمراء من الجبل، فلما دنا القوم منا وصاففناهم إذا رجل منهم على جمل له أحمر يسير في القوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي ناد لي حمزة وكان أقربهم إلى المشركين من صاحب الجمل الأحمر، وماذا يقول لهم، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن يكن في القوم أحد يأمر بخير فعسى أن يكون صاحب الجمل الأحمر، فجاء حمزة فقال: هو عتبة بن ربيعة وهو ينهى عن القتال، ويقول لهم: يا قوم إني أرى قوما مستميتين لا تصلون إليهم وفيكم خير، يا قوم اعصبوها اليوم برأسي وقولوا: جبن عتبة بن ربيعة وقد علمتم أني لست بأجبنكم فسمع ذلك أبو جهل فقال: أنت تقول هذا والله لو غيرك يقول لأعضضته قد ملأت رئتك جوفك رعبا فقال عتبة: إياي تعير يا مصفر استه؟ ستعلم اليوم أينا الجبان؟ فبرز عتبة وأخوه شيبة وابنه الوليد حمية فقالوا: من يبارز؟ فخرج فتية من الأنصار ستة فقال عتبة: لا نريد هؤلاء ولكن يبارزنا من بني عمنا من بني عبد المطلب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قم يا علي، وقم يا حمزة وقم يا عبيدة بن الحارث فقتل الله عتبة وشيبة ابني ربيعة والوليد بن عتبة وجرح عبيدة، فقتلنا منهم سبعين وأسرنا سبعين، فجاء رجل من الأنصار بالعباس بن عبد المطلب أسيرا، فقال العباس: يا رسول الله إن هذا والله ما أسرني ولقد أسرني رجل أجلح من أحسن الناس وجها على فرس أبلق ما أراه في القوم، فقال الأنصاري: أنا أسرته يا رسول الله فقال: اسكت، فقد أيدك الله بملك كريم قال علي: وأسرنا من بني المطلب العباس وعقيلا ونوفل بن الحارث. "ش، حم" وابن جرير وصححه، "هق" في الدلائل؛ وروى ابن أبي عاصم في الجهاد بعضه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29942 ۔۔۔ ” مسند علی “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی علاوت بدر کی دن سفید اون تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والنسائی)
29942- "مسند علي" عن علي قال: سيماء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر الصوف الأبيض. "ش، ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29943 ۔۔۔ ” ایضا “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں بدر کے دن ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پناہ لیتے تھے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن کے قریب ہوتے اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حملہ بےمثال تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابن جریر وصححہ والبیہقی فی الدلائل)
29943- "أيضا" عن علي قال: لقد رأيتنا يوم بدر ونحن نلوذ برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو أقربنا إلى العدو وكان من أشد الناس يومئذ بأسا. "ش، حم، ع" وابن جرير وصححه، "هق" في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29944 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ بدر کی رات میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی نہیں جاگ رہا تھا صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاگ رہے تھے آپ ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے دعا میں مشغول ہوجاتے اور روتے حتی کہ اسی حالت میں صبح کی ہماری درمیان مقداد (رض) کے سوا کوئی شہسوار نہیں تھا ۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی واحمد بن حنبل ومسدد والنسائی وابو یعلی وابن جریر ابن خزیمۃ وابن حبان وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی فی الدلائل)
29944- عن علي قال: لقد رأيتنا ليلة بدر وما فينا أحد إلا نائم إلا النبي صلى الله عليه وسلم فإنه كان يصلي إلى شجرة ويدعو ويبكي حتى أصبح، وما كان فينا فارس إلا المقداد. "ط، حم" ومسدد، "ن، ع" وابن جرير وابن خزيمة، "حب، حل، هق" في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29945 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن لوگوں سے فرمایا : اگر تم سے ہو سکے تو بنی عبدالمطلب کو قید کرلو چونکہ انھیں زبردستی گھروں سے باہر نکالا گیا ہے۔ (رواہ واحمد بن حنبل وابن ابی شیبۃ وابن جریر وصححہ)
29945- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للناس يوم بدر: إن استطعتم أن تأسروا من بني عبد المطلب فإنهم خرجوا كرها". "حم، ش" وابن جرير وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بدر :
29946 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ بدر کے دن مجھے اور ابوبکر (رض) سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہیں اور دوسرے کے ساتھ میکائل واسرافیل جو کہ عظیم فرشتہ ہے جنگ میں حاضر ہوتا ہے اور صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابو یعلی وابن ابی عاصم وا ابن منیع والدورقی وابن جریر وصححہ والحاکم وابو نعیم فی الحلیۃ واللالکائی فی السنۃ والبیہقی فی الدلائل والضیاء)
29946- عن علي قال: قيل لي ولأبي بكر يوم بدر: مع أحدكما جبريل، ومع الآخر ميكائيل، وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال ويقف في الصف. "ش، حم، ع" وابن أبي عاصم وابن منيع والدورقي وابن جرير وصححه، "ك، حل" واللالكائي في السنة، "هق" في الدلائل، "ض".
tahqiq

তাহকীক: