কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ২৯৯০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوۃ قریظہ ونضیر ۔۔۔ ازاکمال :
29907 ۔۔۔ جس شخص نے اس قلعہ میں ایک تیر بھی داخل کیا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث غزوہ قریظہ ونضیر کے دن ارشاد فرمائی ۔ (رواہ الطبرانی عن عتبۃ بن عبد)
29907- "من أدخل هذا الحصن سهما فقد وجبت له الجنة" - قاله يوم قريظة والنضير. "طب" عن عتبة بن عبد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوۃ ذی قرد۔۔۔ ازاکمال :
29908 ۔۔۔ ابو قتادہ (رض) ہماری چوٹی کے شہسوار ہیں اور سلمہ (رض) ہمارے پیادوں میں سب سے زیادہ برق رفتار ہیں۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی ومسلم والبغوی والطبرانی وابن حبان عن ابن الاکوع)
29908- "خير فرساننا اليوم أبو قتادة وخير رجالتنا سلمة". "ط، م" والبغوي، "طب، حب" عن ابن الأكوع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوۃ حدیبیہ :
29909 ۔۔۔ جو شخص مرار گھاٹی پر چڑھے گا اس کے گناہ اسی طرح جھڑیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑتے تھے ۔ (رواہ مسلم عن جابر (رض))
29909- "من يصعد الثنية ثنية المرار فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل". "م" عن جابر
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوۃ حدیبیہ :
29910 ۔۔۔ یقیناً آپ کی مثال ایسی ہے کوئی شخص کہے : یا اللہ مجھے ایسا دوست عطا فرما جو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ (رواہ مسلم عن سلمۃ بن الاکوع)
29910 إنك كالذي قال الاول : الهلم أبغني حبيبا هو أحب إلي من نفسي (م - عن سلمة بن الاكوع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر ۔۔۔ ازاکمال :
29911 ۔۔۔ اللہ اکبر خیبر ویران ہوگیا ۔ جب ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں تو ڈر سنائے ہوؤں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی عن انس (رض) واحمد بن حنبل عن انس (رض) عن ابی طلحۃ)
29911- "الله أكبر خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". "حم، خ، م، ت، ن" عن أنس؛ "حم" عن أنس عن أبي طلحة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر ۔۔۔ ازاکمال :
29912 ۔۔۔ اللہ اکبر خیبر ویران ہوگیا جب ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں تو ڈر سنائے ہوؤں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ (رواہ الطبرانی عن انس (رض))
29912- "الله أكبر خربت خيبر الله أكبر فتحت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". "طب" عن أنس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر ۔۔۔ ازاکمال :
29913 ۔۔۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم خیبر سے نکل بھاگو گے اونٹنی تمہیں لے کر راتوں رات بھاگی ہوگی ۔ (رواہ البخاری عن عمر (رض))
29913- "كيف بك إذا خرجت من خيبر يعدو بك قلوصك3 ليلة بعد ليلة" - قاله لابن أبي الحقيق. "خ" عن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ :
29914 ۔۔۔ کیا تم میرے لیے میرے امراء کو چھوڑ دوگے ؟ تمہاری مثال اور ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس سے اونٹ یا بکریاں چروانے کا کام لیا جائے وہ بکریاں چروائے پھر جب پانی پلانے کا وقت ہو تو انھیں حوض پر لائے بکریاں حوض سے پانی بھی پینے لگیں صاف صاف پانی پی لیں اور گدلا پانی چھوڑ دیں ۔ (رواہ مسلم عن عوف بن مالک)
29914- "هل أنتم تاركون لي أمرائي؟ إنما مثلكم ومثلهم كمثل رجل استرعي إبلا أو غنما فرعاها ثم تحين سقيها فأوردها حوضا فشرعت فيه فشربت صفوه وتركت كدره". "م" عن عوف بن مالك
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ :
29915 ۔۔۔ کیا تم میرے لیے میرے امراء کو چھوڑنے والے ہو ؟ تمہارے لیے ان کے معاملہ کا صاف و شفاف حصہ ہے اور ان کے لیے گندہ ۔ (رواہ ابو داؤد عن عوف بن مالک (رض)) الاکمال :
29915 هل أنتم تاركون لي أمرائي ؟ لكم صفوة أمرهم وعليهم كدره (د - عنه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
29916 ۔۔۔ حضرت زید بن حارثہ (رض) نے غزوہ موتہ میں اسلام کا جھنڈا تھاما اور داد شجاعت لیتے رہے حتی کہ شہید ہوگئے پھر جعفر (رض) نے جھنڈا لے لیا اور وہ بھی دیدہ دلیری سے جھنڈے کا دفاع کرتے رہے حتی کہ وہ بھی شہید ہوئے پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے جھنڈا تھام لیا جھنڈے کا دفاع کیا بالآخر وہ بھی شہید ہوگئے مجھے جنت میں ان کا مقام دکھلا دیا گیا ہے چنانچہ خواب میں دیکھا کہ یہ سونے کی مسہریوں پر آرام کر رہے ہیں البتہ عبداللہ بن رواحہ کی مسہری میں میں نے کچھ گنڈیاں دیکھی ہیں میں نے کہا : ایسا کیوں ہے ؟ مجھے بتایا گیا عبداللہ بن رواحہ کچھ تردد کا شکار ہوگئے تھے بالآخر تردد جاتا رہا ۔ (رواہ الطبرانی عن رجل من الصحابۃ من بنی مرۃ بن عوف)
29916 أخذ الراية زيد بن حارثة فقاتل بها حتى قتل شهيدا ، ثم أخذها جعفر فقاتل بها حتى قتل شهيدا ، ثم أخذها عبد الله بن رواحة فقاتل بها حتى قتل شهيدا ، لقد رفعوا لي في الجنة فيما يرى النائم على سرر من ذهب فرأيت في سرير عبد الله بن رواحة ازو رارا عن سرير صاحبيه فقلت : بم هذا ؟ فقيل لي : مضيا وتردد عبد الله بن رواحة بعض التردد ومضى (طب - عن رجل من الصحابة من بني مرة بن عوف).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
29917 ۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت ایک غزوہ پر گئے اور گھمسان کی جگ لڑی زید بن حارثہ (رض) نے پرچم تھام رکھا تھا وہ شہید ہوگئے پرچم حضرت جعفر (رض) نے لے لیا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا انھوں نے پرچم تھامے رکھا پھر وہ بھی شہید ہوگئے پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے پرچم تھام لیا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ پرچم کا دفاع کرتے رہے پھر وہ بھی شہید ہوگئے پھر حضرت خالد بن ولید (رض) نے پرچم اٹھا لیا اور کہا : اب جنگ سخت ہوگی ۔ (رواہ ابن غائز فی مغازیہ وابن عساکر عن العطاف عن خالد مخزومی مرسلا)
29917 التقى القوم فاقتتلوا قتالا شديدا فقتل زيد بن حارثة وأخذ الراية جعفر ، ثم مكث ما شاء الله أن يمكث ثم قتل جعفر ثم أخذ الراية عبد الله بن رواحة ، ثم مكث ما شاء الله أن يمكث ثم قتل : ثم أخذ الراية خالد بن الوليد ثم قال : الآن حمي الوطيس (ابن عائذ في مغازيه ، كر - عن العطاف بن خالد المخزومي مرسلا).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
29918 ۔۔۔ تمہارے بھائیوں کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی ہے زید نے پرچم اٹھا کر جنگ کی حتی کہ شہید ہوگئے پھر اس کے بعد جعفر نے پرچم تھام لیا وہ بھی بےدریغ لڑتا رہا حتی کہ وہ بھی شہید ہوگیا پھر عبداللہ بن رواحہ نے پرچم لے لیا وہ بھی بےجگری سے لڑتا رہا بالآخر وہ بھی شہید ہوگیا پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے پرچم تھام لیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں فتح نصیب فرمائی ۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی الحام الضیاء عن عبداللہ بن جعفر (رض))
29918 إن إخوانكم لقوا العدو ، وإن زيدا أخذ الراية فقاتل حتى قتل ثم أخذ الراية بعده جعفر ، فقاتل حتى قتل ، ثم أخذ الراية عبد الله بن رواحة فقاتل حتى قتل ، ثم أخذ الراية سيف من سيوف الله خالد بن الوليد ففتح الله عليه (حم ، طب ، ك ، ض - عن عبد الله بن جعفر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
29919 ۔۔۔ کیا میں تمہیں تمہارے لشکر کے اس غازی کے متعلق خبر نہ دوں ؟ یہ گھروں سے نکل کر چل پڑے تھے ، حتی کہ دشمن کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہوگئی چنانچہ زید کو شہید کردیا گیا تم اس کے لیے استغفار کرو پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لے لیا اس نے دشمن پر ٹوٹ کر حملہ کیا بالآخر وہ بھی شہید کردیا گیا میں اس کی شہادت پر گواہی دیتا ہوں تم اس کے لیے استغفار کرو اس کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا لے لیا وہ بھی ثابت قدمی سے لڑتا رہا بالاخر وہ بھی شہید ہوگیا اس کے لیے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا لے لیا حالانکہ وہ مقرر کئے ہوئے امراء میں سے نہیں تھا وہ اپنے تئیں امیر بنا ہے یا اللہ ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اس کی مدد کر پھیل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور کوئی بھی پیچھے نہ رہنے پائے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والدارمی وابو یعلی وا ابن حبان والنصار عن ابی قتادہ (رض))
29919 ألا أخبركم بجيشكم هذا الغازي ؟ انهم انطلقوا حتى لقوا العدو فأصيب زيد شهيدا فاستغفروا له ، ثم أخذ اللواء جعفر ابن أبي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدا أشهد له بالشهادة فاستغفروا له ، ثم اخذ اللواء عبد الله بن رواحة فأثبت قدمه حتى أصيب شهيدا فاستغفروا له ، ثم أخذ اللواء خالد بن الوليد ولم يكن من الامراء هو آمر نفسه اللهم هم سيف من سيوفك فانصره انفروا فأمدوا إخوانكم ولا يتخلفن أحد (حم والدارمي ، ع ، حب ، ض - عن أبي قتادة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
29920 ۔۔۔ اے عبدالرحمن اپنے وقار میں رہو پرچم زید بن حارثہ (رض) نے اٹھا لیا وہ بےدریغ لڑتے رہے بالآخر شہید ہوگئے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے پھر عبداللہ بن رواحہ (رض) نے پرچم تھام لیا وہ بھی بےجگری سے لڑتے رہے بالاخر وہ بھی شہید ہوگئے اللہ تعالیٰ عبداللہ بن رواحہ پر رحم فرمائے پھر خالد بن ولید نے پرچم اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے خالد کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی خالد اللہ تعالیٰ کی تلوار میں سے ایک تلوار ہے۔ (رواہ الحکیم عن عبداللہ بن سمرۃ)
29920 على رسلك يا عبد الرحمن أخذ اللواء زيد بن حارثة فقاتل زيد حتى قتل رحم الله زيدا ، ثم أخذ اللواء عبد الله بن رواحة
فقاتل فقتل رحم الله عبد الله بن رواحة ، ثم أخذ اللواء خالد ففتح الله تعالى بخالد فخالد سيف من سيوف الله تعالى (الحكيم - عن عبيد الله سمرة).
فقاتل فقتل رحم الله عبد الله بن رواحة ، ثم أخذ اللواء خالد ففتح الله تعالى بخالد فخالد سيف من سيوف الله تعالى (الحكيم - عن عبيد الله سمرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
29921 ۔۔۔ اب جنگ سخت ہوگی ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن العباس الحاکم عن جابر الطبرانی عن شیبۃ)
29921- "الآن حمي الوطيس". "حم، م" عن العباس؛ "ك" عن جابر؛ "طب" عن شيبة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
29922 ۔۔۔ انشاء اللہ آئندہ کل ہمارا ٹھکانا بنی کنانہ کا کوہ دامن ہوگا جہاں وہ کفر پر ایک دوسرے سے قسمیں لیتے تھے ۔ (رواہ البخاری ومسلم ، عن ابو ہریرہ (رض))
29922- "منزلنا غدا إن شاء الله بخيف بني كنانة حيث تقاسموا على الكفر". "ق" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
29923 ۔۔۔ انشاء اللہ کل ہم بنی کنانہ کے کوہ دامن میں اتریں گے جہاں قریش کفر پر ایک دوسرے سے قسمیں لیتے تھے ۔ (رواہ ابن ماجہ عن اسامۃ زید)
29923- "نحن نازلون غدا إن شاء الله بخيف بني كنانة حيث قاسمت قريش على الكفر". "هـ" عن أسامة بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین :
29924 ۔۔۔ چہرے بدشکل ہوں ۔ (رواہ مسلم عن سلمۃ بن الاکوع)
29924- "شاهت الوجوه". "م" عن سلمة بن الأكوع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
25 299 ۔۔۔ چہرے بدشکل ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے موقع پر یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔ (رواہ مسلم عن سلمۃ بن الاکوع احمد بن حنبل 99924 نمبر کے تحت حدیث گزر چکی ہے عن ابی عبدالرحمن الفہری واسمہ یزید بن اسید عن عبد بن حمید عن یزید بن عامر الطبرانی عن الحارث بن بدل السعدی ، قال البغوی مالہ غیرہ قال وبلغنی انہ لم یسمعہ من النبی وانما رواہ عن عمر بن سفیان الثقفی لبغوی الطبرانی عن شیبۃ بن عثمان الطبرانی عن حکیم بن حزام انہ قالہ یوم بدر والحاکم ، عن ابن عباس (رض) انہ قال لقریش بمکۃ)
29925- "شاهت الوجوه" - قاله يوم حنين. "م" عن سلمة بن الأكوع؛ "حم" عن مر برقم 29924 عن أبي عبد الرحمن الفهري - واسمه يزيد بن أسيد - عن عبد بن حميد عن يزيد بن عامر؛ "طب" عن الحارث بن بدل السعدي؛ قال البغوي: وماله غيره، قال: وبلغني أنه لم يسمعه من النبي صلى الله عليه وسلم وإنما رواه عن عمر بن سفيان الثقفي؛ البغوي، "طب" عن شيبة بن عثمان؛ "طب" عن حكيم بن حزام أنه قاله يوم بدر؛ "ك" عن ابن عباس أنه قاله لقريش بمكة
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29926 ۔۔۔ اے ام ایمن خاموش رہو تمہاری زبان دانی میں لکنت ہے۔ (روال ابن سعد بن ابی الحویرث) کہ ام المین نے غزوہ حنین کے موقع پر کہا : سبت اللہ اقدامکم “۔ (جبکہ سبت بجائے سین کے ثائے معجمہ کے ساتھ ہے) جس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں ثابت قدم رکھے اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
29926- "اسكتي يا أم أيمن فإنك عسراء اللسان". ابن سعد عن أبي الحويرث أن أم أيمن قالت يوم حنين سبت الله أقدامكم فقال النبي صلى الله عليه وسلم فذكره.
তাহকীক: