কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩০৩০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات اور معاہدہ جات :
30307 ۔۔۔ مذکورہ بالا سند سے عمرو بن حزم کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمیل بن رذام کو لکھا جس کا مضمون تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمیل بن رذام کو رمد کے علاقے دیے ان سے متعلق ان سے کوئی نہیں جھگڑے گا اور یہ خط حضرت علی (رض) نے لکھا۔ رواہ ابو نعیم
30307- وبه عن عمرو بن حزم قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم لجميل بن رذام: هذا ما أعطى محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم جميل بن رذام العدوي أعطاه الرمد لا يحاقه فيه أحد، وكتب علي. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مراسلات اور معاہدہ جات :
30308: یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب عن ابیہ عن جدہ حاطب بن ابی بلتعہ کی سند سے حدیث مروی ہے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کے پاس بھیجا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط لے کر مقوقس کے پاس گیا مقوقس نے مجھے ایک مکان میں ٹھہرایا میں کئی دنوں تک اس کے پاس رہا پھر مقوقس نے مجھے اپنے پاس بلایا اس نے اپنے امراء اور وزاء بھی اپنے پاس بٹھا رکھے تھے اس نے کہا : میں تم سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ تم اسے سمجھو میں نے کہا جو کچھ کہنا ہے کہو مقوقس نے کہا : مجھے اپنے صاحب کے متعلق بتاؤ کیا وہ نبی نہیں ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں وہ نبی ہیں اور اللہ کے رسول ہیں مقوقس نے کہا : جب قوم نے تمہارے رسول کو جلاوطن کیا تو پھر کیا وجہ ہے تمہارا نبی ان کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتا ؟ میں نے کہا : کیا عیسی بن مریم (علیہ السلام) نبی نہیں تھے ؟ بولا : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول تھے میں نے کہا پھر کیا وجہ ہے جب ان کی قوم انھیں پکڑ کر سولی پر چڑھانا چاہتی تھی تاہم اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمان پر اٹھا لیا انھوں نے اپنی قوم کے لیے بددعا کیوں نہ کی ؟ مقوقس نے کہا : بہت اچھا شاباش بلاشبہ تو حکیم ہے اور حکیم کے پاس سے آیا ہے۔ یہ کچھ تحائف ہیں جو میں تمہارے ہاتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجنا چاہتا ہوں حاطب (رض) کہتے ہیں : مقوقس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تین باندیاں ہدیہ میں بھیجیں ان باندیوں میں سے ایک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم (رض) کی ماں بھی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک باندی ابو جہم بن حذیفہ عدوی کو ہبہ کردی اور پھر تیسری حضرت حسان بن ثابت (رض) کو ہبہ کردی مقوقس نے عمدہ عمدہ کپڑے اور کچھ خوبصورت نوادرات بھی تحفہ میں بھیجے ۔ (رواہ ابونعیم)
30308- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه عن جده حاطب بن أبي بلتعة عال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المقوقس ملك الإسكندرية فجئته بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنزلني في منزل فأقمت عنده ليالي، ثم بعث إلي وقد جمع بطارقته فقال: إني سأكلمك بكلام فأحب أن تفهمه مني، فقلت كلم فقال: أخبرني عن صاحبك أليس هو نبي؟ فقلت: بلى وهو رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فما له حيث كان هكذا لم يدع على قومه حين أخرجوه من بلده؟ فقلت: عيسى ابن مريم أليس هو نبي؟ قال: أشهد أنه رسول الله، قلت فما له حيث أخذه قومه فأرادوا أن يصلبوه أن لا يكون دعا عليهم بأن يهلكهم الله حتى رفعه الله إليه في سماء الدنيا قال: أحسنت أنت حكيم جاء من عند حكيم هذه هدايا أبعث بها معك إلى محمد صلى الله عليه وسلم، وأبعث معك ببدرقة يبدرقونك إلى مأمنك، قال فأهدى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث جواري منهن أم إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وواحدة وهبها رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي جهم بن حذيفة العدوي، وواحدة لحسان بن ثابت، وأرسل إليه بثياب مع طرف من طرفهم. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہرقل کو دعوت اسلام :
30309 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ شرجیل بن مسلم ابو امامہ باہلی ، ہشام بن عاص اموی کی سند سے حدیث مروی ہے کہ ہشام بن عاص (رض) کہتے ہیں میرے ساتھ ایک اور شخص کو روم کے بادشاہ ہرقل کے پاس دعوت اسلام کے لیے بھیجا گیا چنانچہ ہم دمشق جا پہنچے اور جبکہ بن ایھم کے پاس ٹھہرے ہم جبلہ کے پاس داخل ہوئے وہ عالیشان تخت پر بیٹھا ہوا تھا ، جبلہ نے اپنا قاصد ہمارے پاس بھیجا تاکہ ہم اس سے بات کریں ہم نے کہا بخدا ! ہم قاصد سے بات نہیں کریں گے ہمیں تو بادشاہ کے پاس بھیجا گیا ہے ، اگر بادشاہ ہمیں اجازت دے تو ہم بات کریں گے ورنہ ہم قاصد سے بات نہیں کرتے قاصد نے جبکہ کو خبر کردی چنانچہ ہمیں بات کرنے کی اجازت دے دی اور جبلہ نے کہا : بات کرو چنانچہ ہشام بن عاص (رض) نے اس سے بات کی اور اسے اسلام کی دعوت دی جبلہ نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے ہشام (رض) نے کہا : یہ کیسے کپڑے ہیں ؟ میں نے یہ کپڑے پہنے ہیں اور قسم کھائی ہے کہ یہ کپڑے اس وقت تک نہیں اتاروں گا جب تک تمہیں شام سے باہر نہ کر دوں ہم نے کہا : بخدا ! یہ جگہ جہاں تو بیٹھا ہوا ہے ہم اسے تجھ سے چھین لیں گے اور تجھ سے یہ عظیم بادشاہت چھین کر چھوڑیں گے انشاء اللہ ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خبر دی ہے جبلہ بولا : وہ تم نہیں ہو ، وہ لوگ تو ایسے ہوں گے جو دن کو روزہ رکھیں گے اور رات کو قیام کریں گے تمہارے روزے کا کیا حال ہے ؟ ہم نے اسے روزے کے متعلق خبر دی چنانچہ گھبرا کر اس نے منہ بسور لیا جبلہ نے کہا : چلو جاؤ پھر اس نے ہمارے ساتھ ایک قاصد بھیجا جو ہمیں بادشاہ ہرقل کے پاس لے گیا : چنانچہ جب ہم ہرقل کے شہر کے قریب پہنچے تو ہمارے راہبر نے کہا : تمہارے یہ جانور بادشاہ کے شہر میں داخل نہیں ہوں گے اگر تم چاہو ہم تمہیں برذون گھوڑوں اور خچروں پر سوار کرکے لے جاؤ ہم نے کہا : بخدا ! ہم اپنی سواریوں پر سوار ہو کر داخل ہوں گے چنانچہ دربانوں نے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ عرب کے ایلچی نہیں مانتے وہ اپنی سواریوں پر ہی شہر میں داخل ہونا چاہتے ہیں چنانچہ ہم اپنی سواریوں پر ہی داخل ہوئے ہم نے تلواریں لٹکا رکھی تھیں اور ہم نے سواریاں بادشاہ کے محل کے عین سامنے بٹھائیں بادشاہ ہمیں دیکھ رہا تھا ، ہم نے کلمہ طیبہ ” لاالہ الا اللہ “ پڑھا اور پھر نعرہ تکبیر بلند کیا بخدا ! ہماری آواز سے محل لرز اٹھا اور یوں لگتا تھا جیسے وہ پتا ہے جسے ہوا ادھر ادھر پٹخ رہی ہے بادشاہ نے ہمیں پیغام بھیجوایا کہ تم زبردستی اپنے دین کو ہمارے اوپر نہ پیش کرو بادشاہ نے پیغام بھیجوا کر ہمیں اندر داخل ہونے کو کہا : ہم اندر داخل ہوئے بادشاہ عالیشان بچھونے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے پاس اس کے امراء وزراء جمع تھے اس کے پاس موجود ہر چیز سرخ تھی اس نے کپڑے بھی سرخ پہن رکھے تھے ہم اس کے قریب ہوئے وہ ہمیں دیکھ کر ہنسا اور کہا : کیا اچھا ہوگا اگر تم مجھے اپنے مروج طریقے سے سلام کرو بادشاہ کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو فصیح عربی میں گفتگو کررہا تھا اور بہت باتیں کرتا تھا ہم نے کہا : ہمارا طریقہ سلام وہ ہمارے درمیان مروجہ ہے وہ تیرے لیے حلال نہیں اور جو تمہارا مروجہ طریقہ سلام ہے وہ ہمارے لیے حلال نہیں پوچھا : تمہارا سلام کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم کہا کرتے ہیں : السلام علیکم “ بادشاہ نے کہا : تم اپنے بادشاہ کو کیسے سلام کرتے ہو ؟ ہم نے کہا : ہم اپنے بادشاہ کو بھی یہ سلام کرتے ہیں کہا : بادشاہ کیسے جواب دیتا ہے ؟ ہم نے کہا : وہ جواب میں یہی کلمات دہراتا ہے بادشاہ نے کہا : تمہارا عظیم کلام کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ” لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر “ جب ہم نے یہ کلمہ پڑھا ہرقل بولا : بخدا ! ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کمرہ کپکپا رہا ہے حتی کہ بادشاہ نے چھت کی طرف سر اٹھایا پھر کہا : یہ کلمہ تم جونہی پڑھتے ہو کمرہ کپکپانے لگتا ہے کیا اس کلمے سے تمہارے کمرے بھی کپکپاتے تھے ؟ ہم نے کہا : ہم نے اپنے کمروں میں ایسا ہوتے نہیں دیکھا ہمیں اس کا مشاہدہ صرف تمہارے پاس ہو رہا ہے بادشاہ نے کہا : میں چاہتا ہوں تم یہ کلمہ پڑھتے رہو اور کمرہ جھولتا رہے اور اس سے میں اپنی نصف بادشاہت سے نکل جاؤں ہم نے کہا : وہ کیوں ؟ چونکہ یہ ایسا ہونے سے عین ممکن ہے کہ یہ معاملہ سزاوار نبوت نہ ہو اور تم لوگوں کی جادو گری ہو ۔ پھر ہرقل نے ہم سے مختلف سوالات کیے ہم نے ترکی بہ ترکی ہر ہر سوال کا جواب دیا ۔ پھر ہرقل نے کہا : تمہاری نماز اور روزہ کیا ہے ؟ ہم نے اس کا جواب بھی دیا ، پھر ہرقل نے کہا : اٹھ جاؤ ہم اٹھ کر چل دیئے پھر ہمیں عالیشان مکان میں ٹھہرایا گیا ، ہم اس مکان میں تین دن تک رہے پھر ہمیں اپنے بلایا اور اپنی بات دہرائی ہم نے جواب دہرا دیا ، پھر ہرقل نے مربع شکل کی ایک صندوق نما چیز منگوائی اس میں سونے کے چھوٹے چھوٹے گھروندے رکھے ہوئے تھے اور ان میں دروازے بھی تھے بادشاہ نے ایک دروازہ کھولا اور پھر اس سے ریشم کا ایک دیوان نکالا جو رنگت میں سیاہی مائل تھا اس میں تصویر بنی ہوئی تھی تصویر ایک ایسے شخص کی بنی ہوئی تھی کہ اس کی آنکھیں بڑی بڑی سرینیں موٹی لمبی گردن اس کی داڑھی نہیں تھی اس کے گیسو خدائی تخلیق کا شاہکار تھے بادشاہ نے کہا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں بولا : یہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ پھر بادشاہ نے ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے ریشم کا پرت نکالا یہ بھی سیاہی مائل ریشم کا پرت نکالا اس میں ایک خوبصورت سفید رنگت کی تصویر تھی بخدا ! یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر تھی ہم یہ تصویر دیکھ کر رو دئیے بادشاہ پہلے کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا اور کہا : بخدا ! کیا یہ وہی شخص ہے ؟ ہم نے کہا : جی ہاں یہ ہمارے نبی آخر الزمان ہیں گویا ہم آپ کی طرف دیکھ رہے تھے تھوڑی دیر بادشاہ خاموش رہا اور تصویر کی طرف دیکھتا رہا پھر بولا یہ آخری گھرروندہ ہے البتہ میں نے جلدی کردی تاکہ میں تمہارا امتحان لے سکوں پھر ایک اور گھروندے کا دروازہ کھولا : اس سے ریشم کا پرت نکالا اس میں بھی کسی شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی یوں لگتا تھا کہ وہ شخص گندم گوں ہے اس کے بال سیدھے نسبتا گھنگھریالے تھے ، آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تیز نظر والا چہرے پر ترشی کے آثار نمایاں ، دانت باہم جڑے ہوئے ہونٹ سکڑے ہوئے جیسے یہ شخص غصہ میں ہو بادشاہ نے کہا : کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں کہا : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس تصویر کے پہلو میں ایک دوسری تصویر بھی تھی جو پہلی تصویر کے مشابہ تھی البتہ اس کے سر پر تیل لگا ہوا تھا پیشانی کشادہ آنکھوں کے درمیان کا حصہ نمایاں تھا کہا کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں کہا یہ ہارون بن عمران (علیہ السلام) ہیں۔ بادشاہ نے پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سفید ریشم کا پرت نکالا اس میں ایک تصویر بنی ہوئی تھی جس شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی وہ گندم گوں تھا بال سیدھے میانہ قد یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ شخص غصہ میں ہو ، بادشاہ نے کہا : کیا تم اسے جانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں بولا : یہ حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں ، بادشاہ نے پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس گھروندے سے سفید ریشم کا پرت نکالا اس میں بھی ایک شخص کی تصویر تھی اس کی رنگت سرخی مائل سفیدی تھی ستوان ناک چھوئے رخسار اور چہرہ خوبصورت کہا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں کہا یہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سفید ریشم کا پرت نکالا اس میں ایک تصویر تھی جو اسحاق (علیہ السلام) کی تصویر کے مشابہ تھی البتہ اس کے نیچے ہونٹ پر تل تھا کہا کیا تم اسے جانتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں کہا یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سیاہی مائل ریشم کا پرت نکالا اس میں بھی ایک شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی جو خوبصورت چہرے والا اور سفید رنگت والا تھا ستواں ناک خوبصورت قدوقامت اس کے چہرے سے نور کے تارے بٹ رہے تھے اس کے چہرے سے خشوع ٹپک رہا تھا کہا کیا تم اسے پہچانتے ہو ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جو تمہارے نبی کے جدامجد ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سفید ریشم کا پرت نکالا اس میں بھی ایک تصویر بنی ہوئی تھی جو آدم (علیہ السلام) کی تصویر کے مشابہ تھی البتہ اس کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہا تھا ، کہا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں ، پھر بادشاہ نے ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سفید ریشم کا پرت نکالا اس میں بھی ایک شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی جو دیکھنے سے لگتا تھا کہ اس کی رنگت سرخ پنڈلیاں چھوٹی آنکھیں قدرے چندھیائی ہوئی پیٹ نسبتا بڑا میانہ قد اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں پھر اس نے ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سفید ریشم کا ایک پرت نکالا اس پر بھی کسی شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی جو بڑی سرینوں والی لمبی ٹانگیں اور گھوڑے پر سوار تھا کہا کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس سے سیاہی مائل ریشم کا پرت نکالا اس پر بھی کسی شخص کی تصویر بنی ہوئی تھی یہ کوئی نوجوان سفید فام شخص تھا داڑھی سیاہ جسم پر بال غیر معمولی تھے آنکھیں خوبصورت چہرہ بھی خوبصورت بادشاہ نے کہا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ہم نے تصویر میں دیکھ لینے کے بعد کہا یہ تصویریں تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہا کہ واقعی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شکلیں ایسی ہی تھیں چونکہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر انہی کی ہمشکل تھی ؟ بادشاہ نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ انھیں انبیاء کرام (علیہ السلام) جو ان کی اولاد میں ہوں گے دکھادے اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ تصویریں اتاری تھیں یہ تصویریں آدم (علیہ السلام) کے خزانے میں تھیں اور یہ مغرب شمس میں محفوظ تھیں وہاں سے ذوالقرنین نکال لایا اور اس نے دانیال (علیہ السلام) کو دیں ، پھر کہا : بخدا ! میں اس بات پر خوش ہوں کہ اپنی بادشاہت سے دستبردار ہوجاؤں اور تمہارے امیر کا ادنی غلام بن جاؤں پھر اسی کی غلامی میں مجھے موت آجائے پھر بادشاہ نے ہمیں قیمتی قیمتی تحائف دے کر رخصت کیا پھر ہم سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا انھیں سنایا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سن کر رو دیئے اور کہا : ہرقل بچارہ مسکین ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے بھلائی چاہتا وہ ایسا کر گزرتا پھر فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے کہ نصرانی اور یہودی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شکل مبارک کو اچھی طرح سے پہچانتے ہیں۔ (رواہ البیہقی فی الدلائل قال ابن کثیر ھذا حدیث جید الاسناد ورجالہ ثقات)
30309- "مسند الصديق" عن شرحبيل بن مسلم عن أبي أمامة الباهلي عن هشام بن العاص الأموي قال: بعثت أنا ورجل آخر إلى هرقل صاحب الروم ندعوه إلى الإسلام فخرجنا حتى قدمنا الغوطة يعني دمشق، فنزلنا على جبلة بن الأيهم الغساني فدخلنا عليه فإذا هو على سرير له، فأرسل إلينا برسول نكلمه فقلنا: والله لا نكلم رسولا إنما بعثنا إلى الملك، فإن أذن لنا كلمناه وإلا لم نكلم الرسول، فرجع إليه فأخبره بذلك، فقال: فأذن لنا فقال: تكلموا فكلمه هشام بن العاص ودعاه إلى الإسلام وإذا عليه ثياب سواد فقال له هشام: وما هذه التي عليك؟ فقال: لبستها وحلفت أن لا أنزعها حتى أخرجكم من الشام، قلنا ومجلسك هذا فوالله لنأخذنه منك ولنأخذن منك الملك الأعظم إن شاء الله، أخبرنا بذلك نبينا محمد صلى الله عليه وآله وأصحابه وسلم قال: لستم بهم بل هم قوم يصومون بالنهار ويقومون بالليل فكيف صومكم؟ فأخبرناه فملئ وجهه سوادا فقال: قوموا وبعث معنا رسولا إلى الملك فخرجنا حتى إذا كنا قريبا من المدينة قال لنا الذي معنا إن دوابكم هذه لا تدخل مدينة الملك، فإن شئتم جملناكم على براذين وبغال؟ قلنا: والله لا ندخل إلا عليها فأرسلوا إلى الملك إنهم يأبون فدخلنا على رواحلنا متقلدين بسيوفنا حتى انتهينا إلى غرفة له فأنخنا في أصلها وهو ينظر إلينا، فقلنا: لا إله إلا الله والله أكبر، والله لقد تنفضت الغرفة حتى صارت كأنها عذق تصفقه الرياح، فأرسل إلينا ليس لكم أن تجهروا علينا بدينكم، وأرسل إلينا أن ادخلوا فدخلنا عليه وهو على فراش له وعنده بطارقة من الروم، وكل شيء في مجلسه أحمر وما حوله حمرة وعليه ثياب من الحمرة، فدنونا منه فضحك وقال: ما كان عليكم لو حييتموني بتحيتكم فيما بينكم، وإذا عنده رجل فصيح بالعربية كثير الكلام، فقلنا: إن تحيتنا فيما بيننا لا تحل لك وتحيتك التي تحيي بها لا تحل لنا أن نحييك بها قال: كيف تحيتكم؟ قلنا: السلام عليكم قال: كيف تحيون مليككم؟ قلنا: بها قال: وكيف يرد عليكم؟ قلنا بها، قال: فما أعظم كلامكم؟ قلنا: لا إله إلا الله والله أكبر فلما تكلمنا قال: فوالله يعلم لقد تنفضت الغرفة حتى رفع رأسه إليها قال: فهذه الكلمة التي قلتموها حيث تنفضت الغرفة كلما قلتموها في بيوتكم تنفضت بيوتكم عليكم؟ قلنا لا رأيناها فعلت هكذا قط إلا عندك قال: لوددت أنكم كلما قلتم تنفض كل شيء عليكم، وإني خرجت من نصف ملكي، قلنا: لم؟ قال: لأنه كان أيسر لشأنها وأجدر أن لا يكون من أمر النبوة وأن يكون من حيل الناس، ثم سألنا عما أراد فأخبرناه ثم قال: كيف صلاتكم وصومكم؟ فأخبرناه فقال: قوموا فقمنا وأنزلنا بمنزل حسن ومنزل كبير، فأقمنا ثلاثا، إلينا فدخلنا عليه فاستعاد قولنا فأعدناه، ثم دعا بشيء كهيئة الربعة العظيمة مذهبة فيها بيوت صغار عليها أبواب ففتح بيتا وقفلا فاستخرج حريرة سوداء فنشرها فإذا فيها صورة، وإذا فيها رجل ضخم العينين عظيم الأليتين لم أر مثل طول عنقه، وإذا ليست له لحية وإذا ضفيرتان أحسن ما خلق الله قال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا آدم عليه السلام، فإذا هو أكثر الناس شعرا، ثم فتح لنا بابا آخر فاستخرج منه حريرة سوداء، وإذا فيها صورة بيضاء وإذا له شعر كشعر القطط أحمر العينين ضخم الهامة حسن اللحية فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا نوح عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة سوداء، فإذا فيها رجل شديد البياض حسن العينين صلت الجبين طويل الخد أبيض اللحية كأنه يبتسم فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا إبراهيم عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة سوداء، فإذا فيها صورة بيضاء فإذا والله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: نعم محمد رسول الله قال: وبكينا، والله يعلم أنه قام قائما ثم جلس وقال: والله إنه لهو؟ قلنا: نعم إنه لهو كأنما ننظر إليه، فأمسك ساعة ينظر إليها ثم قال: أما إنه كان آخر البيوت ولكني عجلته لكم لأنظر ما عندكم ثم فتح بابا آخر استخرج منها حريرة سوداء وإذا فيها صورة أدماء شحباء وإذا رجل جعد قطط غائر العينين حديد النظر عابسا متراكب الأسنان مقلص الشفة كأنه غضبان فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا موسى عليه السلام وإلى جنبه صورة تشبهه إلا أنه مدهان الرأس عريض الجبين في عينيه قبل فقال: هل
تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا هارون بن عمران، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل أدم سبط ربعة كأنه غضبان فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا لوط عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة، فإذا فيها صورة رجل أبيض مشرب بحمرة أقنى الأنف خفيف العارضين حسن الوجه فقال: تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا إسحاق عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة تشبه صورة إسحاق إلا أنه على شفته السفلى خال فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا يعقوب عليه السلام ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة سوداء فإذا فيها صورة رجل أبيض حسن الوجه أقنى الأنف حسن القامة يعلو وجهه نور يعرف في وجهه الخشوع يضرب إلى الحمرة فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا إسماعيل جد نبيكم عليهما السلام، ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء، فإذا هي صورة كأنها صورة آدم كأن وجهه الشمس، فقال: هل تعرفون هذا؟ قال: لا قال: يوسف عليه السلام، ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل أحمر حمش الساقين أخفش العينين ضخم البطن ربعة متقلدا سيفا فتح بابا أخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل ضخم الأليتين طويل الرجلين راكب فرسا فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا سليمان بن داود عليهما السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة سوداء فإذا فيها صورة بيضاء، وإذا رجل شاب شديد سواد اللحية كثير الشعر حسن العينين حسن الوجه فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا عيسى ابن مريم عليه السلام، قلنا: من أين لك هذه الصور لأنا نعلم أنها على ما صورت عليها الأنبياء عليهم السلام لأنا رأينا صورة نبينا عليه السلام مثله؟ فقال: إن آدم عليه السلام سأل ربه أن يريه الأنبياء من ولده فأنزل الله عليه صورهم وكان في خزانة آدم عليه السلام عند مغرب الشمس فاستخرجها ذو القرنين من مغرب الشمس فدفعها إلى دانيال ثم قال: أما والله إن نفسي طابت بخروجي من ملكي، وإن كنت عبدا لأميركم ملكه حتى أموت، ثم أجازنا فأحسن جائزتنا وسرحنا، فلما أتينا أبا بكر الصديق رضي الله عنه حدثناه مما رأينا وما قال لنا وما أجازنا، فبكى أبو بكر الصديق رضي الله عنه وقال: مسكين لو أراد الله عز وجل به خيرا لفعل ثم قال أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أنهم واليهود يجدون نعت محمد صلى الله عليه وسلم عندهم. "هق" في الدلائل قال ابن كثير: هذا حديث جيد الإسناد ورجاله ثقات.
تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا هارون بن عمران، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل أدم سبط ربعة كأنه غضبان فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا لوط عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة، فإذا فيها صورة رجل أبيض مشرب بحمرة أقنى الأنف خفيف العارضين حسن الوجه فقال: تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا إسحاق عليه السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة تشبه صورة إسحاق إلا أنه على شفته السفلى خال فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا يعقوب عليه السلام ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة سوداء فإذا فيها صورة رجل أبيض حسن الوجه أقنى الأنف حسن القامة يعلو وجهه نور يعرف في وجهه الخشوع يضرب إلى الحمرة فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا إسماعيل جد نبيكم عليهما السلام، ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء، فإذا هي صورة كأنها صورة آدم كأن وجهه الشمس، فقال: هل تعرفون هذا؟ قال: لا قال: يوسف عليه السلام، ثم فتح بابا آخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل أحمر حمش الساقين أخفش العينين ضخم البطن ربعة متقلدا سيفا فتح بابا أخر، فاستخرج منه حريرة بيضاء فإذا فيها صورة رجل ضخم الأليتين طويل الرجلين راكب فرسا فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا سليمان بن داود عليهما السلام، ثم فتح بابا آخر فاستخرج منه حريرة سوداء فإذا فيها صورة بيضاء، وإذا رجل شاب شديد سواد اللحية كثير الشعر حسن العينين حسن الوجه فقال: هل تعرفون هذا؟ قلنا: لا قال: هذا عيسى ابن مريم عليه السلام، قلنا: من أين لك هذه الصور لأنا نعلم أنها على ما صورت عليها الأنبياء عليهم السلام لأنا رأينا صورة نبينا عليه السلام مثله؟ فقال: إن آدم عليه السلام سأل ربه أن يريه الأنبياء من ولده فأنزل الله عليه صورهم وكان في خزانة آدم عليه السلام عند مغرب الشمس فاستخرجها ذو القرنين من مغرب الشمس فدفعها إلى دانيال ثم قال: أما والله إن نفسي طابت بخروجي من ملكي، وإن كنت عبدا لأميركم ملكه حتى أموت، ثم أجازنا فأحسن جائزتنا وسرحنا، فلما أتينا أبا بكر الصديق رضي الله عنه حدثناه مما رأينا وما قال لنا وما أجازنا، فبكى أبو بكر الصديق رضي الله عنه وقال: مسكين لو أراد الله عز وجل به خيرا لفعل ثم قال أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أنهم واليهود يجدون نعت محمد صلى الله عليه وسلم عندهم. "هق" في الدلائل قال ابن كثير: هذا حديث جيد الإسناد ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30310 ۔۔۔ ابو غدیرہ عبدالرحمن بن خصفۃ ضبی کی روایت ہے کہ ہم بنی ضبہ کے وفد کے ساتھ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) میرے پاس سے گزرے میں نے چھلانگ لگائی اور ان کے پیچھے سوار ہوگیا آپ (رض) نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ میں نے جواب دیا ضبی ہوں فرمایا یہ درشتی کیسی ؟ میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین میری درشتی دشمن کے لیے ہے فرمایا : اور دوست پر بھی ہے فرمایا : اپنی حاجت بیان کرو پھر میری حاجت پوری کی اور فرمایا : اب میری سواری کی پیٹھ فارغ کر دو ۔ (رواہ ابن سعد والحاکم فی الکنی)
30310- عن أبي غديرة عبد الرحمن بن خصفة الضبي قال: وفدنا إلى عمر بن الخطاب في وفد بني ضبة فقضوا حوائجهم غيري، فمر بي عمر فوثبت فإذا أنا خلف عمر على راحلته فقال: من الرجل؟ قلت ضبي قال: خشن؟ قلت: على العدو يا أمير المؤمنين، قال: وعلى الصديق فقال: هات حاجتك فقضى حاجتي ثم قال: فرغ لنا ظهر راحلتنا. ابن سعد والحاكم في الكنى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30311 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے میرے ماموں جد بن قیس (رض) نے ستر آدمیوں کے ہمراہ اپنے ساتھ سوار کیا یہ انصار کی ایک جماعت تھی اور ان لوگوں کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس (رض) بھی تھے آپ نے فرمایا : اے چچا ! مجھ سے اپنے ماموں کے متعلق عہد لے لیں، چنانچہ انصار کے ان ستر لوگوں نے کہا : ہم سے اپنے رب کے لیے کسی چیز کا سوال کریں اور اپنے لیے بھی جو چاہیں ہم سے سوال کریں آپ نے فرمایا : میں اپنے رب کے لیے تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہی ٹھہراؤ اور جس چیز کا تم سے میں اپنے لیے سوال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس چیز سے تم رکتے ہو اس سے مجھے بھی روکتے رہو وفد نے کہا : جب ہم ایسا کریں گے ہمارے لیے کیا ہوگا آپ نے فرمایا : تمہارے لیے جنت ہوگئی ۔ (رواہ ابو نعیم)
30311- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: حملني خالي جد بن قيس في السبعين راكبا الذين وفدوا على النبي صلى الله عليه وسلم من الأنصار فخرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه عمه العباس فقال: يا عم خذ لي على أخوالك فقال له السبعون: سلنا لربك وسل لنفسك ما شئت قال: أما الذي أسألكم لربي فتعبدونه ولا تشركون به شيئا، وأما الذي أسألكم لنفسي فتمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأموالكم، قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال: الجنة. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30312 ۔۔۔ ” مسند جری بن عمرو عذری “ جری بن عمرو عذری کی روایت ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے وثیقہ لکھا کہ تمہارے اوپر ٹیکس ہوگا اور نہ ہی جلاوطنی ۔ (رواہ ابن نعیم)
30312- "مسند جرى بن عمرو العذري" عن جرى بن عمرو العذري أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فكتب له أن ليس عليكم عشر ولا حشر أبو نعيم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30313 ۔۔۔ ” مسند جزء بن حدر جان بن مالک “ جزء (رض) کی روایت ہے کہ میرا بھائی قداد بن حدر جان بن مالک یمن سے ایک وفد کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مقام قنونی سے قبیلہ ازد کی تولیوں کے ساتھ چلا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اور اپنے مطیعین کے ایمان کی خبر دیں ان میں سے اکثر ان کے خاندان کے لوگ تھے ان کی تعداد چھ سو گھرانوں کے لگ بھگ تھی ، چنانچہ قداد اپنے والد جدر جان کا خط لے کر محو سفر ہوگیا راستے میں قداد کی ملاقات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی لشکر سے ہوئی لشکر کے سواروں نے قداد پر حملہ کردیا قداد نے بارہا کہا کہ میں مؤمن ہوں لیکن لشکر نے اس کی بات قبول نہ کی اور اسے قتل کردیا ہمیں اس کی خبر ہوئی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا اور آپ کو ماجرا سنایا اور اپنے بھائی کے قصاص کا مطالبہ کیا اسی موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی ” یا ایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ الایۃ اے ایمان والو ! جب تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلو تو تحقیق کرلیا کرو ۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے میرے بھائی کی دیت میں ایک ہزار دینار دیئے اور میرے لیے ایک سو اونٹوں کا حکم دیا پھر فرمایا : میں تمہیں ایک سو اونٹ اور دیتا لیکن ہم نے اور لشکر بھی بھیجنے ہیں یوں وہم ہوجائے گا کہ مسلمان کی دیت دگنی ہے چنانچہ میں نے سرتسلیم خم کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مسلمانوں کے ایک سریہ پر امیر مقرر کیا اور میں نے قبیلہ طی کی ایک بستی پر حملہ کیا وہاں سے مجھے بہت سارا مال غنیمت میں ملا اور میں اپنے ساتھ چالیس عورتیں بھی قید کر کے لے آیا ان عورتوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل سے اسلام قبول کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شادیاں کرا دیں ۔ (رواہ ابونعیم)
30313- "مسند جزء بن الحدرجان بن مالك" قال: وفد أخي قداد بن الحدرجان بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم من اليمن من موضع يقال له القنونى بسروات الأزد بإيمانه وإيمان من أعطى الطاعة من أهل بيته وهم إذ ذاك ستمائة بيت ممن أطاع الحدرجان وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم فخرج قداد مهاجرا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم برسالة أبيه الحدرجان وإيمانهم، فلقيت في بعض الطريق سرية النبي صلى الله عليه وسلم فقتلت قدادا فقال قداد: أنا مؤمن فلم يقبلوا وقتلوه في جوف الليل، فبلغنا ذلك وخرجت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته وطلبت ثأري فنزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا} الآية فأعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ألف دينار دية أخي وأمر لي بمائة ناقة حمراء وقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يمنعني أن أصير لك المائة الناقة دية أخرى إلا أني لا أتعب سرية للمسلمين من بعد فتكون دية المسلم ديتين فرضيت وسلمت وعقد لي رسول الله صلى الله عليه وسلم على سرية من سرايا المسلمين فخرجت إلى حي حاتم طيء وغنمت مغنما كثيرا وأسرت أربعين امرأة من حي حاتم، فأتيت بالنسوة وهداهن الله للإسلام وزوجهن رسول الله صلى الله عليه وسلم. أبو نعيم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30314 ۔۔۔ ” مسند جنادہ بن زید حارثی “۔ سودہ بنت متلمس اپنی دادی ام متلمس بنت جنادہ بن زید سے روایت نقل کرتی ہیں کہ ان کے والد جنادہ بن زید کا بیان ہے کہ میں ایک وفد لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بحرین سے اپنی قوم کا وفد لے کر حاضر ہوا ہوں آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمارا دشمن مضر اور ربیعہ کے خلاف ہماری مدد کرے تاوقتیکہ وہ اسلام قبول کرلیں آپ نے دعا فرمائی اور ایک ایک وثیقہ لکھا وہ وثیقہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ (رواہ ابونعیم)
30314- "مسند جنادة بن زيد الحارثي" عن سودة بنت المتلمس عن جدتها أم المتلمس بنت جنادة بن زيد قال: وفدت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: " يا رسول الله إني وافد قومي من بلحارث من أهل البحرين فادع الله أن يعيننا على عدونا من ربيعة ومضر حتى يسلموا، فدعا وكتب بذلك كتابا وهو عندنا". أبو نعيم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفود کا بیان :
30315 ۔۔۔ ” مسند جندب بن مکیث بن جراد “ جندب بن مکیث کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی وفد حاضر ہوتا آپ اچھے کپڑے زیب تن کرتے اور اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو بھی اچھے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ، چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ کی خدمت میں کندہ کا وفد حاضر ہوا آپ نے یمانی جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا جبکہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر (رض) نے بھی ایسے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ (رواہ الواقدی وابو نعیم)
30315- "مسند جندب بن مكيث بن جراد" عن جندب بن مكيث أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قدم عليه الوفد لبس أحسن ثيابه وأمر أصحابه بذلك فرأيته وفد عليه وفد كندة وعليه حلة يمانية وعلى أبي بكر وعمر مثله. الواقدي وأبو نعيم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفد بنی تمیم :
30316 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ بنی تمیم کے (سرکردہ) لوگ اپنے ایک شاعر اور ایک خطیب کو لے کر رسول اللہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور باہر کھڑے ہو کر آوازیں لگانے لگے کہ اے محمد ! باہر نکلو اور ہمارے پاس آؤ ہماری مدح باعث زینت ہے اور ہمیں گالی دینا سراسر عیب و رسوائی ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کا شور سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا : یہ تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان ہے بتاؤ تم کیا چاہتے ہو شرکائے وفد نے کہا : ہم بنی تمیم کے سرکردہ لوگ ہیں ہم تمہاریے پاس اپنا ایک شاعر اور ایک خطیب لائے ہیں ہم تمہارے ساتھ مشاعرہ چاہتے ہیں اور تمہارے اوپر اپنا فخر قائم رکھنا چاہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں شعر گوئی کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی ہمیں فخر کرنے کا حکم دیا گیا البتہ اپنے شاعر کو سامنے لاؤ چنانچہ اقرع بن حابس نے ایک نوجوان سے کہا : اے فلاں کھڑا ہوجا اور اپنے اور اپنی قوم کے فضائل بیان کرو نوجوان نے اٹھ کر کہنا شروع کیا ، تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی مخلوق پر فضیلت دی ہمیں اموال کثرت سے عطا کیے ہم جو چاہیں ان میں کرتے ہیں ہم زمین پر رہنے والوں میں سب سے افضل ہیں اور تعداد میں زیادہ ہیں ہمارے پاس اسلحہ کی بھی بہتات ہے جو ہماری فضیلت اور برتری کا انکار کرے وہ ہمارے دعوی سے اچھا دعوی لائے اور ہمارے کام سے اچھا کام کرکے دکھائے ۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس انصاری (رض) سے فرمایا : اٹھو اور اس کا جواب دو ثابت بن قیس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاص خطیب تھے ثابت (رض) نے اٹھ کر کہنا شروع کیا ” تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس کی میں حمد کرتا ہوں اور اس سے مدد مانگتا ہوں اس پر ایمان رکھتا ہوں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر ثابت بن قیس (رض) نے بنی نمر کے مہاجرین کو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت قرار دیا اور لوگوں میں سب سے زیادہ دانشمند قرار دیا پھر کہا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انصار اور وزراء بنایا اور اپنے دین کو عزت بخشی ، ہم اس وقت تک لوگوں سے چنگ کرتے رہیں گے جب تک لوگ لا الاالہ اللہ کا اقرار نہ کریں جس نے بھی اس کلمے کا اقرار کیا اس نے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی جس نے انکار کیا ہم اس سے جنگ کریں گے یوں اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں اس کی شان ہمارے سامنے ہیچ ہے بس میں یہی بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ، پھر زبرقان بن بدر نے ایک شخص سے کہا : اے فلاں اٹھو اور اشعار کہو جن میں اپنی اور اپنی قوم کی برتری کا بیان ہو ، چنانچہ اس نے یہ اشعار کہے ۔ نحن الکرام فلا حی یعادلنا نحن الرؤوس وفینا یقسم الربع ونطعم والناس عندا المحل کلھم من السیف اذا لم یؤنس القزع اذا ابینا فلا یابی لنا احد انا کذالک عند الفخر نرتفع : ہم لطف و کرم کے خوگر لوگ ہیں کوئی قبیلہ نہیں جو شرافت و عظمت میں ہمارا ہمسر ہو ہم سردار ہیں اور ہماری سرداری ہمیں میں تقسیم ہوتی ہے جب قحط پڑتا ہے اور آسمان پر بادلوں کا نام ونشان نہیں ہوتا تب ہم ہی سبھی لوگوں کو کھانا کھلاتا ہیں جب ہم انکار کردیں تو اس کا ہمیں حق حاصل ہے جبکہ کوئی اور ہمارے لیے انکار نہیں کرسکتا ہمیں جب ایسا فخر حاصل ہے تو اسی فخر سے ہمارا مقام بلند ہوا ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : حسان بن ثابت کو بلا لاؤ چنانچہ ایک صحابی گئے اور حضرت بن ثابت (رض) سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلا رہے ہیں ، حسان (رض) نے کہا : میں ابھی ابھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ کو مجھ سے کیا کام پڑگیا قاصد نے کہا : بنو تمیم اپنے ایک شاعر اور ایک خطیب کو لائے ہیں ان کے خطیب نے تقریر کی اور اس کے جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیس بن ثابت کو کھڑا کیا انھوں نے ترکی بہ ترکی جواب دے دیا ۔ پھر بنو تمیم کے شاعر نے اشعار کہے اب ان کو جواب دینے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں کو بلایا ہے ، حسان (رض) نے کہا : اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ تم میرے پاس یہ بڑا اونٹ بھیجو جب حسان (رض) حاضر خدمت ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حسان کھڑے ہوجاؤ اور اس شاعر کو جواب دو عرض کی : یا رسول اللہ اسے حکم دیں کہ مجھے اپنا کلام سنائے چنانچہ تمیمی شاعر نے اشعار دوبارہ کہے پھر حسان (رض) نے کہا اب بھیجے پہ ہاتھ رکھ کر مجھے بھی سنو ۔ اور یہ اشعار کہے : نصرنا رسول اللہ والدین عنوۃ علی رغم باد من معد و حاضر بضرب کما یزاع المحاض مشاشہ وطعن کا فواہ اللقاح الصوادر وسل احدا یوم استقلت شعابہ بضرب لنا مثل اللیوث الخوادر السنا نخوض الموت فی حومۃ الوغی اذا اطاب وردالموت بین العساکر ونضرب ھام الدارعین وننتمنی السی خسسب من جذم غسان قاھر واحیاء نا من خیر من وطی الحصی وامواتنا من خیر اھل المقابر فلولا حیاء اللہ قلنا تکرما علی الناس بالخیفین ھل من منافر : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین حق کی بھر پور مدد کی ہماری مدد کا جادو دشمنوں کے سر چڑھ کر بولا باوجودیکہ معد کے دیہاتی اور شہری ذلیل ورسوا ہوئے دشمن پر ہماری کاری ضرب ایسی ہوتی ہے جیسے دردزہ کا متفرق کردہ پیشاب اور ہمارئے دیئے ہوئے زخم ایسے ہوتے ہیں جیسے پیاسی اونٹنیوں کے کھلے ہوئے منہ جو گھاٹ پر وارد ہونا چاہتی ہوں یقین نہیں آتا تو احد سے جا کر پوچھ لو اس کی ہر ہر گھاٹی ہمارے استقلال کا ثبوت دیگی وہاں ہم نے ایسی کاری ضربیں لگائیں ہیں جیسے کھ چاروں میں چھپے ہوئے شیروں کے حملے ۔ کیا ہم گھمسان کی جنگ میں موت کو گلے سے نہیں لگا لیتے جب موت لشکروں کے درمیان خوشی سے گھوم رہی ہوتی ہے ہم زرہ پوشوں کے سر کچل دیتے ہیں اور پھر تمام تر شرافت اور فضیلت ہماری ملکیت بن جاتی ہے زمین پر چلنے والوں میں سب سے زیادہ ہماری بستیاں اور ہمارے قبیلے افضل واعلی ہیں اور ہمارے مردے قبروں میں پڑے ہوئے سب مردوں سے افضل ہیں اگر مجھے رب تعالیٰ سے حیاء نہ آرہی ہوتی میں تمہیں بتا دیتا کہ لوگوں پر ہمیں کتنی بڑی فضیلت حاصل ہے اگر کسی کو انکار ہے تو وہ سامنے آئے ۔ چنانچہ حضرت حسان بن ثابت (رض) کے مسکت اشعار سن کر اقرع بن حابس کھڑا ہوا اور کہا : اے محمد ! میں ایک ایسے کام کے لیے آیا ہوں جس کے لیے یہ لوگ نہیں آئے میں اشعار کہتا ہوں تم انھیں سنو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو چنانچہ اقرع نے یہ اشعار کہے : اتیناک کی ما یعرف الناس فضلنا اذا اختلفوا اعنداد کار المکارم وانا رؤوس الناس من کل معشر : وان لیس فی ارض الحجاز کدارم وان لنا المرباع فی کل غارۃ تکون بنجد او بارض التھائم : ۔ ترجمہ : ۔۔۔ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ لوگوں کو ہماری برتری کا علم ہوجائے خصوصا اس وقت جب لوگ شرافتوں کے تذکرہ میں اختلاف کر رہے ہوں ہم نہ صرف سرزمین حجاز بلکہ ساری دنیا کے لوگوں کے سردار ہیں ہمارے پاس سرزمین نجد وتہامہ میں پائی جانے والی تیز رفتار اونٹنیاں ہیں جنھوں نے ابھی تک صرف ایک ہی اگر بچہ جنم دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان (رض) سے فرمایا : اے حسان اسے جواب دو حضرت حسان (رض) جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : بنودارم لا تفخروا ان فخرکم یعودو بالا بعد ذکر المکارم ھبلتم علینا نفخرون وانتم لنا خول ما بین قن و خادم : بنو دار ہمارے اوپر فخر نہیں جتلا سکتے چونکہ تمہارا فخر تمہارے لیے وبال بن جائے گا بعد ازیں کہ تم مکارم کا ذکر کرچکے ہیں تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم ہمارے اوپر فخر جتلا رہے ہو حالانکہ تم ہمارے غلام ہو تم میں سے بعض غلام ہیں اور بعض خادم ہیں۔ یہ شعر کہنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی دارم کے بھائی تم غنی ہو اگر تمہارے فضائل گنوائے جائیں تم دیکھو گے کہ لوگ انھیں بھول چکے ہیں یوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ بات بنی تمیم کے لیے حسان (رض) کے شعر سے زیادہ سخت واقع ہوئی پھر حسان (رض) دوبارہ اشعار کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : و افضل مانلتم من الفضل والعلی ردافتنا من بعد ذکر المکارم فان کنتم جئتم لحقن دمائکم واموالکم ان تقسموا فی الماقسم فلا تجعلوا اللہ ندا واسلموا ولا تفخروا عند انبی بدارم والا ورب البیت مالت اکفنا علی راسکم بالمر ھفات الصوارم تم نے جو بڑی بڑی برتریاں اور بلندیاں حاصل کر رکھی ہیں وہ مکارم کے تذکرہ کے بعد ہمارے پ چھوڑے میں پڑی ہیں ، اگر تم اپنی جانوں اور اموال کو محفوظ بنانے آئے ہو کہ وہ غنیمت میں تقسیم ہونے سے بچے رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور اسلام قبول کرلو اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دارم کا نام لے کر فخر مت کرو ، ورنہ رب کعبہ کی قسم ہمارے ہاتھ تمہارے سروں پر ہوں گے ۔ اور ہماری کوندتی ہوئی تلواریں تمہاری کھوپڑیاں کچل رہی ہوں گی ۔ یہ اشعار سن کر اقرع بن حابس کھڑا ہوا اور کہا : اے لوگو ! مجھے نہیں معلوم یہ کیا مہمہ ہے ہمارے خطیب نے تقریر کی لیکن ان کے خطیب کی آواز بلند تھی اور کیا خوبصورت تقریر کی ہے ہمارے شاعر نے اپنا کلام پیش کیا لیکن ان کے شاعر کا کلام کیا خوب تھا اور اس کی آواز کتنی زبردست تھی پھر اقرع بن حابس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تبارک وتعالیٰ کے رسول ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے قبل ازیں جو کچھ کہا ہے وہ تمہارے لیے باعث ضرر نہیں ۔ (رواہ الرویانی وابن مندہ وابو نعیم وقال : غریب تفرد بہ المعلی بن عبدالرحمن بن الحکیم الواسطی وقال الدارقطنی ھو کذاب ورواہ ابن عساکر)
30316- عن جابر قال: جاءت بنو تميم بشاعرهم وخطيبهم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فنادوه يا محمد اخرج إلينا فإن مدحنا زين وإن سبنا شين، فسمعهم النبي صلى الله عليه وسلم فخرج عليهم وهو يقول: إنما ذلكم الله عز وجل فما تريدون؟ قالوا: نحن ناس من بني تميم جئناك بشاعرنا وخطيبنا لنشاعرك ونفاخرك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما بالشعر بعثنا ولا بالفخار أمرنا ولكن هاتوا فقال الأقرع بن حابس لشاب من شبابهم: يا فلان قم فاذكر فضلك وفضل قومك فقال: الحمد لله الذي جعلنا خير خلقه وآتانا أموالا نفعل فيها ما نشاء فنحن من خير أهل الأرض وأكثرهم عددا وأكثرهم سلاحا فمن أنكر علينا قولنا فليأت بقول هو أحسن من قولنا، وبفعال هو أفضل من فعالنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لثابت بن قيس بن شماس الأنصاري وكان خطيب النبي صلى الله عليه وسلم: قم فأجبه فقام ثابت فقال: الحمد لله أحمده وأستعينه وأؤمن به وأتوكل عليه وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ودعا المهاجرين من بني نمر أحسن الناس وجوها وأعظم الناس أحلاما فأجابوه، الحمد لله الذي جعلنا أنصاره ووزراء رسوله وعزا لدينه فنحن نقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله فمن قالها منع منا ماله ونفسه، ومن أباها قاتلناه، وكان رغمه في الله علينا هينا، أقول قولي هذا وأستغفر الله للمؤمنين والمؤمنات، فقال الزبرقان بن بدر لرجل منهم: يا فلان قم واذكر أبياتا تذكر فيها فضلك وفضل قومك فقام فقال:
نحن الكرام فلا حي يعادلنا ... نحن الرؤوس وفينا يقسم الربع
ونطعم الناس عند المحل كلهم ... من السديف إذا لم يؤنس القزع2
إذا أبينا فلا يأبى لنا أحد ... إنا كذلك عند الفخر نرتفع
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علي بحسان بن ثابت فذهب إليه الرسول فقال: وما يريد مني رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما كنت عنده آنفا؟ قال: جاءت بنو تميم بشاعرهم وخطيبهم فتكلم خطيبهم فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثابت بن قيس فأجابه وتكلم شاعرهم فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إليك لتجيبه، فقال حسان: قد آن لكم أن تبعثوا إلي هذا العود - والعود الجمل الكبير - فلما أن جاء قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا حسان قم فأجبه فقال: يا رسول الله مره فليسمعني ما قال فقال: أسمعه
ما قلت فأسمعه فقال حسان:
نصرنا رسول الله والدين عنوة ... على رغم باد من معد وحاضر
بضرب كإيزاع المخاض مشاشه ... وطعن كأفواه اللقاح الصوادر
وسل أحدا يوم استقلت شعابه ... بضرب لنا مثل الليوث الخوادر
ألسنا نخوض الموت في حومة الوغى ... إذا طاب ورد الموت بين العساكر
ونضرب هام الدارعين وننتمي ... إلى حسب من جذم4 غسان قاهر
فأحياؤنا من خير من وطئ الحصى ... وأمواتنا من خير أهل المقابر
فلولا حياء الله قلنا تكرما ... على الناس بالخيفين5 هل من منافر
فقام الأقرع بن حابس فقال: إني والله يا محمد لقد جئت لأمر
ما جاء له هؤلاء إني قد قلت شعرا فاسمعه فقال: هات فقال:
أتيناك كيما يعرف الناس فضلنا ... إذا اختلفوا عند ادكار المكارم
وإنا رؤوس الناس من كل معشر ... وأن ليس في أرض الحجاز كدارم
وإن لنا المرباع في كل غارة ... تكون بنجد أو بأرض التهائم
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا حسان فأجبه" فقام وقال:
بنو دارم لا تفخروا إن فخركم ... يعود وبالا بعد ذكر المكارم
هبلتم علينا تفخرون وأنتم ... لنا خول ما بين قن وخادم
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد كنت غنيا يا أخا بني دارم إن يذكر منك ما قد كنت ترى أن الناس قد نسوه منك فكان قول رسول الله صلى الله عليه وسلم أشد عليه من قول حسان، ثم رجع حسان إلى قوله:
وأفضل ما نلتم من الفضل والعلى ... ردافتنا من بعد ذكر المكارم
فإن كنتم جئتم لحقن دمائكم ... وأموالكم أن تقسموا في المقاسم
فلا تجعلوا لله ندا وأسلموا ... ولا تفخروا عند النبي بدارم
وإلا ورب البيت مالت أكفنا ... على رأسكم بالمرهفات الصوارم
فقام الأقرع بن حابس فقال: يا هؤلاء ما أدري ما هذا الأمر تكلم خطيبنا فكان خطيبهم أرفع صوتا وأحسن قولا، وتكلم شاعرنا فكان شاعرهم أرفع صوتا وأحسن قولا، ثم دنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يضرك ما كان قبل هذ ا ". الروياني وابن منده وأبو نعيم وقال: غريب تفرد به المعلى بن عبد الرحمن بن الحكيم الواسطي، قال "قط": هو كذاب، "كر".
نحن الكرام فلا حي يعادلنا ... نحن الرؤوس وفينا يقسم الربع
ونطعم الناس عند المحل كلهم ... من السديف إذا لم يؤنس القزع2
إذا أبينا فلا يأبى لنا أحد ... إنا كذلك عند الفخر نرتفع
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علي بحسان بن ثابت فذهب إليه الرسول فقال: وما يريد مني رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما كنت عنده آنفا؟ قال: جاءت بنو تميم بشاعرهم وخطيبهم فتكلم خطيبهم فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثابت بن قيس فأجابه وتكلم شاعرهم فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إليك لتجيبه، فقال حسان: قد آن لكم أن تبعثوا إلي هذا العود - والعود الجمل الكبير - فلما أن جاء قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا حسان قم فأجبه فقال: يا رسول الله مره فليسمعني ما قال فقال: أسمعه
ما قلت فأسمعه فقال حسان:
نصرنا رسول الله والدين عنوة ... على رغم باد من معد وحاضر
بضرب كإيزاع المخاض مشاشه ... وطعن كأفواه اللقاح الصوادر
وسل أحدا يوم استقلت شعابه ... بضرب لنا مثل الليوث الخوادر
ألسنا نخوض الموت في حومة الوغى ... إذا طاب ورد الموت بين العساكر
ونضرب هام الدارعين وننتمي ... إلى حسب من جذم4 غسان قاهر
فأحياؤنا من خير من وطئ الحصى ... وأمواتنا من خير أهل المقابر
فلولا حياء الله قلنا تكرما ... على الناس بالخيفين5 هل من منافر
فقام الأقرع بن حابس فقال: إني والله يا محمد لقد جئت لأمر
ما جاء له هؤلاء إني قد قلت شعرا فاسمعه فقال: هات فقال:
أتيناك كيما يعرف الناس فضلنا ... إذا اختلفوا عند ادكار المكارم
وإنا رؤوس الناس من كل معشر ... وأن ليس في أرض الحجاز كدارم
وإن لنا المرباع في كل غارة ... تكون بنجد أو بأرض التهائم
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا حسان فأجبه" فقام وقال:
بنو دارم لا تفخروا إن فخركم ... يعود وبالا بعد ذكر المكارم
هبلتم علينا تفخرون وأنتم ... لنا خول ما بين قن وخادم
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد كنت غنيا يا أخا بني دارم إن يذكر منك ما قد كنت ترى أن الناس قد نسوه منك فكان قول رسول الله صلى الله عليه وسلم أشد عليه من قول حسان، ثم رجع حسان إلى قوله:
وأفضل ما نلتم من الفضل والعلى ... ردافتنا من بعد ذكر المكارم
فإن كنتم جئتم لحقن دمائكم ... وأموالكم أن تقسموا في المقاسم
فلا تجعلوا لله ندا وأسلموا ... ولا تفخروا عند النبي بدارم
وإلا ورب البيت مالت أكفنا ... على رأسكم بالمرهفات الصوارم
فقام الأقرع بن حابس فقال: يا هؤلاء ما أدري ما هذا الأمر تكلم خطيبنا فكان خطيبهم أرفع صوتا وأحسن قولا، وتكلم شاعرنا فكان شاعرهم أرفع صوتا وأحسن قولا، ثم دنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يضرك ما كان قبل هذ ا ". الروياني وابن منده وأبو نعيم وقال: غريب تفرد به المعلى بن عبد الرحمن بن الحكيم الواسطي، قال "قط": هو كذاب، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفد بنی تمیم :
30317 ۔۔۔ عمران بن حصیر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نہد بن زید کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا وفد کے نمائندے نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سر زمین تہامہ کے زیریں علاقہ سے آئے ہیں اور ہم درخت کے کجاؤں پر سوار ہو کر آئے ہیں پہاڑی بکرے ہمارے اوپر کودتے رہے ہم موسلادہار بارش کے متلاشی ہیں چونکہ زمین سے اگنے والی نباتات ختم ہوچکی ہیں ، پیلو کے درخت ختم ہوچکے (چلو ہم ان کے پھل کھا کر گزارا کرلیتے تھے) اگر آسمان پر بادلوں کا کوئی آوارہ ٹکڑا دکھائی دیتا ہے ہم بوچھاڑ کی آس لگا بیٹھے ہیں مگر بادلوں کا وہ آوارہ ٹکڑا بانجھ نکلتا ہے ہمیں دور دراز علاقوں میں پانی کی بوند بوند کے لیے گھومنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف ہلاکت منہ کو لے کھڑی ہوتی ہے ہم کوئی نشیب و فراز نہیں چھوڑتے جہاں پانی کی تلاش میں گھومتے نہ ہوں مگر وائے رہے ناکامی بوندیں بھی خشک ہوگئیں مضافات پانی سے خالی ہوگئے نباتات اور جڑی بوٹیوں کی جڑیں بھی خشک ہوچکی ہیں جو اونٹ فربہ تھے ان کی فربہی جاتی رہی قحط کی وجہ سے ٹہنیوں کی طراوت ختم ہوگئی گویا اونٹ ہلاک ہوگئے اور باغات سوکھ گئے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بتوں اور ان کی عبادت سے بیزار ہوچکے ہیں دہریت کا عقیدہ ختم کردیا ہے اب ہم مسلمانوں کی دعوت میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور شریعت اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتے ہیں جب تک سمندر کی موجوں میں تلاطم ہے اور جب تک نعار پہاڑ قائم ہے ہمارے چوپائے شبان کے بغیر گھوم رہے ہیں اونٹنیوں کے تھنوں میں دودھ نام کی کوئی چیز نہیں حتی کہ ایک قطرہ بھی ان کے تھنوں سے نہیں ٹپکنے پاتا ہماری بکریاں کوسوں دور بھٹکتی پھرتی ہیں مگر ان کے چرنے کے لیے سبزہ نام کی کوئی چیز نہیں ان کے تھن قحط زدہ ہوچکے ہیں قحط سالی نے ہمارا برا حال کردیا ہے قحط کی وجہ سے ہمیں پہلے پینا ملتا ہے نہ بعد میں ۔ وفد کے نمائندے کی غیر مانوس الفاظ سے لبریز تقریر سننے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ انھیں نہد کے خالص دودھ میں برکت عطا فرما ان کے بلوئے جانے والے دودھ میں بھی برکت عطا فرما ، ان کی چھاچھ اور ان کے پیمانے میں بھی برکت عطا فرما اور ان کی سرزمین کو شاداب بنا دے اور ان کے درختوں کو پھلوں سے بھر دے ان کے تھوڑے پانی کو زیادہ کر دے یا اللہ ان کی اولاد میں سے جو مؤمن ہو اور نماز قائم کرتا ہو اسے برکت عطا فرما اسے بھی برکت عطا فرما جو زکوۃ ادا کرتا ہو اور غافل نہ جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہو وہ مسلمان ہے اے بنی نہد مضافات کے کفار کے ساتھ تمہارے معاہدے ہیں اور تم بادشاہی ٹیکس دیتے ہو ۔ نماز سے غافل نہ رہو زکوۃ سے انکار نہیں کرنا جب تک زندہ رہو بےدینی سے گریز کرو جو شخص اسلام پہ کار بند رہتا ہے اس کے لیے وہی کچھ ہے جو کتاب میں ہے جو شخص جزیہ کا اقرار کرتا ہے اس پر زکوۃ سے زائد بوجھ پڑتا ہے البتہ اس کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وفائے عہد اور ذمہ کا پاس ہے۔ (رواہ الدیلمی)
30317- عن عمران بن حصين قال: قدم وفد بني نهد بن زيد على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله أتيناك من غوري تهامة على أكوار الميس، ترتمي بنا العيس، نستجلب الصبير، ونستخلب الخبير، ونستعضد البرير، ونستخيل الرهام، ونستجيل الجهام، من أرض غائلة النطا، غليظة الوطا قد نشف المدهن، ويبس الجعثن، وسقط الأملوج من البكارة، ومات العسلوج، وهلك الهدي، ومات الودي، برئنا يا رسول الله من الوثن والعنن وما يحدث الزمن، لنا دعوة المسلمين وشريعة الإسلام، ما طما البحر وقام تعار ولنا نعم همل، أغفال لا تبض ببلال، ووقير كثير الرسل قليل الرسل، أصابنا سنية حمراء مؤزلة ليس لها علل ولا نهل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم بارك لهم في محضها ومخضها ومذقها وفرقها واحبس ويانع الثمر، وافجر لهم الثمد وبارك لهم في الولد من أقام الصلاة كان مؤمنا، ومن أدى الزكاة لم يكن غافلا، ومن شهد أن لا إله إلا الله كان مسلما، لكم يا بني نهد ودائع الشرك، ووضائع الملك، ما لم يكن عهد ولا موعد، ولا تثاقل عن الصلاة، ولا تلطط في الزكاة، ولا تلحد في الحياة، من أقر بالإسلام فله ما في
الكتاب، ومن أقر بالجزية، فعليه الربوة، وله من رسول الله صلى الله عليه وسلم الوفاء بالعهد والذمة. الديلمي
الكتاب، ومن أقر بالجزية، فعليه الربوة، وله من رسول الله صلى الله عليه وسلم الوفاء بالعهد والذمة. الديلمي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفد بنی تمیم :
30318 ۔۔۔ حبیب بن فدیک بن عمرو سلامانی کی روایت ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سلامان کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے ۔ (رواہ ابو نعیم)
30318- عن حبيب بن فديك بن عمرو السلاماني أنه وفد على رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد سلامان. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفد بنی تمیم :
30319 ۔۔۔ ابو ظبیان عمیر بن حارث ازدی کی روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے وفد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے شرکائے وفد میں یہ لوگ بھی تھے حجن بن مواقع ابو سبرہ مخلف عبداللہ بن سلیمان ، عبد شمس بن عفیف بن زہیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام عبداللہ رکھا جندب بن زبیر جندب بن کعب، حارث بن حارث ، زبیر بن مخشی ، حارث بن عامر ، اس وفد کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وثیقہ بھی لکھا جس کا مضمون یہ تھا : قبیلہ غامد میں سے جو لوگ اسلام لائے ہیں ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے لیے ہیں یعنی ان کے اموال اور جانیں محفوظ ہوں گی انھیں جنگوں میں لایا جائے گا اور نہ ٹیکس لیا جائے گا جو اسلام قبول کرے گا اس کے لیے جائیداد کا حصہ ۔ (رواہ الخطیب فی المتفق والمفترق وابن عساکر)
30319- عن أبي ظبيان عمير بن الحارث الأزدي أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من قومه منهم الحجن بن المرقع أبو سبرة ومخلف وعبد الله بن سليمان وعبد شمس بن عفيف بن زهير وسماه النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله وجندب بن زهير وجندب بن كعب والحارث بن الحارث وزهير بن مخشى والحارث بن عامر وكتب لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابا: أما بعد فمن أسلم من غامد فله ما للمسلمين حرمة ماله ودمه ولا يحشر ولا يعشر وله ما أسلم عليه من أرض. "خط" في المتفق والمفترق، "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30320 ۔۔۔ ” مسند حصین بن عوف خثعمی “ حصین بن عوف (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست اقدس پر بیعت اسلام کی اور آپ کی خدمت میں اپنے مال کے صدقات پیش کئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جائداد میں مختلف علاقے دیئے جن میں بہت سارے چشمے بھی تھے ان جگہوں میں کچھ قابل ذکر یہ ہیں۔ مروت اسناد اجرا اصہب عامرہ اھوی مہاد سدیرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حصین بن مشت پر یہ شرط لگا دی کہ چراگاہ سے انتقاع بند نہیں کرو گے اور پانی نہیں بیچو گے اور فالتو پانی بیچنے سے بھی احتراز کرو گے زبیر بن عاصم بن حصین نے یہ اشعار کہے : ان بلادی لم تکن املاسا بھن خط القلم الا نقاسا من النبی حیث اعطی الناسا فلم یدع لبسا ولا التباسا : ہمارا علاقہ جنگل اور بیابان نہیں ہمارے علاقے پر قلم کی روشنائی سے خط کھینچا گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چونکہ آپ لوگوں کو عطایا دیئے ہیں اور ان میں کوئی شک وشبہ نہیں چھوڑا ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم عن حصین بن مشمت الجمانی)
30320- "مسند حصين بن عوف الخثعمي3 وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعه بيعة الإسلام وصدق إليه صدقة ماله وأقطعه النبي صلى الله عليه وسلم مياها عدة بالمروت وإسناد أجراد منها أصهب ومنها
الماعرة ومنها أهوى ومنها المهاد ومنها السديرة وشرط النبي صلى الله عليه وسلم على حصين بن مشمت فيما قطع له أن لا يقطع مرعاه ولا يباع ماؤه، وشرط النبي صلى الله عليه وسلم على حصين بن مشمت أن لا يبيع ماءه ولا يمنع فضله فقال زهير بن عاصم بن حصين شعرا:
إن بلادي لم تكن أملاسا ... بهن خط القلم الأنقاسا
من النبي حيث أعطى الناسا ... فلم يدع لبسا ولا التباسا
"طب" وأبو نعيم - عن حصين بن مشمت الجماني.
الماعرة ومنها أهوى ومنها المهاد ومنها السديرة وشرط النبي صلى الله عليه وسلم على حصين بن مشمت فيما قطع له أن لا يقطع مرعاه ولا يباع ماؤه، وشرط النبي صلى الله عليه وسلم على حصين بن مشمت أن لا يبيع ماءه ولا يمنع فضله فقال زهير بن عاصم بن حصين شعرا:
إن بلادي لم تكن أملاسا ... بهن خط القلم الأنقاسا
من النبي حيث أعطى الناسا ... فلم يدع لبسا ولا التباسا
"طب" وأبو نعيم - عن حصين بن مشمت الجماني.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30321 ۔۔۔ ” مسند حوشب ذی ظلیم “ محمد بن عثمان بن حوشب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا تو میں نے عبد شر کے ساتھ چالیس سواروں کو روانہ کیا یہ لوگ میرا خط لے کر مدینہ پہنچے اور وہاں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے پوچھا : تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : یہ ہیں وفد کے نمائیدہ عبد شر نے کہا : آپ کون سی تعلیمات لائے ہیں اگر وہ حق ہیں تو ہم آپ کی پیروی کریں گے آپ نے فرمایا : نماز قائم کرو زکوۃ دو اور اپنی جانوں کو محفوظ بنا لو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو عبد شر نے کہا : یہ تو بیعت اچھی تعلیمات ہیں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں بیعت کرلو ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ جواب دیا : میرا نام عبد شر ہے فرمایا : نہیں بلکہ تمہارا نام عبد خیر ہے آپ نے حوشب ذی ظلیم کی طرف جوابا خط لکھا ۔ (رواہ ابونعیم)
30321- "مسند حوشب ذي ظليم" عن محمد بن عثمان بن حوشب عن أبيه عن جدع قال: لما أن أظهر الله محمدا صلى الله عليه وسلم انتدبت إليه من الناس في أربعين فارسا مع عبد شر فقدموا عليه المدينة بكتابي فقال: أيكم محمد؟ قالوا: هذا قال: ما الذي جئتنا به فإن يك حقا اتبعناك؟ قال: تقيموا الصلاة وتعطوا الزكاة وتحقنوا الدماء وتأمروا بالمعروف وتنهوا عن المنكر فقال عبد شر: إن هذا لحسن مد يدك أبايعك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما اسمك؟ قال: عبد شر قال: لا بل عبد خير، وكتب معه الجواب إلى حوشب ذي ظليم فآمن". أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30322 ۔۔۔ ابو حمید کی روایت ہے کہ ایلہ کے حکمران کا ایک قاصد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے خچر تحفہ میں بھیجا اور خط بھی بھیجا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوابا خط لکھا اور تحفہ میں چادریں بھیجیں ۔ (رواہ ابن جریر)
30322- عن أبي حميد قال: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن العلماء من صاحب أيلة بكتاب وأهدى له بغلة فكتب إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأهدى له بردا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30323 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ جھیش بن اویس نخعی قبیلہ مذحج کے وفد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے شرکائے وفد نے عرض کی ـ: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم قبیلہ مذحج کی شاخ ہیں پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں کچھ اشعار بھی ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
30323- عن أبي هريرة قال: قدم جهيش بن أويس النخعي على رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من أصحابه من مذحج فقالوا: يا رسول الله إنا حي من مذحج، ثم ذكر حديثا طويلا فيه أبيات شعر. أبو نعيم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30324 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب بحرین کے لوگوں کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا وفد کے ساتھ جارود بھی آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اسے اپنے قریب بٹھایا۔ (رواہ ابونعیم)
30324- عن أنس قال: لما قدم أهل البحرين وقدم الجارود وافدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرح به وقربه وأدناه. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30325 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ قبیلہ نہد کا ایک وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا وفد میں طھفہ بن زہیر بھی تھا اس نے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے ان الفاظ میں تقریر کی یا رسول اللہ ! ہم سرزمین تہام کے زیریں حصہ سے آئے ہیں اور میس کے بنے ہوئے کجاؤں پر سوار ہو کر آئے ہیں اور پہاڑی بکرے ہمارے اوپر کودتے رہے ہم موسلادہار بارش کے متلاشی ہیں چونکہ زمین سے اگنے والی نباتات ختم ہوچکی ہیں ، پیلو کے درخت ختم ہوچکے (چلو ہم ان کے پھل کھا کر گزارا کرلیتے تھے) اگر آسمان پر بادلوں کا کوئی آوارہ ٹکڑا دکھائی دیتا ہے ہم بوچھاڑ کی آس لگا بیٹھے ہیں مگر بادلوں کا وہ آوارہ ٹکڑا بانجھ نکلتا ہے ہمیں دور دراز علاقوں میں پانی کی بوند بوند کے لیے گھومنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف ہلاکت منہ کو لے کھڑی ہوتی ہے ہم کوئی نشیب و فراز نہیں چھوڑتے جہاں پانی کی تلاش میں گھومتے نہ ہوں مگر وائے رہے ناکامی بوندیں بھی خشک ہوگئیں مضافات پانی سے خالی ہوگئے نباتات اور جڑی بوٹیوں کی جڑیں بھی خشک ہوچکی ہیں جو اونٹ فربہ تھے ان کی فربہی جاتی رہی قحط کی وجہ سے ٹہنیوں کی طراوت ختم ہوگئی گویا اونٹ ہلاک ہوگئے اور باغات سوکھ گئے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بتوں اور ان کی عبادت سے بیزار ہوچکے ہیں دہریت کا عقیدہ ختم کردیا ہے اب ہم مسلمانوں کی دعوت میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور شریعت اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتے ہیں جب تک سمندر کی موجوں میں تلاطم ہے اور جب تک نعار پہاڑ قائم ہے ہمارے چوپائے شبان کے بغیر گھوم رہے ہیں اونٹنیوں کے تھنوں میں دودھ نام کی کوئی چیز نہیں حتی کہ ایک قطرہ بھی ان کے تھنوں سے نہیں ٹپکنے پاتا ہماری بکریاں کوسوں دور بھٹکتی پھرتی ہیں مگر ان کے چرنے کے لیے سبزہ نام کی کوئی چیز نہیں ان کے تھن قحط زدہ ہوچکے ہیں قحط سالی نے ہمارا برا حال کردیا ہے قحط کی وجہ سے ہمیں پہلے پینا ملتا ہے نہ بعد میں ۔ رسول اللہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طھفہ کی تقریر سن کر فرمایا : یا اللہ انھیں بنی نہد کے خالص دودھ میں برکت عطا فرما ان کے بلوئے جانے والے دودھ دہی لسی اور پیمانے میں بھی برکت عطا فرما اور ان کی زمینوں کو سرسبز اور شاداب بنا دے اور ان کے درختوں کو پھلوں سے بھر دے ان کے تھوڑے پانی کو زیادہ کر دے یا اللہ ان کی اولاد میں سے جو مؤمن ہو اور نماز پڑھتا ہو اسے برکت عطا فرما جو زکوۃ ادا کرتا ہو اسے بھی برکت عطا فرما ۔ پھر آپ نے خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بنی نہد کی جانب السلام علیکم ، جو نماز قائم کرتا ہو وہ مسلمان ہے جو زکوۃ ادا کرتا ہو وہ مسلمان ہے جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہو وہ غافل نہیں ہے تمہارے اوپر زکوۃ فرض ہے اور زکوۃ میں ہم ردی مال نہیں لیتے (جس طرح بڑھایا مال نہیں لیتے) لاغر اور عمدہ مال تمہارا ہے ہم اسے نہیں لیں گے سواری کے جانور جانوروں کے بچے اور جس گھوڑے کی سواری مشکل ہو وہ سب زکوۃ سے فارغ ہیں تمہارے جانوروں کو چراگاہوں سے نہیں روکا جائے گا اور تمہارے غیر مشمر اشجار نہیں کاٹے جائیں گے ہم زکوۃ میں دودھ دینے والے جانور بھی نہیں لیں گے جب تک تم حمیت کے طور پر انھیں متروک نہ کر دو یہ عہد اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک تم اسلام سے پھرگئے پھر تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو کفر پر عائد ہوتی ہیں۔ (رواہ الجوزی فی الواھیات وقال لا یصح وفیہ مجھولون وضعفاء) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے المتناھیۃ 284 ۔
30325- عن علي أن وفد نهد قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومنهم طهفة بن زهير فقال: أتيناك يا رسول الله على غورى تهامة على أكوار الميس، ترتمي بنا العيس، نستحلب الصبير، ونستخلب الخبير، ونستخيل الرهام، ونستحيل الجهام، من أرض بعيدة النطا غليظة الوطا، قد نشف المدهن، ويبس الجعثن، وسقط الأملوج ومات العسلوج، وهلك الهدي، ومات الودي، برئنا إليك يا رسول الله من الوثن والعنن، وما يحدث الزمن، ولنا نعم همل أغفال ووقير قليل الرسل، يسير الرسل، أصابتها سنة حمراء أكدى ليس لها علل ولا نهل؛ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم بارك لهم في مخضها ومحضها ومذقها واحبس راعيها على الدثر، ويانع الثمر، وافجر لهم الثمد، وبارك لهم في الولد، ثم كتب معه كتابا نسخته: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بني نهد: السلام عليكم من أقام الصلاة كان مؤمنا، ومن آتى الزكاة كان مسلما، ومن شهد أن لا إله إلا الله لم يكتب غافلا، لكم في الوظيفة الفريضة ولكم الفارض والفريش وذو العنان والركوب والفلو والضبيس لا يمنع سرحكم، ولا يعضد طلحكم ولا يحبس دركم ما لم تضمروا إماقا، ولم تأكلوا رباقا. ابن الجوزي في الواهيات وقال: لا يصح، فيه مجهولون وضعفاء.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تتمہ وفود :
30326 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ کہ حجاج بن علاط (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذوالفقار نامی تلوار ہدیہ میں دی اور حضرت دحیہ کلبی (رض) نے سفید خچر ہدیہ میں دیا ۔ (رواہ ابونعیم)
30326- عن ابن عباس أن الحجاج بن علاط أهدى لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سيفه ذا الفقار، ودحية الكلبي أهدى له بغلته الشهباء. أبو نعيم.
তাহকীক: